<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<?xml-stylesheet type="text/xsl" media="screen" href="/~d/styles/rss2full.xsl"?><?xml-stylesheet type="text/css" media="screen" href="http://feeds.feedburner.com/~d/styles/itemcontent.css"?><rss xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/" xmlns:feedburner="http://rssnamespace.org/feedburner/ext/1.0" version="2.0">

<channel>
	<title>بلاعنوان</title>
	
	<link>http://bilaunwan.com</link>
	<description>سوچ کے سانچے میں الفاظ جو ڈھل جاتے ہیں - اردو بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 13 May 2012 19:57:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.2</generator>
		<atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="self" type="application/rss+xml" href="http://feeds.feedburner.com/bilaunwan" /><feedburner:info uri="bilaunwan" /><atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="hub" href="http://pubsubhubbub.appspot.com/" /><feedburner:emailServiceId>bilaunwan</feedburner:emailServiceId><feedburner:feedburnerHostname>http://feedburner.google.com</feedburner:feedburnerHostname><item>
		<title>ہم کس گلی جا رہے ہیں؟</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/dw44BpbzvwY/hum-kis-gali-ja-rahe-hain</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 13 May 2012 19:49:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات و واقعات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[مہاجر]]></category>
		<category><![CDATA[مہاجر صوبہ]]></category>
		<category><![CDATA[مہاجر صوبہ لبریشن آرمی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bilaunwan.com/?p=1871</guid>
		<description><![CDATA[ایک وقت تھا کہ جب ہم اپنے بڑے بوڑھوں سے کراچی میں ہونے واقعات کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ یہاں کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات کو  اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور کڑے وقتوں کو برداشت کیا ہے کہ جن کا آج کی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی۔ ان میں فرقہ وارانہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/u-DbpbamPM2becGwOpXT1ZIHtfM/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/u-DbpbamPM2becGwOpXT1ZIHtfM/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/u-DbpbamPM2becGwOpXT1ZIHtfM/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/u-DbpbamPM2becGwOpXT1ZIHtfM/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>ایک وقت تھا کہ جب ہم اپنے بڑے بوڑھوں سے کراچی میں ہونے واقعات کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ یہاں کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات کو  اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور کڑے وقتوں کو برداشت کیا ہے کہ جن کا آج کی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی۔ ان میں فرقہ وارانہ و لسانی فسادات کے دوران کھمبے بجنے اور گدھے جلائے جانے تک سبھی کچھ شامل ہے۔ گو کہ ہمیں اس طرح کی 'تاریخی داستانیں' سنانے والی آنکھیں کراچی کے اچھے حالات دیکھنے کی آس لیے تاریک ہوچکیں لیکن اس شہر میں آج بھی ویسا ہی ماحول، ویسی ہی بو، ویسا ہی ڈر اور ویسا ہی خوف محسوس ہوتا کہ جو اندوہناک واقعات سنتے ہوئے ہوتی تھی۔ بس فرق پڑا ہے تو صرف اتنا کہ پہلے جائز و ناجائز اور اچھے و برے کی تمیز تھی لیکن اب شاید وہ بھی ناپید ہوچکی ہے۔</p>
<p>زیادہ وقت نہیں گزرا کہ <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C_%D9%81%D8%B3%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%AA%D8%8C_%D9%85%D8%A6%DB%8C_2007%D8%A1" target="_blank">جب 12 مئی 2007ء</a> کو کراچی نے حکومتی سرپرستی میں پلے پوئے گِدھوں کو نہتے انسانوں کا شکار کرتے دیکھا۔ روشنیوں کے شہر کے لیے یہ دن کس قدر "تاریکی" حیثیت رکھتا ہے اس کا اندازہ ہر سال 12 مئی کو مقتولین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قاتلوں کی دہائیں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو اس روز غم کربلاء کا سا ماحول پیدا کرتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد مجرموں کو پکڑنا تو درکنار ذمہ اداروں سے یہ تک نہیں پوچھا گیا کہ وہ اس روز تماش بین کیوں بنے رہے؟ بہرحال! جب قانون کے لمبے ہاتھ ظالموں کا روکنے میں ناکام رہیں تو ظالم کے ہاتھ لمبے اور قانون کے چھوٹے پڑنے لگتے ہیں۔</p>
<p>چونکہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کے مجرم سرے عام گھومتے پھر رہے ہیں اس لیے مجھے کم از کم اس بات پر قطعاً حیرانی نہیں ہوگی اگر آنے والے وقتوں میں ہمیں اس طرح کے مزید واقعات دیکھنے کو ملیں۔ ازرائے تشفی جملے کے آخر میں خدانخواستہ لکھنا چاہتا ہوں لیکن حالیہ مہاجر صوبہ کی بازگشت کسی نئے فساد کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>صوبے کی تحریک کو عوامی بنانے کے لیے مہاجر صوبہ لبریشن آرمی نے کراچی میں وال چاکنگ، پوسٹرز، اور لٹریچرز تقسیم کیئے گئے وہ تو اپنی جگہ لیکن جس قسم کے <a href="http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain/mohajir-letter" target="_blank">خطوط سندھ کے اراکین اسمبلی کو بھیجے گئے</a> اس سے اس تحریک کے پیچھے چھپی سازشی سوچ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں مہاجر صوبے کے لیے کی جانے والی اس پمفلٹی دہشت گردی کا جواب حسب توقع <a href="http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain/mahajir-soba-reply" target="_blank">دھمکی آمیز اور غیر اخلاقی الفاظوں کا مجموعہ</a> چھاپ کر دیا گیا ہے جسے آپ کراچی کی دیواروں پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔</p>
<p>مذہبی شدت پسندی پر اٹھنے والی آوازیں اور انگلیاں نہ جانے اس غیر مذہبی / لسانی شدت پسندی پر کیوں خاموش اور فالج زدہ ہوجاتی ہیں کہ جو ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے اس شہر کا امن تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ صوبہ بنانے یا اس کے خلاف تحریک چلانے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن ہر قسم کے دنیاوی و اخلاقی قوانین سے ماوراء موجودہ شدت پسند تحاریک ہمیں ایک بند گلی کی جانب دھکیلنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی کہ جس کے آخر میں بربادی ہی اس شہر کا مقدر بنے گی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<div id="attachment_1883" class="wp-caption aligncenter" style="width: 561px"><a href="http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain/mohajir-letter" rel="attachment wp-att-1883"><img class=" wp-image-1883  " title="مہاجر صوبہ لبریشن آرمی کی جانب سے اراکین سندھ اسمبلی کو لکھا جانے والا خط" src="http://bilaunwan.com/wp-content/uploads/2012/05/mohajir-letter.jpg" alt="" width="551" height="589" /></a><p class="wp-caption-text">مہاجر صوبہ لبریشن آرمی کی جانب سے اراکین سندھ اسمبلی کو لکھا جانے والا خط</p></div>
<p>&nbsp;</p>
<div id="attachment_1886" class="wp-caption aligncenter" style="width: 498px"><a href="http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain/mahajir-soba-reply"><img class="size-full wp-image-1886   " title="مہاجر صوبے کے خلاف منظر عام پر آنے والا پمفلٹ" src="http://bilaunwan.com/wp-content/uploads/2012/05/mahajir-soba-reply.jpg" alt="" width="488" height="619" /></a><p class="wp-caption-text">مہاجر صوبے کے خلاف منظر عام پر آنے والا پمفلٹ</p></div>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/dw44BpbzvwY" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/hum-kis-gali-ja-rahe-hain</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>جوابِ ٹیگ</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/nQh2qUeHeZA/jawab-e-tag</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/jawab-e-tag#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 03 Jan 2012 16:52:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرق]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bilaunwan.com/?p=1825</guid>
