<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:blogger='http://schemas.google.com/blogger/2008' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd="http://schemas.google.com/g/2005" xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164</id><updated>2024-12-19T08:27:38.822+05:00</updated><category term="نظریہ ارتقاء"/><category term="ٹیکنالوجی"/><category term="صحت و تندرستی"/><category term="بیالوجی"/><category term="اسلام اور سائنس"/><category term="کاسملوجی/ فلکیات"/><category term="فزکس"/><category term="فلاسفی آف سائنس"/><category term="میڈیکل سائنس"/><category term="نفسیات"/><category term="کیمسٹری"/><title type='text'>Scince Group Of Pakistan</title><subtitle type='html'>پاکستان کا واحد مستند سائنس گروپ </subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default?redirect=false'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><link rel='next' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default?start-index=26&amp;max-results=25&amp;redirect=false'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>79</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>25</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-294747429095831730</id><published>2020-04-24T16:37:00.003+05:00</published><updated>2020-04-24T16:37:33.771+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>Gradual Transitions are Non-Existent  (Conflicting Reality in Fossil Record)</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
نیو ڈارونزم یا ماڈرن سینتھسز کے مطابق ارتقاء ایک ایسا پروسیس ہے جو نہایت آہستہ آہستہ (Gradualism) سیلیکشن پریشر کی سمت میں مجموعی طور پہ صرف فطری چناؤ کے ذریعے لمبے عرصے میں اکٹھی ہونے والی اڈاپٹیشنز سے ہوتا ہے۔ یہ ڈارونین تھیوری کا بنیادی اور اہم ترین دعویٰ (Tenet) ہے۔ ارتقاء کا نام لیتے ہی عوام کے ذہن میں یہ نقشہ آتا ہے۔ سائنس میڈیا بھی ایسی ہی وضاحتوں سے بھرا ہوا ہے کہ ارتقاء مسلسل اڈپٹیشنز کا سلسلہ ہے جو ماحولیاتی سیلیکشن پریشر کی سمت میں سروائو کرنے کا نام ہے اور اسی کے نتیجے میں میکرو ارتقاء ہوتا ہے اور نئی اقسام کے جاندار وجود میں آتے ہیں۔ جو جاندار ماحول سے مطابقت پیدا کر گئے وہ بچ گئے جو نہیں کر سکے وہ ناپید ہوگئے۔ ایسے ارتقائی ماڈل کو Paleontology کی&lt;br /&gt;
فیلڈ Directional Evolution اور عام فہم انداز میں ڈارونین ارتقاء کہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
مثال کے طور پہ اگر ایک خشکی کا جاندار Indohyus پانی کے قریب رہنا شروع کر دے تو اس پہ اس ماحول میں بقا کا پریشر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس جاندار میں پانی میں رہنے والی اڈپٹیشنز اکھٹی ہونا شروع کر دیتی ہیں جو فطری چناؤ کرتا ہے جبکہ اڈاپٹیشنز رینڈم میوٹیشن سے آتی ہیں اور 20 ملین سال بعد یہ جاندار Blue Whale بن جاتا ہے۔ یہاں تھوڑی انفرمیشن فراہم کردوں کہ Indohyus کوئی ایک جاندار نہیں تھا بلکہ بہت سے مختلف جانداروں کے فاسلز کا ایک ملبہ دریافت ہوا تھا جس میں سے ڈارون پرست سائنسدانوں نے انتخاب کر کے ایک نیا جاندار اخذ کیا اور اسے Indohyus نام دیا۔ فاسلز کا یہ ملبہ دریافت بھی ہمالیہ کی پہاڑیوں پہ ہوا تھا نہ کہ کسی سمندر یا جھیل کے قریب۔ اس جاندار میں بھی کچھ خاص نہ تھا تو کان کی ایک ہڈی کی موٹائی سے یہ اخذ کیا گیا کہ یہ آرڈر Cetacea کی تقریباً 90 سپیشیز کا ارتقائی جد ہے۔ کیا یہ قابلِ اعتبار اور تسلی بخش ثبوت ہے؟ میری نظر میں تو بلکل بھی نہیں! ڈارونین ارتقاء کی پوری تاریخ غلط بیانیوں اور غلط شناخت کرنے سے بھری پڑی ہے۔ حال ہی میں ارتقائی سائنسدانوں نے سب سے چھوٹے پرندے نما ڈائنوسار Oculudentavis khaungraae کا فاسل دریافت کیا تھا جو مشہور فاسل آرکیاپٹرکس سے بھی قریبی مماثلت رکھتا تھا۔ بعد میں ایک غیر جانبدار سائنسدان نے حقائق سامنے لائے کہ یہ اصل میں ایک چھپکلی کا فاسل ہے۔&lt;br /&gt;
https://www.newscientist.com/article/2239211-tiny-bird-like-dinosaur-discovered-in-amber-might-actually-be-a-lizard/&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ وقت میں رائج ڈارونین تھیوری کی عمارت آہستہ آہستہ ہونے والے Directional Evolution پہ کھڑی ہے اور اس تھیوری کے مطابق فاسل ریکارڈ ایسے ہی شواہد سے بھرا پڑا ہے تو غلط نہ ہوگا۔&lt;br /&gt;
لیکن مسئلہ یہاں جدید سائنس ہے! جدید سائنس کے زریعے فاسل ریکارڈ پہ اپلائی کیے گئے جدید تحقیقاتی طریقہ کار سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ ڈارونین تھیوری کے اس بنیادی دعویٰ کو غلط ثابت کررہے ہیں۔&lt;br /&gt;
اس نکتہ کی وضاحت سے پہلے میں فاسل ریکارڈ میں پائے جانے والے تین اقسام کے ارتقائی ماڈلز کا مختصر تعارف کروانا چاہوں گا۔&lt;br /&gt;
ایک ماڈل ارتقائی ٹہراؤ (Stasis) ہے یعنی فاسل ریکارڈ میں جانداروں کا اپنی بنیادی ساخت، جسامت اور خصوصیات وغیرہ میں کوئی تبدیلی ظاہر نہ کرنا۔ اس موضوع پہ میں متعدد پوسٹس لکھ چکا ہوں کہ پرندے، مینڈک، آکٹوپس، بچھو، جیلی فش، مکڑی اور دیگر جاندار کروڑوں سال بعد بھی اپنی بنیادی ساخت میں تبدیل نہیں ہوئے۔&lt;br /&gt;
دوسرا ماڈل غیر سمتی اڈاپٹیشنز (Random Walk) ہے جس کا مطلب ہے کہ فاسل ریکارڈ میں جاندار ایسی تبدیلیاں ظاہر کرتے ہیں جن کی کوئی سمت نہیں ہوتی یعنی ہر آنے والی اڈپٹیشن یا فینوٹائپ ایک علیحدہ سمت میں ہوتی ہے جس کا پچھلی اڈپٹیشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پہ جاندار کے جبڑے کی ساخت بدل گئی، پھر جاندار کی ٹانگیں لمبی ہو گئیں، پھر جاندار کا سائز بڑھ گیا وغیرہ وغیرہ۔ ان کا آپس میں کوئی ربط یا تعلق نہیں۔ ان کو عمومی طور پہ genetic drift کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
تیسرا ماڈل Directional Evolution ہے جو ڈارونین ارتقاء کا بنیادی دعویٰ ہے جس سے میکرو ارتقاء ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت پوسٹ کی شروعات میں کی جا چکی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیراگراف 1:&lt;br /&gt;
ایک مشہور جریدے PNAS میں ایک اہم تحقیق پبلش ہوئی جس میں ڈارونین تھیوری کے ارتقائی ماڈل کو Statistical بنیادوں پہ ٹیسٹ کیا گیا۔ اس میں پبلشڈ سائنسی تحقیقات سے بڑی تعداد میں سینکڑوں اقسام کا فاسل سیکوئینس ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ فاسل سیکوئینس (Fossil Sequence) ان کو کہا جاتا ہے جن میں ایک ہی قسم کے جاندار کے فاسلز مختلف ادوار سے لیے جاتے ہیں اور پھر ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے کہ اس جاندار کی ساخت وغیرہ میں کیا تبدیلی آئی۔ اس فاسل ڈیٹا کو Maximum likelihood طریقہ کار کے استعمال سے ٹیسٹ کیا گیا کہ ان فاسلز کی وضاحت کے لئے تین بنیادی ماڈلز میں سے کونسا ماڈل بہتر طور پہ سیلیکٹ ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
نتائج حیران تھے!&lt;br /&gt;
ڈارونین ارتقاء کا Directional Evolution والا ماڈل صرف 5% فاسلز کی وضاحت کے لئے سیلیکٹ ہوا۔&lt;br /&gt;
جبکہ 45% فیصد فاسلز میں ارتقائی ٹہراؤ (Stasis) والا ماڈل سیلیکٹ ہوا.&lt;br /&gt;
باقی 45% فاسلز کے لئے غیر سمتی اڈاپٹیشنز (Random walk) والا ماڈل سیلیکٹ ہوا۔&lt;br /&gt;
مختصراً کہا جائے تو فاسل ریکارڈ میں ڈارونین ارتقاء نہ ہونے کے برابر ہے۔ فاسل ریکارڈ صرف ارتقائی ٹہراؤ اور غیر سمتی اڈاپٹیشنز سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن سائنس میڈیا اور نصابی کتب آپ کی یہی برین واشنگ کرتی ہیں کہ فاسل ریکارڈ میں صرف ڈارونین ارتقاء نظر آتا ہے جو کہ سراسر جھوٹ اور غلط بیانی ہے۔&lt;br /&gt;
اس تحقیق کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ڈارونین ارتقاء کے بنیادی دعوے Gradualism کو کبھی بھی غیر جانبدارانہ statistical بنیادوں پہ ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ دوسرا فاسل ریکارڈ میں آہستہ آہستہ تدریجی ارتقاء اور ارتقائی ٹھہراؤ ہمیشہ ایک متنازع موضوع رہا ہے۔ ماضی میں آہستہ آہستہ ہونے والے تدریجی ارتقاء کو خود ساختہ subjective وضاحتوں سے ثابت کیا جاتا تھا۔&lt;br /&gt;
&quot;Evolution in these traits was rarely directional; in only 5% of fossil sequences was directional evolution the most strongly supported of the three modes of change. The remaining 95% of sequences were divided nearly equally between random walks and stasis.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/104/47/18404&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیراگراف 2:&lt;br /&gt;
اس تحقیق سے ایک اور اہم نکتہ سامنے آیا کہ ارتقائی پہلو سے کسی جاندار کا اپنی جسامت میں بہت بڑا ہوجانا یا چھوٹا ہوجانا زیادہ امکان رکھتا ہے بنسبت کسی جاندار کی ساخت کا بدل جانا۔&lt;br /&gt;
اس کی بہت سی مثالیں بھی فاسل ریکارڈ میں موجود ہیں جن میں بڑی جسامت کے مگر مچھ، بڑی جسامت کے سانپ، بڑی جسامت کے کچھوے، بڑی جسامت کی ڈریگن فلائی اور دیگر بے شمار جاندار شامل ہیں۔ لہذا انسانوں کی کسی آبادی کا اپنی جسامت میں بہت بڑا ہوجانا خود ارتقائی پہلو سے زیادہ امکان رکھتا ہے اور ساخت میں تبدیلی کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;Variables related to body size were significantly less likely than shape traits to experience stasis. This finding is in accord with previous suggestions that size may be more evolutionarily labile than shape....&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/104/47/18404&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیراگراف 3:&lt;br /&gt;
ایک جگہ ڈارونین ارتقاء کے بارے کہا گیا کہ سیلیکشن پریشر کی سمت میں آہستہ آہستہ ہونے والے تدریجی ارتقاء کو روایتی طور پہ فاسل ریکارڈ کا عمومی پیٹرن تصور کیا جاتا تھا لیکن اب غیر جانبدارانہ statistical تحقیقات سے یہ بات غلط ثابت ہوچکی ہے۔ کیونکہ پبلشڈ فاسلز میں اس ڈارونین ارتقاء کے ماڈل کی سپورٹ صرف اور صرف 5% ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;Directional evolution generates trends within lineages and, traditionally at least, was thought to be common in the fossil record.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/104/47/18404&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیراگراف 4:&lt;br /&gt;
سائنسی پیپر میں اس نکتہ کو بھی ڈسکس کیا گیا کہ یہ غیر جانبدار نتائج جو ایک بڑے فاسل ڈیٹا پہ تحقیق کے زریعے سامنے آئے ہیں یہ باقی تمام فاسل ڈیٹا پہ بھی لاگو ہونگے اور اس کا بھی امکان ہے کہ تمام پبلشڈ فاسل دیٹا میں ڈارونین ارتقاء کے ماڈل کی سپورٹ 5% سے بھی کم ہو۔&lt;br /&gt;
اس کی وجہ یہ ہے کہ ارتقائی سائنسدانوں میں یہ رحجان پایا جاتا ہے کہ جن فاسلز میں ڈارونین ارتقاء کا امکان موجود ہو صرف انہی فاسلز پہ تحقیق کی جاتی ہے اور پھر پبلش کی جاتی ہے۔ یعنی Selection Bias موجود ہے۔ لہزا اس پہلو سے دیکھا جائے تو حقیقت میں ڈارونین ارتقاء کے آہستہ آہستہ ہونے والے تدریجی ماڈل کی سپورٹ تمام فاسل ڈیٹا میں 5% سے بھی کم ہونی چاہیے کیونکہ جانبداری کی وجہ سے یہ زیادہ آئی ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;Although not exhaustive, the large database of evolutionary sequences analyzed here is likely to be representative of the published paleontological literature. Moreover, because researchers have preferentially studied traits and lineages with prior evidence for gradual change، the 5% incidence of directionality is likely to be an overestimate.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/104/47/18404&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیراگراف 5:&lt;br /&gt;
اس سائنسی پیپر میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ اس تحقیق میں ڈارونین ارتقاء کے ماڈل parameters ایسے رکھے گئے تھے کہ اگر تھوڑی سے ساختی تبدیلی بھی ڈارونیں ارتقائی ماڈل پہ ظاہر ہو تو فوراً ڈارونین ارتقاء کا ماڈل سیلیکٹ ہو جائے۔ اتنی رعایت دینے کے باوجود بھی ڈارونین ارتقاء کے ماڈل کی سپورٹ 5% سے بھی کم آئی۔&lt;br /&gt;
&quot;Directional evolution as modeled here assumes only that the average evolutionary increment differs from zero. As a result, this model can be strongly supported even when there is only a slight excess of microevolutionary changes in one direction over the other.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/104/47/18404&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیراگراف 6:&lt;br /&gt;
جیالوجیسٹ Michael Rampino جو نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں انہوں نے جریدے Historical Biology میں ایک تحقیق پبلش کی ہے جس کے مطابق ڈارونین تھیوری کے آہستہ آہستہ ہونے والے ارتقاء کا کوئی بھی ثبوت فاسل ریکارڈ میں موجود نہیں۔ اس کو عام فہم انداز میں نیچے دیے گئے لنک سے پڑھا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
اس کے علاوہ Michael Rampino کا کہنا تھا کہ فطری چناؤ کا اصول ڈارون سے پہلے سکاٹ لینڈ کے سائنسدان Patrick Matthew نے دریافت کیا تھا۔ نہ صرف دریافت کیا تھا بلکہ اس نے ایک تھیوری بھی پیش کی تھی جس کے مطابق فاسل ریکارڈ میں جانداروں کا ارتقائی ٹہراؤ (stasis) ایک عمومی پیٹرن ہے اور معدومیت کے واقعات کے بعد نئی اقسام کے جاندار نہایت تیز رفتار سے منظر عام پہ آتے ہیں۔&lt;br /&gt;
پروفیسر Michael Rampino کے مطابق یہ تھیوری فاسل ریکارڈ کو صحیح سے بیان کرتی ہے لہذا اس پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;br /&gt;
نیویارک یونیورسٹی کی ویبسائٹ پہ موجود آرٹیکل:&lt;br /&gt;
https://www.nyu.edu/about/news-publications/news/2010/november/darwins-theory-of-gradual-evolution-not-supported-by-geological-history-nyu-scientist-concludes-.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سائنسی تحقیقات آپ کے سامنے ہیں۔&lt;br /&gt;
ڈارونین ارتقاء کی اس سے زیادہ زلت آمیز ناکامی اور کیا ہوگی کہ ہر طرح کی جانبداری اور Selection Bias کے باوجود پبلشڈ فاسل ڈیٹا میں ڈارونین ارتقاء کی سپورٹ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی وجہ سے 5% سے بھی کم آئی۔ جبکہ ڈارونین ارتقاء کو دھوکے بازی سے فاسل ریکارڈ کا عمومی پیٹرن بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
میں اس موضوع پہ مزید سائنسی پیپرز بھی شامل کر سکتا ہوں لیکن پوسٹ بہت طویل ہو جائے گی۔&lt;br /&gt;
ڈارونین ارتقاء ایک مردہ تھیوری ہے۔ اس فضول فریم ورک سے چھٹکارا پانے کا وقت قریب ا چکا ہے۔ ڈارونین تھیوری کے حق میں فاسل آجتک نہ مل سکے لیکن جدید سائنسی تحقیقات کے نیچے دب کر یہ خود فاسل ضرور بنی گی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
--------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Written and Researched by&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjSvHQHDLbtwOscYVEOcGGQYdlp1K7GIBmVAtoWd-Zp9KzET8GNJ6BNMbHh9oz_QJ0Y2FqlrVlnT11xtiqEY8_J8xH71lyeR9Y0H0OcbLmV8QV2ZSgmjTzGDD-kI1-3NvIaT6QfITBN02rx/s1600/FB_IMG_1587728147586.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;403&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;358&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjSvHQHDLbtwOscYVEOcGGQYdlp1K7GIBmVAtoWd-Zp9KzET8GNJ6BNMbHh9oz_QJ0Y2FqlrVlnT11xtiqEY8_J8xH71lyeR9Y0H0OcbLmV8QV2ZSgmjTzGDD-kI1-3NvIaT6QfITBN02rx/s640/FB_IMG_1587728147586.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/294747429095831730/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/gradual-transitions-are-non-existent.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/294747429095831730'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/294747429095831730'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/gradual-transitions-are-non-existent.html' title='Gradual Transitions are Non-Existent  (Conflicting Reality in Fossil Record)'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjSvHQHDLbtwOscYVEOcGGQYdlp1K7GIBmVAtoWd-Zp9KzET8GNJ6BNMbHh9oz_QJ0Y2FqlrVlnT11xtiqEY8_J8xH71lyeR9Y0H0OcbLmV8QV2ZSgmjTzGDD-kI1-3NvIaT6QfITBN02rx/s72-c/FB_IMG_1587728147586.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-4242608610943438182</id><published>2020-04-24T10:17:00.001+05:00</published><updated>2020-04-24T10:17:22.995+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="صحت و تندرستی"/><title type='text'>#Dandruff   خشکی سکری ! </title><content type='html'>&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
تحریر: حسن خلیل چیمہ&lt;br /&gt;
________________________________________________&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آج کل سردیاں چل رہی ہیں اور بہت سے لوگوں کے بالوں سے سفید رنگ کے ذرات نکلتے ہیں یا پھر کالے بالوں کے درمیان سفید ذرات نظر آتے ہیں۔&lt;br /&gt;
مختلف کاسمیٹکس کمپنیاں جو شیمپو پراڈکٹس بناتی ہیں وہ سردیوں کے موسم میں خشکی سکری کو بنیاد بنا کر یا پھر یوں کہیں کہ کوئی بہت بڑی بیماری بنا کر پیش کرتی ہیں اور اپنا شیمو یا پروڈکٹس بیچتی ہیں ۔&lt;br /&gt;
سب سے پہلی بات یہ کہ خشکی سکری کوئی بیماری ہے نا یہ کسی ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتی ہے اور نا ہی خشکی سکری سے آپ کے بالوں کو کسی قسم کا فرق پڑتا ہے یا زیادہ خارش کرنے سے سکیلپ زخمی ہوتا ہے لیکن ایسا عموماً بہت کم لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے !&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سب سے پہلے کہ خشکی کیا ہے اور کیسے ہوتی ہے ؟&lt;br /&gt;
سب سے پہلی وجہ آپ کی جلد کا خشک ہو جانا ہے یعنی ڈرائی سکن ہونے کی وجہ سے خشکی ہو جاتی ہے&lt;br /&gt;
دوسری وجہ آپ کسی ایسے ہیر پروڈکٹ کا استعمال کر رہے ہیں جو آپ کے سکیلپ کو خراب کر رہا ہے یا پھر سکیلپ کے لئے نقصاندہ ہے جیسے لگانے سے سکیلپ میں الرجی پیدا ہوتی ہے جو بعد میں خشکی سکری کی وجہ بنتی ہے ۔&lt;br /&gt;
ان پروڈکٹس میں تیل ، جل ، کریمز ، پیسٹس اور شیموز وغیرہ ہو سکتے ہیں !&lt;br /&gt;
اور آخری چیز کسی بیماری کی وجہ سے بھی جلد خشک پڑ جاتی ہے جس وجہ سے بالوں میں خشکی پیدا ہوتی ہے جس کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنا لازمی ہے !&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ کئی دن تک نا نہانا ، شیمو وغیرہ استعمال کر کے تیل وغیرہ کا استعمال نا کرنا بھی جلد کے خلیوں کے مرنے کا سبب بنتا ہے جو بعد میں خشکی سکری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں !&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے نقصان کی بات کی جائے تو اس کا نقصان صرف اتنا ہے کہ جب بھی جلد خشک ہوتی ہے تو وہ پھٹ جاتی ہے اور جب جلد پھٹ جاتی ہے تو اسے کھجلانے یا اکھاڑنے سے اس جگہ پہ زخم بن جاتے ہیں جس سے مزید خارش ہوتی ہے ۔&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ بالوں میں سفیدی یا کپڑوں پہ خشکی سکری کی موجودگی گندگی سمجھا جاتا ہے جیسا کہ کوئی فرد کئی دن سے نہایا دھویا نہ ہو وغیرہ ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے چھٹکارے کی بات کی جائے تو&lt;br /&gt;
سب سے پہلے آپ کو مارکیٹ سے ایک ایسا اینٹی ڈینڈرف شیمو خریدنا ہے جس میں یہ چار انگریڈینٹس موجود ہوں&amp;nbsp; پھر چاہیے وہ کسی بھی کمپنی کا ہو&lt;br /&gt;
1-&amp;nbsp; ketoconazole&lt;br /&gt;
2-&amp;nbsp; sulfur&lt;br /&gt;
3- salicylic acid&lt;br /&gt;
4-. Selenium sulfide&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر یہ چار انگریڈینٹس یا ان سے کوئی ایک کسی اینٹی ڈینڈرف شیمو میں موجود ہے تو آپ وہ خرید سکتے ہیں ۔ اگر یہ چاروں ایک ہی شیمو میں مل جائیں تو اچھا ہے ورنہ آپ ایک شیمو کچھ دن لگا کہ دیکھیں اگر افاقہ ہو جائے تو بہتر ورنہ دوسرے انگریڈینٹ والا شیمو استعمال کریں انشاءاللہ کوئی نا کوئی شیمو آپ کو راس آ جائے گا ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر کوئی شیمو کام نہ کریں تو ؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر کوئی شیمپو کا نا کرے تو آپ ایلویرا کا استعمال کریں کیونکہ ایلویرا آنٹی بیکٹیریل ہوتا ہے اور خارش سے آرام ملے گی جس سے خشکی سکری بڑھے گی نہیں !&lt;br /&gt;
دوسری چیز آپ سیب کے سرکے کی مساج کر سکتے ہیں&lt;br /&gt;
تیسرا آپ ناریل کا تیل استعمال کر سکتے ہیں جو کہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھے گا ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کھانے میں آپ اومیگا 3 کھا سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آپ کے جسم میں اومیگا 3 کی ہی کمی ہو جس کی وجہ سے خشکی سکری پیدا ہو رہی ہو کیونکہ اومیگا 3 کی کمی سے سیل میمرین کمزور پڑ جاتی ہے جس سے خشکی سکری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ اومیگا 3 کی کمی کو پورا کرنے کے لئے آپ مچھلی ، السی کے بیج ، اخروٹ، بادام اور فش آئل سپلیمنٹ کا استعمال کر سکتے ہیں ۔&lt;br /&gt;
امید کرتا ہوں کہ آپ کو اوپر بتائے طریقوں سے فایدہ ہو گا اور آپ خشکی سکری جیسی پریشانی سے راحت حاصل کر پائیں گے ۔&lt;br /&gt;
آج کے لئے اتنا ہی !&lt;br /&gt;
اللہ نگہبان 🖤&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjLgjVcp_TI4rLLd12wZ-13JOkkCuLADfvZhMBXdXY-4BbCV1yhQg3aJEJoYsmOXr-OHB02o1GHTYFdaaNs8uPh3oCUm3HXkEN7kKoYC6sOBVS3szD_WmS89tSho2WCrwgmtPsnU4sj3xR3/s1600/FB_IMG_1587705301535.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;378&quot; data-original-width=&quot;600&quot; height=&quot;402&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjLgjVcp_TI4rLLd12wZ-13JOkkCuLADfvZhMBXdXY-4BbCV1yhQg3aJEJoYsmOXr-OHB02o1GHTYFdaaNs8uPh3oCUm3HXkEN7kKoYC6sOBVS3szD_WmS89tSho2WCrwgmtPsnU4sj3xR3/s640/FB_IMG_1587705301535.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/4242608610943438182/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/dandruff.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4242608610943438182'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4242608610943438182'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/dandruff.html' title='#Dandruff   خشکی سکری ! '/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjLgjVcp_TI4rLLd12wZ-13JOkkCuLADfvZhMBXdXY-4BbCV1yhQg3aJEJoYsmOXr-OHB02o1GHTYFdaaNs8uPh3oCUm3HXkEN7kKoYC6sOBVS3szD_WmS89tSho2WCrwgmtPsnU4sj3xR3/s72-c/FB_IMG_1587705301535.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-2843835438175553014</id><published>2020-04-20T07:54:00.000+05:00</published><updated>2020-04-20T07:54:54.103+05:00</updated><title type='text'>#bio_gas                    #گوبر_گیس</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ دہائیاں پہلے انڈیا کی دیہات میں&lt;br /&gt;
قدرتی گیس اور توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک تکنیک استعمال ہوئی۔ اس تکنیک کو &quot;گوبر گیس&quot; کے نام سے کافی پذیرائی ملی۔ یہ تکنیک نئی تو نہیں تھی لیکن اس تکنیک سے باقاعدہ طور پر توانائی کی ضروریات پوری کرنا نیا تھا۔ سترہویں صدی میں بھی اس تکنیک کو (Anaerobic digestion)&lt;br /&gt;
کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اب تو دنیا کے کئی ممالک میں اس تکنیک کو استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص کر دیہات میں جہاں گرڈ سے توانائی کی ترسیل مشکل ہوتی ہے۔ وہاں حکومتی تعاون و ذاتی طور پر گوبر گیس پلانٹ لگائے جارہے ہیں۔&lt;br /&gt;
--------------------------&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;سائنس کے شروعاتی اسباق میں ہمیں&amp;nbsp; &amp;nbsp;(fermentation) کا پڑھایا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;بیکٹیریا&amp;nbsp; ، خمیر وغیرہ کے ذریعے نامیاتی اشیاء کی کیمیائی توڑ پھوڑ کو فرمنٹیشن کہا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
جب اسی فرمنٹیشن کو آکسیجن کی غیر موجودگی میں انجام دیا جائے تب&lt;br /&gt;
یہ پراسس (Anaerobic digestion)&lt;br /&gt;
کہلائے گا۔&lt;br /&gt;
فرض کریں ،&lt;br /&gt;
گائے کے گوبر کو آکسیجن کی غیر موجودگی میں رکھ دیا گیا ہے ، آہستہ آہستہ وہ گوبر توڑ پھوڑ کا شکار ہوتا رہے گا۔ توڑ پھوڑ کے دوراں میتھین (قدرتی گیس) اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا رہے گا۔ اور جب گوبر پوری طرح ٹوٹ جائے گا تو آپ کو ایک بہترین&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; (DAP) کھاد حاصل ہوگی۔ وہ کھاد فصلوں کے لئے انتہائی کارآمد ہوگی۔&lt;br /&gt;
اور اخراج کے نتیجے میں حاصل ہونے والی قدرتی گیس کو آپ بجلی بنانے کے لئے یا بطور گیس استعمال کرسکتے ہیں۔مائکروبز کو بہتر طریقہ سے کام کرنے کے&lt;br /&gt;
لئے گرم حالات کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لئے بہتر ہوگا کہ درجہ حرارت 37° C تک ہو۔ البتہ کم ٹیمپریچر پر بھی گیس پیدا ہوسکتی ہے۔ یہاں پر آپ گوبر کی جگہ دیگر نامیاتی اشیاء یعنی بچی ہوئی خوراک یعنی ، سبزی کے ٹکڑے ، روٹیاں ، ڈبل روٹی وغیرہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ انہیں خوامخواہ ضایع کرنے سے بچ جائیں گے۔&lt;br /&gt;
گوبر گیس بنانے کا طریقہ کار اتنا مشکل یا وقت طلب نہیں ہے۔ بلکہ&amp;nbsp; آسان اور ہر کسی کے پہنچ میں آنے والا ہے۔&amp;nbsp;&lt;br /&gt;
نیچے ملاحظہ کریں ایک چھوٹے اور تجرباتی گوبر گیس پلانٹ بنانے کا طریقہ کار۔۔۔👇&lt;br /&gt;
-----------------------------------&lt;br /&gt;
ایک درمیانی سائیز کا گڑھا کھودیں ، اس کے اندر سیمنٹ وغیرہ کردیں تاکہ&lt;br /&gt;
زمین پانی جذب نا کرسکے۔&lt;br /&gt;
گڑھا تیار ہونے کے بعد سوکھا ہوا گوبر اور برابر مقدار میں گرم&amp;nbsp; (گرم نہیں بھی ہوا تو بھی چلے گا) پانی گڑھے میں ڈالیں۔ یعنی کہ اگر گوبر کی مقدار ایک کلو ہے تو پانی بھی ایک کلو ڈالیں۔&lt;br /&gt;
اس طرح پانی اور گوبر ڈال کے گڑھا بند کریں اور بند کرنے کے دوران یہ گنجائش رکھیں کہ گڑھے کو دوبارہ کھولنا بھی ہے۔ گڑھے کے اوپر جو ڈھکن ہو وہ ایسا ہو کہ اندر سے کچھ لیک نا کرسکے۔&lt;br /&gt;
اس ڈھکن میں ایک مناسب اور پائپ کے قطر کا سوراخ ہونا چاہئے اور ایک سوراخ ایسا ہو جس میں سے گوبر اور پانی گڑھے میں داخل کیے جاسکیں۔ گوبر والے سوراخ کو کسی ایسے ڈھکن سے بند کیا جائے جو کچھ لیک نا کرسکے۔ یہ سب سامان چیک کرکے گڑھے کو کم از کم پانچ دنوں تک چھوڑ دیں۔&lt;br /&gt;
پانچ دنوں کے بعد گئس نکالیں اور استعمال کریں۔&lt;br /&gt;
