<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><rss xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:openSearch="http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/" xmlns:blogger="http://schemas.google.com/blogger/2008" xmlns:georss="http://www.georss.org/georss" xmlns:gd="http://schemas.google.com/g/2005" xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0" version="2.0"><channel><atom:id>tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289</atom:id><lastBuildDate>Tue, 14 Jan 2025 16:46:43 +0000</lastBuildDate><title>فاخر رضا</title><description>دل کی بھڑاس اور دماغ کی خیال آرائیاں!</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/</link><managingEditor>noreply@blogger.com (Fakhir)</managingEditor><generator>Blogger</generator><openSearch:totalResults>30</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>25</openSearch:itemsPerPage><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-4836964416863741147</guid><pubDate>Mon, 22 Jan 2018 13:14:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-01-22T05:14:09.729-08:00</atom:updated><title>امام حسن علیہ السلام کے نور کی چند کرنیں</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
قیل&amp;nbsp; للحسن بن علی : فیک عظیم ۔قال: لا بل عزقال اللہ تعالٰی : وللہ العزولرسولہ وللمؤمنین۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
حسن بن علی سے کہا گیا : آپ عظیم ہیں. فرمایا : نہیں میں عزیز ہوں۔اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : عزت اللہ کے لئے، اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;رسول اکرم کی حدیث ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
لو کان العقل رجلاََ لکان الحسن&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اگر عقل کسی انسان کی شکل میں مجسم ہوتی تو وہ حسن ہوتے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;رسول اللہ نے امام حسن سے اظہار محبت کے موقع پر فرمایا&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دیکھنے والے اس اظہار محبت سے ان لوگوں کو مطلع کریں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کا ارشاد ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
میں اِس سے محبت کرتا ہوں اور اُس سے بھی جو اِس سے محبت کرتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
جنگ صفین کے موقع پر امام حسن علیہ السلام نے تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اپنے دشمن م اور اس کے سپاہیوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ اور سستی نہ کرو کیونکہ سستی دل کی رگوں کو کاٹ ڈالتی ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
حسن اور حسین دونوں امام ہیں چاہے قیام کریں چاہے قیام نہ کریں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
حضرت علی علیہ السلام نے جمعے کے دن جبکہ وہ کچھ بیمار تھے ، حکم دیا کہ حسنؑ نماز پڑہائیں۔ : امام حسن ؑ نے پہلے خطبے میں ارشاد فرمایا: جو کوئی مجھے پہچانتا ہے ، وہ تو پہچانتا ہی ہے، اور جو مجھے نہیں پہچانتا وہ جان لے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرزند ہوں، میں بشیر و نذیر کا فرزند ہوں۔ میں خدا کی طرف سے اس کی طرف دعوت دینے والے کا فرزند ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا لقب سراج منیر (روشن چراغ) ہے۔ میں اُن اہل بیت میں سے ہوں جن سے خدا نے رجس و پلیدی کو دور اور انہیں پاک و پاکیزہ کیا ہے، وہ لوگ جن کی دوستی کو خدا نے قرآن میں واجب قرار دیا ہے۔ ( خدا نے فرمایا ہے: کہ دو کہ میں تم سے اس رسالت کا کوئی اجر طلب نہیں کرتا سواہے اپنے قرابتداروں کے ساتھ محبت کے) اور جو کوئی بھی نیک کام کرے گاہم اسکی نیکی میں اضافہ کریں گے۔ پس نیک کام ہم اہل بیت سے محبت رکھنا ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک اور خطبے میں امام حسن ؑ نے فرمایا: ہم حزب اللہ کامیاب ہیں، ہم رسول اللہ ؐ کے نذدیکی قرابتدار ہیں ، ہم اہل بیت طیب و طاہر اور ’’ثقلین‘‘ میں سے ایک ہیں جنہیں رسول خدا نے تمہارے درمیان چھوڑا ہے، جبکہ (اسمیں سے) دوسری وہ کتابِ خدا ہے جس میں کسی طرف سے باطل کے داخلے کی گنجائش نہیںہے ۔۔۔ پس ہماری اطاعت کرو کہ ہماری اطاعت واجب ہے۔ کیونکہ یہ خد، رسول ؐ اور اولی الامر کی اطاعت سے ملحق ہے۔ اگر کسی چیز میں نزاع کر بیٹھو تو اسے خدا اور رسول ؐ کے پاس لے جاؤ ۔۔۔ اور اگر رسولؐ اور اولی الامر کے پاس لے جایا جائے تو یقیناََ جو اہل استنباط علم ہیں وہ اسے جان لیں گے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ہلال بن یساف کہتا ہے کہ میں حسن ابن علی ؑ کے ایک خطبے میں موجود تھا، آپ فرمارہے تھے: اے اہلِ کوفہ ! ہمارے بارے میں خدا سے ڈرو۔ ہم تمہارے امیر اور تمہارے مہمان ہیں۔ ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;۔الأحزاب۳۳&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
(یہ خطبہ اس موقع پر تھا جب ساباط کے مقام پر آپ زخمی ہوئے تھے۔ )&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
امام حسن ؑ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! میں نےاس لئے یہ امر(خلافت) اس کے حوالے کردیا کہ میرا کوئی مددگار نہیں تھا۔ اگر میری مدد کرنے والے ہوتے، تو اس کے خلاف دن رات لڑتا، یہاں تک کہ خدا میرے اور اسکے درمیان فیصلہ کردیتا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2018/01/blog-post.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-8959238326397725512</guid><pubDate>Sat, 16 Dec 2017 06:39:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-12-15T22:39:43.936-08:00</atom:updated><title>دوستی کیجیے صحت مند رہیے </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دوستی کیجیے صحت مند رہیے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
السلام علیکم&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
روائتی دوستی میں دوست کو باقاعدہ سنبھالنا پڑتا تھا اور دوستی قائم رکھنے کے لئے کافی پاپڑ بیلنے پڑتے تھے. دوست کا روٹھ جانا ایک مسئلہ ہوتا تھا جس میں والدین تک شامل ہوجاتے تھے اور دوستیاں دوبارہ کراتے تھے. پوری پوری فلمیں اس موضوع پر بنی ہیں.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
یہاں میں وہ بنیادی اخلاقی اصول لکھوں گا جن کا ہونا دوستی قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
آپ دیکھیں گے کہ یہ اصول ایک لڑکپن سے گزرتے فرد کے لئے زندگی گزارنے میں کتنے معاون ثابت ہوتے ہیں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
Developmental psychology میں یہ اصول کہیں کہیں ملتے ہیں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
Empathy&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
Thankfulness&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
Self pity&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
Forgiveness&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اپنے دوست کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہونا&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اپنے دوست کا شکرگزار ہونا&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
انکساری برتنا اور غرور سے پرہیز&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اپنے دوست کی غلطیاں معاف کردینا&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ان سب اصولوں کو اگر برتا جائے تو انسان اس معاشرے میں ایک fit انسان اور قابل قدر دوست کی طرح زندگی گزار سکتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دوست انسان کو بہت سی نفسیاتی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور اس کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کی جاسکتی ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک بچے میں یہ خصوصیات خود بخود نہیں آتیں بلکہ اس کے لئے والدین کو بھی محنت کرنا پڑتی ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
آج جبکہ سوشل میڈیا بچوں کو شدت پسندی، جارہیت، تشدد اور دہشت گردی کی طرف لے جارہا ہے، والدین کی ذمے داری ہے کہ اپنے بچوں کے اچھے دوست بنوائیں اور ان کی دوستی برقرار رکھنے کے لئے ان کی مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں مدد کریں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ دوستی کسی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے اور ناراضگی پر انفرینڈ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک serious matter ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
مغرب میں رہنے والوں کو اس بات کا زیادہ اندازہ ہوگا کہ اپنے بچوں کو شدت پسندی سے بچانا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے. اب انہیں دوبارہ اپنے اخلاقی اقدار کی طرف پلٹنا ضروری ہوگیا ہے، اور یہ اصول ان کے لیے ایک اچھا سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ان اصولوں میں ایک اور اضافہ کرلیں اور وہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کو self identity اورpurpose of life کی طرف متوجہ کریں. اس طرح جب وہ اپنے دوست بنائیں گے تو یہ ضرور دیکھیں گے کہ کونسا دوست ان کے مقصد زندگی کے حصول کے لیے معاون ہے اور کون نقصان دہ&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
مذہبی ہونا انسان کو مقصد زندگی فراہم کرتا ہے، اسے اس دنیا کی بے ثباتی کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسے خالق حقیقی کے بنائے ہوئے اصولوں پر زندگی گزارنے پر اکساتا ہے. اپنے بچوں کو مذہب سے متعارف کرائیں تاکہ وہ ان معاملات میں کسی فسادی کے ہتھے نہ چڑھ جائیں. یاد رکھیں ہر شخص کسی نہ کسی عمر میں مذہب کی طرف متوجہ ہوتا ہے مگر صحیح رہنمائی کا فقدان اسے کنفیوز کردیتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
میری کوشش ہوگی کہ ان تمام باتوں پر الگ الگ سیر حاصل گفتگو ہو&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/12/blog-post_15.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>2</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1780402339690050944</guid><pubDate>Tue, 12 Dec 2017 05:08:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-12-11T21:08:36.263-08:00</atom:updated><title>مقصد اور راستہ </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
راستے پر چلنے کے مقصد ہوتا ہے اور وہ ہر عقلمند کے نذدیک منزل پر پہنچنا ہوتا ہے. اسے فوزالعظیم کہیں یا رضوان اللہ یا جنت یا قربت الی اللہ&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ہمیں سیدھے راستے پر چلتے ہوئے منزل بھی چاہیے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اگر اس دنیا کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر انسان ایک عادل حکومت کا منتظر ہے، خواہشمند ہے، کچھ لوگ کوشش بھی کررہے ہیں.&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ عادل حکومت کے حصول کے لیے غیر عادلانہ ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے جاسکتے، اب چاہے حکومت بنے یا نہ بنے اصولی سیاست اور عادلانہ طرز عمل کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاسکتا&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
جس چیز کی ایک مومن کو پرواہ نہیں ہونی چاہئے وہ ملامت کرنے والوں کی ملامت ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے. لوگوں کی پرواہ کرتے ہوئے نہ تو نماز ترک کرنی چاہیے نہ عادلانہ حکومت کے قیام کی کوشش.&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک عادل، صالح حکومت میں انسان روحانی طور پر بلند ہوتا ہے کیونکہ ماحول سازگار ہوتا ہے. ہمارے پیارے نبی کریم نے بھی مدینے میں آکر یہی کیا&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
عادلانہ حکومت کا قیام اور وہ بھی اصولی اور عادلانہ طریقے سے، یہ سیدھا راستہ کٹھن ہوتا ہے، مگر یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ سیدھا راستہ ہی shortest ہوتا ہے. جس کو لوگ short cut کہتے ہیں وہ جہنم کا short cut ثابت ہوسکتا ہے. جنت کا نہیں&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/12/blog-post_11.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1573403083250913619</guid><pubDate>Mon, 11 Dec 2017 15:04:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-12-11T07:04:48.074-08:00</atom:updated><title>آداب حضوری </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
جب محبوب حقیقی کی نیاز میں حاضری ہوتی ہے تو سب کچھ اتار کر بغیر سلا کفن نما احرام ہی پہنا جاتا ہے اور جب جہان فانی سے جاتے ہیں تو بھی سب کچھ اتار کر وہی بغیر سلا اصل کفن۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اب جو اپنی مرضی سے اس دنیا میں پہن لے اس کے نصیب کی بات ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