		<description><![CDATA[سال 2009ء میں بلاگنگ کے آغاز سے پہلے میں کافی عرصے تک مختلف اردو بلاگز کا خاموش قاری رہا۔ اس دوران بلاگز کے درمیان ٹیگنگ کا بڑا دلچسپ سلسلہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں میری دلچسپی کی بڑی وجہ کئی نئے  بلاگز کا پتہ چلنا تھا۔ بعد میں اردو بلاگستان کا حصہ بنا تو محسوس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/q-LQkRkKiwirarJq2V6VIT7quhI/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/q-LQkRkKiwirarJq2V6VIT7quhI/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/q-LQkRkKiwirarJq2V6VIT7quhI/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/q-LQkRkKiwirarJq2V6VIT7quhI/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>سال 2009ء میں بلاگنگ کے <a href="http://bilaunwan.com/start" target="_blank">آغاز</a> سے پہلے میں کافی عرصے تک مختلف اردو بلاگز کا خاموش قاری رہا۔ اس دوران بلاگز کے درمیان ٹیگنگ کا بڑا دلچسپ سلسلہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں میری دلچسپی کی بڑی وجہ کئی نئے  بلاگز کا پتہ چلنا تھا۔ بعد میں اردو بلاگستان کا حصہ بنا تو محسوس ہوا کہ ٹیگنگ کا یہ سلسلہ دم توڑ چکا ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ بلاگرز کے درمیان <a href="http://bilaunwan.com/discrimination-model-promo" target="_blank">نظریاتی اختلافات میں شدت</a>، نامعلوم تبصروں میں اضافہ، ملک کے بدلتے سیاسی حالات یا پھر کچھ اور ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے کئی سوئے ہوئے بلاگرز کو جگایا اور کچھ کو لکھنے پر دوبارہ بھی اکسایا جاسکتا ہے۔</p>
<p>بہرحال، سال 2012ء کے ساتھ عمار ابن ضیاء نے <a href="http://www.ibnezia.com/2012/01/new-year-tag.html" target="_blank">ٹیگ کا نیا سلسلہ</a> شروع کیا تو اس میں مجھے بھی ٹیگ کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح پوچھے گئے سوال تو قطعاً مشکل نہیں معلوم ہوئے البتہ ان کے جوابات دینا کچھ مشکل لگ رہا ہے۔</p>
<p><strong>1۔ 2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟</strong><br />
ج۔ کسی اچھی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ بیرون ملک موقع ملا تو یہ نیا بھی ہوگا اور خاص بھی۔</p>
<p><strong>2۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟</strong><br />
ج۔ <a href="http://www.21122012.info/" target="_blank">21 دسمبر 2012ء</a> کو ہونے والے ڈومز ڈے کا انتظار ہے۔ <img src='http://bilaunwan.com/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=';)' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>3۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟</strong><br />
ج۔ بالآخر گریجویشن کرنے میں کامیاب ہوا۔ <img src='http://bilaunwan.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>4۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟</strong><br />
ج۔ خدا کا شکر ہے، پچھلے سال ایسی کوئی ناکامی نہیں ہوئی جو یاد ہو۔</p>
<p><strong>5۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟</strong><br />
ج۔ گزشتہ سال پہلی بار کسی <a href="http://bilaunwan.com/?s=%D8%B3%D9%88%D8%B4%D9%84+%D9%85%DB%8C%DA%88%DB%8C%D8%A7+%D9%88%D8%B1%DA%A9%D8%B4%D8%A7%D9%BE" target="_blank">سوشل میڈیا ورکشاپ</a> میں شرکت کا موقع ملا جو میرے لیے کافی دلچسپ اور یادگار بھی ثابت ہوا۔</p>
<p><strong>6۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟</strong><br />
ج۔ کچھ منصوبے وقت پر مکمل نہ کرپانے کے باعث نئے سال کی آمد کچھ 'جلدی' محسوس ہوئی۔ آخری روز بھی یہی خواہش رہی کہ کاش دسمبر 41 دن کا ہوتا۔</p>
<p><strong>7۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟</strong><br />
ج۔ موٹر سائیکل، گاڑی اور وقت ملا تو جہاز اڑانا بھی سیکھنا چاہوں گا۔</p>
<p>اب میں ٹیگ کے اس سلسلے میں <a href="http://omer-urdu.blogspot.com/" target="_blank">عمر بنگش</a>، <a href="http://inspire.org.pk/blog/" target="_blank">منیر عباسی</a>، <a href="http://yasirimran.wordpress.com/category/urdu/" target="_blank">یاسر عمران</a> اور <a href="http://azam.paigham.net/" target="_blank">وقار اعظم</a> کو شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہوں۔ ارادہ تو ایک آدھ سوال اپنی مرضی کا بھی شامل کرنے کا تھا لیکن چونکہ میرا بھی <a href="http://www.123newyear.com/2012/aquarius-horoscope.html" target="_blank">لکی نمبر سات</a> ہے، اس لیے اس سوالنامہ کو ویسا ہی رہنے دیا۔ <img src='http://bilaunwan.com/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/nQh2qUeHeZA" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/jawab-e-tag/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/jawab-e-tag</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (3)</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/47oKz9AK7QY/social-media-for-media-journalists-workshop-3</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-3#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 13 Nov 2011 07:56:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرق]]></category>
		<category><![CDATA[ورکشاپ]]></category>
		<category><![CDATA[پی پی ایف]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bilaunwan.com/?p=1792</guid>
		<description><![CDATA[(گزشتہ سے پیوستہ) ورکشاپ کا دوسرا روز بڑا اہم اور دلچسپ تھا کیوں اس دن پینل ڈسکشن میں ایکسپریس ٹریبیون کے مدیران جہانزیب حق اور فاریہ سید کے ساتھ ساتھ ڈان ڈاٹ کام کی سمیرا ججہ نے بھی حصہ لیا۔ ان کے علاوہ سوشل میڈیا کی دو معروف شخصیات عواب علوی اور فیصل کپاڈیا کو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/Jm9jDX097PTeq3DXq4ahQnolyk4/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/Jm9jDX097PTeq3DXq4ahQnolyk4/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/Jm9jDX097PTeq3DXq4ahQnolyk4/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/Jm9jDX097PTeq3DXq4ahQnolyk4/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>(<a href="http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-2">گزشتہ سے پیوستہ</a>)</p>
<p>ورکشاپ کا دوسرا روز بڑا اہم اور دلچسپ تھا کیوں اس دن پینل ڈسکشن میں ایکسپریس ٹریبیون کے مدیران <a href="http://twitter.com/jhaque_" target="_blank">جہانزیب حق</a> اور <a href="http://twitter.com/faria_syed" target="_blank">فاریہ سید</a> کے ساتھ ساتھ ڈان ڈاٹ کام کی <a href="http://twitter.com/sumairajajja" target="_blank">سمیرا ججہ</a> نے بھی حصہ لیا۔ ان کے علاوہ سوشل میڈیا کی دو معروف شخصیات <a href="http://twitter.com/DrAwab" target="_blank">عواب علوی</a> اور <a href="http://twitter.com/faisalkapadia" target="_blank">فیصل کپاڈیا</a> کو بھی شریک محفل ہونا تھا تاہم وہ اندرون سندھ متاثرین سیلاب کے لیے امدادی کاموں میں مصروفیت کے باعث شرکت نہ کرسکے۔</p>
<p>مہمانوں سے شرکاء اور شرکاء سے مہمانوں کے مختصر تعارف کے بعد گفتگو کا سلسلہ جہانزیب حق سے شروع ہوا جنہوں نے روایتی انداز میں پہلے <a href="http://tribune.com.pk/" target="_blank">اپنے اخبار</a> کی خوبیاں بیان کیں اور پھر انٹرنیٹ پر ایکسپریس ٹریبیون کو دیگر اخبارات پر قارئین کے اعتبار سے حاصل سبقت کا ذکر کیا۔ ورکشاپ کے موضوع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاگ ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی بھی صحافی یا دیگر پیشے سے وابستہ افراد کو ذاتی مواد رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ بلاگ کی مثال پیش کرتے ہوئے جہانزیب حق نے <a href="http://cafepyala.blogspot.com/" target="_blank">کیفے پیالا</a> اور <a href="http://pakmediablog.net/" target="_blank">پاک میڈیا</a> کا بطور معروف پاکستانی بلاگز حوالہ بھی دیا۔</p>
