<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<?xml-stylesheet type="text/xsl" media="screen" href="/~d/styles/rss2full.xsl"?><?xml-stylesheet type="text/css" media="screen" href="http://feeds.feedburner.com/~d/styles/itemcontent.css"?><rss xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/" xmlns:feedburner="http://rssnamespace.org/feedburner/ext/1.0" version="2.0">

<channel>
	<title>ابوشامل</title>
	
	<link>http://www.abushamil.com</link>
	<description>مرے ہنگامۂ نو بہ نو کی انتہا کیا ہے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Jan 2012 08:08:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
		<atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="self" type="application/rss+xml" href="http://feeds.feedburner.com/abushamil/blog" /><feedburner:info uri="abushamil/blog" /><atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="hub" href="http://pubsubhubbub.appspot.com/" /><feedburner:emailServiceId>abushamil/blog</feedburner:emailServiceId><feedburner:feedburnerHostname>http://feedburner.google.com</feedburner:feedburnerHostname><item>
		<title>شاہ عبد اللطیف بھٹائی-وڈیو پوسٹ</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/5Sc7gWESV84/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/shah-abdul-latif-bhittai/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Jan 2012 08:07:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[شاہ عبد اللطیف بھٹائی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1768</guid>
		<description><![CDATA[ہمارے عزیز دوست اور اِس بلاگ پر &#8216;کبھی کبھار&#8217; اپنی تحاریر کے ساتھ جلوہ گر ہونے والے زبیر انجم نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پر اپنے ادارے &#8216;سماء ٹی وی&#8217; کے لیے یہ پیکیج تیار کیا تھا۔ تقریباً 2 منٹ کی اس وڈیو میں اسکرپٹ اور آواز دونوں زبیر انجم کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارے عزیز دوست اور اِس بلاگ پر &#8216;کبھی کبھار&#8217; اپنی تحاریر کے ساتھ جلوہ گر ہونے والے زبیر انجم نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پر اپنے ادارے &#8216;سماء ٹی وی&#8217; کے لیے یہ پیکیج تیار کیا تھا۔ تقریباً 2 منٹ کی اس وڈیو میں اسکرپٹ اور آواز دونوں زبیر انجم کی ہے۔ یہ پیکیج شاہ لطیف کے عرس کے موقع پر سماء ٹی وی سے نشر کیا گیا۔ ملاحظہ کیجیے<br />
<span id="more-1768"></span></p>
<p style="text-align: center;">
<iframe src="http://www.youtube.com/embed/2wlza6dzCZU?rel=0" frameborder="0" width="420" height="315"></iframe></p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/5Sc7gWESV84" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/shah-abdul-latif-bhittai/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/shah-abdul-latif-bhittai/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – چوتھی و آخری قسط</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/4OAf_jBdvWw/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-4/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 08 Jan 2012 10:58:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عبد الخالق بٹ</dc:creator>
				<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[سلطنت عثمانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[غازی انور پاشا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1787</guid>
		<description><![CDATA[اس سلسلے کی پہلی، دوسری اور تیسری قسط ملاحظہ کیجیے انور پاشا کی مدینہ آمد وزیر جنگ انور پاشا جب سویز اور شام کے محاذوں کے دورے سے فارغ ہوئے تو زیارتِ مدینہ کا قصد کیا۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ جمال پاشا اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام شامل تھے۔ انور پاشا کی مدینہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اس سلسلے کی <a href="http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-1/">پہلی</a>، <a href="http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-2/">دوسری </a>اور <a href="http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-3/">تیسری </a>قسط ملاحظہ کیجیے</p>
<h3>انور پاشا کی مدینہ آمد</h3>
<p>وزیر جنگ انور پاشا جب سویز اور شام کے محاذوں کے دورے سے فارغ ہوئے تو زیارتِ مدینہ کا قصد کیا۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ جمال پاشا اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام شامل تھے۔ انور پاشا کی مدینہ منورہ آمد کے حوالے سے عوام میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹرین بروز جمعہ مدینہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو ایک خلقت انور پاشا کے استقبال کے لیے موجود تھی، ہر کوئی ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا، مگر انور پاشا کا حال یہ تھا کہ اپنے ہمراہیوں کے برعکس آپ نے اپنے نشاناتِ افسری اور فوجی لباس محض اس لیے زیب تن نہ کیا کہ سرکار دوجہاںؐ کے حضور پیش ہونے آئے ہیں۔</p>
<p><span id="more-1787"></span></p>
<div class="wp-caption alignleft" style="width: 245px"><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/EnverpashainJerusalem.jpg"><img class=" " title="انور پاشا کی بیت المقدس میں لی گئی ایک یادگار تصویر" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/EnverpashainJerusalem.jpg" alt="انور پاشا کی بیت المقدس میں لی گئی ایک یادگار تصویر" width="235" height="303" /></a><p class="wp-caption-text">انور پاشا کی بیت المقدس میں لی گئی ایک یادگار تصویر</p></div>
<p>انور پاشا کو اسٹیشن کے بڑے ہال میں بلدیہ مدینہ کی طرف سے سپاس نامہ پیش کیا گیا، بعدازاں جب آپ روضۂ رسولؐ کی زیارت کے لیے روانہ ہونے لگے تو اسٹیشن کے باہر سواری کا انتظام تھا، مگر انور پاشا نے اس پر سوار ہونے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’ہم غلاموں کی حیثیت سے یہاں آئے ہیں لہٰذا غلاموں کی طرح بارگاہِ نبوت تک پیدل چلیں گے‘‘۔</p>
<p>انور پاشا ایک جلوس کی شکل میں روضہ رسولؐ کی جانب روانہ ہوئے، شرکائے جلوس حمد و صلوٰۃ پڑھتے ہوئے جارہے تھے، جلوس کے دونوں جانب ترک فوجیوں کی قطاریں تھیں۔ ان قطاروں سے پرے اور مکانوں کی چھتوں پر بھی ایک خلقت جمع تھی۔ جمال پاشا اور دیگر جرنیلوں کی نظریں کبھی کبھی دائیں یا بائیں پڑجاتی تھیں مگر انور پاشا کی آنکھیں زمین سے لگی ہوئی تھیں۔ حرم نبویؐ پہنچنے پر آپ دست بستہ داخل ہوئے اور جب خادمِ روضۂ رسولؐ نے دعا پڑھانی شروع کی تو انور پاشا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔</p>
<h3>شش زبان</h3>
<p>انور پاشا مادری زبان ’’ترکی‘‘ کے علاوہ متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے، چونکہ ملٹری اکیڈمی میں فرانسیسی زبان کی تحصیل لازمی تھی اس لیے فرانسیسی زبان سیکھی، بعدازاں بقدر ضرورت انگریزی اور جرمن زبانوں سے آگاہی حاصل کی۔ جنگِ طرابلس میں عربوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے بے تکلف عربی زبان بولنے لگے، اور جب ماسکو جانا ہوا تو روسی زبان میں بات چیت کا محاورہ بھی پیدا ہوگیا۔</p>
<h3>انور پاشا اور تحریک ریشمی رومال</h3>
<p>بیسویں صدی کے آغاز میں برپا ہونے والی ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ برعظیم پاک و ہند کی تاریخ آزادی کا اہم باب ہے۔ اس تحریک کو حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ جیسے عالم باعمل اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ جیسے سیماب صفت بزرگان کی رہنمائی حاصل تھی۔ تحریک کا بنیادی ہدف انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے 1905ء سے 1914ء تک متواتر 9 سال منصوبہ بندی کی جاتی رہی۔ اس سلسلے کا سب سے اہم قدم حکومتِ ترکی سے معاہدہ تھا، جس کے مطابق ترک افواج کو براہ افغانستان مقررہ تاریخ (19 فروری 1914ء) کو ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا۔ یہ معاہدہ شیخ الہند مولانا محمودالحسن اور ان کے رفقا کی انور پاشا اور جمال پاشا (مملکتِ ترکی کے جنوبی اور غربی محاذ کے کماندار) سے مدینۃ المنورہ میں ملاقات کے بعد طے پایا تھا۔</p>
<p>اس معاہدے کے مطابق ترکی کے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے ہی ٹھیک اسی تاریخ کو ہندوستان کے طول و عرض میں سرکارِ انگلشیہ کے خلاف بغاوت برپا ہونی تھی، مگر یہ ساری تحریک کامیابی کے آخری لمحات میں غداری کا شکار ہوگئی۔</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/4OAf_jBdvWw" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-4/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-4/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – تیسری قسط</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/t8AQMKgtpSA/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-3/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 07 Jan 2012 09:34:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عبد الخالق بٹ</dc:creator>
				<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[سلطنت عثمانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[غازی انور پاشا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1779</guid>
		<description><![CDATA[غازی انور پاشا شہید پہلی اور دوسری قسط کمیونسٹوں سے جنگ اور شہادت: انور پاشا نے اپنے قول کو نبھایا اور اناطولیہ سے پرے رہتے ہوئے اپنی مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انور پاشا باطوم سے تفلس، باکو، عشق آباد اور مرو کے راستے بخارہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکستان پر کمیونسٹ روس کے ممکنہ حملے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>غازی انور پاشا شہید <a href="http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-1/">پہلی </a>اور <a href="http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-2/">دوسری قسط</a> </p>