یہ پراسس دہرا کر آپ گیس کو کافی عرصہ تک حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد گڑھا کھول کر اندر سے فاضل مواد یعنی کھاد نکال لیں اور پھر وہی پراسس دہرا کر گیس حاصل کریں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
------&lt;br /&gt;
اگر آپ بڑے پیمانے پر گیس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو گڑھے ، پانی اور گوبر کی مقدار بڑھائیں۔&lt;br /&gt;
اگر آپ اسے اپنے گھر کی گیس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو باقاعدہ کسی ڈیلر سے رابطہ کریں اور مناسب قیمت میں ایک اچھا پلانٹ اور سسٹم لگوائیں۔۔۔۔😍&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;ہالیپوٹہ آفتاب&lt;br /&gt;
#biogas&lt;br /&gt;
#natural_gas&lt;br /&gt;
#energy&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEij3CIJ2YRPnO7Wa7etxCx8lM5KfhuGYBoz4li-Xd9D3PXsY8GxJAtFGzT3-I8JiFMMp95bXBOC9JPvZq751RFqShXYvFxcPevfzitxzw4d9jRqdZ54TW-7-nx2fdvRVCrZ9tdXz-5dBa0z/s1600/20200415164958.png&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;340&quot; data-original-width=&quot;454&quot; height=&quot;239&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEij3CIJ2YRPnO7Wa7etxCx8lM5KfhuGYBoz4li-Xd9D3PXsY8GxJAtFGzT3-I8JiFMMp95bXBOC9JPvZq751RFqShXYvFxcPevfzitxzw4d9jRqdZ54TW-7-nx2fdvRVCrZ9tdXz-5dBa0z/s320/20200415164958.png&quot; width=&quot;320&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/2843835438175553014/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/biogas.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/2843835438175553014'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/2843835438175553014'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/biogas.html' title='#bio_gas                    #گوبر_گیس'/><author><name>Unknown</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEij3CIJ2YRPnO7Wa7etxCx8lM5KfhuGYBoz4li-Xd9D3PXsY8GxJAtFGzT3-I8JiFMMp95bXBOC9JPvZq751RFqShXYvFxcPevfzitxzw4d9jRqdZ54TW-7-nx2fdvRVCrZ9tdXz-5dBa0z/s72-c/20200415164958.png" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-2651160859609977839</id><published>2020-04-17T16:44:00.001+05:00</published><updated>2020-04-17T16:44:27.320+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>|Epigenetics and Failure of Neo Darwinism|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
اس پوسٹ میں ایپی جینٹک کے پہلو سے ہونے والے نئے تجرباتی اور مشاہداتی شواہد سے نیو ڈارونزم کی ناکامی اور اس کے متبادل وضاحتی فریم ورک کے امکان کو دو سائنس پبلیکیشنز سے واضح کیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
نیو ڈارونزم کے Central tenet کے مطابق کسی بھی جاندار کا جینوم ماحول سے مکمل طور پہ لا تعلق ہوتا ہے۔ ماحول میں کیا چل رہا ہے کیسے چل رہا ہے اس کا کسی جاندار کے جینوم پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہر جاندار کی phenotype کی تبدیلی random mutation سے آتی ہے۔ بغیر کسی مقصد، پلان اور ڈائریکشن کے ہونے والی جینیاتی میوٹیشن بعض اوقات مفید ثابت ہو جاتی ہیں اس کے بعد اگر وہ جاندار کے سروائیول میں مدد کرے تو یہ جینیاتی تبدیلی Mendelian transmission کے اصول پہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے اسی اصول پہ نیو ڈارونزم میں ارتقاء ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
لیکن ایک ابھرتی فیلڈ ایپی جینیٹک سے انے والے سائنسی شواہد کے مطابق ماحول کا ڈائریکٹلی جاندار کے جینوم پہ اثر ہوتا ہے ماحول کے مطابق جینوم اپنی کارکردگی کو تبدیل کرتا ہے جس سے نئی phenotype وجود میں آتی ہے جیسے کہ ڈارون فنچز کی چونچ کی مختلف ساخت کسی میوٹیشن کا نہیں بلکہ ایپی جینٹک ریگولیشن کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح میکسکو کی غار میں بغیر آنکھوں والی مچھلی کی phenotype کسی میوٹیشن کا نہیں بلکہ ایپی جینیٹک ریگولیشن سے جین off ہونے کی وجہ سے ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اس پہ لکھی گئی ایک تفصیلی پوسٹ کا لنک۔&lt;br /&gt;
نوٹ:&lt;br /&gt;
اس موضوع کو نیچے دیے گئے لنک میں بھی ڈسکس کر سکتا تھا لیکن سوچا کہ اہم نکتہ ہے لہذا ایک علیحدہ پوسٹ لکھنا پڑی۔&lt;br /&gt;
https://www.facebook.com/groups/1191878070977827/permalink/1255910727907894/&lt;br /&gt;
نہ صرف ماحول کے اثر سے نئی phenotype وجود میں اتی ہے بلکہ non genetic inheritance کے تحت انے والی نسلوں میں بھی منتقل ہوتی ہے اس سے Weismann barrier کا اصول بھی ٹوٹتا ہے۔&lt;br /&gt;
ان سائنسی شواہد کے پیشِ نظر نیو ڈارونزم کے متبادل فریم ورک لانے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف بنیاد پرست ارتقائی سائنسدانوں کے مطابق سب ٹھیک ہے اور ارتقائی تھیوری میں کسی طرح ایپی جینٹک کے لئے بھی جگہ پیدا کر لی جائے گی۔&lt;br /&gt;
اس رویہ پہ ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نیو ڈارونزم کو اتنا لچکدار کر دیں کہ اس کے خلاف انے والے سائنسی شواہد بھی کسی طرح اس کا حصہ بنا دیے جائیں تو پھر نیو ڈارونزم کو falsify کرنے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آتا۔&amp;nbsp; اگر اسے falsify نہیں کیا جا سکتا تو نیو ڈارونزم ایک سائنس تھیوری کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔&lt;br /&gt;
&quot;The recent explosion of research on epigenetic mechanisms described in this issue and elsewhere, and most particularly work focused on trans-generational inheritance mediated by those mechanisms has created the need to either extend or replace the Modern (neo-Darwinist) Synthesis. This paper explains why replacement rather than extension is called for. The reason is that the existence of robust mechanisms of trans-generational inheritance independent of DNA sequences runs strongly counter to the spirit of the Modern Synthesis. In fact, several new features of experimental results on inheritance and mechanisms of evolutionary variation are incompatible with the Modern Synthesis&quot;&lt;br /&gt;
http://jeb.biologists.org/content/218/1/7&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&quot;If, as the commentator seems to imply, we make neo-Darwinism so flexible as an idea that it can accept even those findings that the originators intended to be excluded by the theory it is then incumbent on modern neo-Darwinists to specify what would now falsify the theory. If nothing can do this then it is not a scientific theory.&quot;&lt;br /&gt;
http://jeb.biologists.org/content/218/16/2659&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایپی جینیٹکس پہ یوٹیوب ویڈیو&lt;br /&gt;
https://youtu.be/kp1bZEUgqVI&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhij-IQg6975ntLA8bUL3Azt43b589nw6vW6z3hbmeVYVU7P6fcVhAE8ydEhbM60bAY0u2o25fMlPzy2fhFn-B3MadfArYjZhi4hOYEshJEFue8pDpsk0s7R9MqhlyV5JqMwW5gcWEFy8eK/s1600/FB_IMG_1587123791957.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;298&quot; data-original-width=&quot;637&quot; height=&quot;298&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhij-IQg6975ntLA8bUL3Azt43b589nw6vW6z3hbmeVYVU7P6fcVhAE8ydEhbM60bAY0u2o25fMlPzy2fhFn-B3MadfArYjZhi4hOYEshJEFue8pDpsk0s7R9MqhlyV5JqMwW5gcWEFy8eK/s640/FB_IMG_1587123791957.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/2651160859609977839/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/epigenetics-and-failure-of-neo-darwinism.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/2651160859609977839'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/2651160859609977839'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/epigenetics-and-failure-of-neo-darwinism.html' title='|Epigenetics and Failure of Neo Darwinism|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhij-IQg6975ntLA8bUL3Azt43b589nw6vW6z3hbmeVYVU7P6fcVhAE8ydEhbM60bAY0u2o25fMlPzy2fhFn-B3MadfArYjZhi4hOYEshJEFue8pDpsk0s7R9MqhlyV5JqMwW5gcWEFy8eK/s72-c/FB_IMG_1587123791957.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-3065084134112636016</id><published>2020-04-17T16:42:00.001+05:00</published><updated>2020-04-17T16:42:29.661+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="اسلام اور سائنس"/><title type='text'>قرآن اور سائنس کی مطابقت کی منطقی دلیل کیا ہے؟ کوئی ایسی دلیل جو منطقی وزن رکھتی ہو؟ (پہلا حصہ )</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
اس دلیل کی شروعات کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
بحثیت ایک مسلمان ہم سب اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ تمام ستارے، زمین، مادہ، انرجی، کوانٹم فزکس کے قوانین، بائیولوجی کی قوانین، کیمسٹری کے قوانین، تمام جاندار اور ان کے رہن سہن کا نظام ایک خدا کی تخلیق کا نتیجہ ہے۔ ڈی این اے کی انفرمیشن، خلیہ کا نظام، ستاروں میں سے فوٹونز کا نکلنا، زمین کی میگنیٹک تہ یہ سب ایک خدا کی تخلیق اور ارادے کا نتیجہ ہے جو لامتناہی قدرت اور ذہانت کا حامل ہے۔ منطقی طور پہ یہ واضح ہے کہ اس کائناتی نظام کو بنانے والا خدا خود اس نظام کے ہر قانون اور حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور انسانوں سے بہتر جانتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اللہ پاک نے یہ تمام کائناتی نظام انسانی تخلیق سے پہلے ترتیب دیا۔ پھر اللہ پاک نے چاہا تو انسان کی تخلیق فرما دی وقت کے ساتھ ہمارے آخری نبی پاک کا ظہور ہوا اور قرآن پاک نازل کیا گیا۔ یہ قرآن پاک خدا کی طرف سے ہے۔ اسی ایک خدا کی طرف سے جس نے پوری کائنات کی تخلیق اور ترتیب ماضی میں کی۔ قرآن پاک میں کائنات، انسان، سمندر، آسمان، مشاہدات، سوچ و بچار، جاندار اور زمینی نظام بارے معلومات پہ مبنی سینکڑوں آیات ہیں۔ یہ معلومات دینے والا وہی ایک خدا ہے جس نے ماضی میں پوری کائنات کی تخلیق و ترتیب کی اور یہ خدا اپنی انہی تخلیقات کا زکر قرآن پاک میں کر رہا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منطقی نتیجہ:&lt;br /&gt;
لہذا منطقی طور پہ یہ ناممکن ہے کہ قرآن پاک میں دی گئی معلومات جو سائنسی موضوع پہ مبنی ہیں۔ ان میں اور سائنسی علم میں مستقل تضاد نکل آئے۔ کیونکہ قرآن پاک کو نازل کرنے والا اور کائنات کو تخلیق کرنے والا خدا ایک ہی ہے جو لامتناہی قدرت اور ذہانت کا حامل ہے۔ قرآن پاک میں دی گئی سائنسی معلومات اس کائنات کو سائنسی قوانین کے ذریعے تخلیق کرنے والے خدا کی طرف سے ہی بھیجی گئیں ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نوٹ:&lt;br /&gt;
یہ دلیل ایک ملحد کے لئے بھی کام کرے گی۔ چونکہ ملحد خدا کا انکاری ہے لہذا اس دلیل کو اپنی سہولت کے لئے ایک خیالی بات یا Thought Experiment تصور کر لے اور منطقی طور پہ چلے تو بھی نتیجہ یہی نکلے گا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ ایک مسلمان ان باتوں کی حقیقت کو مانتا ہے جبکہ ملحد ان حقائق کا انکار کرتا ہے۔ لیکن ہر صورت میں منطقی طریقہ ایک جیسے نتائج دے گا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjiL5IVUfBJc5h-6Ayz5PCMFJd_xvJ6J-DG1MD-78607ks_8JDmqXhtVHk9z3h9ACG57fi6s3nSgvmikiRaFN9aPOn3nUNswrpt1EDfVFrhIPha1N-q5U1t333hckw13912RkSLP_Rgwt2l/s1600/FB_IMG_1586921182468.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;380&quot; data-original-width=&quot;554&quot; height=&quot;438&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjiL5IVUfBJc5h-6Ayz5PCMFJd_xvJ6J-DG1MD-78607ks_8JDmqXhtVHk9z3h9ACG57fi6s3nSgvmikiRaFN9aPOn3nUNswrpt1EDfVFrhIPha1N-q5U1t333hckw13912RkSLP_Rgwt2l/s640/FB_IMG_1586921182468.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/3065084134112636016/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_51.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/3065084134112636016'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/3065084134112636016'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_51.html' title='قرآن اور سائنس کی مطابقت کی منطقی دلیل کیا ہے؟ کوئی ایسی دلیل جو منطقی وزن رکھتی ہو؟ (پہلا حصہ )'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjiL5IVUfBJc5h-6Ayz5PCMFJd_xvJ6J-DG1MD-78607ks_8JDmqXhtVHk9z3h9ACG57fi6s3nSgvmikiRaFN9aPOn3nUNswrpt1EDfVFrhIPha1N-q5U1t333hckw13912RkSLP_Rgwt2l/s72-c/FB_IMG_1586921182468.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-6209225451977116505</id><published>2020-04-17T16:39:00.002+05:00</published><updated>2020-04-17T16:39:49.475+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="بیالوجی"/><title type='text'>BIOINFORMATICS</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
چونکے ڈی این اے کو The book of Life بھی کہا جاتا ہے اور یہ چار حروف A T C G کی ترتیب مشتمل ہوتی ہے۔ اس لئے ہم کتاب کی مثال سے جنیاتی مماثلت کے طریقہ کار پہ روشنی ڈالیں گے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فرض کریں آپ کے پاس،&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;ایک کتاب ہے 500 صفحوں پہ مشتمل جس کے&amp;nbsp; 50,000 الفاظ ہیں۔&lt;br /&gt;
دوسری کتاب ہے 600 صفحوں پہ جس کے 60,000 الفاظ ہیں۔&lt;br /&gt;
دونوں کتابوں کا موضوع سائنس ہے۔ اگر آپ ان دونوں کتابوں میں لکھے گئے الفاظ میں مماثلت نکالنا چاہیں تو دکھنے میں آسان لگنے والا یہ کام حقیقت میں کافی مشکل ہے اور اس کا دارومدار اس بات پہ ہے کہ مماثلٹ سے آپ کا مطلب کیا ہے اور آپ مماثلت کیسے نکالتے ہیں۔&lt;br /&gt;
میں اس کی وضاحت کرتا ہوں۔ اگر آپ ایک پوری کتاب کے الفاظ کو ترتیب اور الفاظ کی موجودگی کے لحاظ سے&amp;nbsp; دوسری پوری کتاب کے الفاظ کی ترتیب اور موجودگی کے لحاظ سے موازنہ کریں گے تو چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں کہ ان میں کوئی مماثلت ہوگی۔ مزید آسانی کے لیئے اس طرح وضاحت کرتا ہوں کہ دونوں کتابوں کے تمامی الفاظ کو صرف ایک لائن میں لکھیں۔ پہلے کتاب کے تمام الفاظ ایک لائن میں پھر دوسری کتاب کے تمام الفاظ ایک لائن میں۔ اس طرح ہمارے پاس دو لائنیں آئیں گیںجو کہ بہت لمبی ہوں گیں۔&lt;br /&gt;
اب دونوں لائنوں کو ساتھ ساتھ رکھ پہلے لفظ سے دیکھنا شروع کریں تو کیا چانسز ہیں کہ پہلے 100 الفاظ ایک جیسے ہوں گے اور ترتیب میں ہوں گے؟؟&lt;br /&gt;
ظاہری بات ہے کہ بہت کم چانسز ہیں۔ چاہے کتابوں کا موضوع ایک ہے یعنی سائنس لیکن یہ دو مختلف کتابیں ہیں۔&lt;br /&gt;
اسی طرح کیا چانسز ہیں کہ 750والا لفظ دونوں کتابوں میں ایک جیسا ہوگا؟ پھر 751 والا لفظ ایک جیسا، پھر 752 والا ایک جیسا۔ اسی طرح کیا چانسز ہیں کہ 1260&amp;nbsp; سے لے کر 1300 تک سارے الفاظ دونوں کتابوں میں ایک جیسے ہوں گے؟؟&lt;br /&gt;
اس کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔&lt;br /&gt;
اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ ایک کتاب کے 1500 سے لے کر 1520 تک 20 الفاظ دونوں کتابوں میں ہوں ایک جیسے ہوں لیکن مختلف جگہوں پہ ہوں۔ ایک کے 1500 سے لے کر 1520 تک ہوں دوسری کتاب میں 2240 سے لے کر 2260 تک ہوں۔&lt;br /&gt;
لیکن ترتیب ایک نہ ہونے کی وجہ سے مماثلت کہلائے گی یا نہیں یہ آپ کے فیصلے پہ منحصر ہے۔ اگر آپ کا مقصد زیادہ مماثلت ظاہر کرنا تو آپ اسے کوئی ہیڈنگ دے کر مماثلت کی ذیلی شاخ میں رکھ لیں گے یا اگر اپکا مقصد زیادہ فرق ظاہر کرنا ہے تو پھر اسے مماثلت میں شامل نہیں کریں گے۔&lt;br /&gt;
مختصر یہ کہ عام حالات میں صرف چند الفاظ ایک جیسے اور ایک ترتیب میں ہوں گے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب میری ریسرچ کا مقصد یہ ہے کہ انہی دو کتابوں میں زیادہ سے زیادہ مماثلت لانا تو مجھے کیا کرنا چاہیے!!!&lt;br /&gt;
میں اگر مماثلت والے چھوٹے چھوٹے یونٹس بنا لوں تو ان کے match ہونے کے چانسز بڑھ جائیں گے۔ یعنی ایک ہی لائن کے بجائے 600 صفحوں کی 600 سو لائنیں بنا لوں اور ہر ایک لائن کو دوسرے کتاب کے صفحوں سے موازنہ کروں یعنی پہلی صفحے کو دوسرے کتاب کے پہلے صفحے سے موازنہ کروں پھر پہلے صفحے کا دوسرے صفحے سے پھر پہلے صفحے کا تیسرے صفحے سے پھر پہلے صفحے کا چوتھے صفحے سے اسی طرح ایک صفحے کو دوسری کتاب کے پانچ سو صفحوں سے موازنہ کروں جس صفحے کی مماثلت سب سے زیادہ آئے اسے قبول کر لوں۔&lt;br /&gt;
پھر دوسرا صفحہ لوں اور اسے پہلے صفحے سے پھر دوسرے صفحے کو دوسرے سے پھر دوسرے صفحے کو تیسرے سے اسی طرح جس کی مماثلت سب سے زیادہ آئے اسے قبول کر لوں۔&lt;br /&gt;
ظاہری بات ہے اس طرح مماثلت زیادہ آنے کے چانس بڑھ جائیں گے۔&lt;br /&gt;
مزید زیادہ مماثلت لانے کے لئے میں صرف ایک جملے کو لے کر بھی موازنہ کر سکتا ہوں۔ اب پوری کتاب میں کہیں ایک جملہ دوسرے سے کچھ نہ کچھ مماثلت تو رکھتا ہو گا اسی طرح اگر ہر جملے 15 سے 20 فیصد مماثلت بھی رکھتا ہو اور اوریج 17 فیصد بھی ا جائے تو پہلے کی بنسبت یہ مماثلت کافی زیادہ ہے۔ اس میں تو صرف چند لفظ میچ ہو رہے تھے۔&lt;br /&gt;
اب اگر صرف ایک ایک لفظ کو دوسری کتاب سے موجود الفاظ سے match کریں تو&amp;nbsp; شاید 60 سے 70 فیصد الفاظ میچ کر جائیں گے اور یہی دونوں کتابوں کی مماثلت ہو گی۔&lt;br /&gt;
اگے ایک کتاب کے ہر حرف کو دوسری کتاب سے میچ کرنا شروع کریں کہ وہاں موجود ہے کہ نہیں تو میچ بلا شبہ 100 فیصد آئے گا۔&lt;br /&gt;
یعنی جتنے چھوٹے comparison units ہوں گے اتنی ہی مماثلت زیادہ آئے گی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہاں پہ کچھ سوالات اٹھتے ہیں کہ پھر مماثلت نکالنے کا سہی پیمانہ کیا ہے؟&lt;br /&gt;
کس طرح نکالی گئی مماثلت واقعی مماثلت کہلائے گی؟؟&lt;br /&gt;
اس کا جواب یہ ہے کہ اپ کی ریسرچ کا مقصد کیا ہے اور آپ کی ترجیح پہ منحصر ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhQdNLIRzNttApvYj5yKBTmXQz6POXSdRvuL8vuolZb7KghZfNZWMzbvqbM-rheE-NK5k5E6i1dVy81DxmlvBdu3pXvfYFTSL6apMp6Id5JHJ0KgyMj714044KPzz8c4GI8vX9Nh0SqBExj/s1600/FB_IMG_1587123515806.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;233&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;206&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhQdNLIRzNttApvYj5yKBTmXQz6POXSdRvuL8vuolZb7KghZfNZWMzbvqbM-rheE-NK5k5E6i1dVy81DxmlvBdu3pXvfYFTSL6apMp6Id5JHJ0KgyMj714044KPzz8c4GI8vX9Nh0SqBExj/s640/FB_IMG_1587123515806.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/6209225451977116505/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/bioinformatics.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/6209225451977116505'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/6209225451977116505'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/bioinformatics.html' title='BIOINFORMATICS'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhQdNLIRzNttApvYj5yKBTmXQz6POXSdRvuL8vuolZb7KghZfNZWMzbvqbM-rheE-NK5k5E6i1dVy81DxmlvBdu3pXvfYFTSL6apMp6Id5JHJ0KgyMj714044KPzz8c4GI8vX9Nh0SqBExj/s72-c/FB_IMG_1587123515806.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-8469409966515163180</id><published>2020-04-17T16:36:00.002+05:00</published><updated>2020-04-17T16:36:32.858+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="کاسملوجی/ فلکیات"/><title type='text'>|US Army and UFO&#39;s|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
ناقابلِ شناخت اڑتی ہوئی چیزیں جنہیں&amp;nbsp; (Unidentified Flying Objects UFO&#39;s) بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا مظہر ہے جس میں کچھ عجیب ہیئت کی چیزیں اڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کی شکل گول روشنی کے دائروں سے لے کر دھات کے بنے کیوب جیسی ہو سکتیں ہیں۔ ان سب میں ایک خاصیت ضرور موجود ہوتی ہے۔ ان کے اڑنے کا انداز، تیز رفتاری اور دائیں بائیں مڑنے کا طریقہ کسی بھی انسانی ٹیکنالوجی سے مماثلت نہیں رکھتا۔ لہذا ان کو ناقابلِ شناخت اڑتی چیزوں کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ufo موجود ہیں سوال یہ ہے کہ ufo کیا ہیں؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان کو دیکھنے کی شہادتیں اور ویڈیوز نہ صرف عام لوگوں سے موصول ہوتی ہیں بلکہ امریکی فوج کے ٹرینڈ پائلٹس تک ان کو دیکھنے اور ان سے آمنا سامنا ہونے کے متعدد واقعات کو رپورٹ کر چکے ہیں۔&lt;br /&gt;
مثال کے طور پہ 2014 سے 2015 کے دوران امریکی بحری بیڑے Theodore Roosevelt کو ان ufo&amp;nbsp; سے سامنا کرنا پڑا۔ اس بحری بیڑے سے جب امریکی پائلٹس پرواز کے لئے نکلتے تو ان کے ریڈار، انفراریڈ کیمرہ اور دیگر آلات ان عجیب غریب اڑتی ہوئی چیزوں کی موجودگی کو کنفرم کرتے۔ ایسے واقعات کئ مہینے تک چلتے رہے۔ 6 امریکی پائلٹس ان کے گواہ ہیں جن میں سے دو پائلٹس نے ایک ڈاکیومنٹری کے دوران اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے۔ ایک لیفٹیننٹ رینک کے امریکی پائلٹ کے مطابق ان اڑتی ہوئی چیزوں کے نہ جہاز جیسے پر تھے، نہ جہاز جیسی دم تھی اور کوئی انجن وغیرہ تھا لیکن ان کے ہوائی کرتب ناممکن حد تک حیران کن تھے۔&lt;br /&gt;
تفصیل کے لئے اس کو وزٹ کریں،&lt;br /&gt;
https://www.livescience.com/65585-ufo-sightings-us-pilots.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ بہت سی رپورٹس امریکی پائلٹس کی طرف سے موصول ہوئیں جس کی بنا پہ پینٹاگون کو ufo یا ناقابلِ شناخت اڑتی چیزوں کو سنجیدگی سے لینا پڑا اور پینٹاگون نے ایک خفیہ پروگرام تشکیل دیا جس کا کام پائلٹس کی جانب سے موصول ہونے والی ufo ریپورٹس اور ریڈار ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور ان پہ تحقیق کرنا تھا اس خفیہ پروگرام کو&lt;br /&gt;
Advanced Aerospace Threat Identification Program (AATIP)&lt;br /&gt;
کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام کے لئے ایک بڑی رقم مختص کی گئی۔ اس پروگرام کی تمام تحقیقات خفیہ تھیں اور عوام کو ان سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ پھر 2012 میں خبر سامنے آئی کہ اس پروگرام کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد 2017 میں پھر ایک خبر سامنے آئی کہ یہ پروگرام اور ufo پہ خفیہ تحقیقات ختم نہیں ہوئیں بلکہ ابھی تک چل رہیں ہیں۔ اس کے ساتھ پینٹاگون نے امریکی پائلٹس کی دو ویڈیوز بمہ اڈیو پبلک کیں جن میں دوران پرواز پائلٹس کے ufo کو دیکھنے کے بارے گفتگو کی ریکارڈنگ تھی۔ اس گفتگو میں پائلٹس یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ہمارے سامنے جو ufo ہیں ان کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ایک لمحے میں ہزاروں میل کا سفر طے کر سکتی ہیں۔&lt;br /&gt;
امریکی پائلٹس کی ریکارڈنگ کو پبلک کرنے پہ Search for Extraterrestrial Intelligence (SETI) کے سینیئر فلکیات دان Seth Shostak کا کہنا ہے کہ ایک اچھا قدم ہے اس سے عوام کو ایلینز اور ناقابل شناخت اڑتی چیزوں بارے حقائق جاننے کا موقع ملے گا۔&lt;br /&gt;
مزید تفصیل اس لنک سے،&lt;br /&gt;
https://www.livescience.com/65387-navy-ufo-sightings.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پینٹاگان کے خفیہ پروگرام (AATIP) کے انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے مطابق جن ufo کا مشاہدہ اور تحقیق انہوں نے کی وہ نا ممکن حد تک سپیڈ اور ٹیکنالوجی کی حامل تھیں۔ جس تیزی کے ساتھ یہ ufo دائیں بائیں جاتیں، راستہ تبدیل کرتیں یا سپیڈ پکڑتی دیکھی گئیں اس حساب سے ان اڑتی چیزوں کو 400-500 تک g-force یعنی گریوٹیشنل فورس کو برداشت کرنا پڑتا ہوگا جبکہ امریکی جہازوں میں سب سے زیادہ manoeuvrable جہاز کی g-force برداشت کرنے کی صلاحیت صرف 18g تک ہے اور انسان زیادہ سے زیادہ 9g تک گروٹیشنل فورس برداشت کر سکتا ہے وہ بھی ایک مختصر وقت تک۔ امریکی انٹیلیجنس آفیسر کے مطابق یہ ٹیکنالوجی یا مظہر ان کی سمجھ سے باہر ہے۔&lt;br /&gt;
مزید اس لنک سے،&lt;br /&gt;
https://www.livescience.com/65596-ufo-pentagon-history-channel.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ ناسا کے ریسرچ سائنسدان Kevin Knuth کا کہنا ہے کہ ufo حقائق پہ مبنی چیزیں ہیں اور وقت ا گیا ہے ہمیں ان پہ سنجیدگی سے ریسرچ کرنی چاہیے۔ اکثر اوقات سائنسدان ان موضوعات میں دلچسپی نہیں لیتے کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کا مذاق اڑایا جائے گا اور ان کی reputation خراب ہو جائے گی۔ یہ تمسخرانہ رویہ سائنسی طریقہ کار اور انسانی تجسس کے خلاف ہے اور ہمیں ایک تنگ نظر سوچ سے ہٹ کر اپنی سوچ وسیع کرنی پڑے گی۔ اس دنیا اور کائنات بہت سی ایسی چیزیں موجود ہو سکتی ہیں جن کا شاید ہمیں وہم گمان بھی نہ ہو!&lt;br /&gt;
مزید تفصیل اس لنک سے،&lt;br /&gt;
https://cosmosmagazine.com/space/why-we-should-take-ufo-sightings-seriously&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حال ہی میں امریکی گورنمنٹ کے تین سینیٹرز کو ایک خفیہ بریفننگ میں پینٹاگان کے نمائندوں نے ufo کے بارے اب تک کی تمام تحقیقات، حقائق اور معلومات سے آگاہ کیا۔&lt;br /&gt;
تفصیل اس لنک سے،&lt;br /&gt;
https://www.politico.com/story/2019/06/19/warner-classified-briefing-ufos-1544273&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذید معلومات کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس وزٹ کریں۔&lt;br /&gt;
https://www.washingtonpost.com/world/national-security/navy-no-release-of-ufo-information-to-the-general-public-expected/2019/05/01/25ef6426-6b82-11e9-9d56-1c0cf2c7ac04_story.html?noredirect=on&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
https://www.washingtonpost.com/national-security/2019/04/24/how-angry-pilots-got-navy-stop-dismissing-ufo-sightings/?tid=a_inl_manual&amp;amp;noredirect=on&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
https://www.nytimes.com/2017/12/16/us/politics/pentagon-program-ufo-harry-reid.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