جتنا بھی وفور محبت ہو تب بھی آداب عشق تو ملحوظ رکھنے ہی پڑتے ہیں۔ عشق میں دیوانہ وار دوڑنے کے باوجود انسان دیوانہ نہیں ہوتا۔ اسی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے اور اسی کی مرضی کے تابع رہتا ہے۔ ایک وقت تھا جب بی بی حاجرہ پانی کی تلاش میں دیوانہ وار دوڑ رہی تھیں اور خدا نے زمزم کا اہتمام کردیا۔ یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ وہ پانی کی تلاش میں تھیں یا خدا کو پکار رہی تھیں۔ وہ پیاس زمزم کی تھی یا عشق کی آگ تھی۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک عام بات یہ ہے کہ صوفیا جو اصل میں صوفیا رہے ہیں، ہمیشہ شریعت کے پابند رہے ہیں۔ ان کے ہاں کسی بھی طرح شریعت کا لحاظ نہ رکھنا بارگاہِ حق میں بے ادبی کے مترادف ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ان کا عشق بندگی کی حد کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اور یہ عشق (بندگی والا عشق) صرف خدا ہی کے لئے جائز سمجھتے ہیں۔ شاید اسی لئے ان کی لوگوں سے نہیں بن پاتی۔ ان کے مرید تو ہوتے ہیں مگر دوست کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ دوستی دو طرفہ ہوتی ہے اور مریدی یک طرفہ۔ عاشق اپنے عشق میں ہی رہتا ہے اور مرید عاشق کے عشق میں۔ ایک طرف عبادت ہورہی ہوتی ہے اور دوسری طرف شرک۔ کہا دونوں کو عشق ہی جاتا ہے۔ پھر جب عقدہ کھلتا ہے تو صرف اللہ ہی اللہ رہ جاتا ہے۔ پیر اور مرید ختم ہوجاتے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کعبہ کے گرد پروانوں کا چکر لگانا اور اس آگ میں جلنے کی آرزو جس میں ابراہیم علیہ السلام کود گئے تھے۔ کیا منظر ہوتا ہے۔ خد اسب کو زیارت نصیب کرے&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/12/blog-post.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>1</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-3503769809139357197</guid><pubDate>Thu, 27 Jul 2017 01:36:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-07-26T18:36:35.893-07:00</atom:updated><title>بیٹی کی دعا </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ایک اور مصروف ترین دن کا حال سنیں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;تقریباً 45 سال کا مرد، ایک بیٹی کا باپ اور روزگار کی غرض سے اپنے وطن سے دور&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;میرے&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;پاس وہ شخص خون کے کینسر کے وارڈ سے لایا گیا، وہاں اس کے علاج کی تمام تر کوششیں کی جاچکی تھیں. اس کا مرض یہ تھا کہ اس&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;کے خون میں پلیٹلیٹ نام کے خلیے نا ہونے کے برابر رہ گئے تھے. اس وجہ سے اسے ہر ط&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;رف سے خون بہ رہا تھا. تمام مریضوں کی طرح یہ مریض بھی مصنوعی سانس کی مش&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ین پر تھا. مگر اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اس کے جگر نے کام چھوڑ دیا تھا، بیلی روبن آسمان پر تھا، گردے ڈھے گئے تھے اور اس کا ڈائلیسس ہورہا تھا، بلڈ پریشر کم اور مسلسل خون&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;چڑھایا جارہا تھا. اسی دوران پھیپھڑوں سے خون آنے لگا، ایک طوفانی کیفیت ہوگئی. خیر جو بھی طریقے مہیا تھے سب اختیار کئے. آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین علاج مہیا ہے اور وہ سب ذرائع استعمال کئے جارہے تھے. اس آدمی کا روزانہ پلازمہ بھی تبدیل کیا جا رہا تھا. اور یہ&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;عمل بھی بہت پیچیدہ تھا. میرے جتنے بھی سینیئر تھے انہوں نے اس طرح کے کیس کو بچتے نہیں دیکھا تھا. نوے فیصد لوگ مرجاتے ہیں وہ بھی ترقیم یافتہ ممالک میں. خیر چونکہ یہ ہمارے ہی ملک کا شہری تھا لہٰذا اس کی فیملی سے بات کرنے کی ذمہ داری مجھ پر تھی. اس کی بیوی بہت ہی صابرہ تھی، خود نرس رہ چکی تھی اور سب دیکھ اور سمجھ رہی تھی. میں نے سب کو بلا کر بری&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;خبر سنائی، ایسے جیسے پھانسی والی رات&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;فیملی کو بلایا جاتا ہے. انہیں بتایا کہ یہ مرنے والا ہے اور ہم جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ سود مند ثابت نہیں ہو رہا. انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان لے جائیں گے. پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں خدا پر بھروسہ ہے اور یہ ٹھیک ہوجائیں گے. اس پر میں نے انہیں بتایا کہ ہم یہاں خدا کو نہیں لاسکتے، اور فی الحال صرف میڈیکل ہی کی بات کررہے ہیں ہاں آپ دعا کرتے&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;رہیں. مجھے ویسے کچھ حوصلہ ملا اور میں نے اپنا ٹیم سے کہا کہ اب ہمیں ذرا بھی کوتاہی یا غفلت نہیں برتنی اور اگلے دو دن وہ سب کچھ کرنا ہے جو اب تک کررہے تھے ساتھ ہی ساتھ خون کے ایکسپرٹ کو بھی دوبارہ بلایا. انہوں نے بھی اپنی طرف سے دوائیں دیں. ساتھ ہی پلازمہ بھی تبدیل ہوتا رہا.&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ٹھیک دو دن بعد&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;ہم نے دیکھا کہ اب اسے پلیٹلیٹ دینے کی ضرورت نہیں پڑرہی. باقی حال ویسا ہی&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;تھا. مجھے اندر سے ایک امید پیدا ہوئی. ملک کا ہونے کی وجہ سے ایک جذباتی تعلق بھی ہوگیا تھا اور ایک چیلنج بھی تھا. خیر اگلے دو دن میں مزید حالت بہتر ہوئی. ایک بات پہلے لکھنا بھول گیا کہ اسے مرگی کے چھٹکے&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;بھی پڑ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ بیہوش تھا. آہستہ آہستہ بیہوشی بھی ٹھیک ہوتی گ&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ئی. پانچ دن بعد اسکی بیوی اسے ٹیبلٹ پر اسکی بیٹی کی تصویر دکھا رہی تھی اور&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;وہ خوشی سے رو رہا تھا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;اگلے چند دن میں وہ وینٹیلیٹر سے باہر آگیا اور کافی ح&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;د تک صحتیاب ہوگیا. ابھی امریکہ آنے سے چند دن پہلے وہ وارڈ میں چلا گیا. ابھی بھی اسکا پلازمہ تبدیل ہوتا ہے اور شاید کچھ عرصہ ہوتا رہے، مزید ڈائلیسس کی ضرورت نہیں رہی اور باقی عضلات بھی روبہ صحتیابی ہیں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;مجھے میرے دوست کہتے ہیں کہ تم موت کا یقینی وقت کیسے بتا دیتے ہو تو میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ میں موت کا وقت لکھتا نہیں ہوں وہ کام خدا کا ہے، میں تو&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;صرف پڑھ کر بتا دیتا ہوں. مگر کبھی کبھی خدا بھی اپنا لکھا بدل دیتا ہے اور موت کو&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ٹال دیتا ہے. بلک مکمل طور پر صحت یاب کردیتا ہے. اب جن لوگوں سے کہا تھا کہ وہ نہیں&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;بچے گا وہ بہت خوش تھے اور سمجھ رہے تھے کہ یا تو معجزہ ہو گیا ہے یا ڈاکٹروں نے بہت محنت کی ہے. محنت تو خیر ہر ایک&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;کے ساتھ ہی کرنی پڑتی ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس مریض کی جان خدا نے اسکی ننھی بیٹی کی دعاؤں کے صدقے میں بچالی. خدا سب کی بیٹیوں کو زندہ سلامت اور&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;ہنستا کھیلتا رکھے. بیٹیاں سچ مچ میں موت سے لڑ جاتیں ہیں اور باپ کو بچا لیتی&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;ہیں. اور ایسے موقعوں پر باوجود ا&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;پنی کچی ہونے کے میں بہت خوشی محسوس کرتا ہوں، ایک ایسی خوشی جو روپے پی&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;س&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ے سے نہیں خریدی جاسکتی.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/07/blog-post_26.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-3808836879157800839</guid><pubDate>Fri, 21 Jul 2017 08:09:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-07-21T01:09:45.885-07:00</atom:updated><title>اسپتال کی ایک بھیانک صبح </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ایک صبح اسپتال پہنچا، ابھی ایکسرے میٹنگ شروع ہی ہوئی تھی کہ نرس نے بتایا کہ ایک مریض کو خون کی الٹیاں ہورہی ہیں. میں جب وہاں پہنچا تو بلڈپریشر بے انتہا کم تھا. فوراً خون کے انتقال کا انتظام کیا. ایسے موقعوں پر خون&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;کی چھ بوتلیں، پلیٹلیٹ کی چھ بوتلیں اور پلازمہ بھی اس مقدار میں ایک ساتھ دیا جاتا ہے اور یہ سب دس منٹ میں مہیا کرنا ہوتا ہے&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;. معدے کے ڈاکٹرز کو بلایا انہوں نے اینڈواسکوپی کی اور وہاں صرف خون ملا. ایک غب&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ارہ معدے میں ڈالا گیا اور اسے پھلایا تاکہ&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;خون رک جائے. خون مسلسل بہ رہا تھا. اسی وقت ایکسرے ڈپارٹمنٹ میں فون کر کے کہا کہ کچھ کریں. انہوں نے کہا کہ فوراً مریض کو لے کر پہنچو. یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ مریض مصنوعی سانس کی مشین پر لگایا جاچکا تھا اور دل کو پمپ بھی کرنے کے لئے ادویات دی جارہی تھیں. خیر مریض کو لے کر ایکسرے ڈپارٹمنٹ میں پہنچے. وہاں&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;اس کی نسوں کے ذریعے سے وہاں پہنچنے کی کوشش کی گئی جہاں سے خون بہ رہا تھا. اس موقع پر ہم مسلسل خون کا انتظام کررہے تھے اور وہاں کے معالجین اپنا کام کر&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;رہے&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;تھے. تقریباً تین گھنٹے کی مشقت کے بع&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;د اس مریض کا بلڈ پریشر کچھ بہتر ہوا. واپس&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;آئی سی یو میں آئے. یہاں پھر خون بہنا شروع ہوا پھر چھ چھ بوتلیں دی گئیں. اسی تمام کاروائی میں دوپہر ہوچکی تھی. تھکن سے سب چور چور ہوچکے تھے. پھر بھی لگے ہوئے تھے. دوبارہ معدے کے ڈاکٹر کوبلایا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;گیا مگر کوئی بھی حربہ خون روکنے میں ناکام رہا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;آخر تقریباً شام چار بجے یہ فیصلہ ہوا کہ اس مریض کی جان نہیں بچائی جاسکتی اور اسے مزید خون نہیں دیا جائے گا، رات تک اس کا انتقال ہو گیا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;یہ میرا معمول کا کام ہے اور تقریباً پینتیس فیصد مریض مر جاتے ہیں، مگر پینسٹھ فیصد بچ بھی جاتے ہی&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;ہمارا کام کاروبار نہیں ہے جس میں نقصان کے ڈر سے انویسٹ نہیں کیا ج&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;اتا بلکہ دس فیصد فائدے کی امید پر بھی کوشش کی جاتی ہے&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;آخری بات ان لوگوں سے کہنی&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;ہے جو انسان کی جان کو شک و شبہ اور ذاتی عقائد کی بنا پر لے لیتے ہیں. ایک دفعہ آکر دیکھیں کہ ہم ایک انسان کی جان بچانے کے لیے کیا کیا کرتے ہیں. میرے عزیز ترین اور اعلٰی ترین دوستوں کو گولی ماری گئی وہ بھی سر میں اور میں یہی سوچتا رہا کہ کیا یہ سب کرنے والے انسان ہیں. کیا وہ لوگ جو ایسا&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;کرتے ہیں، دلیل کے مقابلے میں گو&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;لی، اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتے.&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;بات کہیں اور چلی گئی مگر سوچا&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: #fcfcff; color: #141414; font-family: &amp;quot;Jameel Noori nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Lahori Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Alvi Nastaleeq&amp;quot;, &amp;quot;Trebuchet MS&amp;quot;, Helvetica, Arial, sans-serif; font-size: 20px;&quot;&gt;&amp;nbsp;کہ کہ دوں.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/07/blog-post_21.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>2</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-7894186536662587307</guid><pubDate>Tue, 11 Jul 2017 08:31:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-07-11T01:31:32.604-07:00</atom:updated><title>ہم چوری کیوں کرتے ہیں </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
میں اکثر سوچتا ہوں کہ انسان جھوٹ زیادہ بولتا ہے یا چوری زیادہ کرتا ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دیکھا جائے تو ہم چوری کو جھوٹ سے زیادہ برا سمجھتے ہیں مگر اسکے باوجود جھوٹ سے زیادہ چوری کررہے ہوتے ہیں&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ہمارے نزدیک چوری کی بعض قسمیں اب مباح قرار دی جاچکی ہیں، جبکہ ہمارے بزرگ ان معاملات میں بہت سخت تھے. اگر کوئی رقم کسی کے پاس ہوتی تو وہ اسکے نوٹ تک تبدیل نہیں کرتا تھا. وقت سے ایک منٹ پہلے بھی آفس سے اٹھنا حرام سمجھا جاتا تھا. بجلی یا پانی چوری کرنا انتہائی درجے کی معیوب بات تھی. راستے میں پڑی ہوئی چیز کو لوٹانا ایک قدر تھی. لوگ اس کام میں فخر محسوس کرتے تھے. بچوں کی عیدی والدین ہی کو ملتی تھی مگر اسے بھی بچوں سے پوچھ کر یا انہی کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے. کتابوں میں لالچ بری بلا ہے قسم کے اقوال پر کہانیاں ہوتی تھیں. ٹی وی پر تو کیا اگر کسی کی اخبار میں بھی چوری کی خبر کے ساتھ تصویر آجائے تو وہ منہ چھپاتا پھرتا تھا. والدین شرم سے پانی پانی ہوجاتے اور نوبت محلہ بدلنے پر پہنچ جاتی. نامحرم کی طرف آنکھ بھر کے دیکھنا بھی چوری تصور ہوتا تھا. بچے کے بیگ سے اگر کسی کی پینسل یا شارپنر نکل آتا تو شامت آجاتی اور بے بھاؤ کی مار پڑتی&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ابھی بھی کچھ خاندانوں میں اس طرح کے آثار پائے جاتے ہیں مگر بحیثیت قوم ہمارے اندر سے یہ اقدار ختم ہوچکی ہیں. کسی کا موبائل اٹھا لینا، پیٹرول چوری کرنا، سکشن مشین سے پانی کھینچنا، کنڈے سے بجلی چرانا، زیادہ کی ہوس میں اپنے پرائے کا احترام نہ کرنا اور اسی طرح کی دوسری بری اقدار اب چھا چکی ہیں. موبائل فون مسجد میں بھی چوری ہوتے ہیں، بس میں بھی اور اسپتال میں بھی. کوئی جگہ نہیں بچی جہاں چوری نہ ہو. کسی پرائیویٹ ادارے میں وقت کے اندر کام کرنا محال ہے اور اوور ٹائم لگانا فرض ہے. گورنمنٹ اداروں میں وقت پر آنا اور پورے وقت ٹھہرنا مفقود ہوچکا ہے. اگر غلطی سے کوئی حلال خور افسر آ بھی جائے تو ماتحت اس کا جینا حرام کردیتے ہیں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اگر اس قوم کے حکمران چور ہوں بھی تو مجھے بتائیے کہ کون ہے جو انہیں سزا دینے کا اخلاقی حق رکھتا ہے، پولیس، عدالت، فوج، میڈیا کون سا ادارہ دودھ سے دھلا ہوا ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
حل کیا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
حل یہ ہے کہ میں اور آپ اپنے بچوں کو حلال کھلائیں، اگر ان کے پیٹ حرام سے محفوظ ہوں گے تو وہ صحیح بات سن سکیں گے. یہی بات امام حسین علیہ السلام نے اپنی شہادت سے قبل کہی تھی. فوج یزید دے خطاب فرماتے ہوئے جب سپاہیوں نے شور مچایا تو آپ نے فرمایا&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;وائے ہو تم پر میری طرف توجہ کیوں نہیں دیتے ہو تاکہ تم میری بات سن سکو۔ جو شخص بھی میری پیروی کرے گا وہ خوش بخت اور سعادت مند ہے اور جو کوئی گناہ اور مخالفت کا راستہ اختیار کرے گا، ہلاک ہونے والوں میں اس کا شمار ہوگا۔ تم سب نے گناہ اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔ میرے حکم اور مشن کی مخالفت کر رہے ہو، اسی لئے میری بات نہیں سن رہے۔ ہاں یہ ان ناجائز اور حرام طریقہ سے حاصل شدہ تحفوں کا اثر ہے جو تمہیں اس فاسق گروہ کی طرف سے ملے ہیں۔ یہ ان حرام اور حرام غذاؤں اور غیر شرعی لقموں کا اثر ہے جن سے تمہارے پیٹ بھرے ہوئے ہیں کہ خدا نے تمہارے دلوں پر اس طرح مہریں لگا دی ہیں کہ میری بات نہیں سن رہے۔ تم پر افسوس ہو کیا چپ نہیں ہوتے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اس خطاب سے محسوس ہوتا ہے کہ رشوت اور مال حرام انسان کو حق سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے ناقابل بنا دیتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