<p>جہانزیب حق نے بلاگ کو انفرادی حیثیت قائم کرنے اور کیرئیر کے فروغ یعنی پیشے میں ترقی حاصل کرنے کا بھی اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے بلاگز کے بارے میں بھی بتایا جن کے مصنفین خود کا ظاہر کیے بغیر لکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کافی مشہور ہوچکے ہیں۔ جہانزیب حق نے بلاگ کے ایک اہم پہلو کا ذکر کرتے ہوئے مثال دی کہ اگر ایک فوٹوگرافر کسی واقعہ یا جگہ کی دسیوں تصاویر لیتا ہے تو بھی اس کا اخبار زیادہ سے زیادہ ایک یا دو تصویر ہی لگائے گا اور اگر ٹی وی چینل ہے تو وہ بھی مخصوص وقت تک کا سلائیڈ شو لگائیں گے لیکن چونکہ بلاگز میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں، اس لیے آپ جتنی چاہیں اور جیسے چاہیں تصاویر باآسانی شائع کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ایکسپریس ٹریبیون ہی سے تعلق رکھنے والی فاریہ سید نے بھی بلاگ کی افادیت پر روشنی ڈالی اور ذرائع ابلاغ اورآن لائن میڈیا کے فرق کو بہت اچھے طریقے سے واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز اور دیگر الیکٹرانک میڈیا میں آپ کو مخصوص ٹائم جبکہ پرنٹ میڈیا میں مخصوص جگہ تک محدود رہنا ہوتا ہے جس سے اکثر اوقات خبر یا فیچر کی افادیت ختم بھی ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس ویب پر آپ کو نہ صرف وقت اور جگہ کی آزادی دیتا ہے بلکہ بذریعہ قلم، آواز اور تصویر کے بیک وقت تمام تر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ فاریہ نے ایک دلچسپ بات یہ کہی کہ عام طور پر اچھی خبر وہ سمجھی جاتی ہے جو عالمی سطح پر دلچسپی کی حامل جبکہ بلاگ میں زیادہ دلچسپی کا حامل وہ مواد ہوتا ہے جو مکمل تحقیق اور تصدیق کے بعد زمینی حقائق کو بیان کرے۔ مثلاً اگر ہم بلوچستان کی بات کریں تو اس موضوع پر جتنا اچھا بلاگ بلوچستان میں رہنے والا چلا سکتا ہے، اتنا کراچی، کسی اور شہر یا ملک کے بلاگر کے لیے ممکن نہیں ہے۔</p>
<p>فاریہ سید کی اس بات پر میں نے سوال کیا کہ اگر بلاگز کی دلچسپی کا معیار یہی ہے کہ اپنا مدعہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے درست انداز میں بیان کیا جائے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ لکھنے والا ایسی زبان میں بلاگنگ کرے کہ جس سے وہ اور اس کا مخاطب مکمل واقف ہو ناکہ ایسی زبان میں کہ جو اس کے لیے اجنبی ہو۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ گھریلو مسائل پر گھر کی خواتین اور کاروباری مسائل پر مرد حضرات یا کسی اور ملکی سیاسی و غیر سیاسی صورتحال پر اپنی مادری زبان میں زیادہ بہتر انداز سے تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے نا کہ انگریزی میں۔ فاریہ سید نے میرے نکتہ کی تائید کرتے اردو بلاگرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا جس کی جہانزیب حق نے بھی تائید کی۔</p>
<p>یہاں جہانزیب حق کی جانب سے اردو لکھنے میں مشکلات، فانٹس اور کی بورڈ کا ذکر ہوا تو میں نے پھر <a href="http://www.mbilalm.com/blog/pak-urdu-installer-en/" target="_blank">پاک اردو انسٹالر</a> کا حوالہ دیا۔ یہ بات بڑی ہی عجیب محسوس ہوئی کہ خود کو سیکنڈوں کے اعتبار سے اپڈیٹ رکھنے والے لوگ اب بھی 'اردو' لکھنے اور پڑھنے کو مشکل خیال کرتے ہیں۔ بہرحال! جب مہمان کچھ مطمئن نظر آئے تو میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے جہانزیب حق سے انگریزی ایکسپریس ٹریبیون کی طرح اردو روزنامہ ایکسپریس میں بھی ایک مخصوص حصہ بلاگز کے لیے وقف کرنے کی فرمائش کر دی جس پر جہانزیب نے کہا کہ آپ آئندہ چھ ماہ میں اس سے متعلق کافی پیش رفت دیکھ سکیں گے۔</p>
<p><a href="http://www.dawn.com/" target="_blank">ڈان ڈاٹ کام</a> کی مدیر سمیرا ججہ بلاگنگ اور آن لائن ذرائع ابلاغ کے بارے میں بہت سرگرم نظر آئیں۔ انہوں نے صحافیوں کو عام اخبار سے زیادہ آن لائن مضامین شائع کروانے کو ترجیح دینے کا کہا۔ سمیرا ججہ نے کہا کہ آن لائن پڑھنے، سننے اور دیکھنے والے کا فوری ردعمل حاصل کیا جاسکتا ہے جس سے مستقبل میں کام کرنے کے لیے نئے اور بہتر طریقے بھی سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر ادارے کو چاہیے کہ وہ آن لائن موجودگی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے وہاں موجود کئی صحافیوں سے بھی اخبار اور آن لائن کی افادیت پر بات چیت کی اور انہیں اپنی ویب سائٹ کے لیے بلاگنگ کرنے پر اصرار کیا۔</p>
<p>گفتگو کے دوران جہانزیب حق نے بتایا کہ عام طور پر بھی اگر <a href="http://tribune.com.pk/" target="_blank">ایکسپریس ٹریبیون</a> 50 ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے تو اس کی ویب سائٹ پر 70 ہزار وزٹ ہوتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ اخبار یا ٹی وی سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ اور آن لائن خبروں کے حصول میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت والے روز ایکسپریس ٹریبیون پر کئی گنا زیادہ لوگوں نے وزٹ کیا جو ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ کی تعداد بنتی ہے۔ کچھ یہی صورتحال ڈان اخبار کے ساتھ بھی رہی جسے اس روز عام دنوں سے 35 فیصد زیادہ حاضرین کی طرف سے دیکھا گیا۔</p>
<p style="text-align: left;">(جاری ہے)</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/47oKz9AK7QY" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-3/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-3</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (2)</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/k_Qe-2wTRSk/social-media-for-media-journalists-workshop-2</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-2#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 22 Oct 2011 15:19:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرق]]></category>
		<category><![CDATA[ورکشاپ]]></category>
		<category><![CDATA[پی پی ایف]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bilaunwan.com/?p=1747</guid>
		<description><![CDATA[(گزشتہ سے پیوستہ) اگلی صبح تقریباً آٹھ بجے کیفے میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر ورکشاپ ہال کی راہ لی۔ چند لوگ پہلے ہی وہاں موجود تھے اور کچھ بعد میں وہاں پہنچے جن میں نئے چہرے بھی نظر آئے۔ منظور علی اور اشرف الدین کی جوڑی، جن سے ہم گزشتہ رات ملاقات کر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/k1sLqJInP6o9NmGOzWP2VWTFUUk/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/k1sLqJInP6o9NmGOzWP2VWTFUUk/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/k1sLqJInP6o9NmGOzWP2VWTFUUk/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/k1sLqJInP6o9NmGOzWP2VWTFUUk/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>(<a href="http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-1">گزشتہ سے پیوستہ</a>)</p>
<p>اگلی صبح تقریباً آٹھ بجے کیفے میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر ورکشاپ ہال کی راہ لی۔ چند لوگ پہلے ہی وہاں موجود تھے اور کچھ بعد میں وہاں پہنچے جن میں نئے چہرے بھی نظر آئے۔ <a href="http://www.facebook.com/manzoorali" target="_blank">منظور علی</a> اور <a href="http://www.facebook.com/ashrafuddin.pirzada" target="_blank">اشرف الدین</a> کی جوڑی، جن سے ہم گزشتہ رات ملاقات کر چکے تھے، 9 بجے کے بعد پہنچی۔ وجہ معلوم کی تو اشرف الدین نے بتایا کہ منظور علی کو کل رات بخار ہوگیا تھا۔ یہ بات تو بعد میں پتہ چلی کہ خود منظور علی کو اس کا علم نہیں تھا کہ انہیں کب بخار ہوا اور کب خودبخود اتر بھی گیا۔</p>
<p>بہرحال، ورکشاپ کے منتظم <a href="http://www.facebook.com/profile.php?id=100000107998170" target="_blank">لالا حسن</a> (پی پی ایف) نے باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اپنا اور <a href="http://www.facebook.com/PakistanPressFoundation" target="_blank">پی پی ایف</a> کا مختصر تعارف کروایا۔ یوں ورکشاپ کی شروعات تو ہوگئی لیکن شرکاء کے تفصیلی تعارف کا اہم مرحلہ ابھی باقی تھا۔ اس کام کے لیے ہماری انسٹرکٹر <a href="http://sundusrasheed.blogspot.com/" target="_blank">سندس رشید</a> نے بڑا دلچسپ طریقہ اپنایا۔ چونکہ پہلے روز ہر کوئی اپنی جان پہچان والے کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے انہوں نے ہر دوسری نشست پر بیٹھنے والے کو اپنی نشست سامنے بیٹھے شخص سے تبدیل کرنے کا کہا۔ یوں وہ ترتیب جو شرکاء کی مرضی سے بنی تھی بالکل تبدیل ہوگئی۔ اب انہوں نے ورکشاپ کے تمام شرکاء کو کہا کہ وہ اپنے تعارف اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے کروائیں اور پھر دونوں ایک دوسرے کے بارے میں باقی شرکاء کو بتائیں گے۔</p>