-----------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgHggDQmYOPRKHQ9tfLo_R9ZRxrWcJ80mIFpOlhW9FaDbDVcC68V-pNzAVBavqpUWAtGX4z6WrACU8pb3CF9K0elbA9KJVL0npuikTfLQgYem87dN-b5lcEhWnLQLlxMmVKwxshfWm4Xl0x/s1600/FB_IMG_1587123330999.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;404&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;358&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgHggDQmYOPRKHQ9tfLo_R9ZRxrWcJ80mIFpOlhW9FaDbDVcC68V-pNzAVBavqpUWAtGX4z6WrACU8pb3CF9K0elbA9KJVL0npuikTfLQgYem87dN-b5lcEhWnLQLlxMmVKwxshfWm4Xl0x/s640/FB_IMG_1587123330999.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/8469409966515163180/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/us-army-and-ufos.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8469409966515163180'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8469409966515163180'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/us-army-and-ufos.html' title='|US Army and UFO&#39;s|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgHggDQmYOPRKHQ9tfLo_R9ZRxrWcJ80mIFpOlhW9FaDbDVcC68V-pNzAVBavqpUWAtGX4z6WrACU8pb3CF9K0elbA9KJVL0npuikTfLQgYem87dN-b5lcEhWnLQLlxMmVKwxshfWm4Xl0x/s72-c/FB_IMG_1587123330999.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-4100684009361859014</id><published>2020-04-17T16:34:00.002+05:00</published><updated>2020-04-17T16:34:39.919+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="کاسملوجی/ فلکیات"/><title type='text'>|Earth is NOT Flat|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
یہ دو منٹ کی وڈیو ایک خلا باز نے سپیس سٹیشن کی مرمت کے دوران بنائی ہے۔&amp;nbsp; زمین کو بغور دیکھیں اور عقل کا استعمال کریں تو معلوم پڑتا ہے کہ زمین گول ہے نہ کہ فلیٹ ہے۔&lt;br /&gt;
زمین کا گول ہونا آنکھوں دیکھا مشاہدہ ہے اور اس کا مشاہدہ ہزاروں لاکھوں انسان کر چکے ہیں اور یہ مشاہدہ روزانہ کی بنیادوں پہ آج بھی جاری ہے۔ یہ ماضی کی قیاس آرائیوں پہ مبنی کوئی مفروضہ نہیں۔&lt;br /&gt;
https://youtu.be/mMZtpMSmqoE&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ ایک اور ویڈیو ہے اس میں سیٹلائٹ گول زمین کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ یہ ایک ویڈیو ریکارڈر سے ڈائریکٹ زمین کی ویڈیو بنائی گئی ہے بلکل ویسے ہی جیسے آپ موبائل سے اپنی وڈیو بناتے ہیں۔&lt;br /&gt;
https://youtu.be/n4IhCSMkADc&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;ایک اور ویڈیو ہے یہ وڈیو ریکارڈر سے ڈائریکٹ گول زمین کی بنی ہوئی وڈیو ہے نہ کہ مصنوعی گرافِکس۔&lt;br /&gt;
https://youtu.be/Xjs6fnpPWy4&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زمین گول ہے اور یہی حقیقت اور مشاہدہ ہے۔&lt;br /&gt;
فلیٹ ارتھ ایک لغو اور فضول سوچ کا نام ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
--------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgT9mXBCXcvW05aE-jFYLXZq-_Suov_QoqgqDX_dMgKLR68ySzY28_1nk6d6C94mJA3ETOwhTAEEeRZ8JebxoyKkOmKhuzmZoYqKDl0sfFEZFO8vmCyEYe6Kv_RKrwZ5H_6riA_gWGP8a_r/s1600/FB_IMG_1587123196286.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;405&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;360&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgT9mXBCXcvW05aE-jFYLXZq-_Suov_QoqgqDX_dMgKLR68ySzY28_1nk6d6C94mJA3ETOwhTAEEeRZ8JebxoyKkOmKhuzmZoYqKDl0sfFEZFO8vmCyEYe6Kv_RKrwZ5H_6riA_gWGP8a_r/s640/FB_IMG_1587123196286.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/4100684009361859014/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/earth-is-not-flat.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4100684009361859014'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4100684009361859014'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/earth-is-not-flat.html' title='|Earth is NOT Flat|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgT9mXBCXcvW05aE-jFYLXZq-_Suov_QoqgqDX_dMgKLR68ySzY28_1nk6d6C94mJA3ETOwhTAEEeRZ8JebxoyKkOmKhuzmZoYqKDl0sfFEZFO8vmCyEYe6Kv_RKrwZ5H_6riA_gWGP8a_r/s72-c/FB_IMG_1587123196286.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-3168809107986389565</id><published>2020-04-17T16:32:00.000+05:00</published><updated>2020-04-17T16:32:39.782+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="کاسملوجی/ فلکیات"/><title type='text'>جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا !</title><content type='html'>|Sunrise From West&lt;br /&gt;
A Scientific Reply to Pseudo-Intellectuals|&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہمیشہ کی طرح سائنس کے نام پہ اسلام کی تحقیر اور تضحیک کا سلسلہ جاری ہے۔ سائنس کے نام پہ بنائے گئے گروپس میں اسلام سے متعلقہ پوسٹس اپرو کی جاتیں ہیں لیکن ان پوسٹس پہ اسلام کا زکر کرنے پہ بلاک یا میوٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عجیب منافقانہ اور جاہلانہ پالیسی سامنے آئی ہے۔ ایک تو اسلام اور سائنس کو علیحدہ قرار دینے کی غلط پالیسی رائج ہے پھر یہ کہ اسلام اور سائنس سے متعلقہ پوسٹس بھی بار بار اپرو کی جاتیں ہیں&amp;nbsp; اور اسلامی پہلو سے بات کرنا بھی گروپ پالیسی کے خلاف ہے۔ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ مقصد صرف ایک ہی معلوم ہوتا ہے، فساد پھیلانا۔ پھر سائنس کے نام پہ انتظامیہ کی جانب سے ایسے بے ہنگم دعوی جات کیے جاتے ہیں کہ سائنس کا سر شرم سے جھک جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حال ہی میں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا سوال ایک گروپ میں اپرو کیا گیا۔ ظاہری بات ہے یہ متعدد صحیح احادیث میں بیان کردہ حقیقت ہے جس سے ہر مسلمان واقف ہے۔ اس پوسٹ کا تسلی بخش جواب تبھی ممکن تھا جب کسی گروپ میں اسلام اور سائنس کو متعدل اور متوازن انداز میں گفتگو کا حصہ بنایا جائے پوسٹ کرنے والے کو سمجھایا جائے کہ مریخ پہ سورج مغرب سے نہیں نکلتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمین پہ سورج کا مغرب سے نکلنا سائنسی نا ممکنات میں سے ہے۔ پھر پوسٹ کرنے والے کو یہ سمجھایا جائے کہ کس طرح سورج کا مغرب سے نکلنا ممکن ہے اور ایسا ہمارے اپنے نظام شمسی میں ہمارے ہمسائے سیارے پہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ سب تبھی ممکن ہے جب اپنے اندر کا مذہبی بغض ختم کیا جائے اور متعلقہ موضوع پہ سائنسی معلومات کی سمجھ بھی ہو۔&lt;br /&gt;
اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پاکستانی مسلم معاشرے میں اسلام اور سائنس کو ساتھ لے کر چلنا لازمی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سب سے پہلے پوسٹ میں پوچھے گئے سوال کا سائنسی جواب ملاحظہ کر لیجیے:&lt;br /&gt;
سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا سائنس نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ اس کی مثال اور مشاہداتی ثبوت ہمارے اپنے نظام شمسی میں موجود ہے۔ ہمارے ہمسایہ سیارے وینس Venus پر سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے جبکہ ہمارے نظام شمسی کے باقی تمام سیاروں پہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
وینس پہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ایک معمہ ہے وینس سیارہ زمین سے الٹی سمت میں اپنے محور (axis) کے گرد گھوم رہا ہے. اس کی وضاحت کے لئے دو اہم مفروضات موجود ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وینس سیارہ ماضی میں الٹ (flipped) گیا تھا یعنی وینس سیارے کا اوپر والا حصہ جھکتا گیا اور اوپری حصہ نیچے اور نیچلا حصہ اوپر چلا گیا اس کی وجہ بارے سائنس کا کہنا ہے کہ وینس سیارہ میں ابتدائی جھکاؤ (tilt) تھا اور وینس سیارے کے گھومنے کی رفتار زمین کے قریب قریب تھی جس سے اس کا اوپری حصہ آہستہ آہستہ نیچے ہوگیا اور نیچے والا حصہ اوپر چلا گیا اور اس کے گھومنے کی سمت الٹی ہوگئ اور اب وینس سیارے پہ سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے۔ (یاد رہے زمین کے گھومنے کے مدار میں بھی 23 ڈگری کا جھکاؤ ہے۔)&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ کچھ سائنسدان اس کی مختلف وجوہات بھی بتاتے ہیں ان کے مطابق وینس اندرونی فرکشن کی وجہ سے گھومتا ہوا رک گیا اور واپس الٹی سمت میں گھومنا شروع کر دیا۔&lt;br /&gt;
خیر اس کی جو بھی وجہ ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ وینس پہ سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کسی سیارے جیسے کہ زمین پہ مغرب سے سورج کا طلوع ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں بلکہ ایسا ہونے کی سائنس تائید کرتی ہے اور ایسا ہوسکنا سو فیصد ممکن ہے۔ایسا اس وقت بھی ہمارے ہمسایہ سیارے وینس پہ ہورہا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زمین پہ سورج مغرب سے کیسے نکلے گا اس کا حقیقی طریقہ کار صرف اللہ پاک کو معلوم ہے لیکن مسلمان بھائیوں کی تسلی کے لئے سائنسی وضاحت درج زیل ہے۔ چونکہ سائنس کے نام پہ اسلام کی تحقیر اور تضحیک کی گئی ہے لہذا جواب بھی سائنس کی زبان میں ملے گا۔&lt;br /&gt;
زمین پہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا Geographic Pole Reversal کی وجہ سے ممکن ہوسکتا ہے یعنی جس محور (axis) کے گرد زمین گھوم رہی ہے وہ الٹ جائے جیسا کہ وینس پہ ہوا۔ ہماری زمین اس وقت 23 ڈگری جھکاؤ پہ گھوم رہی ہے اور یہ فاصلہ ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو زمین ایک دن جھک کر الٹ سکتی ہے اور پھر زمین کے گھومنے کے سمت بھی الٹ جائے گی اور سورج مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا جیسا کہ اس وقت وینس پہ ہو رہا ہے۔ زمین پہ ایسا ہونے کی ممکنہ وجہ گلوبل وارمنگ قرار دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ مقدار میں برف پگھل رہی ہے اور زمین کا ماس شفٹ ہو رہا ہے۔ لہذا سائنس کے نام پہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا انکار کرنا حماقت اور تعصب کے سوا کچھ نہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مزید یہ کہ زمین کا میگنیٹک پول زمینی تاریخ میں سینکڑوں بار الٹ چکا ہے۔ مثال کے طور پہ آج جو ہمارا نارتھ پول ہے وہ سات لاکھ سال پہلے ساؤتھ پول ہوتا تھا اور موجودہ دور میں جو حالات جا رہے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمین ایک اور میگنیٹک پول تبدیلی کی طرف جا رہی ہے۔&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/d41586-019-00007-1&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اس کے علاوہ True Polar Wander تھیوری کے مطابق زمین کے بر اعظم اپنی جگہ تبدیل کر سکتے اگر ایکوایٹر سے دور کسی بڑے آتش فشاں وغیرہ کا قیام وجود میں آئے۔ تب زمین کے گھومنے سے آتش فشاں کا بھاری ماس محور سے دور اور ایکوایٹر کی طرف ا کر فطری توازن بنائے گا۔&lt;br /&gt;
https://earthsky.org/earth/earth-is-undergoing-true-polar-wander-scientists-say&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک سیارہ اپنی سمت بدل کر کس طرح الٹی سمت میں گھومنا شروع کر سکتا ہے اس پہ سائنسی شواہد اور سائنسی وضاحت اس یوٹیوب ویڈیو میں ملاحظہ کریں۔&lt;br /&gt;
https://youtu.be/vEiSZaRnfIg&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ماضی میں کس طرح زمین الٹ چکی ہے اس پہ ایک آرٹیکل&lt;br /&gt;
https://www.universetoday.com/558/did-the-earth-flip-over-in-the-past/&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک جگہ پوچھا گیا کہ پہلا انسان کیسے آیا یا سائنس پہلے انسان کے وجود کو مانتی ہے؟&lt;br /&gt;
اس کا سائنسی جواب اس پوسٹ میں دیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
https://m.facebook.com/groups/1191878070977827?view=permalink&amp;amp;id=1264034050428895&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اوپر بیان کیے گئے تمام سائنسی حقائق کو مد نظر رکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ سائنس میں ایسا کہیں بھی نہیں جو کہے کہ زمین پہ سورج کا مغرب سے نکلنا ناممکن ہے بلکہ سائنس تو اس چیز کا کھلے دل سے اقرار کرتی ہے کہ سیاروں پہ مغرب سے سورج نکلنا ایک سائنسی سور مشاہداتی حقیقت ہے۔&lt;br /&gt;
نوٹ:&lt;br /&gt;
یہاں پوسٹ کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ اللہ پاک&amp;nbsp; زمینی محور کو الٹ کر سورج مغرب سے نکالیں گے۔ اللہ پاک اس کا کیا طریقہ اختیار کریں اس کا نہ مجھے معلوم ہے اور نہ کسی اور کو!&lt;br /&gt;
یہ پوسٹ صرف سائنسی فساد پھیلانے والوں کے رد میں لکھی گئی ہے جو سائنس کے نام پہ عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ سائنس کا جواب سائنس سے دیا گیا ہے تاکہ عوام کا ایمان تازہ ہو اور گمراہی سے بچیں۔&lt;br /&gt;
--------------------------------------------------&lt;br /&gt;
1) نیچے دیے گئے سکرین شاٹ پڑھیں تو ایک صاحب احمکانہ دعویٰ کرتے نظر ا رہے ہیں کہ&lt;br /&gt;
&quot;زمین کبھی بھی الٹی نہیں گھومے گی&quot;&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;یہ علم کہاں سے آیا کہ مستقبل میں ایسا کبھی نہیں ہوگا؟ سائنس کبھی اس چیز کا دعویٰ نہیں کرتی کہ مستقبل میں فلاں چیز کبھی نہیں ہو سکتی۔ وہ بھی ایسی صورت میں جب ہمارے اپنے نظام شمسی میں سیارہ وینس پہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا مشاہداتی ثبوت موجود ہے اور سائنسدان اس پہ سائنسی وضاحت بھی دے چکے ہیں۔&lt;br /&gt;
ایک وقت تھا لوگ کہا کرتے تھے زمین سورج کے گرد کبھی نہیں گھوم سکتی لیکن سائنس نے ثابت کر دیا کہ زمین ہی سورج کے گرد گھومتی ہے۔&lt;br /&gt;
اپنی سوچ وسیع کریں کنویں کے مینڈک مت بنیں!&lt;br /&gt;
سائنس ائے دن اپنی نظریات اپنی وضاحتیں بدلتی ہے۔ نیا ڈیٹا اور نئی معلومات سامنے آتی ہیں نئی تھیوریز اور نئی مفروضہ جات بنتے ہیں بعض تھیوریز رد ہو جاتیں ہیں بعض میں ترامیم کرنی پڑتی ہیں سائنس تو اسی کا نام ہے۔ بلکل ایسا ہی نیو ڈارونین ارتقاء کے ساتھ ہو رہا ہے نیو ڈارونین ارتقاء ماڈرن سائنس کے سامنے ناکام ہوتا وضاحتی فریم ورک ہے۔ جو اس وقت صرف ضد اور سائنسی عقیدے کی صورت میں باقی بچا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
2)پھر ایک اور بے تکی وضاحت کی گئی کہ زمین تبھی الٹی گھوم سکتی ہے جب زمین سے بڑا کوئی سیارہ ا کر زمین سے ٹکرائے۔ چونکہ ایسا سیارہ موجود نہیں لہذا ناممکن ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;یہ منطقی مغالطہ ہے جسے سٹرا مین مغالطہ کہا جاتا ہے اس میں ایک شخص خود ساختہ بیان ایجاد کر کے سامنے والے سے منسوب کر لیتا ہے پھر اس کا رد شروع کر دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
یہ ایک پرانا مفروضہ تھا جو اصل میں وینس کے الٹی سمت میں گھومنے سے متعلق تھا لیکن شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر کوئی بڑا سیارہ وینس سے ٹکراتا تو وینس ویسے ہی تباہ ہوتا اور الٹا گھومنے کے لئے کچھ بچتا ہی نہ لیکن چونکہ وینس صحیح سالم موجود ہے لہذا سیارہ کے ٹکرانے سے سمت بدلنے والا مفروضہ کب کا رد کر دیا گیا۔ بالکل اسی طرح یہ زمین کے الٹا گھومنے کی وضاحت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے متبادل دو مذید مفروضے سامنے آئے جو کافی تسلی بخش ہیں ایک وینس کا جھک کر الٹ جانا، دوسرا وینس کا اندرونی فرکشن کی وجہ سے الٹنا گھومنا شروع کر دینا ان کی تفصیلی وضاحت یوٹیوب کے لنک میں موجود ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
3) ایک اور صاحب سائنس کے نام پہ جاہلانہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگلے اربوں سالوں میں بھی سورج کا مغرب سے نکلنا ممکن نہیں۔&lt;br /&gt;
یہ کونسی سائنسی تھیوری ہے جو اگلے اربوں سالوں تک کے ریکارڈ مہیاء کرتی ہے؟&lt;br /&gt;
آپ لوگ اگر پچھلے 500 سال کی تاریخ توجہ سے پڑھ لیں تو ایسے مضحکہ خیز دعویٰ جات نہ کرتے۔&lt;br /&gt;
سائنس گیلیلیو سےکس طرح سفر کرتی ہوئی نیوٹن اور پھر ائین سٹائین اور اب آئین سٹائین سے بھی اگے جانے کی تیاریوں میں ہے۔&lt;br /&gt;
جس رفتار اور تیزی سے سائینسی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے اور نئی کائناتی پہیلیاں سامنے آ رہی ہیں ایک باشعور اور عقلمند انسان اگلے دس سال کی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ سائنس کیا سمت اختیار کرے گی۔ سائنس کے نام پہ اگلے اربوں سالوں پہ مشتمل دعویٰ کر دینا مذہبی بغض اور سائنسی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سائنس کو مذہب مخالف بنا کر پیش کرنا کچھ عناصر کا پہلے دن سے ایجنڈا رہا ہے۔ ایک طرف یہ لوگ اسی پوسٹ پہ گروپ رولز بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے گروپ میں مذہب پہ بات نہیں کرنی لیکن پوسٹس مذہبی اپرو ہوتیں ہیں پھر ان پوسٹس پہ رج کے سائنسی ٹرولنگ کی جاتی ہے اور ایسے ایسے جاہلانہ اور غیر سائنسی دعویٰ جات کیے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ! سائنس کا وہ بیڑہ غرق کیا جاتا ہے جیسے باندر کے ہاتھ ماچس ا جائے تو وہ سارے جنگل کو آگ لگا دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
-------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgHKGtyPeBolRch-J_-E8qjmBCv_ZozFyl0xohZatF6qlSRlKREoyGJjvn79iTqdkXIPA5xvn1LGNHQh-JwLgVVEa4eqpx98kfhenLIo8n13WVmoyINR7eNXuzDDqLAhN2NW36_T82MVK9V/s1600/ddf28-sunrise_west.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;564&quot; data-original-width=&quot;900&quot; height=&quot;400&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgHKGtyPeBolRch-J_-E8qjmBCv_ZozFyl0xohZatF6qlSRlKREoyGJjvn79iTqdkXIPA5xvn1LGNHQh-JwLgVVEa4eqpx98kfhenLIo8n13WVmoyINR7eNXuzDDqLAhN2NW36_T82MVK9V/s640/ddf28-sunrise_west.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/3168809107986389565/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_17.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/3168809107986389565'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/3168809107986389565'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_17.html' title='جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا !'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgHKGtyPeBolRch-J_-E8qjmBCv_ZozFyl0xohZatF6qlSRlKREoyGJjvn79iTqdkXIPA5xvn1LGNHQh-JwLgVVEa4eqpx98kfhenLIo8n13WVmoyINR7eNXuzDDqLAhN2NW36_T82MVK9V/s72-c/ddf28-sunrise_west.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-8796556716686514684</id><published>2020-04-17T16:28:00.000+05:00</published><updated>2020-04-17T16:28:17.334+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>Urgency to Rethink Evolution</title><content type='html'>Urgency to Rethink Evolution&lt;br /&gt;
(Growing Disagreement to Narrow Evolutionary Mindset)&lt;br /&gt;
---------------------------------------------------&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سائنس ایک ایسا پروسیس جس سے مسلسل نئی تحقیات، نئے مشاہدات اور نئے ڈیٹا سے نئی سائنسی تھیوریز کی بنیاد رکھی جاتی ہے ہر سائنسی تھیوری کی حدود اور ایک عمر ہوتی ہے جس کے باہر نہ تو یہ تھیوری کچھ بتا سکتی ہے اور نہ ہی ایک وقت سے زیادہ چل سکتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب نئی تحقیقات کی روشنی میں ہر سائنسی تھیوری اپنی عمر پوری کر کے فیل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک نیا سائنٹفک فریم ورک لیتا ہے۔ اگر آپ سائنس کی تاریخ پہ نظر ڈالیں تو اس کے بہت سے مثالیں موجود ہیں مثال کے طور پہ نیوٹونین گریوٹی اور ایک گیلیکسی پہ مشتمل ساکت کائنات کو آج جنرل ریلیٹیویٹی اور سیکڑوں بلین گیلیکسیز پہ مشتمل پھیلتی کائنات سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
اس کی بہت عمدہ وضاحت اس آرٹیکل میں کی گئی ہے،&lt;br /&gt;
Every scientific theory will someday fail, and when it does, that will herald a new era of scientific inquiry and discovery. And of all the scientific theories we’ve ever come up with, the best ones succeed for the longest amounts of time and over the greatest ranges possible.&lt;br /&gt;
https://www.forbes.com/sites/startswithabang/2017/11/22/scientific-proof-is-a-myth/#1af48d762fb1&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک وقت تھا جب برطانوی سائنسدان یہ جملہ بولا کرتے تھے کہ &quot;اب فزکس میں دریافت ہونے کو کچھ نہ بچا&quot; یہ 1900 کے دور کی بات ہے۔ اور اس کے چند سالوں بعد جنرل اور سپیشل ریلیٹیویٹی اور کوانٹم میکینکس نے وہ Pandora Box کھولا جس سے حاصل کردہ سائنس دریافتوں اور معلومات کو سنبھالنا اور سمجھنا ابھی تک سائنسدانوں کے لئے ایک مشکل کام بنا ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;There is nothing new to be discovered in physics now.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.newscientist.com/round-up/physics-crunch/&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لہذا سائنس بدلتے وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے&amp;nbsp; پرانی اور کمزور تھیوریز کو ترک کر کے نئ معلومات کی روشنی میں نئی تھیوریز کی طرف بڑھا جاتا ہے۔ فزکس کی فیلڈ میں یہ تبدیلی یا Paradigm Shift ا چکا ہے۔ کمزور تھیوریز اور پرانی سمجھ مکمل طور پہ تبدیل ہو چکی ہے اب فزکس ایک نئی راہ پہ گامزن ہے۔&lt;br /&gt;
یہی حالات اس وقت بائیولوجی میں اور خاص طور پہ Theory of Evolution پہ منڈلا رہے ہیں۔&lt;br /&gt;
اکثر اوقات موجودہ ارتقائی تھیوری کو ایک نا قابلِ تردید، تمام تر غلطیوں سے پاک تھیوری کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں!&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;آج بھی ارتقاء کے بنیادی mechanism اور دیگر نکات کافی حد تک غیر یقینی ہیں جن پہ خود ارتقائی سائنسدانوں کی طرف تنقید جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ نئے ڈیٹا اور شواہد کی روشنی میں اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;br /&gt;
ارتقاء ایک settled theory نہیں ہے اس میں بہت سی تبدیلیاں اور ترامیم ہونی باقی ہیں لہذا اس کا تنقیدی جائزہ لینا اور اس پہ تنقید کرتے رہنا ضروری ہے۔&lt;br /&gt;
آئے دن غیر جانبدار ارتقائی سائنسدان نئی تحقیقات کی روشنی میں ارتقاء جیسی کمزور تھیوری پہ دوبارا سوچ و بچار کرنے کی آواز بلند کرتے ہیں جو کہ بنیاد پرست ارتقائی سائنسدانوں کی جانب سے مکمل طور پہ نظر انداز کر دی جاتی یا اس کی سخت مخالفت کی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;ارتقاء پہ موجودہ نئی تحقیقات کی روشنی میں دوبارا سوچ و بچار کرنے کی جو کیمپین چل رہی ہے اس پہ میں nature جریدے سے ایک article کا تجزیہ پیش کروں گا جو 2014 پہ پبلش ہوا۔&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس میں آپ کو دیکھنے کو ملے گا کہ نئے سائنسی ڈیٹا اور سائنسی معلومات کی روشنی میں مختلف فیلڈز&lt;br /&gt;
Developmental Biology,&amp;nbsp; Epigenetics and Ecology&lt;br /&gt;
وغیرہ سے سائنسدان ارتقاء کو re-evaluate کرنے کی آواز بلند کر رہے ہیں۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اور دوسری طرف بنیاد پرست ارتقائی سائنسدان سائنسی ترقی کی راہ میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور باقی سائنسدانوں کی جانب سے ارتقاء پہ دوبارا سوچ و بچار جیسے جائز سائنسی مطالبے کو یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا الزامات کی بوچھاڑ سے دبا دیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس تحریک کے بانی پروفیسر Kevin Laland ہیں۔ یہ یونیورسٹی میں Behavioural and Evolutionary Biology پڑھاتے ہیں۔ ان کے حمایت میں موجود biologists کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ Kevin Laland کے بارے تفصیل میں یہاں سے پڑھا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
https://extendedevolutionarysynthesis.com/person/kevin-laland/&lt;br /&gt;
اب حالات یہ ہیں کہ biologists اس وقت دو گروپس میں تقسیم ہو چکے ہیں کہ کونسے processes اور میکینزم کو ارتقاء کی بنیاد قرار دیا جائے۔ یعنی ارتقاء کے بنیادی پروسیسز نئے ڈیٹا کی روشنی میں اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;پروفیسر Kevin Laland کے گروپ کا بیانیہ ہے کہ فوری طور موجودہ ارتقائی فریم ورک کا ایک تنقیدی جائزہ لینے کا وقت ا چکا ہے۔&lt;br /&gt;
جبکہ دوسرا گروپ ارتقائی بنیاد پرستوں پہ مشتمل ہے جو ہمیشہ کی طرح سائنسی ترقی کی راہ میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور اس جائز سائنسی مطالبے کو اوچھے ہتھکنڈوں سے دبا رہے ہیں۔&lt;br /&gt;
ارتقائی بنیاد پرستوں کا بیانیہ آپ کو ہر پلیٹ فارم پہ سننے اور دیکھنے کو مل جاتا ہے اور ہر کوئی اس بیانیہ سے واقف ہے۔ اس لئے آج میں پروفیسر Kevin Laland اور ان کے حمایتی biologists کے تنقیدی بیانیہ کو آپ کے سامنے پیش کروں گا جن کے بیانیے کو دبا دیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پروفیسر Kevin Laland کا گروپ کا کہنا ہے موجودہ ارتقائی فریم ورک صرف جینز اور جینز میں ہونے والی تبدیلیوں پہ فوکس ہو کر رہ گیا جبکہ مختلف سائنسی فیلڈز سے نئے ڈیٹا کی روشنی میں یہ تنگ نظر پوزیشن اپنی اہمیت کھو رہی ہے اور نئی وضاحتیں سامنے آ رہی ہیں۔ nature جریدہ ملاحظہ کریں،&lt;br /&gt;
&quot;Now mainstream evolutionary theory has come to focus almost exclusively on genetic inheritance and processes that change gene frequencies.&lt;br /&gt;
Yet new data pouring out of adjacent fields are starting to undermine this narrow stance. An alternative vision of evolution is beginning to crystallize&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080#/noalliswell&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;پروفیسر اور ان کے گروپ نے جو نیا فریم ورک پیش کیا اس کو&lt;br /&gt;
Extended Evolutionary Synthesis (EES)&lt;br /&gt;
کا نام دیا گیا ہے اس کے بارے تفصیل میں آپ اس ویب سائٹ سے پڑھ سکتے ہیں کہ کیسے نئے ڈیٹا کی روشنی میں نئے میکنزم اور اہم پروسیسز کی بات کی جا رہی جو کہ موجودہ تنگ نظر ارتقائی سوچ کو وسیع کریں گے۔&lt;br /&gt;
https://extendedevolutionarysynthesis.com&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پروفیسر کا مزید کہنا ہے مختلف سائنسی فیلڈز سے بڑی مقدار میں نیا ڈیٹا کا سامنے آ رہا ہے جس کی روشنی میں بہت سے biologists موجودہ ارتقائی تھیوری کا تنقیدی جائزہ لینے اور اس میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کی ڈیمانڈ کر رہے اور ان کی تعداد میں ائے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی سائنسی تحقیقات پروفیسر Kevin Lalamd کی پوزیشن کو حق میں جا رہیں ہیں لہذا اگر ارتقائی بنیاد پرست واقعی سائنس کی ترقی چاہتے ہیں اور نئے ڈیٹا سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو ارتقاء میں تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔&lt;br /&gt;