<h3>کمیونسٹوں سے جنگ اور شہادت:</h3>
<p>انور پاشا نے اپنے قول کو نبھایا اور اناطولیہ سے پرے رہتے ہوئے اپنی مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انور پاشا باطوم سے تفلس، باکو، عشق آباد اور مرو کے راستے بخارہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکستان پر کمیونسٹ روس کے ممکنہ حملے کی صورت میں مختلف گروہوں کو مزاحمت پر آمادہ کیا۔ کمیونسٹوں کے خلاف کارروائی کے دوران انور پاشا کو’’<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/بسماچی تحریک" target="_blank" >بسماچی</a>‘‘ ازبکوں کے ایک مقامی رہنما نے گرفتار کرلیا، جہاں انور پاشا کو تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ’’ایشاں سلطان‘‘ کی زیر قیادت بسماچیوں کے ایک دوسرے گروہ نے رہا کروایا۔ رہائی پاتے ہی انور پاشا نے دو سو تاجک مجاہدوں کے ساتھ دوشنبے میں موجود روسی افواج پر حملہ کردیا، یہ حملہ اچانک اور اس قدر زوردار تھا کہ روسی افواج کو دوشنبے خالی کرنا پڑا۔</p>
<p><span id="more-1779"></span></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Ismail_Enver_Pasha.jpg"><img class="alignleft" title="اسماعیل انور پاشا" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Ismail_Enver_Pasha.jpg" alt="اسماعیل انور پاشا" width="193" height="274" /></a></p>
<p>19 فروری 1922ء کو مفرورین کے تعاقب میں انور کا بازو زخمی ہوگیا۔ روسیوں کے خلاف کامیابی کے نتیجے میں بہت سے مسلح افراد انور پاشا سے آملے، مگر 28 جون 1922ء کو ’’کافران‘‘ کے معرکے میں انور پاشا کی عدم کامیابی کے ساتھ ہی یہ لوگ جس تیزی سے جمع ہوئے تھے اسی تیزی سے منتشر ہوگئے۔ انور پاشا نے مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بسماچیوں کے ایک قائد ’’دانشمندبک‘‘ سے مل کر 4 اگست 1922ء کو’’ چکن‘‘ نامی گاؤں کے قریب روسی فوج پر جوابی حملہ کیا، روسی فوجی عددی اعتبار سے کہیں زیادہ تھے، خود انور پاشا نے رسالے کی کمان سنبھالی، وہ توپوں کی باڑ سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ گولہ باری کی زد میں آگئے اور وہیں مرتبۂ شہادت پایا۔ دانشمندبک نے انور پاشا کو بچانے کی کوشش میں جان دے دی۔ 5 اگست 1922ء کو ’’چکن‘‘ میں ہی انور پاشا کی تدفین عمل میں آئی۔</p>
<p>غازی انور پاشا نے چالیس سال، آٹھ مہینے اور تیرہ روز کی عمر میں مرتبۂ شہادت پایا۔ آپ کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہ تھا جو ملت ِ اسلامیہ کی بہبود کے لیے فکر و تدبیر اور ایثار و جانبازی سے خالی گزرا ہو۔</p>
<h3>غازی انور پاشا شہید ؒ کا آخری خط</h3>
<p>غازی انورپاشا (ولادت:1898ء۔شہادت: 4اگست 1922ء) ترکی کی اُن عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی دشمنانِ اسلام کے خلاف رزم آرائی میں گزری، آپ وسط ایشیا میں روسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے مرتبہ شہادت پر سرفرا زہوئے، اپنی شہادت سے ایک دن قبل آپ نے اپنی اہلیہ ناجیہ سلطانہ (1898ء۔ 1957ء)کو ایک خط لکھا جس کے ہر حرف اور ہر لفظ سے اللہ کی محبت، اسلام سے بے پناہ عقیدت اور اپنی اہلیہ سے بھرپور اُلفت کا اظہار نمایاں ہے۔ اولاًیہ خط ترکی کے اخبارات میں شائع ہوا، اور بعدازاں 22اپریل 1923ء کو ہندوستان کے اخبارات کی زینت بنا۔</p>
<p>دل کو چھولینے والا یہ خط آج نوے سال بعد بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے اور انھیں عظیم خلافت ِ اسلامیہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی جھلک دِکھاتا ہے۔</p>
<blockquote><p>عزیزم ناجیہ!</p>
<p>میری رفیقہ حیات اور سرمایہ عیش و نشاط پیاری ناجیہ! اللہ تمہارا نگہبان ہے، اس لمحے تمہارا آخری خط میرے سامنے ہے، یقین کرو، تمہارا یہ خط ہمیشہ میرے دل کے پاس رہے گا، یوں تو فی الوقت میں تمہیں دیکھ نہیں سکتا، تاہم خیمہ میں موجود دھندلکے کے باوجود اس خط کے بین السطور مجھے تمہارا چہرہ دکھائی دے رہا ہے، اس خط کے لفظوں میں تمہاری خوبصورت انگلیاں حرکت کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جن سے تم میرے بالوں سے کھیلا کرتی تھیں، اکثر تمہاری تصویر میری نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔</p>
<p>تم نے لکھا ہے کہ میں نے تمہیں بھلا دیا ہے، مجھے تمہاری محبت کی کوئی پروا نہیں اور میں تمہارا پیار بھرا دل توڑ کر تم سے دور یہاں آگ اور خون سے کھیلنے چلا آیا ہوں، اور یہ کہ مجھے ذرا پروا نہیں کہ ایک عورت میرے فراق میں رات بھر تارے گنتی رہتی ہے۔</p>
<p>تم کہتی ہو کہ مجھے جنگ سے محبت اور شمشیر سے عشق ہے۔ مجھے احساس ہے کہ تم نے جوکچھ بھی لکھا ہے خلوص دل سے لکھا ہے، اس خط کے حرف حرف سے میرے لیے گہری محبت اور اخلاص چھلکتا ہے، مگر میں تمہیں کس طرح یقین دلاؤں (کہ الفاظ کفایت نہیں کرتے) تم مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہو، تم میری محبت اور چاہت کی معراج ہو، میں نے تم سے پہلے کسی کو بھی نہیں چاہا، ایک تم ہی ہو جس نے مجھ سے میرادل چھین لیا ہے۔</p>
<p>میری راحت ِ جاں! تمہیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ پھر میں تم سے جدا کیوں ہوں ؟</p>
<p>توسنو! ’’میں تم سے اس لیے جدا نہیں ہوں کہ مجھے مال ودولت کی حرص ہے اور نہ ہی میں اس لیے تم سے دور ہوں کہ میں اپنے لیے کسی تخت ِ شاہی کی تمنا رکھتا ہوں جیسا کہ میرے بدخواہوں نے مشہور کر رکھا ہے۔ میں تم سے صرف اس لیے جدا ہوں کہ مجھے یہاں (اس میدان جنگ میں) اللہ کا حکم کھینچ لایا ہے، یہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ عظیم ذمہ داری جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ یہ وہ فرض ہے جس کی محض نیت ہی انسان کو جنت الفردوس کا حقدار بنادیتی ہے اور الحمدللہ! میں اس فرض کی ادائیگی کی نیت ہی نہیں رکھتا بلکہ عملاً میدانِ جہاد میں موجود ہوں۔تمہاری جدائی میرے لیے تلوار کی مانند ہے جو ہر آن میرے دل کے ٹکڑے کیے جاتی ہے، لیکن اس کے باجود میں اس جدائی پر خوش ہوں ،کیونکہ یہ تمہارا سچا پیار ہی ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی راہ میرے لیے آزمائش ثابت ہو سکتا تھا۔</p>
<p>میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس امتحان میں سُرخرو کیا اور میں اپنی محبت اور اپنے نفس کی خواہش پر اللہ کی محبت اور اُس کے حکم کو مقدم رکھنے میں کامیاب رہا۔ میری جان! تم کو اس مسرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا انتہائی شکرگزار ہونا چاہیے کہ تمہارے شوہرکو ایسا مضبوط ایمان ملا ہے کہ وہ خود تمہاری چاہت کو بھی اللہ کی محبت پر قربان کرسکتا ہے۔ یوں تو تم پر جہاد بالسّیف فرض نہیں ہے، مگر میری جان تم اس سے مستثنیٰ بھی نہیں ہو، مسلمان مرد ہو یا عورت کوئی بھی جہاد سے معذور نہیں ہے۔</p>
<p>تمہارا جہاد یہ ہے کہ تم اپنی محبت اور خواہش پر اللہ کی محبت کو ترجیح دو اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اور اپنے شوہر کے درمیان رشتہ الفت کو پہلے سے بڑھ کر مضبوط کرو۔ دیکھو! تم یہ دعا نہ کرنا کہ’’ تمہارا شوہر میدانِ جنگ سے صحیح و سلامت تمہاری آغوشِ محبت میں لوٹ آئے‘‘، کیونکہ یہ دعا خود غرضی پر مبنی ہے اور اللہ اس سے خوش نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف تم یہ دعا کرتی رہو کہ ’’اللہ تمہارے شوہر کے جہاد کے قبول فرمائے اور اسے کامیاب وکامران لوٹائے یا جام شہادت نوش کرائے۔ میری جان تم تو جانتی ہو کہ ان لبوں نے کبھی شراب نہیں چکھی، یہ ہمیشہ تلاوت ِقرآن ِ پاک سے تر اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مصروف رہے ہیں۔</p>
<p>پیاری ناجیہ! وہ لمحہ کتنا مبارک ہوگا جب وہ سر جسے تم خوبصورت کہتی ہو، راہ خدا میں تن سے جدا کردیا جائے گا، اس تن سے جو تمہاری نظر میں کسی دوسرے سپاہی کا نہیں بلکہ تمہارے اپنے کا ہے۔انورؔ کی یہ تمنا ہے کہ وہ مرتبہ شہادت پائے اور روز آخرت وہ حضرت خالدبن ولیدؓ کے ساتھ ہو۔ یہ دنیا عارضی ہے، موت کو تو بہر صورت آنا ہے، تو پھر موت کا خوف کیسا؟ جب موت یقینی ہے تو پھر جان بستر پر کیوں دی جائے؟ یہ جان اللہ کی راہ میں کیو ں نہ نثار کی جائے کیونکہ شہادت کی موت حقیقت میں موت نہیں بلکہ زندگی ہے، ایک لازوال زندگی۔</p>
<p>سنو ناجیہ! اگر میں شہید ہوجاؤں تو تم لازمی میرے بھائی نوری پاشا سے شادی کرلینا۔ مجھے تمہارے بعد نوریؔ بہت عزیز ہے۔ یہ میری خواہش ہے کہ میری شھادت کے بعد وہ زندگی بھر صدق دل سے تمہارا خیال رکھے۔ میری دوسری خواہش یہ کہ تمہاری جو بھی اولاد ہو (ناجیہ سلطانہ اس وقت امید سے تھیں) تم اُن کو میری زندگی کے بارے میں بتانا اور انھیں جہاد اسلامی میں شرکت کے لیے میدانِ جنگ روانہ کرنا۔ یاد رکھو اگر تم نے میری خواہش کا احترام نہیں کیا تو میں جنت میں تم سے روٹھ جاؤں گا۔ میری تیسری نصیحت یہ کہ مصطفیٰ کمال پاشا کی ہمیشہ خیر خواہ رہنا، ان کی ہر ممکن مدد کرتی رہنا کیونکہ اس وقت وطن کی نجات اللہ نے اس کے ہاتھ میں رکھ دی ہے۔</p>
<p>الوداع…… میری جان الوداع! نہ جانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ اس خط کے بعد میں تمہیں کبھی خط نہیں لکھ سکوں گا، کیا عجب کہ میں کل ہی شہید ہوجاؤں۔دیکھو! صبر کرنا، میری شہادت پر غمزدہ ہونے کے بجائے خوشی منانا کیونکہ میرا اللہ کی راہ میں کام آجانا تمہارے لیے بھی اعزاز ہے۔</p>
<p>ناجیہ! اب رخصت چاہتا ہوں مگر اس سے قبل عالم خیال میں تمھیں گلے لگاتا ہوں۔ انشاء اللہ اب ہم کبھی نہ جدا ہونے کے لیے جنت میں ملیں گے۔</p>
<p>تمہارا انور</p></blockquote>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/t8AQMKgtpSA" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-3/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-3/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – دوسری قسط</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/agCRYZeN4Y4/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-2/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 06 Jan 2012 05:16:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عبد الخالق بٹ</dc:creator>