<p>مجھے ذاتی طور پر یہ طریقہ بہت پسند آیا۔ اس سے نہ صرف تمام شرکاء میں ہچکچاہٹ کا خاتمہ ہوا بلکہ ورکشاپ کا ماحول بھی خوشگوار ہوگیا۔ اسے حسن اتفاق کہیں کہ میرے ساتھ جو شخصیت بیٹھی، یعنی جس کا مجھے اور جس نے میرا تعارف کروانا تھا، وہ ہماری انسٹرکٹر سندس رشید ہی تھیں۔ پہلے میں نے ان سے کچھ سوالات کیے اور پھر انہوں نے میرے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سندس رشید چونکہ ڈان گروپ کے <a href="http://www.cityfm89.com/" target="_blank">سٹی ایف ایم 89</a> میں پروگرام منیجر ہیں، اس لیے میں نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ڈان نیوز (ٹی وی چینل) کی زبان انگریزی سے اردو کیوں ہوگئی؟ جواباً انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے خیال میں انگریزی کے برعکس اردو چینلز کو عوام میں زیادہ پزیرائی حاصل ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اردو کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔</p>
<p>میں نے سندس رشید کو اپنا تعارف بطور اردو بلاگر کروایا اور <a href="http://cricnama.com" target="_blank">کرک نامہ</a> سے اپنی وابستگی کے بارے میں بھی بتایا۔ کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے سوال پر میں نے انہیں <a href="http://www.mbilalm.com/blog/pak-urdu-installer-en/" target="_blank">پاک اردو انسٹالر </a>کے متعلق بتایا کہ اب صرف ٹرانسلٹریشن یا انپیج نہیں بلکہ کسی بھی آپریٹنگ سسٹم کے کسی بھی سافٹ ویئر میں اردو براہ راست لکھی جاسکتی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے شرکاء کو میرا تعارف کرواتے ہوئے بھی کرک نامہ کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔</p>
<p>اس کے بعد سندس رشید نے سوشل میڈیا کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے، معلومات کی درست اور تیز تر فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صحافی اپنے فیس بک، ٹویٹر اکاؤنٹ اور بلاگ کے ذریعے اپنی ذاتی جدگانہ حیثیت بناسکتے ہیں جو مستقل میں ان کے کام آسکتی ہے، مثال کے طور پر کوئی صحافی بڑی محنت سے کوئی تحقیق، خبر یا کوئی ویڈیو پیکیج بناتا ہے، لیکن اس کا چینل کسی وجہ سے اسے نشر نہیں کرتا یا زیادہ اہمیت نہیں دیتا تو وہ اسے اپنے بلاگ پر با آسانی رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اکثر صحافی فیس بک سے تو واقف تھے لیکن ٹویٹر اور بلاگنگ کے بارے میں بہت کم جانتے تھے، اس لیے سب کو فیس بک، ٹویٹر، بلاگ اسپاٹ، پکاسا اور یوٹیوب پر اکاؤنٹ بنانے کا مکمل طریقہ بتایا گیا اور پھر ان کے فوائد و استعمال کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران انہوں نے میرا بلاگ <a href="http://bilaunwan.com/" target="_blank">بلاعنوان</a> بھی شرکاء کو دکھایا۔ خوش قسمتی سے ان کے لیپ ٹاپ میں جمیل نوری نستعلیق موجود تھا، اس لیے بلاگ کافی اچھا نظر آیا۔ شاید سندس رشید کے ذہن میں اسے بطور نمونہ لے کر استعمال کرنے کا ارادہ ہوگا تاہم اس کے ڈاٹ کام ڈومین اور ورڈپریس پلیٹ فارم کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔ وہاں موجود چند ساتھیوں نے پاک اردو انسٹالر اپنے لیپ ٹاپ میں انسٹال کیا اور پھر اردو لکھی تو انہیں خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ جو کام انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے وہ تو حقیقت میں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔</p>
<p>صحافی چاہے اخبار کے لیے کام کرتا ہو یا ٹیلی ویژن چینل کے لیے اس کا براہ راست تعلق خبر سے ہوتا ہے، اس لیے ورکشاپ میں خبر اور بلاگ میں مماثلت اور مختلف انداز مثلاً inverted pyramid، chronological اور narrative کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ اگلے روز 300 الفاظ کا بلاگ لکھنے کے اسائنمنٹ کے ساتھ ورکشاپ کا پہلا دن اختتام پزیر ہوا۔ ورکشاپ کے دوران میں نے بھی اپنے <a href="http://masadaslam.blogspot.com" target="_blank">انگریزی بلاگ</a> کی بنیاد رکھ ہی دی لیکن مجھے خود علم نہیں کہ آیا میں اس پر کب اور کتنا لکھ سکوں گا۔</p>
<p>کمروں میں چونکہ انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا تھا، اس لیے مچھروں اور دیگر اقسام کے کیڑے مکوڑوں کے باوجود وقت باہر گزارنا پڑا۔ شام کو کچھ دیر سستانے کے بعد سب مل کر چہل قدمی کے لیے نکلے لیکن عربین سی کنٹری کلب انتظامیہ کی طرف سے گالف کورس پر چلنے اور بیٹھنے پر پابندی کے باعث جلد ہی ہوٹل میں واپس آنا پڑا۔ کھانے سے قبل محبوب علی (جیو نیوز) نے صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس) سے اپنے علاقائی ڈانس کی فرمائش کی جو اس شرط پر پوری ہوئی کہ ورکشاپ کے دیگر شرکاء بھی کوئی گیت، غزل، لطیفہ سنائیں یا پھر ڈانس کریں۔</p>
<p>اس سلسلے کا آغاز میری ساتھی کولیگ <a href="http://sheen80.blogspot.com/" target="_blank">شینا سومرو</a> (پی پی ایف) کی گائیکی سے ہوا۔ پھر <a href="http://www.facebook.com/profile.php?id=100000101424700" target="_blank">ہارون سراج</a> (دی نیشن / ریڈیو پاکستان)، <a href="http://www.facebook.com/safdar.dawar" target="_blank">صفدر داوڑ</a> (روزنامہ ایکسپریس)، <a href="http://www.facebook.com/profile.php?id=100000594340971" target="_blank">محبوب علی</a> (جیو نیوز)، <a href="http://www.facebook.com/profile.php?id=100000343172872" target="_blank">عرفان اللہ</a> (وائس آف امریکا)، <a href="http://www.facebook.com/profile.php?id=100000745031376" target="_blank">وصی قریشی</a> (انڈس ریڈیو)، <a href="http://www.facebook.com/shehzad.baloch" target="_blank">شہزاد بلوچ</a> (ایکسپریس ٹریبیون)، <a href="http://www.facebook.com/profile.php?id=1276592637" target="_blank">بلال فاروقی</a> (روزنامہ آغاز)، <a href="http://masadaslam.blogspot.com" target="_blank">راقم</a> (پی پی ایف)، درشہوار چننا (پی پی ایف) اور <a href="http://www.facebook.com/ashrafuddin.pirzada" target="_blank">اشرف الدین پیرزادہ</a> (دی نیوز) کے بعد آخر میں سندس رشید نے بھی اس سلسلے میں حصہ لیا۔ پہلے تو میں نےاپنی باری آنے پر معذرت کرلی کہ مجھے سرے سے کوئی لطیفہ، نظم یا غزل یاد ہی نہیں جس پر مجھے 300 الفاظ (وہ بھی انگریزی میں) بلاگ لکھنے کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا سے بچنے کے لیے میں نے موبائل غزل 'کہانی درد کی میں زندگی سے کیا کہتا' ہی پیش کرنے میں خیر سمجھی۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کا وقت ہوگیا اور ہم کھانا کھا کر کمرے میں چلے گئے۔ لیکن مسئلہ وہی کہ کمرے میں انٹرنیٹ ہی موجود نہیں اور اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ اس وجہ سے کمرے سے باہر نکل کر اور ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کچھ اور ساتھی پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ وہاں بیٹھ کر مزید گپ شپ کی اور کچھ بلاگ اسائنمنٹ پر بھی کام کیا۔ اس دوران ہمارے ایک اور ساتھی <a href="http://www.facebook.com/haroon.adnan" target="_blank">عدنان رشید</a> ہوٹل پہنچے جنہیں میرا روم میٹ بنا دیا گیا۔ عدنان رشید سے تعارف کے بعد ہم پھر بستر میں گھس گئے۔</p>
<p style="text-align: left;">(<a href="http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-3">اگلا حصہ</a>)</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/k_Qe-2wTRSk" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-2/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-2</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (1)</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/3rCQmhFUi6U/social-media-for-media-journalists-workshop-1</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-1#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 17 Oct 2011 15:19:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرق]]></category>
		<category><![CDATA[ورکشاپ]]></category>
		<category><![CDATA[پی پی ایف]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bilaunwan.com/?p=1677</guid>
		<description><![CDATA[صحافت دنیا میں ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے جس سے وابستہ افراد پر ایک جانب لوگوں کو مکمل سچائی سے باخبر رکھنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو دوسری جانب پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کئی طرح کے خطرات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/vyoiBifrD0iCDSzRbxpzQpPL4zU/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/vyoiBifrD0iCDSzRbxpzQpPL4zU/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/vyoiBifrD0iCDSzRbxpzQpPL4zU/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/vyoiBifrD0iCDSzRbxpzQpPL4zU/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>صحافت دنیا میں ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا ہے جس سے وابستہ افراد پر ایک جانب لوگوں کو مکمل سچائی سے باخبر رکھنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو دوسری جانب پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کئی طرح کے خطرات کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں انٹرنیٹ بالخصوص سوشل میڈیا (ٹویٹر، فیس بک اور ویڈیو و تحریری بلاگنگ) صحافت میں کس قدر کارآمد ثابت ہوسکتا ہے اس حوالے سے <a href="http://www.pakistanpressfoundation.org/" target="_blank">پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف)</a> کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کے لیے تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔</p>