&quot;The number of biologists calling for change in how evolution is conceptualized is growing rapidly. Strong support comes from allied disciplines, particularly developmental biology, but also genomics, epigenetics, ecology and social science1, 2. We contend that evolutionary biology needs revision if it is to benefit fully from these other disciplines. The data supporting our position gets stronger every day.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080#/noalliswell&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نوٹ:&lt;br /&gt;
یہ پیراگراف بہت ایم ہے اسے غور سے پڑھیں،&lt;br /&gt;
جیسے کہ اوپر بتایا گیا کہ ائے روز ایسے biologists کی تعداد بڑھ رہی ہے جو موجودہ ارتقائی تھیوری پہ دوبارا سوچ و بچار کرنے کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی ارتقائی سائنسدان موجودہ ارتقائی فریم ورک پہ تنقیدی پہلو سے discussion کرنے کی کوشش کرے تو ارتقائی بنیادی پرست فوراً دشمنی پہ اتر آتے ہیں، الزامات لگانے شروع کر دیتے ہیں، شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اس کی وجوہات یہ ہو سکتیں، شاید ارتقائی بنیاد پرست Intelligence Design نامی تحریک سے خوفزدہ ہیں کہ اگر ہم نے ارتقائی تھیوری پہ تنقیدی کام شروع کیا تو ID کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور ارتقاء کی اہمیت کم ہو جائے گی اس لئے یہ حضرات جائز سائنسی discussions اور جائز سائنس تنقید سننا بھی گوارہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان ارتقائی بنیاد پرستوں کو یہ خوف ہے کہ باقی سائنسی فیلڈز کے ارتقاء کے ساتھ یکجا ہو کر جو نئے فریم ورک کی بات کی جا رہی ہے اس سے ان کی funding کم کر دی جائے گی یعنی ان کو پیسے کم ملیں گے۔&lt;br /&gt;
تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کو جو اہمیت، رعب اور کنٹرول ہے وہ کم ہو جائے گا۔&lt;br /&gt;
&quot;Yet the mere mention of the EES often evokes an emotional, even hostile, reaction among evolutionary biologists. Too often, vital discussions descend into acrimony, with accusations of muddle or misrepresentation. Perhaps haunted by the spectre of intelligent design, evolutionary biologists wish to show a united front to those hostile to science. Some might fear that they will receive less funding and recognition if outsiders — such as physiologists or developmental biologists — flood into their field.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ evolutionary fundamentalists کا سوچنے کا انداز مختلف ہے جس کی وجہ سے یہ پروفیسر کے اور ان کے ساتھیوں کے بیانیے کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے۔ جن پروسیسز کی پروفیسر Kevin Laland بات کرتے ہیں کہ بہت اہم ہیں اور جن کی وجہ سے ارتقاء کے موجودہ میکنزم میں تبدیلی ضروری ہے انہیں ارتقائی بنیاد پرست غیر اہم کہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
موجودہ ارتقائی تنگ نظر میکانزم کے مطابق جینیاتی تبدیلی Random Mutation سے آتی ہے، Natural Selection اسے فکس کرتی ہے اور یہ تبدیلی اگلی نسل میں DNA کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ اسے Standard Evolutionary Synthesis (SET) کہا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
پروفیسر کے مطابق یہ Gene centric نظریہ فیل ہو چکا ہے اس لئے ہمیں ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے۔ مختلف سائنسی فیلڈز سے نئے سائنسی ڈیٹا کی روشنی میں سامنے آنے والے مشاہدات اور وضاحتوں کی بنیاد پہ پروفیسر کے نئے فریم ورک میں چار processes اہم ہیں جن کو موجودہ ارتقائی تھیوری اہمیت نہیں دیتی،&lt;br /&gt;
-Plasticity&lt;br /&gt;
-Developmental&amp;nbsp; Bias&lt;br /&gt;
-Niche Construction&lt;br /&gt;
-Extra Genetic Inheritance&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اس فریم ورک کو&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;Extended Evolutionary Synthesis (EES)&lt;br /&gt;
کا نام دیا ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;However, another factor is more important: many conventional evolutionary biologists study the processes that we claim are neglected, but they comprehend them very differently.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080&lt;br /&gt;
&quot;The story that SET tells is simple: new variation arises through random genetic mutation; inheritance occurs through DNA; and natural selection is the sole cause of adaptation, the process by which organisms become well-suited to their environments.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080&lt;br /&gt;
&quot;In our view, this ‘gene-centric’ focus fails to capture the full gamut of processes that direct evolution. Missing pieces include how physical development influences the generation of variation (developmental bias); how the environment directly shapes organisms’ traits (plasticity); how organisms modify environments (niche construction); and how organisms transmit more than genes across generations (extra-genetic inheritance).&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;پروفیسر Laland کا مزید یہ کہنا ہے کہ سائنس کی ترقی کے لئے Biology میں مختلف پہلوؤں سے سوچنے اور متبادل نظریات کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کو قبول کرنا ضروری ہے۔ اب EES ارتقائی بنیاد پرستوں کے سامنے ایک احتجاجی تحریک سے بہت اگے نکل کر ایک مستند نظریاتی فریم ورک بن چکا ہے جس کو بہت زیادہ تعداد میں مختلف سائنسدان مختلف فیلڈ سے سپورٹ کر رہے ہیں اور یہ فریم ورک موجودہ ارتقائی تھوری کی نا مکمل اور کمزور نظریاتی بنیادوں کو تبدیل کر سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے&lt;br /&gt;
We believe that a plurality of perspectives in science encourages development of alternative hypotheses, and stimulates empirical work. No longer a protest movement, the EES is now a credible framework inspiring useful work by bringing diverse researchers under one theoretical roof to effect conceptual change in evolutionary biology.&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/does-evolutionary-theory-need-a-rethink-1.16080&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چونکہ nature کا یہ آرٹیکل بہت طویل ہے لہذا پروفیسر کے تمام نکات&amp;nbsp; کی وضاحت پوسٹ میں ممکن نہیں اور صرف اہم نکات کو لکھا گیا ہے باقی کہ اہم نکات آپ خود پڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاؤہ آپ کو آرٹیکل کے دوسرے حصے میں ارتقائی بنیاد پرستوں کی رویہ بھی پڑھنے کو ملے گا جو تمام تر سائنسی شواہد اور سائنسی ڈیٹا کے باوجود بھی ارتقائی تھیوری میں بنیادی نظریاتی تبدیلیاں کرنے جیسے جائز اور صحت مند سائنسی مطالبے کی راہ میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
----------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Written and Researched by&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiN5ecVF1k_k0NjgJMDyrnbSJfbnjjnMeGS7az3EZ2MBA578y8yfm8ZiuZcc83jpMyFJWY7WrnaUZrxToBN1XYDPt0UAfs-fuql75_id_O_yq_UN-4kUXZXVdBbZx3gQ-_vwqF70kZVCZrZ/s1600/FB_IMG_1587122819627.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;450&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;400&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiN5ecVF1k_k0NjgJMDyrnbSJfbnjjnMeGS7az3EZ2MBA578y8yfm8ZiuZcc83jpMyFJWY7WrnaUZrxToBN1XYDPt0UAfs-fuql75_id_O_yq_UN-4kUXZXVdBbZx3gQ-_vwqF70kZVCZrZ/s640/FB_IMG_1587122819627.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/8796556716686514684/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/urgency-to-rethink-evolution.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8796556716686514684'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8796556716686514684'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/urgency-to-rethink-evolution.html' title='Urgency to Rethink Evolution'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiN5ecVF1k_k0NjgJMDyrnbSJfbnjjnMeGS7az3EZ2MBA578y8yfm8ZiuZcc83jpMyFJWY7WrnaUZrxToBN1XYDPt0UAfs-fuql75_id_O_yq_UN-4kUXZXVdBbZx3gQ-_vwqF70kZVCZrZ/s72-c/FB_IMG_1587122819627.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-7827376859992585452</id><published>2020-04-17T16:24:00.000+05:00</published><updated>2020-04-17T16:24:47.676+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="میڈیکل سائنس"/><title type='text'> ہم جنس پرستی اور میڈیکل  سائنس ! Homosexuality </title><content type='html'>ہم جنس پرستی اور سائنس !&lt;br /&gt;
#Homosexuality and science!&lt;br /&gt;
________________________________&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ازقلم : حسن خلیل چیمہ&lt;br /&gt;
________________________________________________&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک وقت تھا جب الحاد فلسفے کا سہارا لے کر لوگوں کو انکار خدا پر قائل کرتا اور مذہب کو قدامت پرست سوچ اور دقیانوسی کہہ کر رد کرتا لیکن الحاد کا یہ وار کامیاب نہیں ہوا اور الحاد نے پھر سائنس کا سہارا لیا اور نامکمل سائنسی علم کی آڑ میں مذہب مخالف تحریک شروع کی جس کی ایک وجہ عیسائیت میں تعصب پرستی اور بائبل کی تحریف شدہ سائنس سے متصادم عبارات تھیں یہی وجہ تھی کہ مغرب میں پہلے پہر سائنسی علم کی ترویج کرنے والے کو موت تک کی سزا سنائی جاتی اور ہزاروں سائنس دان موت کی بھینٹ چڑھا دیئے گئے جبکہ دوسری طرف مسلمانوں نے سائنسی علم کو آزادی سے پروان چڑھایا اور سائنسی علم کی بنیاد رکھی جو بعد میں مغرب کیسے منتقل ہوا یہ ایک لمبی تاریخ ہے یہاں ہم سائنس اور الحاد کی بات کریں گے تو الحاد نے جب شروع میں سائنس کا سہارا لیا تو بعد میں سائنس کے نام پر بہت سے خود ساختہ نظریات بھی گھڑ لئے جس کی سادہ سی مثال ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جو کہ نامکمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سائنسی نظریہ ہے لیکن الحاد نے اس کو انکار خدا کی بنیاد بنا لیا اور یوں ایک پوری صدی ہونے کو ہے کہ الحاد ڈارون کے نامکمل سائنسی نظریے کی بنیاد پر مذہب کا رد کرنے پر بضد ہے جبکہ جدید سائنس اس کی تردید کرتی نظر آتی ہے اور ہزاروں نئی ریسرچز نظریہ ارتقاء کے رد میں پبلس ہو چکی ہیں اور سینکڑوں سائنسدانوں نے اس کو بوکس قرار دیا اور دستبردار ہو چکے ہیں لیکن الحادی آج بھی انکار خدا کرتے وقت اس کو دلیل بناتے ہیں جوکہ ان کی کم علمی اور سائنسی علم کو اپنی تعصب پرستی کے لئے استعمال کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ ایسا ہی آج کل پاکستان میں ہو رہا ہے اور ہوتا آ رہا ہے لیکن اب یہ چیز کچھ حد سے بڑھ گئی ہے ۔ اس جدید سائنسی دور اور ذرائع ابلاغ کے ہوتے ہوئے جہاں آپ کسی کو آسانی سے گمراہ نہیں کر سکتے وہیں کچھ زیادہ تر افراد کی تعداد ایسی ہے جو آسانی سے گمراہ ہو جاتے ہیں مطلب وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے اور کسی دو ٹکے کے قلم کار کی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بات کو سائنس کے رائپر میں لپیٹ کر جو ان کے ذہنوں میں ٹھونستا ہے ۔&lt;br /&gt;
کچھ ایسا ہی پچھلے دنوں مشت زنی کو لے کر کیا گیا جب ایک غیر اخلاقی عمل کو سائنس سے درست ثابت کیا گیا جبکہ اس کے بہت سے سائنسی پہلو اور نقصانات کو چھپایا گیا جبکہ ایلوپیتھی کی بے بسی کو بڑھا چڑھا کہ پیش کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی گائے بھینس کے انسانی جسم پر خودساختہ نقصانات پر بھی بات کی گئی جو کہ خالصتا سوڈوسائنس تھی جس کا در میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب حال ہی میں ہم جنس پرستی کو پرموٹ کیا جا رہا ہے اور ایسے ایک مکمل سائنسی عمل کہا جا رہا ہے جبکہ پاکستانی لوگوں کو قدامت پرست کہا گیا تو دوسری طرف مذہب پر حلال حرام کئے جانے پر بھی خاصی تنقید کی گئی جبکہ وہاں مذہب پر بات کرنے پر پابندی ہے لیکن مسلمانوں کے لئے!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
برحال ہم جنس پرستی کے سائنسی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو پہلے اس کو ارتقاء سے جوڑا جاتا تھا اور Gay Gene کا کہہ کر کہا جاتا کہ یہ ایک ارتقائی اور فطری عمل ہے جبکہ جدید سائنس نے اس بات کو مکمل غلط ثابت کیا ۔ جس کا رد صہیب زبیر بھائی کی اس پوسٹ میں سائنسی پیپرز اور آرٹیکل سے بہت پہلے گیا جا چکا ہے الحمداللہ 👇&lt;br /&gt;
https://m.facebook.com/groups/1191878070977827?view=permalink&amp;amp;id=1351698364995796&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ویسے ہم جنس پرستی کے رد پہ اوپر دی گئی پوسٹ ہی کافی ہے ۔&lt;br /&gt;
لیکن پھر بھی لوگوں کی تسلی کے لئے میں یہاں کچھ مزید سائنسی پہلو اجاگر کرنا چاہوں گا اور بتانا چاہوں گا کہ کیسے سائنس کی آڑ میں سوڈو سائنس پھیلائی جا رہی ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں !&lt;br /&gt;
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ہر برائی کی شروعات معزز کہلائے جانے والے مغربی معاشرے سے ہوتی ہے جو ہر وہ غیر فطری اور غیر اخلاقی حرکت کرتے ہیں جس سے ان کو مزہ آتا ہوں یا تسکین ملتی ہو پھر وہ نشہ آوار اور خطرناک ڈرگر ہوں یا پھر اپنے جسم کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ جبکہ یہ جانتے ہوئے کہ اس کے خطرناک نتائج بھگتنے پڑھ سکتے ہیں پھر بھی وہ باز نہیں آتے اور اپنے نفس کی تسکین کے لئے وہ کر گزرتے ہیں !&lt;br /&gt;
ایسا ہی ایک عمل ہم جنس پرستی ہے جس کو لے کر میڈیکل سائنس بہت سے خدشات کا اظہار کرتی ہے لیکن پھر بھی ہم جنس پرستوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ان کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے مغرب میں ان کو LGBTIQ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ لوگ ایک تنظیم کی طرح کام کرتے ہیں اس کے علاوہ پرونوگرافی اور برہنہ احتجاجوں وغیرہ میں بھی انھیں لوگوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
برحال یہ تو ان کا ہلکا سا تعارف تھا اب بات کرتے ہیں کہ ہم جنس پرستی کے نقصانات کیا ہیں اور میڈیکل سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے&lt;br /&gt;
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4957661/&lt;br /&gt;
اوپر دیئے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانس جینڈر خواتین (وہ خواتین جنہوں نے جنس کی تبدیلی کی ہو) میں ایچ آئی وی انفیکشن کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4771012/&lt;br /&gt;
اوپر دیئے آرٹیکل بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرستی کسی قسم کی کوئی دماغی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ نارمل سے ہٹ کر ایک جنسی رویہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جینیاتی بیماری ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔&lt;br /&gt;
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4957774/&lt;br /&gt;
اوپر دیئے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں میں ایک جنسی طور پر پھیل سکنے والی بیماری syphilis کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC5219803/&lt;br /&gt;
اوپر دیئے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں میں سائیکولوجیکل معاشرتی مسائل کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4601552/&lt;br /&gt;
اوپر دیئے آرٹیکل کے مطابق امریکی کالے مردوں میں ایچ آئی وی ایڈ کی شرح ان مردوں میں بہت زیادہ ہے جو ہم جنس پرست رہے ہیں۔ ہم جنس پرستی ایڈز کی بیماری پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سب سے پہلے ایڈز دریافت بھی ہم جنس پرست مردوں میں ہوئی تھی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاؤہ ہم جنس پرستی پر مزید کچھ سینکڑوں آرٹیکل موجود ہیں جو اس کو ایک برائی اور بری لت ہے لیکن پھر بھی ہمارے دیسی لبرل اور دیسی سائنسدان اس کو مشت زنی کی طرح ایک صحت بخش اور اچھی عادت قرار دیتے ہیں بنا سائنس کو پڑھے اور سمجھے جبکہ کہنے کو ان کی ہر بات کی بنیاد سائنس پر رکھی جاتی جبکہ حقیقتاً یہ لوگ سوڈوسائنس بیان کرتے اور کسی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ۔ ان کا ایجنڈا سائنس کی ترویج بلکل بھی نہیں بلکہ سائنس کے نام پر بے حیائ اور غیر اخلاقی حرکات کو عام کرنا ہے اور مسلم معاشرے کو اخلاقی نقصان پہنچانا ہے جس کے لئے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جبکہ بات رہی سائنس کی تو آپ نے دیکھ ہی لیا کہ سائنس ان کے کسی دعوے کو سپورٹ نہیں کرتی بلکہ ارتقاء ، مشت زنی ،گائے بھینس کے دودھ کے نقصانات اور اب ہم جنس پرستی پر بھی ان کے سوڈو سائنس نظریات کا رد کرتی نظر آتی ہے ۔&lt;br /&gt;
امید کرتا کہ آپ ایسے سائنسی جاہلین کی حوصلہ شکنی کریں گے اور ایسے افراد کے خلاف آواز اٹھائیں گے جو سائنس کے نام پر سوڈوسائنس پھیلاتے اور سائنسی علم کو داغدار کرنے پر تلے ہیں اگر کسی کو مغربی تقلید کا زیادہ ہی شوق ہے تو وہ مغرب چلا جائے ہمارے معاشرے کو سائنس کے نام پر برباد مت کرے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم جنس پرستی کے نقصانات پر کچھ مزید آرٹیکل کا لنک ذیل میں دیا گیا ہے&lt;br /&gt;
https://www.google.com/url…&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
https://www.google.com/url…&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
https://www.google.com/url…&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
امید کرتا ہوں کہ آپکو اس تحریر سے کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہو گا ۔&lt;br /&gt;
انشاء اللہ زندگی رہی تو پھر ایسے ہی موضوعات ہر لکھتا رہوں گا ۔&lt;br /&gt;
اللہ نگہبان 🖤&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjYuxHV0UzhbcES_vNRM5-JgTXCsL6jKC0dKIzoxkiO1xI3OeGiSW4-Sld6fcdRjIX3fbQziMPrsPkh_U4DsPJ_-RF1g7HQotxt8ODziBZm8s0RzYb6JyQibDK_BHNWGjV4NwvhjvUEE3XN/s1600/FB_IMG_1587122541982.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;583&quot; data-original-width=&quot;680&quot; height=&quot;548&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjYuxHV0UzhbcES_vNRM5-JgTXCsL6jKC0dKIzoxkiO1xI3OeGiSW4-Sld6fcdRjIX3fbQziMPrsPkh_U4DsPJ_-RF1g7HQotxt8ODziBZm8s0RzYb6JyQibDK_BHNWGjV4NwvhjvUEE3XN/s640/FB_IMG_1587122541982.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/7827376859992585452/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/homosexuality.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/7827376859992585452'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/7827376859992585452'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/homosexuality.html' title=' ہم جنس پرستی اور میڈیکل  سائنس ! Homosexuality '/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjYuxHV0UzhbcES_vNRM5-JgTXCsL6jKC0dKIzoxkiO1xI3OeGiSW4-Sld6fcdRjIX3fbQziMPrsPkh_U4DsPJ_-RF1g7HQotxt8ODziBZm8s0RzYb6JyQibDK_BHNWGjV4NwvhjvUEE3XN/s72-c/FB_IMG_1587122541982.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-787786421977789655</id><published>2020-04-15T18:08:00.000+05:00</published><updated>2020-04-15T18:08:22.338+05:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>#پانی_کا_بے_قائدہ_پھیلاؤ&lt;br /&gt;
(Anomalous expansion of water)&lt;br /&gt;
۔ ایک عام سا سوال ہے کہ&amp;nbsp; جب قطب جنوبی اور قطب شمالی&amp;nbsp; پر انتہا کی ٹھنڈ ہوتی ہے تب آبی حیات کیسے زندہ رہ سکتی ہے۔۔۔ ؟&lt;br /&gt;
جب کہ وہاں کے سمندر ، تالاب اور جھیلیں جم جاتی ہیں۔۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp; ہمارا آج کا موضوع پانی کی ایک بے قائدہ خصوصیت کے متعلق ہے ، جو آبی حیات کے لئے قدرت&amp;nbsp; کا ایک تحفہ ہے ۔ اگر پانی اس خصوصیت کا حامل نا ہوتا تو ہماری آبی حیات ہمارے ساتھ نہیں رہتی۔۔۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;---------------------------------&lt;br /&gt;
پانی ضرورت زندگی ہونے&amp;nbsp; کے ساتھ ساتھ غیر معمولی خصوصیات کا حامل&lt;br /&gt;
بھی ہے ۔&lt;br /&gt;
آپ سب کو پتا ہوگا کہ مادے کی&amp;nbsp; تین حالات ہیں ان حالات&amp;nbsp; میں سے مائع کو جتنا گرم کیا جائے گا ، وہ پھیلتا ہی جائے گا ، اور آخر کار ابلنے کے بعد بخارات میں تبدیل ہو جائے گا۔&lt;br /&gt;
ایسے ہی گرم کرنے پر کثافت کم اور ٹھنڈا کرنے پر بڑھتی ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;مائع کو جتنا ٹھنڈا کیا جائے گا ، سکڑتا جائے گا ، اور آخرکار نقطئہ انجماد پر پہنچ کر جم جائے گا ۔زیادہ تر مائعات ایسے ہی کرتے ہیں کہ وہ گرم کرنے پر پھیلتے ہیں اور ٹھنڈا کرنے پہ سکڑتے ہیں۔ ( یہاں پھیلنے/سکڑنے سے مراد لمبائی ، چوڑائی اور موٹائی میں سکڑنا/پھیلنا ہے ، اس پھیلاؤ/سکڑنے کو مقدار میں پھیلاؤ/سکڑنا نہیں سمجھا جا سکتا)&lt;br /&gt;
&amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;
دیگر مائعات کی طرح اگر پانی کو گرم کیا جائے گا ، وہ پھیلنا شروع کردے گا اور آخرکار ابلنے کے بعد بخارات میں تبدیل ہو جائے گا ۔&lt;br /&gt;
پانی کو ٹھنڈا کیا جائے گا ، وہ سکڑنے لگے گا لیکن جب پانی کو ٹھنڈا کرتے ہوئے درجہ حرارت 4 اور 0 سینٹی گریڈ کے درمیان&amp;nbsp; پہنچے گا تب پانی سکڑنے کے بجائے پھیلنا شروع کردے گا ، اور اس وقت پانی کی کثافت کم ہوجائے گی۔&lt;br /&gt;
0 سینٹی گریڈ پر یعنی نقطئہ انجماد پر پانی میں مالیکیولر حرکت بند ہو جاتی ہے ، اور پانی جم جاتا ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;پانی کی اس غیر معمولی خصوصیت کی وجہ پانی کے مختلف مالیکیولز میں ھائیڈروجن بائڈگ کا ہونا ہے ، کیونکہ آکسیجن کے ائٹمز مائنس چارج رکھتے ہیں اور ھائیڈروجن کے ائٹمز پلس چارج رکھتے ہیں۔۔۔&lt;br /&gt;
-------&lt;br /&gt;
برف پانی کے اوپر کیوں تیرتی ہے۔۔۔؟&lt;br /&gt;
جب پانی برف بنتا ہے تب ، پانی کے مالیکیولز کرسٹل لیٹس کی شکل میں اس طرح جڑتے ہیں کہ بنسبت مائع کے ان کے درمیان کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور برف کی کثافت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے برف پانی پر تیرنے لگتی ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;سرد علاقوں میں آبی حیات کیسے زندہ رہتی ہے۔۔۔۔؟&lt;br /&gt;
-------------------------&lt;br /&gt;
پانی کا بے قائدہ پھیلاؤ آبی حیات&amp;nbsp; کے لئے قدرت کا ایک تحفہ ہے ۔&lt;br /&gt;
جب پانی کو ٹھنڈا کرتے ہیں تب وہ چار ڈگری سینٹی گریڈ تک سکڑتا ہے ۔ لیکن جب اس کو چار ڈگری سے نیچے ٹھنڈا کریں گے تو وہ سکڑنے کے بجائے پھیلنا شروع کردے گا ۔&lt;br /&gt;
جب پانی چار ڈگری سے نیچے ٹھنڈا ہوگا تب وہ پھیلے گا اور جو چیز پھیلتی ہے وہ ہلکی ہوجاتی ہے ۔ ہلکا ہونے کی وجہ یہ پانی کسی تالاب یا سمندر میں نیچے نہیں جائیگا بلکہ اوپر رہے گا اور زیرو ڈگری تک پہنچ کر جم جائے گا ۔&lt;br /&gt;
اب اوپر برف بن جائے گی اور برف ایک اچھا موصل (insulator) ہے اور وہ نیچے کے پانی کی حرارت کو باہر نہیں جانے دے گا ۔&lt;br /&gt;
نتیجتاً نیچے والا پانی نہیں جمے گا اور ایسے ہی آبی حیات اس پانی میں رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;ہالیپوٹہ آفتاب&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/787786421977789655/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_48.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/787786421977789655'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/787786421977789655'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_48.html' title=''/><author><name>Unknown</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-5602465122658060467</id><published>2020-04-15T12:02:00.001+05:00</published><updated>2020-04-15T12:02:19.830+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="فلاسفی آف سائنس"/><title type='text'>فلاسفی آف سائنس (پہلا حصہ ) </title><content type='html'>فیس بک کے پاکستانی سائنس گروپس میں دو سوال ایسے&amp;nbsp; ہیں جو بار بار سامنے آتے ہیں۔&lt;br /&gt;
1.&amp;nbsp; کیا سائنس اور اسلام کا موازنہ کیا جا سکتا ہے&lt;br /&gt;
2.&amp;nbsp; نظریہ حیاتیاتی ارتقاء کی حقیقت کیا ہے۔&lt;br /&gt;
مجھے لگتا ہے کہ ان دونوں سوالوں کی حقیقت تک تب تک نہیں پہنچا جا سکتا جب تک ہم ایک بنیادی سوال &quot;سائنس بذات خود کیا چیز ہے اور کس حد تک مستند ہے&quot; کو اچھی طرح سے نہ سمجھ لیں۔ فلاسفی آف سائنس کی یہ سیریز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سائنس کے طالب علموں کے لیے تو یہ سلسلہ مددگار ہو گا ہی لیکن اگر آپ لوگ اوپر دئیے گئے دو سوالوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کو خاص طور پر یہ سلسلہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مضمون تھوڑا خشک محسوس ہو لیکن میں امید کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ ختم کرنے کے بعد سائنس کی حقیقت کے بارے میں آپ کے نکتہ نظر میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔&lt;br /&gt;
یہ سلسلہ لکھنے کے لئے میں نے ایلن چالمرز کی کتاب&lt;br /&gt;
What is this thing called science&lt;br /&gt;
سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فلاسفی آف سائنس&lt;br /&gt;
قسط نمبر 1&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تحریر: ڈاکٹر محمد رحمان&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ ہماری خوش قسمتی کہئے یا بدقسمتی، آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سائنس کو ہماری زندگی میں ایک کلیدی اہمیت حاصل ہے اور شاید ہی زندگی کا کوئی شعبہ&amp;nbsp; ایسا بچا ہو جہاں سائنس نے اپنا اثرنہیں چھوڑا۔ حتی کہ آج لوگ مذاہب کی سچائی پرکھنے کے لئے بھی سائنس کو&amp;nbsp; پیمانہ بنائے بیٹھے ہیں۔ پچھلے تین سو سال میں&amp;nbsp; فزکس کے شبعے میں کی گئی&amp;nbsp; بے انتہا ترقی&amp;nbsp; نے انسانیت کو اپنے حصار میں گرفتار کر لیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ&amp;nbsp; &amp;nbsp;ہر&amp;nbsp; اس چیز&amp;nbsp; پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے لگے ہیں&amp;nbsp; &amp;nbsp; جس پر سائنس کا لیبل چسپاں کر دیا جائے ۔ اس ضمن میں دو سوال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں&lt;br /&gt;