خدا ہمیں رزق حلال کھانے اور آپ اولاد کو رزق حلال کھلانے کی توفیق عطا فرمائے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
والسلام&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
فاخر&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/07/blog-post.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>1</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1874368741227555182</guid><pubDate>Sat, 06 May 2017 14:52:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-05-06T07:52:03.230-07:00</atom:updated><title>سو کلمات رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
سو کلماتِ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ا۔ انسان جتنا جتنا بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کے اندر دوصفات جوان ہوتی جاتی ہیں: ایک حرص اور دوسری آرزو۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ میری امت کے دوگروہ ایسےہیں کہ اگر وہ ٹھیک ہوجائیں تو میری امت درست ہوجائے گی اور اگر وہ بگڑجائیں تو میری امت بگڑجائے گی: ایک علماء اور دوسرے حکام۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;۳۔ تم سب گلے بان ہواورایک دوسرےکی نگرانی کے ذ مے دار ہو۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ہرایک کو مال سے راضی نہیں کیا جاسکتا، لیکن حسن اخلاق سے راضی کیا جاسکتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;۔ غربت و ناداری بلا ہے اس سے بدتر جسمانی بیماری اوردل کی بیماری سے زیادہ دشوار دل کی بیماری ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ مومن ہمیشہ حکمت کی تلاش میں رہتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ علم کو پھیلنے سے نہیں روکا جاسکتا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;۔ انسان کا دل اس پر کی مانند ہے جو جنگل میں کسی درخت پر اٹکا ہوا ہو،اور ہوا کے چلنے سے ہروقت متغیر اور اوپر نیچے ہوتا رہتا ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;۔مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سےدوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ نیک کاموں کی ہدایت خودوہ کام کرنے کی مانند ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ہر سوختہ دل کے لئے آ خر کارایک اجرہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ عورتوں کے ساتھ سلوک میں اللہ سےڈرو اور جتنا ہوسکےان کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔سب کا پروردگار ایک ہے اور سب ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ تم سب فرزند آدم ہواور آدم مٹی سے پیدا ہوئےہیں۔ خدا کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ ضد سے پرہیز کرو کہ اس کا سبب جہالت اوراس کا نتیجہ شرمندگی ہے۔ &amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔بدترین انسان وہ ہے جوخطا کومعاف نہ کرے اور لغزش سے چشم پوشی نہ کرے اور اس سے بھی زیادہ بدتر وہ ہے جس کے شرسےلوگ محفوظ نہ ہوں اور اس کی طرف سے انہیں نیکی کی امید نہ ہو&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔غصہ نہ کرواوراگر غصہ آجائے تو لمحے بھر کے لئے خالق کی قدرت کے بارے میں سوچو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔جب تمہاری تعریف کی جا تو تم کہوا ے خدا مجھے اس سے بہتر بنادے جتنا یہ مجھے سمجھتے ہیں اور میرے بارے میں جو باتیں یہ نہیں جانتے انھیں تو معاف فرمادے اور جو کچھ یہ کہتے ہیں مجھے اس کا ذمےدار نہ ٹہرا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔خوشامد کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈال دو&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔اگرخدا کسی بندے کے ساتھ نیکی کرنا چاہتا ہے تو اس کے نفس کو اس کے لئے واعظ اور رہنما بنا دیتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔مومن صبح وشام انپے آپ کوخطا کار سمجھتے ہوئے بسر کرتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔تمہاراسخت ترین دشمن وہ نفس امارہ ہے جوتمہارےدو پہلوؤں کے درمیان واقع ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔بہادر ترین انسان وہ ہے جواپنےنفس پرغلبہ پالے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔اپنی نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرو تاکہااسکے مالک بن جاؤ۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ اس انسان کا بھلا ہو جواپنے عیوب پر توجہ کی وجہ سے دوسروں کے عیوب پر توجہ سے باز رہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔۔سچائی دل کوسکون پہنچاتی ہے اورجھوٹ شک اور پریشانی پیدا کرتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ مومن آسانی سے انس حاصل کر لیتا ہے اور دوسروں کے ساتھ مانوس ہو جاتاہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;۔مومنین عمارت کے اجزا کی مانند ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔مومنین کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور دوستی اس بدن کی مانند ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسرے اعضا بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ انسان کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر ہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔حصول علم ہرم سلمان پر واجب ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں، عقل سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور غوروفکر سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔گہوارے سے گور تک علم حاصل کرو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔مومن کی عظمت شب بیداری میں ہے اوراس کی عزت دوسروں سے بے نیازی میں ہے ۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ علما ،علم کے پیاسے ہوتے ہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔محبت، بہرہ اور اندھا کردیتی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔خدا کاہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔پرہیزگاری جسم اور روح کو آرام بخشتی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ جوکوئی چالیس دن خدا کی خاطر زندگی گزارے تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے زبان پر جاری ہوجاتے ہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ خدا کی نظر میں اپنے گھرانے کے ساتھ رہنا،مسجد میں ڈیرا ڈال دے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ تمہارا بہترین دوست وہ ہے جو تمہیں تمہارے عیب دکھائے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔علم کولکھ کر قید کرلو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔جب تک دل ٹھیک نہ ہو،ا یمان ٹھیک نہ ہوگا، اور جب تک زبان درست نہ ہو،دل درست نہ ہوگا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔جب تک کسی کی عقل کا امتحان نہ لےلو اس کے اسلام لانےکواہمیت نہ دو۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔صرف عقل کے ذریعے سے نیکیوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔ جس کے پاس عقل نہ ہووہ دین سےمحروم ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ دین کو جتنا نقصان دشمن پہنچاتے ہیں اس سے زیادہ نقصان جاہل کی زبان پہنچاتی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔میری امت کے ہرصاحب عقل کے لئے چار چیزیں ضروری ہیں:علم کوسننا ،اسے یاد رکھنا ،اسے پھیلانا اور اس پر عمل کرنا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔مومن کوایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈ سا جاسکتا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ مجھےاپنی امت کی غربت کا نہیں بے تدبیری کا خوف ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;۔خدا خودجمیل ہےاور جمال کوپسند کرتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ اللہ ہنرمند مومن کو پسند کرتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔خوش آمد مومن کی عادت نہیں ہوتی۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ طاقت کا تعلق زورِبازو سے نہیں ہے بلکہ طاقتوروہ ہے جواپنے غصے پر قابو پالے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ بہترین انسان وہ ہے جو دوسرےانسانوں کے لئے سب سے زیادہ مفید ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔تمہارےگھروں میں سے بہتری گھروہ ہے جس میں کوئی یتیم عزت سے زندگی گزارتا ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔کتنی اچھی ہے وہ حلال دولت جو کسی نیک انسان کے ہاتھ میں ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔عمل کا سلسلہ موت پر ختم ہوجاتا ہے، سوائے ان تین ذرائع کے: ایسی نیکی جو جاری رہنے والی ہو،ایسا علم جو مسلسل فائدہ پہنچاتا رہے، ایسی نیک اولاد جو والدین کے لئے دعائے خیر کرے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔خدا کی عبادت کرنے والے تین قسم کے ہیں: ایک وہ جو خوف کی وجہ سے عبادت کرتے ہیں، اور یہ غلاموں کی عبات ہے۔ دوسرے وہ جو اجر کی لالچ میں عبادت کرتے ہیں ، اور یہ مزدوروں کی عبادت ہے۔تیسرے وہ جو عشق و محبت کی وجہ سے عبادت کرتے ہیں ، اور یہ آزاد مردوں کی عبادت ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔تین چیزیں ایمان کی علامت ہیں: &amp;nbsp; &amp;nbsp;تنگدستی کے باوجود دوسروں کی مدد کرنا، کسی کے فائدے کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہوجانا، طالبعلم کوعلم سکھانا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔دوست سے ا پنی دوستی کا اظہار کروتاکہ محبت کا تعلق مضبوط تر ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔تین چیزیں دین کے لئے نقصاندہ ہیں:بدکار فقیہ، ظالم رہنما‘جاہل عابد۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔لوگوں کو ان کے دوستوں کے ذرائے پہچانو کیونکہ انسان اپنے جیسا اخلاق رکھنے والے کو دوست بناتاہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔چھپ کر گناہ گناہگارکونقصان پہنچاتا ہے اور کھلم کھلا گناہ کرنا معاشرے کو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔دنیا کے کاموں کی بہتری کے لئے کوشش کرو لیکن اُمور آخرت کے لیے اس طرح کام کرو گویاکل ہی اس دنیا سے جارہے ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔روزی کوزمین کی گہرائیوں میں تلاش کرو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔کبھی کبھی لوگ خودستائی سے اپنی قد گھٹا دیتے ہیں اور انکساری سے اپنا مقام بڑھالیتےہیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔خدایا! میرے بڑھاپے اور زندگی کے آ خری ایام میں فراخ ترین روزی عطا فرما&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔اولاد کے باپ پر حقوق میں سے یہ بھی ہیں کہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے لکھنا سکھائے اور جب بالغ ہوجائے تو اسکی شادی کرے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔صاحب اقتدار طاقت کواپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔اعمال کےترازو میں رکھی جانے والی بھاری ترین چیزخوش اخلاقی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔تین چیزیں عقلمند انسان کی توجہ کے قابل ہیں: زندگی کی بہبودی، زادآخرت، حلال مسرت۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ایسے انسان کی کیا بات جو فالتو مال دوسروں کودیدے اور فالتوباتیں اپنے پاس رکھ لے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ موت میں ہر نصیحت کرنے والے سے بے نیاز کردیتی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ حکومت اور اقتدار کی اتنی ہوس اور آ خر میں اتنا غم اور پشیمانی&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
76۔ بدکار عالم بدترین انسان ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ جس جگہ بدکار حکمراں اوراحمق معزز ہوجائیں وہاں کسی بلا کی توقع رکھو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ لعنت ہواس پر جواپنا بار دوسروں کے دوش پر ڈال دے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ انسان کی خوبصورتی اس کی گفتار میں ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ عبادت کی ساتھ قسمیں ہیں اوران میں سے سب سے عظیم حلال روزی طلب کرنا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ لوگوں سے خدا کے خوش ہونے کی علامت اُن کے یہاں قیمتوں میں کمی اور ان پر عادلانہ حکومت ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ہرقوم اسی حکومت کے لائق ہے جواس پر ہوتی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ گالیاں دے کر لوگوں کی عداوت کے سوا کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔بت پر ستی کے بعد جس چیز سے مجھے روکا گیا ہے وہ لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرنا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ جو کا م سوچے سمجھے بغیر انجام دیا جائے اس میں بسااوقات نقصان کا امکان ہوتا ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔جو شخص لوگوں کے ساتھ اتفاق سے رہنےکی نعمت سے محروم ہے وہ نیکیوں سے یکسر محروم رہے گا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ دوسروں سےکوئی چیزنہ مانگو چاہے مسواک کی ایک لکڑی ہی کیوں نہ ہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ خدا کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ وہ اپنے بندے کو اس کے ساتھیوں کے درمیان خاص امتیاز کے ساتھ د یکھے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔مومن خوش رو اور شوخ ہوتا ہے اور منافق ترش رو اور غصیلہ ۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ اگر فال بدلو تو اپنا کام جاری رکھواور برا خیال کرو تو بھول جاؤ اور اگر حسد ہوجائے تو پروقار رہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ محبت کے ساتھ ایک دوسرے سے مصا فحہ کرو کہ یہ کینے کودل سے نکال دیتا ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ جو شخص اس حالت میں صبح کرےکہ مسلمانوں کے امور کی اصلاح کی فکر میں نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ خوش روئی کینے کودل سے نکال دیتی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ کہیں لوگوں کا خوف تمہیں حق بات کہنےسے بازنہ رکھے!&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ عقلمند ترین انسان وہ ہے جودوسروں کے ساتھ اچھی طرح بنا کے رکھے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ ایک ہی سطح پر زندگی گزارو،تا کہ تمہارے دل ایک ہی سطح پر رہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاقات رکھو تا کہ باہم مہربان رہو۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ موت کے وقت لوگ پوچھتے ہیں کہ کتنا مال ودولت چھوڑا ہے؟ اور فرشتے پوچھتے ہیں کہ کتنا نیک عمل آگے بھیجا ہے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔اللہ کے نزدیک نفرت انگیز ترین حلال کا م طلاق ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔ لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا بہترین کارخیر ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&amp;nbsp;خدایا مجھےعلم سے توانا، بنا بردباری سے زینت بخش، پرہیزگاری سے عزت دے اور تندستی سے خوبصورتی عطا فرما۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