<p>گو کہ میں نے اس ورکشاپ میں پی پی ایف کی نمائندگی کی لیکن منتظمین کے بجائے شرکاء کی فہرست میں رہنا زیادہ پسند کیا۔ اس طرح صحافیوں اور ان کے علاقوں کے متعلق حقیقی صورتحال جاننے کا اچھا موقع میسر آیا اور ساتھ ہی میزبانی جیسے بوریت والے کام بھی نہیں کرنے پڑے۔ 6 تا 8 اکتوبر <a href="http://www.asccl.com/" target="_blank">عربین سی کنٹری کلب</a> میں جاری رہنے والی اس ورکشاپ میں میرے ساتھ ادارے کے دیگر تین ساتھیوں اور ہماری انسٹرکٹر<a href="http://sundusrasheed.blogspot.com/" target="_blank">سندس رشید</a> کے علاوہ گیارہ صحافیوں نے بھی شرکت کی۔</p>
<p>احباب کو تین روزہ ورکشاپ (اور دیندار دوستوں کو 'سہ روزہ' پر جانے) کا بتا کر دعاؤں کی درخواست کرنے کے بعد پانچ اکتوبر کی شام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کنٹری کلب روانہ ہوا جہاں ہمیں تین روز تک 'قید' رہنا تھا۔ ہمارے علاوہ چند صحافی بھی اسی رات ہوٹل پہنچے جن سے عشائیہ پر ہی ملاقات ہو گئی۔ ان میں جیو نیوز (مالاکنڈ) کے محبوب علی، دی نیوز (خیبر ایجنسی) کے اشرف الدین پیرزادہ، ایکسپریس ٹریبیون (پشاور) کے منظور علی، روزنامہ ایکسپریس (فاٹا) کے صفدر داوڑ، ریڈیو پاکستان اور دی نیوز کے ہارون سراج و دیگر بھی شامل تھے جن کا ذکر آگے تفصیل سے آتا رہے گا۔</p>
<p>ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ جہاں صحافی مل بیٹھیں وہاں ملکی صورتحال پر بات نہ ہو، اس لیے اس بار بھی کھانے پر مختصر تعارف کے بعد گفتگو کو رخ مملکت کے جنگ زدہ علاقوں کی صورتحال کی جانب ہوگیا۔ گفتگو کے دوران محبوب علی نے کہا کہ اس وقت ریاست تمام تر فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ ریاست بیرونی اور اندرونی دشمنوں (ڈرونز اور بم دھماکوں) سے حفاظت کی ذمہ داری انجام دے رہی ہے اور نہ طب، تعلیم و دیگر سہولیات عوام کو فراہم کر رہی ہے، اس لیے پاکستان ایک فیل اسٹیٹ بن چکا ہے۔</p>
<p>زیادہ تر حاضرین محبوب علی کی بات سے متفق نظر آئے لیکن اشرف الدین نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے موجودہ ناگفتہ بہ حالات کو اسٹیٹ فیلیئر کے بجائے حکومتی نااہلی اور ناکامی قرار دیا۔ ان کے ساتھ بیٹھے منظور علی نے بھی ان کے موقف کی تائید کی۔ اس دلچسپ بحث کے دوران آئی ایس آئی اور شدت پسندوں کے درمیان صحافیوں کے سینڈوچ بن جانے کے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ اشرف الدین نے بتایا کہ کس طرح قبائلی علاقوں میں جاری جنگ کے باعث بے شمار افراد ناکردہ گناہوں پر نشانہ بنا دیئے گئے اور کس طرح بے گناہ افراد کو خود کش حملہ آور قرار دے کر یا دوسرے الزامات لگا کر اٹھا لیا گیا اور ان کا آج تک کچھ اتا پتا نہیں۔</p>
<p>یہاں مجھے فیس بک کی غیر معمولی مقبولیت کا بھی اندازہ ہوا۔ ہم میں سے تقریباً سب ہی افراد نہ صرف فیس بک سے پوری طرح واقف تھے بلکہ اسے استعمال بھی کر رہے تھے لیکن ٹویٹر ، گوگل پلس یا کسی اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔</p>
<p>آخر میں اشرف الدین نے میری جانب دیکھتے ہوئے تعارف کروانے کا کہا جس پر میں نے ایک بار پھر مختصراً اپنا نام اور ادارے سے وابستگی کے متعلق بتایا۔ میرا جواب سن کر ان کے چہرے پر قدرے اطمینان سا محسوس ہوا۔ ممکن ہے وہ پہلے میری خاموش طبیعت کو 'مشکوک' خیال کرتے ہوئے مجھے ایجنسی کا خفیہ ایجنٹ خیال کر رہے ہوں جو سن تو سب رہا ہے لیکن بول کچھ نہیں رہا۔</p>
<p>رات کے مزے دار کھانے اور شرکاء کے ساتھ سیر حاصل گفتگو کے بعد ہم اپنے کمروں کی جانب چل دیئے۔ میرے روم میٹ چونکہ ہوٹل پہنچے نہیں تھے اس لیے مجھے رات اکیلے ہی گزارنی تھی۔ ہوٹل میں سب چیزیں توقعات سے بڑھ کر اور بہترین تھیں لیکن کمرے میں انٹرنیٹ کی عدم موجودگی اور موبائل کے کمزور سگنلز نے بہت مشکل میں ڈال دیا۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کی زندگی حقیقی سے زیادہ ورچوئل دنیا سے منسلک رہتی ہے، بغیر انٹرنیٹ وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ بہرحال، نیند چونکہ ایسی چیز ہے جو سولی پر بھی آجاتی ہے، اس لیے میں بھی آئندہ صبح ورکشاپ کے پہلے مرحلے کے بارے میں سوچتے ہوئے بستر میں گھس گیا۔</p>
<p style="text-align: left;">(<a href="http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-2">اگلا حصہ</a>)</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/3rCQmhFUi6U" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-1/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/social-media-for-media-journalists-workshop-1</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>دیکھو دور اک لاش پڑی ہے</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/g2m7xpk6D8M/dekho-door-ik-laash-pari-hay</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/dekho-door-ik-laash-pari-hay#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 20 Aug 2011 15:10:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات و واقعات]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://blog.bilaunwan.co.cc/?p=1660</guid>
		<description><![CDATA[دیکھو دور اک لاش پڑی ہے، چوراہے کے دائیں جانب، کونے پر سنسان گلی کے، کچرا کنڈی دیکھ رہے ہو؟ اس کے پاس لہو میں لتھڑی، خاک آلودہ، بکھری بکھری، غیر یا اپنا کون ہے جانے! آؤ دیکھیں اور پہچانیں نقش مٹا ڈالے گولی نے، رنگت خون میں ڈوب گئی ہے، جیب ٹٹولو کیا رکھا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/YruLnAybQUDxtcjLqtXwUj_uD3Q/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/YruLnAybQUDxtcjLqtXwUj_uD3Q/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/YruLnAybQUDxtcjLqtXwUj_uD3Q/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/YruLnAybQUDxtcjLqtXwUj_uD3Q/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>دیکھو دور اک لاش پڑی ہے،<br />
چوراہے کے دائیں جانب،<br />
کونے پر سنسان گلی کے،<br />
کچرا کنڈی دیکھ رہے ہو؟</p>
<p>اس کے پاس لہو میں لتھڑی،<br />
خاک آلودہ، بکھری بکھری،<br />
غیر یا اپنا کون ہے جانے!<br />
آؤ دیکھیں اور پہچانیں</p>
<p>نقش مٹا ڈالے گولی نے،<br />
رنگت خون میں ڈوب گئی ہے،<br />
جیب ٹٹولو کیا رکھا ہے؟</p>
<p>یہ تو خون سے تر گجرے ہیں،<br />
دس دس کے دو نوٹ رکھے ہیں،<br />
ہاتھ جو نیچے دبا ہوا ہے،<br />
اس کی گرفت میں کیا رکھا ہے؟</p>
<p>شاید ہے اسکول کا بستہ،<br />
جیب سے یہ کیا جھانک رہا ہے؟</p>
<p>یہ دیکھو اک پرچہ، خط ہے شاید<br />
ٹوٹی پھوٹی سی اردو میں،<br />
رنگ برنگی پنسلوں کے،<br />
سب رنگوں سے لکھا ہوا ہے،</p>
<p>"آج جو بھولے بستہ میرا،<br />
کٹی ہوجائے گی آپ سے،<br />
ٹافی اور بسکٹ بھی لانا،<br />
پیارے ابو جلدی آنا"</p>
<p>شاعر: نامعلوم</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/g2m7xpk6D8M" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/dekho-door-ik-laash-pari-hay/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/dekho-door-ik-laash-pari-hay</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>مثبت سوچ کا فقدان</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/-RVs1i8woSg/lack-of-positive-thinking</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/lack-of-positive-thinking#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 30 Jul 2011 11:26:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://blog.bilaunwan.co.cc/?p=1653</guid>