وہ کونسا طریقہ&amp;nbsp; کار ہے جسے اپنا کر سائنس دان فزکس کے شعبے میں اس قدر ترقی کے قابل ہوئے ؟&lt;br /&gt;
کیا اس طریقہ کار کو&amp;nbsp; دوسرے سائنسی&amp;nbsp; علوم جیسے بیالوجی، سائیکولوجی اور عمرانیات جیسے شعبوں میں لاگو کیا جا سکتا ہے؟&lt;br /&gt;
ان سوالات کے جواب جاننے کے لئے ہمیں سائنسی طریقہ کار&amp;nbsp; &amp;nbsp;کو&amp;nbsp; انتہائی باریک بینی سے جانچنے کی ضرورت ہے ۔اس مقصد کے لئے بارہا ہمیں ماضی میں جا کر ان مراحل کو کھنگالنا پڑے گا جن سے گزر کر ارسطو، گیلیلیو، نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے سائنس دان&amp;nbsp; فزکس کو اس کے موجودہ مقام پر لانے کے قابل ہوئے ۔اس تحریر میں ہم نہ صرف اوپر ذکر&amp;nbsp; کئے گئےسوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کریں گے کہ کیا&amp;nbsp; ایسے عالمگیر&amp;nbsp; &amp;nbsp;اصول وضع کیے جا سکتے ہیں جو سائنس کے دوسرے شعبوں کے لئے بالکل اسی طرح&amp;nbsp; کارآمد ہوں&amp;nbsp; جس طرح وہ فزکس کے لئےکار آمد ہیں۔ جیسے جیسے آپ اس تحریر کو پڑھتے جائیں گے آپ کو&amp;nbsp; اندازہ ہوتا جائے گا کہ&amp;nbsp; سائنسی طریقہ کار کے لئےایسے عالمگیر اصول وضع کرنا&amp;nbsp; جو تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہو سکیں ناممکن ہے۔&amp;nbsp; &amp;nbsp;یہاں سوال یہ&amp;nbsp; پیداہوتا ہے کہ&amp;nbsp; اگرفزکس&amp;nbsp; کی ترقی میں اپنائے گئے&amp;nbsp; &amp;nbsp;اصول سائنس&amp;nbsp; کے&amp;nbsp; دوسرےشعبوں کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے&amp;nbsp; توکیا ان شعبوں کے علوم&amp;nbsp; اتنے ہی مستند ہیں جتنے کہ فزکس کے علوم؟ کیا ہم&amp;nbsp; دوسروں شعبوں میں پیش کئےگئے نظریات کا موازانہ فزکس کے نظریات یا قوانین سے کر سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;سائنس کے بارے میں مشہور ہے کہ سائنس حقائق سے اخذ کئے گئے علم کا نام ہے یعنی یہ ایسا علم ہے جو کسی کی ذاتی آرا پر مبنی نہیں بلکہ مشاہدے اور تجربات سے اخذکیا جاتا ہے۔ سائنس کی یہ تعریف خود میں اتنی کشش رکھتی ہے کہ کچھ لوگ سائنس کو ہر مرض کی دوا سمجھے بیٹھے ہیں ۔ سائنٹزم کے شکار ان افراد کے لئے&amp;nbsp; علم کے دوسرے ذرائع بالکل اہمیت نہیں رکھتے مگر دوسری طرف&amp;nbsp; پاؤل فیئرابینڈ جیسے فلاسفرز کے لئے سائنسی طریقہ کار میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اسے دوسرے علوم سے ممتاز کرے۔ اس کی نظر میں سائنس ایک جدید مذہب کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں سائنسی نظریات کا چناؤ انفرادی خواہشات کے تابع ہے۔ اگرچہ&amp;nbsp; &amp;nbsp;میری نظر میں فیرابینڈ&amp;nbsp; نے&amp;nbsp; ضرورت سے زیادہ سخت رویہ اختیار کیا ہے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مشاہدہ اور اسکی بنیاد پر کیا گیا منطقی استدلال&amp;nbsp; ایک محدود صلاحیت کا حامل&amp;nbsp; ہے۔&lt;br /&gt;
مشاہداتی بیانات&lt;br /&gt;
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سائنسی سفر میں پہلا مرحلہ مشا ہدہ ہے&amp;nbsp; &amp;nbsp;چنانچہ سائنس کی بنیاد مشاہداتی بیانات ہیں لیکن&amp;nbsp; عام طور پر مشاہداتی بیانات کو ہی&amp;nbsp; حقائق سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کونسی خاصیتیں ہیں جن کی بنا پر ہم کہہ سکیں کہ یہ مشاہدات سائنسی علم کی بنیاد بننے کے قابل ہے؟ اس سلسلے&amp;nbsp; میں&amp;nbsp; ہم یہ دیکھنا&amp;nbsp; چاہیں گے کہ&amp;nbsp; &lt;br /&gt;
1. مشاہداتی بیانات&amp;nbsp; کے اخذ کرنے میں ظاہری حواس کا کردار کس حد تک ہے اور اس کام کے لیے کتنی احتیاط اپنائی گئی ہے؟&amp;nbsp; کیا یہ مشاہدات موضوعی ہیں یا معروضی اور ان کو اخذ والے جانبدار سوچ کے حامل تو نہیں؟&lt;br /&gt;
2. کیا یہ مشاہداتی بیانات&amp;nbsp; اس قابل ہیں کہ سائنسی علوم کو ناقابل تردید بنیاد فراہم کر سکیں؟&lt;br /&gt;
3. کیا مشاہداتی بیانات نظریہ&amp;nbsp; قائم کرنے سے پہلے اخذ کئے گئے ہیں اور کہیں یہ حقائق نظریہ پر انحصار&amp;nbsp; تو نہیں کرتے؟&lt;br /&gt;
متعدد مثالوں سے یہ بات واضح کی جا سکتی ہے کہ&amp;nbsp; ایک ہی جگہ سے ایک جیسا منظر دیکھ کر بھی&amp;nbsp; دو مشاہدہ کرنے والوں کا ادراک مختلف ہو سکتا ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے مائیکل پولانی ایکسرے اور میڈیکل کے طالب علم کی مثال دیتے ہیں کہ&amp;nbsp; شروع میں جب ایک طالبعلم سینے کے ایکسرے فوٹوگراف کا مشاھدہ کرتا ہے تو اسے صرف دل اور پسلیاں نظر آتی ہیں۔ مگر کچھ ہفتے تک&amp;nbsp; اس شعبے کے ماہرین کو اس گراف کے بارے میں بات کرتے ہوئے سننے کے بعد وہ&amp;nbsp; &amp;nbsp;طالب علم اس قابل ہو جاتا ہے کہ&amp;nbsp; ایکسرے میں موجود&amp;nbsp; مختلف&amp;nbsp; بیماریوں کی نشانیاں پہچان سکے۔ جیسے جیسے اس طالب علم کا تجربہ بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی توجہ دل اور پسلیوں کی بجائے&amp;nbsp; ایکسرے میں موجود تفصیلات کی طرف مرکوز ہو جاتی ہے ۔ کسی شعبے میں ایک نئے&amp;nbsp; آنےوالے شخص کے مقابلے میں اس شعبے کےماہر کاریگر&amp;nbsp; کا ادراک مختلف ہو سکتا ہے۔ ان تفصیلات کی روشنی میں&amp;nbsp; یہ واضح ہو چکا ہے کہ کسی مشاہدے کا ادراک&amp;nbsp; حواس کے ساتھ ساتھ مشاہد کی ذہنی حالت اور علمی پس منظر پر بھی منحصر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ&amp;nbsp; مشاہدے میں حواس کی اہمیت نہیں رہتی۔ مشاہد کی ذہنی حالت، ان کے پرانے تجربات اور احساسات مشاہدات پر کس حد تک اثر اندا ز ہوتے ہیں یہ ابھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ حواس&amp;nbsp; &amp;nbsp;پر اخذ کئے گئے مشاہداتی بیانات کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن&amp;nbsp; اوپر کی گئی گفتگو سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ اس طرح اخذ کئے گئے&amp;nbsp; حقائق اتنے بھی قابل اعتبار نہیں کہ ان پر آنکھیں بند کر کے ہی&amp;nbsp; یقین&amp;nbsp; کر لیا جائے ۔&lt;br /&gt;
مشہور زمانہ ناول شرلاک ہومز کے مصنف سر آرتھر&amp;nbsp; ڈوئل&amp;nbsp; سے ایک قول منسوب کیا جاتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ” حقائق اکھٹے کرنے سے پہلے کسی چیز کے بارے میں نظریہ قائم کرنا ایک بہت بڑی حماقت ہے ۔ اس طرح کرنے سے&amp;nbsp; &amp;nbsp;آپ لاشعوری طور پر حقائق کو نظریے کے حق میں ڈھالنا شروع کر دیتے ہیں&amp;nbsp; جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ نظریے کو حقائق کے مطابق ڈھالا جائے “۔&amp;nbsp; &amp;nbsp; تمام حقائق اکھٹے کئے بغیر نظریہ قائم کر لینا جانبداری کا باعث بن سکتا ہے اور آپ ان تفصیلات&amp;nbsp; کو لاشعوری طور&amp;nbsp; صرف نظر کر سکتے ہیں جو آپ کے قائم کردہ نظریہ سے مطابقت نہ رکھتیں ہوں۔ چنانچہ اس طرح حاصل کیا علم&amp;nbsp; شک و شبے سے پاک نہیں ہو سکتا۔ نظریہ قائم کرنے سے پہلے حقائق اکھٹے کرنا انتہائی اہم ہے لیکن کیا ایسا کرنا عملی طور پر ممکن ہے؟&amp;nbsp; پیچھے کی گئی گفتگو سے شاید آپ خود ہی اس نتیجے تک پہنچ چکے ہوں گے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں۔ خاص طور سائنس کے میدان میں تو بالکل بھی نہیں۔&amp;nbsp; حقائق اخذ کرنے کے لئے&amp;nbsp; ایک خاص علمی پس منظر کا حامل ہونا ضروری&amp;nbsp; ہے لیکن یہ علمی پس منظر حقائق اخذ کرنے میں جانبداری کا باعث بن سکتا ہے۔ حقائق اخذ کرنے کے لئے خاص علمی پس منظر کی موجودگی کس حد تک حقائق پر اثر انداز ہوتی ہے&amp;nbsp; یہ ایک حل طلب مسلہ ہے لیکن تمام حقائق اکھٹا کئے بغیر نظریہ قائم کر لینا جانبداری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حقائق اخذ کرنے کے لئے استعمال کئے گئے علمی پس منظر میں کوئی خامی موجود ہے تو&amp;nbsp; ان اخذ کردہ حقائق میں بھی خامی موجود ہو گی مثال کے طور پر ایک وقت تھا جب یہ مشاھداتی&amp;nbsp; بیان کہ ”زمین ساکن ہے“&amp;nbsp; ایک تسلیم شدہ حقیقت مانا جاتا تھا کیونکہ&amp;nbsp; ہم زمیں کو حرکت کرتا ہوا محسوس نہیں کر سکتے نہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ جب ہم زمیں سے اوپر اچھلتے ہیں تو&amp;nbsp; ہمارے نیچے موجود&amp;nbsp; زمیں&amp;nbsp; آگے کی طرف نہیں سرکتی بلکہ ہم عین اسی جگہ واپس گرتے ہیں&amp;nbsp; جہاں&amp;nbsp; سے چھلانگ لگائی ہو۔آج ہم جانتے ہیں کہ&amp;nbsp; مشاہداتی&amp;nbsp; بیاں&amp;nbsp; ”زمین ساکن ہے“ ہمارے مشاہدے کے عین مطابق ہونے کے باوجود ٹھیک نہیں۔ تو وہ کونسی ایسی چیز تھی جس&amp;nbsp; کی وجہ سے ہم&amp;nbsp; مشاہدے سے غلط حقیقت اخذ کر بیٹھے؟ اگر وجہ پر باریک بینی سے غور کیا جائے تو ہم جان سکتے ہیں کہ یہاں علمی پس منظر میں خامی ہمارے آڑے آئی۔ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر&amp;nbsp; زمیں ساکن نہیں تو کسی جسم کو ہوا میں اچھالنے کے دوران زمیں کو حرکت کر کے آگے سرک جانا چاہئے&amp;nbsp; نتیجتا ہوا میں اچھالے جانے والا جسم اس جگہ سے دور گرنا چاہئے جہاں سے اسے اچھالا گیا ہو۔ آج جمود کی خاصیت کی بنا پر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ&amp;nbsp; زمیں کی حرکت کے باوجود وہ جسم عین اسی جگہ پر کیوں گرتا ہے جہاں سے اسے اچھالا گیا ہو۔&lt;br /&gt;
جمہور کی نظر میں سائنس کو ایک خاص مقام اس لئے&amp;nbsp; حاصل ہے کیونکہ یہ حقائق سے اخذ کیا گیا علم ہے لیکن&amp;nbsp; مشاہدے کا حواس کے ساتھ ساتھ ذہنی حالت اورعلمی پس منظر&amp;nbsp; پر انحصار اور مشاہداتی&amp;nbsp; بیانات کا نظریہ پر انحصار&amp;nbsp; کچھ ایسے عوامل ہیں جو&amp;nbsp; مشاہدات میں غلطی کے امکانات پر دلالت کرتے ہیں لیکن خوش آئند&amp;nbsp; &amp;nbsp;بات یہ&amp;nbsp; &amp;nbsp;ہے کہ&amp;nbsp; مشاہداتی بیانات کا تفصیلی جائزہ لے کر ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور ایسے&amp;nbsp; &amp;nbsp;اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں جوان ممکنہ خامیوں کو ختم یا کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ ان اقدامات کی تفصیل میں جائے بغیر&amp;nbsp; مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشاہداتی بیانات یا حقائق&amp;nbsp; جن کی بنا پر&amp;nbsp; سائنس کی عمارت کھڑی کی جا سکے انہیں لازمی طور پر اس قابل ہونا چاہئیے کہ&amp;nbsp; ان بیانات کو&amp;nbsp; حواس&amp;nbsp; &amp;nbsp;کے براہ راست&amp;nbsp; استعمال سے جانچا جاسکے۔ مکمل جانچ پڑتال&amp;nbsp; کے بعد ہی&amp;nbsp; ان بیانات کو سائنس کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔&amp;nbsp; یہاں براہ راست سے مراد یہ ہے کہ مشاہداتی بیانات کو پرکھنے کے لئے جو&amp;nbsp; معیار وضع کیا گیا ہے وہ قابل عمل ہو اور اس کے نتائج موضوعی&amp;nbsp; نہ ہوں یعنی&amp;nbsp; کسی&amp;nbsp; کی انفرادی رائے پر انحصار نہ کر تے ہوں۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اگرچہ ہم ایسے معیار وضع کر سکتے ہیں کہ مشاہداتی بیانات&amp;nbsp; موضوعی نہ رہیں&amp;nbsp; اور&amp;nbsp; معروضی&amp;nbsp; حقائق کا درجہ حاصل کر لیں لیکن اس کے بعد بھی اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ حقائق&amp;nbsp; جانچ پڑتال کے نئے معیارات پر بھی پورا اتریں گے۔کوئی نہیں جانتا کہ آج کے معروضی حقائق کل&amp;nbsp; آنے والی&amp;nbsp; معلومات اور نت نئی ٹیکنالوجی&amp;nbsp; &amp;nbsp;کے بعد بھی حقائق ہی رہیں گے ۔ ان حقائق کے مستقبل میں غلط ثابت ہونے کے امکانات بحرحال موجود رہتے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ&amp;nbsp; ماضی میں حقیقت سمجھا جانے والا مشاہداتی بیان ”زمین ساکن ہے “&amp;nbsp; نئی معلومات اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر غلط ثابت ہو چکا ہے۔&lt;br /&gt;
مشاہداتی بیانات&amp;nbsp; کو اور زیادہ قابل اعتبار بنانے کے لئے اگلا قدم یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ ہم مشاہداتی&amp;nbsp; بیانات کی سچائی جاننے کے لئے تجربات وضع کریں۔ لیکن یاد رکھیئے کہ یہاں بات مشاہداتی&amp;nbsp; بیانات کی ہو رہی ہے۔ عام طور پر سائنسی ادب میں تجربات کی بات&amp;nbsp; مفروضے یا نظرئیے کی تجرباتی&amp;nbsp; تصدیق کے لئے جاتی ہے اور&amp;nbsp; مشاہداتی بیانات کی سچائی پرکھنے کے لئے تجربات کی اہمیت کو اتنا واضح نہیں کیا جاتا لیکن&amp;nbsp; اگر کچھ تجربات کر کے مشاہداتی بیانات پر ہمارا یقین پختہ ہوتا ہے تو اس میں حرج ہی&amp;nbsp; کیا ہے ؟ آخرکار ان بیانات کی بنیاد&amp;nbsp; پر ہی تو ہم نے سائنس کی عمارت کھڑی کرنی ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;قدرت میں موجود اکثر عوامل ایک سے زیادہ عناصر پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ فلاں عمل کسی عنصر پر کس حد تک انحصار کرتا ہے ایسا ہم تب تک نہیں کر سکتے جب تک باقی عناصر کے&amp;nbsp; اثرات ختم یا ممکنہ حد تک کم نہ کر دئیے جائیں۔ ظاہر ہے ان اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں&amp;nbsp; قدرتی عمل میں مداخلت کرنا ہو گی ۔ اور اسی مداخلت کا نام تجربہ ہے۔ مختصرا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدرت میں موجود&amp;nbsp; عوامل ، جو ہمیں مشاہداتی حقائق اخذ کرنے میں کارآمد&amp;nbsp; ثابت ہوں ، کی وضاحت و صراحت کے لئے ضروری ہے کہ&amp;nbsp; قدرتی عوامل میں مداخلت کر کے صرف اسی عنصر کے اثر کا مشاھدہ کیا&amp;nbsp; جائےجس کا ہم مطالعہ کرنا چاہتے ہیں اور باقی عناصر جو وقتی طور پر ہمارے مطالعہ میں شامل نہیں انکا اثر کم سے کم کر دیا جائے۔ ایسا کرنے سے ہمارے مشاہداتی&amp;nbsp; بیانات کا معیار قابل ذکر حد تک بڑھ جائے گا اور&amp;nbsp; ان میں&amp;nbsp; موجود خامیوں ،جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ، سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔مثال کے پر ارسطو کے زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ بھاری اجسام ہلکے اجسام کے مقابلے میں زیادہ رفتار&amp;nbsp; کے ساتھ نیچے کی طرف گرتے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ آپ اگر دو مختلف کمیت والے اجسام کو&amp;nbsp; کسی خاص بلندی سے ایک ساتھ نیچے گرائیں تو وہ&amp;nbsp; بیک وقت زمین سے ٹکرائیں گے۔ آپ&amp;nbsp; میں کچھ لوگ میرے ساتھ اختلاف کر کے یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ&amp;nbsp; اگر ایک کاغذ اور ایک کرکٹ بال کو اکٹھے گرایا جائے تو کرکٹ بال زمیں تک جلدی&amp;nbsp; پہنچ جائے گی۔ہم دونوں میں سے کس کا مشاہداتی&amp;nbsp; بیان ٹھیک ہے؟ اس&amp;nbsp; بات کا انحصار اس چیز پر ہے کہ ہم کس عمل کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ کسی چیز کے زمیں تک کے سفر میں ہوا کی رگڑ اور کشش ثقل&amp;nbsp; جیسے عوامل اس سفر کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں تو اگر آپ یہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں کہ&amp;nbsp; کشش ثقل&amp;nbsp; اس سفر کو کس&amp;nbsp; طرح متاثر کر رہی ہے تو ایسا&amp;nbsp; گرنے والے جسم پر ہوا کی رگڑ کے اثر کو زائل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔عام حالات میں اگرچہ ہمارا مشاہدہ یہی ہو گا کہ کرکٹ بال کاغذ سے زیادہ تیز رفتار کے ساتھ زمین کی طرف گرے گی لیکن اگر کسی طرح ہم ہوا کے اثر کو زائل کر دیں تو ہمارے مشاہدے میں خاطرخواہ بہتری آ سکتی ہے۔ یہی وہ کام ہے جو گلیلیو نے کچھ صدیاں پہلے کر کے یہ بتایاتھا کہ مختلف کمیت والے اجسام ایک جیسی رفتار کے ساتھ زمیں کی طرف گرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اب تک ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشاہداتی&amp;nbsp; بیانات&amp;nbsp; اخذ کرنے کے لئے محض حواس پر انحصار کرنے کی بجائے مختلف اقدامات سے ان بیانات کی ساکھ بہتر کی جا سکتی ہے ۔ ان اقدامات میں&amp;nbsp; قابل ذکر اقدام&amp;nbsp; تجربہ ہے&amp;nbsp; لیکن&amp;nbsp; بدقسمتی سے کچھ ایسے عوامل ہیں کہ تجربات کے بعد بھی مشاہداتی بیانات میں غلطی کے امکانات برقرار رہتے ہیں۔ اگر آپ تجربہ کرتے ہوئے مناسب احتیاطی تدابیر نہیں اپناتے، اگر آپ دوسرے عناصر کی ممکنہ مداخلت کم نہیں کر پاتے یا مداخلت کا صحیح اندازا لگانے میں غلطی کرتے ہیں،&amp;nbsp; جن آلات کو استعمال کرتے ہوئے پیمائش کی جا رہی ہے انکی صحیح پیمانہ بندی نہیں کر پاتے یا انکے کام کرنے کے اصول میں&amp;nbsp; کوئی خرابی ہے&amp;nbsp; تو یہ اور&amp;nbsp; اس طرح کے بہت سے عناصر&amp;nbsp; تجربے کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں چنانچہ ان تجربات کی بنیاد پر اخذ کئے گئے مشاہداتی&amp;nbsp; بیانات یا حقائق غلط ہو سکتے ہیں۔ ایک اور اہم چیز جو حقائق&amp;nbsp; میں غلطی کا باعث بن سکتی ہے وہ ہے تجربات کا نظریات پر انحصار ۔&lt;br /&gt;
(جاری ہے)&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiFA6_VzfI2_x0B2aHViPonhsZps5lXzrmyUSZNn9wEYMxtlnrNq6hDGE3kjOZ7dqqnmzrrNM-pByukwRYo4T0mlPYW1Ryk5Xzjsyif2eCgaXRGLtf2OCd2fy-E1qEHGgIepRll7QTl8cL-/s1600/FB_IMG_1586934027984.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;424&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;376&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiFA6_VzfI2_x0B2aHViPonhsZps5lXzrmyUSZNn9wEYMxtlnrNq6hDGE3kjOZ7dqqnmzrrNM-pByukwRYo4T0mlPYW1Ryk5Xzjsyif2eCgaXRGLtf2OCd2fy-E1qEHGgIepRll7QTl8cL-/s640/FB_IMG_1586934027984.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/5602465122658060467/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_74.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/5602465122658060467'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/5602465122658060467'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_74.html' title='فلاسفی آف سائنس (پہلا حصہ ) '/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiFA6_VzfI2_x0B2aHViPonhsZps5lXzrmyUSZNn9wEYMxtlnrNq6hDGE3kjOZ7dqqnmzrrNM-pByukwRYo4T0mlPYW1Ryk5Xzjsyif2eCgaXRGLtf2OCd2fy-E1qEHGgIepRll7QTl8cL-/s72-c/FB_IMG_1586934027984.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-4061859493440114177</id><published>2020-04-15T11:34:00.001+05:00</published><updated>2020-04-15T11:37:52.608+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="صحت و تندرستی"/><title type='text'>#Vitamins</title><content type='html'>&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgMFXP953siBzCXa6vfiti4S4IjC-FVOLnVsjiDi5ANbt0l9TL7PbRfYLStgJLDX4MlEA6pNH3Rp2c41c_gPsledxIO6HkPmrIW-OzwTUAEWBfGEhZF8SbTBDsMhDBUsRvH-_UhVjTr_roL/s1600/20200415112006.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;323&quot; data-original-width=&quot;454&quot; height=&quot;227&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgMFXP953siBzCXa6vfiti4S4IjC-FVOLnVsjiDi5ANbt0l9TL7PbRfYLStgJLDX4MlEA6pNH3Rp2c41c_gPsledxIO6HkPmrIW-OzwTUAEWBfGEhZF8SbTBDsMhDBUsRvH-_UhVjTr_roL/s320/20200415112006.jpg&quot; width=&quot;320&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
(آخری حصہ)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
•B6&lt;br /&gt;
وٹامن بی کمپلیکس گروپ میں&amp;nbsp; وٹامن B6 بھی شامل ہے۔ پروٹین ، چربی اور کاربوہائیڈریٹس کے میٹابولزم کے لئے وٹامن بی سکس کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ نیوروٹرانسمیٹرز اور خون کے لال خلیوں کے بننے کے لئے بھی اہم ہے۔&lt;br /&gt;
چونکہ انسانی جسم اس وٹامن کو اندرونی طور پر بنا نہیں پاتا۔ اس لئے مختلف غذائوں سے یہ وٹامن حاصل کی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;
وٹامن بی سکس ، ڈپریشن و پریشانی کے حالات میں سکون بخشتی ہے۔ کیونکہ یہ نیوروٹرانسمیٹرز بناتی ہے ۔ اس کی وجہ سے جذبات و&amp;nbsp; ہارمون سسٹم&amp;nbsp; بہتر ہوتا ہے اور نفسیاتی مسائل میں آرام ملتا ہے۔&lt;br /&gt;
آنکھوں کی حفاظت اور بہتری کے لئے بھی اہم ہے۔ وٹامن بی سکس کو ، آلو ، جگر ، مچھلی ، گوشت اور دیگر نشاستہ کی حامل خوراک سے حاصل کی جاسکتی ہے۔&lt;br /&gt;
•B12&lt;br /&gt;
انسانی جسم کے ہر سیل کو تھوڑ پھوڑ کے عوامل کے لئے وٹامن B12 کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈی این اے کی ترکیب( synthesis) ، فیٹس میٹابولزم اور چربی کی تیاری میں بھی اہم ہے۔&lt;br /&gt;
گوشت ، انڈے ، مچھلی ، مرغی اور ڈیری پراڈکٹس سے کثیر مقدار میں اس وٹامن کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;br /&gt;
عام طور پر انسانی معاشرے میں وٹامن B12 کی کمی ایک عام بات ہے۔&lt;br /&gt;
اس وٹامن کی کمی ، چہرے کے پہلے پڑ جانے (jaundice) ، کمزوری اور زبان کا پکنے(glossitis ) وغیرہ کا باعث بنتی ہے۔&lt;br /&gt;
• b9(folic acid)&lt;br /&gt;
فولک ایسڈ ایک مستحکم اور وٹامن بی نائن کا مصنوعی فارم ہے۔ فولک ایسڈ قدرتی طور پر غذائوں میں موجود نہیں ہوتا بلکہ اسے مصنوعی طور پر مختلف غذاؤں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس میں داخل کیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
بچپن ، حمل اور نوجوانی&amp;nbsp; میں جب انسانی بافتوں اور اعضاء کی گروتھ چل رہی ہوتی ہے تب فولک ایسڈ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ حاملہ خواتین کو خاص کر فولک ایسڈ کی سمپلیمنٹس دی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کے جینیاتی مواد کی تیاری بھی فولک ایسڈ کی محتاج ہے۔&lt;br /&gt;
یہ وٹامن بی سکس اور بی 12 کے ساتھ مل کر خون میں امائنوایسڈ (ہوموسسٹین) کی لیول کو توازن میں رکھتی ہے۔&lt;br /&gt;
اس وٹامن کی کمی ، گروتھ میں آہستگی ، زبان کے پکنے ، سانس کا چھوٹا پن (زیادہ لمبی سانس نا لے پانا) ، بھلکڑ ہوجانا اور ڈائریا کا باعث بنتی ہے۔۔۔۔&lt;br /&gt;
•b5(pantothenic acid)&lt;br /&gt;
پینٹوتھینک ایسڈ قدرتی طور پر کچھ غذاؤں میں پائی جاتی ہے اور اس کی سمپلیمنٹس بھی ملتی ہیں۔ اس کا سب سے اہم کام ، کو انزائمز اور (acyl carrier protein) کی تیاری ہے۔&lt;br /&gt;
مشرومز ، انڈے ، گوبی اور دودھ وغیرہ میں یہ وٹامن کثرت سے پائی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;
سستی ، ہاتھوں کی جلن ، پیروں میں درد اور نیند کے مسائل کی وجہ پینٹوتھینک ایسڈ کی کمی کو سمجھا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
•biotin(vitamin H , or b8)&lt;br /&gt;
بی وٹامنز اور خاص طور بایوٹن آپ کے نروس سسٹم ، بالوں ، چمڑی اور آنکھوں کے لئے انتہائی اہم ہے۔&lt;br /&gt;
حمل (پریگننسی) کی دوراں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ایمبریو کی نشونما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
حاملہ عورتیں اس کی قلت کا شکار بھی ہوسکتی ہیں ۔ بچے کی صحت اور نشونما کے لئے فولک ایسڈ اور بایوٹن خاصے اہم ہیں۔ مگر بایوٹن سمپلیمنٹس کی زیادتی متلی ، ہاضمہ کے مسائل اور حاملہ عورتوں کے بچے کی صحت کے لئے نقصاندہ ہوسکتی ہے۔&lt;br /&gt;
بایوٹن کے قدرتی ذرائع میں&amp;nbsp; انڈے کی زردی ، جیرانڈی کا گوشت ، خشک میوہ جات ، کیلے ، مشرومز اور گوبی شامل ہیں۔&lt;br /&gt;
اس وٹامن کی کمی ، بالوں کے گرنے ، گنجہ پن ، ناخنوں کی خرابی کا باعث ہے۔&lt;br /&gt;
-----------------------&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وٹامنز کو دو اہم اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے ، جن کے نام ترتیبوار( water soluble vitamins ) اور (fat soluble) ہیں۔&lt;br /&gt;
پانی میں حل پذیر وٹامنز کی اگر زیادہ مقدار لی جائے تو ، تو اس کی زیادہ مقدار پانی میں حل ہوکر پیشاب کے ذریعے خارج ہوجاتی ہے۔&lt;br /&gt;
اور اگر چربی میں حل پذیر وٹامنز کی زیادہ مقدار لی جائے&amp;nbsp; تو اس کی زیادہ مقدار چربی میں حل ہوکر جسم میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ اور انسان ضرورت کے وقت خود بخود استعمال کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پانی میں حل ہو جانے والی وٹامنز میں ،&lt;br /&gt;
وٹامن سی ، B¹ ، B² ، B³ ، B5 B6 اور فولک ایسڈ (B9) شامل ہیں۔&lt;br /&gt;
جبکہ چربی میں حل ہو جانے والی وٹامنز میں ، وٹامن اے ، وٹامن ڈی ، وٹامن ای اور وٹامن کے شامل ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ختم شدہ&lt;br /&gt;
: آفتاب ہالیپوٹہ&lt;br /&gt;
&lt;div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/4061859493440114177/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_76.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4061859493440114177'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4061859493440114177'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_76.html' title='#Vitamins'/><author><name>Unknown</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgMFXP953siBzCXa6vfiti4S4IjC-FVOLnVsjiDi5ANbt0l9TL7PbRfYLStgJLDX4MlEA6pNH3Rp2c41c_gPsledxIO6HkPmrIW-OzwTUAEWBfGEhZF8SbTBDsMhDBUsRvH-_UhVjTr_roL/s72-c/20200415112006.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-8717087787149025895</id><published>2020-04-15T11:29:00.000+05:00</published><updated>2020-04-15T11:38:53.844+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="صحت و تندرستی"/><title type='text'>#Vitamins</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhxs9xayfOn7BgX1hAXthbN74S0zqodl3gpORPkgPiKatehFrQMVX6XFEZK5rE0wroWgkOfSn0uGdwvL5zPMiBAaeoei6uPhJ6N8MzRHjfDUpE2k93Mh8whIc1l-fbvc6XFacnK8iEWYAQ6/s1600/20200415112021.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;340&quot; data-original-width=&quot;454&quot; height=&quot;239&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhxs9xayfOn7BgX1hAXthbN74S0zqodl3gpORPkgPiKatehFrQMVX6XFEZK5rE0wroWgkOfSn0uGdwvL5zPMiBAaeoei6uPhJ6N8MzRHjfDUpE2k93Mh8whIc1l-fbvc6XFacnK8iEWYAQ6/s320/20200415112021.jpg&quot; width=&quot;320&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(دوسرا حصہ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
•Vitamin K&lt;br /&gt;
وٹامن کے ، انسانی جسم کی اہم ضرورت ہے۔ انسانی جسم وٹامن کے کو پروتھرومبن نامی پروٹین بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ وہ پروٹین بلڈ کلاٹنگ ( کسی زخم کی وجہ سے خون کا بہنا اور لوتھڑا بن جانا) اور بون میٹابولزم کی وجہ سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔&lt;br /&gt;
وٹامن کے&quot; مختلف غذائی اجزاء سے حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;br /&gt;
ان میں پتوں والی سبزیاں ، سرسوں کا ساگ ، پالک ، شلجم اور گوبھی جیسی سبزیاں بھی شامل ہیں۔&lt;br /&gt;