یہ اقوال شہید مطہری کی کتاب سیرت نبوی ایک مطالعہ سے لئے گئے ہیں. پبلشر، دارالثقلین&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/05/blog-post_6.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>2</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1526114740185825927</guid><pubDate>Tue, 02 May 2017 12:44:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-05-02T05:44:21.793-07:00</atom:updated><title>مجھے دوا نہیں شفا چاہیئے</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
واذا مرضت فھو یشفین&lt;br /&gt;حضرت ابراہیم علیہ السلام نہایت ہی جری اور بیباک نبی تھے جو شرک کے خلاف ہر طرح سے مقابلے کے لئے تیار رہتے تھے۔ ان کا انداز بھی ایسا تھا کہ اعتراض کرنے والا خود ہی اپنے دام میں پھنس جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع کا قرآن میں ذکر آیا ہے جس میں خدا فرماتا ہے۔ &lt;br /&gt;اور انہیں ابراہیم کی خبر پڑھ کی سناؤ۔ جب انہوںنے اپنے مربی باپ اور قوم سے کہا کہ تم لوگ کس کی عبادت کررہے ہو ۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور انہی کی مجاوری کرتے ہیں۔(اس جملے سے پتہ جلتا ہے کہ وہ نہ صرف بت پرستی کرتے تھے بلکہ اس پر نازاں بھی تھے)&amp;nbsp; تو ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو یہ تمہاری آواز سنتے ہیں ؟(یعنی ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ تمہاری مدد کریں ، تمہاری مشکلات حل کریں، خیر اگر وہ ایسا نہیں بھی کرتے تو کم از کم تمہاری بات ہی سن لیں)۔ یہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟(اس سوال پر وہ لوگ لاجواب ہوگئے اور وہی کھسا پٹا جواب دینے لگے) ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ داداکو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ،تم اور تمہارے تمام بزرگان خاندان، یہ سب میرے دشمن ہیں،رب العالمین کے علاوہ ۔(یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں بھی کچھ لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے یا اسے شریک کے طور پر ضرور مانتے تھے۔ )کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہدایت بھی دیتا ہے ۔(یہاں خدا نے یہ واضح کردیا کہ خلقت کے ساتھ ہی ساتھ خدا نے ہدایت بھی ہمارے خمیر میں گھوند دی ہے، اسے ہماری فطرت میں شامل کردیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بیرونی طورپر رسول اور کتاب بھی مرحمت فرمائی) وہی کھانادیتا ہے اور وہی پانی پلاتا ہے ۔(جہاں ہماری روحانی اصلاح اور ہدایت کی ضروریات کا اہتمام خدا کرتا ہے وہیں ہماری جسمانی ضروریات بھی خدا ہی پوری کرتا ہے۔غذا اور پانی اسی نے عنایت فرمائے ہیں) اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی شفا بھی دیتا ہے۔(یہاںحضرت ابراہیم علیہ السلام نے کمال ادب اور احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیماری کو خدا کی طرف نسبت نہیں دی اور اسے اپنی طرف پلٹایا ہے۔ فرمایا جب میں بیمار ہوتا ہوں، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض بیماریاں بھی خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اپنی طرف نسبت دی۔)&amp;nbsp; (سورہ شعرا آیت 69-80)&lt;br /&gt;ان آیات کے سلسلے میں بیماری اور شفا کا ذکر ہوا ہے ۔ لفظ مرض قرآن میں عام طور پر دل کے مرض یا کردار کی کمزوری کے لئے استعمال ہوا ہے اور بعض جگہوں پر دل پر مہر لگانے کی بھی بات ہوئی ہے۔ دل کی یہ بیماری جسمانی بیماری نہیں ہے بلکہ ایک روحانی بیماری ہے، جسکی آخری اسٹیج میں انسان لاعلاج ہوجاتا ہے اور پھر وہ نصیحت قبول نہیں کرتا۔ اس بارے میں قرآن کے کئی جگہ اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 6 سے لیکر 20 تک ذکر ہوا ہے۔ &lt;br /&gt;یہاں ہمارا موضوع بحث جسمانی بیماری، اس کا فلسفہ اور اس سے نجات ہے۔ اس حوالے سے ہمیں قرآن میں ہی ایک اور نبی کا ذکر ملتا ہے اور وہ ہیں حضرت ایوب علیہ السلام۔ آپ کے بارے میں بہت سی من گھڑت باتیں بھی کہی گئیں جو شاید اسرائلیات سے اسلام میں آئی ہوں اور ان کا مقصد انبیاء کی عظمت کو کم کرنا اور ان کی کردار کشی ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں ہمیں سب سے زیادہ محکم ذکر حضرت جعفر صادق علیہ السلام کی زبانی ملتا ہے۔ ہم پہلے امام کی حدیث بیان کریں گے اور اس کے بعد وہ آیت جس میں حضرت ایوب کا ذکر ہے۔ &lt;br /&gt;کسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ جو مصیبت حجرت ایوبؑ کو دامن گیر ہوئی تھی وہ کس لئے تھی؟&lt;br /&gt;امام صادق&amp;nbsp; ؑ نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے۔ &lt;br /&gt;ایوب پر جو مصیبت آئی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کفران نعمت کیا تھا۔ بلکہ اس کے برعکس شکر نعمت کی وجہ سے تھی، کیونکہ ابلیس نے ان پر حسد کیا اور بارگاہ خدا میں عرض کی کہ اگر وہ تیری نعمتوں کا اتنا شکر ادا کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تونے اسے بڑی خوشحال زندگی دی ہے اگر تو اس سے دنیا کی مادی نعمات کو چھین لے توپھر وہ ہرگز تیرا شکر ادا نہیں کرے گا۔ تو مجھے اس پر مسلط کردے تو پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں وہ درست ہے ۔ خدا نے اس مقصد سے کہ یہ قصہ راہ حق کے تمام راہیوں کے لئے ایک سند بن جائے ، شیطان کو اس بات کی اجازت دے دی وہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا اور ایوب کے مال اور اولاد کو یکےبعد دیگرے ختم کرتا چلا گیا، لیکن ان دردناک حادثات نے نہ صرف یہ کہ شکر ایوب میں کوئی کمی نہ کی ، بلکہ ان کا شکر اور بڑھتا گیا۔ شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ اسے انکی زراعت اور بھیڑوں پر مسلط کردے ۔ یہ اجازت بھی اسے دے دی گئی اور اس نے ساری زراعت کو آگ لگادی اور ساری بھیڑوں کو ہلاک کردیا۔ پھر بھی ایوب کی طرف سے حمد پروردگار اور شکر میں اضافہ ہی ہوتا چلاگیا۔ &lt;br /&gt;آخر شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ وہ ایوب کے بدن پر مسلط ہوجائے اور ان کےلئے شدید بیماری کا سبب بنے اور ایسا ہی ہوگیا۔ اس طرح سے کہ وہ شدت بیماری اور زخموں کی وجہ سے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے سے بھی مجبور ہوگئے۔ &lt;br /&gt;البتہ ان کی عقل و شعور میں کسی قسم کا کوئی خلل پیدا نہ ہوا۔ &lt;br /&gt;خلاصہ یہ کہ تمام نعمتیں یکے بعد دیگرے ایوب سے لی جارہی تھیں لیکن ان کا شکر پڑھتا ہی جارہاتھا۔ یہاں تک کہ کچھ راہب انہیں دیکھنے آئے اور ان سے پوچھا:&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;br /&gt;ہمیں بتا تو سہی! کہ تونے کونسا ایسا گناہ یا ہے کہ ایسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہے؟&lt;br /&gt;اس طرح کی بات سے حضرت ایوب کوتکلیف پہنچی اور انہوں نے جواب دیا: مجھے اپنے پروردگار کی عزت کی قسم ہےکہ میں نے کسی غذا کا کوئی ایک لقمہ بھی اس وقت تک نہیں کھایا، جب تک کوئی یتیم و ضعیف میرے دسترخوان پر نہ بیٹھا ہو اور خدا کی کوئی اطاعت سامنے نہیں آئی مگر یہ کہ میں نے اس میں سے سخت ترین کو اختیار کیا۔ &lt;br /&gt;یہ وہ موقع تھا کہ جب ایوب تمام امتحانات میں&amp;nbsp;صبر و شکر کے ساتھ عہدہ برا ہوچکے تھے۔ تو زبان، دعا اور مناجات کے لئے کھولی اور خدا سے اپنی مشکلات کا حل انتہائی مؤدبانہ طریقے سے چاہا۔ لہجہ ہر قسم کی شکایت سے خالی تھا۔ فرمایا&lt;br /&gt;وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ &lt;br /&gt;اور ایوب علیہ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے ۔(یہاں بھی انداز وہی ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کا تھا کہ بیماری کو خدا کی طرف نسبت نہیں دی بلکہ فرمایا کہ بیماری نے مجھے چھو لیا ہے۔ لہجہ میں کوئی شکایت نہیں تھی اور اس کے حل کے لئے خدا کو صفت رحمت سے پکارا کہ اب تو جو ارحم الراحمین ہے جیسا مناسب سمجھے کرے)&lt;br /&gt;ضر ہر قسم کی بیماری اور پریشانی کو کہتے ہیں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو عارض ہو اور اسی طرح سے یہ لفظ کسی عضو کا نقص، مال کا تلف ہونا ، عزیزوں کی موت ، حیثیت و مقام کی پامالی اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ درج بالا قول معصوم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب ان تمام ہی مطالب میں&amp;nbsp;ضر کا شکار ہوئے تھے۔&lt;br /&gt;اس کے جواب میں خدا فرماتا ہے۔&lt;br /&gt;فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ&amp;nbsp; &lt;br /&gt;تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انہیں ان کے اہل وعیال دے دیئے اور ویسے ہی اور بھی دے دیئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے ۔ (سورہ انبیاء آیت 83-84)&lt;br /&gt;انسان،&amp;nbsp; بیماری کو اپنے لئے ایک مصیبت اور پریشانی سمجھتا ہے اور بہت جلد اس سے گھبراجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں انبیا ءؑ اور ائمہ معصومین علیہم السلام بیماری کو خدا کی حکمت سمجھتے تھے اور اس میں بھی اپنے لئےمثبت پہلو ڈھونڈتے تھے۔ اس سلسے میں امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا جو وہ کسی بیماری یا کرب و اذیت میں مبتلا ہونے کی صورت میں پڑھتے تھے، بیماری کے فلسفے اور خدا سے طلب صحت کے متعلق دعا میں فرماتے ہیں۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;اے معبود! تیرے ہی لیے حمد وسپاس ہے اس صحت وسلامتی بدن پر جس میں ہمیشہ زندگی بسر کرتا رہا اور تیرے ہی لئے حمد سپاس ہے اس مرض پر جو اب میرے جسم میں تیرے حکم سے رونما ہوا ہے۔ اے معبود! مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں حالتوں میں سے کونسی حالت پر تو شکریہ کا زیادہ مستحق ہے اور ان دونوں وقتوں میں سے کونسا وقت تیری حمد وستائش کے زیادہ لائق ہے۔ آیا صحت کے لمحے&lt;br /&gt;&amp;nbsp;جن میں تو نے اپنی پاکیزہ روزی کو میرے لیے خوش گوار بنایا اور اپنی رضا وخوشنودی اورفضل واحسان کے طلب کی امنگ میرے دل میں پیدا کی اور اس کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق دے کر اس سے عہدہ برآ ہونے کی قوت بخشی&lt;br /&gt;&amp;nbsp;یا یہ بیماری کا زمانہ&lt;br /&gt;&amp;nbsp;جس کے ذریعہ میرے گناہوں کو دور کیا اور نعمتوں کے تحفے عطا فرمائے تاکہ ان گناہوں کا بوجھ ہلکا کر دے جو میری پیٹھ کو گراں بار بنائے ہوئے ہیں اوران برائیوں سے پاک کر دے جن میں ڈوبا ہوا ہوں اورتوبہ کرنے پر متنبہ کر دے اورگزشتہ نعمت (تندرستی ) کی یاد دہانی سے کفر(کفر ان نعمت کے ) گناہ کو محو کر دے اوربیماری کے اثنا میں کاتبان اعمال میرے لیے وہ پاکیزہ اعمال بھی لکھتے رہے جن کا نہ دل میں تصور ہوا تھا نہ زبان پر آئے تھے اورنہ کسی عضو نے ا سکی تکلیف گوارا کی تھی ۔ یہ صرف تیرا تفضل واحسان تھا جو مجھ پر ہوا ۔ &lt;br /&gt;اے اللہ !رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور جو کچھ تو نے میرے لیے پسند کیا ہے وہی میری نظروں میں پسندیدہ قرار دے اور جو مصیبت مجھ پر ڈال دی ہے اسے سہل وآسان کر دے اورمجھے گزشتہ گناہوں کی آلائش سے پاک اورسابقہ برائیوں کو نیست ونابود کر دے اورتندرستی کی لذت سے کامران اورصحت کی خوش گواری سے بہرہ اندوز کر اور مجھے اس بیماری سے چھڑا کر اپنے عفو کی جانب لے آ ، اوراس حالت افتادگی سے بخشش ودرگزر کی طرف پھیر دے اور اس بے چینی سے نجات دے کر اپنی راحت تک اور اس شدت وسختی کو دور کرکے کشائش ووسعت کی منزل تک پہنچا دے اس لیے کہ تو بے استحقاق احسان کرنے والا اور گرانبہا نعمتیں بخشے والا ہے اور تو ہی بخشش وکرم کا مالک اورعظمت وبزرگی کا سرمایہ دار ہے۔ &lt;br /&gt;خدا سے دعا ہے کہ ہر بیمار کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے صدقے میں تمام بیماروں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/05/blog-post.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-2236341446677345641</guid><pubDate>Sat, 29 Apr 2017 07:08:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-29T00:08:51.944-07:00</atom:updated><title>MP4 101 0127</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;iframe allowfullscreen=&quot;&quot; frameborder=&quot;0&quot; height=&quot;270&quot; src=&quot;https://www.youtube.com/embed/9abNMXAP9UE&quot; width=&quot;480&quot;&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/mp4-101-0127.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://img.youtube.com/vi/9abNMXAP9UE/default.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-6681120625094346581</guid><pubDate>Fri, 28 Apr 2017 16:20:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-28T09:30:51.050-07:00</atom:updated><title>واذا مرضت فهو یشفین </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اس موضوع پر میں نے ایک مجلس پڑھی تھی. یہاں اسکا لنک بھیج رہا ہوں. آپ لوگ سن کر اپنے کمینٹ دے سکتے&lt;br /&gt;
ہیں. صرف آدھا گھنٹے کی تقریر ہے.&lt;br /&gt;
اس لنک کو براؤزر میں پیسٹ کریں اور سنیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
https://www.dropbox.com/s/4wlu4ax3j6byo70/%D9%88%D8%A7%D8%B0%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%D8%AA%20%D9%81%D9%87%D9%88%20%DB%8C%D8%B4%D9%81%DB%8C%D9%86.m4a?dl=0&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_28.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-7344973731180514476</guid><pubDate>Mon, 17 Apr 2017 12:39:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-17T05:39:44.485-07:00</atom:updated><title>دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں۔ وزیر نےلالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موتسنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سےسوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمامدانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا ۔چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنیمشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگرانبنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا ۔وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندےتمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
تو کسان نے کہا کہ دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