				<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[سلطنت عثمانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[غازی انور پاشا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1770</guid>
		<description><![CDATA[غازی انور پاشا شہید &#8211; پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں جنگ بلقان: طرابلس میں اٹلی کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو بلقانی ریاستیں ترکی پر ٹوٹ پڑیں۔ ایسے میں انور پاشا کو ترکی واپس آنا پڑا۔ یورپ جس طرح طرابلس پر حملے کے وقت اٹلی کا پشتیبان تھا اسی طرح بلقانی ریاستوں کا پاسدار بن گیا۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>غازی انور پاشا شہید &#8211; <a href="http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-1/">پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں</a></p>
<h3>جنگ بلقان:</h3>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Enverpascha.jpg"><img class="alignleft" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Enverpascha.jpg" alt="انور پاشا" width="218" height="322" /></a>طرابلس میں اٹلی کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو بلقانی ریاستیں ترکی پر ٹوٹ پڑیں۔ ایسے میں انور پاشا کو ترکی واپس آنا پڑا۔ یورپ جس طرح طرابلس پر حملے کے وقت اٹلی کا پشتیبان تھا اسی طرح بلقانی ریاستوں کا پاسدار بن گیا۔ یہ دور خلافتِ عثمانیہ کے لیے بہت کٹھن ثابت ہوا، ترکی کو پے درپے شکست کا سامنا کرنا پڑا، مقدونیہ اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/تھریس" target="_blank" >تھریس</a> (تراقیا) چھن گئے، <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/ادرنہ" target="_blank" >ادرنہ</a> (ایڈریا نوپل) طویل محاصرے کے بعد سپرانداز ہوگیا۔ اور تو اور خود <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/استنبول" target="_blank" >استنبول</a> خطرے میں پڑگیا۔ اُس وقت کامل پاشا صدرِاعظم تھا، جسے عملاً برطانیہ کا کارندہ سمجھا جاتا تھا، اس کے ذریعے جنگ ملتوی کرواکر لندن میں صلح کی کانفرنس کا انتظام کیا گیا، جس میں قرار پایا کہ خلافتِ عثمانیہ مقدونیہ، تھریس کے وسیع علاقے، ادرنہ اور جزیرۂ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/اقریطش" target="_blank" >اقریطش</a> (کریٹ) سے دست بردار ہوجائے۔ 30 جنوری 1913ء کو کامل پاشا کی وزارت اس تجویز کو قبول کرنے والی تھی کہ انور پاشا جان پر کھیل کر اُس ایوان میں جاپہنچا جہاں وزارت کا اجلاس ہورہا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر پانچ سو سے زیادہ فوجی افسروں کے دستخط تھے۔ مطالبہ یہ تھا کہ یا تو جنگ جاری رکھی جائے یا وزارت مستعفی ہوجائے۔ وزیر جنگ ناظم پاشا، انور پاشا کو روکنے کے لیے آگے بڑھا، اس کے ایڈی کانگ نے گولی چلادی، جس سے انور پاشا بال بال بچے، مگر اُن کا ایک ساتھی مارا گیا۔ انور پاشا کے ساتھیوں کی جوابی فائرنگ سے ناظم پاشا مارا گیا۔ انور نے اندر پہنچتے ہی مطالبہ پیش کردیا یعنی جنگ جاری رکھی جائے یا استعفیٰ دے دیا جائے۔ کامل پاشا اور اس کے ساتھی مستعفی ہوگئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں محمود پاشا کی زیرصدارت نئی وزارت بن گئی، لندن میں صلح کی جو تجویز قرار پائی تھی، ٹھکرا دی گئی اور جنگ ازسرنو شروع ہوگئی۔ ترکوں نے پامردی کا ثبوت دیا، تھریس کا خاصا حصہ بچالیا گیا جبکہ ادرنہ کو بھی واگزار کروالیا گیا۔ اس مہم میں انور پاشا بنفس نفیس شریک ہوئے اور ادرنہ میں فاتحانہ داخل ہوئے۔</p>
<p><span id="more-1770"></span></p>
<p>زارِ روس، برطانیہ اور فرانس کی چیرہ دستیوں کے خلاف 2 اگست 1914ء کو جرمنی سے ایک معاہدہ کیا گیا۔ یہ معاہدہ اس قدر اہم اور خفیہ تھا کہ اس کا علم سعید حلیم پاشا، انور پاشا اور چند دیگر افراد کے سوا کسی کو بھی نہیں تھا۔</p>
<h3>جنگِ عظیم اول:</h3>
<p>1914ء میں برپا ہونے والی <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/جنگ عظیم اول" target="_blank" >جنگِ عظیم اوّل</a> میں ترکوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی شریک ہونا پڑا۔ اس دوران انور پاشا نے &#8220;تشکیلات مخصوصہ&#8221; کے نام سے ایک ادارہ سلیمان عسکری کے زیرانتظام قائم کیا جس نے مقدونیہ، طرابلس اور قفقاز وغیرہ میں گوریلا جنگ جاری رکھیٖ۔ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/کوت" target="_blank" >کوت العمارہ</a> (عراق) میں انگریزوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔</p>
<p>اثنائے جنگ جبکہ مختصر عرصے کے لیے اتحادی افواج استنبول پر قابض ہوگئی تھیں، طلعت پاشا، انور پاشا، جمال پاشا، ڈاکٹر ناظم اور انجمن اتحاد و ترقی کے دوسرے ممتاز ارکان برلن چلے گئے، ان کی عدم موجودگی میں اتحادیوں کے زیر اثر استنبول کی فوجی عدالت نے 5 جولائی 1919ء کو انور پاشا، طلعت پاشا، جمال پاشا اور ڈاکٹر ناظم کو سزائے موت سنادی۔</p>
<h3>ترک وطن اور مجاہدانہ سرگرمیاں:</h3>
<p>ترکِ وطن کے بعد انور پاشا تقریباً ساڑھے تین سال تک حیات رہے۔ اس دوران اُن کی جولانیٔ طبع نے کسی طور قرار نہ پایا۔ وہ عالم اسلام میں جذبۂ حریت کی آبیاری کرتے رہے۔ انہوں نے روس اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/وسط ایشیا" target="_blank" >وسط ایشیا</a> کے متعدد دورے کیے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو اداروں کی بنیاد رکھی۔ ایک کا نام ’’اسلام و استقلال جمہوریت لری اتحادی (انقلابی اسلامی انجمنوں کا اتحاد) تھا جسے ایک بین الملّی انقلابی ادارہ سمجھنا چاہیے، دوسرے کا نام ’’خلق شور الرفرقہ سی‘‘ (عوامی شورائی انجمن) تھا، جو پہلے ادارے کی ایک شاخ تھا۔</p>
<p>یکم ستمبر تا 9 ستمبر 1920ء کمیونسٹوں کے زیر اہتمام <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/باکو" target="_blank" >باکو</a> میں نمائندگانِ اقوام مشرق کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں انور پاشا لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش کے نمائندے کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ انور پاشا اپنی ان سرگرمیوں کے دوران <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/برلن" target="_blank" >برلن</a> اور وسط ایشیا آتے جاتے رہے، ایک مرتبہ ان کا طیارہ انجن کی خرابی کے باعث لتھووینیا میں اتر پڑا اور وہاں انہیں کئی ہفتے قید رکھا گیا، تاہم برلن کی مداخلت پر انہیں رہا کردیا گیا۔</p>
<p>انور پاشا کو یقین تھا کہ بالشویک اس تحریکِ آزادی کی مکمل حمایت کریں گے جو مصطفیٰ کمال پاشا کی زیر قیادت اناطولیہ میں شروع ہوچکی تھی، لہٰذا انہوں نے وزارتِ خارجہ روس سے اجازت لینا چاہی کہ ترک اسیرانِ جنگ اور مسلمانانِ قفقاز سے رسالے کے دو ڈویژن تیار کرکے انہیں اپنے زیر کمان <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/اناطولیہ" target="_blank" >اناطولیہ</a> لے جائیں اور تحریک استقلال کی حمایت کریں۔ انہوں نے برلن سے مجاہدینِ اناطولیہ کے لیے اسلحہ خریدنے کی بھی کوشش کی، تاہم ان سب اقدامات کے باوجود مصطفیٰ کمال کو انور پاشا کا اناطولیہ آنا اور تحریک میں حصہ لینا پسند نہ تھا۔ اس صورت حال میں انور پاشا نے ایک طویل مکتوب مصطفیٰ کمال کے نام بھیجا جس میں واضح کیا کہ خدا جانے میرے متعلق بے بنیاد شبہات کیوں پیدا ہوگئے ہیں؟…… آخر میں کہا کہ میں صرف باہر ہی سے قومی تحریک کے لیے ہر ممکن اعانت کروں گا۔</p>
<p><em>تحریر جاری ہے</em></p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/agCRYZeN4Y4" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-2/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز – پہلی قسط</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/4jab3rLRdvU/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 Jan 2012 07:05:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عبد الخالق بٹ</dc:creator>
				<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ طرابلس]]></category>
		<category><![CDATA[طرابلس]]></category>
		<category><![CDATA[علامہ اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[غازی انور پاشا]]></category>
		<category><![CDATA[فاطمہ بنت عبد اللہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1759</guid>
		<description><![CDATA[میانہ قد، سبک اندام،خوب صورت اور چمکدار آنکھیں ، شجاعت میں بے مثال، جوشِ عمل کا کوہِ گراں، نہایت خلیق، بردبار، شیریں گفتار، پیکرِ ایثار اور شرم وحیا، رفقا میں گہری اور پائیدار وفاداری پیدا کرلینے کے جوہر سے متصف، عوام کا محبوب اور حُبِّ ملت کے لیے مرتبۂ شہادت پر فائز ہونے والا بطلِ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میانہ قد، سبک اندام،خوب صورت اور چمکدار آنکھیں ، شجاعت میں بے مثال، جوشِ عمل کا کوہِ گراں، نہایت خلیق، بردبار، شیریں گفتار، پیکرِ ایثار اور شرم وحیا، رفقا میں گہری اور پائیدار وفاداری پیدا کرلینے کے جوہر سے متصف، عوام کا محبوب اور حُبِّ ملت کے لیے مرتبۂ شہادت پر فائز ہونے والا بطلِ جلیل۔ یہ ہیں اوصاف انور پاشا کے، جو خلافتِ عثمانیہ کے عہدِ زوال میں مہرِ اُمید بن کے طلوع ہوئے۔<br />
<span id="more-1759"></span></p>
<p>انور پاشا 22 نومبر 1881ء کو استنبول میں پیدا ہوئے، جہاں ثانوی تعلیم کی تکمیل کے بعد ’’ملٹری اکیڈمی‘‘ میں داخل ہوگئے، جہاں فوجی افسروں کے تربیتی نصاب کے علاوہ جنرل اسٹاف کا اعلیٰ نصاب مکمل کیا، اور جب 2 دسمبر 1902ء کو آخری امتحان ہوا تو آپ نے پوری جماعت میں دوسرا درجہ حاصل کیا۔ (پہلا درجہ انور کے گہرے دوست اسمٰعیل حقی پاشا …… 1879ء ۔ 1915ء…… نے حاصل کیا) اس زمانے میں عثمانی افواج سات بڑی افواج میں منقسم تھیں۔ انور کو تیسری فوج کے جنرل اسٹاف میں بطور کپتان مقدونیہ میں متعین کیا گیا۔</p>
