<?xml version="1.0" encoding="UTF-8" standalone="no"?><rss xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:blogger="http://schemas.google.com/blogger/2008" xmlns:gd="http://schemas.google.com/g/2005" xmlns:georss="http://www.georss.org/georss" xmlns:itunes="http://www.itunes.com/dtds/podcast-1.0.dtd" xmlns:openSearch="http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/" xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0" version="2.0"><channel><atom:id>tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266</atom:id><lastBuildDate>Thu, 19 Dec 2024 03:17:13 +0000</lastBuildDate><title>APS ASSOCIATED PRESS SERVICE</title><description>APS The News Agency</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/</link><managingEditor>noreply@blogger.com (Liaaba Khan Interview with APS News agency)</managingEditor><generator>Blogger</generator><openSearch:totalResults>433</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>25</openSearch:itemsPerPage><language>en-us</language><itunes:explicit>no</itunes:explicit><copyright>All rights reserved 2009</copyright><itunes:subtitle>APS The News Agency</itunes:subtitle><itunes:category text="News &amp; Politics"/><itunes:author>APS Newsagency</itunes:author><itunes:owner><itunes:email>noreply@blogger.com</itunes:email><itunes:name>APS Newsagency</itunes:name></itunes:owner><xhtml:meta content="noindex" name="robots" xmlns:xhtml="http://www.w3.org/1999/xhtml"/><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-1379758533943415631</guid><pubDate>Tue, 24 Aug 2021 18:38:00 +0000</pubDate><atom:updated>2021-08-24T23:38:31.349+05:00</atom:updated><title>Restrictions on the media are unacceptable: Nasir Zaidi Secretary PFUJ</title><description>&lt;iframe style="background-image:url(https://i.ytimg.com/vi/GvEHuTiZP9I/hqdefault.jpg)"  width="480" height="270" src="https://youtube.com/embed/GvEHuTiZP9I" frameborder="0"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2021/08/restrictions-on-media-are-unacceptable.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/GvEHuTiZP9I/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-2950449932340026151</guid><pubDate>Fri, 12 Jun 2020 15:54:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-06-12T20:55:19.535+05:00</atom:updated><title>71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش، کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjb3mw6tNdBTR391FZaCg6a933vWDe1No2eCvWZFCP6zCX-nX-1SoMzwt6Dk9NiG8ROx3ffRduejTwvwDL2XvP3cAIgZJ6KCfoBr8qAxhAKkaundWnmiv2VjH3u8T1HGn5q-b-dwm6X9Xg/s1600/hamad+budget.png" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="480" data-original-width="800" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjb3mw6tNdBTR391FZaCg6a933vWDe1No2eCvWZFCP6zCX-nX-1SoMzwt6Dk9NiG8ROx3ffRduejTwvwDL2XvP3cAIgZJ6KCfoBr8qAxhAKkaundWnmiv2VjH3u8T1HGn5q-b-dwm6X9Xg/s1600/hamad+budget.png" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style="color: blue; font-size: large;"&gt;&amp;nbsp;آئی ایم ایف کے دباو پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style="font-size: large;"&gt;ایک کروڑ افراد کے خط غربت سے نیچے جانے کا خدشہ&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;رپورٹ: چودھری احسن پریمی ۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
ملک بھر کے عوامی حلقوں نے موجودہ حکومت کے پیش کردہ دوسرے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ غریب کش بجٹ ہے، اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کردیے ہیں۔ حکومت نے اپنی نالائقی پہلے کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی اور افسوس حکومتی نااہلی کی سزاقوم اور ملک کو مل رہی ہے۔ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں جبکہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کاتاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ آئی ایم ایف کے دباو پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے، اگر یہ بجٹ ہے تو قوم منی بجٹ کے لیے تیار رہے۔ حکومت کی گزشتہ برس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے والے بجٹ کی توقع نہیں تھی۔ افراط زر سے عام آدمی کی قوت خرید میں ہونے والی کمی کی وجہ سے توقع تھی کہ تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔ حکومت نے بجٹ میں سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جس کے باعث اب سرکاری ملازم ا س سال 10 فیصد کم خریداری کرسکیں گے۔ حکومت نے کورونا کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جبکہ صنعتوں کو مراعات تو ایف بی آر اپنے ایس آر اوز کے ذریعے کرتا رہتا ہے۔ بجٹ میں صوبوں کے ساتھ مل کر اخراجات کے معاملے پر بھی بجٹ میں کوئی بات نظر نہیں آئی۔&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
جبکہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی حکومت نے 71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا۔قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اگست 2018 میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، ہم نے ایک مشکل سفر سے ابتدا کی اور معیشت کی بحالی کے لیے اپنی کاوشیں شروع کی تاکہ وسط مدت میں معاشی استحکام اور شرح نمو میں بہتری لائی جاسکے، ہماری معاشی پالیسی کا مقصد اس وعدے کی تکمیل ہے جو ہم نے نیا پاکستان بنانے کے لیے عوام سے کر رکھا ہے اور ہر گرزتے سال کے ساتھ ہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران ہمارے رہنما اصول رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، سرکاری اداروں میں زیادہ شفافیت لائی جائے، احتساب کا عمل جاری رکھا جائے اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں میرٹ پر عمل درآمد کیا جائے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے عوام کی صلاحیت پر پورا اعتماد ہے اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں ان کے تعاون کی اشد ضرورت ہے، تحریک انصاف سماجی انصاف کی فراہمی، معاشرے کے کمزور طبقات کے حالات بہتر کرنے کے اصول پر کاربند ہے اور پسے طبقے کے لیے کام کرنے کا عزم رکتھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل میں ایوان کو یہ بتانا چاہوں گا کہ گزشتہ حکومت سے ورثے میں ہمیں کیا ملا، جب 2018 میں ہماری حکومت جب آئی تو ایک معاشی بحران ورثے میں ملا، اس وقت ملکی قرض 5 سال میں دوگنا ہوکر 31 ہزار ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جس پر سود کی رقم کی ادائیگی ناقابل برداشت ہوچکی تھی، کرنٹ اکانٹ خسارہ 20 ارب روپے جبکہ تجارتی خسارہ 32 ارب روپے کی حد تک پہنچ چکا تھا اور برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا اور ڈالر کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا گیا تھا جس سے برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا۔بجٹ 21-2020 کے اہم نکات:دفاعی بجٹ 1290 ارب روپے رکھنے کی تجویز،ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے رکھنے کی تجویز،نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610 ارب روپے رکھنے کی تجویز،این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے 2 ہزار 874 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،وفاقی حکومت کا خالص ریونیو کا تخمینہ 3 ہزار 700 ارب روپے ہے،اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 137 ارب روپے لگایا گیا ہے،مجموعی بجٹ خسارہ 3 ہزار 195 ارب روپے تجویز،وفاقی بجٹ خسارہ 3 ہزار 437 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز،سبسڈیز کی مد میں 210 ارب روپے رکھنے کی تجویز،پنشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز،صوبوں کو گرانٹ کی مد میں 85 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز،دیگر گرانٹس کی مد میں 890 ارب روپے رکھنے کی تجویز،آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 650 ارب روپے رکھنے کی تجویز،نیا پاکستان ہاسنگ کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،احساس پروگرام کے لیے 208 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،سول اخراجات کی مد میں 476 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،آئندہ مالی سال کا مکمل بجٹ یہاں پڑھیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے کم ہوکر 10 ارب ڈالر رہ گئے تھے جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آگیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بجٹ خسارہ 2300 ارب روپے کی بلند سطح پر پہنچ چکا تھا، ناقص پالیسیوں اور بد انتظامیوں کے باعث بجلی کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے کی انتہائی حد تک جاپہنچا تھا۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کی تعمیر نو نہ ہونے سے ان کو 1300 ارب سے زائد کے نقصان کا سامنا تھا، اسٹیٹ بینک سے بہت زیادہ قرضے لیے گئے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کردیا گیا تھا۔بجٹ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 20-2019 کا آغاز پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جس کے لیے موزوں فیصلے اور اقدامات اٹھائے، جس کی وجہ سے مالی سال 19-2018 کے مقابلے میں 20-2019 میں اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 20-2019 کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکانٹ خسارے کو 73 فیصد کم کیا گیا، تجارتی خسارے میں 21 فیصد کمی کی گئی، اس کے علاوہ بجٹ خسارہ 5 فیصد کم کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 6 ارب ڈالر کے بیرون قرضے کی ادائیگی کی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4 ارب ڈالر تھی، اس کے باوجود اس سال زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم سطح پر رہے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہم نے 5 ہزار ارب روپے کا سود ادا کیا جو گزشتہ قرضوں پر دیا گیا، اس کے علاوہ بیرون سرمایہ کاری تقریبا دوگنی ہوگئی۔بات کا جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے جن معاشی فیصلوں کے ذریعے معاشی استحکام پیدا ہوا اس میں بجٹ اصلاحات کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک سے قرض لینا بند کیا گیا، اس کے علاوہ کوئی سپلمنٹری گرانٹ نہیں دی گئی، ترقیاتی اخراجات میں حائل سرخ ٹیپ کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ نومبر 2019 میں نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ میک ان پاکستان کے تحت پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کروایا گیا۔حماد اظہر کا کہنا تھا حکومت نے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت پبلک فنانس منیجمنٹ اصلاحات شروع کیں، جس سے وفاقی حکومت کی مالی انتظامی معاملات میں بہتری آئی ہے۔وزیر صنعت کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ احساس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کرکے شفافیت لائی گئی جبکہ پاکستان پورٹل کا آغاز کرکے ادائیگیو&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
ں کے نظام میں بہتری لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ آر ایل این جی پلانٹس جو بند ہونے کے قریب تھے ان کی بحالی کے ٹھوس اقدامات کیے گئے، جس سے ان کی کارکردگی میں قابل قدر بہتری آئی، اس کے علاوہ کلیدی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا، این ایچ اے، پاکستان پوسٹ، کراچی پوسٹ جیسے اہم اداروں کی آمدن میں بالترتیب 70 فیصد، 50 فیصد اور 17 فیصد اضافہ کیا گیا اور ان کی استطاعت، کارکردگی اور شفافیت میں بہتری لائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کاروبار اور صنعت کو ترقی دینے اور بیرونی سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے کے لیے کاروبار میں آسانیوں کے انڈیکس کے لیے اقدامات اٹھائے جس کے نتیجے میں پاکستان کاروبار میں آسانیوں کی رینکنگ میں پوری دنیا کے 190 ممالک میں 136ویں نمبر سے بہتری حاصل کر کے ایک سال میں 108ویں نمبر پ پہنچ گیا ہے اور انشااللہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جون 2018 میں پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں ڈال دیا گیا اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایکشن پلان کے 27 قابل عمل نکات پر عملدرآمد کا مطلبہ کیا گیا، ہماری حکومت نے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے زبردست کاوشیں کیں تاکہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔اس ضمن میں وفاقی حکومت نے قومی اور بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ ، ٹیرر فنانسنگ سرگرمیوں اور حکمت عملی کی تشکیل اور نفاذ کے لیے نیشنل ایف اے ٹی ایف کوآرڈینیشن کمیٹی کی سربراہی مجھے سونپی ہے۔ جامع قسم کی ٹیکنیکل اور قانونی اصلاحات شروع کی گئی ہیں، ان اقدامات سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نتیجتا ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 قابل عمل نکات کے سلسلے میں ہم نے قابل ذکر پیشرفت کی ہے، ایک سال کے عرصے میں 14 نکات پر مکمل عمل کیا گیا اور 11 پر جزوی طور ر عملدرآمد کیا گیا ہے جبکہ دو شعبوں میں عملدرآمد کے لیے زبردست کوششیں کی جارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کورونا وائرس نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے دنیا کو سنگین سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، پہلے تو اسے انسانی صحت کے لیے مسئلہ سمجھا گیا، لیکن جلد ہی اس کے معاشی اور سماجی مضرمات بھی سامنے آئے۔حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان بھی کورونا کے اثر سے محفوظ نہیں رہا اور اس نے معیشت کے استحکام کے لیے جو کاوشیں اور محنت کی تھیں اس آفت سے ان کو شدید دھچکا لگا ہے، اس مشکل وقت میں عوام کو زندگی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے ایسے اقدامات اور فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش کم سے کم متاثر ہو۔انہوں نے کہا کہ طویل لاک ڈان، ملک بھر میں کاروبار کی بندش، سفری پابندیوں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات متب ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری بڑھنے سے ترقی پذیر ممالک میں مشکلات میں مزید اضافہ ہوا جس سے پاکستان بھی نہ بچ سکا، مالی 20-2019 کے دوران پاکستان پر کورونا کے جو فوری اثرات ظاہر ہوئے ان کی تفصیل یہ ہے:تقریبا تمام صنعتیں، کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔جی ڈی پی میں اندازا 3300 ارب روپے کی کمی ہوئی جس سے اس کی شرح نمو 3.3 فیصد سے کم ہو کر منفی 0.4 فیصد تک رہ گئی۔مجموعی بجٹ خسارہ جو ڈی پی کا 7.1 فیصد تھا وہ 9.1 فیصد تک بڑھ گیا۔ایف بی آر محصولات میں کمی کا اندازہ 900 ارب روپے ہے، وفاقی حکومت نان ٹیکس ریونیو 102 ارب روپے کم ہوا۔ترسیلات زر اور برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں اور بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔حماد اظہر نے کہا کہ حکومت اللہ کے کرم سے اس سماجی اور معاشی چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے، اس مقصد کے لیے معاشرے کے کمزور طبقے اور شدید متاثر کاروباری طبقے کی طرف حکومت نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے تاکہ کاروبار کی بندش و بے روزگاری کے منفی اثرات کا ازالہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت نے 1200 ارب روپے سے زائد کے ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے، مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ سے فراہم کی گئی ہے جو درج ذیل کاموں کے لیے مختص ہے:طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔150 ارب روپے ایک کروڑ 60 لاکھ کمزور اور غریب خاندانوں اور پناہ گاہ کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔200 ارب روزانہ اجرت کمانے والے مزدوروں، کیش ملازمین اور کیش ٹرانسفر کے لیے مختص کیے گئے۔50 ارب روپے یوٹیلٹی اسٹورز پر رعایتی نرخوں پر اشیا کی فراہمی کے لیے مختص کیے گئے۔100 ارب ایف بی آر اور وزارت تجارت کے لیے مختص ہیں تاکہ وہ برآمد کنندگان کو ری فنڈ کا اجرا کر سکیں۔100 ارب روپے بجلی اور گیس کے موخر شدہ بلوں کے لیے مختص کیے گئے۔وزیر اعظم نے چھوٹے کاروبار کے لیے خصوصی پیکج دیا جس کے تحت کم از کم 30 لاکھ کاروباروں کے تین ماہ کے بل کی ادائیگی کے لیے 50 ارب روہے فراہم کیے گئے۔کسانوں کو سستی کھاد، قرضوں کی معافی اور دیگر ریلیف کے لیے 50 ارب کی رقم دی گئی۔100 ارب روپے ایمرجنسی فنڈ کے لیے مختص ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس ریلیف پیکج سے وفاقی حکومت کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس کے لیے وفاقی حکومت کو سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دینا پڑی، فنانس ڈویژن نے متعلقہ اداروں خصوصا احساس، این ڈی ایم اے، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے فنڈ کا انتظام اور اجرا کیا، ہمیں اداروں کے ریلیف پیکج پر عملدرآمد کرنے کے سلسلے میں بجا لائی گئی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کسانوں اور عام آدمی کا احساس کرتے ہوئے ریلیف کے اقدامات کیے جس کے لیے انہیں خوراک اور طبی ساز و سامان کی مد میں 15روبے کی ٹیکس کی چھوٹ دی، 280 ارب روپے کسانوں کو گندم کی خریداری کی مد میں ادا کیے گئے، پیٹرول کی قیمتوں میں 42 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 47 روپے فی لیٹر کمی کر کے پاکستان کے عوام کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے لیے ہم نے تعمیراتی شعبے کو ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے رعایتی ٹیکس متعارف کرا کر تاریخی مراعات بھی دی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:فکس ٹیکس رجیم کو وضع کیا۔بلڈرز اور ڈیولپرز سوائے اسٹیل کے خریداروں کے ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ دی ہے تاکہ عوام کو سستے گھر میسر آسکیں۔آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا۔خاندان کے لیے ایک گھر پر کیپیٹل گین ٹیکس کی چھوٹ ہو گی۔سستی رہائشوں کی تعمیر پر 90 فیصد ٹیکس کی چھوٹ دے گئی ہے۔تعمیرات کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈان کے برے اثرات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی بہت سے اقدامات متعارف کرائے ہیں جس کے تحت پالیسی ریٹ میں 5.25 فیصد کی بڑی کمی کی گئی ہے جو 13.25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے، کاروبار کے پے رول لون میں تین ماہ کے لیے 96 ارب کی رقم 4 فیصد کم شرح سود پر فراہم کی گئی ہے تاکہ بے روزگاری سے بچا جا سکے۔