		<description><![CDATA[انسان بذات خود نیکی کے برعکس بدی کی طرف جتنی جلد راغب ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح اسے دوسروں کے عیب، برائیاں، کوتاہیاں، غلطیاں اور برے کام بھی اچھے کاموں سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ اور جب ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے لگے تو پھر معاشرے میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/hAKyJkGlJ3ComtpuKJ7Pqpm8xKs/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/hAKyJkGlJ3ComtpuKJ7Pqpm8xKs/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/hAKyJkGlJ3ComtpuKJ7Pqpm8xKs/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/hAKyJkGlJ3ComtpuKJ7Pqpm8xKs/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>انسان بذات خود نیکی کے برعکس بدی کی طرف جتنی جلد راغب ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح اسے دوسروں کے عیب، برائیاں، کوتاہیاں، غلطیاں اور برے کام بھی اچھے کاموں سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ اور جب ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے لگے تو پھر معاشرے میں محبت و بھائی چارہ کے بجائے باہمی نفرت پنپتی ہےاور کچھ ہی عرصے بعد ہر فرد کے دل و دماغ میں اپنے ارد گرد موجود انسانوں سے بغض کی کوئی نہ کوئی وجہ موجود ہوتی ہے چاہے وہ اس کا پڑوسی ہو، محلہ کمیٹی یا مسجد کا امام ہو، ریاست کا سربراہ یا فوج کا سپہ سالار ہی کیوں نہ ہو۔</p>
<p>ابتداء میں اس ناپسندیدگی کے اثرات صرف بے اعتمادی تک محدود ہوتے ہیں لیکن بڑھتے بڑھتے بات نفرت تک جا پہنچتی ہے۔ پھر اچھے کاموں کی تعریف بھی ناپید ہوجاتی ہے۔ معاشرہ اچھے لوگوں کو بھی گندے سسٹم کا حصہ گردانتے ہوئے ان کی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے سے ہچکچاتا ہیں۔</p>
<p>کچھ یہی سلوک ہمارے ریاستی ستونوں کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ حکومت، افواج، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ نے جتنے برے کام کیے اور کررہے ہیں اس پر ہم سب نے یکجان ہو کر شدید تنقید کے ذریعے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اس اظہار نفرت میں ہم یہ سوچنا بھی بھول گئے کہ آیا ان اداروں میں کوئی کام اچھا بھی ہورہا ہے؟ اور بالفرض محال کسی شخص یا ادارے نے کوئی اچھا کام کیا بھی تو ہم نے اس کی تعریف کے بجائے چپ سادھ لی۔ اب اسے دیانتدار افراد کی حوصلہ شکنی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کے کاموں کی جانب کوئی نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا جبکہ وہی شخص یا اداراہ اگر رائی برابر بھی غلط کام کرے تو اسے پہاڑ بناتے دیر نہیں لگتی۔</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/-RVs1i8woSg" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/lack-of-positive-thinking/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/lack-of-positive-thinking</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>رائے دو آئسکریم لو!</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/yjUVB0-eE3c/rai-do-icecream-lo</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/rai-do-icecream-lo#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 22 May 2011 17:01:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طنز و مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ایم کیو ایم]]></category>
		<category><![CDATA[ریفرنڈم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://blog.bilaunwan.co.cc/?p=1627</guid>
		<description><![CDATA["ارے اوو ببوا" "کا بات ہے رے منوا" "ارے تمے کا بتائیں، کل ہم جیسے اپنے گھر سے باہر نکلے ہیں تو کا دیکھتے ہیں کہ ہمارے بگل والے گھر کے سامنے ایک تمبو ومبو لگا ہے، تو ہم چلے گئے واں پتہ وتہ کرنے کہ ماملہ کا ہے، تمبو کاہے کو لگا ہے؟" "تو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/H7NH7KtGkuitzYHi75dQLH2Ls6s/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/H7NH7KtGkuitzYHi75dQLH2Ls6s/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/H7NH7KtGkuitzYHi75dQLH2Ls6s/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/H7NH7KtGkuitzYHi75dQLH2Ls6s/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p><img class="alignleft size-thumbnail wp-image-1643" title="ref-may-2011" src="http://bilaunwan.com/wp-content/uploads/2011/05/ref-may-2011-150x150.jpg" alt="" width="150" height="150" />"ارے اوو ببوا"<br />
"کا بات ہے رے منوا"<br />
"ارے تمے کا بتائیں، کل ہم جیسے اپنے گھر سے باہر نکلے ہیں تو کا دیکھتے ہیں کہ ہمارے بگل والے گھر کے سامنے ایک تمبو ومبو لگا ہے، تو ہم چلے گئے واں پتہ وتہ کرنے کہ ماملہ کا ہے، تمبو کاہے کو لگا ہے؟"<br />
"تو کا سوئم ووئم تھا کسی کا ۔ ۔ ۔"<br />
"خبردار، ارے کاہے کا سوئم ووئم، تمہارا ہوگا، مارے دے رہو بے کار میں جندہ آدمیوں کو بلاوجہ"<br />
"ارے تو بات ہی تو کر رے ہیں آپ سے پوچھ رہے ہیں لڑ تھوڑا ہی رہے ہیں"<br />
"ارے تو بتارے ہیں ہم کہ جب واں تمبو میں پہنچے تو کا دیکھ رے ہیں کہ ہجاروں آدمی کا مجمہ وجمہ لگا ہوا ہے، ہجار آدمی جمہ ہیں"<br />
"ہجاروں آدمی ۔ ۔ ؟"<br />
"ہاں! ہم بڑی مشکل سے مجمہ وغیرہ کو چیر کر جیسے ہی تمبو کے اندر پہنچے تو کا دیکھتے ہیں کہ اک آدمی بڑا سا پرچہ لوگاں میں بانٹ را ہے اور جو آدمی پرچے میں لکھ مکھ کے واپس کر را ہے تو پتہ ہے اسے آئسکریم دے را ہے، ہم نے اک آدمی سے پوچھا کہ بھئی آخر کا بات ہے یہ آئسکریم کس لیے مل ری ہے تو پتا ہے کا کہہ را ہے؟"<br />
"کا کہہ را ہے"<br />
"کہنے لگا کہ ملک کی ناجک ترین صورتحال کے بارے میں <a href="http://www.jang.net/urdu/update_details.asp?nid=117434" target="_blank">ریفرنڈم</a> ہو را ہے اور فارم بھر کے دینے پر مفت آئسکریم مل ری ہے"<br />
"کا کہہ رہے ہیں بھئی"<br />
"ٹھیک کہہ رے ہیں بھئی"<br />
"اجب کہ رے ہیں بھئی"</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/yjUVB0-eE3c" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/rai-do-icecream-lo/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/rai-do-icecream-lo</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>سقوط ڈھاکہ اور ذرائع ابلاغ (۲)</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/U2Mfql-B15Y/dhaka-fall-and-media-2</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-2#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 16 Dec 2010 18:36:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات و واقعات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[اخبار]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلہ دیش]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط]]></category>
		<category><![CDATA[سیاستدان]]></category>
		<category><![CDATA[صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[فوج]]></category>
		<category><![CDATA[مشرقی پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[مغربی پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پریس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈھاکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://blog.bilaunwan.co.cc/?p=1586</guid>
		<description><![CDATA[(گزشتہ سے پیوستہ) ذرائع ابلاغ کا کام نہ صرف عوام کو حالات و واقعات سے باخر رکھنا ہوتا ہے بلکہ انہیں درست راستے کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن جنرل محمد ایوب خان کے آمرانہ دور میں کٹھن حالات گزارنے کے بعد ملنے والی آزادی نے ذرائع ابلاغ کو ان دونوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/SrAuvLJCKHf0oa7gK9-zP_hO2Bk/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/SrAuvLJCKHf0oa7gK9-zP_hO2Bk/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/SrAuvLJCKHf0oa7gK9-zP_hO2Bk/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/SrAuvLJCKHf0oa7gK9-zP_hO2Bk/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>(<a href="http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-1" target="_blank">گزشتہ سے پیوستہ</a>)</p>
<p>ذرائع ابلاغ کا کام نہ صرف عوام کو حالات و واقعات سے باخر رکھنا ہوتا ہے بلکہ انہیں درست راستے کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%A8_%D8%AE%D8%A7%D9%86" target="_blank">جنرل محمد ایوب خان</a> کے آمرانہ دور میں کٹھن حالات گزارنے کے بعد ملنے والی آزادی نے ذرائع ابلاغ کو ان دونوں ہی اہم فرائض سے غافل کردیا۔ اور یوں جنرل یحیی خان کی جانب سے ملنے والی چھوٹ کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ نے سیاست دانوں کی جذباتی باتوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے لوگوں کو ملکی صورتحال کی بابت گمراہ کرنا شروع کردیا۔ اگر 1970ء کے اخبارات غیر جانبدارانہ طور پر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیتے، مشرقی و مغربی پاکستان کے باسیوں کو ایک دوسرے کے جذبات، مطالبات اور ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے تو امید کی جاسکتی تھی کہ فوج اور سیاسی جماعتیں عوامی دباؤ کے باعث وہ کام انجام نہ دیتیں جو ملک کی تقسیم کا باعث بنے۔</p>