<p>یہ وہ زمانہ تھا جب خلافت کے اربابِ بست و کشاد ہم عصر یورپ سے مقابلے کے لیے سیاسی ودفاعی سطح پرکسی بڑی تبدیلی کے حق میں نہیں تھے۔ درحقیقت وہ آئینِ نو سے ڈرے اور طرزِ کہن پر اَڑے بیٹھے تھے ،اور ’’جیسا ہے جہاں ہے‘‘ کے فلسفے پرعمل پیرا تھے،۔ اس صورتِ حال میں تبدیلی اور دفاعی و انتظامی شعبہ جات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے1889ء میں مناستر (مقدونیہ) میں ’’<a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/انجمن اتحاد و ترقی" target="_blank" >انجمن اتحاد و ترقی</a>‘‘ کی بنیاد ڈالی گئی، تاہم یہ انجمن اپنے اہداف کے حصول میں کوئی خاطر خواہ سرگرمی نہیں دکھا سکی، مگر جب غازی انور پاشا اس کا حصہ بنے تو انہوں نے اس میں گویا نئی روح پھونک دی، یہ انور پاشا کی شاندار مساعی کا نتیجہ تھا کہ ملک میں اصلاحات کی غرض سے سلطان عبدالحمید کو دستور بحال کرنا پڑا۔ مگر شاید سلطان نے یہ فیصلہ وقتی مصلحت کے تحت کیا تھاوہ دل سے اس پر راضی نہیں تھا، اسی لیے جب سلطان عبدالحمید کی جانب سے دستور کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی گئی تو مقدونیہ کی تیسری فوج نے حفاظتِ دستور کا فریضہ انجام دیا اور وہ محمود پاشا کی سرکردگی میں دارالخلافہ استنبول پہنچ گئی اور یوں سلطان عبدالحمید کی معزولی عمل میں آئی اور اُن کی جگہ اُن کے بھائی محمد رشاد خان ’’محمد خامس‘‘ کے لقب سے سریرآراء خلافت ہوئے۔ اس اقدام کے روح رواں انور پاشا تھے۔ دستور کی بحالی اور انتظامی شعبہ جات میں ہونے والی اصلاحات سے ترکی ایک نئے دور میں داخل ہوا۔</p>
<h3>جنگ طرابلس میں داد شجاعت:</h3>
<p>انور پاشا 1909ء میں برلن (جرمنی) کے ترک سفارت خانے میں بطور فوجی اتاشی متعین ہوئے جہاں آپ کو جرمنوں کی جنگی مہارت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران (1911ء) میں اٹلی نے طرابلس (لیبیا) پر حملہ کردیا۔ ایسے میں انور پاشا اس سفارتی عہدے سے مستعفی ہوگئے اور آزاد رضاکار کی حیثیت سے بھیس بدل کر طرابلس پہنچ گئے۔ اس مہم میں انور پاشا کے ساتھ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/مصطفیٰ کمال پاشا" target="_blank" >مصطفیٰ کمال پاشا</a> اور <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/عصمت انونو" target="_blank" >عصمت انونو</a> جیسے قابل ذکر افراد شریک تھے، چونکہ مصر پر برطانیہ قابض تھا اور اس نے ترک افواج کو طرابلس تک راہداری فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا، مجبوراً انور پاشا اور ان کے رفقائے کار کو بھیس بدل کر طرابلس پہنچنا پڑا۔ انور پاشا نے طرابلس میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا قابل فخر مظاہرہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب نوجوانوں کو تربیت دے کر اطالوی افواج کے خلاف صف بستہ کردیا، اس محاذ پر اٹلی کو زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<h3>جنگ طرابلس اور مسلمانانِ ہند:</h3>
<p>یہی وہ دور ہے جب اہلِ طرابلس کے عزم و ہمت، ترکوں کی اعانت، ہمدردی اور محبت کے ولولوں سے دنیائے اسلام نے نئی کروٹ لی اور خود پاک و ہند کے مسلمانوں میں ہمہ گیر بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔ جس زمانے میں جنگِ طرابلس جاری تھی، برصغیر کے مسلمانوں میں عمومی بے چینی پائی جاتی تھی۔ ’’اقبالؒ نے بھی اس خبر سے گہرا اثر قبول کیا۔ نظم ’’حضورِ رسالت مآبؐ میں‘‘ اسی زمانے کی یادگار ہے:</p>
<p style="text-align: center;">گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا<br />
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا<br />
قیودِ شام و سحر میں بسر تو کی لیکن<br />
نظامِ کہنۂ عالم سے آشنا نہ ہوا<br />
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو<br />
حضور آیۂ رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو</p>
<p>یعنی شاعر دنیا سے رخصت ہوکر، عالمِ خیال و تصور میں دربارِ رسالتؐ میں پہنچتا ہے تو آنحضورؐ پوچھتے ہیں:</p>
<p style="text-align: center;">نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا<br />
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تُو آیا؟</p>
<p>اقبال جواباً عرض کرتے ہیں:</p>
<p style="text-align: center;">حضورؐ! دہر میں آسودگی نہیں ملتی<br />
تلاش جس کی ہے، وہ زندگی نہیں ملتی<br />
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں<br />
وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی</p>
<p>یہ نظم انہوں نے شاہی مسجد لاہور میں منعقدہ ایک جلسے میں پڑھی تھی اور لوگوں کو رلایا تھا۔ اس موقع اور منظر کی جو تصویر ایک چشم دید گواہ حکیم محمد یوسف حسن (مدیر: نیرنگِ خیال) نے پیش کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے:</p>
<p>’’اس جلسے میں عام زندہ دلانِ لاہور کے علاوہ سر محمد شفیع، سر فضل حسین، میاں نظام الدین، مولوی محبوب عالم اور میاں عبدالعزیز جیسے مسلم راہ نما بھی موجود تھے۔ پہلے چند ریزولیوشن پڑھے گئے، پھر علامہ اقبال سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنا کلام سنائیں۔ ہجوم میں پندرہ بیس ہزار مسلمان ہوں گے۔ جوش کا یہ عالم تھا کہ جذبات پر قابو رکھنا محال ہورہا تھا۔ نظم پڑھنے سے پہلے سر محمد شفیع، میاں فضل حسین اور مولوی محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار نے بڑی آتشیں تقریریں کیں، جن میں اٹلی کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا تھا۔ جب علامہ نے نظم پڑھنی شروع کی تو مجمع پر ایک عجیب قسم کا سکوت طاری ہوگیا۔ اس وقت فرش پر ایک سوئی بھی گرتی تو آواز آتی۔ کلام کے علاوہ اقبال کی آواز میں ایک عجیب سوز تھا۔ حضرت علامہ نے مذکورہ نظم سنائی۔ علامہ نے جب پوری دل سوزی اور سرشاری سے یہ شعر پڑھا:</p>
<p style="text-align: center;">مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں<br />
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی</p>
<p>لوگوں کا تجسس بڑھا، سوال پیدا ہواکہ بھلا وہ کیا چیز ہوگی، جو جنت میں نہیں ملتی…… اس کے بعد علامہ نے یہ شعر پڑھا:</p>
<p style="text-align: center;">جھلکتی ہے تریؐ امت کی آبرو اس میں<br />
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں</p>
<p>تو مجمع بے قابو ہوگیا۔ چیخ و پکار، نالہ و بکا اور آہ و فغاں سے مسجد کی دیواریں لرزنے لگیں۔ اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے سے فضا گونجنے لگی۔ لوگ پاگلوں اور دیوانوں کی طرح کپڑے پھاڑنے لگے، کوٹ اتار کر پھینک دیے اور ٹوپیاں فضا میں اُچھال دیں۔ زمین پر اس طرح لوٹنے اور تڑپنے لگے جیسے ان کو کسی نے ذبح کرڈالا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی موت کے سانحے پر یا کسی بھی موقع پر ایسا دل خراش منظر اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔‘‘ </p>
<p>جنگِ طرابلس کے ضمن میں علامہ اقبال کی ایک اور نظم ’’فاطمہ بنتِ عبداللہ‘‘ کو بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔</p>
<p><em>تحریر جاری </em></p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/4jab3rLRdvU" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/ghazi-anwar-pasha-part-1/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>محترمہ کا ورثہ</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/zibqHKoVs6s/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/benazir-fourth-death-anniversary/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 29 Dec 2011 07:23:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[حاصل مطالعہ]]></category>
		<category><![CDATA[یاد ماضی]]></category>
		<category><![CDATA[بے نظیر بھٹو]]></category>
		<category><![CDATA[بے نظیر بھٹو قتل]]></category>
		<category><![CDATA[سید مودودی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1730</guid>
		<description><![CDATA[میرا تعلق ایسے گھرانے سے رہا ہے جس کے خون میں بھی پیپلز پارٹی بسی رہی ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی کہ بھٹو خاندان سندھی ہے۔ ہوش سنبھالا تو پایا کہ &#8216;جیے بھٹو&#8217; کے نعرے کو کلمے کی سی حیثیت حاصل ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ضیاء الحق کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرا تعلق ایسے گھرانے سے رہا ہے جس کے خون میں بھی پیپلز پارٹی بسی رہی ہے۔ اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی کہ بھٹو خاندان سندھی ہے۔ ہوش سنبھالا تو پایا کہ &#8216;جیے بھٹو&#8217; کے نعرے کو کلمے کی سی حیثیت حاصل ہے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ضیاء الحق کے طیارے کو پیش آنے والے جان لیوا حادثے کے بعد ہمارے گھر میں کتنی خوشی منائی گئی تھی اور بے نظیر کی شادی والے دن محلے میں مہندی کی کتنی بڑی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ بچپن کی اِن یادوں کے ساتھ جب شعور کی عمر میں قدم رکھا تو ایک ایک کر کے نظروں کے سامنے سے پردے ہٹنے لگے۔ صرف زبان کی بنیاد پر کسی کی حمایت میں کیسے کر سکتا ہوں؟ یہ تو دین کے احکامات کے علاوہ عقل کے بھی خلاف ہے اورانسانیت اور بنیادی اخلاقیات کے بھی۔ پھرعمر و شعور کی منازل جیسے جیسے طے ہوتی رہیں، دل و دماغ میں سے قوم پرستی کی پرتیں ہٹتی چلی گئیں (الحمد للہ)۔</p>