7 لاکھ 75 ہزار قرض دہندگان کو 491 ارب کے پرنسپل قرض کی ادائیگی ایک سال کے لیے موخر کر کے سہولت پہنچائی ہے اور 75 ارب کا قرض ری شیڈول کیا گیا ہے، جبکہ افرادی اور کاروباری قرضوں کے لیے بینکوں کو اضافی 800 ارب روپے قرض دینے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے لیے قرض کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ کے نمایاں خدوخال بارے وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ 21-2020 میں عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ٹیکس مراعات معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی، ان تجاویز میں کورونا اخراجات اور مالیاتی خسارے کے مابین توازن قائم رکھنا، پرائمری بیلنس کو مناسب سطح پر رکھنا، معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کی مدد کے لیے احساس پروگرام کے تحت سماجی اخراجات کا عمل جاری رکھنا، آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے جاری رکھنا، کورونا کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مالی سال میں عوام کی مدد جاری رکھنا، ترقیاتی بجٹ کو موزوں سطح پر رکھنا شامل ہیں تاکہ معاشی نمو میں اضافے کے مقاصد پورے ہوسکیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔حماد اظہر نے کہا کہ بجٹ میں ملک کے دفاع اور داخلی تحفظ کو خاطر خواہ اہمیت دی گئی ہے، ٹیکسز میں غیر ضروری رد و بدل کے بغیر محصولات کی وصولی&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;میں بہتری لانا، تعمیرات کے شعبے میں مراعات بشمول نیا پاکستان ہاسنگ پروجیکٹ کے لیے وسائل مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی علاقوں یعنی سابق فاٹا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں تاکہ وہاں بھی ترقی اور معاشی نمو کا عمل یقینی بنایا جاسکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں خصوصی پروگرامز یعنی کامیاب جوان، صحت کارڈ، بلین ٹری سونامی وغیرہ کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی یقینی بنائی جائے گی، معاشرے کے مستحق طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کے لیے سبسڈی کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی جائے گی اور سابقہ فاٹا کے علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے وقت صوبوں نے مالیاتی اعانت کے جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کرنے کے لیے رابطے تیز کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کل ریونیو کا تخمینہ 6 ہزار 573 ارب روپے ہے جس میں ایف بی آر ریونیو 4 ہزار 963 روپے ہیں اور نان ٹیکس ریونیو ایک ہزار 610 ارب روپے ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 2 ہزار 874 ارب روپے کا ریونیو صوبوں کو منتقل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نیٹ وفاقی ریونیو کا تخمینہ 3700 ارب روپے ہے، کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 137 ارب روپے لگایا گیا ہے، اس طرح بجٹ خسارہ 3 ہزار 437 ارب روپے تک رہنے کی توقع ہے جو جی ڈی پی کا 7 فیصد بنتا ہے اور پرائمری بیلنس منفی 0.5 فیصد ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کی معاونت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے، اس کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ اداروں کو پوورٹی ایلیویشن ڈویژن بنا کر اس میں ضم کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس غریب پرور پروگرام کے لیے پچھلے سال 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں سماجی تحفظ کے بہت سے پروگرامز شامل ہیں جیسے بی آئی ایس پی، پاکستان بیت المال کے محکمے شامل ہیں، یہ مختص رقم حکومت کی منظور کردہ پالیسی کے مطابق شفاف انداز سے خرچ کی جائے گی۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ توانائی، خوراک اور مختلف شعبوں کو مختلف اقسام کی سبسڈیز دینے کے لیے 180 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے خاص طور پر پسماندہ طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لیے سبسڈیز کا رخ درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلی تعلیم کے لیے وافر رقوم رکھی گئی ہے اس لیے ایچ ای سی کے لیے سال 20-2019 میں مختص کی گئی 60 ارب روپے کی رقم بڑھا کر 64 ارب روپے کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاسنگ اتھارٹی کو 30 ارب روپے فراہم کیے گئے، انہوں نے کہا کہ اخوت فانڈیشن کی قرض حسنہ اسکیم کے ذریعے کم لاگت کے رہائشی مکانات کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خصوصی علاقوں آزاد جموں و کشمیر کے لیے 55 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاس کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سندھ کو 19 ارب روپے اور بلوچستان کو 10ارب روپے کی خصوصی گرانٹ ان کے این ایف سی حصے سے زائد فراہم کی گئی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ زرمبادلہ بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جس سے رقوم کی منتقلی بینکوں کے ذریعے بڑھانے کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو سستی ٹرانسپورٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے پاکستان ریلوے کے لیے 40 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کو ترقی پسند ملک بنانے کے لیے نوجوانوں کے کردار پر زور دیا ہے، انہوں نے کہا کہ کامیاب نوجوان پروگرام نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت کا خصوصی پروگرام ہے جس کے کیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں وفاقی حکومت کیزیر انتظام ہسپتالوں کے لیے 13 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جن میں شیخ زید ہسپتال لاہور، جناح میڈیکل سینٹر کراچی اور دیگر 4 ہسپتال شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ای گورننس کے ذریعے پبلک سروسز کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے، وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فنکار ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ، ان کی مالی امداد اور فلاح و بہبود کے لیے صدر پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی رقم 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کردی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ مختلف اصلاحاتی پروگرامز کے لیے خصوصی فنڈز کا قیام کیا گیا ہے جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لیے وائبلیٹی گیپ فنڈ کے لیے 10 کروڑ روپے، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ کے لیے 40 کروڑ روپے اور پاکستان انوویشن فنڈ کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی شعبے میں ریلیف پہنچانے کے لیے اور ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مالی سال 21-2020 کے دوران ان اہداف کے حصول کا فیصلہ کیا ہے:جی ڈی پی کی شرح نمو کو منفی 0.4 سے بڑھا کر 2.1 فیصد پر لایا جائے گا۔کرنٹ اکانٹ خسارے کو 4.4 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔مہنگائی کو 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لایا جائے گابراہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 25 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے وژن کے مطابق ترقیاتی ایجںڈا پر عملدرآمد جاری ہے تاکہ مستحکم معاشی شرح نمو کا حصول ممکن ہوسکے اور غربت میں کمی، بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری اور خوراک، پانی اور توانائی کے ٹحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات کا حجم ایک ہزار 324 ارب روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے جس کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے مںصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے جاری منصوبوں کے لیے 73فیصد اور نئئے مںصوبوں کے لیے 27 فیصد رقم مختص کی گی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ سماجی شعبے کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے لیے گزشتہ سال کے 206 ارب روپے کی رقم بڑھا کر 249 ارب کردیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ، اس حوالے سے بڑے شعبوں کے لیے مختص رقوم کی تفصیل درج ذیل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ توانائی کے توسیعی منصوبوں اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کا نظام بہتر بنانے اور گردشی قرضوں کو کم کرنیکی طرف مرکوز ہے، بجٹ میں خصوصی اکنامک زونز کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں اور غیرملکی امداد سے چلنے والے مںصوبوں کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت نے 80 ارب روپے مختص کیے ہیں، ان فنڈز کو خاص طور پر بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان فرق کو ختم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے شدید بحران کا شکار ہے، اس سال حکومت پانی سے متعلق منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس ضمن میں 69 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔حماد اظہر نے کہا کہ کثیرالمقاصد ڈیم بالخصوص دیامر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیم کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں، ان منصوبوں سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے 30 ہزار سے زائد مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی رابطوں، تجارت و کاروبار کے فروغ کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے، اس سلسلے میں 118 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے ایم ویل ون منصوبے اور دیگر منصوبوں کے لیے 24 ارب روپے جبکہ مواصلات کے دیگر&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;منصوبوں کے لیے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں صحت کا شعبہ حکومت کی خصوصی ترجیح ہے اور بہتر طبی خدمات، وبائی بیماریوں کی روک تھام، طبی آلات کی تیاری اور صحت کے اداروں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ کورونا کے علاج اور تدارک کے اقدامات کے علاوہ حکومت اپنی توجہ ہیلتھ سروسز کو بہتر بنانے کے لیے آئی سی ٹی سلوشن کی طرف مرکوز کررہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ صوبائی حکومتیں ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب کی تیاری، معیاری نظام، امتحانات وضع کرنے، اسمارٹ اسکولوں کا قیام، مدرسوں کی قومی دھارے میں شمولیت سے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے گی، جس کے لیے رقم مختص کردی گئی ہے اور ان اصلاحات کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، مزید برآں ہائر ایجوکیشن ترجیحی شعبہ جات میں سے ایک ہے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ 21ویں صدی کے معیاری تعلیم پر پورا اترنے کے لیے تحقیق اور دیگر جدید شعبہ جات مثلات آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، آٹومیشن اور اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے تحقیق اور ترقی کے لیے کام کیا جاسکتا، لہذا تعلیم کے شعبے میں جدت اور اس حصول کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امرجنگ ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے تحقیقی اداروں کی صلاحیت اور گنجائش کو بڑھانا اشد ضرورت ہے، مزید برآں ای گورننس اور آئی ٹی کی بنیاد پر چلنے والی سروسز، 5 جی سیلولر سروسز کے آغاز پر حکومت کی توجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان شعبوں میں منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کیمیکل، الیکٹرانک، پروسیجن ایگری کلچرل کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا اور آر این ڈی کا صنعت کے ساتھ رابطہ مضبوط کیا جائے گا۔بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر اور ماحول پر ظاہر ہونے والے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر بھی بہت سے اثرات ہیں جیسے غیرموسمی بارشیں، فصلوں کے پیداواری رجحان میں کمی اور سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں لہذا اس سال موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں۔وفاقی بجٹ کی تقریر کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ رواں برس بجٹ کے تحت مختص رقوم کے علاوہ حکومت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں منصوبوں کے لیے 40 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز رکھیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں مختلف مںصوبوں کے ذریعے 48 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ترقیاتی بجٹ میں 24 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔بجٹ تقریر کے دوران حماد اظہر نے بتایا کہ تحفظ خوراک کے فروغ کے لیے ترقیاتی منصوبوں میں 12 ارب روپے کی رقم خرچ کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع میں ٹی ڈی پی کے انضام و انصرام کے لیے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے جبکہ افغانستان کی بحالی میں معاونت کے لیے 2 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا۔اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز کی منظوری دی گئی۔اس سال کے بجٹ اجلاس کو محض رسمی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس مقصد پر رائے دہی کے لیے دبا نہ ڈالنے اور 30 جون تک بجٹ کی منظوری تک کورم کی نشاندہی نہ کرنے پر متفق ہوگئی ہیں۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 میں 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا تھا اور اس سے قبل پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے بعد محض 5 ماہ کے عرصے میں 2 منی بجٹ بھی پیش کیے تھے۔مالی سال 21-2020 کے بجٹ کو مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے 'کورونا بجٹ' کا نام دیا گیا ہے۔رواں سال کا بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جارہا ہے جب ملک کو عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث صحت کے بحران کے سامنا ہے جس نے ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔اس حوالے سے یہ بھی مدنظر رہے کہ 9 جون کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات میں وفاقی حکومت کے اخراجات منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے مکمل بجٹ میں سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 22 ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 31 کھرب 512 ارب روپے اور 7.2 فیصد تجویز کیا گیا تھا۔گزشتہ بجٹ میں ایف بی آر کی جانب سے وصولی کا ہدف 55 کھرب 50 ارب روپے رکھا گیا تھا جسے بعد ازاں کم کرکے 48 کھرب کیا گیا تھا لیکن کورونا وائرس کے باعث اس میں مزید کمی کرتے ہوئے 38 کھرب کردیا گیا تھا۔علاوہ ازیں مالی سال 20-2019میں وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6 ہزار 717 ارب روپے رکھا گیا تھاجو 19-2018 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ تھا۔قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ 28 کھرب 914 ارب روپے، اعلی تعلیم کے لیے 45 ارب روپے، وفاقی ترقیاتی بجٹ میں زراعت کے لیے 1200 ارب روپے رکھے گئے تھے۔پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں کابینہ کے تمام وزرا کی تنخواہ میں 10 فیصد کمی کی تھی جبکہکم از کم تنخواہ بڑھا کر 17 ہزار 500 روپے ماہانہ مقرر کی تھی۔قبل ازیں مالی سال 19-2018 میں 52 کھرب 46 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا جبکہ اخراجات 53 ارب 85 ارب روپے ہوگئے تھے۔اس سے قبل مالی سالی 17-2018 میں 47 کھرب 53 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا جبکہ اخراجات 48 کھرب 57 ارب روپے ہوگئے تھے۔17-2016 میں 43 کھرب 96 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا لیکن اخراجات 42 کھرب 56 ارب روپے رہے۔مالی سال 16-2015 میں 40 کھرب 86 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا تھا اور اس سال بھی اخراجات بجٹ کے اندر رہتے ہوئے 40 کھرب 69 ارب رہے تھے۔اس سے قبل مالی سال 18-2017 میں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد مقرر تھا، مالی سال 17-2016 میں 5.7 فیصد، 16-2015 میں 5.5 فیصد، 15-2014 میں 5.1 فیصد اور 14-2013 میں اس کا ہدف 4.4 فیصد رکھا گیا تھا۔خیال رہے کہ جی ڈی پی میں زراعت کے حصے پر نظر ڈالیں تو مالی سال 19-2018 کیلئے یہ 3.8 فیصد مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ 0.8 رہا، 17-2016 میں عارضی طور پر 3.46 فیصد رہا، 16-2015 میں 0.27 فیصد، 15-2014 میں 2.13 فیصد اور 14-2013 میں یہ 2.5 فیصد تھا۔جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ مالی سال 19-2018 کے لیے 8.1 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن یہ منفی 0.3 فیصد رہا، 17-2016 میں عارضی طور پر 5 فیصد رہا، 16-2015 میں 5.8 فیصد، 15-2014 میں 5.2 فیصد اور 14-2013 میں یہ 4.53 فیصد تھا۔جی ڈی پی میں اشیا کی پیداوار کے شعبے کا حصہ مالی سال 19-2018 کے لیے 7.6 فیصد مقرر کیا گیا لیکن یہ 1.40 رہا، 17-2016 میں عارضی طور پر 4.3 فیصد، 16-2015 میں 3 فیصد، 15-2014 میں 3.6 فیصد، 14-2013 میں 3.49 فیصد تھا۔سروسز کے شعبے میں شرح نمو کی ترقی مالی سال 19-2018 کے لیے 6.5 فیصد مقرر کی گئی تھی لیکن یہ 4.71 رہی، 17-2016 میں عارضی طور پر 5.6 فیصد، 16-2015 میں 5.6 فیصد، 15-2014 میں 4.4 فیصد اور 14-2013 میں 4.46 فیصد رہی۔گزشتہ بجٹس کے دوران جی ڈی پی کی شرح میں ٹیکس ریونیو کی شرح 19-2018 میں 12.6 رہی، 17-2016 میں 8.5 فیصد، 16-2015 میں 12.6 فیصد، 15-2014 میں 11 فیصد اور 14-2013 میں یہ 10.2 فیصد رہی۔گذشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم کیمشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ آنے والے بجٹ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لوگوں کو مزید مراعات اور مزید ریلیف دیں اور سماجی تحفظ کے پروگرامز میں مزید فنڈنگ دیں تاکہ وہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور ہم اپنی صنعت کو اچھے انداز میں چلا سکیں۔مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ ہماری خصوصی طور پر کوشش ہو گی کہ نئے ٹیکسز نہ لگائے&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;جائیں اور ٹیکسز کا بھی جائزہ کے لر ان میں کمی لائی جائے تاکہ لوگوں کو معاشی ریلیف پیکج مل سکے اور صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹ سکیں۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ مالی سال 20-2019 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا تخمینہ منفی 0.4 فیصد ہے، اس میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.67 فیصد ہے جس میں صنعت خاص طور پر متاثر ہوئی اور اس میں ترقی کی شرح منفی 2.64 ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ خدمات کا شعبہ جس میں کاروباری طبقہ ہے جسے ہم ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کہتے ہیں اس میں منفی 3.4 فیصد شرح نمو ہے۔مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ مینوفیکچرنگ میں کافی کمی ہوئی جو منفی 22.9 فیصد رہی۔انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈان کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، ریلوے اور ایئر ٹرانسپورٹ بند رہے تو اس میں منفی ترقی ہوئی اور یہ شرح منفی 7.1 ہے۔مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ ہمارے پورے ملک کی آمدنی 0.4 فیصد کم ہوگئی حالانکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ آمدنی 3 فیصد بڑھے گی، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں قومی آمدن میں 3 سے ساڑھے 3 فیصد نقصان دیکھنا پڑا۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث ملکی آمدن میں 30 کھرب روپے کا نقصان ہوا۔قومی اقتصادی سروے کے مطابق جولائی 2019 سے مارچ 2020 تک کے عرصے میں ملک کا مجموعی قرض اور واجبات 20 کھرب 59 ارب 70 کروڑ روپے تک جا پہنچے۔