لکھنے والے کا نام نہیں معلوم، مجھے میرے دوست ترس علی نے نجف سے بھیجا ہے&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_35.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>1</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-2073397983576204635</guid><pubDate>Mon, 17 Apr 2017 12:29:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-17T05:29:39.678-07:00</atom:updated><title>شرم آتی ہے </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کہتے ہیں ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کر لی تھی لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا. لوگوں نے اس سے کہا کہ اتنا کیوں روتا ہے، کیا جانتا نہیں کہ خداوند عالم معاف کرنے والا ہے. اسنے کہا ہاں ممکن ہے خداوند عالم معاف کردے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے اسے خود سے کیسے دور کروں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
گیرم کہ تو از سر گناہ درگزری&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
زان شرم کہ دیدی کہ چہ کردم چکنم؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
میں نے مانا کہ تو میرے گناہ کو ضرور معاف کر دے گا&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تو نے دیکھ لیا ہے کہ میں نے کیا کیا ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_17.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-4203305910661008619</guid><pubDate>Sun, 16 Apr 2017 23:58:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-16T16:58:51.462-07:00</atom:updated><title>آئیں معاف کریں </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
آئیے معاف کریں&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
میرے بابو نے مجھے ایک بات سکھائی تھی، وہ کہتے ہیں کہ کسی کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سامنے والے کے لئے نہیں بلکہ خود اپنے لئے مفید ہے. وہ کہتے ہیں کہ کسی سے آپ کے دل میں خلش، پاؤں میں چبھے کانٹے کی طرح ہے، جب چلیں گے تکلیف ہوگی. علاج ہے پاؤں سے کانٹا نکال دینا، یعنی معاف کردینا. ہم کڑھ کڑھ کے جس کے لئے اپنی راتیں برباد کرتے ہیں وہ تو سکون سے سو رہا ہوتا ہے. اگر آپ بھی سکون چاہتے ہیں تو معاف کر دیں. میں اس میں اتنا اضافہ کردوں کہ معاف کر دیں اور معافی مانگ لیں. جس سے معافی نہیں مانگ سکتے اس کی مغفرت کے لئے دعا کریں.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک اور بات اور یہ ہے کہ بابو کہتے ہیں جو معاف کرے گا اسی کو معافی ملے گی.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
معاف کرنا ایک خدائی صفت ہے اور خدا اس صفت کو بہت پسند کرتا ہے. وہ غفار بھی ہے اور ستار بھی، یعنی معاف کر دیتا ہے، اور اس معافی کا نہ دوسروں کو بتاتا ہے، نہ جتاتا ہے نہ گناہ کو آشکار کرتا ہے. ہمیں بھی معاف کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کسی کو معاف کرنے کے لئے سامنے والے کے معافی مانگنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے. بس معاف کردینا چاہیے. فاخر&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
صبر کرنا اورمعاف کردینا بہت مشکل ہے۔بہت ہی مشکل۔لیکن ہمیں یہ دعا کرتے رہنی چاہیے کہ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور معاف کرنے کی توفیق اور آسانی بھی عطا کرے۔آمین!ثم آمین!&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
بعض اوقات اس قدر بڑے اور دائمی نقصان ہو چکے ہوتے ہیں کہ اللہ کی قسم !ہرگز ہر گز معاف کرنے کو دل نہیں مانتا ،نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
لیکن پیارے نبیﷺ کا کہنا کیسے نہ مانیں۔۔۔۔۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
۔کیسے اُن کا سامنا کریں گے اگر معاف نہیں کریں گے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کیسے اللہ سے معافی کی امید و تمنا رکھیں گے اگر معاف نہ کریں گے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کیسے اپنے بچوں کو درگذر کرنا سکھائیں گے اگر خود نہیں کریں گے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اللہ ہمیں معاف فرمائے اور ہمارے دلوں سے کینہ،نفرت،بغض،حسد،بدلہ کا خیال نکال کے ہمارے دلوں کو صاف شفاف اور اولوں کے پانی سے دھو ڈالے۔ہمارے دلوں کو سکون اور ٹھنڈک عطا فرمائے۔صحت و آرام دے۔ہمارے نقصانات کے بدلے بہترین جزا اور بدل عطا فرمائے۔ موت کے وقت ہم نے سب کو &amp;nbsp;معاف کر دیا ہو اور سب نے ہمیں ۔کسی کا کوئی حق اور قرض اور معافی مانگنی رہ نہ &amp;nbsp;گئی ہو۔آمین! ثم آمین! جاسمن&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
آپ کا لکھا ہوا پڑھ کر رقت تاری ہو گئی. جب بھی رسول اکرم کا نام آتا ہے تو فتح مکہ یاد آجاتی ہے. کیسے آپ نے سید الشہداء حضرت حمزہ کا خون معاف کیا تھا. معاف کرنے کے لئے اتنا ہی جگر چاہیے.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
شاید جب ہم ایک بڑے مقصد کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں تو یہ کام آسان ہو جاتا ہے.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کربلا ہی کو دیکھ لیں، امام حسین علیہ السلام نے اپنے چھ ماہ کے بچے کو اپنی گود میں تڑپتا دیکھا پھر بھی امت کی اصلاح کی دعا کرتے رہے. فاخر&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
خدا ہم سب کو اپنی مغفرت سے مستفید فرمائے.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اپنے محبوب چچا کے قاتلوں کو معاف کرنا بہت ہی بڑا عمل ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
اس کے علاوہ مجھے واقعہ طائف بہت ہی بڑا واقعہ لگتا ہے معافی کے حوالے سے۔ میری روح کانپ اُٹھتی ہے جب میں یہ واقعہ یاد &amp;nbsp;کرتی ہوں۔۔۔آپ تصور کریں کہ اتنے سارے لوگ آپ کے پیچھے ہوں اور مسلسل آپ کی شان میں۔۔۔ اور مزید اپ کو جسمانی تکلیف بھی دے رہے ہوں۔ آوازے۔۔۔۔آہ! ۔کون برداشت کر سکتا ہے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔یہ مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے۔لیکن ہمارے پیارے نبیﷺ نے اس ناممکن کام کو ممکن بنا دیا۔ ہے کوئی اُن جیسا؟ہمارے پیارے پیارے پیارے پیارے نبیﷺ۔۔۔ہمارے آخری نبیﷺ۔۔۔۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
بس یہ واقعہ ہی یاد کر لیں تو معاف کرنا کچھ آسان لگنے لگتا ہے۔جاسمن&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_57.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>1</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-6855903507424041352</guid><pubDate>Sun, 16 Apr 2017 23:42:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-16T16:42:38.779-07:00</atom:updated><title>خودکشی </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
خدا کسی کو یہ منظر نہ دکھائے. بہت ہولناک ہوتا ہے جب کوئی ہاتھ کی رگیں کٹا اسپتال آتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
عام طور پر یہ لوگ ایک سے زیادہ طریقے سے خودکشی کی کوشش کرتے ہیں، یعنی رگ بھی کاٹیں گے ساتھ یا تو زہر پئیں گے یا آگ لگائیں گے. اس لئے یہ اور بھی مشکل ہوتا ہے علاج کرنا. مرد تو مر ہی جاتے ہیں جبکہ عورتیں تڑپتی ہیں. خیر پہلی نہیں تو دوسری یا تیسری کوشش میں وہ بھی مر ہی جاتی ہیں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
دنیا میں سب سے زیادہ خودکشی جاپانی کرتے ہیں شاید تناسب کے لحاظ سے. مگر وہ پہاڑ سے کودنا پریفر کرتے ہیں&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
قیدیوں میں بھی یہ رجحان بہت پایا جاتا ہے&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
یاسیت یا ڈپریشن خود کشی کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اگر اس پر کنٹرول کر لیا جائے تو تیس فیصد سے زیادہ لوگوں کو خود کشی سے بچایا جاسکتا ہے. ڈپریشن کی وجہ محبوب کی بے رخی، کچھ تو اس بے رخی سے محبوب حقیقی کا رخ کرتے ہیں اور کچھ خود کشی کرکے خالق حقیقی سے جا ملتے ہیں&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
خدا ہر چاہنے والے کو اپنے محبوب سے ملا &amp;nbsp;دے آمین&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_36.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>2</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1105581466729139387</guid><pubDate>Sun, 16 Apr 2017 15:22:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-16T08:22:38.029-07:00</atom:updated><title>چینی کم ہے </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
چینی کم ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
میں نے چائے کا پہلا سپ لیتے ہی بیوی کو آواز دی، چینی کم ہے. بیگم صاحبہ نے جواب دیا چینی کم نہیں ہے بس آپ چمچی گھمانے کی زحمت کرلیں. اصل میں چینی کم نہیں تھی آپ نے چمچی نہیں ہلائی تھی&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
عام طور پر ہمارے اندر خوشیاں ہوتی ہیں بس چمچی ہلانے کی ضرورت ہوتی ہے. ہاں جب چائے ختم ہونے والی ہوتی ہے تو کچھ مٹھاس محسوس ہوتی ہے . پھر انسان جلدی جلدی چمچی چلاتا ہے . مگر اب چائےاتنی میٹھی ہوجاتی ہے کہ پی ہی نہیں جاتی. آخری عمر میں سکون سے رہنے کا خواب بھول جائیں، جو موقع حاصل ہے اسی سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، ماضی اور مستقبل سے نکل کر حال میں جینا شروع کریں. اسی میں انرجی اور خوشی پوشیدہ ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
زندگی بہت مختصر ہے اس میں جتنی ہوسکے خوشیاں بانٹیں. یہ وہ چیز ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے. اور کیا چاہیے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_23.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-6004233784006989682</guid><pubDate>Sun, 16 Apr 2017 14:57:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-16T07:57:06.064-07:00</atom:updated><title>جھوٹ کی تعریف </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
جھوٹ کی تعریف&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
حضرت علی علیہ السلام کا ایک قول ہے، اشیاء کو ان کی ضد سے پہچانو. سچ حقیقت اور واقعیت کو کہتے ہیں اس کی ضد جھوٹ ہے. میں زیک کی اس بات سے متفق ہوں کہ جھوٹ کی تعریف نہ کی جائے، دراصل یہ اس قابل ہی نہیں کہ اسے اتنا منہ لگائیں. بے پیندے کے برتن میں گھی نہ تو گرم ہوسکتا ہے نہ جمع کیا جاسکتا ہے. دنیا کی سب سے بڑی حقیقت حق سبحانہ تعالٰی کی ذات ہے. اہل معرفت کہتے ہیں اس ذات کے سوا کوئی ذات واجب نہیں اور ہر شے اتنی ہی حقیقت رکھتی ہے جتنی ذات اعلی صفات سے قریب ہے.&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
مسیلمہ کذاب کی پوری اسٹوری کہاں سے مل سکتی ہے۔ وہ کون تھا اس نے کیا دعویٰ کیا اور اس کو کیا جواب دیا گیا۔ ابھی تک میں نے اس کا ذکر اسی طرح چلتے پھرتے ہی پڑہا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اسے کھوجنے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ آج ہزاروں لوگ نہ صرف زکات نہیں دیتے بلکہ کرپشن کا پیسہ شیر مادر کی طرح اپنا حق سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔ دو ارب روپے دے کر اڑتیس ارب کھا جاتے ہیں۔ ان پر کسی نے فتویٰ نہیں دیا۔ ہم لوگوں نے حال میں آنا ہی نہیں ہے۔ صوفی کم از کم حال میں تو رہتے ہیں۔ انہیں اپنے اور خدا کے علاوہ کسی سے سروکار خاص کر بیر نہیں ہوتا۔ ہم کسی کو کافر اور جھوٹا بنا کر فخر سے اپنا سر بلند کرتے ہیں۔ رسول خدا پر ہماری جان قربان ہے اور ان کی ہر بات سچ اور وحی کے عین مطابق ہے۔ ہم لوگ ان کی پوری حیات طیبہ پڑھ کر ہی صحیح نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے تھے۔&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_16.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-5303882368628364753</guid><pubDate>Sun, 16 Apr 2017 04:51:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-15T22:21:56.778-07:00</atom:updated><title>اچھی باتیں </title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
‏انسان اشیا کی قیمت کا تعین کرتا ہے، پھر اشیا انسان کی قیمت کیسے ہوسکتی ہیں۔ انسان تو انمول ہے اور اس کی&lt;br /&gt;
قیمت رضائے الٰہی ہے۔ یا کم از کم جنت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‏علم الفاظ کا ذخیرہ ہے ، عشق جذبات کا ذخیرہ ہے اور عقل&lt;br /&gt;
وہ ترازو ہے جو ان دونوں کو تول کر بتاتا ہے کتنا اٹھانا ہے کتنا چھوڑ دینا ہے ۔ ۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‏زمین پرموجودات کی قدر وقیمت انسان مقرر کرتا ہے.کیا انسان کی قدر و قیمت یہ سب چیزیں ہو سکتی ہے.انسان وہ میزان ہے جس پر سب چیزیں تولی جاتی ہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہتے ہیں ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کر لی تھی لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا. لوگوں نے اس سے کہا کہ اتنا کیوں روتا ہے، کیا جانتا نہیں کہ خداوند عالم معاف کرنے والا ہے. اسنے کہا ہاں ممکن ہے خداوند عالم معاف کردے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے اسے خود سے کیسے دور کروں.&lt;br /&gt;
گیرم کہ تو از سر گناہ درگزری&lt;br /&gt;
زان شرم کہ دیدی کہ چہ کردم چکنم؟&lt;br /&gt;
میں نے مانا کہ تو میرے گناہ کو ضرور معاف کر دے گا&lt;br /&gt;
لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تو نے دیکھ لیا ہے کہ میں نے کیا کیا ہے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_70.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1637539618965151981</guid><pubDate>Sat, 15 Apr 2017 09:28:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-15T02:46:32.954-07:00</atom:updated><title>خود سے خود تک</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