<p><span id="more-1730"></span>گھر میں والد مرحوم پیپلز پارٹی کی حمایت کیا کرتے تھے، گو کہ آخری دو انتخابات میں اس حد تک تو انہیں قائل کر دیا تھا کہ وہ ووٹ دینے ہی نہ جائیں، اس سے زیادہ ہم ان سے کچھ نہ کروا سکے لیکن والدہ محترمہ، جو سیاسی وژن رکھتی ہیں اور اِن معاملات پر بہت زبردست تجزیے بھی کرتی ہیں، ایک خاص حد سے زیادہ پیپلز پارٹی پر تنقید آج بھی برداشت نہیں کر پاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں کافی محتاط رہنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اب آپ خود ہی سمجھ جائیے کہ آج سے چار سال قبل جب بے نظیر بھٹو کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس کے بعد ہمارے گھر پر کیا عالم ہوگا۔ والد مرحوم زندہ تھے، گھر میں وہ صف ماتم بچھی ہوئی تھی کہ ہم جیسے &#8216;غیر پیپلوں&#8217; کا تو چائے پانی تک بند ہو چکا تھا۔ ہم &#8216;دفاعی پوزیشن&#8217; پر تھے بلکہ اگر کسی حد تک یہ بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ کسی حد تک ہمدردی جاگ رہی تھی اور آخر کیوں نہ ہوتی، قتل کی حمایت تو ہر گز نہیں کی جا سکتی چاہے دشمن کا بھی ہو۔ میری طرح ہمدردی کی یہ لہر ملک بھر میں پھیلی جس نے چند ماہ بعد پیپلز پارٹی کا بیڑہ پار لگایا اور وہ انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔</p>
<p>لیکن میرے دل سے ہمدردی کا یہ تاثر ختم کرنے میں خود محترمہ کا اپنا ہاتھ رہا جن کی آخری کتاب &#8216;مفاہمت: اسلام، جمہوریت اور مغرب &#8216; جس کا انگریزی نام Reconciliation: Islam, Democracy and West ان کے قتل کے محض چند ماہ بعد منظر عام پر آئی۔ جس کے اقتباسات سے اندازہ ہو گیا کہ محترمہ کی شخصیت اور سوچ کا دھارا کس رخ پر بہتا تھا اور نتیجتاً ان کی شخصیت کا تمام تر تاثر زائل ہو گیا۔ کتاب کیا کہیں، مسلم امہ کی چارج شیٹ یا پھر جھوٹ کا پلندہ کہیں تو زیادہ مناسب ہوگا بلکہ بقول ہمارے دوست جعفر حسین کے &#8220;حکومت میں داخلے کے لیے دیے گئے امتحان کا پرچہ ہے، جس میں ممتحن کو خوش کرنے والے جوابات گڑھے گئے ہیں&#8221;۔ اور یہی کتاب پڑھ کر دل میں اس رائی برابر ہمدردی کا بھی خاتمہ ہو گیا، جو بچپن کے جذباتی تعلق کی وجہ سے محترمہ اور بھٹو خاندان کے بارے میں تھی۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Reconciliation-Title.JPG"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Reconciliation-Title.JPG" alt="مفاہمت از بے نظیر بھٹو، سرورق" width="358" height="478" /></a></p>
<p>کتاب کا مخاطب واضح طور پر امریکہ کے مقتدر حلقے ہیں، اس لیے بارہا ایسا لگتا ہے کہ ان کی کتاب میں مسلمانوں کو بطور مجرم امریکہ کے سامنے کٹہرے میں پیش کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ محترمہ اس کتاب میں ایک بڑی عالمہ کے طور پر بھی ابھرتی دکھائی دیں جس میں انہوں نے دین اسلام کے بارے میں اپنی مفتیانہ آراء بھی پیش کی ہیں۔ پردے کے حوالے سے تو انہوں نے وہ &#8220;شاہکار واقعات&#8221; کتاب میں پیش کیے ہیں کہ دل حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگتا ہے۔ خصوصاً اپنے عہد شباب پر پہنچنے کے بعد والدہ نصرت بھٹو کی جانب سے برقعہ پہننے کی ہدایتاور جواب میں والد ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے بیوی کو جھڑک دینے کا واقعہ (صفحہ نمبر 43) پڑھ کو تو کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ محترمہ کیا ایران توران کی پھینک رہی ہیں۔ نصرت بھٹو مرحومہ نے خود جو &#8216;باپردہ&#8217; اور &#8216;باشرع&#8217; زندگی گزاری وہ سب کے سامنے عیاں ہے، تو انہوں نے کس منہ سے بے نظیر کو پردہ کرنے کو کہا ہوگا، اس کا تصور کیجیے اور کتاب سے حظ اٹھائیے۔</p>
<p>اس کے علاوہ اپنے دور حکومت میں سعودی عرب کا مفت تیل کھانے والے لوگ جب اپنی کتابوں میں سعودی &#8216;وہابی&#8217; حکمرانوں کو سخت گیر اور کٹر قرار دے کر دنیا بھر میں انتہاپسندی پھیلانے کا اہم عنصر گردانیں تو ایسے لوگوں کے لیے احسان فراموش اور مفاد پرست کہنے کے علاوہ اور کیا رہ جاتا ہے۔ اگر اتنے ہی نظریاتی اختلافات تھے تو اس وقت &#8216;مال مفت دل بے رحم والا معاملہ&#8217; کیوں تھا۔ کیا یہی وہ حالت نہیں ہے جسے منافقت کہتے ہیں؟ تو اس لیے ہماری نظر میں کتاب کا نام مفاہمت نہیں بلکہ منافقت ہونا چاہیے تھا۔</p>
<p>آپ کو شاید حیرت ہو لیکن مجھے ہر گز نہيں ہوئی ہے کہ کتاب میں وہابیوں کے مقابلے میں محترمہ نے شیعوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے، مجھے اس لیے یہ بات نہیں کھٹکی کیونکہ محترمہ خود بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی تھیں۔ محترمہ نے کتاب میں مسلمانوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کو &#8216;قتل عام&#8217; کا درجہ تک دے ڈالا ہے اور تو اور اس فرقہ وارانہ تشدد کو عراق اور افغانستان پر امریکی جارحیت کے قتل عام کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر انہوں نے مسلمانوں کو &#8220;مغرب پر فوری تنقید&#8221; اور &#8220;اپنے گریبان میں نہ جھانکنے&#8221; کا طعنہ بھی مارا ہے۔ بالکل یہی راگ ہمارے روشن خیال آج بھی گاتے ہیں۔ محترمہ اگر زندہ ہوتیں تو ہم یہ سوال کرتے کہ اس رویے کو ختم کرنے کے لیے انہیں عوام میں شعور اجاگر کرنے کا جتنا بڑا موقع ملا تھا، وہ شاید پاکستان کے کسی مولوی یا مذہبی جماعت کو نہیں ملا، پھرانہوں سے اس سلسلے میں کون سا تیر مارا؟ بلکہ الٹا وہی تیر مار دیا جس پر مہریں لگا لگا کر عوام نے ان کو منتخب کیا تھا، جی ہاں افغانستان میں طالبان کو قائم کر کے۔ حیرتناک طور پر کتاب میں محترمہ نے طالبان کے قیام کا تمام تر سہرا انتہائی خوبی کے ساتھ پاک فوج اور میاں نواز شریف کے سر باندھا ہے۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Reconciliation-By-BB-Page3.JPG"><img class="aligncenter" style="border: 1px solid black;" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Reconciliation-By-BB-Page3.JPG" alt="مفاہمت، از بے نظیر بھٹو صفحہ 3" width="419" height="287" /></a></p>
<p>البتہ میرے لیے یہ بات ہمیشہ حیرت کا باعث رہی ہے کہ کتنے بھی روشن خیال و آزاد خیال بن جائیں اور کتنے ہی اپنے آقاؤں پہلے روس اور بعد میں امریکہ کے تلوے اور جوتے چاٹیں، لیکن یہ شیعیت دماغ سے نہیں نکلتی۔ حلال و حرام، پردہ اور شراب کی حرمت جیسے اہم اسلامی احکامات کی کھلے عام خلاف ورزی حتیٰ کہ ان احکامات کا سرے سے انکار کرنے والے افراد بھی عزاداری جیسی فروعات کا کیسے دفاع کرتے ہیں یہ بات ہم جیسے &#8216;انتہا پسندوں&#8217; کے لیے ہضم کرنا کافی مشکل ہے اور اگر آپ اعتدال کا دامن تھام کر سوچیں تو آپ کو بھی بدہضمی کا عارضہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں محترمہ نے کتاب میں اپنے آقاؤں سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے سید قطب اور سید مودودی کو اسامہ بن لادن کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے، اور انہیں دہشت گردی کی تحریک کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے والا قرار دیا ہے (صفحہ 29)۔ بالکل اسی طرح جیسے آجکل ہر امریکی پیروکار کرتا آ رہا ہے یعنی Bash Qutb اور Bash Moududi ۔ خصوصاً کمال تو انہوں نے سید مودودی کے ضمن میں گفتگو میں کیا ہے جہاں انہیں ضیاء الحق کا روحانی باپ، وہابی پیسے کا سب سے بڑا وصول کنندہ اور اپنے والد کی حکومت کے خاتمے میں مودودی، آئی ایس ایس، پاک فوج اور ریاست کے پراسرار اتحاد کو محرک قرار دیا۔ اور اس تمام قضیے کے بعد پھر وہی گھسا پٹا پرانا الزام جو صفحہ نمبر 68 اور 69 پر موجود ہے کہ &#8220;مودودی نے قائد اعظم کو کافر قرار دیا تھا، مگر ہندوستان کے مسلمانوں نے مودودی کو مسترد کر دیا اور ان کے بجائے محمد علی جناح اور مذہب و سیاست کے متعلق ان کے زیادہ سیکولر نقطہ نظر کی حمایت کی۔&#8221;</p>
<p style="text-align: center;">&#8216;حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں&#8217;</p>
<p>یہ بات تو 1953ء میں اس حوالے سے قائم کردہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے بھی واضح ہو گئی تھی کہ قائد اعظم کو &#8216;کافر اعظم&#8217; احرارکے دریدہ دہن مظہرعلی اظہرتھا، لیکن اس کے باوجود محترمہ اور اس کے علاوہ تمام ہی نام نہاد &#8216;روشن وآزاد خیال&#8217; جس دریدہ دہنی کے ساتھ یہ الزام آج بھی مولانا پر عائد کرتے ہیں، وہ ان کی کمال بے غیرتی کا مظاہرہ ہے۔ جسٹس محمد منیر اور جسٹس ایم آر کیانی کی زیر قیادت اس کمیشن کے روبرو مظہر علی خود بھی پیش ہوئے تھے، اور اعتراف کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہیں۔</p>
<p>کمیشن نے 1953ء میں رپورٹ پیش کی تھی جس کے صفحہ نمبر 11 پر کچھ یوں لکھا ہے :</p>
<p style="text-align: left;">The authorship of couplet:</p>
<p style="text-align: center;">اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا<br />
یہ قائدِ اعظم ہے کہ ہے کافرِ اعظم</p>
<p style="text-align: left;">is attributed to Maulana Mazhar Ali Azhar, a leading personality in the Ahrar Organization. Who had the audacity to assert before us that he still held the view.</p>
<p>شاید محترمہ نے مظہر علی کا نام لینا اِس لیے مناسب نہ سمجھا کہ ان کی کوئی حیثیت و شہرت نہ تھی اور وہ اُن کے ہم مسلک بھی تھے، اور پھر مظہر کا نام لکھ کر محترمہ کو کون سا سیاسی فائدہ ہونا تھا؟ امریکہ سے نمبر حاصل کرنے کے لیے تو سید مودودی کا نام ہونا ضروری تھا۔ بہرحال، محترمہ نے دوبارہ اِسی صفحے پر کمالِ جسارت سے یہ بھی لکھا ہے کہ &#8220;مودودی نے میرے والد کی سیاست کو انتہا پسندوں کے ایجنڈے سے ہم آہنگ نہ پا کر 1970ء میں انہیں بھی کافر قرار دے دیا۔&#8221;اور اس سے بھی بڑا کمال اگلی سطر میں ہے کہ &#8220;1988ء میں جب میں نے وزیر اعظم کا انتخاب لڑا تو مودودی کی جماعت نے مجھے بھی کافر قرار دے دیا، بالکل ویسے جس طرح انہوں نے مجھ سے پہلے میرے والد کو قرار دیا تھا۔ &#8221;</p>
<p>یعنی کہ اک ایسی شخصیت کے خلاف وہ الزام دروغ گوئی کے ساتھ لگایا جا رہا ہے جو پوری زندگی فتووں کی فیکٹریوں کے خلاف جدوجہد کرتی رہی۔</p>