قرض و واجبات مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کے 102.6 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، سروے کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2020 تک سرکاری قرض&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;جی ڈی پی کے 84.4 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔گزشتہ روز مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے پریس کانفرنس میں سرکاری قرض جی ڈی پی کے 88 فیصد تک پہنچے کا اعلان کیا جس میں مارچ سے اب تک لیے گئے قرض مثال کے طور پر اپریل میں آئی ایم ایف سے لیے گئے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر بھی شامل ہیں۔اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2019 سے اپریل 2020 کے عرصے کے دوران صارف قیمت اشاریہ (چی پی آئی) افراط زر 11.22 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال اس عرصے میں 6.51 فیصد تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جلدی خراب ہونے والی کھانے کی اشیا کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور اس شعبے میں مہنگائی کی شرح 34.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اقتصادی سروے 20-2019 کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں ٹیکس مراعات کی لاگت گزشتہ سال کے 972 ارب 04 کروڑ کے مقابلے میں 18.25 فیصد اضافے کے ساتھ 11 کھرب 49 ارب روپے ہوگئی۔ انکم ٹیکس مراعات سال 2019۔20 میں بڑھ کر 378 ارب روپے ہوگئی جو گزشتہ سال میں 141 ارب 64 کروڑ روپے تھی 166.88 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔اس ٹیکس مراعات میں کل آمدنی سے 212.07 ارب روپے اور کاروباری افراد کو دیے گئے 104.498 ارب روپے شامل ہیں۔سب سے زیادہ اس ٹیکس مراعات سے فائدہ اٹھانے والے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) ہیں۔سیلز ٹیکس میں مراعات 2019-2020 میں کم ہوکر 518.8ارب روپے ہوگئی جو 2018-19 میں 597.7 ارب روپے تھی جو 13 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔اقتصادی سروے پاکستان مطابق ملک میں کورونا وائرس کے اثرات سے مزید ایک کروڑ افراد کے خطِ غربت سے نیچے جانے کا خدشہ ہے۔سروے میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان کی معیشت پر منفی اثر پڑنے کی توقع ہے اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 5 کروڑ سے بڑھ کر 6 کروڑ ہو سکتی ہے۔پلاننگ کمیشن نے ضروریات زندگی کی لاگت یا کوسٹ آف بیسک نیڈ (سی بی این) کے طریقے سے غربت کا تخمینہ لگایا جس کے مطابق ماہانہ 3 ہزار 250 روپے فی بالغ شخص رقم بنتی ہے، اس طریقہ کار کے مطابق 24.3 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/06/71-36.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjb3mw6tNdBTR391FZaCg6a933vWDe1No2eCvWZFCP6zCX-nX-1SoMzwt6Dk9NiG8ROx3ffRduejTwvwDL2XvP3cAIgZJ6KCfoBr8qAxhAKkaundWnmiv2VjH3u8T1HGn5q-b-dwm6X9Xg/s72-c/hamad+budget.png" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-1699925102598224426</guid><pubDate>Fri, 03 Apr 2020 20:52:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-04-04T01:52:30.928+05:00</atom:updated><title>Rangers action against lockdown violators in Pakistan</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="344" src="https://www.youtube.com/embed/qKyXcwrY3so" width="459"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/04/rangers-action-against-lockdown.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/qKyXcwrY3so/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-4422567540926244051</guid><pubDate>Fri, 03 Apr 2020 11:50:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-04-03T16:50:15.553+05:00</atom:updated><title>A hungry man commits suicide in front of the Prime Minister's Office</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/8ybPodcHajs" width="480"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/04/a-hungry-man-commits-suicide-in-front.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/8ybPodcHajs/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-2376636493678702755</guid><pubDate>Mon, 30 Mar 2020 11:34:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-30T16:34:58.201+05:00</atom:updated><title>A Police officer distribute food to hungry wild monkeys</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/yVYIqgrwoVg" width="480"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/a-police-officer-distribute-food-to.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/yVYIqgrwoVg/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-5564678968438848379</guid><pubDate>Mon, 30 Mar 2020 10:35:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-30T15:35:29.309+05:00</atom:updated><title>Mostly People  dying of hunger, not Corona Virus</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="344" src="https://www.youtube.com/embed/RYd6Dyz8gVs" width="459"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/mostly-people-dying-of-hunger-not.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/RYd6Dyz8gVs/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-2384955413171292078</guid><pubDate>Sun, 29 Mar 2020 18:37:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-29T23:37:48.733+05:00</atom:updated><title>A policeman demanding bribe from citizen during  lockdown</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="344" src="https://www.youtube.com/embed/uSNVZKp63NA" width="459"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/a-policeman-demanding-bribe-from.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/uSNVZKp63NA/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-9159725601964113002</guid><pubDate>Sat, 28 Mar 2020 18:28:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-28T23:28:27.102+05:00</atom:updated><title>Gujrat city completely closed due to Corona virus</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="344" src="https://www.youtube.com/embed/LUHH3lMFEcU" width="459"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/gujrat-city-completely-closed-due-to.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/LUHH3lMFEcU/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-8545720741816847983</guid><pubDate>Fri, 27 Mar 2020 13:14:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-27T18:14:10.938+05:00</atom:updated><title>Prime Minister Imran Khan talking to media on 27-03-2020</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="344" src="https://www.youtube.com/embed/v2cX6J6ImRY" width="459"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/prime-minister-imran-khan-talking-to.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/v2cX6J6ImRY/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-6641737414916231843</guid><pubDate>Fri, 27 Mar 2020 07:03:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-27T12:03:48.191+05:00</atom:updated><title>Corona virus protection measures</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/dQ4fyM6ZdVw" width="480"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/corona-virus-protection-measures.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/dQ4fyM6ZdVw/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-3167066611914412124</guid><pubDate>Thu, 26 Mar 2020 17:11:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-26T22:11:43.693+05:00</atom:updated><title>Pakistani government initiative for citizens regarding remediation of Co...</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="344" src="https://www.youtube.com/embed/lxmWpmO0BFQ" width="459"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/pakistani-government-initiative-for.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/lxmWpmO0BFQ/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-3966559009903734339</guid><pubDate>Mon, 23 Mar 2020 21:46:00 +0000</pubDate><atom:updated>2020-03-24T02:46:20.104+05:00</atom:updated><title>Police brutal torture of citizens in the name of lockdown</title><description>&amp;lt;iframe width="480" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/Raj4Sn2gkcQ?clip=&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2020/03/police-brutal-torture-of-citizens-in.html</link><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-3151422232765688465</guid><pubDate>Fri, 02 Aug 2019 23:22:00 +0000</pubDate><atom:updated>2019-08-03T04:22:08.667+05:00</atom:updated><title>امن کی سفیر لائبہ خان کی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس سے گفتگو۔ میزبان حبیبہ گلزار</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/hhqTIcy_Uf4" width="480"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2019/08/blog-post.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/hhqTIcy_Uf4/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-2910985395783167462</guid><pubDate>Thu, 07 Mar 2019 07:47:00 +0000</pubDate><atom:updated>2019-03-07T12:47:41.390+05:00</atom:updated><title>افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا۔ چودھری احسن پریمی</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgoEjnApgBPQBtERKem0Bgx42vJla9im6u2kmfgQhoIKjqeSEuBRTwCrZM_1yVP-AeNaNyGdwGPuGR9iLurH53o-20dnq3mUYx82DfsPPhbbh4a8hyfIJYIeo1UYsVfZd7o7vsV9DRP3DE/s1600/afghan+war.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="575" data-original-width="1023" height="358" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgoEjnApgBPQBtERKem0Bgx42vJla9im6u2kmfgQhoIKjqeSEuBRTwCrZM_1yVP-AeNaNyGdwGPuGR9iLurH53o-20dnq3mUYx82DfsPPhbbh4a8hyfIJYIeo1UYsVfZd7o7vsV9DRP3DE/s640/afghan+war.jpg" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;span style="background-color: white; color: #333333; font-family: Jameel, Tahoma; font-size: 20px; text-align: start;"&gt;جنگی حکمت عملی تو یہی ہوتی ہے کہ جب آپ مضبوط ہیں تو ظاہر نہ کریں اور اگر کمزور ہیں تو مضبوطی دکھائیں لیکن یہ بھی کہنا درست ہے کہ خدا نے جنگ کو اس لئے تخلیق کیا کہ امریکی اس سے سبق سیکھیں اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں تو جنگ ہوتی ہے. لیکن اگر آپ جنگ جیت جاتے ہیں تو آپ کو وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے … لیکن اگر آپ شکست کھا جاتے ہیں، تو آپ کو وضاحت کرنے کے لئے وہاں نہیں ہونا چاہئے! اگرچہ تمام جنگیں انسان کی ایک جانورکے طور پر ناکامی کا اعلامیہ ہیں اگر اس کی سوچ امن اور محبت میں برقرار رہے تو وہ آخر تک یہی کہے گا کہ جنگیں بھاڑ میں جائیں۔ لیکن ابھی تک دنیا بھر میں جنگوں میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کی شرم کو ڈھونڈنے کے لئے کافی بڑا پرچم تخلیق نہیں کیا گیا۔ دنیا بھر میں یہ بات کافی تکلیف دہ ہے کہ جنگیں لڑنے والے بغض رکھنے کی اپنی غلطی کو پورا کرتے ہیں۔ بوڑھے لوگ جنگ کا اعلان کرتے ہیں. لیکن جنگوں میں نوجوانوں کو لڑنے اور مرنے کیلئے پھینک دیا جاتا ہے۔ جبکہ امریکی سینیٹ کے دو ممبران نے ایوان میں قریب دو دہائیوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لئے بل پیش کر دیا ہے۔یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب امریکی حکام افغان طالبان کے ساتھ امریکی فورسز کی واپسی اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کر رہے ہیں۔یہ بل ری پبلکن ممبر سینیٹر رینڈ پال اور ڈیموکریٹ سینیٹر ٹام اوڈال نے پیش کیا ہے، جسے افغان ایکٹ 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے ذریعے واشنگٹن افغانستان میں اپنی جیت کا اعلان کرے گا۔جس میں کہا گیا ہے کہ اگلے 45 دنوں میں، ایک پلان بنایا جائے گا جس کے ذریعے فورسز کی باضابطہ واپسی کا طریقہ کار طے کیا جائے گا اور ایک سال کے اندر افغانستان سے سارے امریکی فوجی واپس بلا لیے جائیں گے۔ اور سیاسی مفاہمت کے طے کیے جانے والے فریم ورک کو افغانستان اپنے آئین کے تحت نافذ کرے گا اور اس عمل میں اسے کی معاونت کی جائے گی۔سینیٹر پائل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طویل جنگ ہماری قومی سیکورٹی کو کمزور، ہماری آئندہ نسل کے مستقبل کو شدید قرض کی وجہ سے تباہ اور ہمارے مزید دشمن پیدا کرتی ہے جو ہمارے لئے خطرہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملے پر القاعدہ کو سزا دینے کا مشن پورا ہو چکا ہے اور اب وقت ہے کہ اس طویل جنگ کو ختم کیا جائے۔پاول کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں امریکی فوج نے 2300 سے زائد اہل کاروں کی قربانی دی ہے اور تقریبا 20 ہزار زخمی ہوئے۔ اس جنگ میں امریکہ نے اب تک دو ٹرلین ڈالر کا خرچ برداشت کیا ہے اور ہر سال اس جنگ پر 51 ارب ڈالر کا اضافی خرچ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم امریکہ کی مقامی ضروریات میں خرچ کی جا سکتی ہے۔اس بیان میں سینیٹر اوڈال نے لکھا کہ جلد ہی اب امریکہ اس جنگ میں ایسے فوجی بھیجنا شروع کر دے گا جو جنگ شروع ہونے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ملک کی طویل ترین جنگ کے بارے میں مختلف انداز سے سوچنا شروع کر دیں۔سینیٹر پاول نے اس بل کے پیش کئے جانے سے پہلے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس جنگ میں کئے گئے بے جا اخراجات کا ذکر کیا۔انہوں نے اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ اب افغانوں کو اپنے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں جیت کا اعلان کرے اور اب یہ اپنے ملک میں تعمیر کا وقت ہے نہ کہ افغانستان میں۔یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرت میں مصروف ہے تاکہ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ ختم ہو سکے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا تھا کہ اگر مذاکرات مثبت رہے تو وہ افغانستان میں موجود امریکی افواج میں کمی کر سکتے ہیں۔افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا موجودہ دور قطر میں جاری ہے۔ امریکی ٹیم کی قیادت زلمے خلیل ذاد کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی فریق نے کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا ہے۔پچھلے برس کی خزاں کے بعد سے مذاکرات میں تسلسل آیا ہے اور دونوں فریقین نے مذاکرات میں پیش رفت کے بیانات دئے ہیں۔طالبان کا کہنا ہے کہ اب تک مذاکرات اس بات پر ہو رہے ہیں کہ امریکی افواج کب خطے سے نکل جائیں گی اور انخلا کے بعد کیا گارنٹیاں دی جائیں گی جن میں طالبان سے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے روکنا ہے۔طالبان نے، جو افغانستان کے آدھے سے زیادہ رقبے پر اپنا اثرو رسوخ رکھتے ہیں، افغان حکومت سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔17 سال سے جاری اس جنگ میں محتاط اندازوں کے مطابق اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، افغان اور بین الاقوامی فورسز کے اہل کار، غیر ملکی کنٹریکٹر اور شورش پسند شامل ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 2018 میں افغانستان میں تقریبا 4000 عام شہری ہلاک ہوئے جو ایک عشرے دوران اس ملک میں جاری لڑائیوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔گزشتہ فروری میں ایک امریکی جنرل جوزف ووٹل نے کہا تھاکہ نیا کمانڈر کارکردگی بہتر بنانے کے لیے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر سکتا ہے، جس کے بعد اس کی ایک ہزار سے زیادہ تک ہو سکتی ہے۔گزشتہ فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ اب جب طالبان شورش پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ اور وہ افغانستان میں امریکی فورسز کی تعداد میں کمی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں۔تاہم امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت لگ بھگ 14 ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں کچھ کمی کے فیصلے کا تعلق امن کی ان کوششوں سے نہیں، بلکہ اس کی بجائے یہ جنرل اسکاٹ ملر کی ایک کوشش کا حصہ ہے، جنہوں نے امریکی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے ستمبر میں 17 سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کا چارج سنبھالا ہے۔اومان کے اپنے دورے میں ایک انٹرویو میں جنرل ووٹل نے کہا کہ جنرل ملر نے فوج کی تعداد میں کمی کی ابتدا یہاں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کی ہے اور وہ زمین پر اپنی کارکردگی ہر ممکن طور پر بہتر اور موثر بنانا چاہتے ہیں۔جنرل ملر کا یہ فیصلہ کئی برسوں کے بعد ان فیصلوں کا الٹ ہے، جن میں امریکی فوج نے ٹرمپ کے پیش رو براک اوباما کے دور میں فوجیوں کی تعداد گھٹانے کی رفتار میں کمی تھی یا اسے مکمل طور پر روکنے کے اقدامات کیے تھے۔یہ واضح نہیں ہے کہ اب تک فوجیوں کی تعداد میں کتنی کمی ہو چکی ہے۔ پنٹگان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 14 ہزار کے قریب ہے لیکن اس کا یہ بھی کہنا کہ اس تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔دوسرے ذرائع فوجیوں کی تعداد گھٹانے سے متعلق نسبتا کمتر تخمینے پیش کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا خیال ہے کہ کارکردگی بہتر بنانے کی اس کوشش افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد گھٹ رہی ہے جس پر کابل حکومت کو اعتراض ہے۔ایک سینیر مغربی سفارت کار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ ہم اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ جنرل ملر کی اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی خواہش افغانستان میں فوجیوں کی تعداد پر پہلے ہی اثر ڈال رہی ہے۔جب جنرل ووٹل سے پوچھا گیا کہ آیا جنرل ملر اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں افغانستان میں ایک ہزار سے زیادہ فوجی کم کر دیں گے تو انہوں نے کہا کہ غالبا وہ ایسا کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے کہ کچھ فوجی افغانستان سے کہیں اور منتقل کر دیے جائیں، جو بوقت ضرورت سمندر پار سے بھی دستیاب ہو سکیں۔ووٹل نے اس بارے میں کہ جنرل کتنے فوجیوں کو واپس بھیج سکتے ہیں، کسی مخصوص تعداد کا ذکر کیے بغیر کہا کہ یہ ایک کمانڈر کی حیثیت سے ان کا فیصلہ ہو گا کہ وہ اپنی کارکردگی کی بہترین سطح برقرار رکھتے ہوئے دستیاب وسائل کو کس طرح موثر انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ملر کے ترجمان فوجی کرنل ڈیو بٹلر نے مستقبل میں فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کسی قیاس آرائی سے انکار کیا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ملر کو افغانستان میں جب بھی کسی مشن کے لیے فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہوئی تو وہ انہیں دستیاب ہوں گے۔کابل اور واشنگٹن کے درمیان گفت و شنید میں اخراجات پر توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر اشرف غنی نے حال ہی میں ٹرمپ کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے افغانستان میں امریکی اخراجات میں کمی کی پیش کش کی تھی۔واشنگٹن کے لیے افغانستان کے سفیر رویا رحمانی کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے اس پر کام کر ہے ہیں کہ اخراجات میں کس طرح مزید کمی کی جا سکتی ہے۔