اس کے علاوہ انڈوں اور گوشت میں بھی تھوڑی مقدار میں وٹامن کے پایا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
وٹامن کے&quot; کی&amp;nbsp; قلت ، بلڈ کلاٹنگ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پروتھرومبن پروٹین کی لیول کم ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے&amp;nbsp; بون میٹابولزم بھی متاثر ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
•Vitamin B complex (thiamine , riboflavin , niacin , B6 , B12 , folic acid , pantothenic acid , biotin)&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;وٹامن بی آٹھ مرکبات پر مشتمل ایک گروپ ہے ، جو انسانی جسم میں مختلف اعضاء و سرشتوں میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وٹامنز انسانی جسم کے اندر مل کر کام کرتے ہیں اور ہر مرکب اپنا مخصوص کام کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اوپر ہیڈنگ میں آٹھ وٹامنز کے نام بتائے گئے ہیں ، آسانی کے لئے ان کو ترتیبوار&lt;br /&gt;
B¹,B²,B³,B5 ,B6 ,B7 ,B9 ,And B12&lt;br /&gt;
کہا گیا ہے ۔ اسی مناسبت سے ان کو وٹامن بی کمپلیکس کیاجاتا ہے۔&lt;br /&gt;
Thiamin(B¹)&lt;br /&gt;
دل ، جگر ، گردے اور دماغ کا کام تھیامن پر مشتمل ہے۔ انسانی جسم کو تھیامن کی ضرورت ہوتی ہے ، تاکہ غذا سے کاربوہائیڈریٹس کو حاصل کیا جاسکے۔ نیوروٹرانسمیٹرز (دماغی کیمیکلز ) کو بنانے کے لئے بھی تھیامن اہم ہے۔&lt;br /&gt;
تھیامن کو اناج ، خشک میوہ جات اور پھلیوں والی سبزیوں سے&amp;nbsp; حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تھیامن کی کمی ،&amp;nbsp; دل کے مسائل ، وزن میں کمی وغیرہ کا باعث بنتی ہے۔&lt;br /&gt;
•Riboflavin (B²)&lt;br /&gt;
رائبوفلیون چمڑی ، خون کے خلیوں اور دماغی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر آپ کو &quot;پاؤں کی جلن &quot; عذاب دے رہی ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ آپ رائبوفلیون کی کمی کا شکار ہیں۔&lt;br /&gt;
اسی طرح کچھ اور بیماریاں جن میں ہائپر ٹینشن اور کمزور یاداشت بھی شامل ہیں۔ رائبو فلیون کو مختلف غذائوں سے حاصل کیا جاتا ہے ۔&lt;br /&gt;
مشرومز ، انڈے ، سبزیاں اور ڈیری مصنوعات میں رائبوفلیون کثرت سے پائی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;
•Niacin( B³)&lt;br /&gt;
انسانی جسم میں نیاسن کی ضروری مقدار کا ہونا ، جسم کی تندرستی کے لئے لازم ہے۔ البتہ نیاسن کی اضافی مقدار کو کولیسٹرول لیولز کو توازن میں رکھنے کے لئے علاج کی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
ٹونا مچھلی ، مونگ پھلی ، کدو اور مرغی اپنے اندر نیاسن کی اچھی مقدار رکھتے ہیں۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہالیپوٹہ آفتاب&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/8717087787149025895/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_15.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8717087787149025895'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8717087787149025895'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/blog-post_15.html' title='#Vitamins'/><author><name>Unknown</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhxs9xayfOn7BgX1hAXthbN74S0zqodl3gpORPkgPiKatehFrQMVX6XFEZK5rE0wroWgkOfSn0uGdwvL5zPMiBAaeoei6uPhJ6N8MzRHjfDUpE2k93Mh8whIc1l-fbvc6XFacnK8iEWYAQ6/s72-c/20200415112021.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-4183938099728842197</id><published>2020-04-15T11:24:00.005+05:00</published><updated>2020-04-15T11:24:58.078+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="صحت و تندرستی"/><title type='text'>#vitamins</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgL8ettOzkPtE1X08uvXIs3ubCJP_6sPHBEJ_1vW81jzuka_pLvGAAcFL0UgsQOcDO6zLVp5VjS85whBWGtKbn9s4HUANcbND7Cq_S7JD2fU2IJmqQGnPr3HqScxozCPtQlFGkti5ZF1jf4/s1600/20200415111951.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;272&quot; data-original-width=&quot;454&quot; height=&quot;191&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgL8ettOzkPtE1X08uvXIs3ubCJP_6sPHBEJ_1vW81jzuka_pLvGAAcFL0UgsQOcDO6zLVp5VjS85whBWGtKbn9s4HUANcbND7Cq_S7JD2fU2IJmqQGnPr3HqScxozCPtQlFGkti5ZF1jf4/s320/20200415111951.jpg&quot; width=&quot;320&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
#Vitamins&lt;br /&gt;
(پہلا حصہ)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد دینے والے نامیاتی مرکبات کو وٹامنز کہا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں توڑ پھوڑ (metabolism) کے عوامل اور صحیح طریقہ سے کام کرنے کے لئے وٹامنز کی ضرورت پڑتی ہے۔ انسان زیادہ تر وٹامنز کو مختلف غذاؤں سے حاصل کرتا ہے ، کیونکہ انسانی جسم کے اندر صرف کچھ وٹامنز کے علاوہ وٹامنز پیدا نہیں ہوتی۔ اور اب تو وٹامنز میڈیکل اسٹورز پر بھی مل جاتی ہیں۔ وٹامنز کو کئی اقسام میں تقسیم گیا ہے ۔ جن پر تفصیلی بات ہوگی۔۔۔!&lt;br /&gt;
•Vitamin A&lt;br /&gt;
وٹامن A ، گروتھ ، نشونما ، قوت مدافعت ، نظر ، اور ریپروڈکش کے لئے ضروری&amp;nbsp; ہے۔ وٹامن اے ایک طاقتور Antioxidant اور ہارمون کی طرح کام کرتا ہے جو Gene expression( جین ایکسپریشن کے دوراں ڈی این اے میں موجود ہدایات ، ایک فنکشنل پراڈکٹ یعنی پروٹین میں بدل جاتی ہیں) پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں حاملہ عورتیں وٹامن اے کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔ کمی تو ٹھیک ، لیکن وٹامن اے کی زیادتی بھی (hypervitaminosis) نامی بیماری کا باعث بنتی ہے۔&lt;br /&gt;
وٹامن اے کی کمی ، بالوں کے گرنے ، چمڑی کے پرابلمز ، dry eyes اور رات کو نا دیکھ پانے جیسی علامات کا باعث بنتی ہے۔ وٹامن اے کی کمی کو متوازن غذا سے پورا کیا جاسکتا ہے ، جن میں ، جگر کا تیل ، انڈے ، اناج ، دودھ ، سبزیاں ،&amp;nbsp; فروٹ اور خاص کر پتوں والی سبزیاں شامل ہیں۔&lt;br /&gt;
•Vitamin D&lt;br /&gt;
وٹامن ڈی انسانی جسم کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انسانی جسم کا ہر خلیہ اس وٹامن کا ضرورت مند ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
اس وٹامن کا سب سے اہم ذریعہ سورج ہے۔جب آپ دھوپ میں کھڑے ہوتے ہیں تب سورج کی الٹراوایولٹ شعاعیں چمڑی میں موجود خلیوں کے کولیسٹرول کو ہٹ کرتی ہیں اور (vitamin D synthesis) کے لئے توانائی فراہم کرتی ہیں ۔ اسی مناسبت سے اس کو سن شائن وٹامن بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی ، انڈے اور اناج سے بھی وٹامن ڈی حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;br /&gt;
وٹامن ڈی کیلشیم کو توازن میں رکھنے اور خون میں فاسفورس لیول کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ عناصر ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔&lt;br /&gt;
وٹامن ڈی کی کمی ،&amp;nbsp; کئی انتہائی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہے ، جن میں (Rickets) (بچوں میں ہڈیوں کی نرمی اور کمزوری) بھی شامل ہے ۔&lt;br /&gt;
•Vitamin C&lt;br /&gt;
وٹامن سی کو ایسکاربک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پورے جسم کے بافتوں(ٹشوز) کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ آئرن کا انجذاب ، زخموں کا بھرنے ، ہڈیوں ، دانتوں اور کارٹیلج کی دیکھ بھال میں بھی اہم ہے۔ انسانی جسم اندرونی طور پر وٹامن سی کو نہیں بناتا بلکہ وٹامن سی کو کئی اقسام کی غذائوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر پھل یعنی لیموں ، انگور ، اورینج ، امرود ، پپیتہ ، اسٹرابیری ، خربوزے وغیرہ قدرتی طور پر وٹامن سی خزانہ ہیں۔ اس کے علاوہ گوبی ، شملہ مرچ وغیرہ جیسی کچھ سبزیاں بھی وٹامن سی کا مسکن ہیں۔&lt;br /&gt;
وٹامن سی کی کمی کی صورت میں زخم دیر سے بھرتے ہیں ، قوت مدافعت کی کمزوری ، مسوڑھوں سے خون آتا ہے ، چمڑی میں جھرریاں،&amp;nbsp; وزن کا بڑھنا اور (scurvy) نامی خطرناک بیماری کا باعث ہے۔&lt;br /&gt;
ایک نارمل عورت کو روانہ پچھتر ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ مرد کو 90 ملی گرام وٹامن سی روانہ چاہئے ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
•Vitamin E&lt;br /&gt;
وٹامن E بھی ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔&lt;br /&gt;
وٹامن سی دراصل آٹھ مرکبات پر مشتمل ہے ،&amp;nbsp; جن کے نام ترتیبوار الفا ، بیٹا ، گاما ، ڈیلٹا ٹوکوفیرول اور الفا ، بیٹا ، گاما ، ڈیلٹا ٹوکوٹرینول ہیں۔&lt;br /&gt;
ان میں سے الفا ٹوکوفیرول انسانی جسم کی اہم ضروریات پوری کرتا ہے.&lt;br /&gt;
وٹامن ای کو کئی قدرتی غذاؤں سے حاصل کیا جاسکتا ہے ، خاص طور خشک میوہ جات یعنی&amp;nbsp; اخروٹ ، بادام&amp;nbsp; وغیرہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ، مختلف ویجیٹبل آئلز یعنی سن فلاور ، سویابین ، کنولا سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔&lt;br /&gt;
انسانی جسم میں وٹامن ای کی کمی ، کمزور نظر اور مشکوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;آفتاب ہالیپوٹہ&lt;br /&gt;
&lt;div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/4183938099728842197/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/vitamins.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4183938099728842197'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/4183938099728842197'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/vitamins.html' title='#vitamins'/><author><name>Unknown</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgL8ettOzkPtE1X08uvXIs3ubCJP_6sPHBEJ_1vW81jzuka_pLvGAAcFL0UgsQOcDO6zLVp5VjS85whBWGtKbn9s4HUANcbND7Cq_S7JD2fU2IJmqQGnPr3HqScxozCPtQlFGkti5ZF1jf4/s72-c/20200415111951.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-1198243970162490026</id><published>2020-04-15T09:04:00.002+05:00</published><updated>2020-04-15T09:04:50.623+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>Unsupported Dogma of Gradual Evolution  (Sudden Appearance of Species)</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
موجودہ دور میں ایک بات دیکھنے میں آتی ہے کہ پاپولر سائنس لٹریچر میں ارتقاء پہ نیو ڈارونزم کی تھیوری کی ناکامیاں چھپا کر اسے ناجائز طور پہ ناقابل تردید حقیقت کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے یعنی تصویر کا صرف ایک رخ دیکھایا جاتا ہے۔ اس طرح کی یک طرفہ انفارمیشن تک عام لوگوں کی رسائی ہے جس سے عوام گمراہ ہوتی ہے۔ جبکہ ارتقاء پہ اورجنل سورسز اور سائنس پبلیکشنز میں نیو ڈارونزم موجودہ دور میں متضاد وضاحتوں میں الجھی ہوئی ایک سوچ ہے جس کے بنیادی تصورات یا تو غلط ثابت ہو رہے ہیں یا ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی آجتک سائنسی سند کا درجہ نہیں پا سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماڈرن سائنس کے اس دور میں نیو ڈارونزم کا وضاحتی فریم ورک ناکامی کا شکار ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نیو ڈارونزم کا ایک ایسا ہی بنیادی اور اہم ترین تصور جانداروں کا تدریجی ارتقاء (Gradual Evolution) ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نیو ڈارونزم کا مطلب ہی یہ ہے کہ جاندار آہستہ آہستہ بڑے لمبے عرصے میں مختلف شکلوں، جانداروں اور سپیشیز میں ارتقاء کرتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی ایک جاندار میں لاکھوں کروڑوں سالوں میں چھوٹی چھوٹی مفید جنیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں جن کو فطری چناؤ اکھٹا کرتا رہتا ہے اور لمبے عرصے بعد ایک دوسرا جاندار وجود میں آتا ہے۔ نیو ڈارونین فریم ورک کے مطابق کسی بھی جاندار کی کوئی خاصیت یا نئی شپیشیز اچانک سے نمودار نہیں ہوتیں۔ نیو ڈارونین فریم ورک میں یہ ناممکنات میں سے ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ارتقائی سائنس میں یہ اہم تصور Red Queen Hypothesis کہلاتا ہے جو 1973 میں سامنے آیا۔ یہ تدریجی ارتقاء کا تصور ایسے پیش کرتا ہے کہ ارتقاء میں ماحول کی تبدیلی سے زیادہ اہم چیز جانداروں کے آپسی تعلق سے پیدا ہونے والا پریشر ہے۔ جانداروں کے درمیان مسلسل competition کا ماحول ہر وقت موجود ہے۔ جانداروں کے درمیان مسلسل زندہ رہنے کی ڈور لگی ہوئی۔ قدرتی ماحول میں ہر شپیشیز کا دوسرے بہت سے مختلف جانداروں کے ساتھ&amp;nbsp; باہمی سروائیول کا رشتہ ہے۔ جس کی وجہ سے اگر ایک سپیشیز ارتقاء کرتی ہےتو اس سے منسلکہ دوسری سپیشیز پہ ارتقائی پریشر رہتا اور ان کو بھی آہستہ آہستہ ارتقاء کرنا پڑتا ہے۔ لحاظ قدرتی ماحول میں تمام جاندار ایک جال اور نیٹورک کی طرح ہیں جو ایک دوسرے پہ پریشر ڈالتے ہیں اور مل کر آہستہ آہستہ ارتقاء کرتے رہتے ہیں، جو کبھی نہیں رکتا!&lt;br /&gt;
The Red Queen hypothesis rests on the idea that species must continuously evolve just to hang on to their ecological niche. That gradual evolution is driven by the constant genetic churn of sexual selection.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/2009/091209/full/news.2009.1134.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی تدریجی ارتقاء Gradual Evolution سے بہت لمبے عرصے میں نئے جاندار وجود میں آتے ہیں۔&amp;nbsp; سروائول کی اس ڈور کو سمجھنے کے لئے ایک&amp;nbsp; ایسکلیٹر escalator کو ذہن میں لائیں جو نیچے کی طرف چل رہا ہے اور اس کی چوڑائی سو فٹ فرض کریں۔ اس پہ بہت سے جاندار ہیں جو اوپر کی طرف چڑھ رہے ہیں۔ ایسکلیٹر کی نیچے کی جانب سپیڈ کو جانداروں کا ایک دوسرے پہ سیلیکشن پریشر سمجھیں جو ہر وقت موجود ہے اور جانداروں کا اوپر کی طرف ایسکلیٹر پہ قدم بہ قدم چڑھنا ان کا تدریجی ارتقاء ہے۔&lt;br /&gt;
جو جاندار ایسکلیٹر پہ اس کی سپیڈ کے مطابق اوپر کی جانب چڑھتا رہے گا وہ اس ریس میں شامل رہے گا۔ جو کسی وجہ سے پیچھے رہ گیا ایسکلیٹر اسے نیچے کی جانب دھکیل کر سروائیول کی ڈور سے باہر کر دے گا یعنی وہ جاندار نا پید ہو جائے گا۔&lt;br /&gt;
اس ارتقائی سروائیول کی ریس میں کوئی بھی&amp;nbsp; جاندار اپنے اردگرد ماحول سے زیادہ ارتقاء نہیں کر سکتا بلکہ صرف اتنا ارتقاء ممکن ہے جتنا اس کے زندہ رہنے کی کافی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا اگر ایک جاندار کسی ماحول میں زیادہ دیر رہے تو اس کی سروائول capacity بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس لحاظ سے جانداروں کے اس نیٹورک میں بہت لمبا عرصہ گزارنے والی شپیشیز کے نا پید ہونے کے بھی اتنے ہی امکانات ہیں جتنے ایک نئی سپیشیز کے ناپید ہونے کے ہوتے ہیں۔ جانداروں کے اس باہمی جال میں ہر جاندار Extinction کے دہانے پر کھڑا ہے چاہے سو ملین سال پرانا ہو یا پانچ منٹ پرانا۔ جیسے ہی کوئی جاندار اس ارتقائی سروائیول کی ریس میں ڈھیلا پڑا وہ ریس سے باہر نکال دیا جائے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اس ارتقائی تصور کی مثال شکار اور شکاری کے تعلق سے دی جاسکتی ہے۔ اگر ہرن میں کوئی ایسی رینڈم میوٹیشن ہو جو اس کو بہتر دیکھنے یا بھاگنے یا چھپنے میں مدد دے تو شیر کو بھی زندہ رہنے کے لیے کسی ایسی رینڈم میوٹیشن کی ضرورت ہے جو کسی طرح ہرن کو اس کی خوراک بنائے وگرنہ شیر سروائو نہیں کر سکے گا۔&lt;br /&gt;
اسی طرح اگر کسی شیر میں چھپنے، بھاگنے یا اچھے انداز میں گھات لگانے کا رویہ ارتقاء کرے تو ہرن کو سروائو کرنے کے لئے کسی رینڈم میوٹیشن کی ضرورت ہوگی جو اسے ارتقاء یافتہ شیر سے بچائے۔ ارتقائی سوچ کے مطابق یہی سلسلہ آہستہ آہستہ چلتا رہتا ہے اور لمبے عرصے میں نئی جاندار وجود میں آتے ہیں۔&lt;br /&gt;
اس ارتقائی مفروضے کی دوسری مثال جانداروں کی فوڈ چین (Food Chain) سے دی جا سکتی ہے۔ ایک کیڑا ہے جو درخت کے پتے کھاتا ہے، اس کیڑے کو مینڈک کھاتا ہے، اس مینڈک کو سانپ کھاتا ہے، اس سانپ کو عقاب کھاتا ہے۔ اگر درخت کے پتے کسی دفاعی تبدیلی کا ارتقاء کرتے ہیں تو کیڑے سے لے کر عقاب تک سب کسی حد تک متاثر ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;
مزید اس لنک سے،&lt;br /&gt;
https://royalsocietypublishing.org/doi/full/10.1098/rspb.2014.1382&lt;br /&gt;
----------------------------------------------------&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آہستہ آہستہ تدریجی ارتقاء کی جو وضاحت Red Queen Hypothesis دیتا ہے سننے میں بہت دلچسپ معلوم ہوتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سائنس صرف مفروضوں اور فلسفوں پہ نہیں چلتی۔&lt;br /&gt;
کسی مفروضے کے قابل قبول بننے کے لئے اس کی حقائق سے مطابقت ہونا لازمی ہے۔ ڈیٹا اور تجربہ کے ذریعے متبادل وضاحتی ماڈلز پہ تحقیق کرنا بھی ایک ضروری پروسیجر ہے۔&lt;br /&gt;
ماڈرن سائنس کے مطابق آہستہ آہستہ ارتقاء کا غیر ثابت شدہ گمان فالسیفائڈ (Falsified) ہوچکا ہے اور ایک نئی متبادل وضاحت سامنے آئی ہے جس کے مطابق سپیشیز کسی نایاب واقعہ کی وجہ سے اچانک ظہور پزیر ہوتی ہیں۔&lt;br /&gt;
اس ضمن میں سائنس جریدے nature سے دو حوالہ جات پیش کروں گا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سائنس جریدے nature میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ نیو ڈارونزم میں آہستہ آہستہ اور مسلسل ارتقاء کو اہم مقام حاصل ہے لیکن حیران کن طور پہ آجتک اس آہستہ آہستہ ارتقاء کے دعویٰ کو سائنسی بنیاد پہ ٹیسٹ نہیں کیا گیا کہ حقیقت میں ایسا ہی ہوتا ہے اور نہ ہی آج تک آہستہ آہستہ ارتقاء کی وضاحت کو دیگر مختلف وضاحتوں کے ساتھ موازناتی طور پہ ٹیسٹ کیا گیا یہ جاننے کے لئے کہ کونسی وضاحت موجود ڈیٹا پہ بہتر طور پہ فٹ آتی ہے۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;یہ نہایت تشویش ناک بات ہے کہ تدریجی ارتقاء کے وضاحتی ماڈل کا دیگر وضاحتوں کے ساتھ آجتک کوئی موازنہ ہی نہیں کیا گیا جبکہ سائنس کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی قسم کے ڈیٹا کو بہت سے مختلف وضاحتی ماڈلز کے ساتھ ٹیسٹ کیا جاتا ہے پھر ان سب میں جو بہتر طور پہ ڈیٹا کی وضاحت کرے اسے ٹھیک مانا جاتا ہے۔ نہ صرف اس وضاحتی ماڈل کو آجتک سائنسی بنیاد پہ ٹیسٹ &quot;نہیں&quot; کیا گیا بلکہ آجتک اس کا کوئی بھی میکانزم سامنے نہیں آیا کہ مسلسل ارتقاء کس میکنزم کے تحت ہوتا رہتا ہے۔&lt;br /&gt;
(اگر آپ کی نظر میں حقائق کی اہمیت ہے اور ارتقاء کے موضوع پہ سچ کی تلاش میں ہیں تو صرف یہ پیرگراف آپ کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔)&lt;br /&gt;
&quot;The Red Queen describes a view of nature in which species continually evolve but do not become better adapted. It is one of the more distinctive metaphors of evolutionary biology, but no test of its claim that speciation occurs at a constant rate has ever been made against competing models that can predict virtually identical outcomes, nor has any mechanism been proposed that could cause the constant-rate phenomenon.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/nature08630#ref2&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چونکہ آہستہ آہستہ اور مسلسل ارتقاء کو آجتک سائنسی بنیادوں پہ ایمانداری سے ٹیسٹ نہیں کیا گیا لہذا ایماندار سائنسدانوں نے نیوٹرل ڈیٹا اور ارتقائی تاریخ کو چار مختلف وضاحتی ماڈلز کے ساتھ موازناتی طور پہ ٹیسٹ کیا اور نتیجہ حیران کن طور پہ مختلف آیا۔ یہ مفروضہ کہ جاندار فطری چناؤ کے زریعے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اکٹھا کرتے ہوئے آہستہ آہستہ نئے جانداروں میں ارتقاء کرتے ہیں، یہ صرف اور صرف 8 فیصد ڈیٹا اور ارتقائی تاریخ پہ فٹ آتا ہے۔ جبکہ 80 فیصد ڈیٹا اس وضاحتی ماڈل کو سپورٹ کرتا ہے کہ نئی سپیشیز کے وجود میں آنے کی وجہ&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;ایک &quot;اچانک&quot; اور &quot;نایاب&quot; واقعہ ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
یعنی سپشییز آہستہ آہستہ مفید تبدیلیاں اکٹھی کر کے وجود میں نہیں آتیں۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;بلکہ ایک &quot;single rare event&quot; کی وجہ سے اچانک ظاہر ہوتی ہیں۔&lt;br /&gt;
نیچر جریدہ سے ملاحظہ کریں،&lt;br /&gt;
&quot;When the team compared how well the four models fitted the groups&#39; evolutionary histories, the Red Queen idea that species form through a catalogue of incremental changes fitted no more than 8% of the family trees.&lt;br /&gt;
Conversely, almost 80% of the trees fitted a model in which new species emerge from single rare evolutionary events.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/2009/091209/full/news.2009.1134.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جیسا کہ یہ واضح ہو چکا ہوں کہ نئی سائنسی تحقیقات کے مطابق نیو ڈارونزم کا تدریجی ارتقاء (Gradual Evolution) کا غیر ثابت شدہ وضاحتی ماڈل فالسیفائڈ ہوچکا ہے اور جاندار چھوٹی چھوٹی مفید تبدیلیاں فطری چناؤ کے ذریعے اکٹھی کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اور مسلسل ارتقاء کے زریعے لمبے عرصے میں وجود میں نہیں آتے۔&lt;br /&gt;
بلکہ نئے جاندار اور نئی شپیشیز&lt;br /&gt;
&quot;ایک نایاب واقعہ&quot; کے طور پہ ظہور پذیر ہوتے ہیں اور اس وضاحتی ماڈل کو 80 فیصد ڈیٹا کی سپورٹ حاصل ہے۔&lt;br /&gt;
سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لئے سیکٹروں جانداروں کے گروپس اور ان کی ہزاروں سپیشیز کے ڈیٹا کو شامل کیا جن میں جانور، پودے، یک خلوی جاندار، پھول، مکھی، کچھوے، لومڑی اور دیگر ہر طرح کے جاندار شامل تھے۔&lt;br /&gt;
یہاں ایک چیز واضح کردوں کہ ڈیٹا (Data) وہی ہے صرف ڈیٹا کی وضاحت (Interpretation) بدلی گئی گئی ہے اور ارتقاء کا ایک بنیادی تصور غلط ثابت ہوچکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے پاس باقی کا ڈیٹا جو ارتقاء پہ اس وقت موجود ہے اگر اس کو بھی مختلف وضاحتی ماڈلز پہ ٹیسٹ کیا جائے تو ارتقاء کا پورا تصور مکمل طور پہ تبدیل ہو کر ایک مکمل طور پہ مختلف تصور سامنے آنے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔&lt;br /&gt;
مزید نیچر جریدے نے یہ نکتہ واضح کیا کہ نئی سائنسی تحقیق عمومی طور پہ درست تسلیم کیے جانے والے تدریجی ارتقاء کے مفروضے کے خلاف شواہد فراہم کرتی ہے۔&lt;br /&gt;
&quot;New species might arise as a result of single rare events, rather than through the gradual accumulation of many small changes over time, according to a study of thousands of species and their evolutionary family trees.&lt;br /&gt;
This contradicts a widely accepted theory of how speciation occurs: that species are continually changing to keep pace with their environment, and that new species emerge as these changes accrue.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/2009/091209/full/news.2009.1134.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس تحقیق کو پبلش کرنے والے ایماندار سائنسدانوں سے جب پوچھا گیا کہ اس تحقیق اور وضاحت کے ارتقاء کی فیلڈ پہ کیا اثرات پڑیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ،&lt;br /&gt;
&quot;ہماری تحقیق اور سائنسی شواہد موجودہ ارتقائی سوچ کے خلاف ہیں کیونکہ اکثر ارتقائی سائنسدانوں کے ذہن وہی پرانا ڈارونی ارتقاء کا تصور ہے۔ جبکہ ہماری تحقیق یہ ثابت کرتی ہے فطری چناؤ سے تدریجی ارتقاء کا تصور شاید غلط ثابت ہوچکا ہے۔&quot;&lt;br /&gt;
&quot;The team&#39;s findings might stir things up in the world of evolutionary biology. &quot;It really goes against the grain because most of us have this Darwinian view of speciation,&quot; says Pagel. &quot;What we&#39;re saying is that to think about natural selection as the cause of speciation is perhaps wrong.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/news/2009/091209/full/news.2009.1134.html&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ماڈرن سائنس ائے روز نیو ڈارونین فریم ورک کے بنیادی دعویٰ جات کو غلط ثابت کر رہی ہے اور وقت اچکا ہے کہ سائنس کمیونٹی حقائق عوام کے سامنے لائیں اور اس چیز کا جواب دیں کہ موجودہ ارتقائی فریم ورک کے خلاف اتنے سائنسی شواہد آنے کے باوجود کیوں ابھی تک اس سے چپکی ہوئی ہے؟&amp;nbsp; نیو ڈارونزم جیسی بوسیدہ اور مرتی ہوئی تھیوری کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ پرانی سوچ کو ترک کیا جائے اور نئی سوچ سے سائنس کی ترقی کا سفر جاری رہے۔&lt;br /&gt;
------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Written and Researched by&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgrYag8NAVbjKlE5RMV_8zgtYptwlLeI2Zvi9mknknaC3LORg13EitNEJWol8W9MWi4cL6oDHHD3j3m_t092eJJ2mXSyi3Wj0eYiJf7CS7HeBwof5lfBHDRYMlC2NJPSI40-m-9fVTo41NC/s1600/FB_IMG_1586923414966.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;360&quot; data-original-width=&quot;640&quot; height=&quot;360&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgrYag8NAVbjKlE5RMV_8zgtYptwlLeI2Zvi9mknknaC3LORg13EitNEJWol8W9MWi4cL6oDHHD3j3m_t092eJJ2mXSyi3Wj0eYiJf7CS7HeBwof5lfBHDRYMlC2NJPSI40-m-9fVTo41NC/s640/FB_IMG_1586923414966.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/1198243970162490026/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/unsupported-dogma-of-gradual-evolution.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/1198243970162490026'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/1198243970162490026'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/unsupported-dogma-of-gradual-evolution.html' title='Unsupported Dogma of Gradual Evolution  (Sudden Appearance of Species)'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgrYag8NAVbjKlE5RMV_8zgtYptwlLeI2Zvi9mknknaC3LORg13EitNEJWol8W9MWi4cL6oDHHD3j3m_t092eJJ2mXSyi3Wj0eYiJf7CS7HeBwof5lfBHDRYMlC2NJPSI40-m-9fVTo41NC/s72-c/FB_IMG_1586923414966.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-1298280051625406929</id><published>2020-04-15T08:59:00.002+05:00</published><updated>2020-04-15T08:59:41.429+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>|Say Hello to Uncle Saccorhytus|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
کیا آپ جانتے ہیں &quot;انکل ساکوریٹس&quot; کون ہیں؟&lt;br /&gt;
اگر نہیں تو نیچے دی گئی تصویر انکل ساکوریٹس کی ہے۔ ارتقائی سائنسدانوں بہت خوش ہیں کہ اخر کار انکل ساکوریٹس کے باقیات ڈھونڈ لئے گئے جن سے ان کا شجرہ نسب جا ملتا ہے۔&lt;br /&gt;