<p>جہاں تک میری بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ سید مودودی کی اِس تمام تر مخالفت کی ایک بہت بڑی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ سیکولر حلقوں کی “علمی بنیادوں”پرجو ضربیں گزشتہ ایک صدی میں علامہ اقبال اور سید ابو الاعلیٰ مودودی نے لگائی ہیں، ویسی کسی نے نہیں لگائیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حلقے علامہ اقبال پر تو اُنگلی اٹھا نہیں پاتے کیونکہ وہ مصور پاکستان تھے اس لیے لے دے کر ان کی تان سیدمودودی پر ٹوٹتی ہے کیونکہ ان کا میدان نثر تھا اور وہ میدان عمل میں ایک تحریک کے ذریعے بھی موجود تھے جبکہ علامہ کا میدان شاعری تھا اور وہ کسی تحریک کے بانی و سربراہ نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ سید مودودی زندگی بھر خود اس فتنۂ تکفیر کے خلاف رہے اور ان کی بندش چاہتے تھے، جس کا اندازہ اس آڈیو بک سے بھی ہو سکتا ہے۔</p>
<p><iframe src="http://www.youtube.com/embed/j7fMmhG49Lg?rel=0" frameborder="0" width="560" height="315"></iframe></p>
<p>خیر، گفتگو کا اختتام کرتے ہیں موجودہ دور میں پیپلز پارٹی کو ماننے والوں کی بھی عجیب کہانیاں ہیں۔ ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں جو صرف سندھی زبان کا رہنما ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی حمایت کرتے ہیں حالانکہ وہ طویل عرصے تک حکومت کے باوجود سندھ کو کچھ نہ دے سکی۔ ایسے بھی دیکھے ہیں جو تبلیغی جماعت کے ساتھ چلّے کاٹتے ہیں، داڑھیاں ناف تک بڑھاتے ہیں حتی کہ شیعہ کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ووٹ پیپلز پارٹی کو دیتے ہیں۔ دوسرے طرف وہ عجیب و غریب روشن خیال ہیں جن کی ہمدردیوں کا تمام تر محور قادیانی ہیں اور وہ یہ سوچے بغیر پیپلز پارٹی کی حمایت کرتے ہیں کہ یہی وہ جماعت تھی جس نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا تھا۔ تیسری طرف وہ نمونے ہیں جو صرف حریت فکر و نظر اور آزاد خیالی کے نظریے پر مرتے ہیں اور اسی لیے پیپلز پارٹی کے دم چھلے ہیں اس امر کو جانتے ہوئے بھی کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے امریکی ایماء پر افغانستان میں طالبان کو تخلیق کیا۔ واہ رے زمانے ترے رنگ نرالے!</p>
<p>محترمہ جاتے جاتے ورثے میں دو چیزیں چھوڑ کر گئیں، ایک مذکورہ بالا کتاب اور دوسری اپنی وصیت جس کا خمیازہ ہم آج بھی اپنے صدر مملکت کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔</p>
<p><em>یہ تحریر دو روز قبل یعنی محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے دن لکھی گئی تھی، لیکن گھر پر انٹرنیٹ کنکشن کی خرابی کے باعث اسے تاخیر سے شایع کر پایا۔ </em></p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/zibqHKoVs6s" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/benazir-fourth-death-anniversary/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>62</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/benazir-fourth-death-anniversary/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/dGiuNSoiqkc/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/aaya-hay-ramzan/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 01 Aug 2011 07:32:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[یاد ماضی]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان]]></category>
		<category><![CDATA[سلیم ناز بریلوی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1728</guid>
		<description><![CDATA[آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان فجر سے گھنٹوں پہلے ہر گھر میں ہے بیداری نیند سے سب کو نفرت ہے اور سحری سب کو پیاری بچے تک اٹھ بیٹھے، اللہ کی دیکھو شان ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;">آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان<br />
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان</p>
<p style="text-align: center;">فجر سے گھنٹوں پہلے ہر گھر میں ہے بیداری<br />
نیند سے سب کو نفرت ہے اور سحری سب کو پیاری<br />
بچے تک اٹھ بیٹھے، اللہ کی دیکھو شان<br />
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان<br />
آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان</p>
<p><span id="more-1728"></span></p>
<p style="text-align: center;">قبر میں کام نہ آئیں گے یہ سونا چاندی نوٹ<br />
اب بھی وقت ہے کرلو تم دور عمل کا کھوٹ<br />
اس رمضان میں پڑھ لو، تم تفہیم القرآن<br />
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان<br />
آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان</p>
<p style="text-align: center;">عصبیت کے جھگڑے اور سب فرقے بازی چھوڑو<br />
لادینی سازش کی ساری زنجیروں کو توڑو<br />
روز تراویحوں میں یہی کہتا ہے قرآن<br />
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان<br />
آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان</p>
<p style="text-align: center;">سندھی، پنجابی و مہاجر اور بلوچ، پٹھان<br />
سب کا ایک نبی ہے، اک کعبہ ہے، اک قرآن<br />
اک اللہ کے بندے بن سب اہل ایمان<br />
روزے رکھو، نفرت چھوڑو، بن جاؤ انسان<br />
دعا کرو سب مل کر میرا جیوے پاکستان<br />
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان<br />
آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان</p>
<p style="text-align: center;">اب دنیا داری چھوڑو، رحمت سے دامن بھر لو<br />
رات کی تنہائی میں رو رو کر توبہ کر لو<br />
جانے کب چھن جائیں، ناز اپنے جسم و جان<br />
ہر نیکی آزاد ہوئی اور قید ہوا شیطان<br />
آیا ہے رمضان، جاگ اٹھا ایمان</p>
<p style="text-align: center;">(شاعر: سلیم ناز بریلوی مرحوم)</p>
<p style="text-align: center;"><iframe src="http://www.youtube.com/embed/A1Eo8Syo_h4?rel=0" frameborder="0" width="425" height="349"></iframe></p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/dGiuNSoiqkc" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/aaya-hay-ramzan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/aaya-hay-ramzan/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>’آزاد صحافت‘ دہشت گردوں کی غلام</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/pUH1nbOhE8k/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/karachi-situation-and-role-of-media/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 14 Jul 2011 14:37:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاسیات]]></category>
		<category><![CDATA[Altaf Hussain]]></category>
		<category><![CDATA[faisal aziz khan]]></category>
		<category><![CDATA[karachi situation]]></category>
		<category><![CDATA[Target killings in Karachi]]></category>
		<category><![CDATA[wasim akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[zulfiqar mirza]]></category>
		<category><![CDATA[الطاف حسین]]></category>
		<category><![CDATA[ذوالفقار مرزا]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل عزیز خان]]></category>
		<category><![CDATA[وسیم اختر]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی حالات]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی میں ٹارگٹ کلنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1694</guid>
		<description><![CDATA[آج سے کوئی تین سال قبل میں پاکستان کے ایک بہت بڑے ٹیلی وژن چینل میں ملازمت کے لیے انٹرویو کی غرض سے گیا۔ انٹرویو لینے والے پینل میں چینل کے ڈائریکٹر نیوز اور شعبہ تحقیق کے سربراہ کے علاوہ ملک کے ایک معروف صحافی بھی شامل تھے، جو پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج سے کوئی تین سال قبل میں پاکستان کے ایک بہت بڑے ٹیلی وژن چینل میں ملازمت کے لیے انٹرویو کی غرض سے گیا۔ انٹرویو لینے والے پینل میں چینل کے ڈائریکٹر نیوز اور شعبہ تحقیق کے سربراہ کے علاوہ ملک کے ایک معروف صحافی بھی شامل تھے، جو پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی خدمات انجام دے چکے تھے اور انہیں اس چینل میں ملازمت اختیار کیے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ گو کہ میں نیوز روم میں سب ایڈیٹر کےعہدے کے لیے انٹرویو دینے گیا تھا لیکن وہاں دورانِ گفتگو یہ عقدہ کھلا کہ ادارے کو ضرورت شعبہ تحقیق (ریسرچ ڈپارٹمنٹ) کے لیے ایک فرد کی ہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ شعبہ تحقیق میں کام کر لیں گے؟ میرا جواب یہی تھا کہ میں نے آج تک کیا نہیں ہے اور نہ ہی مجھے تجربہ ہے کہ اس میں کام کس طرح ہوتا ہے۔ اس پر معروف صحافی نے کہا کہ شعبہ تحقیق کا کام یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی پروگرام میں کوئی مہمان آتا ہے تو اس کے لیے میزبان کو سوالات تیار کر کے دینا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی پروگرام میں وصی ظفر کو بلایا جاتا ہے تو ان سے جو سوالات پوچھے جائیں گے وہ سب شعبہ تحقیق بنا کر دیتا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کس طرح کے سوالات؟ انہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا &#8220;ایسے سوالات جو آگ لگا دیں&#8221;۔ یہ سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا اور بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ میرے خیال میں میڈیا کا کام آگ لگانا نہیں بلکہ آگ بجھانا ہے۔ میرا یہی جملہ بعد ازاں میرا انتخاب نہ ہونےکی وجہ بنا۔ لیکن اس انٹرویو سے مجھ پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ہمارے میڈیا کا کردار صرف اور صرف معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے اور گزشتہ 10 سالوں میں نجی ذرائع ابلاغ نے یہی &#8216;قومی خدمت&#8217; انجام دی ہے۔ <span id="more-1694"></span></p>
<p>اس ابتدائیے کے بعد تحریر کے آغاز سے قبل میں وضاحت کردوں کہ میں متحدہ قومی موومنٹ کو الگ اور اردو بولنے والوں کو الگ سمجھتا ہوں۔ تمام اردو بولنے والے متحدہ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی دہشت گردیوں میں ساتھی ہیں۔ اس لیے میں نیچے جہاں متحدہ لکھوں وہاں اس سے مطلب متحدہ ہی ہے نا کہ تمام اردو بولنے والے۔ </p>