امریکی عہدے دار گزشتہ سال قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کر چکے ہیں۔امریکی عہدے دار رائٹرز کو بتا چکے ہیں کہ افغانستان میں موجود 14 ہزار امریکی فوجیوں میں سے لگ بھگ نصف کو نکالنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا نسبتا ایک چھوٹی فورس افغان فوج کی مدد کرنے کی اہلیت رکھ سکے گی اور آیا دوسری یورپی ملکوں کے فوجی دستے بھی وہاں سے چلے جائیں گے جن کا انحصار امریکی ہیلی کاپٹروں اور دوسری نوعیت کی معاونت پر ہے۔اس صورت حال سے یہ سوالات بھی سامنے آئے ہیں کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے امریکی فوج کی کتنی تعداد امریکہ میں بدستور رہ سکے گی۔ووٹل نے کہا کہ انہیں فوجی دستوں کی واپسی کے لیے کسی طرح کے احکامات موصول نہیں ہوئے، اس لیے وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کریں گے۔امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیڑک شناہن نے ایک ایسی ہی یقین دہانی کا اعادہ کرتے ہوئے نیٹو کے فکر مند اتحادیوں کو بتایا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی کوئی بھی ممکنہ واپسی مربوط طریقہ کار کے تحت ہو گی۔ اگرچہ ایک دانشمند آدمی اپنے بیوقوف دوستوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوں کو زیادہ استعمال کرتا ہے۔۔۔۔ جنگ جیتنا کافی نہیں ہے بلکہ امن کو منظم اور برقرار رکھنیکے لئے یہ ضروری ہے. لیکن جب جنگ خود دہشت گردی ہے تو آپ دہشت گردی پر جنگ کیسے کر سکتے ہیں؟ تاہم دنیا بھر میں جنگ کی عدم موجودگی میں امن زیادہ اہم ہے۔ امن معاہدہ ہے ۔ اہم آہنگی کا۔۔۔۔۔۔۔ آج جو ایک چیز لوگوں پر تھونپ دی جاتی ہے وہ اکثر اگلے روز جھوٹی ثابت ہوجاتی ہے اور جو چیز نہیں ہوتی وہ اگلے روز سچ سے بھری باہر نکل آتی ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جو افغانستان سے کہیں زیادہ قدرتی وسائل سے تباہ کن ہے. 11 ستمبر 2001 تک جنگ میں افغانستان میں کیا ہوا اور آج تک امریکی افغانستان میں کیا کرتے رہے ہیں اس کے درمیان ایک براہ راست تعلق ہے جو تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر موجود رہے گاَ۔&lt;a href="http://www.associatedpressservice.net/ur/%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%88%D8%AC-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D8%AE%D9%84%D8%A7%DB%94-%DA%86%D9%88%D8%AF%DA%BE/"&gt;اے پی ایس&lt;/a&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2019/03/blog-post.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgoEjnApgBPQBtERKem0Bgx42vJla9im6u2kmfgQhoIKjqeSEuBRTwCrZM_1yVP-AeNaNyGdwGPuGR9iLurH53o-20dnq3mUYx82DfsPPhbbh4a8hyfIJYIeo1UYsVfZd7o7vsV9DRP3DE/s72-c/afghan+war.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-3637488851093024977</guid><pubDate>Tue, 19 Feb 2019 20:08:00 +0000</pubDate><atom:updated>2019-02-20T01:08:25.187+05:00</atom:updated><title>Prime Minister of Pakistan Imran Khan Policy Statement on the Pulwama attack</title><description>&lt;iframe allowfullscreen="" frameborder="0" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/66jZ8ymMjgo" width="480"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2019/02/prime-minister-of-pakistan-imran-khan.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://img.youtube.com/vi/66jZ8ymMjgo/default.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-6463662815807280531</guid><pubDate>Wed, 09 May 2018 17:54:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-09T22:54:40.233+05:00</atom:updated><title> CPEC conference on road safety and  logistics management</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh-IAm9YRkWyhDInJdE2XQGM1Z5c5zTEWOvMvnCBe__4aMnPGQRbCrI-Yk8-zyYaWrxJB8WN_jEjh_qxlKtm1VP2qe9ia5X5dehsV3m2k1Dc3eGc73g9C1disrYXZxZ7V3aM36oEGZKWo8/s1600/DG+NLC+f.png" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="322" data-original-width="517" height="398" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh-IAm9YRkWyhDInJdE2XQGM1Z5c5zTEWOvMvnCBe__4aMnPGQRbCrI-Yk8-zyYaWrxJB8WN_jEjh_qxlKtm1VP2qe9ia5X5dehsV3m2k1Dc3eGc73g9C1disrYXZxZ7V3aM36oEGZKWo8/s640/DG+NLC+f.png" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;

&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12pt;"&gt;ISLAMABAD (APS)May 9,
2018- Government will remove all grievances of stakeholders regarding
infrastructure, transport and logistics management in CPEC, first national
transport policy with the consultaion of all stakeholders has been devised and
expected to be promulgated during present government, regional connectivity
and&amp;nbsp;&amp;nbsp;best availability of transport and logistic infrastructure will
boost over relations with states connected in CPEC, said secretary planning
commission and reforms Shoaib Ahmad Sadique here in a conference organized by
Institute of Road Safety Traffice Environment&amp;nbsp;&amp;nbsp;Pakistan with the
collaboration of National Institute of Transportation NUST Islamabad.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12.0pt; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-fareast-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-hansi-font-family: Calibri;"&gt;Talking in the conference
secretary planning commission and reforms Shoaib Ahmad Sadique said that
government has designed Pakistan first ever transport policy and its draft has
been handed over to government to get it tabled in National Assembly. He said
road development is mother of all development and it has key role in relation
with China. He said CPeC is the name of road, rail, air, fiber and shipyard
connectivity and development of their relevant infrastructure. Pakistan and
China can share their experiences in road safety development.&amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12.0pt; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-fareast-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-hansi-font-family: Calibri;"&gt;On this occasion,
Director General National Logistic Cell Major General Mushtaq A Faisal stressed
on the importance of logistic infrastructure and supply chain management in
CPEC. NLC has been taking special steps in this connection. He informed that
NLC has signed agreement with Marsdez Company for manufacturing loading trucks
in Pakistan to make ensure the facilities for smooth trading and transportation
of goods. He told that Pakistan will introduce Truck Tracking system to monitor
all transportation on highways and CPEC routs. NLC will manage Sust Border
Terminal Logistic Management and will construct service stations with
facilities for trucks and drivers along with CPEC roads at every 200 km.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12.0pt; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-fareast-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-hansi-font-family: Calibri;"&gt;Political Councilor of
China Embassy Jiag Han addressing to the audiences strongly ruled out the
perception which has been prevailed in a segment of Pakistani society that
China will dominate like East India Company during British regime. He said that
China had been victim of colonialization and the president of China already had
exhibited China’s policy “ China will boost other economies without political
interference and imposing its own economic agenda”.&amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12.0pt; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-fareast-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-hansi-font-family: Calibri;"&gt;Chief Executive of CPEC
project Dauad Butt hinted out that various type of technology as RFID, Iot,
Robotics, Drons, BIM, Big Data and artificial intelligence would be used in
road safety management and transportation of trade.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12.0pt; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-fareast-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-hansi-font-family: Calibri;"&gt;SSP Highway and Motorway
police Shaharyar Sikandar speaking to the audiences said that due to batter
management, the death toll during road accidents has been decreased 44% in last
year. He said that traffic police has taken various steps as E-ticketing,
Electronic controlling, Driving Center for HTV drivers and better services of
international standards.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="background: white; margin-bottom: 8.0pt; mso-line-height-alt: 11.75pt; text-align: justify;"&gt;
&lt;span style="color: #222222; font-size: 12.0pt; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-fareast-font-family: &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;; mso-hansi-font-family: Calibri;"&gt;Chairman National Institute
of Transportation Qaiser J Khattana on this occasion said that strong trade
connectivity would lead to regional economic development and transport
infrastructure is pre-requisite for CPEC. He said his institution has been
working to maintain CPEC road and transport effects on environment at zero
level.&amp;nbsp;&amp;nbsp;He said after CPEC completion Pakistan would be the first
transport hub of the world.&amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/cpec-conference-on-road-safety-and.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh-IAm9YRkWyhDInJdE2XQGM1Z5c5zTEWOvMvnCBe__4aMnPGQRbCrI-Yk8-zyYaWrxJB8WN_jEjh_qxlKtm1VP2qe9ia5X5dehsV3m2k1Dc3eGc73g9C1disrYXZxZ7V3aM36oEGZKWo8/s72-c/DG+NLC+f.png" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-2655359529049213203</guid><pubDate>Tue, 08 May 2018 21:27:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-09T02:27:39.939+05:00</atom:updated><title>Chief Justice presided over a review of reform in police investigation</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEj7P7aENABCeAGfacnVMXjGN4OOzsBJwWIow8t9jGq1MqNI69sjjIS0CXMnB2AEcRX9O69NUEfgGWR4TCLIm13LdR5rLbGvDjPqo-VyUohMUUTtDxWTdXjO0MxXrXn9rtglaRaRAYW88j8/s1600/cj.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="380" data-original-width="650" height="374" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEj7P7aENABCeAGfacnVMXjGN4OOzsBJwWIow8t9jGq1MqNI69sjjIS0CXMnB2AEcRX9O69NUEfgGWR4TCLIm13LdR5rLbGvDjPqo-VyUohMUUTtDxWTdXjO0MxXrXn9rtglaRaRAYW88j8/s640/cj.jpg" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
ISLAMABAD: (APS)May 8, 2018- Chief
Justice of Pakistan Mr. Justice Mian Saqib Nisar chaired a meeting regarding
improvements in police investigation process. The meeting was held today at
Supreme Court Islamabad which was attended by retired as well as serving Inspectors
General of police (IGPs) including Syed Masood Shah, Mr.Tariq Pervaiz,
Mr.Shoukat Javed, Mr. Afzal Ali Shigri, Mr.Tariq Khosa, Mr. Iftikhar Ahmed,
Mr.Shoaib Suddle, Mr.Fayaz Toru, Mr.Asad Jahangir and serving IGPs&amp;nbsp; Mr.Arif Nawaz, (IG-Punjab), Mr.A.D. Khawaja,
(IGP-Sindh), Mr.Salahuddin (IGP-KPK), Mr Moazzam Jah (IGP-Baluchistan) and Mr
Azam Taimori (IGP-ICT).&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
Talking on the issue of police
investigation in criminal cases, the &lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;Chief Justice of Pakistan told the
participants that it has been observed that in majority of criminal cases,
police investigation is improper and sub standard and drastic improvements are
needed so that criminal cases in courts can withstand judicial scrutiny. His
lordship asked them to deliberate upon the issue and suggest ways and means to
bring improvements in the system. Chief Justice constituted a committee headed
by Mr Afzal Ali Shigri, IGP (R) which will come up with terms of reference in
15 days.&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/chief-justice-presided-over-review-of.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEj7P7aENABCeAGfacnVMXjGN4OOzsBJwWIow8t9jGq1MqNI69sjjIS0CXMnB2AEcRX9O69NUEfgGWR4TCLIm13LdR5rLbGvDjPqo-VyUohMUUTtDxWTdXjO0MxXrXn9rtglaRaRAYW88j8/s72-c/cj.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-586514569974476299</guid><pubDate>Sun, 06 May 2018 22:41:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-07T03:41:23.623+05:00</atom:updated><title>وزیر داخلہ احسن اقبال، فائرنگ سے زخمی</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgASJGFdxod6KzXzS2JKqAbXPiCu3XNNF2SIlkU-_4hsURip23rJxBNFcmUr0cqtvmYkGQLirwQvQRAvJl2yS_sb72GUK7iIqB97cbOHd2d-7Ey7RhaiLWFLLPnEokf4CG09Nv3gNCtJY0/s1600/ahsan+Iqbal.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="480" data-original-width="800" height="384" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgASJGFdxod6KzXzS2JKqAbXPiCu3XNNF2SIlkU-_4hsURip23rJxBNFcmUr0cqtvmYkGQLirwQvQRAvJl2yS_sb72GUK7iIqB97cbOHd2d-7Ey7RhaiLWFLLPnEokf4CG09Nv3gNCtJY0/s640/ahsan+Iqbal.jpg" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;نارووال:(اے پی ایس)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نارووال کے علاقے کنجروڑ میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے ٹویٹر میں وفاقی وزیرداخلہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ'میرے دوست احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہوں'۔ان کا کہنا تھا کہ 'ابھی ان سے بات ہوئی ہے اور وہ ماشااللہ بلند حوصلہ ہیں اور جو بھی اس گھناونے کام میں ملوث ہیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا'۔پولیس کے مطابق احسن اقبال اپنے حلقے میں جلسے سے خطاب کے لیے پہنچے جہاں ان پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور ان کے بازو میں گولی لگی۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی اور نارووال عمران کشور نے کہا کہ فائرنگ 21 سالہ نوجوان نے کی۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے 30 بور پستول سے 20 گز کے فاصلے سے فائرنگ کی۔وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال(ڈی ایچ کیو) نارووال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے بعد ازاں انھیں بذریعہ ہیلی کاپٹر لاہور منتقل کیا گیا۔وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احس اقبال فرنٹ لائن سے لڑ رہے ہیں اور ان پر فائرنگ افسوس ناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کے دائیں کندھے میں گولی لگی جبکہ ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔رپورٹس کے مطابق احسن اقبال جلسے سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'وزیرداخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کرنے والے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس تفتیش کررہی ہے اور احسن اقبال کو ڈی ایچ کیو نارووال میں طبی امداد دی جارہی ہے'۔فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد پولیس بھی پہنچی اور تفتیش کا آغاز کردیا ہے اور ایک نوجوان کو حراست میں لیا۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے انسپکٹر جنرل (آئی جی)پنجاب سے واقعے&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزم کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری کردی۔&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;iframe allowfullscreen='allowfullscreen' webkitallowfullscreen='webkitallowfullscreen' mozallowfullscreen='mozallowfullscreen' width='320' height='266' src='https://www.blogger.com/video.g?token=AD6v5dzd4rWQMxosiY7YIG5cig5Z_LusgpXI9M81WaQa3ciszNSCsdT8XXIsBqyc7TZ3jzncH-OgibKeZMKGTwYdmg' class='b-hbp-video b-uploaded' frameborder='0'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style="color: red; font-size: large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style="color: red; font-size: large;"&gt;احسن اقبال پر فائرنگ کی مذمت&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملیکی مذمت کی اور آئی جی پنجاب سے فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلی پنجاب سے وفاقی وزیر داخلہ پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے۔انھوں نے احسن اقبال کو فوری طور پر لاہور منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی روانہ کردیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ 'اللہ رب العزت احسن اقبال صاحب کو زندگی اور صحت عطا فرمائے، آمین، یہ ملک ہمارا ہے اور اس میں بگاڑ پیدا کرنے والی قوتوں کا محاسبہ کرنا ہو گا'۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ وفاقی وزیرداخلہ پرحملہ نہیں بلکہ یہ ریاست پرحملہ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ احسن اقبال کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں اور حملے میں ملوث کردار کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔سابق صدر آصف زرداری اور پی پی پی رہنما نیئربخاری نے بھی احسن اقبال کی پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق سینیڑ شاہی سید نے اپنے بیان میں وفاقی وزیرداخلہ پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احسن اقبال پر حملہ سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے، حملے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹر میں اپنے پیغام میں احسن اقبال پر حملے کی مذمت کی۔پی ٹی آئی کی جانب سے مذمتی بیان دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کی سلامتی و مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ واقعیکی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے بھی وفاقی وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ احسن اقبال پر حملہ انتہائی بزدلانہ کارروائی ہے اور اس حملے کے پس پردہ عزائم بے نقاب ہونے چاہئیں۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کی مذمت کی اور جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ 1958 میں جنم لینے والے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال اس وقت وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر منصوبہ بندی و ترقی ہیں۔