<p>1970ء کے انتخابات سے یہ بات واضح ہوگئی کے مغربی و مشرقی پاکستان کے درمیان ایک وسیع سیاسی خلا موجود ہے۔ ذرائع ابلاغ کی توقع کے برخلاف مغربی حصہ میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D9%BE%D9%84%D8%B2_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C" target="_blank">پاکستان پیپلز پارٹی</a> کو کامیابی ملی جبکہ مشرقی پاکستان میں <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%85%D8%AC%DB%8C%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86#.D8.B9.D9.88.D8.A7.D9.85.DB.8C_.D9.84.DB.8C.DA.AF" target="_blank">عوامی لیگ</a> نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کی مستحکم پوزیشن حاصل کرلی۔ پیپلز پارٹی (یا شاید مشرقی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں) کو یہ بات گوارا نہ ہوئی اور انہوں نے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%DB%8C%D8%AD%DB%8C%DB%8C%D9%B0_%D8%AE%D8%A7%D9%86" target="_blank">جنرل یحیی خان</a> کی جانب سے 3 مارچ 1971ء کو بلائے گئے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ جس پر عوامی لیگ نے بھی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے 7 مارچ 1971ء کو عدم تعاون کی تحریک کا آغاز کردیا۔ جس پر آمرانہ حکومت نے ایک بار بھر اس تحریک کو طاقت کے زور سے دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کی سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگادیا۔</p>
<p>ان نازک مراحل میں ذرائع ابلاغ کی یہ ذمہ داری تھی کہ عوام کو تمام صورتحال سے آگاہ کرتے، سیاسی قوتوں پر اکثریتی رائے کو تسلیم کرنے اور ملکی مفاد میں مل کر کردار ادا کرنے پر زور دیتے اور فوج کو جنگ کے ممکنہ خطرناک نتائج سے آگاہ کرتے۔ لیکن اخبارات کی بڑی اکثریت حکومتی زبان اپناتے ہوئے "سب ٹھیک ہے" کا راگ الاپتی رہی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف جذباتی بیان بازیوں کو مزید فروغ دینے میں بھی کردار ادا کرتی رہی۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار 'روزنامہ آزاد' کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B0%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%81%D9%82%D8%A7%D8%B1_%D8%B9%D9%84%DB%8C_%D8%A8%DA%BE%D9%B9%D9%88" target="_blank">ذوالفقار علی بھٹو</a> کی تقریر کو 15 مارچ 1971ء کی اشاعت میں "اِدھر ہم، اُدھر تم" کی 'پنچ لائن' کے ساتھ شائع کردیا جس نے صحافت میں ایک مثال قائم کردی۔</p>
<p>یہ کہنا غلط ہوگا کہ صحافت کا یہ خراب معیار صرف مغربی پاکستان ہی تک محدود تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مملک کے دونوں حصوں میں ہونے والی صحافت انتہائی دگرگوں حالت کا شکار تھی۔ جو چند اخبارات مشرقی و مغربی حصوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے تھے ان کے سامنے زبان کے فرق نے بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کردی۔ مشرقی پاکستان کے افراد اردو اخبارات اور مغربی پاکستان کی اکثریت بنگالی اخبارات نہ پڑھ سکنے کے باعث ایک دوسرے کے جذبات سے آگاہ نہ ہوسکے۔ انگریزی اخبارات مثلاً ڈھاکہ سے شائع ہونے والے پاکستان آپزرور اور مارننگ نیوز کے علاوہ کراچی سے جاری ہونے والے ڈان اور پاکستان ٹائمز بھی بہت مشہور تھے لیکن انگریزی جاننے والوں کی قلیل تعداد ہونے کے باعث کوئی جامع کردار ادا کرنے سے قاصر تھے۔</p>
<p>زبان کے مسئلہ میں مغربی پاکستان کے اخبارات نے انتہائی افسوسناک کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے وقت صوبہ بنگال پاکستان کی مجموعی آبادی کا 56 فیصد تھا جن کا مطالبہ بنگالی کو قومی زبان بنانے کا تھا۔ لیکن لسانی و قومی تفریق کی وباء سے بچنے کے لیے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا جس پر مشرقی پاکستان کے لوگوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اخبارات کا حال یہ تھا کہ انہوں نے اس مسئلہ کو اول تو کوئی اہمیت ہی نہ دی اور جب 7 سال بعد بنگالی کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا تو اردو مخالف افراد کو ملک کا باغی قرار دیا جانے لگا۔ حالانکہ بنگالی کو اردو کے مقابلے میں تاریخی و عددی اعتبار سے سبقت حاصل تھی اور یہ معاملہ کسی طور ملک سے بغاوت کا نہیں بنتا تھا۔</p>
<p>25 مارچ 1971ء کو شروع ہونے والے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Operation_Searchlight" target="_blank">آپریشن سرچ لائٹ</a> نے تمام معاملات کو فوجی قیادت کے جنگجوانہ ذہنیت کے رحم و کرم پر چھوڑدیا۔ ملک کے دیگر تین اہم ستونوں سیاست، عدالت اور صحافت کی غفلت کے باعث پاکستان مخالف سازشیں ایک کے بعد ایک کر کے کامیاب ہوتی چلی گئیں۔ 15 دسمبر 1971ء تک سرکاری ذرائع ابلاغ سمیت دیگر اخباری ذرائع بھی پاکستانی افواج کی فتح اور باغیوں کی شکست کی نوید سناتے رہے اور غیر ملکی میڈیا کو دشمنان پاکستان قرار دیتے رہے۔ لیکن 16 دسمبر 1971ء کے دن نے ہر اس فرد کا دل چیر کر رکھ دیا کہ جو پاکستان کے لیے محبت کا تھوڑا سا بھی جذبہ رکھتا تھا۔</p>
<p>آج جبکہ میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ آزادی حاصل ہے تو اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ بڑھ چکی ہوچکی ہے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو دکھانے اور ان سے سبق حاصل کرنے کا درس دینے کے ساتھ خود بھی اپنے کردار پر غور کرے۔ آج کی صحافت صرف اخبارات تک محدود نہیں رہی۔ بڑی تعداد میں موجود ریڈیو چینلز، ٹیلی ویژن چینلز اور انٹرنیٹ بلاگز و سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے باعث جہاں معلومات کی تیز ترسیل آسان ہوئی وہیں محبت کے پھول اگانے اور نفرت کے کانٹے بچھانے میں بھی بہت آسانی میسر آگئی۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تمام محب وطن شہری اور صحافت سے جڑے افراد اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ملکی مفاد میں کردار ادا کریں اور لسانی بنیادوں پر ملک کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کوششوں سے اجتناب کریں۔</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/U2Mfql-B15Y" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-2/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-2</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>سقوط ڈھاکہ اور ذرائع ابلاغ (۱)</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/bilaunwan/~3/7WXAiw_76e8/dhaka-fall-and-media-1</link>
		<comments>http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-1#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Dec 2010 20:06:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات و واقعات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[اخبار]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلہ دیش]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط]]></category>
		<category><![CDATA[سیاستدان]]></category>
		<category><![CDATA[صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[فوج]]></category>
		<category><![CDATA[مشرقی پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[مغربی پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پریس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈھاکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://blog.bilaunwan.co.cc/?p=1553</guid>
		<description><![CDATA[سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا اتنا بڑا اور عظیم سانحہ ہے کہ جس کی ذمہ داری کسی خاص فرد یا شعبے سے وابستہ افراد پر ڈالنا قطعاً ممکن نہیں۔ عام طور پر مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کا تمام تر ملبہ سیاستدانوں اور فوج کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے لیکن یہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p><a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/iuNZtvK_J5UJBQ7hqCcJTx1KQpw/0/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/iuNZtvK_J5UJBQ7hqCcJTx1KQpw/0/di" border="0" ismap="true"></img></a><br/>