<p>چند روز سے کراچی کے خراب حالات سب پر عیاں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سے مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ اب کراچی کے حالات خراب ہوں گے کیونکہ متحدہ کو حکومت میں شامل کرنے کا مقصد کراچی میں امن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کلاس کے سب سے بدمعاش لڑکے کو مانیٹر بنا دیا جائے۔ </p>
<p>بہرحال، اس دگرگوں صورتحال میں جب متحدہ دو محاذوں پر یعنی پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے نبرد آزما تھی، میڈیا مکمل طور پر ایک فریق کی حمایت کے لیے کمر بستہ ہو گیا۔ تمام چینلوں کے کیمرے و صحافی قصبہ کالونی اور کٹی پہاڑی پر نظریں جما کر بیٹھ گئے اور متحدہ کے زیر اثر علاقوں میں پٹھانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے مکمل طور پر نظریں چرائیں تاکہ متحدہ کو مظلوم اور پٹھانوں کو دہشت گرد ثابت کیا جائے۔ متحدہ سے وفاداری کا دوسرا ثبوت جیو نیوز نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار مرزا کے خلاف باقاعدہ مہم چلا کر پیش کیا تاکہ متحدہ کو اخلاقی برتری بھی حاصل ہو اور اس کی دوسری مخالف جماعت بیک فٹ پر چلی جائے۔ بتایا گیا کہ ذوالفقار مرزا نے جیو سے وابستہ چند صحافیوں کو پکڑ کر ان کو مارا، کیمرے توڑے اور ان کے کارڈز وغیرہ چھین کر لے گئے۔ اس واقعے کا کوئی ثبوت ان صحافیوں کے پاس موجود نہیں ہے لیکن اس کے ذریعے ذوالفقار مرزا کے خلاف بیانات کا ایک زبردست سلسلہ شروع ہو گیا جس کی واحد وجہ یہی ہے کہ موجودہ بزدل حکومت میں اگر کسی ایک بندے میں بولنے کا حوصلہ ہے تو وہ ذوالفقار مرزا ہے اور یوں چند روز ذوالفقار مرزا کے خلاف مہم چلائی اور اسے نام وہی دیا یعنی &#8220;آزادئ صحافت&#8221; اور مقصد سیاسی بلکہ صاف الفاظ میں کہا جائے تو متحدہ نوازی۔ </p>
<p>گزشتہ روز ذوالفقار مرزا ایک تقریب کے دوران کچھ زیادہ ہی بول گئے، جیسا کہ ان کی عادت ہے۔ تقریر میں انہوں نے ایک غلطی تو یہ کی کہ متحدہ کو مخاطب کرتے ہوئے تمام مہاجروں کو رگڑ گئے، جو اُن لاکھوں اردو بولنے والوں کی دل آزاری کا سبب بنا جو متحدہ سے وابستگی نہيں رکھتے لیکن اُن کے بیانات کے بعد کراچی میں جو بدمعاشی و غنڈہ گردی کا سلسلہ شروع ہوا اس پر بجائے یہ کہ ہمارا میڈیا اس دہشت گردی کی مذمت کرتا وہ مکمل طور پر دوسرے پلڑے کی جانب جھک گیا جیسا کہ اس کی متحدہ نواز پالیسی ہمیشہ رہی ہے۔ </p>
<p>ایم کیو ایم کے غنڈوں نے رات بھر شہر کراچی کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔ غریب لوگوں کی گاڑیاں نذر آتش کیں، دکانوں کو آگ لگائی، ٹھیلے جلائے، سڑکوں کو بند کیا، فائرنگ کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اس کے باوجودمیڈیا کے مطابق دودھ میں دھلے قرار پائے۔ </p>
<p>آپ لوگوں کو شاید یاد ہوگا کہ اب مسلم لیگ ن کی گود میں جا کر بیٹھنے والی متحدہ قومی موومنٹ چند ماہ قبل اسی جماعت کے ساتھ تنازع میں الجھی ہوئی تھی۔ جس میں متحدہ کے سرخیل رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ ترین اخلاقیات کا ثبوت دیا۔ متحدہ کی سب سے &#8216;رطب اللسان&#8217; شخصیت وسیم اختر صاحب نے یہ تک کہہ ڈالا کہ پنجاب کے ہر گھر میں مجرا ہوتا ہے اور انہوں نے چودھری نثار کو &#8216;سالا&#8217; کہا حتیٰ کہ دو بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے خلاف ایسی زبان تک استعمال کی جس کو سن کر فردوس عاشق اعوان کا سر بھی شرم سے جھک گیا ہوگا۔ </p>
<div class="wp-caption alignleft" style="width: 410px"><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/mqm-wallchalking-against-imran-khan.jpg"><img alt="" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/mqm-wallchalking-against-imran-khan.jpg" title="عمران خان کے خلاف کراچی میں وال چاکنگ کر کے متحدہ کے کارکنان نے اپنے اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا تھا" width="400" height="223" /></a><p class="wp-caption-text">عمران خان کے خلاف کراچی میں وال چاکنگ کر کے متحدہ کے کارکنان نے اپنے اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا تھا</p></div>
<p>لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود پنجاب میں احتجاجاً ایک گاڑی نہ جلی، کسی کو بے روزگار نہیں کیا گیا، اسٹاک ایکسچینج بند نہ ہوا، کاروبار زندگی کو مفلوج نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہاں موجود مہاجروں کو دھتکارا گیا۔اور اسی واقعے کے مقابلے میں آپ آج کا کراچی دیکھ لیں۔ذوالفقار مرزا کا بیان تو وسیم اختر کے بیان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود جس بدمعاشی و غنڈہ گردی کا مظاہرہ کل رات سے متحدہ کے کارکنوں کی جانب سے اور ساتھ ساتھ کراچی میں قائم تمام ٹیلی وژن چینلوں کی جانب سے کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ </p>
<p>ابھی کچھ ہی دیر قبل ذوالفقار مرزا سے منسوب ایک بیان ٹی وی پر نشر ہوا جس میں انہوں نے اردو بولنے والوں کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے ان سے معذرت کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بال کی کھال نکالنے کے بجائے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی جاتی لیکن ہمارے ٹیلی وژن چینلوں کا کردار دیکھیں۔ جیو ٹیلی وژن کے معروف متحدہ نواز صحافی فیصل عزیز خان چینل پر آ کر اس معذرتی بیان کی مین میخ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر کوئی دستخط نہیں ہیں اور یہ تک کہہ ڈالا کہ بیان جس طرح لکھا ہوا ہے اس طرح ذوالفقار مرزا بول کر دکھا دیں۔ بھائی فیصل! آپ کے قائد صاحب جو کانوں میں رس گھولنے والا خطاب کرتے ہیں، وہ کبھی اخبار میں چھپا ہوا دیکھا ہے؟ وہ حقیقی تقریر سے کتنا ملتا جلتا ہوتا ہے؟۔ </p>
<p>دوسری جانب دیکھ لیں مسلم لیگ ن کا جلسہ ہو یا پیپلز پارٹی کا وہاں چلنے والا اسلحہ تو انہیں فوراً نظر آ جاتا ہے لیکن مجھے بتائیے کہ کراچی میں جب بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو متحدہ کے غنڈوں کے ہاتھوں چلایا جانے والا اسلحہ کیوں ہمارے چینلوں پر نہیں آتا۔ حالانکہ اول الذکر پارٹیاں محض ہوائی فائرنگ پر اکتفا کرتی ہیں جبکہ متحدہ سیدھے فائر پر یقین رکھتی ہے۔ اورنگی میں متحدہ کے دہشت گردوں کی کھلی فائرنگ ہو یا عباسی شہید میں زخمی پختونوں کو قتل کر دینے کا واقعہ، لائنز ایریا میں درس قرآن کے دوران مدرس کو گولیاں مار کر قتل کر دینے کا دلخراش سانحہ ہو یا متحدہ کے زیر قبضہ علاقوں میں موجود پختون دکانداروں کو بے دخل کر دینے کا واقعہ آپ مجھے ایک چینل بتا دیں جس نے اِن واقعات کو رپورٹ کیا ہو۔ یہ سب اپنے مالی مفادات کے لیے متحدہ قومی موومنٹ نامی دہشت گرد جماعت کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جیو کا پروگرام &#8220;ہم سب امید سے ہیں&#8221; سالوں تک الطاف حسین کی نقل اتارنے کے لیے اجازت طلب کرتا رہا اور اب بھی اس لیے نشر کر پاتا ہے کیونکہ اس کی پوری ٹیم پنجاب میں ہے، اگر یہ پروگرام کراچی میں بن رہا ہوتا تو یونس بٹ نجانے کب کے شہید ہو چکے ہوتے۔ <!--more--></p>
<p>اِس وقت بھی آپ ٹیلی وژن چینل کھول کر دیکھیں اور کراچی میں متحدہ کے احتجاجی مظاہروں کےشرکاء کی آراء دیکھ لیں۔ میں نے خود دیکھا اور سنا ہے کہ متحدہ کے مظاہرے میں شریک ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ہم نے قلم پھینک کر ہتھیار اٹھا لیے تو پاکستان نہیں بچے گا۔ آپ شہر بھر میں آج کی گئی چاکنگ بھی ملاحظہ کر لیں جو متحدہ کے کارکنان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار کو واضح کر رہی ہے۔ یہ اخلاقی و ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا پر ہیں، ان کے برطانوی شہریت کے حامل رہنما سے لے کر نچلے درجے کے یونٹ انچارج تک سب کے سب۔ </p>
<p>ذوالفقار مرزا کا بیان واضح طور پر ایک جماعت کے خلاف تھا (گو کہ وہ بے موقع و محل اور انتہائی جذباتی تھا) لیکن جس جماعت کے خلاف تھا اس کی دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن ہمارے چینلوں نے اسے ایک قوم کے خلاف بیان میں تبدیل کر دیا اور کراچی شہر پر مسلط دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو عوامی ردعمل قرار دے دیا۔ یہ آزاد میڈیا ہے؟ اگر یہ آزادی ہے تو میں ایسی آزادی پر لعنت بھیجتا ہوں۔ یہی غلیظ ذہنیت کے حامل ٹیلی وژن چینل توہین رسالت کے خلاف مظاہروں پر تو خوب چیں بہ چیں ہوتے ہیں اور تحمل کے درس سمجھاتے ہیں لیکن &#8216;پیر صاحب&#8217; کی &#8216;توہین&#8217; پر اِن کا ردعمل دیکھیے۔ </p>
<p>ابھی کچھ دیر قبل مہاجر رابطہ کونسل ذوالفقار مرزا اور شاہی سید کو 48 گھنٹوں کے اندر شہر چھوڑ دینے ورنہ سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ کیا پاکستان میں حق و سچ کی آواز کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے؟ غنڈوں کی واضح اور کھلی دھمکیوں کو کوئی دھمکی بھی نہیں کہہ سکتا؟</p>
<p>پاکستان کا رہنے والا کوئی ذی حس و شعور رکھنے والا شخص متحدہ قومی موومنٹ جیسی دہشت گرد جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا الا یہ کہ اس کے دماغ میں قوم پرستی کا خناس بھرا ہوا ہو یا اس کے مالی و دیگر مفادات اس دہشت گرد جماعت سے وابستہ ہوں۔ نجانے &#8216;ابلاغی انقلاب&#8217; کا یہ ڈرامہ آخر کب تک چلے گا؟ اور نیوز چینل اور پوری قوم غنڈوں کے ہاتھوں کب تک یرغمال بنی رہے گی۔</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/pUH1nbOhE8k" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/karachi-situation-and-role-of-media/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>43</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/karachi-situation-and-role-of-media/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>چوہدری شجاعت حسین پھر جاگ گئے</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/GKEouq1WJmA/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/chaudhry-shujat-hussain-and-his-arbitrations/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 12 Jul 2011 21:29:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اسد احمد</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاسیات]]></category>