خود سے خود تک&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج پھر سفر درپیش ہے۔ کون سا سفر ؟آج تک انسان خود سے خود تک کا سفر ہی کرتا رہا ہے۔کبھی اس&amp;nbsp; نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ&amp;nbsp; اگر&amp;nbsp; میں وہ&amp;nbsp; نہ&amp;nbsp; بھی&amp;nbsp; ہوتا&amp;nbsp; تو&amp;nbsp; کیا&amp;nbsp; فرق&amp;nbsp; پڑتا،&amp;nbsp; یعنی&amp;nbsp; اس کا وجود&amp;nbsp; کوئی فرق&amp;nbsp; پیدا&amp;nbsp; نہیں کرتا۔&amp;nbsp; گھڑی&amp;nbsp; کی&amp;nbsp; سوئیاں&amp;nbsp; خود&amp;nbsp; گھومتی&amp;nbsp; رہتی&amp;nbsp; ہیں&amp;nbsp; مگر&amp;nbsp; اس&amp;nbsp; کا&amp;nbsp; دنیا&amp;nbsp; پر&amp;nbsp; کوئی&amp;nbsp; اثر&amp;nbsp; نہیں&amp;nbsp; پڑتا۔&amp;nbsp; اس لئے&amp;nbsp; کہ&amp;nbsp; یہ&amp;nbsp; خود&amp;nbsp; اپنا&amp;nbsp; ہی&amp;nbsp; طواف&amp;nbsp; کرتی&amp;nbsp; رہتی&amp;nbsp; ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انسان آخر کیوں سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ ہے۔ہر انسان اپنے آپ سے پوچھے کہ اس کے ہونے کی دلیل کیا ہے ؟ اس نے کون سا&amp;nbsp; ایساکام کیا کہ اگر وہ نہ ہوتا تو زمانہ رک جاتا۔یہی انسان کے نہ ہونے کی ایک بڑی&amp;nbsp; دلیل ہے انسان کاموثر نہ&amp;nbsp; ہونا۔ یا&amp;nbsp; میرے لحاظ سے نہ ہونا۔وہ جنھوں نے آدھی دنیا فتح کی تھی میں اُن سے بھی یہی سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ دنیا میں نہ آئے ہوتے تو کیا فرق پڑ جاتا۔جس دنیا کو آپ نے فتح کیا وہاں تو&amp;nbsp; پہلے بھی حکومت موجود تھی ،لوگ بھی رہتے تھے شاید آپ کے حکومت سے بہتر انتظام تھا۔آپ نے ایسا&amp;nbsp; نیا کیا کیا،آپ&amp;nbsp; قصر شام دیکھئے اور بتائیں اگر وہ نہ ہوتے&amp;nbsp; تو کیا زیادہ اچھانہ ہوتا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یعنی ایک وجود میں نہ ہونا ہے اور ایک وجود میں ہونا ہے۔اور ایک وہ وجود ہے جو نہ ہونے سے بھی بُرا ہے۔یہ تو بہت بُری بات ہے کہ لوگ آپ کے نا موجود ہونے کی آرزو کریں۔یہ تو نا موجود نہیں بلکہ ’’نا نا موجود ‘‘ ہے،۔ ڈبل نا موجود ۔میرے لحاظ سے موجود وہ ہے جو ’’با کرامت‘‘ ہے۔اُس کی زندگی با کرامت ہے، اس کی موت با کرامت،۔وہ، وہ ہے جس سے ہر دور کا انسان&amp;nbsp; فیضیاب ہو، وہ&amp;nbsp; وہ ہے جس نے اپنے وجود کو وجود باری میں ضم کر دیا ہے۔اب وجود ِباری کی ذمہ داری ہے کہ اسے ہمیشہ زندہ رکھے۔یہ وہ وجود ہے جس کے ہونے اور نہ ہونے دونوں سے فرق پڑتا ہے۔یہ اس عمل انگیز کی مانند ہے جس کے&amp;nbsp; بغیر نبض دنیا رُک جاتی ہے۔حرارت ختم ہوجاتی ہے ،مکمل تباہی مقدر بن جاتی ہے، یہ ہے ’’حسین&#39;&#39;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حسین ایک ایسا با کرامت فرد تھا جس کا وجود حق اور نا حق کی کسوٹی قرار پایا۔یہ وہ با ارادہ شخص تھا جس نے تمام انسانوں کو اپنے ارادوں کا مالک و مختار بنا دیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp; خدا نے ہر انسان میں کرامت کا جوہر پیدا کیا ہے،کوئی اسے پروان چڑھاتا ہے اور کوئی اسے اپنے وجود سے نکال باہر کرتا ہے۔۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp; اگر آپ دیکھنا چاہیں کہ آپ با کرامت ہیں یا نہیں تو دیکھیں کہ جب حق پائمال ہوتا ہے تو آپ کا&amp;nbsp; دل کتنا دکھتا ہے۔میں تو ان لوگوں کی بات ہی نہیں کر رہا&amp;nbsp; جو خود دوسروں کا حق پائمال کر چکے ہیں۔وہ تو ہیں ہی ’’ضال ‘‘ اور ’’مغضوب ‘‘ ۔ میں ان لوگوں کی بات کر رہاہوں جو ابھی کچھ اپنی فطرت پر باقی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمیں چائیے کہ دنیا میں کم از کم ایسا کام ضرور کریں کہ جب یہاں سے جائیں تو خدا کے سامنے سرخرو ہوں اور دنیا میں بھی لوگ آپ کے لئے دعائے مغفرت کریں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_15.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>2</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-7209234736295154821</guid><pubDate>Fri, 14 Apr 2017 20:42:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-14T13:42:57.081-07:00</atom:updated><title>ایک خواب</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ایک خواب &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; کل رات امام&amp;nbsp; ؑکی ایک حدیث پر غور کرتے کرتے آنکھ لگ گئی۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عظیم الشان سمندر ہے جس کی حدیں عرش معلیٰ تک ملی ہوئی ہیں اور بے شمار مخلوقات کو سیراب کر رہا ہے۔ میں اس کے بیچ میں کھڑا ہوں۔ نہ لباس تر ہوا ہے اور نہ پیاس ہی بجھی۔سمندر ٹھاٹیں مار رہا ہے۔ کبھی اوپر اُچھال دیتا ہے کبھی نیچے&amp;nbsp; ڈبو دیتا ہے۔مجھے محسوس ضرور ہو رہاہے کہ سمندر ہے مگر مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔صبح اُٹھا تو بہت غور کیا تو شائبہ ہوا کہ شاید یہ میری ہی زندگی سے متعلق ہے۔علم کا ایک سمندر ہے جو ہمارے ارد گرد موجود ہے اور نہ ہم اسے اپنے قریب آنے دیتے ہیں نہ خود اس کی طرف جاتے ہیں &lt;br /&gt;۔گندے جو ہڑوں سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں، اس سے اپنے لباس کو پاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس سمندر سے دور ہیں ۔صرف نظارے کر کے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔جو مشتاق تیراک ہیں وہ اپنی تیراکی کے کارنامے بیان کر رہے ہیں&amp;nbsp;اور ہم محض محو ِ تماشہ ہیں ۔وہ بھی سمندر کا تماشہ نہیں بلکہ اُن کا تماشہ جنھوں نے اس سمندر کا مشاہدہ کیا ہے ۔جیسے پنجاب میں کوئی کراچی سے جا کر اگر سمجھانا چاہے کہ سمندر کتنا بڑا ہے تو وہ بیچارے راوی سے اس کا مقابلہ کررہے ہوتے ہیں ۔سوچتے ہیں شاید راوی سے دس گنا بڑا ہو ، یا سو گنا بڑا&amp;nbsp; ہوگا،زیادہ سے زیادہ ہزار گنا بڑا ،وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ سمندر کتنابڑا ہے ۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; علم کے اس سمندر میں کنارے پر بیٹھا محو حیر ِت ہوں کہ آغاز کہاں سے کروں ۔کہیں فلسفہ کی گونجیں ہیں ،کہیں علم کلام ،کہیں منطق کہیں دیگر درسی کتب۔مگر یہ تمام سمندر مل کر بھی اس سمندر کا مقابلہ نہیں کر سکتےجس کی طرف ہماری توجہ دلائی گئی ہے ۔وہ سمندر جو ہمارے اندر سے پیدا ہوتا ہے اور ان تمام سمندروں پر غالب آجاتا ہے ۔وہ نور اور وہ ہدایت&amp;nbsp; جو خالق ِ علم بلکہ عین علم کی ذات باری سے رواں ہے اور وہ جس سینے سے چاہتا ہے رواں کر دیتا ہے&amp;nbsp; مگر شرائط و شروط کے ساتھ۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; علم اس پانی کی طرح ہے اگر صحیح استعمال کیا جائے تو ہر طرف نور، روشنی اور حرکت پیدا کر دیتا ہے اور اگر منہ زور ہو جائے تو ہر طرف تباہی پھیلا دیتا ہے ۔اس علم پہ بھی ایک لگام کی ضروت ہے تاکہ&amp;nbsp; یہ منہ زوری سے باز رہےاور اپنے مالک کی حفاظت&amp;nbsp; و تابعداری کرے نہ کہ اسے میدان میں پٹخ دے۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; علم کی لگام تقویٰ&amp;nbsp; الٰہی ہے۔(۱۱ محرم ۱۴۳۵)&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_84.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-566900106505279150</guid><pubDate>Fri, 14 Apr 2017 14:40:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-14T07:40:09.576-07:00</atom:updated><title>غرور و تکبر</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
غرور اور تکبر&lt;br /&gt;غرور: یہ ایک عربی کا لفظ ہے اور اس کا مادہ غرر ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ بکثرت استعمال ہوا ہے۔ غرر یا غررت کا مطلب ہے دھوکا دینا۔ کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد پورا کرنا۔اس کی کئی مثالیں قرآن کریم میں ملتی ہیں۔&lt;br /&gt;یَا أَیُّہَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ (6)انفطار سورہ ۸۲ ترجمہ: اے انسان تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا ہے۔ &lt;br /&gt;وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْْطَانُ إِلاَّ غُرُوراً(64)بنی اسرائیل سورہ ۱۷ ترجمہ: اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔ &lt;br /&gt;َ وَما الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ(185) آل عمران سورہ ۳ ترجمہ: اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔ &lt;br /&gt;&amp;nbsp;وَلَا یَغُرَّنَّکُم بِاللَّہِ الْغَرُورُ (33)&amp;nbsp; لقمان سورہ ۳۱ترجمہ: اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا دھوکہ دے۔ &lt;br /&gt;پس غرور سے مال و جاہ، خواہش نفسانی ، شیطان اور ہر وہ شیز مراد ہت جو اسنان کو فرین میں مبتلا کردے۔ بعض نے غرور سے مراد صرف شیطان لیا ہے کیونکہ جو چیزیں انسان کو فرین میں منتلا کریہ ہیں ، شیطان ان سن سے زیادہ خبیث ہیاور بعض نے اس کی تفسیر دنیا سے کی ہے۔ کیونکہ دنیا بھی انسان کے ساتھ فریب کھیلتی ہے، دھوکہ دیتی ہے نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ اردو میں عام طور پر تکبر کا ترجمہ غرور ہی کیا جاتا ہے۔ اوریہ الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ مغرور یا متکبر دراصل اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔ اور خدا کی دی ہوئی چیز پر ملکیت جتا کر اترا رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑا دھوکہ ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تکبر: &lt;br /&gt;یہ لفظ کبر سے مشتق ہے۔ کبر ، تکبر اور استکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ پس کبر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان میں عُجُب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور ؑجب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروںسے بڑا خیال کرے۔ اور سب سے بڑا تکبر قبولِ حق سے انکار اور عبادت سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے۔ &lt;br /&gt;قرآن کریم میں استکبار سے مراد یہ ہے کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں۔ &lt;br /&gt;قرآنی مثالیں: &lt;br /&gt;َ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ (34)بقرہ سورہ ۲ ترجمہ: شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔&lt;br /&gt;ْ تَسْتَکْبِرُونَ فِیْ الْأَرْضِ بِغَیْْرِ الْحَقِّ (20)&amp;nbsp; احقاف سورہ۴۶ترجمہ: کہ تم ناحق زمیں میں غرور کیا کرتے تھے۔ &lt;br /&gt;إِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُواْ عَنْہَا (40) اعراف سورہ ۷ترجمہ: جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو چھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ &lt;br /&gt;فَاسْتَکْبَرُواْ وَکَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ(75) یونس سورہ ۱۰ترجمہ: اور انہوں نے تکبر کیا اور وہ گناہگار لوگ تھے۔ &lt;br /&gt;لفظ فَاسْتَکْبَرُواسے اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ انہوں نے قبولِ حق کے سلسلے میں تکبر، نخوت اور خود پسندی سے کام لیا اور پھر وہ کَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْن کہ کر یہ بتایا کہ ان کے سابقہ جرائم نے ہی انہیں تکبر پر اکسایا تھا اور یہ تکبر ان کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی بلکہ ان کا شیوہ بن چکا تھا۔&lt;br /&gt;تکبر کا استعمال اگر ایسے موقع پر کیا جائے جہاں فی الحقیقت کسی کے افعالِ حسنہ زیادہ ہوں اور وہ ان پر دوسروں سے بڑھا ہوا ہواسی معنی میں اللہ تعالیٰ صفت تکبر کے ساتھ متصف ہوتا ہے۔ (دراصل سوائے خدا کے کوئی اور ہستی تکبر کے لئے سزاوار ہی نہیں ہے کیونکہ ہر حسن خدا کی دین ہے اور بدرجہ کمال ذات خدا میں عین ذات کے طور پر موجود ہے)&lt;br /&gt;ُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ (23)حشرسورہ۵۹ترجمہ: غالب، زبردست بڑائی والا&lt;br /&gt;وَلَہُ الْکِبْرِیَاء&amp;nbsp; فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (37)جاثیہ سورہ ۴۵ترجمہ: آسمانوں اور زمینوں میں اس کے لئے بڑائی ہے۔ &lt;br /&gt;تکبیر سے مراد خدا کو بڑا جان کر اس کی بڑائی بیان کرنا ہے۔&lt;br /&gt;وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْراً(111)بنی اسرائیل ۱۷ترجمہ:اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔&lt;br /&gt;تکبیر یا اللہ اکبر کا ترجمہ ممکن نہیں کیونکہ خدا ہر اس وصف سے بلند ہے جو اس کی بڑائی بیان کرنے کے لئے کیا جائے۔&lt;br /&gt;مفردات قرآن۔ جلد دوم۔ راغب اصفہانی&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_27.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-1589953204569430166</guid><pubDate>Fri, 14 Apr 2017 14:36:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-14T07:36:11.774-07:00</atom:updated><title>حضرت علی علیہ السلام کی شہادت</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;ضربت امام علی علیہ السلام&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انیسویں&amp;nbsp; شب کو آپ اپنی دختر نیک اختر حضرت ام کلثوم ؑ کے ہاں&amp;nbsp; تشریف فرما تھے۔ انہوں&amp;nbsp; نے جو کی دو روٹیاں&amp;nbsp; ایک پیالہ دودھ کا اور ایک طشتری میں&amp;nbsp; نمک رکھ کر پیش کیا۔ آپ نے اس کھانے کو دیکھا تو فرمایا: میں&amp;nbsp; نے رسول خدا کی پیروی میں&amp;nbsp; کبھی گوارا نہیں&amp;nbsp; کیا ایک وقت میں&amp;nbsp; دسترخوان پر دو قسم کی چیزیں&amp;nbsp; ہوں، اے میری بیٹی! دنیا کے حلال میں&amp;nbsp; حساب ہے اور حرام میں&amp;nbsp; عقاب ہے، بیٹی کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارا باپ زیادہ دیر تک موقف حساب میں&amp;nbsp; کھڑا رہے؟ لہٰذا ان دو چیزوں&amp;nbsp; میں&amp;nbsp; سے ایک چیز کا اٹھا لو، جناب ام کلثوم نے دودھ کا پیالہ اٹھالیا اور آپ نے چند لقمے نمک کے ساتھ تناول فرمائے، کھانے سے فارغ ہوکر حسب معمول مصلائے عبادت پر کھڑے ہوگئے، صواعق محرقہ ص۴۳۱ میں&amp;nbsp; ہے آج بار بار صحن میں&amp;nbsp; نکلتے، آسمان پر نظر کرتے اور ڈوبتے اور جھلملاتے ہوئے ستاروں&amp;nbsp; کو دیکھتے اور فرماتے: ’’وَاللّٰہِ مَا کَذِبْتُ وَلَا کُذِّبْتُ&amp;nbsp; اِنَّھَا اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ وُعِدْتُّ بِھَا‘‘&lt;br /&gt;خدا کی قسم میں&amp;nbsp; جھوٹ نہیں&amp;nbsp; کہتا اور نہ مجھے غلط بتایا گیا ہے، یہ وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;آپ کرب و اضطراب کی حالت میں&amp;nbsp; کبھی سورہ یاسین کی تلاو ت کرتے، کبھی ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ اور کبھی ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم‘‘ پڑھتے اور کبھی کہتے: ’’اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ‘‘ خدایا! میری موت کو میرے لیے بابرکت قرار دے۔ جب جناب ام کلثوم ؑ نے یہ کیفیت دیکھی تو عرض کیا: ’’بابا! آج آپ اتنے پریشان حال کیوں&amp;nbsp; ہیں؟‘‘ فرمایا:’’بیٹی! آخرت کی منزل درپیش ہے اور میں&amp;nbsp; اللہ کی بارگاہ میں&amp;nbsp; جانے والا ہوں!‘‘&lt;br /&gt;جناب ام کلثوم ؑ نے آنکھوں&amp;nbsp; میں&amp;nbsp; آنسو بھر کر کہا: بابا! آج آپ مسجد میں&amp;nbsp; تشریف نہ لے جائیں، کسی اور کو حکم دیجئے کہ وہ نماز پڑھادے! فرمایا: ’’لَا مَفَرَّ مِنْ قَضَآء اللّٰہِ‘‘ قضائے الٰہی سے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں&amp;nbsp; ہے۔&lt;br /&gt;ابھی کچھ رات باقی تھی کہ ’’ابن ثباج‘‘ موذن نے حاضر ہو کر نماز کے لیے عرض کیا، آپؑ مسجد کے ارادے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ جب صحن خانہ میں&amp;nbsp; آئے تو گھر میں&amp;nbsp; پلی ہوئی بطخوں&amp;nbsp; نے اپنے پر پھڑپھڑائے اور چیخنے چلانے لگیں۔ کسی نے انہیں&amp;nbsp; آپ ؑ سے ہٹانا چاہا تو فرمایا کہ انہیں&amp;nbsp; اپنے حال پر چھوڑ دو، ابھی کچھ دیر کے بعد نوحہ و بکا و نالہ و شیون کی آوازیں&amp;nbsp; بلند ہوں&amp;nbsp; گی، پوچھا گیا: بابا! آج آپ کیسی باتیں&amp;nbsp; کررہے ہیں؟ فرمایا: ’’کلمہ حق تھا جو میری زبان پر جاری ہوگیا ہے‘‘ پھر ام کلثوم سے فرمایا:بیٹی! یہ بے زبان جانور ہیں۔