احسن اقبال ممتاز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں، انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور، یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (لاہور)، جارج ٹان یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ان کا تعلق ایک سیاسی پس منظر رکھنے والے گھرانے سے ہے، ان کی والدہ آپا نثار فاطمہ بھی پارلیمینٹیرین رہی ہیں اور قیامِ پاکستان سے قبل ان کے نانا چوہدری عبدالرحمن خان بھی قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔احسن اقبال نے 1988 میں اسلامی جمہوی اتحاد کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا جس کے بعد جنم لینے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حصہ بنے۔انھوں نے این اے اس وقت 90 (جو 2013 میں 117 حلقہ) نارووال سے پہلی مرتبہ 1993 میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جس کے بعد 1997، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم انھیں ایک مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔احسن اقبال نے وفاقی حکومت میں اہم وزارتوں کے قلم دان سنبھالے اور کلیدی کردار ادا کیا۔انھوں نے بطورڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اور چیئرمین پاکستان انجینئرنگ بورڈ خدمات انجام دیں۔وہ نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی آن انفارمیشن ٹیکنالوجی آئی کیو ایم پروڈکٹیوٹی کے بھی چیئرمین رہے۔احسن اقبال کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی کے خالق ہیں جو انھی کا شروع کیا گیا منصوبہ تھا۔انہوں نے سن دو ہزار دو سے دو ہزار سات تک محمد علی جناح یونیورسٹی، اسلام آباد کی انتظامیہ میں بھی خدمات انجام دیں۔وہ ایک تھنک ٹینک 'بیٹر پاکستان فانڈیشن' کے بھی سربراہ رہے۔احسن اقبال کے پاس 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت میں وفاقی وزارت برائے تعلیم اور اقلیتی امور کا قلم دان بھی رہا تاہم ان کی وزارت کا دورانیہ اس لیے مختصر رہا کہ ان کی جماعت نے اختلافات کے باعث مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال اور پارٹی میں ان جیسے دیگر رہنما آزاد خارجہ پالیسی کی وکالت کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ نائین الیون کے بعد کی امریکی پالیسیاں پاکستانی عوام کے اندر موجود امریکا مخالف جذبات پر جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی رہی ہیں۔احسن اقبال کو 2013 کے عام انتخابات میں پارٹی امیدواروں کا فیصلہ کرنے کے لیے قائم مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ میں بھی شامل کیا گیا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ بورڈ میں زیادہ تر وہ اراکین شامل ہیں جو نواز شریف کے وفادار تصور کیے جاتے تھے اور انھوں نے مشرف دورمیں جماعت کو زندہ رکھا تھا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وفاقی حکومت بنائی تو احسن اقبال کو ایک مرتبہ پھر وزارت منصوبہ بندی کا قلم دان سونپا گیا اور انھوں نے 54 بلین ڈالر کے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبے کو عملی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔احسن اقبال کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمی میں وزیرداخلہ اور منصوبہ بندی اور ترقی کی وزارت کا بھی قلم دان دیا گیا تاہم ان کے حوالے سے گزشتہ سال اس وقت تنازع سامنے آیا تھا جب ان کے پاس سعودی عرب کا اقامہ سامنے آگیا تھا۔&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/blog-post_7.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgASJGFdxod6KzXzS2JKqAbXPiCu3XNNF2SIlkU-_4hsURip23rJxBNFcmUr0cqtvmYkGQLirwQvQRAvJl2yS_sb72GUK7iIqB97cbOHd2d-7Ey7RhaiLWFLLPnEokf4CG09Nv3gNCtJY0/s72-c/ahsan+Iqbal.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-8613277744724702988</guid><pubDate>Sun, 06 May 2018 21:46:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-07T02:47:40.149+05:00</atom:updated><title>Interior Minister Ahsan Iqbal, injured in firing incident</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;iframe allowfullscreen='allowfullscreen' webkitallowfullscreen='webkitallowfullscreen' mozallowfullscreen='mozallowfullscreen' width='320' height='266' src='https://www.blogger.com/video.g?token=AD6v5dx0I97JHZlxSHjPB2xuOP2ZNqVbGbAp6VuUkbN27LpEGXz0kRIFa_DTFOi9Q6h_fKKL28Kas4FS5Br7rMFI8g' class='b-hbp-video b-uploaded' frameborder='0'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Associated Press Service&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
May 6,2018&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Interior Minister Ahsan Iqbal has been shifted to Services Hospital Lahore for surgical treatment.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
He was shifted by the Punjab Chief Minister's helicopter from Narowal to Old Lahore Airport. Later, he was shifted to the Surgical Unit One of the Services Hospital amid tight security.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
The Hospital Doctors have termed his condition out of danger.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Strict security measures have been placed inside and outside the Services Hospital to avoid any untoward incident.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Earlier, Interior Minister Ahsan Iqbal was injured in a firing incident in a corner meeting at Kanjrur in Narowal this evening (Sunday).&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Reports say that the incident occurred when the Minister was going to his car after attending the corner meeting.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Ahsan Iqbal was rushed to the District Headquarters Hospital, and given medical treatment.&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
In an interview, DPO Narowal Imran Kishwar said the Interior Minister received a bullet in an arm, and his condition was out of danger. He said the accused, identified as Abid Hussain, has been arrested. The spokesman for Punjab government said the accused belongs to a local village.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Condemnations:&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
President Mamnoon Hussain has condemned the attack on Interior Minister Ahsan Iqbal and prayed for his early recovery.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Expressing solidarity with Ahsan Iqbal's family, he said difference of opinion should not be translated into violence. He said intolerance is lethal for the society and the biggest hurdle in the way of country's development and stability.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
The President said every attempt to promote chaos and violence will be dealt with an iron hand. He said all political forces and people from all walks of life should join hands to promote tolerance and patience in the society.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi has also strongly condemned attack on Interior Minister Ahsan Iqbal.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
He telephoned Ahsan Iqbal and inquired after his health. He too prayed for early recovery of the interior minister.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
The Prime Minister also called for immediate report into the incident from IG Police Punjab.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Talking to Radio Pakistan, Minister for Information and Broadcasting Marriyum Aurangzeb prayed for the early recovery of Ahsan Iqbal.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
She said criticism of providing security to dignitaries is unjustified at a time when the country is fighting terror.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Punjab Governor Rafique Rajwana and Chief Minister Shahbaz Sharif also condemned the incident.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Chief Minister Baluchistan Abdul Quddos Bazinjo, Speaker National Assembly Sardar Ayaz Sadiq, Deputy Speaker Murtaza Javed Abbasi, Ministers Sardar Muhammad Yousuf, Shiekh Aftab Ahmad, Chaudhary Barjees Tahir and Advisor to PM Amir Muqam,&amp;nbsp; Prime Minister Azad Jammu and Kashmir Raja Farooq Haider Khan, Chief Minister Gilgit Baltistan Hafiz Hafeez-ur-Rehman, Leader of the Opposition in National Assembly Syed Khurshed Shah, Chairman Pakistan Tehrik-e-Insaf Imran Khan, Chairman Pakistan People's Party Bilawal Bhutto Zardari, Co-Chairman Asif Ali Zardari, Opposition Leader in the Senate Sherri Rehman and other political leaders have strongly condemned that attack on Interior Minister Ahsan Iqbal in Narowal.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
In their separate statements, they demanded to take strict legal action against the suspect.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
Meanwhile, Army Chief General Qamar Javed Bajwa has strongly condemned firing on Federal Interior Minister Ahsan Iqbal.&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
According to ISPR, he expressed best wishes for early recovery.&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/interior-minister-ahsan-iqbal-injured.html</link><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-3602882327129591395</guid><pubDate>Sun, 06 May 2018 07:42:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-06T12:42:33.795+05:00</atom:updated><title>GUMM: An Internationally Acclaimed Pakistani Feature Film</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal"&gt;
&lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;b style="mso-bidi-font-weight: normal;"&gt;Global Scholarly Selection for first Pakistani feature film&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal"&gt;
&lt;i&gt;&lt;u&gt;&lt;span style="font-size: 14.0pt; line-height: 107%;"&gt;Associated Press Service&lt;/span&gt;&lt;/u&gt;&lt;/i&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal"&gt;
&lt;i style="mso-bidi-font-style: normal;"&gt;&lt;u&gt;&lt;span style="font-size: 14.0pt; line-height: 107%;"&gt;New York, USA&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/span&gt;&lt;/u&gt;&lt;/i&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal"&gt;
&lt;i style="mso-bidi-font-style: normal;"&gt;&lt;u&gt;&lt;span style="font-size: 14.0pt; line-height: 107%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/u&gt;&lt;/i&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgEnODhZNn-3DZg39lc2qtYliQ81dZM54sIMkJ3Qh6g2ZC2pIwtyFQPjBRSOK5xOeFQXxZNhCVAxS56lSmvmU3E2MlCRdOXg0dtYOhNqGHdHXMIj7YTm7ZxqlJhfTOQ8HAclOxqRun5b_k/s1600/AYZ_9571.JPG" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="1067" data-original-width="1600" height="426" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgEnODhZNn-3DZg39lc2qtYliQ81dZM54sIMkJ3Qh6g2ZC2pIwtyFQPjBRSOK5xOeFQXxZNhCVAxS56lSmvmU3E2MlCRdOXg0dtYOhNqGHdHXMIj7YTm7ZxqlJhfTOQ8HAclOxqRun5b_k/s640/AYZ_9571.JPG" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal"&gt;
&lt;i style="mso-bidi-font-style: normal;"&gt;&lt;u&gt;&lt;span style="font-size: 14.0pt; line-height: 107%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/u&gt;&lt;/i&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
It is a pride to see young
Filmmakers making Pakistan proud by being recognized on an International
platform. Pakistani feature film ‘GUMM’ (LOST)has been nominated in not one, but
three International Film Festivals, so far.Last month GUMM was nominated in ‘AAB
International Film Festival’ in India and then in ‘CKF International Film
Festival’, United Kingdom. This month, it was first “Officially Selected” in
‘Festigious International Film Festival’, then was qualified as a “Semi-Finalist”
amongst 30 top films from around the world and now it has been qualified
amongst top 10 filmsas a “Finalist”. Festigious International Film Festival is
also known as the ‘Queen of International Film Festivals’ and takes place in
the heart of Hollywood in Los Angeles, California, USA. This acknowledgement from
International Critics all around the world is yet another proof that Pakistan
has all the right talent to compete in any International platform.&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
The film stars Sami Khan, Shameen
Khan and Shamoon Abbasi in the main leads. The genre revolves around thrilling
action and dramatic romance. The film has three songs in it as well.&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
The first look poster of GUMM
that was released recently on social media looks highly promising and
intriguing and it perfectly explains the plot of the film. First-look grabs
your attention in a glimpse and I can bet you cannot have enough of it. The depth
within the poster gets you more and more involved and makes you ask questions every
time you see it.&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgFDIWHrWtVzFSj-7rRJOF9Ad8guWt276I6TSevHvGgOxF6vBiIPv3s8-A-Qotz6L-phG2XM5qvew1B2waEB1eVsupAAsoLhhLN1oAMSupMLGIDMIyqznkbM4GeBCKq40-yh-bYo8xSkoI/s1600/GUMM_POSTER_4_5_2018.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="1600" data-original-width="1130" height="640" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgFDIWHrWtVzFSj-7rRJOF9Ad8guWt276I6TSevHvGgOxF6vBiIPv3s8-A-Qotz6L-phG2XM5qvew1B2waEB1eVsupAAsoLhhLN1oAMSupMLGIDMIyqznkbM4GeBCKq40-yh-bYo8xSkoI/s640/GUMM_POSTER_4_5_2018.jpg" width="452" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
The film has been Written and
Directed by Kanza Zia and Ammar Lasani who both hold foreign Masters Degree in
Filmmaking. While talking to such highly qualified people from a very good
background, I felt very optimistic about the future of the reviving Pakistan
Film Industry. Only such young, energetic and visionary directors can ensure
the revival of Pakistan Film Industry.&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
The film has been produced by
Shakeel Anjum, who is a literary person and keeps a keen eye on the society in
general. “I feel proud of investing my time, effort and money in the right
project and team”, he said. When inquired about the challenges a film producer
faces in Pakistan, he answered, “Well, it’s no less than a miracle to complete
a film in Pakistan successfully, but in the end it’s all worth it.” &lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
I also inquired the Directors
about the challenges they faced, and they optimistically answered that, “Making
a film in Pakistan is a difficult task as the director has to look after
everything at every stage along with not letting go of the vision.”&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjlc95RNwO6OsPGWU_owLpPr1auPMIwSqiK9ejC6EwmUeVPuSDgkGFzoTvQlDW7DKLgN8iM2gXoV_ODKdq0wtEOn_haL59L_f9B5CTM3js42KCTNbYRxkjcHPdZ46b6o-cs-ySQCe7e4CM/s1600/AYZ_1596.JPG" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="1067" data-original-width="1600" height="426" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjlc95RNwO6OsPGWU_owLpPr1auPMIwSqiK9ejC6EwmUeVPuSDgkGFzoTvQlDW7DKLgN8iM2gXoV_ODKdq0wtEOn_haL59L_f9B5CTM3js42KCTNbYRxkjcHPdZ46b6o-cs-ySQCe7e4CM/s640/AYZ_1596.JPG" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
Ammar Lasani added, “You can’t
expect to make a good film with a bad script, so the foundation of the film in
form of script needs to be rock-solid, then comes the production and
post-production phase.”Kanza Zia said, “Pre-production phase is the most
important of all. If the homework is strong, from story to storyboard, and the
director is crystal clear about his/her vision, the quality of film will never
be compromised. Since, film is a director’s medium and it is his/her
responsibility to ensure that the vision and quality are not compromised, and that
is exactly what we are being paid off for today in form of International acclamation.”There
is no doubt that a Director’s vision makes a film, and the duo seemed to know
their job.&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
When explored about their
experiences regarding working with the actors, Kanza Zia said, “It was a
pleasant experience to have a dedicated and hardworking actor like Sami Khan on
board.”Ammar Lasani added, “I’ll put it into Sami’s own words, he is a
director’s actor.”Regarding Shamoon Abbasi they stated, “Shamoon’s acting
potential and his physical getup had never been explored or experimented before
by any Director. He will certainly surprise the masses and even himself.” Both
the Directors appreciated Shameen Khan’s hard work as well stating that,
“Shameen catered the role’s requirement and lived up to our expectation.”&lt;a href="https://www.blogger.com/null" name="_GoBack"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
When asked about the time their
masterpiece took to complete, they told that from the conception of idea, it
took them two years, day in day out, to finish the project. “Film requires a
lot of patience, dedication, faith and plentiful amount of money.”&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
Mr. Shakeel Anjum confirmed that
they are expecting to hear a positive response from other international
platforms as well and only after that they shall move towards the local and
international theatrical releases. “I feel very confident that we will receive
the same response from the masses as we did from International film festivals.