		<category><![CDATA[Akbar Khan Bugti]]></category>
		<category><![CDATA[Chaudhry Shujaat Hussain]]></category>
		<category><![CDATA[Dr. Abdul Qadeer Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Ghazi Brothers]]></category>
		<category><![CDATA[Laal Masjid]]></category>
		<category><![CDATA[MQM]]></category>
		<category><![CDATA[سردار اکبر بگٹی]]></category>
		<category><![CDATA[غازی برادران]]></category>
		<category><![CDATA[لال مسجد]]></category>
		<category><![CDATA[متحدہ قومی موومنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[چودھری شجاعت حسین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر عبد القدیر خان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1683</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں تقریباً نو سال تک ملکی معاملات چلانے کے لیے تشکیل دی گئی قومی ٹیم کے سینٹر فارورڈ اگر شوکت عزیز تھے تو فل بیک کی اہم پوزیشن چوہدری شجاعت حسین کے پاس تھی۔ جنرل مشرف نے اپنے کیرئیر میں بڑے بڑے معرکہ انجام دیے۔ اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں تقریباً نو سال تک ملکی معاملات چلانے کے لیے تشکیل دی گئی قومی ٹیم کے سینٹر فارورڈ اگر شوکت عزیز تھے تو فل بیک کی اہم پوزیشن چوہدری شجاعت حسین کے پاس تھی۔ جنرل مشرف نے اپنے کیرئیر میں بڑے بڑے معرکہ انجام دیے۔ اور بعض تو ایسے حیرت انگیز کہ عقل حیران رہ جائے۔ ایوب خان کے زمانے میں صرف چینی کی قیمت میں چند پیسوں کا اضافہ ہوا تو قیامت کھڑی ہو گئی تھی لیکن مجال ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے، محسن پاکستان کی نظر بندی تک، سینکڑوں پاکستانیوں کی گمشدگی سے ملکی حدود میں امریکی ڈرون حملوں اور نفع بخش قومی اداروں کی فروخت تک۔ کہیں کوئی حکومت مخالف تحریک کھڑی ہونے پائی ہو۔ دراصل ایوب خان کے پاس سینٹر فارورڈز تو بہت تھے لیکن چوہدری شجاعت حسین جیسا فل بیک نہیں تھا۔ یہاں حکومت بھنور میں پھنسی وہاں چوہدری صاحب حرکت میں آگئے۔<span id="more-1683"></span></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Shujaat-Hussain.jpg"><img alt="" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/Shujaat-Hussain.jpg" title="چودھری شجاعت حسین" class="alignleft" width="253" height="277" /></a> امریکا بہادر جب حکومت کے پرخلوص تعاون کے بعد خطے میں قدم جمانے میں کامیاب ہوا تو اسے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا خیال آیا۔ یقیناً دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فراخدلانہ پاکستانی تعاون کا اس سے اچھا صلہ کیا ہوسکتا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین کو یہ ذمے داری سونپی گئی کہ محسن پاکستان سے وسیع تر ملکی مفاد میں اعتراف جرم کرایا جائے۔ ڈاکٹر صاحب تیار نہ ہوئے تو چوہدری صاحب نے ملکی مفاد اور قومی سلامتی کا واسطہ دے کر ڈاکٹر صاحب کو راضی کیا۔ ساتھ آزادی صلب نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ لیکن بعد ازاں ملکی مفاد میں قوم کے محسن کو نظر بند کردیا گیا اور چوہدری صاحب ناراض بلوچ سرداراکبر بگٹی کو منانے کے نکل پڑے۔ </p>
<p>جلد ہی چوہدری صاحب مسئلے کے حل کی نوید سنانے لگے۔ اتفاق رائے کی باتیں ہونے لگیں۔ دوستوں نے سکھ کا سانس لیا کہ چلو روٹھے ہوئے مان گئے۔ لیکن پھر اچانک ایک آپریشن شروع ہوا اور پھر سردار اکبر بگٹی اس دنیا میں موجود نہ رہے۔</p>
<p>سردار صاحب کے بعد چوہدری صاحب کا ہدف تھے لال مسجد کے غازی برادران۔ معاملہ اپنی انتہا کو پہنچا تو چوہدری صاحب نے مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ اور پھر مذاکرات کی کامیابی کی خبریں نشر ہونے لگیں لیکن لال مسجد میں بھی وہی ہوا جو اسے سے پہلے ڈاکٹر خان اور اکبر بگٹی کے ساتھ ہوتا آیا تھا۔ </p>
<p>اب چوہدری شجاعت جیسے قیمتی مشیر کی موجودگی میں صدر مشرف کا اعتماد پورے عروج پر تھا اور اسی حد سے بڑھی خود اعتمادی میں وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے جا ٹکرائے۔ اس زبردست ٹکراؤ کے نتیجے میں جنرل صاحب کو شدید چوٹیں آئیں اور مرہم پٹی کے لیے ہمیشہ کی طرح چوہدری شجاعت کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ تو ہوا لیکن افتخار چوہدری ایک اعلٰی تعلیم یافتہ چوہدری تھے۔۔ لہٰذا یہاں دال گلنے کا سوال ہی نہ تھا۔</p>
<p>آج کل چوہدری شجاعت حسین مرحوم ظہور الٰہی کی روح کو ڈھیروں ثواب پہنچاتے ہوئے پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہیں اور صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے چوہدری صاحب کے شاندار ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں ایم کیو ایم کو منانے کی ذمے داری سونپی ہے۔ اب خدا جانے یہ ایم کیوایم کے ساتھ دوستی ہے یا دشمنی۔</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/GKEouq1WJmA" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/chaudhry-shujat-hussain-and-his-arbitrations/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/chaudhry-shujat-hussain-and-his-arbitrations/</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>نئی سیاسی فلم: مفاہمت سے منافقت تک</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/abushamil/blog/~3/3LA3nQ8fXh0/</link>
		<comments>http://www.abushamil.com/reconciliation-hypocrisy/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 12 Jul 2011 04:32:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
				<category><![CDATA[مہمان بلاگرز کی تحاریر]]></category>
		<category><![CDATA[MQM]]></category>
		<category><![CDATA[Muslim League N]]></category>
		<category><![CDATA[Muslim League Q]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani Politics]]></category>
		<category><![CDATA[ایم کیو ایم]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم لیگ ق]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم لیگ ن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز پارٹی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.abushamil.com/?p=1681</guid>
		<description><![CDATA[تحریر: حارث رقیب عظیمی (مہمان بلاگر) پرویز مشرف کی نو سالہ آمریت کے بعد خدا خدا کرکے وطن عزیز میں جمہوریت بحال ہوئی تو اسے دیگر چھوٹے چھوٹے امراض کے علاوہ شخصی آمریت اور بدعنوانی جیسے دو بڑے عارضے لاحق تھے۔ لیکن یہ تمام امراض و عوارض تو پچھلی جمہوریتوں میں بھی الحمدللہ موجود رہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center;">تحریر: حارث رقیب عظیمی</p>
<p style="text-align: center;">(مہمان بلاگر)</p>
<p>پرویز مشرف کی نو سالہ آمریت کے بعد خدا خدا کرکے وطن عزیز میں جمہوریت بحال ہوئی تو اسے دیگر چھوٹے چھوٹے امراض کے علاوہ شخصی آمریت اور بدعنوانی جیسے دو بڑے عارضے لاحق تھے۔ لیکن یہ تمام امراض و عوارض تو پچھلی جمہوریتوں میں بھی الحمدللہ موجود رہے ہیں۔ سو نئی جمہوریت کی یہ بڑی مشکل تھی کہ گزشتہ جمہوریتوں کے گناہوں میں اب کیسے اضافہ کیا جائے۔<span id="more-1681"></span></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/zardari-altaf.jpg"><img class="alignleft" title="آصف زرداری اور الطاف حسین" src="http://dl.dropbox.com/u/3336824/Blog/zardari-altaf.jpg" alt="" width="360" height="320" /></a></p>
<p>خدا کا کرم ہوا کہ ہمارے پیارے پاکستان کو اک ایسی دانائے راز شخصیت کی قیادت میسر آئی جس نے مفاہمت کی پالیسی کے تلے فنِ سیاست کی تمام خوبیوں اور اچھائیوں کو دفن کردیا۔ ابتداء این آر او سے ہوئی جس کو ماشا اللہ آمریت کی آشیر باد بھی حاصل تھی، اور انتہا کا تو نہ ہی پوچھیے۔ مفاہمت کے نام پر منافقت کا ہر ہنر آزمایا گیا۔ ایسے ایسے فقید المثال اتحاد وجود میں آئے جن سے سیاست، ریاست، سماجیات اور اخلاقیات سب شرما گئیں۔ مگر آفرین ہے ہمارے رہبروں اور رہنماؤں پر کہ ذرا جو حیا آئی ہو۔ مگر کیا کریں کہ سانجھے کی ہانڈی ہمیشہ چوراہے پر ہی پھوٹتی ہے۔</p>
<p>سو یہی ہوا پیار کی پینگیں بڑھاتی حکراں جماعت پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان۔ ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ کیا ہوئی، مفاہمت کی  ’ہ‘ غائب ہوکر درمیان میں ایک ’ق‘ چھوڑ گئی۔ اور سب جانتے ہیں کہ یہ قاف قائد اعظم کی نہیں بلکہ منافقت کی ہے۔ جس سے بانیان پاکستان کا دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔</p>
<p>ایک دوسرے کے قصیدے پڑھتی جماعتوں نے پھر وہ فضائل و مناقب بیان کیے جنہیں سن کر مفاہمت مارے شرم کے منافقت کے سمندر میں غرق ہوگئی۔</p>
<p>ایک دوسرے کو ٹوپیاں۔۔۔ یعنی سندھی ٹوپیاں پہناتے رہنماؤں نے آناً فاناً سروں سے دستار فضیلت کھینچ لی۔ پھر کوئی جیل میں مخالفین سے ملاقات کرتا اور ٹیلی فون لائنیں کاٹتا پکڑا گیا تو کوئی یہ یاد دلاتا رہا کہ یہ نہ بانوے ہے نہ پچانوے، چھیڑا گیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ منافقت کا یہ جامہ ابھی تار تار ہونا شروع ہوا ہی تھا کہ گرینڈ الائنس ایکسپریس ٹرین چلاتی نون لیگ کمشنری کے جنگل نما ویران اور چھوٹے سے اسٹیشن پر ہی متحدہ کا ساتھ چھوڑ گئی۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ ہم سب کو بے نقاب کریں گے، مزید صبر نہیں کرسکتے۔ جبکہ لفظ صبر سن کر اس لفظ کے مارے عوام ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور بے صبری کی منزل ایک قدم اور قریب آجاتی ہے۔</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/abushamil/blog/~4/3LA3nQ8fXh0" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.abushamil.com/reconciliation-hypocrisy/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://www.abushamil.com/reconciliation-hypocrisy/</feedburner:origLink></item>
	</channel>
</rss>