ان کے آب و دانہ کا خیال رکھنا، اگر ایسا نہ کرسکو تو انہیں&amp;nbsp; رہا کردینا تاکہ زمین میں&amp;nbsp; چل پھر کر اپنا پیٹ پال سکیں، جب دروازہ کے قریب پہنچے تو پٹکا کمر میں&amp;nbsp; کس کر باندھااور احیحہ انصاری کے یہ دو شعر پڑھے:&lt;br /&gt;اُشْدُدْ حَیَازِیْمَکَ لِلْمَوْتِ فَاِنَّ الْمَوْتَ لَاقِیْکَ&lt;br /&gt;موت کے لیے کمر کس لو اس لیے کہ موت تمہارے سامنے آنے والی ہے۔&lt;br /&gt;وَ لَا&amp;nbsp; تَجْزَعْ&amp;nbsp; مِنَ&amp;nbsp; الْمَوْتِ&amp;nbsp; اِذَا&amp;nbsp; حَلَّ&amp;nbsp; بِوَادِیْکَ&lt;br /&gt;جب موت تمہارے ہاں&amp;nbsp; ڈیرے ڈال لے تو اس پر بیتابی کا مظاہرہ نہ کرو۔&lt;br /&gt;جناب ام کلثوم ؑ نے آنسو بہاتے ہوئے اپنے باپ کو الوداع کیا، امام حسن ؑ نے چاہا کہ مسجد تک حضرت ؑ کے ہمرکاب جائیں&amp;nbsp; مگر آپ ؑ نے منع کردیا، جب آپ ؑ مسجد میں&amp;nbsp; تشریف لائے تو مسجد تاریکی میں&amp;nbsp; ڈوبی ہوئی تھی، آپ ؑ نے مسجد میں&amp;nbsp; چند رکعت نماز پڑھی اور تعقیبات سے فارغ ہوئے تو خونریز سحر نمودار ہوچکی تھی، آپ ؑ گلدستہ اذان پر تشریف لے گئے اور صبح کی اذان دی، یہ آپ ؑ کی آخری اذان تھی جو مسجد سے بلند ہوئی اور کوفہ کے ہر گھر میں&amp;nbsp; سنی گئی اور اذان کے بعد اَلصَّلوٰۃَ اَلصَّلوٰۃ کہہ کر لوگوں&amp;nbsp; کو نماز صبح کے لیے بیدار کرنے لگے، انہی لوگوں&amp;nbsp; میں&amp;nbsp; ابن ملجم بھی تھا، اسے اوندھا لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا یہ شیطان کے سونے کا انداز ہے، دا&amp;nbsp; ہنی کروٹ سوو? جو مومنین کا شعار ہے، یا بائیں&amp;nbsp; طرف لیٹو جو حکماء کا طریقہ ہے، یا پیٹھ کے بل سو جو انبیاء ؑ کا طرزِ عمل ہے، اٹھ اور نماز پڑھ۔&lt;br /&gt;حضرت لوگوں&amp;nbsp; کو بیدار کرنے کے بعد محراب عبادت میں&amp;nbsp; کھڑے ہوگئے اور جب نافلہ صبح کی پہلی رکعت کے سجدہ سے سر اٹھایا تو شبیب بن بجرہ نے تلوار سے حملہ کیا مگر تلوار ستونِ مسجد سے ٹکرائی اور اس کا وار ناکام رہا۔ پھر ابن ملجم نے زہر میں&amp;nbsp; بجھی ہوئی تلوار سر پر ماری جس سے فرق مبارک شگافتہ ہو گیا، آپ نے بیساختہ فرمایا: ’’فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہِ‘‘ رب کعبہ کی قسم میں&amp;nbsp; کامیاب ہوگیا ہوں، لوگو! مجھے یہودیہ کے بیٹے ابن ملجم نے قتل کرڈالا۔&lt;br /&gt;امام بمنزلہ روح کائنات اور جان عالم ہوتا ہے، جب جان پر بنتی ہے تو اعضاء متاثراور مضمحل ہوئے بغیر نہیں&amp;nbsp; رہتے، چنانچہ اس موقعہ پر آسمان کا نپا، زمین لرزی مسجد کے در وازے آپس میں&amp;nbsp; ٹکرائے اور زمین و آسمان کے درمیان یہ آواز گونجی:&lt;br /&gt;’’تَھَدَّمَتْ وَاللّٰہِ اَرْکَانُ الْھُدیٰ، قُتِلَ ابْنُ عَمِّ الْمُصْطَفیٰ، قُتِلَ وَصِیُّ الْمُجْتَبیٰ، قُتِلَ عَلِیٌّ الْمُرْتَضیٰ‘‘ خدا کی قسم رکنِ ہدایت گر گئے، رسول خدا کے ابن عم قتل کردئیے گئے، وصی پیغمبر مارے گئے، علی مرتضیٰ ؑ شہید کردئیے گئے۔&lt;br /&gt;اس آواز نے کوفہ کی آبادی کو لرزا دیا۔ تمام شہر کانپ اٹھا۔ لوگ جوق در جوق گھروں&amp;nbsp; سے نکل آئے۔ امام حسن و حسین علیہما السلام سراسیمہ اور پریشان حال مسجد کی طرف دوڑے جہاں&amp;nbsp; لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے اور چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ امیرالمومنین ؑ شہید کردئیے گئے!! فرزندان رسول ؐ نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ محراب لہو سے تر ہے اور ایمان مجسم خاک و خون میں&amp;nbsp; غلطان ہے اور امام معظم مٹی اٹھا اٹھا کر فرق مبارک پر ڈالتے اور سورہ طہ کی آیت۵۵ کی تلاوت فرماتے جاتے تھے: ’’مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ‘‘ ہم نے تمہیں&amp;nbsp; زمین سے پیدا کیا اور زمین کی طرف پلٹائیں&amp;nbsp; گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں&amp;nbsp; گے۔&lt;br /&gt;امیرالمومنین کے سر و صورت کو خون میں&amp;nbsp; رنگین دیکھ کر امام حسن علیہ السلام نے گلوگیر آواز میں&amp;nbsp; کہا: بابا! آپ ؑ کا خون کس نے بہایا ہے؟ حضرت ؑ نے فرمایا: بیٹا! پہلے نماز ادا کرو، چنانچہ امام حسن مجتبیٰ&amp;nbsp; ؑ نے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ؑ کو محراب مسجد سے صحن میں&amp;nbsp; لایا گیا، اس وحشت ناک خبر کو سن کر لوگ سمٹ کر مسجد میں&amp;nbsp; جمع ہوچکے تھے، ہر چشم اشکبار اور ہر دل غم سے فگار تھا۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;نقل از:سیرت چہاردہ معصومین(ع)تالیف علامہ محمد علی فاضل مدظلہ العالی)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_26.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-2174232853411623052</guid><pubDate>Fri, 14 Apr 2017 14:31:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-14T07:31:00.826-07:00</atom:updated><title>پاکستان کے مسائل</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
یہ بات تو کافی لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کا بیڑا غرق پراکسی وار نے کیا ہے مگر یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس پراکسی وار نے پاکستان کے کس طبقے کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر پاکستان میں پراکسی وار نہ ہورہی ہوتی تو کیا پاکستان کا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کیا پاکستان میں موجود پسماندگی کے ذمے دار صرف اور صرف امریکہ، سعودیہ اور ایران ہی ہیں۔ &lt;br /&gt;کیا پاکستان کے اپنے بھی کچھ مسائل ہیں یا نہیں۔ &lt;br /&gt;پاکستان میں پراکسی وار کوئی باہر سے تو آکر نہیں لڑتا ، لڑنے والے تو پاکستانی ہی ہوتے ہیں۔ ان پاکستانیوں کو اس جنگ سے کیا فائدہ ملتا ہے۔ وہ کیوں اپنا گھر بار اور کاروبار اور پڑھائی چھوڑ کر اس جنگ میں پراکسی بن جاتے ہیں۔ &lt;br /&gt;پاکستان کے کچھ مسائل تو وہ ہیں جو اسے اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ملے اور کچھ وہ ہیں جو بعد میں پیدا ہوئے۔ مثلاََ فرقہ واریت شاید پاکستان بنتے وقت نہیں تھی یا کم ازا کم فرقہ واریت میں تشدد کی فضا قائم نہیں ہوئی تھی۔&lt;br /&gt;اگر ہم پاکستان کے مسائل کو نظریاتی اور عملی پہلو ؤں سے دیکھیں تو اس تقسیم میں ہمیں بہت سارے مسائل پتہ چلیں گے۔&lt;br /&gt;نظریاتی مسائل: آج دو قومی نظریے پر نہ صرف انگلی اٹھائی جارہی ہے بلکہ اس پر باقاعدہ ٹی وی پر بحث ہوتی ہے۔ انڈیا کے عوام بشمول مسلمان دو قومی نظریے کو نہیں مانتے اور اس نظریے کے تحت بنے والے پاکستان کو ایک زخم کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ پاکستانیوں کو یہ باور کرائیں کہ پاکستان بننا ایک غلطی تھی۔ آج کلاسس میں اساتذا بھی کنفیوز ہیں کہ بچوں کو دو قومی نظریہ پڑھائیں یا نہیں۔ اسمبلی میں موجود افراد جو آئین بناتے ہیں وہ بھی اس مشکل کا شکار ہیں اور کچھ پارٹی لیڈر تو اس کا برملا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ &lt;br /&gt;ایک اور بات یہ کہ اگر اس ملک کو دو قومی نظریے کے تحت حاصل کر ہی لیا گیا تھا تو کیا یہ ضروری ہے کہ یہ اسلامی ملک ہی ہو، کیا سیکولر طریقے سے اس ملک کو نہیں چلایا جاسکتا ۔ اس کی وجہ یہ محسوس ہوتی ہے کہ ہمیں اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ غیر اسلامی اور غیر انسانی سلوک مثالیں ملتی ہیں۔ اس کو ہائی لائٹ بھی زیادہ کیا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی یہ قضیہ موجود ہے اور اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ &lt;br /&gt;بنگلادیش کا بننا خود دو قومی نظریے پر ایک سوالیہ نشان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ اب کچھ شواہد سامنے آئے ہیں کہ انڈیا نے اس تقسیم میں خاص کردار ادا کیا تھا۔&lt;br /&gt;دیگر نظریاتی اور عملی مسائل یہ ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک ایک طویل ذیلی فہرست کا متقاضی ہے۔&amp;nbsp; &lt;br /&gt;=جہالت&lt;br /&gt;=کرپشن&lt;br /&gt;=فرقہ واریت&lt;br /&gt;=دین کی غلط تشریح&lt;br /&gt;=واقہ واریت اور دہشت گردی کے باری میں حکومتی مؤقف ک فقدان&lt;br /&gt;=پراکسی وار&lt;br /&gt;=جاگیرداری نظام&lt;br /&gt;=عدم برداشت&lt;br /&gt;=عورتوں کے ساتھ ناانصافی اور ان کا قومی دھارے سے دور ہونا&lt;br /&gt;=موسمی حالات: زلزلے، سیلاب وغیرہ، قدرتی اور انسانی پہلو&lt;br /&gt;=بجلی کی کمی&lt;br /&gt;=سرحدی کشیدگی اور خارجہ پالیسی کی غیر مستقل مزاجی&lt;br /&gt;=دنیا میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کے زیر اثر حالات، مثلاََ انڈیا میں مودی سرکار کا آنا اور برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدہونا&lt;br /&gt;=معاشی مسائل&lt;br /&gt;=میڈیا کی آزادی یا بے راہ روی&amp;nbsp; &lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
=فوج کی دخل اندازیاں&lt;br /&gt;=جمہوریت کے مسائل &lt;br /&gt;=عدالتی نظام میں کرپشن&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_39.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-2717109192312552547</guid><pubDate>Fri, 14 Apr 2017 14:26:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-14T07:26:32.636-07:00</atom:updated><title>ہیٹ اسٹروک</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
ہیٹ اسٹروک&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک گرمی سے ہونے والی سب سے خطرناک بیماری ہے اور اسے ایک میڈیکل ایمرجینسی کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا محسوس ہو کہ کوئی شخص ہیٹ اسٹروک کا شکار ہے تو فوری طور پر ایمرجینسی ایمبولینس کو مطلع کریں ابتدائی طبی امداد شروع کردیں یہانتک کہ طبی امداد میسر آجائے۔&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک ایک جان لیوا حالت کا نام ہے اور جس میں دماغ شدید طور پر متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اندرونی عضلات جن میں دل، جگر اور گردے شامل ہیں وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔زیادہ تر گرمی سے پچاس سال سے زیادہ کے افراد متاثر ہوتے ہیں مگر جوان کھلاڑی بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک عام طور پر قدرے کم شدت سے شروع ہوتا ہے مثلاََ جسم میں درد، چکر آنا، اور تھکن کا احساس، مگر کبھی یہ بغیر کسی علامات کے سیدھا ہیٹ اسٹروک کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ &lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک زیادہ دیر تک شدید گرمی میں رہنے سے ہوسکتا ہے اور پانی کی کمی اس میں اضافی کردار ادا کرتی ہے، اور اس کے نتیجے میں جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کا سسٹم جواب دے جاتا ہے۔ میڈکل کے لحاظ سے ہیٹ اسٹروک کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ جب جسم کا درجہ حرارت ۱۰۵ فارن ہائیٹ تک پہنچ جائے اور ساتھ اس کا دماغ بھی متاثر ہو اور یہ سب زیادہ دیر تک گرمی میں رہنے کی وجہ سے ہوا ہو۔ دیگر علامات میں الٹی کی کیفیت، مرگی کے دورے، ذہنی الجھن، بدحواسی، اور کبھی بیہوشی اور کومہ کی کیفیت شامل ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک کی علامات:&lt;br /&gt;درجہ حرارت کا ۱۰۵ درجہ تک بڑھ جانا ہی اس کی سب سے بڑی علامت ہے۔ مگر کبھی کبھی چکر آنابھی بنیادی علامت ہوسکتی ہے۔&lt;br /&gt;دیگر علامات یہ ہو سکتی ہیں۔&lt;br /&gt;شدید سر درد&lt;br /&gt;چکر آنااور سر بوجھل ہونا&lt;br /&gt;گرمی کے باوجود پسینہ نہ آنا&lt;br /&gt;سرخ، گرم اور خشک جلد&lt;br /&gt;پٹھوں کی کمزوری اور اینٹھن&lt;br /&gt;متلی اور الٹی&lt;br /&gt;دل کی دھڑکن تیز ہونا ، نبض کمزور ہونا&lt;br /&gt;تیز تیز اور ہلکی سانس کی کیفیت&lt;br /&gt;رویے کی تبدیلیاںمثلاََ الجھن، بدحواسی وغیرہ&lt;br /&gt;مرگی کے دورے&lt;br /&gt;ہیٹ اسڑوک کے لئے ابتدائی طبی امداد:&lt;br /&gt;اگر آپ کو شک ہے کہ کسی کو ہیٹ اسٹروک ہے تو فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کریں، اس میں کسی بھی طرح کی دیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;br /&gt;جب ایمبولینس یا میڈیکل مدد کا انتظار کررہے ہوں اس وقت ابتدائی طبی امداد شروع کردیں۔مریض کو فوری طور پر ایئرکنڈیشن، یا کسی بھی ٹھنڈی سایہ دار جگہ پر منتقل کریںاور تمام غیر ضروری لباس اتار دیں۔&lt;br /&gt;اگر ممکن ہو تو مریض کا درجہ حرارت جیک کریں اور اسے فوری طور پر ۱۰۲ یا ۱۰۱ تک لانے کی کوشش کریں۔ &lt;br /&gt;درجہ حرارت کم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقوں پر عمل کریں:&lt;br /&gt;مریض پر مسلسل پنکھا جھلیں اور ساتھ ساتھ اس کے جسم کو پانی سے گیلا کرتے رہیں&lt;br /&gt;مریض کی بغل، گردن، پیٹھ، اور ناف کے نیچے برف رکھیں۔ ان جگہوں پر خون کی روانی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا ان کی پرف سے سکائی کے ذریعے جسم کا درجہ حرارت کم کیا جاسکتا ہے۔ &lt;br /&gt;مریض کو تھنڈے پانی کے ٹب میں لٹائیں یا اسے نہلادیں یا برف کی سل پر لٹائیں۔&lt;br /&gt;اگر ایمبولینس آنے میں دیر لگے تو اسپتال فون کرکے مزید رہنمائی حاصل کریں۔&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک کے ممکنہ عوامل:&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک سے زیادہ تر بوڑھے افراد متاثر ہوتے ہیں جو حبس والے ماحول میں رہتے ہیں۔ وہ تمام افراد جو پانی زیادہ نہیں پیتے، جنہیں دیرینہ بیماریاں ہیںیا جو شراب استعمال کرتے ہیں وہ بھی ہیٹ اسٹروک کے خطرے پر ہوتے ہیں۔ &lt;br /&gt;ہیٹ انڈیکس ایک اور اہم عنصر ہے، یعنی درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کا تناسب، اور اس کے زیر اثر انسان کس قدر نارحتی محسوس کرتا ہے۔ ہیٹ انڈیکس اگر زیادہ ہو توکم درجہ حرارت بھی انسان کو ہیٹ اسٹروک کا شکار کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہیٹ انڈیکس زیادہ ہو تو پسینہ نہیں آپاتا۔ اگر انسان براہ راست سورج کی روشنی میں ہو تو ہیٹ انڈیکس ۱۵ ڈگری تک بڑھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے فوری طور پر مریض کو سائے میں لانا ضروری ہوتا ہے۔اسی وجہ سے درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ ہیٹ انڈیکس پر نظر رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہ رپورٹ آپ کوانٹرنیٹ پر مل سکتی ہے۔ ہیٹ انڈیکس اگر ۹۰ ڈگری پر پہنچ جائے تو ہیٹ اسٹروک کے امکانا ت بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔&lt;br /&gt;اگر آپ شہری علاقے میں رہتے ہیں تو طویل گرمی کی لہر میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، عام طور پر اس کی وجہ ہوا کا جمود اور حبس ہوتا ہے۔ اس اثر کو&amp;nbsp; heat island effect کہتے ہیں۔ ۲۰۱۵ میں کراچی میں ہونے والی اموات انہی اثرات کی وجہ سے بڑھ گئی تھیں۔ اسفالٹ اور کنکریٹ دن میں گرمی جذب کرتی ہیں اور پھر رات کو دھیرے دھیرے ان سے گرمی نکل کرماحول کو گرم کرتی رہتی ہے۔ اس طرح رات کا درجہ حرارت بھی بلند رہتا ہے۔ &lt;br /&gt;دیگر عوامل جو ہیٹ اسٹروک کا خدشہ بڑھا دیتے ہیں وہ یہ ہیں۔