ارتقائی سائنسدانوں کے مطابق انکل ساکوریٹس آج سے 540 ملین سال پہلے افریقہ کے چھپڑ میں رہا کرتے تھے اور بڑے ننھے منھے اور چھوٹے سے ہوا کرتے تھے۔ ان کا سائز صرف ایک ملی میٹر تھا لیکن ان کا منہ بہت بڑا ہوا کرتا تھا۔ چونکہ ان کا منہ بہت بڑا تھا لہذا کھایا بہت کرتے تھے لیکن ان کی مقعد (Anus) پھر بھی موجود نہیں تھی۔ بس کیا بتائیں! فطری چناؤ نے ضد لگا لی تھی کہ جو مرضی ہو جائے انکل ساکوریٹس کی مقعد نہیں بننے دوں گا۔ ظاہری بات ہے مقعد نہ ہونے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوگا اسی لئے فطری چناؤ نے اتنی ضد کی۔ ارتقائی سائنسدانوں نے اس پہ یہ تھیوری پیش کی ہے کہ اتنا عرصہ پہلے ٹوائلٹ نہیں ہوا کرتے تھے۔ جب ٹوائلٹ نہیں تھے تو پھر مقعد کا کیا فائدہ؟&lt;br /&gt;
لہذا فطری چناؤ نے ٹھیک کیا۔&lt;br /&gt;
ارتقائی سائنسدان اس وقت اپنے انکل کے باقیات کا معائنہ کر رہے کہ شاید انکل ساکوریٹس کے بڑے منہ سے کوئی وصیت نامہ برآمد ہو جائے اور یہ سب سرخرو ہو جائیں۔&lt;br /&gt;
میں ارتقائی سائنسدانوں کو اس تحقیق پہ مبارکباد پیش کرتا ہوں!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
-----------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiKAfYXkAX6XTJXRIzVtBqqmZ1_8AF-LfDA7Fov2TkuRfX6rJS-ujMBbnVEeUG1-gM76bKwW2IMjNeEfWtYUbKw4u0QHoDgCTBxijSsQ9KkXV4elA-rHJhsUsVvdZgc8uvXxYZfdaZ9qPWj/s1600/FB_IMG_1586923123874.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;400&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;177&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiKAfYXkAX6XTJXRIzVtBqqmZ1_8AF-LfDA7Fov2TkuRfX6rJS-ujMBbnVEeUG1-gM76bKwW2IMjNeEfWtYUbKw4u0QHoDgCTBxijSsQ9KkXV4elA-rHJhsUsVvdZgc8uvXxYZfdaZ9qPWj/s320/FB_IMG_1586923123874.jpg&quot; width=&quot;320&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/1298280051625406929/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/say-hello-to-uncle-saccorhytus.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/1298280051625406929'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/1298280051625406929'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/say-hello-to-uncle-saccorhytus.html' title='|Say Hello to Uncle Saccorhytus|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiKAfYXkAX6XTJXRIzVtBqqmZ1_8AF-LfDA7Fov2TkuRfX6rJS-ujMBbnVEeUG1-gM76bKwW2IMjNeEfWtYUbKw4u0QHoDgCTBxijSsQ9KkXV4elA-rHJhsUsVvdZgc8uvXxYZfdaZ9qPWj/s72-c/FB_IMG_1586923123874.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-8468955304341358759</id><published>2020-04-15T08:57:00.003+05:00</published><updated>2020-04-15T08:57:57.656+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>|Genes For Squid Eyes and Human Legs|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
نئی سائنسی تحقیقات آئے دن نیو ڈارونین ارتقاء کے خلاف شواہد مہیا کر کے اس بات کو واضح کر رہیں ہیں کہ نیو ڈارونین ارتقاء ایک ناکام ہوتی تھیوری ہے لہذا اس کے متبادل کسی بہتر فریم ورک کی تلاش شروع کی جائے۔ ایسی ہی ایک نئی تحقیق حال ہی میں سامنے آئی جب ارتقائی سائنسدان سکوئڈ (Squid) کی آنکھوں کی ڈیولپمنٹ کے زمہ دار جین نیٹورک کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔&lt;br /&gt;
اس کے لئے سکوئد کی ایک سپیشیز Doryteuthis pealeii کے ایمبریو (Embryo) کو بطور تحقیق استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران سائنسدان جینز کے آن اور آف ہونے کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے اور حیران کن طور پہ معلومات سامنے آئیں کہ جونسا جین ریگولیٹری نیٹ ورک انسانی ایمبریو کی ڈیولپمنٹ کے دوران ٹانگیں بنانے کے لئے آن ہوتا ہے وہی جین ریگولیٹری نیٹ ورک سکوئڈ کی آنکھیں اور لینز بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔ یعنی ایک ہی طرح کے جینز دو مکمل طور پہ مختلف سپیشیز میں دو مکمل طور پہ مختلف کام انجام دے رہے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب یہاں پہ کچھ نکات نوٹ کرنے والے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
1) سکوئد Cephalopod کہلاتے ہیں اور انسان Vertebrate کہلاتے ہیں۔ ارتقائی تھیوری کے مطابق ان دونوں کی ارتقائی شاخ ماضی میں تقریباً 500 ملین سال پہلے علیحدہ ہوئی۔ اب پانچ سو ملین سال سے یہ جینز نیٹورک دونوں طرح کے جانداروں میں موجود ہے نہ جینز کا ارتقاء ہوا نہ جینز ناپید ہوئے!!&lt;br /&gt;
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اتنے لمبے عرصے میں نئے طرح کے جینز رینڈم میوٹیشن سے ارتقاء کرتے جو انسانی امبریو میں ٹانگیں ڈیویلپ کرتے!!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
2) یا پھر ایک جیسے جینز نیٹ ورک کا کنورجنٹ ارتقاء علیحدہ علیحدہ ہوا۔ یعنی ایک ہی طرح کے جینیاتی حروف کا ارتقاء دو مختلف اقسام کے جانداروں میں ہوا لیکن فنکشن مختلف ہوگیا!!!&lt;br /&gt;
یہ معاملہ مزید غیر منطقی معلوم ہوتا ہے!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
3) اس تناظر میں جنیاتی مماثلت بھی بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ہی طرح کے جینز انسانی ایمبریو میں ٹانگیں ڈیویلپ کر رہے ہیں اور سکوئڈ کے ایمبریو میں آنکھ کا لینز بنا رہے ہیں۔&lt;br /&gt;
جب ایک ہی طرح کے جینز مختلف جانداروں میں مختلف فنکشن سر انجام دیتے ہیں تو صرف جینیاتی حروف کی مماثلت کچھ بھی ظاہر نہیں کرتی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نئی سائنسی تحقیقات ارتقاء کو ایک مزید الجھی ہوئی پہیلی بناتی جا رہیں ہیں اور دیے گئے نکات پہ غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ آج بھی ایک معمہ ہے کہ نیو ڈارونین ارتقاء ہے کیا!؟ اور ہوا کیسے!؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
Reference:&lt;br /&gt;
https://www.sciencemag.org/news/2019/07/genes-make-squid-eyes-also-make-your-legs?utm_campaign=SciMag&amp;amp;utm_source=JHubbard&amp;amp;utm_medium=Facebook&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
--------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhbM40FDe8hDVsDf17iUbFCEIDgOq5CYHfQecm_7kpgFXqxW4LvVaCMcCeF48IT0u1MzVO2Twa0fSaytwSKqKbVIHAHcDRuB-eNQmfr3HD_egLZrJgykPGZPVbqSDmMIRnFq9tsCDAYBG52/s1600/FB_IMG_1586923018312.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;305&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;168&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhbM40FDe8hDVsDf17iUbFCEIDgOq5CYHfQecm_7kpgFXqxW4LvVaCMcCeF48IT0u1MzVO2Twa0fSaytwSKqKbVIHAHcDRuB-eNQmfr3HD_egLZrJgykPGZPVbqSDmMIRnFq9tsCDAYBG52/s400/FB_IMG_1586923018312.jpg&quot; width=&quot;400&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/8468955304341358759/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/genes-for-squid-eyes-and-human-legs.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8468955304341358759'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/8468955304341358759'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/genes-for-squid-eyes-and-human-legs.html' title='|Genes For Squid Eyes and Human Legs|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhbM40FDe8hDVsDf17iUbFCEIDgOq5CYHfQecm_7kpgFXqxW4LvVaCMcCeF48IT0u1MzVO2Twa0fSaytwSKqKbVIHAHcDRuB-eNQmfr3HD_egLZrJgykPGZPVbqSDmMIRnFq9tsCDAYBG52/s72-c/FB_IMG_1586923018312.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-6817398023671428329</id><published>2020-04-15T08:56:00.000+05:00</published><updated>2020-04-15T08:56:36.400+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>Longest evolutionary staSis in Bacteria (prokaryotes never evolved )</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
ارتقاء کی تاریخ اور فاسل ریکارڈ کا مطالعہ کریں تو آپ کو ہر جگہ ارتقائی ٹھہراؤ (Evolutionary Stasis) نظر آتا ہے۔ جاندار اپنی ارتقائی تاریخ میں کبھی بھی کسی دوسرے جاندار میں تبدیل نہیں ہوتا چاہے کئی سو ملین سال گزر جائیں یا کئی بلین سال گزر جائیں۔ درجنوں مختلف جانداروں کی مثالیں فاسل ریکارڈ میں محفوظ ہیں جو ظاہر کرتیں ہیں کہ جاندار اپنی بنیادی ساخت میں اچانک ظاہر ہوتے ہیں اور پھر اسی بنیادی ساخت میں موجود رہتے ہیں۔ ایک مچھلی کی سینکڑوں مختلف اقسام ہو سکتیں ہیں لیکن ایک مچھلی کبھی بھی ڈائنوسار نہیں بنتی۔&lt;br /&gt;
ایسا ہی ارتقائی ٹھہراؤ کا پیٹرن آپ کو یک خلوی جانداروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان یک خلوی جانداروں یا پروکیریوٹس (Prokaryotes) کے بارے نیو ڈارونین تھیوری کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ لمبے عرصے میں ارتقاء کر کے مچھلیوں اور دیگر جانداروں میں تبدیل ہو گئے۔ جبکہ حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ یک خلوی جاندار اربوں سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی خصوصیات اور ساخت میں یک خلوی جاندار ہی رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اکثر ارتقائی حضرات کا معذرت خواہانہ اعتراض ہوتا ہے کہ جی میکرو ارتقاء (Macroevolution) ہونے پہ وقت لگتا ہے۔ یہ ہزاروں یا لاکھوں سالوں میں نہیں ہوتا بلکہ کئی سو ملین سال چاہیئے ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;
چلیں ٹھیک ہے! اگر پانچ سو ملین سال دے دیے جائیں تو میکرو ارتقاء کے لئے کافی ہیں؟؟ یعنی یک خلوی جاندار سے کسی مچھلی کا ارتقاء ہوجائے!&lt;br /&gt;
یا اگر ایک ہزار ملین سال دے دیے جائیں تو یک خلوی جاندار سے مچھلی کے ارتقاء کے لئے کافی ہیں؟؟&lt;br /&gt;
اگر اب بھی جواب نہیں ہے، تو کیا دو بلین سال دے دیے جائیں تو ایک یک خلوی جاندار مچھلی میں ارتقاء کر لے گا؟؟&lt;br /&gt;
ایسا کرتے ہیں زمین پہ زندگی کی شروعات سے لے کر اب تک کا سارا وقت دے دیا جائے تو کیا ایک یک خلوی جاندار ایک مچھلی میں ارتقاء کر لے گا؟؟&lt;br /&gt;
اب زندگی کے شروعاتی دور سے زیادہ کا وقت دینا نہ تو سائنسی طور پہ ممکن ہے اور نہ منطقی اعتبار سے ممکن ہے۔ لیکن نیو دارونین ارتقاء کی ناکامی اور بد نصیبی یہ ہے کہ حقائق کچھ ایسا ہی ظاہر کرتے ہیں کہ زمین پہ زندگی کے شروعاتی دور کے یک خلوی جاندار بغیر کسی Macroevolution کے آج بھی یک خلوی ساخت میں موجود ہیں۔&lt;br /&gt;
ذندگی کی پوری تاریخ گزر گئی لیکن ارتقاء نہیں ہوا۔۔۔!!!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نیچر جریدے کی ایک سائنس پبلیکیشن میں 3.4 بلین سال پرانے فاسل سٹرومیٹولائٹس (Stromatolites) کو ریپورٹ کیا گیا جو آسٹریلیا کے Pilbra علاقے سے حاصل کیے گئے۔ ارتقائی سائنسدانوں کے مطابق زمین پہ زندگی کتنی پرانی ہے اس کا سب سے مستند فاسل ثبوت یہ سٹرومیٹولائٹس ہیں جو آسٹریلیا میں ملے۔ ارتقائی حلقے میں زمین پہ زندگی کی موجودگی کی تاریخ جاننے کے لئے ان فاسلز کو سب سے قابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین پہ یک خلوی جاندار 3.4 بلین سال پہلے موجود تھے۔ ان سے پرانے کچھ فاسلز سٹرومیٹولائٹس بھی موجود ہیں لیکن ان پہ بہت سے اعتراضات ہیں اور ان کی شناخت غیر حتمی ہے۔&lt;br /&gt;
سٹرومیٹولائیٹس ہیں کیا؟&lt;br /&gt;
سٹرومیٹولائٹس خاص پتھریلی تعمیرات ہیں جو سیانوبیکٹیریا (Cyanobacteria) بناتے ہیں۔ سمندر کے کم گہرے پانیوں میں سیانو بیکٹیریا نسل در نسل اپنی افزائش کے دوران منرلز (Minerals) اور سیڈیمنٹس (Sediments) کو اپنے جسم سے خارج ہونے والے چپکو مادے (Extracellular Polymeric Substance) میں باندھتے جاتے ہیں۔ سیانو بیکٹیریا چونکہ فوٹو سنتھیٹک (Photosynthetic) یک خلوی جاندار ہیں لہذا یہ سٹرومیٹولائٹس کے اوپری سطح پر رینے کی کوشش کرتے ہیں جہاں سورج کی روشنی پہنچتی اور نیچے پتھریلی تعمیرات سٹرومیٹولائٹس بناتے جاتے ہیں۔ مائیکروسکوپک سطح پہ سیانو بیکٹیریا کی اس ایکٹیویٹی سے تہ در تہ بننے والی تعمیرات وقت کے ساتھ پتھر میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور اکثر اوقات ان میں سیانو بیکٹیریا مر کر فاسلز بن جاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
http://www.dmp.wa.gov.au/Stromatolites-and-other-evidence-1666.aspx&lt;br /&gt;
اب صورتحال یہ ہے کہ آج سے 3.4 بلین سال پہلے بھی سیانو بیکٹیریا موجود تھے اور سٹرومیٹولاٹس بنا رہے تھے۔ آج کے دور میں بھی سیانو بیکٹیریا یک خلوی ساخت میں موجود ہیں اور سٹرومیٹولائٹس بنا رہے ہیں۔ یہ سٹرومیٹولائٹس چند ہزار سال پرانے ہیں اور آسٹریلیا میں موجود ہیں۔&lt;br /&gt;
سیانو بیکٹریا کا استعمال موجودہ دور کی بہت سی انڈسٹریز میں بھی کیا جا رہا ہے جہاں ان کا استعمال بائیوٹیکناجی، پیٹرولیم، کھاد بنانے میں، گندا پانی صاف کرنے، ادویات کی تیاری اور خوراک کی تیاری میں ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
https://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1111/j.1365-2672.2008.03918.x&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;زندگی کی پوری تاریخ گزر گئی لیکن سیانو بیکٹیریا کثیر خلوی جانداروں میں ارتقاء نہ کر سکا۔ نیو ڈارونین ارتقاء کا آج بھی کوئی ثبوت نہیں! یک خلوی جاندار آج بھی اپنی ساخت، رویہ اور خصوصیات میں ویسے کا ویسا ہے! مذید حیرانی کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں سیانو بیکٹیریا کی 2700 رجسٹرڈ سپیشیز ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق ممکنہ طور پہ سیانو بیکٹریا کی 8000 سپیشیز ہو سکتی ہیں۔ یعنی ایک ہی یک خلوی جاندار کی مختلف اقسام آج بھی موجود ہیں لیکن کوئی بھی سپیشیز مچھلی میں ارتقاء نہ کر سکی۔&lt;br /&gt;
https://link.springer.com/article/10.1007/s10531-013-0561-x&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اس کے علاؤہ سیانو بیکٹیریا (Cyanobacteria) کو ان یک خلوی جانداروں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی سپشیز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہی حقائق باقی تمام جانداروں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بلی ہمیشہ بلی رہتی ہے چاہے جتنی مرضی اقسام میں تبدیل ہو جائے۔ مینڈک ہمیشہ مینڈک رہتا ہے چاہے جتنی مرضی اقسام میں تبدیل ہو جائے۔ سانپ اور مکڑی ہمیشہ اپنی بنیادی ساخت میں ویسے کے ویسے رہتے ہیں چاہے ہزاروں مختلف اقسام میں تبدیل ہو جائیں۔&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;اور یک خلوی جاندار 3.4 بلین سال بعد آج بھی یک خلوی جاندار ہی ہے۔۔۔!!!&lt;br /&gt;
&quot;The 3,430-million-year-old Strelley Pool Chert (SPC) (Pilbara Craton, Australia) is a sedimentary rock formation containing laminated structures of probable biological origin (stromatolites).&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/nature04764&lt;br /&gt;
&quot;Here we present a multi-kilometre-scale palaeontological and palaeoenvironmental study of the SPC, in which we identify seven stromatolite morphotypes—many previously undiscovered—in different parts of a peritidal carbonate platform.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/nature04764&lt;br /&gt;
&quot;Finally, we argue that the diversity, complexity and environmental associations of the stromatolites describe patterns that—in similar settings throughout Earth&#39;s history—reflect the presence of organisms&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/nature04764&lt;br /&gt;
---------------------------------------------&lt;br /&gt;
اب یک خلوی جاندار کی دوسری مثال کی طرف آتے ہیں۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کہنا چاہوں گا۔ آپ نے اس حوالے میں سائنسی حقائق اور ارتقائی قیاس کا فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ سائنس پبلیکشن PNAS جریدے میں پبلش ہوئی اور اس میں سائنسدانوں نے رپورٹ کیا کہ انہیں سلفر سائکلنگ (Sulfur Cycling) بیکٹیریا کے فاسلز ملے ہیں۔ زمین پہ سلفر سائکلنگ کا عمل زندہ جانداروں کے لئے بہت ضروری ہے اس کے بغیر زندگی کا وجود تقریباً ناممکن ہے۔ سلفر بیکٹریاز سلفر کو ری سائیکل کر کے قابل استعمال شکل میں ماحول میں خارج کرتے ہیں۔ اس پہ معلومات کے لئے یہ لنک وزٹ کریں&lt;br /&gt;
https://www.britannica.com/science/sulfur-cycle&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;یہ بیکٹریا 1.8 بلین سال پرانے ہیں ان فاسل یک خلوی بیکٹیریا کی ساخت موجودہ دور میں پائے جانے والے سفلر بیکٹریا سے مکمل طور پہ مشابہت رکھتی ہے۔ یہاں &quot;Identical&quot; کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی 1.8 بلین سال پرانے سلفر بیکٹیریا اور موجود دور میں پائے جانے والے سلفر بیکٹیریا کے ساخت مکمل طور پہ ایک جیسی ہے۔ یہ نیو ڈارنین تھیوری کی ایک اور زلت آمیز ناکامی ہے۔ ایک ہزار اٹھ سو ملین سال گزر جانے کے بعد بھی یک خلوی بیکٹریا میں وہ ارتقاء نظر نہیں آیا جس کا دعویٰ نیو ڈارونین تھیوری کرتی ہے۔&lt;br /&gt;
حقائق یہ ہیں کہ یک خلوی بیکٹیریا آج بھی یک خلوی بیکٹیریا ہی ہے۔۔۔!!!&lt;br /&gt;
&quot;An ancient deep-sea mud-inhabiting 1,800-million-year-old sulfur-cycling microbial community from Western Australia is essentially identical both to a fossil community 500 million years older and to modern microbial biotas discovered off the coast of South America in 2007&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/112/7/2087&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سائنس پبلشن میں ایک جگہ مزید یہ کہا گیا ہے کہ ہماری دریافت سے پہلے بھی ایک تحقیقاتی ٹیم نے آسٹریلیا میں سلفر بیکٹریاز کے فاسلز دریافت کیے تھے جو کہ 2.3 بلین سال پرانے ہیں۔&lt;br /&gt;
جبکہ ان کے دریافت کردہ سلفر بیکٹیریا کے فاسلز 1.8 بلین سال پرانے ہیں۔&lt;br /&gt;
ان دونوں فاسلز میں 500 ملین سال کا فرق ہے۔ یاد رہے ارتقائی تھیوری کا دعویٰ یہ ہے کہ زمینی تاریخ کے تمام کثیر خلوی جانداروں کو ارتقاء کرنے میں 540 ملین سال لگے۔ چاہے ڈائنوسار ہوں، مچھلیاں، سانپ، پرندے، کیڑے، ہاتھی، زرافہ، بلی، مینڈک، گائے، مگر مچھ یا مچھر تمام کثیر خلوی جاندار ارتقائی قیاس کے مطابق تقریباً 540 ملین سال میں ارتقاء کر گئے۔&lt;br /&gt;
لیکن!!! حقائق یہ کہتے ہیں کہ 2.3 بلین سال گزر جانے کے بعد بھی یک خلوی سلفر بیکٹریا اپنی ساخت اور خصوصیات میں ویسے کے ویسے ہیں اور آج بھی یک خلوی ساخت میں موجود ہیں۔&lt;br /&gt;
&quot;The recent discovery of a deep-water sulfur-cycling microbial biota in the ∼2.3-Ga Western Australian Turee Creek Group opened a new window to life&#39;s early history. We now report a second such subseafloor-inhabiting community from the Western Australian ∼1.8-Ga Duck Creek Formation.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/112/7/2087&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اوپر بیان کردہ چیزوں کا تعلق حقائق سے ہے اب آپ کو ارتقائی قیاس کا تعارف کراتے ہیں۔&lt;br /&gt;
ان کا زکر بہت ضروری ہے تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ تنگ زہن ارتقائی طبقہ کس طرح حقائق کو قیاس آرائیوں میں دبا کر مسخ کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
ارتقائی سائنسدان ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں کہ 2.3 بلین سال گزر جانے کے بعد بھی سلفر بیکٹیریا میں ارتقاء نام کی کوئی چیز نہیں۔&lt;br /&gt;
اب ان حقائق کی ارتقائی وضاحت کرنے کے لئے دو قیاس آرائیاں کی جاتیں ہیں ایک یہ کہ 2.3 بلین سال سے ان بیکٹریا کا ماحول نہیں بدلہ ہوگا اس لئے ارتقاء نہیں ہوا۔ اس کا ثبوت کدھر ہے؟ یہ قیاس ارائی کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق اس کا کوئی ثبوت میسر نہیں اس کے لئے اضافی ثبوت چاہئے۔&lt;br /&gt;
دوسری طرف ارتقائی سائنسدانوں کا ایک اور گروپ ہے جو پہلی ارتقائی وضاحت سے متفق نہیں۔ یہ گروپ ایک دوسری قیاس ارائی کرتا ہے۔ ان کے مطابق سلفر بیکٹریا میں ارتقائی ٹھہراؤ کی وجہ ماحول کا تبدیل نہ ہونا نہیں بلکہ ان بیکٹیریا کا convergent ارتقاء کرنا ہے۔&lt;br /&gt;
اس کا ثبوت کدھر ہے؟؟ اس کا بھی کوئی ثبوت ہے۔&lt;br /&gt;
یہ سب وہی قیاس آرائیاں ہیں جن پہ ارتقاء کی پوری عمارت کھڑی ہے۔&lt;br /&gt;
یہاں ایک اور نکتہ قابل غور ہے اوپر دی گئی سیانوبیکٹیریا کی مثال میں ماحول بدل رہا ہے اور اس کی مختلف اقسام موجود ہیں۔ اس کے باوجود بھی سیانو بیکٹریا اپنی بنیادی ساخت میں ویسے کا ویسا ہی ہے۔&amp;nbsp; اگر سلفر بیکٹیریا کے لئے ماحول نہ بدلنے کی قیاس ارائی کی جائے تو سیانو بیکٹیریا کے صورت میں یہ ارتقائی قیاس ناکام ہوجاتی ہے اور ماحول نہ بدلنے کی قیاس ارائی سے ارتقائیوں کا ایک گروپ ویسے بھی اتفاق نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;
ان قیاس آرائیوں کے گھن چکر میں نیو ڈارونین ارتقاء کے لئے ہر طرف سے زلت آمیز ناکامی اور رسوائی ہی بچی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک جگہ اور سائنس پبلیکیشن میں واضح الفاظ میں یہ کہا گیا کہ جب 2.3 بلین سال پرانے سلفر بیکٹیریا کے فاسلز کا موازنہ موجودہ دور کے زندہ سلفر بیکٹیریا سے کیا گیا تو ان کی خلوی ساخت، انرجی پیدا کرنے کے طریقہ، نائٹریٹ سلفیٹ اور سلفر کو استمعال کرنے کا طریقہ ہوبہو ایک جیسا تھا اور کوئی بھی تبدیلی نظر نہیں آئی۔&lt;br /&gt;
&quot;we compare sulfur-cycling ∼1.8- and ∼2.3-Ga fossil communities with their modern counterparts and report that the community fabric of the fossil and modern microbes, as well as their organismal and cellular morphology, their interlinked energy-production via anaerobic sulfate-reduction and sulfur species oxidation, and their use of sulfate and nitrate to fuel this sulfur cycle appear to have remained unchanged over a segment of geological time equivalent to half the age of the Earth.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.pnas.org/content/112/20/E2560&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یک خلوی جاندار سے کثیر خلوی جانداروں کے ارتقاء کا کوئی ایک بھی ثبوت میسر نہیں۔ جو سائنسی شواہد موجود ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 1.8 بلین سال گزر جانے کے بعد۔ 2.3 بلین سال گزر جانے کے بعد۔ زندگی کی شروعات سے لے کر اب تک کا تمام وقت یعنی 3.4 بلین سال گزر جانے کے بعد بھی یک خلوی بیکٹیریا/جاندار/پروکیریوٹس آج بھی اپنی ساخت اور خصوصیات میں یک خلوی جاندار ہی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
---------------------------------------------&lt;br /&gt;
Written and Researched by&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhgoSnGGb-AAH7dvpOxU663d3Hw09kdnOPrzotZHOtcZM3qb0ydQJXM5Dc_ymugERbarM3ki3xg2ORn1UnDccU05b8_pBjhqon2CdROvWoCI5t7upqQLsAkgA1uIZVttpNQsYZMWvrz_a34/s1600/FB_IMG_1586922769356.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;425&quot; data-original-width=&quot;640&quot; height=&quot;424&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhgoSnGGb-AAH7dvpOxU663d3Hw09kdnOPrzotZHOtcZM3qb0ydQJXM5Dc_ymugERbarM3ki3xg2ORn1UnDccU05b8_pBjhqon2CdROvWoCI5t7upqQLsAkgA1uIZVttpNQsYZMWvrz_a34/s640/FB_IMG_1586922769356.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/6817398023671428329/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/longest-evolutionary-stasis-in-bacteria.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/6817398023671428329'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/6817398023671428329'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/longest-evolutionary-stasis-in-bacteria.html' title='Longest evolutionary staSis in Bacteria (prokaryotes never evolved )'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhgoSnGGb-AAH7dvpOxU663d3Hw09kdnOPrzotZHOtcZM3qb0ydQJXM5Dc_ymugERbarM3ki3xg2ORn1UnDccU05b8_pBjhqon2CdROvWoCI5t7upqQLsAkgA1uIZVttpNQsYZMWvrz_a34/s72-c/FB_IMG_1586922769356.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-7673613956933157069</id><published>2020-04-15T08:52:00.001+05:00</published><updated>2020-04-15T08:52:30.969+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>|300 Million Years Old Dragonfly Fossils|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
ڈریگن مکھی عام پائے جانے والا کیڑا ہے۔ یہ آپ کو باغوں اور کھیتوں میں اڑتی ہوئی ملتیں ہیں۔ بچے بڑے شوق سے ان کو ڈھونڈتے ہیں اور ان کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت سے خوبصورت رنگوں میں پائی جاتیں ہیں اور اڑنے میں بہت تیز ہوتیں ہیں۔ یہ دنیا کی ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ڈریگن مکھی آج سے کئی سو ملین سال پہلے بھی موجود تھیں اور آج کے دور میں بھی بغیر کسی نیو ڈارونین ارتقائی تبدیلی کے موجود ہیں اس نکتہ پہ میں کچھ سائنسی حقائق شئیر کرنا چاہوں گا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک مشہور سائنس پبلیکشن ڈیٹا بیس Science Direct میں 2016 کی ایک سائنس پبلیکشنز کے مطابق ڈریگن مکھی کا ایک فاسل ملا جو Mid Cretaceous دور کا ہے۔ Cretaceous Period 145 ملین سال سے لے کر 66 ملین سال تک کا دور کہلاتا ہے. اس لحاظ سے Mid Cretaceous کا مطلب ہے ڈریگن مکھی کا یہ فاسل کم از کم 105 ملین سال پرانا ہے۔ یہ ڈریگن مکھی کا دوسرا فاسل ہے جو اس دور کا ہے۔&lt;br /&gt;
سو ملین سال پہلے بھی ڈریگن مکھی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے!&lt;br /&gt;
&quot;A new dragonfly Cretagomphaeschnaoides jarzembowskae gen. et sp. nov., is described from mid-Cretaceous Burmese amber.....This fossil is the second record of Anisoptera in Cretaceous amber.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0016787816300827&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نیچر جریدے میں 2018 میں ایک پیپر پبلش ہوا۔ اس پیپر میں ڈریگن مکھی Meganeurid کے ایک 300 ملین سال پرانے فاسل پہ کی گئی تحقیق کو پیش کیا گیا۔ یہ ڈریگن مکھی اپنی شکاری خصوصیات اور ساخت میں موجودہ دور کی ڈریگن مکھی جیسی ہی تھی صرف جسامت میں کافی بڑی تھی۔ اس کا سائز ایک پر سے لے کر دوسرے پر تک 71cm تھا جو کہ تقریباً ڈھائی فٹ بنتا ہے۔ موجودہ دور کی ڈریگن مکھی کا سائز زیادہ سے زیادہ 4 انچ ہے۔&lt;br /&gt;