<a href="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/iuNZtvK_J5UJBQ7hqCcJTx1KQpw/1/da"><img src="http://feedads.g.doubleclick.net/~a/iuNZtvK_J5UJBQ7hqCcJTx1KQpw/1/di" border="0" ismap="true"></img></a></p><p>سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا اتنا بڑا اور عظیم سانحہ ہے کہ جس کی ذمہ داری کسی خاص فرد یا شعبے سے وابستہ افراد پر ڈالنا قطعاً ممکن نہیں۔ عام طور پر مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کا تمام تر ملبہ سیاستدانوں اور فوج کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اُس وقت کے پاکستان میں شامل صوبہ بنگال سے ہونے والی زیادتیوں میں مملکت خداد کے دیگر اداروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ انہی میں سے ایک ملک کا چوتھا اہم ترین ستون کہلانے والا میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا شعبہ بھی ہے کہ جس نے ایک نازک وقت میں ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے فرائض سے غفلت برتی اور عوام کے سامنے حالات و واقعات کی درست ترجمانی پیش کرنے کے بجائے تصویر کا محض ایک ہی رخ دکھانے پر اکتفا کیا جو بنیادی صحافتی اخلاقیات کے بھی بالکل خلاف ہے۔</p>
<p>قیام پاکستان کے بعد تقریباً ایک دہائی تک ذرائع ابلاغ بغیر کسی حکومتی دباؤ کے اپنے کام جاری رکھے ہوئے تھا۔ 1957ء تک ملک بھر میں اخبارات کے خلاف تقریباً 60 مقدمات درج تھے جس سے اخباری صحافت کو حاصل آزادی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 1958ء میں پاکستان کا پہلا مارشل لاء <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Ayub_Khan" target="_blank">جنرل محمد ایوب خان</a> کی سربراہی میں نافذ ہوا جس نے نہ صرف تمام شہریوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیے بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی پاکستان میں پہلی بار مقتدر حلقے کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اس کی مثال اُس وقت مشرقی و مغربی پاکستان کے بڑے اشاعتی ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کی جانب سے جاری ترقی پسند تحریک کے خلاف ایوب خان حکومت کے اقدامات سے حاصل کی جاسکتی ہے کہ جسے ان کی حکومت نے اپنی آمد کے مختصر عرصہ بعد زیر اثر کرلیا نیز 2 قومی خبر رساں ادارے <a href="http://app.com.pk/" target="_blank">اے پی پی (ایسوشیئٹڈ پریس آف پاکستان)</a> اور <a href="http://www.ppinewsagency.com/" target="_blank">پی پی آئی (پاکستان پریس انٹرنیشنل)</a> کو بھی اپنے قبضہ میں کرلیا۔ مزید برآں بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو نشریات اداروں کو خبریں فراہم کرنے سے قبل حکومتی منظوری لازمی قرار دینے، اخبارات کو معاشی بحران کے بہانے حکومتی تحویل میں لینے کے لیے نیشنل پریس ٹرسٹ کے قیام، 1961ء میں پریس قوانین اور پھر 1963ء میں ان قوانین پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت بنانا وہ تمام اقدامات تھے کہ جس کا مقصد آمرانہ حکومت کے جابرانہ اقدامات سے عوام کو بے خبر رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ کو دبانا تھا۔</p>
<p>اس وقت اخبارات کا بنیادی موضوع سیاست ہوا کرتا تھا، جس پر حکومت کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد بڑی واضح تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ بیانیہ خبروں کو ان کی شخصیات کی مناسبت سے ترجیح دیئے جانے کا آغاز ہوا جس کے باعث اصل خبر کہیں گم ہوگئی اور اس کی جگہ دعووں اور وعدوں نے لے لی۔ حکومت کی ان تمام سختیوں اور پابندیوں کے باوجود 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ملک کے تمام ذرائع ابلاغ نے ہر سطح پر حکومت اور فوج کا ساتھ دیا اور جنگ کے اختتام پر عوام کے سامنے اسے ایک بڑی فتح بنا کر پیش کیا۔ لیکن جنوری 1966ء میں ہونے والے معاہدہ تاشقند پر دستخط نے فتح کی اس خوشی کو ہار کے غمگین احساس میں تبدیل کردیا جس نے آگے جا کر غصہ کی شکل اختیار کرلی اور حکومت کے خلاف پہلی بار منظم عوامی تحریک کا آغاز ہوا۔</p>
<p>ذرائع ابلاغ جو کہ عوام کے احساسات کا حقیقی ترجمان سمجھا جاتا ہے کو ایوب خان حکومت کی جانب سے انتہائی سخت پابندیوں کے باعث حکومت اور عوام کے درمیان سوچ کا فاصلہ بڑھتا گیا۔ ایوب خان کی حکومت عوام کے احساسات کو سمجھنے سے محروم رہی تو دوسری جانب حکومت اپنے موقف کے اظہار میں بھی ناکام رہی۔ لہٰذا فوجی حکومت نے اپنی روایتی سختی برتتے ہوئے عوامی تحریک کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا لیکن اس نے عوامی غصہ میں کمی لانے کے بجائے انہین مزید مشتعل کردیا جس کے باعث تحریک میں مزید شدت آگئی۔ اور یوں مارچ 1969ء میں ایوب خان اقتدار جنرل یحی خان کے سپرد کر کے مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔</p>
<p><a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Yahya_Khan">جنرل یحیی خان</a> نےاولاً معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے ان کے تمام مطالبات ماننے کا فیصلہ کیا۔ اور یوں براہ راست الیکشن اور پارلیمانی نظام، تجارتی و طلبہ تنظیموں کی بحالی کے ساتھ ذرائع ابلاغ کو بھی پابندیوں سے خلاصی نصیب ہوئی۔ یحیی خان کی حکومت نے مئی 1969ء میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا جس کی تاریخ دسمبر 1970ء رکھی گئی۔ اس اعلان کے بعد سے ملک کی تمام 63 سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ اس اہم موقع پر ذرائع ابلاغ نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا اور ان بیانات کو اخبارات میں زیادہ واضح انداز سے چھاپہ جانے لگا کہ جس میں سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے تھے۔ اس وقت کے اخبارات نے صحافتی اصولوں کو ایک طرف ڈال کر افواہوں، اندیشوں اور پیشن گوئیوں کو بھی خبروں کی صورت دے دی جس نے عوام میں کئی طرح کی غلط فہمیوں کو جنم دیا۔</p>
<p>یحیی حکومت نے پریس و پبلیکیشن آرڈیننس (پی پی او) کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے باعث اخبارات کی ایک نئی پود سامنے آئی جس میں وہ اخبارات بھی شامل تھے کہ جن پر ماضی میں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ان میں سے اکثر اخبارات نے انتہائی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص سیاسی شخصیات کی مدد اور حمایت کرنا شروع کردی۔ مشرقی و مغربی پاکستان کی عام بول چال زبانوں میں فرق ہونے کے باعث اخبارات کا ایک مخصوص گروہ مشرقی پاکستان تک محدود ہوگیا تو دوسری جانب مغربی پاکستان سے شائع ہونے والے اخبارات نے بھی یہی رخ اختیار کیا اور یوں ذرائع ابلاغ میں بھی ایک واضح تقسیم نظر آنے لگی۔</p>
<p>الیکشن سے قبل حکومتی ماتحت ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ نے کھل کر دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کرتے ہوئے آئندہ الیکشن میں ان کی آسان اور واضح کامیابی کی نوید سنائی۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی جس نے عوام کے ذہنوں پر بہت منفی نقوش چھوڑے۔ حکومتی اخبارات کے یک طرفہ موقف کی ترجمانی کے باعث اگست 1969ء میں <a href="http://http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%BE%DB%8C%D9%BE%D9%84%D8%B2_%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C" target="_blank">پاکستان پیپلز پارٹی</a> نے 'مساوات' کے نام سے اخبار جاری کیا جس کا مقصد پارٹی کا موقف عوام تک پہنچانا تھا۔ جبکہ انہی مقاصد کے لیے <a href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D9%85%D8%A7%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C" target="_blank">جماعت اسلامی</a> کی جانب سے <del datetime="2010-12-15T15:54:40+00:00">دو اخبارات 'کوہستان' اور</del> 'جسارت' کا اجراء 1970ء میں کیا گیا۔ اس صورتحال میں مغربی پاکستان کے صرف ایک اخبار 'آزاد' نےغیرجانبداری سے حالات کی درست ترجمانی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں پاکستانی پیپلز پارٹی اور مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی جیت کا خیال ظاہر کیا جو بعد میں بالکل درست ثابت ہوا۔ لیکن مجموعی طور پر ذرائع ابلاغ نے جانبدارانہ اور یک طرفہ سوچ اپناتے ہوئے ملک کی مجموعی صورتحال کو نظر انداز کردیا اور اکثر اخبارات مخصوص جماعتوں کی طرفداری کرتے ہوئے مستقبل کی غلط منظر کشی کرتے رہے۔</p>
<p style="text-align: left;">(جاری ہے)</p>
<img src="http://feeds.feedburner.com/~r/bilaunwan/~4/7WXAiw_76e8" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-1/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://bilaunwan.com/dhaka-fall-and-media-1</feedburner:origLink></item>
	</channel>
</rss>