&lt;br /&gt;عمر: شیر خوار بچے چار سال کی عمر تک اور پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے افرادزیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمر کے افرادبڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ اپنے آپ کو سمونے میں مشکل درپیش ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;صحت کی حالت: دل ، سانس یا گردے کے مریض، موٹاپا&amp;nbsp; یا وزن کی کمی، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، دماغی امراض، شراب نوشی، دھوپ میں جھلسی جلد، یا کوئی بھی ایسی حالت جس میں بخار ہوسکتا ہے۔ &lt;br /&gt;ادویات: اینٹی الرجی دوائیں، وزن کم کرنے والی دوائیں، پیشاب زیادہ کرانے والی دوائیں، نیند کی ادویات، مرگی کی ادویات، دل اور ہائی بلڈ پریشر کی ادویات، دماغی امراض اور ڈپریشن کی دوائیں۔ ممنوعہ ادویات مثلاََ کوکین، بھی ہیٹ اسٹروک کا رسک بڑھادیتے ہیں۔ &lt;br /&gt;شوگر کے مریضوں میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات دوسروں سے زیادہ ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ گرمی کی شدت کتنی ہے اور اس کا ان کی صحت پر کیا اثر ہوسکتا ہے۔ &lt;br /&gt;ہمیں اپنے ڈاکٹر سے معلوم کرنا چاہئے کہ اس گرمی میں ہمیں کتنا خطرہ ہے اور اس کے لئے ہمیں کیا سدباب کرنا چاہئے۔&lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک سے سدباب کے طریقے:&lt;br /&gt;&amp;nbsp;جب ہیٹ انڈیکس زیادہ ہوتو بہتر یہ ہے کہ ٹھنڈے ماحول میں اپنے گھرمیں ہی رہا جائے۔ اگر باہر جانا ضروری ہی ہو تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کی جائیں۔ &lt;br /&gt;ہلکے وزن اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں اور سایہ دار ٹوپی پہنیں&lt;br /&gt;سن اسکرین کا استعمال کریں&lt;br /&gt;عام حالات سے زیادہ پانی پئیں۔پانی کی کمی سے بچنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ دن میں کم ازکم ۸ گلاس پانی ، جوس یا شربت پیا جائے۔ چونکہ گرمی کے اثرات نمکیات کی کمی سے بھی ہوسکتے ہیں لہٰذا پانی کو نمکین لسی سے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر شدید گرمی اور نمی والے موسم میں۔&lt;br /&gt;باہر کام کرتے اور ورزش کرتے وقت خصوصی احتیاطی تدابیر کی جائیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ورزش سے دو گھنٹے پہلے دو بڑے گلاس پانی پیا جائے اور ورزش سے بالکل پہلے ایک گلاس مزید پانی یانمکین لسی پی جائے۔ ورزش کے دوران ہر بیس منٹ پر ایک گلاس پانی پیا جائے چاہے پیاس نہ بھی لگی ہو۔ یہ ہدایت دھوپ میں کام اور مزدوری کرنے والوں کے لئے بھی صحیح ہے۔ &lt;br /&gt;بیرونی سرگرمیوں کو یا تو منسوخ کردیں یا شام کے ٹھنڈے اوقات کے لئے مؤخر کردیں۔ عام طور پر سورج نکلنے سے کچھ دیر پہلے کا وقت سب سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ &lt;br /&gt;ہیٹ اسٹروک سے بچنے میں مزید یہ کام کیے جاسکتے ہیں۔&lt;br /&gt;اپنے پیشاب کے رنگ اور مقدار کا جائزہ لیتے رہیں۔ تیز پیلا یا نارنجی رنگ پانی کی کمی کی علامت ہے۔ اتنی مقدار میں پانی پینے کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پیشاب کا رنگ ہلکا رہے۔&lt;br /&gt;مشقت والے کاموں اور ورزش سے پہلے اور بعد میں اپنے وزن کا معائنہ آپ کو یہ بتا سکتا ہے کہ آپ کو کتنا پانی پنے کی ضرورت ہے۔ &lt;br /&gt;کیفین والے مشروبات اور شراب سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ دونوں ضرورت سے زیادہ پیشاب کرا کے پانی کی کمی کا باعث بنتے ہیںاور گرمی کے اثرات کی شدت کو بڑہاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر نمک کی گولیاں بھی استعمال نہ کریں۔ پانی اور نمک کی کمی کو پورا کرنے کا سب سے آسان اور محفوظ طریقہ پھلوں کے جوس اور نمکین لسی کا استعمال ہے۔ &lt;br /&gt;پانی کی مقدار بڑھانے سے پہلے ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہوسکتا ہے خاص طور پردل، گردوں مرگی اور جگر کے مریضوں کے لئے۔ کچھ افراد کو ڈاکٹر نے پانی کی مقدار محدود استعمال کرنے کو کہا ہوتا ہے وہ افراد خاص طور پر احتیاط کریں۔ &lt;br /&gt;جو افراد ایسے گھروں میں رہتے ہیں جہاں اے سی (AC)یا پنکھے نہیں ہیں وہ دن میں کم از کم دو گھنٹے (AC)والے ماحول میں گزارنے کی کوشش کریں ، اس کے لئے وہ کسی شاپنگ سینٹر یا ہوٹل کا رخ بھی کرسکتے ہیں۔ کچھ مساجد اور آفس میں بھی (AC)ہوتا ہے ان میں بھی وقت پاس کیا جاسکتا ہے۔ &lt;br /&gt;گھر پر کھڑکیوں میں پردے یا شیڈ ڈال کر رکھیںاور رات کو دو طرف سے کھڑکیاں کھول دیں تاکہ ہوا کا گزر ہوسکے۔ جن لوگوں کے گھروں میں صحن ہے وہ اپنے گھر میں شام کو پانی کا جھڑکاؤ بھی کر سکتے ہیں۔ گھر میں پیڑ اور پودے بھی گرمی کی شدت میں کمی کرسکتے ہیں۔ کھلے اور ہوا دار گھر میں گرمی سے بچنے کا بہتر انتظام کیا جاسکتا ہے۔ &lt;br /&gt;جو افراد ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوئے ہوں انہیں صحتیاب ہونے کے بعد بھی کچھ ہفتوں تک گرمی سے متاثر ہونے کے امکانات عام افراد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے لئے یہی اچھا ہے کہ وہ گرمی اور دھوپ میں مشقت والے کاموں سے پرہیز کریں۔ اور دوبارہ اپنے معمول پر آنے سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_14.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6913376364671764289.post-4227748804555195260</guid><pubDate>Fri, 14 Apr 2017 02:46:00 +0000</pubDate><atom:updated>2017-04-13T19:46:12.313-07:00</atom:updated><title>کربلا کی روشنی</title><description>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
عراق کا سفر&lt;br /&gt;یہ سفر ایک عام سفر نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اب تک ایران کا متعدد بار سفر کر چکا تھا۔ مکہ اور مدینہ بھی بہت دفعہ زیارت کرچکاتھا۔ شام بھی جاچکاتھا۔ پھر آج تک کربلا کیوں نہیں گیا اور اب کی بار ایسی کیا بات ہوئی کہ کربلا جائے بغیر نہ بن سکی۔ &lt;br /&gt;میں اپنی چھٹیاں لے چکا تھا اور اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے۔ میں تقریباََ ہر دوماہ بعدکراچی اپنے والد اور والدہ کی زیارت کے لئے جاتا ہوں اور اس بار بھی یہی ارادہ تھا۔ پیسے بھی بہت کم تھے، اور یہ کوئی نئی بات نہیںتھی۔ اکثر میں خودپر یہ خودساختہ غربت تاری کرتارہتاہوں اور اس بار بھی تقریباََایسی ہی وجوہات تھیں۔ وہ کیا وجوہات تھیں اور ہیںاسکاذکر مناسب نہیں۔&lt;br /&gt;ایسے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا۔ آپ کہیںگے کہ جوشخص خوابوںکامذاق اڑاتاہووہ کیسے خواب کاذکر کررہاہے۔ تو جناب وہ خواب ہی ایساتھا۔ ایسا خواب جس کا مجھے مدت سے انتظار تھا۔ میں نے دیکھا کہ میں کربلا پہنچ گیا ہوںاور ایک ہوٹل میںہوں۔ ایسے میں ،میںاپنے ساتھیوںسے کہتاہوںکہ مجھے امام حسین ؑکی قبرکی زیارت کے لئے جاناچاہتاہوں۔ وہ مجھے راستہ بتادیتے ہیں۔ میں ہوٹل سے نکل کر ایک اور عمارت میں داخل ہوجاتا ہوں۔پھر وہاںسے نکل کر دوسری اور اسی طرح پھرتا رہتا ہوں مگر حرم تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس خواب کا میرے حواس پر بہت اثر ہوا۔ مگر کچھ دنوں میں یہ اثر زائل ہونے لگا۔ اس کے کچھ دنوںبعدایک اور خواب دیکھا۔ وہ تو ایسا تھا کہ میں ہل کر رہ گیا۔ میں نے خواب میں مسجد سہلہ کی زیارت کی۔ اس میں جگہ جگہ نماز پڑہی اور اس پر لکھا نام بھی دیکھا۔ مختلف نبیوں کے مقامات دیکھے۔ جب آنکھ کھلی تو ایک اور ہی کیفیت تھی۔ ایسے میں اپنے دوستوں سے کراچی میں رابطہ کیا کہ عراق کا ویزہ لگوا دیں۔ سب نے یہی کہا کہ تین ہفتے لگیںگے۔ یعنی میری پوری چھٹیاں ختم ہوجاتیں پھر بھی ویزہ نہیں آتا۔ پھر اپنے ایک دوست، محسن، عالم دین اور دین کا درد رکھنے والے مجاہد، محمد علی تقوی بھائی سے رابطہ کیا۔ وہ اس وقت عراق میں تھے۔ ان کے ذریعے کچھ طلاب کی عنایت کے سبب آخرکار اپنے پرانے واقف کار مولانا مجیر میثمی سے رابطہ ہوا۔انہوں نے تمام کاغذات اسکین کرکے منگوائے۔ بالآخر تین چار دن میں ویزہ کی رسید آگئی اور دو تین دن میں عراق کا ویزہ لگ گیا۔ کریڈٹ کارڈ سے ٹکٹ بک کروائے اور صرف اکیلانہیں بلکہ اپنی بیوی اور چاروں بچوں کے ساتھ عراق کے لئے روانہ ہوئے۔ ان دنوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے جو معلومات حاصل کرسکتے تھے وہ کیں اور کچھ پرنٹ آؤٹ نکالے۔ ایئرپورٹ پر پہنچے تو ایک اور تماشہ ہوا۔ سب کے نام میچ کرگئے سوائے ایک بچے کے۔ جمعہ کا دن اور اس دن ایمبیسی بھی بند۔ بحرحال عراق فون کیا مجیر بھائی کو۔ انہوں نے دعا شروع کی۔ فلائٹ سے ۴۵ منٹ پہلے ہمیں اجازت ملی کی آپ اپنے رسک پر سفر کرسکتے ہیں۔&lt;br /&gt;&amp;nbsp;خیر یہاں سے آگے جو ہوا وہ ایسا ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ نجف ایئر پورٹ پر ایک شخص ہمارا منتظر تھا۔ اس نے فٹافٹ ہمارے کام کروائے اور ہمیں فوراََاپنے سامان تک پہنچا دیا۔ باہر مجیر بھائی ایک وین کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ اس میں ہمیں بٹھا کر ہوٹل پہنچادیا۔ عراقی سم دیدی اور کھانے کا انتظام کردیا۔ ہم فریش ہوئے تو مجیر بھائی ہمیں امام علی علیہ السلام کی زیارت کرانے لے گئے۔اگلے دو دن تک ہمارے ساتھ وہی وین رہی اور ایک عالم دین بھی رہے جو تمام زیارات جن میں کوفہ، نجف اور دیگر زیارات شامل ہیں کراتے رہے۔ پھر اسی وین میں ہم نے سامرہ اور کاظمین کی بھی زیارات کیں۔ اسی میں عالم دین کے ساتھ کربلا پہنچے اور چھ دن وہاں رہے۔ پھر مجیر بھائی نے ہمیں کربلاسے لیا اور نجف ایئرپورٹ پہنچا دیا۔ آپ یقینا سمجھ گئے ہونگے کہ ہمارے ساتھ یہ وی آئی پی ٹریٹمینٹ کیوں ہوا۔ اس لئے کہ ہم کوئی عام زائر نہیں تھے۔ ہمیں باقاعدہ بلایا گیا تھا۔ اور ہمیں دعوت وہاں کی گورنمنٹ نے دی تھی۔ کونسی گورنمنٹ، جی ہاں امام حسین علیہ السلام کی حکومت۔ کربلا میں امام حسین اور حضرت عباس ہی کہ حکومت ہے۔ ہمیں انہوں نے ہی بلایا تھا اور ہمارا انتظام بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔ &lt;br /&gt;اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو لکھنا ہے۔ انشاء اللہ۔&amp;nbsp; &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب کچھ آگے کا احوال سنیں ، صرف وہ لوگ سنیں جنہیں سننے کا حوصلہ ہو ورنہ یہیں سے پلٹ جائیں۔ &lt;br /&gt;نجف ایئر پورٹ پر تعمیر کا کام جاری تھا۔ وہیں چیکنگ بھی سخت تھی۔ وہاں سے نکل کر کئی چیک پوسٹوں سے ہوتے ہوئے نجف میں اپنے ہوٹل سے کچھ فاصلے پر اتر گئے۔ وہاںعراقی بچے ہاتھوں میں ریڑھے لئے کھڑے تھے۔جھٹ ہمارا سامان انہوںنے اس پر رکھااورہمیں ہوٹل تک پہنچایا۔ وہاںاس طرح کے اور بہت سے بچے نظرآئے۔ وہ سب دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ بہت مجبور ہیں جو اسکول کی بجائے محنت کررہے ہیں۔ہر ہر جگہ بچے محنت کرتے نظرآئے۔ کہیںہوٹل پر کام کرتے، کہیںکوئی چیزبیچتے اور کہیںسامان ڈھوتے۔ &lt;br /&gt;میںنجف میں اپنے کچھ دوستوںسے ملنے ان کے رہائش گاہ گیا۔ وہاں وہ ایک نہایت خستہ حالت میں ایک بہت پرانی عمارت میںمکین تھے۔ وہاں کی حالت بیان سے باہر ہے۔ ایسا لگ رہاتھاکہ کسی بھی وقت گرجائے گی۔ گلیوں کی حالت بھی بہت خراب، ٹوٹی پھوٹی، اور خراب حالت میں۔ ایک دوست کے گھر گیاتو وہاںپرپہنچنے تک جن راستوں سے گزرا تو ایسا محسوس ہوا کہ کسی نہایت قدیم زمانے کے محلے میںآگیا ہوں۔ اس جگہ کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ وہاں طلاب کے علاج معالجے کی سہولیات بھی بہت کم تھیں اور جو ڈاکٹر موجود ہیں وہ بھی زبان نہ جاننے والوں کا کیا حال کرتے ہیں وہ بھی بہت سے دوستوں سے سننے کا موقع ملا۔ ہر طالبعلم مجھے بیچین اور پریشان نظر آیا۔ ہر ایک کسی نہ کسی پریشانی کا شکار۔ کچھ کی حالت اچھی بھی ملی مگر اس کے لئے انہیںپڑہائی کے ساتھ یا اسے چھوڑ کر زائرین کی خدمت کرکے ان سے امید لگانی پڑتی ہے۔ وہ پورا پورا دن یا آدھا دن بھی زائرین کے ساتھ لگانے کو تیار رہتے ہیں۔ &lt;br /&gt;میں جن دوستوں سے ملا ان میں زیادہ تر اپنی پڑہائی سے بہت مخلص اور دین کا درد رکھنے والے تھے۔ ان سے ملکر بہت خوشی ہوئی۔ &lt;br /&gt;ایک مجتہد کے آفس جانے کا موقع ملا۔وہاں جاکر اندازہ ہوا کہ مسائل کتنے گھمبیر اور کس درجہ کے ہیں۔ وہاں سے مایوس واپس آیا اور اپنے امام کو پہلی مرتبہ دل سے بلایا۔ بلکہ اگر یوں کہوں کہ مجھے اس سفر کا حاصل مل گیا تو غلط نہیں ہوگا۔ مجھے کچھ باتوں پر یقین آگیا۔ &lt;br /&gt;پہلی بات یہ کہ گڑبڑ جس سطح پر ہے اس کا حل صرف امام زمانہ کے پاس ہے۔ ہم جیسے کے بس کی یہ بات نہیں۔ بلکہ اگر ہم اعتراض بھی کریں تو وہ لایعنی ہوگا۔ اتنے بڑے بڑے لوگوں کی دکانوںپر ہم جیسے کا اعتراض ایسے ہی ہے جسے آسمان کی طرف منہ کرکے تھوکنا۔ لہذا اس کا حل صرف امام زمانہ ہی نکال سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں متقی، بابصیرت، سمجھدار اور حالات حاضرہ سے آگاہ اور اس کی اصلاح کا جذبہ رکھنے والے مراجع کرام کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے خاص کر پاکستان میں ایسے کوئی شخصیت نظر نہیں آتی جو اس پائے کے عالم ہوں جو مراجع کرام کا ہونا چاہیے۔ &lt;br /&gt;تیسری بات یہ ہے کہ ہم جس سطح پر کام کرسکتے ہیں اس سطح پر کام ضرور کرنا چاہئے۔ مثلاََ اگر ہم ان کے میڈیکل کے مسائل حل کرسکتے ہیں تو وہ کرنے چاہیئں۔ سارے خمس لے جاکر مجتہد کے ہاتھ میں رکھ کر اور اس سے رسید حاصل کرکے ہماری ذمے داری پوری نہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح جس طرح تشخیص کے بعد دوا خرید کر ہماری ذمے داری ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ دوا مریض کے پیٹ میں جانے سے صحتیابی ہوتی ہے اسی طرح مجتہد تک پیسے پہنچانے سے کام نہیں چلے گا۔ وہ پیسے مصارف پر خرچ ہونے چاہیئں ان پر خرچ ہونے پر ہی ہماری خلاصی ہوسکتی ہے۔ &lt;br /&gt;وہ ملک جو تیل کی پیداوار سے مالامال ہو، جہاں کے مراجع کے پاس پوری دنیا سے خمس آتاہو، اگر وہاں کے بچوں کی یہ حالت ہے اور وہاں کےطلاب کی یہ حالت ہے تو یقین رکھیں پاکستان میں بھی کبھی حالات اچھے نہیں ہوسکتے۔ اگر یہاں بھی تیل نکل آئے یا چین یہاں دودھ کی نہریں بہادے اس کے باوجود غریب،غریب ہی رہے گا۔ اس لئے کہ کرپشن کرنے والا کی تھالی پے پیندے کی ہوتی ہے وہ کبھی نہیں بھرتی۔ &lt;br /&gt;ایک بات یہ بھی ہے کہ صرف اپنے حجرے میں بیٹھ کر تقویٰ کا درس دینے سے جان نہیں بچ سکتی۔ آپ کی ناک کے نیچے آپ کے رفقائے کار جو کرپشن کررہے ہیں وہ بھی آپ کی شخصیت اور نام استعمال کرکے اس کا آپ کو بھی حساب دینا پڑے گا۔ &lt;br /&gt;قوم کو اب جاگنا ہے اور تقدس مآبی کو کنارے لگا کر آواز بلند کرنی ہے۔ اب عبا قبا کا اسی وقت احترام ہوگا جب اس کے ساتھ لوگوں کے مسائل بھی حل ہونگے۔&lt;br /&gt;جب آپ کو ایک شخص موٹا نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ کہیں نہ کہیں&amp;nbsp;کوئی نا کوئی بھوکا سو رہاہے۔ &lt;br /&gt;اب امام حسین سے درس لینے کا وقت آگیا ہے اور اگر یہ نہ کیا تو پھر ایک ہزار دفعہ زیارت کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</description><link>http://fakhirraza.blogspot.com/2017/04/blog-post_63.html</link><author>noreply@blogger.com (Fakhir)</author><thr:total>0</thr:total></item></channel></rss>