ڈریگن مکھی آج سے 300 ملین سال پہلے بھی پائی جاتی تھی اور آج بھی موجود ہے۔ اس میں نیو ڈارونین ارتقاء کا کوئی ثبوت نہیں۔ تین سو ملین سال میں نہ تو یہ کبوتر بن سکی اور نہ ڈائنوسار بن سکی۔&lt;br /&gt;
&quot;The discovery of evidence relating to the palaeobiology of the charismatic, iconic, and giant dragonflies also reveals a remarkable consistency in predatory biology, as well as a range of variants known still today, along the odonatopteran lineage over the course of at least 300 million years.&quot;&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/s41598-018-30629-w&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فاسل ریکارڈ میں جہاں بھی نظر ڈالیں نیو ڈارونین ارتقاء کا کوئی ثبوت میسر نہیں آتا۔ بلکہ فاسل ریکارڈ نیو ڈادونین ارتقاء کے خلاف شواہد سے بھرا پڑا ہے۔ چاہے جتنا مرضی وقت گزر جائے، جاندار اپنی ساخت میں تخیلاتی میکرو ارتقاء نہیں کرتے۔ ڈریگن مکھی کی تقریباً 5,000 مختلف اقسام ہیں۔&lt;br /&gt;
https://link.springer.com/chapter/10.1007/978-1-4020-8259-7_38&lt;br /&gt;
&amp;nbsp;لیکن تین سو ملین سال بعد بھی یہ اپنی ساخت میں ویسے کی ویسی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
--------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgcf1W6iV4pUqnpOaRYpSUTcMdYnxrnH02pW2lVVut_RwYaQ1vXkk0Y4kr69j90bxRxIb0spJPLX6a9EcSOc9CGPCWcDFG08Q6ZkmepLoPvH-Nra5JyMTKP5ILI3r8CgYZi3sYyHQQASzgd/s1600/FB_IMG_1586922684117.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;479&quot; data-original-width=&quot;640&quot; height=&quot;478&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgcf1W6iV4pUqnpOaRYpSUTcMdYnxrnH02pW2lVVut_RwYaQ1vXkk0Y4kr69j90bxRxIb0spJPLX6a9EcSOc9CGPCWcDFG08Q6ZkmepLoPvH-Nra5JyMTKP5ILI3r8CgYZi3sYyHQQASzgd/s640/FB_IMG_1586922684117.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/7673613956933157069/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/300-million-years-old-dragonfly-fossils.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/7673613956933157069'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/7673613956933157069'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/300-million-years-old-dragonfly-fossils.html' title='|300 Million Years Old Dragonfly Fossils|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgcf1W6iV4pUqnpOaRYpSUTcMdYnxrnH02pW2lVVut_RwYaQ1vXkk0Y4kr69j90bxRxIb0spJPLX6a9EcSOc9CGPCWcDFG08Q6ZkmepLoPvH-Nra5JyMTKP5ILI3r8CgYZi3sYyHQQASzgd/s72-c/FB_IMG_1586922684117.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-886444168220048278</id><published>2020-04-15T08:50:00.003+05:00</published><updated>2020-04-15T08:50:59.284+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>|Human To Apes Theory|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
ایک بات تو واضح ہے بندر نما جانداروں کے فاسلز واقعی موجود ہیں۔ یہ حقیقت اور سچ ہے!&lt;br /&gt;
آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ یہ میں کیا کہ رہا ہوں!!&lt;br /&gt;
میں اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;
بندر نما جانداروں کے فاسلز واقعی موجود ہیں لیکن مسئلہ ان فاسلز کی وضاحت (Interpretation) کا ہے۔ مغرب کا ملحد معاشرہ اور ملحد ارتقائی سائنسدان اس کی وضاحت یہ کرتے ہیں کہ بندر نما جانداروں سے انسان کا ارتقاء ہوا۔&lt;br /&gt;
جبکہ ایک مسلمان قرآنی حقائق کو سامنے رکھ کر ان فاسلز کی وضاحت یہ کرتا ہے کہ اصل میں انسانوں کی ایک ابادی کو بندر نما جانداروں میں تبدیل کیا گیا۔&lt;br /&gt;
جو آج فاسلز کی صورت میں برآمد ہو رہے ہیں!&lt;br /&gt;
ارتقائی مسلمان اگر قرآن پاک کی آیات پہ واقعی غور فکر کرلیں تو شاید ان کو سمجھ اجائے کہ ایک مسلمان کے نزدیک بندر نما جانداروں کا ارتقاء انسانوں میں نہیں ہوا۔&lt;br /&gt;
بلکہ ایک نافرمان قوم کو اللہ پاک کے عذاب نے بندر نما حیوانوں میں تبدیل کر دیا تھا۔&lt;br /&gt;
----------------------------------------------&lt;br /&gt;
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِيْ السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خَاسِئِـيْنَ&amp;nbsp; ۚ&lt;br /&gt;
&quot;پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے&quot;&lt;br /&gt;
(Al-Baqarah 2:65)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فَجَعَلْنٰهَا نَكٰلاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ&lt;br /&gt;
&quot;اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اُس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بنا کر چھوڑا&quot;&lt;br /&gt;
(Al-Baqarah 2: 66)&lt;br /&gt;
--------------------------------------------------&lt;br /&gt;
Allah SWT said:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـئِیْنَ&lt;br /&gt;
&quot;پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار&quot;&lt;br /&gt;
(Al-A&#39;raf 7:166)&lt;br /&gt;
-------------------------------------------------&lt;br /&gt;
قُلْ هَلْ اُنَـبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۗ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَا لْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۗ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَا نًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ&lt;br /&gt;
&quot;پھر کہو کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سَوَا٫ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں&quot;&lt;br /&gt;
(Al-Ma&#39;idah 5:60)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
----------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEifcfjouuuayEiC5rgPwq3PjajAX84hm4ChK-QAw9gs6Pwf9RlcdOAi2f36sjR2ALbELDwL_UATmejf4-_1RkepIPR3O0OUmT7YIMs-P4WTkTtVCpC9QFYa9Ijxvp8b-1iE7EKUJzqkLbXj/s1600/FB_IMG_1586922593269.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;850&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;400&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEifcfjouuuayEiC5rgPwq3PjajAX84hm4ChK-QAw9gs6Pwf9RlcdOAi2f36sjR2ALbELDwL_UATmejf4-_1RkepIPR3O0OUmT7YIMs-P4WTkTtVCpC9QFYa9Ijxvp8b-1iE7EKUJzqkLbXj/s400/FB_IMG_1586922593269.jpg&quot; width=&quot;338&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/886444168220048278/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/human-to-apes-theory.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/886444168220048278'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/886444168220048278'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/human-to-apes-theory.html' title='|Human To Apes Theory|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEifcfjouuuayEiC5rgPwq3PjajAX84hm4ChK-QAw9gs6Pwf9RlcdOAi2f36sjR2ALbELDwL_UATmejf4-_1RkepIPR3O0OUmT7YIMs-P4WTkTtVCpC9QFYa9Ijxvp8b-1iE7EKUJzqkLbXj/s72-c/FB_IMG_1586922593269.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-1883004864004311252</id><published>2020-04-15T08:49:00.001+05:00</published><updated>2020-04-15T08:49:22.960+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="اسلام اور سائنس"/><title type='text'>|The Darkness of Naturalism|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
میری نظر سے قرآن پاک کی ایک آیت گزری جس میں اللہ پاک ملحدین کی ایک روش کا زکر کر رہے ہیں۔ وہ روش یہ ہے کہ ہر مظہر کی اندھی اور غیر سمتی فطری طاقتوں سے وضاحت کرنا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وَاِ نْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَا قِطًا يَّقُوْلُوْا سَحَا بٌ مَّرْكُوْمٌ&lt;br /&gt;
&quot;یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں&quot;&lt;br /&gt;
(At-Tur 52:44)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یعنی اگر اللہ پاک ان کو واضح ترین نشانیاں بھی دیکھا دیں تو بھی یہ لوگ &quot;نیچرل فلاسفی&quot; سے اس کی تاویل گھڑ لیں گے۔ آسمان کے ٹکڑے ان کو نیچرل فلاسفی سے بادل نظر آئیں گے۔ سامنے موجود خوبصورت پرندے کا وجود فطری چناؤ اور جینیاتی حادثات سے وجود میں آیا نظر آئے گا۔&lt;br /&gt;
کائنات کے قانون بگ بینگ کے بعد بغیر کسی ذہین مداخلت کے خودبخود وجود میں اکر کھربوں ستارے بناتے نظر آئیں گے۔&lt;br /&gt;
پوری ڈارونین تھیوری بھی اسی نیچرل فلاسفی کی بنیاد پہ قائم ہے جو کسی بھی ذہین ہستی کی مداخلت کو غیر عقلی قرار دے کر صرف اندھی فطری طاقتوں سے تمام مخلوقات کے وجود میں آنے کی وضاحت کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ موجودہ وقت کی پوری سائنس اسی نیچرل فلاسفی کی بنیاد پہ کھڑی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کی ابتدائی سمجھ رکھنے والا انسان شروع میں الحادی وسوسوں کا شکار ہوتا ہے لیکن جب گہرائی میں سائنس کے طریقہ کار اور الحادی فکر کا مطالعہ کرتا ہے تو ان وسوسوں سے دور ہو جاتا ہے۔&lt;br /&gt;
اس ضمن میں کیا ایسا ممکن ہے کہ اللہ پاک نے اپنے وعدے کے مطابق ہمیں اپنی نشانیاں آسمانوں اور ہمارے اپنے وجود میں ظاہر کر دی ہیں لیکن سائنس پہ چھائے اس &quot;نیچرل فلاسفی&quot; کے اندھیرے سے ان مظاہر اور نشانیوں کی جو وضاحتیں اور تھیوریز ہم تک پہنچتی ہیں وہ ان نشانیوں کو فطرت کی اندھی طاقتوں کے سپرد کرتی ہوں؟!&lt;br /&gt;
اس وقت تمام تر سائنسی تحقیقات سیکیولر مغربی دنیا اور چائنہ کے ملحد سائنسدان کرتے ہیں۔ تقریبا تمام تر سائنسی تحقیقات صرف انہی دو ذرائع سے آتی ہے: لبرل و سیکولر مغرب اور چائینہ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت سائنس میں الحادی نیچرل فلاسفی پہ مبنی فریم ورک اور تھیوریز کی طرف جھکاؤ موجود ہے۔&lt;br /&gt;
جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کا اس وقت سائنسی تحقیقات میں آٹے میں نمک کے برابر بھی کوئی کردار موجود نہیں۔ جب تک مسلمان آگے بڑھ کر سائنسی تحقیقات میں اپنی خدمات پیش نہیں کرتے تب تک سائنس پہ چھائے اس نیچرل فلاسفی کے اندھیرے چھٹنے والے نہیں!&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiQxX7D5MtmC-pGoHN-UuV6U65JgrIP4OsWJvCImNwEBzPp3VB8GQuLPzjQUqPmUYKfN4O3HDRg6j2Q-lU6BPAL01qCtTwiEC5oVm72wKGJ5PLXyn89kIxKDIbwMiLaFV2-UIdA3JBTMEo8/s1600/FB_IMG_1586922500327.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;349&quot; data-original-width=&quot;620&quot; height=&quot;360&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiQxX7D5MtmC-pGoHN-UuV6U65JgrIP4OsWJvCImNwEBzPp3VB8GQuLPzjQUqPmUYKfN4O3HDRg6j2Q-lU6BPAL01qCtTwiEC5oVm72wKGJ5PLXyn89kIxKDIbwMiLaFV2-UIdA3JBTMEo8/s640/FB_IMG_1586922500327.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/1883004864004311252/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/the-darkness-of-naturalism.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/1883004864004311252'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/1883004864004311252'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/the-darkness-of-naturalism.html' title='|The Darkness of Naturalism|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiQxX7D5MtmC-pGoHN-UuV6U65JgrIP4OsWJvCImNwEBzPp3VB8GQuLPzjQUqPmUYKfN4O3HDRg6j2Q-lU6BPAL01qCtTwiEC5oVm72wKGJ5PLXyn89kIxKDIbwMiLaFV2-UIdA3JBTMEo8/s72-c/FB_IMG_1586922500327.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-5474687406278039775</id><published>2020-04-15T08:47:00.001+05:00</published><updated>2020-04-15T08:47:29.461+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="نظریہ ارتقاء"/><title type='text'>|Fossil lice 100 Million Years Old|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
چند دن پہلے نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے امبر (Amber) میں ectoparasite کے فاسلز کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت (Morphology) موجودہ دور کی جوؤں (lice) سے ہوبہو مشابہت رکھتی ہے۔ امبر (Amber) کچھ درختوں سے نکلنی والی رال کو کہتے ہیں۔ جب ان درختوں کو کٹ لگتا ہے تو وہاں سے پیلے رنگ کی چپکو رال نکلتی ہے جس میں بعض اوقات مختلف کیڑے وغیرہ پھنس جاتے ہیں اگر رال کا سائز بڑا ہوتو چھوٹے پرندے، مینڈک اور مچھلیاں وغیرہ بھی اس میں پھنس کر مر جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ رال مناسب ماحول میں دب کر فاسل بن جاتی ہے جو اپنے ساتھ مختلف جانداروں کے اجسام کو محفوظ کیے ہوتی ہے۔ ectoparasites ایسے پیراسائٹ ہوتے ہیں جو جانداروں کے باہری جسم، جلد اور بالوں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
نیچر جریدے میں 100 ملین سال پرانے فاسل امبر میں پھنسی دس جوؤں کے اجسام کو رپورٹ کیا گیا جن کی ساخت کروڑوں سال پہلے بھی موجودہ دور کی جوؤں سے مشابہت رکھتی تھی۔ اس امبر میں ڈائنوسار کے پروں کے فاسل بھی موجود تھے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ جوئیں (lice) ڈائنوسار کے پروں میں ہی پائی جاتیں تھیں۔&lt;br /&gt;
یہ بھی کافی حیرانی کی بات ہے کہ سو ملین سال پہلے بھی ان جوؤں کا رہن سہن اور خوراک حاصل کرنے کا ذریعہ موجودہ جوؤں جیسا ہی تھا۔ یعنی نہ تو ان ectoparasites کے رہن سہن میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی ان کی ساخت میں کوئی خاص تبدیلی آئی۔ میانمار کے جنگلات سے حاصل کیے گئے امبر میں پھنسے ان دس کے قریب پیراسائٹس کا ایورج سائز 0.2 ملی میٹر ہے اور ان کو سائنسی نام Mesophthirus engeli دیا گیا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسے سینکڑوں فاسلز آجتک دریافت ہو چکے ہیں جو کروڑوں اور اربوں سال پہلے کے ہیں اور موجودہ دور کے جانداروں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن ان میں کوئی ڈارونی ارتقاء نظر نہیں آتا۔ جبکہ spontaneous mutations ہر وقت جاری ہیں یہ روک نہیں سکتیں۔ ماحول بھی ہر وقت تبدیل ہو رہا ہے معدومیت کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ آتش فشاں پہاڑ، سیلاب، برفانی دور، زلزلے، اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیاں بھی ہر وقت جاری ہیں ان کا روکنا بھی ناممکن ہے۔ اس کے علاؤہ Biotic پریشر ہے یعنی وہ سیلکشن پریشر جو صرف ایک جاندار کے ارتقاء کرنے سے اس سے منسلک دوسرے تمام جانداروں پہ پڑتا ہے اور پوری فوڈ چین اس پریشر سے متاثر ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
اس سب کے باوجود اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ کوئی بھی ماحولیاتی پریشر یا Biotic پریشر نہیں ہے(جو کہ ناممکن ہے) تو ایک اور بنیادی مسئلہ ہے۔ جانداروں کے جینوم میں ہر وقت جاری میوٹیشن سے اکھٹی ہونی والی منفی میوٹیشن کی وجہ سے deleterious mutation load پیدا ہوتا جو جاندار کے بقا کے لئے خطرہ ہوتا ہے اس صورت میں صرف دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو مفید میوٹیشن کی وجہ سے جاندار ارتقاء کر جائے یا پھر جینوم میں اکٹھی ہونے والی منفی میوٹیشن کے بوجھ سے ناپید ہو جائے۔ نیو ڈارونی فریم ورک میں کسی جاندار کا کروڑوں سال تک بغیر کسی تبدیلی اور ارتقاء کے ذندہ رہنا ناممکن ہے۔&lt;br /&gt;
سائنس پبلیکشنز کے مطابق اگر فاسل ریکارڈ کا&amp;nbsp; بغور مطالعہ کیا جائے تو تمام فاسل ریکارڈ ارتقائی ٹہراؤ (Evolutionary Stasis) کا شکار ہے۔ جبکہ تدریجی آہستہ آہستہ ہونے والا ارتقاء کہیں نظر نہیں آتا اور صرف ایک exception کے طور پہ موجود ہے۔ صرف 5 فیصد کیسز میں فاسلز کی وضاحت تدریجی (gradualist) پہلو سے کی جا سکتی ہے۔ جبکہ 95 فیصد کیسز میں فاسل ریکارڈ&amp;nbsp; یا تو جانداروں میں کوئی تبدیلی ظاہر نہیں کرتا یا پھر چھوٹی موٹی رینڈم اڈاپٹیشن دیکھاتا ہے جو کہ جینٹک ڈرفٹ (genetic drift) کا نتیجہ ہیں۔ یہ فطری چناؤ سے ہونے والے تدریجی ارتقاء سے بہت مختلف ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
Science Article:&lt;br /&gt;
https://www.smithsonianmag.com/science-nature/lice-filled-dinosaur-feathers-found-trapped-100-million-year-old-amber-180973727/&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
Science Publication:&lt;br /&gt;
https://www.nature.com/articles/s41467-019-13516-4&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
------------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhbC7u_tvdLkpUxRHuJYb1REaPPcjl8CxB1VvCPNmldyx5XmzVA-weA_1FQ90DX723NWyu3oz0q4EAb1jKQmL5cOV-z-wZ97PZEQoaC_mirVM2kNrliNGMb6HoPN-3jc47cSTxKWGb31oFz/s1600/FB_IMG_1586922378782.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;424&quot; data-original-width=&quot;720&quot; height=&quot;376&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhbC7u_tvdLkpUxRHuJYb1REaPPcjl8CxB1VvCPNmldyx5XmzVA-weA_1FQ90DX723NWyu3oz0q4EAb1jKQmL5cOV-z-wZ97PZEQoaC_mirVM2kNrliNGMb6HoPN-3jc47cSTxKWGb31oFz/s640/FB_IMG_1586922378782.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/5474687406278039775/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/fossil-lice-100-million-years-old.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/5474687406278039775'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/5474687406278039775'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/fossil-lice-100-million-years-old.html' title='|Fossil lice 100 Million Years Old|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhbC7u_tvdLkpUxRHuJYb1REaPPcjl8CxB1VvCPNmldyx5XmzVA-weA_1FQ90DX723NWyu3oz0q4EAb1jKQmL5cOV-z-wZ97PZEQoaC_mirVM2kNrliNGMb6HoPN-3jc47cSTxKWGb31oFz/s72-c/FB_IMG_1586922378782.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3582798471881704164.post-2995865296780191080</id><published>2020-04-15T08:45:00.003+05:00</published><updated>2020-04-15T08:45:46.621+05:00</updated><category scheme="http://www.blogger.com/atom/ns#" term="بیالوجی"/><title type='text'>|Genomic Network of Complexity|</title><content type='html'>&lt;br /&gt;
عام طور پہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک جین ایک قسم کی فینوٹائپ/خصوصیت/فنکشنز کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ انسانی جینوم مختلف جینز کے باہمی پیچیدہ نیٹورک پہ مشتمل ہے اور اکثر اوقات ایک جین بہت سی مختلف خصوصیات کو کنٹرول کرتا ہے یہ خصوصیات مکمل طور پہ مختلف ہو سکتی ہیں یا ملتی جلتی ہو سکتی ہیں لیکن ان کو کنٹرول ایک ہی جین کرتا ہے۔ اس کو pleiotropy کہا جاتا ہے۔ اور ایسے جینز کو pleiotropic genes کہا جاتا ہے۔ ایسے جینز اور ان سے منسلکہ مختلف خصوصیات/فنکشنز کی نشاندھی کرنا کافی مشکل کام ہے لیکن اس کا واضح مشاہدہ تب دیکھنے کو ملتا ہے جب میوٹیشن کی وجہ سے کسی ایک جین کی کارکردگی خراب ہوتی ہے اور اس خراب کارکردگی والے ایک میوٹیٹڈ جین کے نتیجہ میں ہمیشہ ایک سے زیادہ فینوٹائپ/خصوصیات/فنکشنز پہ منفی اثرات پڑتے ہیں۔&lt;br /&gt;
مثال کے طور پہ sickle cell ایک جنیاتی بیماری ہے جس کی وجہ سے خون کے سرخ خلیات کی شکل بگڑ جاتی ہے اور ان میں آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک لے جانے کی صلاحیت پہ منفی اثرات پڑتے ہیں۔ یہ بیماری بیٹا گلوبن جین (HBB) میں ہونے والی single nucleotide substitution کی وجہ ہوتی ہے یعنی صرف ایک نیوکلیوٹائد (A) کی جگہ دوسرے نیوکلیوٹائڈ (T) سے بدل جاتی ہے جس کی وجہ سے 147 امائینو ایسڈ کی چین میں مشتمل بیٹا گلوبن پروٹین کی چھٹی پوزیشن پہ گلوٹامک امائنوایسڈ (GAG) کی جگہ ویلین امائنوایسڈ (GTG) بننا شروع ہوجاتا ہے۔ جب یہ mutated بیٹا گلوبن پروٹین باقی کے تین گلوبن پروٹینز کے ساتھ مل کر چار حصوں پہ مشتمل مکمل ہیموگلوبن پروٹین بناتا ہے تو اس ہیموگلوبن پروٹین کی کارکردگی بھی خراب ہوتی ہے۔ مزید ان ہیموگلوبن پروٹینز کے خون کے سرخ خلیات&amp;nbsp; میں موجود ہونے سے یہ خلیات اپنا فنکشن صحیح سے سرانجام نہیں دے پاتے ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور suckle cell جیسی جینیاتی بیماری پیدا ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
بیٹا گلوبن جین میں میوٹیشن سے صرف سرخ خلیات متاثر نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ اس کے ساتھ دل اور پھیپھڑوں وغیرہ کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے ایسی صورتحال کے مشاہدے اور اس پہ تحقیقات سے سائنسدانوں کو یہ واضح ہوتا ہے کہ بیٹا گلوبن جین (HBB) ایک pleiotropic gene ہے یعنی یہ ایک جین بہت سی مختلف خصوصیات اور فنکشنز کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اوپر بیان کی گئی pleiotropy کے الٹ ایک اور مظہر ہے جس میں بہت سے جینز ایک نیٹورک کی صورت میں مل کر صرف ایک خصوصیت/فینوٹائپ/فکشن کو کنٹرول کرتے ہیں اس کو polygenic adaptation کہا جاتا ہے۔ ایسی خصوصیات یا فنکشنز کو polygenic traits کہا جاتا ہے اور ایسے جینز کو polygenes کہا جاتا ہے۔ تقریباً تمام انسانی خصوصیات/فینوٹائپ حقیقت میں polygenic traits ہی ہیں اور ایک جین کا ایک فینوٹائپ کو کنٹرول کرنا یعنی monogenic traits بہت نایاب ہیں۔ پولیجینک خصوصیات کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے یہ continuous distribution ظاہر کرتی ہیں. یعنی جس طرح سپیکر کے ناب کو گھما کر آواز کو کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے نہ کہ ایک بٹن کی طرح جس کو صرف آن یا آف کیا جا سکے۔ اس کی مثال انسانی قد ہے۔ آپ کو ایک انچ یا چند ملی میٹر کے فرق سے ہر قد کا انسان ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوگا کہ آپ کو صرف لمبے قد والے یا صرف چھوٹے قد والے انسان ہی ملیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قد ایک polygenic فینوٹائپ ہے یعنی بہت سے مختلف جینز مل کر تھوڑا تھوڑا حصہ ڈال کر صرف اس ایک فینوٹائپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاوہ جینز جینیاتی سطح پہ ہمیشہ ایک نیٹورک کی صورت میں کام کرتے ہوئے انسانی اعضاء اور جسمانی حصے بناتے ہیں مثال کے طور پہ حال ہی میں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ neural crest خلیاتی مجموعہ کے زریعے انسانی چہرے کی ڈیویلپمنٹ میں BAZ1B کا کردار ایک ماسٹر جین کا ہے جس کے ماتحت 448 مختلف جینز ایک نیٹورک کی صورت میں کام کرتے ہوئے انسان چہرہ کو تشکیل دتے ہیں، یہ کسی ایک جین کا کام نہیں۔&lt;br /&gt;
اسی طرح homeobox جینز کا نیٹورک ہے جو انسان کے پورے جسم کی ساخت اور بنیادی ڈھانچے کی تشکیل embryonic ڈیولپمنٹ کے دوران کرتا ہے۔ یہ 235 جینز کا ایک باہمی نیٹورک ہے جس کو مزید چھوٹے گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے مثال کے طور پہ 39 جینز کا ایک گروپ HOX کہلاتا ہے جو homeobox جین نیٹورک کا ہی حصہ ہے۔ PAX جینز کا گروپ بھی اسی homeobox جین نیٹورک کا حصہ ہے۔&lt;br /&gt;
پورا انسانی جینوم اور اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونی والی انسانی فینوٹائپ ایک انتہائی پیچیدہ جینیاتی نیٹورک پہ مشتمل ہے جس میں سے اگر ایک جین یا چند جینز کو چھیڑا جائے تو پورا انسانی جسم متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
ایسی صورت میں اگر کسی ایک جین میں کوئی منفی میوٹیشن ہوتو ظاہری بات ہے اس جین سے منسلکہ تمام جینز اور تمام فینوٹائپ کے متاثرہونے کا خدشہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اگر کسی ایک جینز میں کوئی مفید میوٹیشن ہو جائے تو بھی اس چیز کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ یہ میوٹیٹڈ جینز بدلی ہوئی ایکٹیویٹی کے ساتھ باقی جینز کے نیٹورک میں باہمی ربط سے کام کرسکے گا۔&lt;br /&gt;
ایسا لگتا ہے کہ نیو ڈارونزم کے غیر سمتی، بے مقصد اور فطری حادثات پہ مشتمل فریم ورک سے نہ صرف انسانی جینوم بلکہ تمام جانداروں کے انتہائی پیچیدہ، باربط اور باہمی نیٹورک پہ مشتمل جینوم کی وضاحت آج کے جدید دور میں مشکل سے ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
----------------------------------------&lt;br /&gt;
Sohaib Zobair&lt;br /&gt;
&lt;div class=&quot;separator&quot; style=&quot;clear: both; text-align: center;&quot;&gt;
&lt;a href=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjH-FUNQpQ38aHe8oty0qt5wug3zqcsrfMF5cRbVxAQupqh7Rb3xlQRuR1oio-E7oxB16cO4W0Yf69U4arX4DMuUbz3m7rhjDxqv-cUmZYuS5cMpfzC1SiED5GLBMTcLbtUhuxhTa00faCe/s1600/FB_IMG_1586922266954.jpg&quot; imageanchor=&quot;1&quot; style=&quot;margin-left: 1em; margin-right: 1em;&quot;&gt;&lt;img border=&quot;0&quot; data-original-height=&quot;448&quot; data-original-width=&quot;684&quot; height=&quot;418&quot; src=&quot;https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjH-FUNQpQ38aHe8oty0qt5wug3zqcsrfMF5cRbVxAQupqh7Rb3xlQRuR1oio-E7oxB16cO4W0Yf69U4arX4DMuUbz3m7rhjDxqv-cUmZYuS5cMpfzC1SiED5GLBMTcLbtUhuxhTa00faCe/s640/FB_IMG_1586922266954.jpg&quot; width=&quot;640&quot; /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/feeds/2995865296780191080/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/genomic-network-of-complexity.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/2995865296780191080'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='https://www.blogger.com/feeds/3582798471881704164/posts/default/2995865296780191080'/><link rel='alternate' type='text/html' href='https://sciencegroupofpakistan2.blogspot.com/2020/04/genomic-network-of-complexity.html' title='|Genomic Network of Complexity|'/><author><name>حسن خلیل چیمہ</name><uri>http://www.blogger.com/profile/06164582340196585032</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='32' src='//blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgJ9yW8gjBIj1RLsw3PhB0Fi7RxNimoQvWC8Vv5NcnYdPoaD1bdOBFTK6KbJrZUrn9VupqLtNeeclVP379mxGvWlQaHFO-2yszyE0Qh3kdDjooCtZZtLOOpZQANi40/s113/FB_IMG_1563115109130.jpg'/></author><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjH-FUNQpQ38aHe8oty0qt5wug3zqcsrfMF5cRbVxAQupqh7Rb3xlQRuR1oio-E7oxB16cO4W0Yf69U4arX4DMuUbz3m7rhjDxqv-cUmZYuS5cMpfzC1SiED5GLBMTcLbtUhuxhTa00faCe/s72-c/FB_IMG_1586922266954.jpg" height="72" width="72"/><thr:total>0</thr:total></entry></feed>