The dates of the releases are not confirm yet.” He, however, confirmed that GUMM
will be released this very year.&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/gumm-internationally-acclaimed.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgEnODhZNn-3DZg39lc2qtYliQ81dZM54sIMkJ3Qh6g2ZC2pIwtyFQPjBRSOK5xOeFQXxZNhCVAxS56lSmvmU3E2MlCRdOXg0dtYOhNqGHdHXMIj7YTm7ZxqlJhfTOQ8HAclOxqRun5b_k/s72-c/AYZ_9571.JPG" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-1414378857074955011</guid><pubDate>Fri, 04 May 2018 01:53:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-04T06:53:47.360+05:00</atom:updated><title>Pakistani film 'Gum'  selected by India, Britain and Hollywood Film Festival</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjKvOYs3MSGCMSdje8VsWU7ep3a6cvUW4Rqh2ff0YihPkA2HCx0icbIil_obvs5vIz0JyxSQQnoyNesG4xJKgc1JI4xms0wvFWPYNq9pO8kvS-zwKKYqVzFFB-cM5FGVHdF8hWZMlNTHuo/s1600/GUMM.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="960" data-original-width="678" height="640" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjKvOYs3MSGCMSdje8VsWU7ep3a6cvUW4Rqh2ff0YihPkA2HCx0icbIil_obvs5vIz0JyxSQQnoyNesG4xJKgc1JI4xms0wvFWPYNq9pO8kvS-zwKKYqVzFFB-cM5FGVHdF8hWZMlNTHuo/s640/GUMM.jpg" width="452" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;a href="http://www.associatedpressservice.net/entertainment/pakistani-film-gumm-selected-by-india-britain-and-hollywood-film-festival/"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: justify;"&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;a href="http://www.associatedpressservice.net/entertainment/pakistani-film-gumm-selected-by-india-britain-and-hollywood-film-festival/"&gt;Associated Press Service&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
ISLAMABAD:May 4, 2018- Even
before its release in the cinemas a Pakistani feature film, 'Gumm' (Lost) has
already earned a couple of world class laurels as it found its way to
prestigious 'Aab International Film Festival' (AIFF) in India and the CKF
International Film Festival in the United Kingdom.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
'Gumm' (Lost), is a Pakistani
feature film, the first production of young Ammar Lasani and Kanza Zia, which
has been chosen as 'Official Selection' in for screening by the two
organisations. The AIFF will be held in India while the CKF festival will be
held in Swindon, the UK. The CKF festival award ceremony is likely to be held
in August.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
Both, Ammar Lasani and Kanza Zia,
have graduated with 'Masters in Film Making' from the New York Film Academy,
Los Angeles, USA in the year 2015. Ammar Lasani said that the film is a
thriller-drama, which revolves around two characters, interlinked by an
intriguing chain of events. The cast of 'Gumm' is mainstream actors, including
Sami Khan, Shameen Khan and Shamoon Abbasi, and is set for release this year.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
Ammar said that he and his whole
team was very happy over the selection of their first production for screening
by the AIFF and the CKF and hoped it would win due acknowledgement and
appreciation of the judges at both the festivals.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
"We are really happy on the
acceptance of our film for competition by the AIFF because it is the first
Pakistani film to be officially selected at 'Aab Film Festival'," Ammar
Lasani said. AIFF the CKF have selected a number of films from hundreds of
entries sent from across the world. Some of the selected films are from the
United Kingdom, the United States, Canada, Switzerland, Portugal, Iraq and
India.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
The film has been co-directed by
debutant filmmakers, Kanza Zia and Ammar Lasani, and produced by Shakeel
Anbjum. The producer of the film, Shakeel Anjum, said that 'Gumm' has been
produced with very limited resources and yet promised that it would turn out to
be a fine movie to watch.&lt;o:p&gt;&lt;/o:p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="MsoNormal" style="text-align: justify;"&gt;
"I am happy that the works
of young and promising Pakistani filmmakers is now being recognized
internationally and it is heartening to know that 'Gumm' has been selected to
compete with hundreds of films that are made with unlimited resources,"
the producer said. He added that the film is expected to set milestones in other
international platforms as well. 'Gumm' is planned to be released after 'Eid'
in the cinemas for cine goers in Pakistan.&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/pakistani-film-gum-selected-by-india.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjKvOYs3MSGCMSdje8VsWU7ep3a6cvUW4Rqh2ff0YihPkA2HCx0icbIil_obvs5vIz0JyxSQQnoyNesG4xJKgc1JI4xms0wvFWPYNq9pO8kvS-zwKKYqVzFFB-cM5FGVHdF8hWZMlNTHuo/s72-c/GUMM.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-5474042013931019501</guid><pubDate>Thu, 03 May 2018 22:41:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-04T03:41:05.702+05:00</atom:updated><title>میڈیا کا گلا دبانے کی لگی بازی ایک بڑا سانحہ کی منتظر</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiDxFNMcpGD9hqUVkiYCkAmgFS7HgrtuqTs0SAJc_m45CxZfpBdr2cY7xkIVg55J6XeVKZsqRpTyM9fl2Z6qWE4KiymcYheOSuIEfSE23rsBuiZbEJ1gktVJYdIwv6_8kDidpbN68ehCfM/s1600/wpfd+npc.png" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="298" data-original-width="900" height="210" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiDxFNMcpGD9hqUVkiYCkAmgFS7HgrtuqTs0SAJc_m45CxZfpBdr2cY7xkIVg55J6XeVKZsqRpTyM9fl2Z6qWE4KiymcYheOSuIEfSE23rsBuiZbEJ1gktVJYdIwv6_8kDidpbN68ehCfM/s640/wpfd+npc.png" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;span style="color: red; font-size: large;"&gt;تحریر: چودھری احسن پریمی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
عالمی یومِ آزادی صحافت، کا مقصد عالمی سطح پر آزاد صحافت کو حملوں سے محفوظ رکھنے اور صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف قانونی کارروائی کو ممکن بنانے کے لیے آواز اٹھانا ہے سو رواں برس عالمی آزادی صحافت کا دن بھی ایسے موقعے پر آیا ہے جب پاکستان میں میڈیا کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے موقعے پر جب عام انتخابات سر پر ہیں۔ گزشتہ ماہ انگریزی اخبارات کے لیے باقاعدگی سے لکھنے والے کئی کالم نگاروں کو ایڈیٹرز کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ ان کے کالم ان کے اخبارات میں شائع نہیں ہوں گے۔مشرف زیدی 10 برسوں سے دی نیوز کے لیے لکھتے رہے ہیں، مگر ان 10 سالوں میں پہلی بار اخبار نے ان کا کالم شائع نہیں کیا۔انہوں نے اپنا کالم ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ، مضبوط قومیں صحتمند بحث کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ کمزور قومیں اس سے خائف ہوتی ہیں۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے جتنی اجازت ملی ہوئی ہے پاکستان اس سے زیادہ مضبوط ہے۔جب بابر ستار کا کالم بھی اسی اخبار سے خارج کیا گیا تو انہوں نے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنا کالم ٹوئیٹ کردیا۔ اخبار میں شائع ہوچکے کچھ مواد کو اخبار کی ویب سائٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔جہاں پریس اس ملک میں جو دہائیوں فوجی آمریت کے سائے تلے رہا ہے، سینسرشپ سے انجان نہیں، وہاں آج، میڈیا کے درمیان تقسیم نے اس غیر جمہوری دبا کی مزاحمت کرنے کی پریس کی صلاحیت کو کمزور کردیا ہے۔میڈیا کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے فریڈم نیٹ ورک کی تازہ رپورٹ کے مطابق مئی 2017 سے اپریل 2018 کے درمیان صحافیوں پر 157 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ ان میں سے 55 حملے تو صرف اسلام آباد میں ہی ہوئے۔ایک کالم نویس رزشتہ سیٹھنا نے گزشتہ دنوں عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر ایک انگریزی اخبار میں اپنے کالم میں تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ اب جبکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے خطرات نمایاں حد تک کم ہوچکے ہیں، مگر پھر بھی وفاقی دارالحکومت صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ بن کر سامنے آیا۔ لیکن اس بار، ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے۔ہمارے ملک جیسی ناپختہ جمہوریتوں میں تنقیدی خیالات کو نشانہ بنانے کی وجہ کمزور ادارے، محدود عدالتی ڈھانچے اور سیاسی عزم کی کمی ہے، جہاں ایسی صورتحال ہو وہاں آزاد صحافت کا تصور کس طرح ممکن ہے۔بہرحال میڈیا کو سیلف سینسرشپ جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یعنی اپنی آواز خود ہی بند کر لینا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ، دائیں، بائیں اور مرکز سے دبا ہوتا ہے۔ میں اپنی مرضی کے مطابق تحریر نہیں کرپاتا ہوں۔ آخر میں اس بات کی ذمہ داری کس طرح لے سکتا ہوں جس بات کو لکھنے کے لیے مجھے کہا گیا ہے؟۔موجودہ حالات میں کالم نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ 'حساس' موضوعات پر نہ لکھنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ حقوق کے لیے مطالبہ کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے۔دی نیوز انٹرنیشنل کے طلعت اسلم نے ایک کالم نویس کو&amp;nbsp; بتایا ہے کہ کیوں: "ہمیں کہا گیا تھا کہ اس معاملے پر کم رپورٹنگ کریں کیوں کہ یہ (سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے)بیانیے کے ایک بڑے حصے کو زک پہنچا رہا ہے۔ کئی سالوں تک وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میڈیا کی نظروں سے مکمل طور پر اوجھل رہے۔ ہمیں صرف آئی ایس پی آر کی جانب سے مارے گئے جنگجوں کی تعداد بتائی جاتی۔ پہلی دفعہ ہم اس کے لیے رہنماوں سے ان مسائل کے بارے میں سن رہے ہیں جن پر ہم نے کبھی بھی بات نہیں کی ہے۔ تبھی اس بیانیے کو فوج مخالف سمجھا گیا، اور جیسے ہی اس میں کابل کی مداخلت کا شبہ ہوا، تو کوریج پر پابندی کا حکم دیا گیا۔"شمالی وزیرستان سے ایک رپورٹر رسول داور ایک کالم سے کہتے ہیں کہ قبائلی صحافی جانتے ہیں کہ انہیں فوج کے بالکل بھی خلاف نہیں جانا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان پختون کارکنوں کی جانب سے پریس پر پابندی کا سوشل میڈیا کے ذریعے مقابلہ کرنے کے باوجود وہ اب بھی اس قابل نہیں کہ ایسے ہی مسائل، مثلا جبری گمشدگیوں کے بارے میں لکھ سکیں۔جنگ گروپ کا جیو ٹی وی ملک کے زیادہ تر حصوں میں بند کر دیا گیا تھا۔ یہ پابندی نہ ہی سرکاری ریگولیٹری ادارے پیمرا اور نہ ہی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے عائد کی گئی۔ کیبل آپریٹرز کا دعوی ہے کہ انہیں ہدایات دی گئی تھیں کہ کن چینلز کو پچھلے نمبرز پر دھکیلنا، یا پھر بند ہی کر دینا ہے۔کئی صحافیوں اور ایڈیٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں یا تو 'ہدایات' دی جاتی ہیں کہ کون سی خبریں نہیں جانی چاہیئں، یا پھر وہ خود ہی خوف کے مارے اپنے مواد پر کنٹرول رکھتے ہیں۔سینیئر صحافی نسیم زہرہ اسے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے احساسِ عدم تحفظ کے طور پر دیکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ"ہر طرح کی سینسرشپ کی مذمت کی جانی چاہیے۔ اس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے۔ میڈیا کو لڑ جھگڑ کر وہ آزادی واپس لینی چاہیے جو اس نے حاصل کی تھی۔"کاروبار میں رہنے کی بنیادی شرائط یہ ہیں کہ فوج پر کسی بھی قسم کی تنقید کو سینسر کر دیا جائے، اور مسلم لیگ (ن) کی جانب جھکا محسوس ہو تو اسے دبا دیا جائے، بشمول سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی اپنی نااہلی کے بعد عدلیہ مخالف تقاریر کی میڈیا کوریج کو۔ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ حالات کبھی اتنے خراب ہوئے ہوں۔ ضیا اور جونیجو دور میں بھی دبا ہوتا تھا مگر اب یہ زیادہ کھلے عام اور مطلق العنان ہے۔ سینیٹ انتخابات میں جو ہوا اور خواجہ آصف کی نااہلی کو دیکھتے ہوئے یہی پوچھوں گا آخر ہم کس طرح کے انتخابات کی جانب جا رہے ہیں؟"سینیئر صحافی حامد میر کہتے ہیں، "جیو کو اس حوالے سے ادارتی پوزیشن لینی چاہیے مگر (نواز) شریف کا وکیل نہیں بننا چاہیے۔"انہوں نے بتایا کہ سینسرشپ کا تازہ ترین دور صحافیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے جنہوں نے ہمیشہ غیر یقینی اور خوف کا سامنا کیا ہے۔"2015 میں تو حالات اور بھی خراب تھے جب صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ مگر آج ہمیں کبھی لائیو جانے والے اپنے پروگرام پہلے سے ریکارڈ کرنے پڑتے ہیں اور ہمارے مضامین روک دیے جاتے ہیں۔"اپوزیشن جماعتوں اور کچھ میڈیا اداروں کی جانب سے اس طرح کی جابرانہ ہدایات پر کم ہی ردِ عمل سامنے آتا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کے مطابق پارٹی کا "الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ معقول تعلق ہے۔ یہ تعلق ترش یا دشمنی پر مبنی نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت میڈیا پر دباو نہیں ڈال سکتی مگر حکومتیں کر سکتی ہیں اور کرتی بھی ہیں۔"جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی جماعت نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف کیوں بات نہیں کی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ: "میڈیا کی آزادی کو سب سے بڑا خطرہ موجودہ حکومت کی جانب سے دولت کے بل پر (میڈیا پر اثرانداز)ہونے سے ہے۔"یاد کریں کہ جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 2007 میں نجی ٹی وی چینلز کے خلاف کریک ڈاون کیا تھا، تو سیاسی جماعتوں اور ایڈیٹرز، دونوں نے ہی اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔مگر اب کی بار مضبوط ہوتی ہوئی اس گرفت کے خلاف حزبِ اختلاف کی کسی بھی جماعت نے اب تک احتجاج نہیں کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ میڈیا گروپس کی آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے صنعت مزید مشکلات کا شکار ہوئی ہے۔پاکستان میں اپنی پریس کے بارے میں مرکزی بیانیہ یہ ہے کہ یہ بے قابو ہے، چنانچہ جب کسی میڈیا ہاوس کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور کئی میڈیا گروپس سینسرشپ کی 'ہدایات' پر عمل کرتے ہیں تو اسے آزادی اظہار کے خلاف نہیں سمجھا جاتا، خود میڈیا کے اپنے کئی حلقوں کی جانب سے بھی نہیں۔مگر جو بازی لگی ہوئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے واضح ہے کہ ایک سانحہ ہمارا منتظر ہے"۔&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;جدید صحافت میں ایک اصطلاح "گیٹ کیپر" استعمال ہوتی ہے جس کے ذمے ان خبروں کو روکنا ہوتا ہے جن سے معاشرے پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہو۔ یہ انتہائی اہم ذمہ داری ہے اور اسے معاشرتی اتار چڑھا اور مزاج سے واقف شخص ہی سر انجام دے سکتا ہے۔گیٹ کیپر ایک ہلکا لفظ ہے، شاید اسی لیے اہم ہونے کے باوجود پاکستان کا کوئی صحافی یا صحافتی ادارہ اسے اپنے اوپر چسپاں کرنا توہین صحافت سمجھتا ہے۔ صحیح علم تو نہیں مگر لگتا یہی ہے کہ پاکستان میں اس عہدہ پر کوئی صحافی فائز نہیں ہے.مطلق العنانی چونکہ ہمارے ہاں عام ہے لہذا اس کا نتیجہ بھی اکثر نکلتا رہتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی صحافتی ادارے کا&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;مالک ایک خبر کو عام کرنا چاہے اور گیٹ کیپر اسے یہ کہہ کر رد کر دے کہ یہ معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔بعض دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحافتی اداروں میں اس قسم کی پالیسی کے نتائج وہی نکلتے ہیں جو ہم نے گزشتہ دنوں سے دیکھے ہیں۔ باقی دنیا کی بات نہیں کرتے مگر وطن عزیز میں آزادی صحافت کا حقیقی مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ صحافی برادری کو اس بات کے کلی اختیارات حاصل ہوں کہ وہ سرعام کسی کا بھی پائجامہ ڈھیلا کر سکیں۔اختلاف رائے رکھنا زندہ معاشروں کی پہچان ہے مگر کسی بھی فرد یا ادارے کا محض اسے رسوا کرنے کے لیے پیچھا کرنا مناسب عمل نہیں کہا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں میڈیا کو محض کسی کے خلاف یا حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔گو میڈیا کا کام لوگوں کی راہنمائی کرنا اور اطلاع دینا ہی ہے مگر انہیں اپنے معاشی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہرگز نہیں ہے۔ میڈیا لوگوں کو آگاہ تو کر سکتا ہے انہیں سمت تو دکھا سکتا ہے مگر فیصلہ خود نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے اس بات کا اختیار ہے کہ وہ لوگوں کو وہی سمت دکھائے جو وہ دکھانا چاہتا ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ سمت جس کا اس نے سودا طے کر رکھا ہو۔ یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ تمام میڈیا ایسا نہیں ہے مگر زیادہ تر ایسا ہی ہے۔پاکستان صحافت کے لیے خطرناک ملک ہے۔ اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں مگر پاکستانی صحافت میں کرپشن اور غیر ذمہ داری کے اعداد و شمار آج تک سامنے نہیں آئے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو بہت جلد عام لوگوں کا اعتماد صحافت سے مکمل طور پر اٹھ جائے گا جو جزوی طور پر پہلے ہی اٹھ چکا ہے۔یہ بات طے ہے کہ لوگوں کی راہنمائی کا حق صرف اسی کو حاصل ہے کہ جس کا اپنا دامن مکمل صاف ہو، غلطی ہو سکتی ہے مگر غلطی کو بار بار دہرانا غلطی شمار نہیں کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندیاں ضرور رہی ہیں مگر گزشتہ عشرے سے ملنے والی آزادی کو ہمارے میڈیا نے جس طرح "کیش" کرانے کی کوشش کی ہے وہ چند الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ادھر صحافت جن اداروں یا افراد کے خلاف صف آرا ہے ان کا بھی اللہ ہی حافظ ہے مگر یہاں ان پر بات کرنے سے بات لمبی ہو جائے گی۔اس ساری صورتحال کا حل بہرحال تمام صحافتی اداروں کو تلاش کرنا اور اس پر عمل کرنا ہو گا۔ صحافت ایک فن ہونے کے ساتھ ساتھ پیشہ، تجارت اور ذمہ داری بھی ہے اور اس کے کچھ قواعد و ضوابط بھی ہیں جن پر اگر تو مروجہ صحافت عمل پیرا ہے تو پھر اسے واویلا کرنے کا حق بھی ہے اور اس حق کی راہ میں مرنے والا شہید بھی ہے. لیکن اگر کوئی صحافت اور آزادی صحافت کا نام استعمال کر کے اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنا چاہے تو اسے صحافی اور شہید نہیں بلکہ مجرم قرار دینا چاہیے۔پاکستان میں صحافت کی کچھ ساکھ اب بھی باقی ہے چنانچہ اسے بہتر کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے صرف ایک ہی کام کرنا ہو گا کہ قواعد و ضوابط اور صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھ کر صحافت اور لوگوں کی راہنمائی کی جائے ورنہ عوام کا ساتھ ہی چھوٹ گیا تو صحافت اور صحافتی اداروں کی نہ صرف عزت دو کوڑی کی ہو جائے گی بلکہ وہ کوڑی کوڑی کے محتاج بھی ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان لوگوں کو بھی کھل کرکھیلنے کا موقع مل جائے گا جن کے خلاف آج صحافت عوام کے لئے صف آرا ہے۔ گلوبلائزیشن کے دور کی آمد کے ساتھ کئی دقیانوسی، قدیم وضع کی اقدار اب ختم ہوچکی ہیں اور یہ اقدار ایک اور قدیم اصول سے منسلک ہیں جس میں آزاد میڈیا کو ایک طرف حکمرانی پر نظر رکھنے والی آنکھ تو دوسری جانب شہریوں کی جائز شکایات پر اٹھنے والی آواز تصور کیا جاتا ہے۔بعض اخبارات اب بھی اکثر و بیشتر تنقید کا نشانہ بننے والے سچ بولنے کی عادت پر قائم ہیں۔ اس کے لیے کبھی ریاستی اداروں تو کبھی سیاسی جماعتوں کا دبا وبھی اپنے کندھوں پر برداشت کیا ہے۔مگر پھر بھی انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہ نئے دور سے متصادم اس عادت پر قائم رہیںگر سادہ الفاظ میں کہیںتو بعض اخبارات نے نسبتا پروقار طریقے اور ہر جائز و قانونی راستے کو اپناتے ہوئے سچ بولنے کا سفر جاری رکھا ہے۔سچ بولنے کی عادت پر قائم رہنا اور اپنا سفر جاری رکھنا قارئین کی وجہ سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ مگر اس قومی فوقیت کے ساتھ ان پر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ کسی بھی ادارے کو مستقل مگر لچکدار انتظام کی ضرورت ہوتی ہے اوراس انتظام پر قائم رہنے کے لیے نہ صرف روایات میں تسلسل ضروری ہے، بلکہ روایات پر قائم رہنے کا پختہ عزم بھی درکار ہے۔تاہم یہ طرزِ عمل پاکستان کی نئی نسل، جو موجودہ پاکستان میں ایک اکثریت ہے اور جس میں 30 سال سے کم عمر کے شہری شامل ہیں&amp;nbsp; کی نئی اقدار سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔پر اگر یہ نسل پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں آزادیِ صحافت کے لیے اخبارات کی جدوجہد کے پیچھے موجود ورثے سے پوری طرح واقف نہیں ہے، تو پھر بھی یہ ایک آزاد معاشرے کی اخلاقی حمایت اور آزاد پسند خیالات کے ذریعے آگاہی کی اس کمی کو پورا کر دیتی ہے۔کچھ لوگ کہیں گے کہ اس نسل کو اس حوالے سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی یہ نوجوان نسل ہمارے معاشرے کی تعمیرِ نو کے لیے ہمارے پاس موجود سب سے زبردست وسیلہ ہے۔ اس لیے سچ بولنے کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔سچ بولنے کی روایت کو قائم رکھنے کے لیے اخبارات میں مضبوط ادارہ جاتی انتظامات موجود ہونا چاہیے ۔اخبارات کے ادارتی اور انتظامی فیصلہ سازی کے شعبوں کو الگ رکھا جانا چاہیے۔ نیز اخبارات کا مدیر ایک پروفیشنل صحافی ہونا چاہیے۔ جسے اس کی صحافتی ایمانداری، قابلیت، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی معقول رویے، اور خبریں اکٹھی کرنے اور ایک منصفانہ تبصرہ دینے میں اس کی غیر جانبداری کی بنا پر تعینات کیا جاتا ہے۔ایک بار تعیناتی کے بعد مدیران تمام ادارتی فیصلے خود لیں کیونکہ ان کا براہِ راست اثر خبریں اکٹھی کرنے کے عمل پر پڑتا ہے۔ کارپوریشن کے انتظامی اہلکار و افسران ادارتی فیصلے نہیں لیتے اور اس طرح وہ خبروں کے مواد پر کسی بھی طرح سے اثرانداز نہیں ہوسکتے۔اگر کسی مسئلے پر اختلافِ رائے پیدا ہو تو اسے مدیر اورپبلشر، جو کہ انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے، کے درمیان باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے، اور یہ سب کسی بھی خبر کے شائع ہونے کے بعد ہوتا ہے، نہ کہ اس کی اشاعت سے پہلے۔اخبارات کی ادارتی اور انتظامی فیصلہ سازی کے درمیان ایک غیر مرئی دیوار کاموجود&amp;nbsp; رہنا ضروری ہے۔اخبارات کے مدیر قدرتی طور اپنے اخبار کی مالیاتی کارکردگی، خصوصی طور پر اشتہارات اور سرکولیشن کے معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں، مگر یہ بھی باہمی مشاورت کے طے شدہ اور روایتی اصولوں کے تحت ہوتا ہے تاکہ خبروں اور منافع کے درمیان کسی قسم کے مفادات کا ٹکرا نہ پیدا ہو۔ اس باہمی مشاورت کے دونوں شرکا مدیر اور پبلشر کو نظریاتی اور عملی طور پر ایک آزاد اخبار کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے، اور پاکستان میں آزادیِ صحافت کی کوششوں پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔ ملک میں چاہے جو کچھ بھی تبدیل ہو، مگر اس اصول پر عمل پیرا رہنے کی ضرورت تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔اب جبکہ ریاست کی جانب سے سنجیدہ اور معقول ادارتی طرزِ عمل کے باوجود اخبارات کی سرزنش کی جارہی ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں حکومتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے بغیر غور و خوض کے اور غلط جگہوں پر ردِعمل دینا بے حد عام ہے۔ کوئی بھی اخبار اپنے کامل ہونے اور غلطیوں سے پاک ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا۔کوئی بھی ادارہ فیصلہ سازی میں غلطی کرسکتا ہے اور اس کا اطلاق کسی بھی اخبار یا ٹی وی چینلز پر بھی ہوسکتاہے کسی بھی دوسری حکومت کی طرح موجودہ اور آنے والی حکومتوں کو بھی اس مسئلے کو دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ اس طرح حل کرنا چاہیے، جیسا کہ ایک جمہوری حکومت کو شفاف، منصفانہ اور آزاد انداز میں کرنا چاہیے۔اور ہاں، ہمیں بھی ہمیشہ خبر کی تصدیق کے اپنے طریقہِ کار کے متعلق محتاط رہنا چاہیے، خبروں کو حقائق پر مبنی اور منصفانہ رکھنا چاہیے، اور جب اس طرح کی رپورٹنگ کی بات آئے، تو قومی سلامتی پر جائز خدشات اور مطالبوں کو سمجھنا چاہیے۔&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آبادیونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام 3مئی عالمی یوم آزادی کی مناسبت سے این پی سی اسلام آبادمیں گول میز کانفرنس بعنوان صحافیوں کو درپیش جانی و معاشی خطرات اور سیاسی جماعتوں کا منشور منعقد کیا گیا تھا۔ گو مل میز کانفر نس میں صحافیوں نے سیاسی جماعتوں کے منشورمیں آزادی صحافت اور صحافیوں کی تحفظ کے حوالے سے تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نیشنل پریس کلب کے یادگار شہد ا پرحاضری دی اور پھول بھی چڑھا ئے&amp;nbsp; خورشید شاہ نے کہا کہ پی ایف یو جے کا آزادی صحافت کے لئے کردار تاریخ ساز ہے پارلیمنٹ میں الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے آنے والے بل کی بھر پور حمایت کریں گے ان کا کہنا تھاکہ میڈیاکی آزادی کو ہمیشہ ڈکٹیٹروں اور نیم ڈکٹیٹروں نے دبانے کی کوشش کی ہے میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں کو برقت معاوضہ ملنا چاہئے، ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن وقت پر ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، عمران خان کو خواب میں وزارت عظمی کی کرسی نظر آتی ہے، نوازشریف جیل میں ہو یا باہر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔جمعرات کے رو ز نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے منعقدہ سیمینارمیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ، نیشنل پریس کلب کے صدر طارق محمود چوہدری، سیکرٹری این پی سی شکیل انجم،آر آئی یو جے صدر مبارک زیب، اے آر وائی کے اینکر پر سن ارشد شریف،عامر وسیم ڈیلی ڈان بیورچیف، زمیر حیدر،شہزادہ،شفیع الدین، سیکرٹری آرآئی یو جے علی رضا علوی،آر آئی یو جے کے فنا نس سیکرٹر ی اصغر چوہدری سمیت دیگر صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کیں۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہاکہ 16 سال کی طویل جدوجہد اٹھویں ویج بورڈ کی منظوری کے بعد ویج بورڈ کا پہلا اجلاس آج ہوا۔ان کا کہناتھا کہ اٹھویں ویج بورڈکی منظور ی پوری صحافتی کمیونٹی کے لئے خوش آئندبات ہیں۔اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان 10ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر صحافیوں کی جان اور معاشی صورتحال بدحالی کا شکار ہے۔آر آئی یو جے صدر مبارک زیب نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سند ھ میں سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔دوسرے نمبر بلوچستا ن تیسرے نمبر پر خیبر پختونخوااور آخری نمبر پرپنجاب آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارلحکومت جیسے پر امن شہر میں بھی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔مبار ک زیب نے سیاسی جماعتوں کی منشورمیں پریڈم آ ف پریس کے حوالے سے شرکا صحافیوں کے تجاویز لئے۔ ارشد شریف نے کہا کہ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے کا کردار بہت اہم ہے صحافتی تنظیموں کو آفس میں تفروقوں کے بجائے اتحاد کا مظاہر ہ کرنا چاہئے۔ان کاکہنا تھاکہ پریس فریڈم کی خلاف ورزیوں کے خلاف اور پریس پریڈیم میں ڈالنے والوں کے خلاف رپورٹس شائع کرنے چاہئے۔زمیر حیدر کا کہنا تھاکہ آزادی صحافت خود ہمارے ہاتھوں سے نکلتی جارہی ہے صحافیوں کی حقوق کے حوالے قوانین موجود ہیں ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہیں۔ شفیع الدین کا کہناتھا کہ ایک اسلامی جماعت کی اخبار کا کیس ان کے پاس آیاجس میں ملازمین کو کام 18سال کام کرنے کے باوجود بھرتی کے حکم نامے نہیں دیئے گئے تھے۔میڈیا میں صحافی کام ضرور کرتے ہیں لیکن خبر کی جانچ پڑتا ل مالکا ن کرتے ہیں ان کا کہنا تھاکہ صحافت کے اند ر گلیمر آ گیا اصولوں کا صحافت بن گیا۔قوانین موجو د ہیں صحافی اپنے معاملات سے بے خبر ہیں۔ سیکرٹری این پی سی شکیل انجم نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے پریس کلب کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کریں گے۔پریس کلب میں ریڈیو کے لائسنس کے لئے رجوع کیا تھا جو کہ حکومتی ، اپوزیشن اور کچھ اداروں کے آپس کے اختلاف&amp;nbsp; کی نظر ہوگیا۔ انہوں نے صحافیوں کو خوشخبری دیتے ہوئے کہاکہ پریس کلب اپنا ویب ٹی وی لانچ کررہا ہے جس کے ذریعے صحافیوں کی آواز کو عوام تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچایا جائے گا۔اے پی ایس&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/blog-post_4.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiDxFNMcpGD9hqUVkiYCkAmgFS7HgrtuqTs0SAJc_m45CxZfpBdr2cY7xkIVg55J6XeVKZsqRpTyM9fl2Z6qWE4KiymcYheOSuIEfSE23rsBuiZbEJ1gktVJYdIwv6_8kDidpbN68ehCfM/s72-c/wpfd+npc.png" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-8991982382783470221</guid><pubDate>Wed, 02 May 2018 22:39:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-05-03T03:39:47.866+05:00</atom:updated><title>  بے نظیر بھٹو کی کہانی پرنئی کتاب :  سپیشل سٹار ۔ چودھری احسن پریمی</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh4MCyoqYKY_dEZELOvY_kYU7bhP2lZqmsodLTJkch_0iAWT6SDdh59ql1Q9QXoy4RNo7ipjXCxnOpd5DNhNQEj1HYOekymywlVbV0tlylTFe6AKQssCc1IOXgi6MiYaeci7UUrAgyswxE/s1600/BB+FINAL.png" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="527" data-original-width="421" height="640" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh4MCyoqYKY_dEZELOvY_kYU7bhP2lZqmsodLTJkch_0iAWT6SDdh59ql1Q9QXoy4RNo7ipjXCxnOpd5DNhNQEj1HYOekymywlVbV0tlylTFe6AKQssCc1IOXgi6MiYaeci7UUrAgyswxE/s640/BB+FINAL.png" width="510" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;بے نظیر بھٹو کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں شیام بھاٹیا، بروک ایلن، اینا سوورووا، لیبی ہیوز اور اقبال آخوند کی لکھی ہوئی سوانح عمریاں بھی شامل ہیں۔تاہم، اس سال بے نظیر بھٹو کی ایک نئی سوانح عمری شائع ہوئی ہے، جس میں ایک تجربہ کار خاتون سیاستدان، عابدہ حسین نے بے نظیر کی زندگی اور ان کی جدوجہد کو اپنے مشاہدے کی بنیاد پر پرکھتے ہوئے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔ان کی نئی کتاب سپیشل سٹار: بے نظیر بھٹو کی کہانی ایک کہانی کی شکل میں لکھی گئی، جس میں انہوں نے بے نظیر کی ابتدائی زندگی، ان کے والد اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل، بے نظیر کی پیپلز پارٹی کی قیادت، وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے دونوں ادوار، ان کا قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے کردار، ان کی جلا وطنی کا دور، پرویز مشرف کی حکومت کے دوران مصنفہ اور بے نظیر کے رابطوں، مشرف کی حکومت کے خاتمے، بے نظیر کی وطن واپسی اور پھر ان کی شہادت کے بارے میں تفصیلا لکھا ہے۔ اس کے علاوہ عابدہ حسین نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر بینظیر کو ایک بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے کردار کے حوالے سے بھی پرکھا ہے۔کتاب کے دیباچے میں عابدہ حسین کہتی ہیں کہ شروع میں وہ سمجھتی تھیں کہ بے نظیر ہر قسم کی قابلیت سے عاری خاتون ہیں۔ تاہم، رفتہ رفتہ جب وہ انہیں سمجھنے لگیں تو وہ ان کی مداح بن گئیں۔جھنگ سے تعلق رکھنے والی عابدہ حسین کہتی ہیں کہ بے نظیر کی پر اثر شخصیت کی کشش نے انہیں ان کا گرویدہ بنا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر ذہانت، قابلیت، دلیری، وقار اور حسن کا مجسمہ تھیں۔ ان کے مطابق بے نظیر یقینا کسی منفرد ستارے کے زیر اثر پیدا ہوئی ہوں گی۔اپنی کتاب میں متعدد بار عابدہ حسین نے لکھا ہے کہ جب ان کی بے نظیر سے قربت ہوئی تو بے نظیر ہر نازک معاملے پر ان سے مشورہ کرتی تھیں اور ان کے مشوروں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ بے نظیر کو جب بھی کسی سیاسی الجھن کا سامنا ہوا تو انہوں نے ہمیشہ عابدہ حسین کو بلا کر مشورہ کیا۔کتاب کے پہلے باب میں انہوں نے بے نظیر کی ہاروڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں زندگی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی یہ خواہش تھی کہ بے نظیر بھی ان کی طرح ہارورڈ کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کریں۔ لہذا، اس وقت برطانیہ میں موجود پاکستان کے ہائی کمشنر میاں ممتاز دولتانہ کی مدد سے بے نظیر کا داخلہ آکسفورڈ میں ہو گیا جہاں انہوں نے پولیٹکل سائینس، فلسفہ اور معاشیات جیسے مضامین کا انتخاب کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے قدیمی فن تعمیر نے انہیں بہت متاثر کیا۔ یونیورسٹی کے دوسرے سال کے دوران وہ یونیورسٹی یونین کی صدر منتخب ہوئیں۔ ان دنوں عمران خان بھی، جو بعد میں کرکٹ ہیرو اور پھر سیاسی رہنما بنے، اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ بے نظیر اور عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہم عصر تھے اور ایک دوسرے کو بخوبی جانتے تھے۔انہی دنوں جب ذوالفقار علی بھٹو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے 1971 کی جنگ کے نتیجے میں جنگی قیدی بننے والے 90,000 پاکستانی فوجیوں کی رہائی کیلئے مزاکرات کرنے شملہ گئے تو وہ بے نظیر کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ شملہ نے بے نظیر کو مری کی یاد دلائی۔ تاہم، شملہ مری کے مقابلے میں زیادہ بڑا اور گنجان آباد تھا۔ اس مختصر دورے میں بھارتی میڈیا نے بے نظیر کو بہت زیادہ کوریج دی۔عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دئے جانے کے بعد جب وہ نصرت بھٹو سے تعزیت کیلئے کراچی ان کی رہائش گاہ 70 کلفٹن پہنچیں تو انہیں اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ تاہم، وہاں موجود تعزیتی کتاب میں انہوں نے اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ مصنفہ کے بقول، بعد میں بے نظیر نے خود انہیں بتایا کہ یہ کتاب کبھی بھی انہیں نہیں دکھائی گئی۔کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے دونوں بیٹوں مرتضی اور شاہنواز کی طرف سے بھارت جا کر الذوالفقار تنظیم بنانے سے لیکر دونوں کی شہادت تک کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں۔ اس دوران، بے نظیر بھٹو لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ بالآخر 1986 میں متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ زید کی مدد سے وہ پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہوئیں جہاں عوام نے ان کا شاندار استقبال کیا۔اس دوران، بے نظیر نے تمام ملک کے تفصیلی دورے کئے اور پیپلز پارٹی کو ازسرنو منظم کیا اور انتخابات کیلئے بھرپور مہم چلائی۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ اس موقع پر نصرت بھٹو کی خواہش تھی کہ بے نظیر کی جلد شادی ہو جائے۔ اس کیلئے، بقول ان کے، سندھ کے ایک سرکاری افسر شجاع شاہ کا نام لیا گیا، جنہوں نے سرکاری افسر ہونے کی وجہ سے جنرل ضیا کو خط لکھ کر بے نظیر سے شادی کرنے کی اجازت مانگی۔ تاہم، جب بے نظیر کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے اس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ فیصل صالح حیات کا نام بھی تجویز کیا گیا۔ لیکن، عابدہ حسین کہتی ہیں کہ فیصل حیات کی تعلیم کم تھی اور وہ بور قسم کے آدمی تھے۔ ان کے بعد آصف زرداری کی سوتیلی والدہ ٹمی آصف کا رشتہ لیکر نصرت بھٹو کے پاس آئیں۔ اس وقت بے نظیر لندن میں تھیں۔ آصف ان سے ملنے لندن آئے۔ ملاقات میں بے نظیر پر آصف زرداری کا اچھا تاثر قائم ہوا اور انہوں نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔ یوں، بے نظیر اور آصف زرداری کی شادی ہو گئی۔مصنفہ لکھتی ہیں کہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد جب بے نظیر وزیر اعظم بنیں تو ان کی عمر صرف 35 برس تھی۔ بقول ان کے، اپنی ناتجربہ کاری کے باعث، بے نظیر نے بہت سی غلطیاں کیں۔ اس دوران آصف زرداری نے کراچی میں ساحل سمندر کے قریب ایک زمین پر قبضہ کرکے اردگرد کے مکانات منہدم کروائے اور اپنے لئے وہاں ایک عالیشان بنگلہ تعمیر کروا لیا۔ اس طرح آصف زرداری کے بارے میں بدعنوانی کی خبریں رفتہ رفتہ بڑھتی گئیں اور بالآخر ایک وقت انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے پکارا جانے لگا۔عابدہ حسین مزید لکھتی ہیں کہ اپنے اس دور کے دوران بے نظیر نے جرمنی سے 15 بلٹ پروف مرسڈیز لگژری گاڑیوں کا آرڈر دیا جس کیلئے قومی خزانے سے بھاری رقوم ادا کئی گئیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پارلیمان کی عمارت کے نزدیک وزیروں کیلئے پر تعیش بنگلوں اور پارلیمانی ارکان کیلئے اپارٹمنٹس کی تعمیر کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں، بے نظیر نے پارلیمان کی عمارت کے سامنے ایک ڈپارٹمنٹ سٹور تعمیر کرنے کا بھی حکم دیا، تاکہ وہ اور ان کے بچے بغیر کسی تکلیف کے آرام سے وہاں شاپنگ کر سکیں۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ بے نظیر کے بچوں کو اور ان کے دوستوں کو بار بار کراچی سے لانے اور واپس بھجوانے کیلئے وزیر اعظم کا جہاز مسلسل استعمال کیا گیا۔ ایک مرتبہ بے نظیر کی بیٹی بختاور کو کراچی میں کھلنے والے باسکن اینڈ روبنز سٹور سے آئیس کریم کھانے کیلئے وزیر اعظم کا جہاز انہیں کراچی لیکر گیا۔یوں، بے نظیر کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات سر اٹھانے لگے اور بالآخر مخلف سیاسی جماعتوں کے شدید دباو کے نتیجے میں صدر غلام اسحق خان نے آئین کی دفع 58-2 (b) استعمال کرتے ہوئے بے نظیر حکومت کو برخاست کر دیا۔بے نظیر نے 1993 میں ایک مرتبہ پھر انتخابات جیت کر وزیر اعظم کا منصب سنبھالا۔ اپنی دوسری مدت کے دوران بے نظیر نے اپنی پارٹی کے ایک لیڈر فاروق لغاری کو صدر منتخب کرایا۔اس دوران، انہوں نے مبینہ طور پر ایوانِ وزیر اعظم کی تزئین و آرائش کا ٹھیکہ اپنے ایک کزن اور اس کی بیگم کو دے دیا۔ ادھر ان کے شوہر آصف زرداری نے راولپنڈی میں راول لیک کے نزدیک زمین کا ایک بڑا ٹکڑا زبردستی کوڑیوں کے مول خرید لیا اور وہاں لیک ویو ہوٹل تعمیر کر لیا۔یوں، دوسری مدت کے دوران بھی بے نظیر اور ان کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگنے لگے اور پھر بے نظیر کے اپنے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت کو برطرف کر دیا۔عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ اس کے بعد، بے نظیر کے ساتھ ان کی قربت بڑھنے لگی اور وہ ہر بات پر عابدہ حسین سے مشورے کرنے لگیں۔ ان دونوں کی کئی ملاقاتیں لندن اور امریکہ میں ہوئیں جن میں، بقول عابدہ حسین، بے نظیر نے ان کے مشورے پر نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔اس دوران، بے نظیر بھٹو دبئی اور لندن سے اپنی پارٹی چلاتی رہیں اور پھر ایک روز متحدہ عرب امارات کے حکمران نے بے نظیر کو فون کرکے کہا کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے معاملات طے کرنے کیلئے فورا دبئی پہنچیں۔ عابدہ حسین کے مطابق، اس ملاقات میں بے نظیر نے جنرل مشرف سے ڈیل کر لی جس کے نتیجے میں وہ معاہدہ طے پایا جسے عرف عام میں این آر او کہا جاتا ہے۔اس این آر او کے نتیجے میں بے&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&amp;nbsp;نظیر دوبارہ پاکستان آنے میں کامیاب ہوئیں اور کراچی پہنچتے ہی ان کے جلوس کے دوران ان کے ٹرک کے نزدیک دھماکہ ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے بہت سے کارکن ہلاک ہو گئے۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ اس دھماکے سے کچھ دیر پہلے بے نظیر ٹرک کی چھت پر موجود تھیں اور چونکہ عابدہ حسین کو یہ اطلاعات تھیں کہ اس جلوس کے دوران کسی حملے کا امکان ہے تو وہ خود بے نظیر کو چھت سے نیچے ٹرک کے اندر لے آئی تھیں۔ یوں حملے کے دوران وہ خود محفوظ رہیں۔عابدہ حسین کا کہنا ہے کہ 12 دسمبر، 2007 کو ان کی دوست صحافی للی وے ماتھ نے واشنگٹن سے انہیں فون کر کے بتایا کہ وہ بے نظیر سے انٹرویو کرنے اسلام آباد آ رہی ہیں۔ للی نے معروف رسالے نیوز ویک کے ایڈیٹر راڈ نارڈلینڈ کے ہمراہ اسلام آباد کے سیکٹر F/8 میں بے نظیر کے گھر پر ان سے انٹرویو میں سوال کیا کہ کیا وہ جنرل مشرف کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی؟ اس کے جواب میں بے نظیر نے کہا کہ اگر ملک کے مفاد میں ہوا تو وہ ضرور ایسا کریں گی۔ بعد میں للی نے مشرف سے بھی انٹرویو کیا اور ان سے یہی سوال کیا کہ کیا وہ بے نظیر کے ساتھ کام کرنے کیلئے راضی ہوں گے؟ عابدہ حسین کے مطابق، یہ سوال سن کر پرویز مشرف طیش میں آگئے اور انٹرویو ادھورا چھوڑ کر کمرے سے جانے لگے۔ پھر دروازے سے پلٹ کر پرویز مشرف نے کہا کہ بے نظیر ایک چڑیل ہیں اور ان پر بالکل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ مشرف نے کہا کہ بے نظیر غیر محب وطن ہیں اور وہ ان کے ساتھ کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔عابدہ لکھتی ہیں کہ اس انٹرویو کے بعد للی ان سے ملنے آئیں اور ان سے کہا کہ وہ یہ بات بے نظیر تک پہنچا دیں۔ عابدہ حسین نے اپنے بلیک بیری فون سے یہ تمام تفصیل لکھ کر بے نظیر بھٹو کو بھیج دی۔عابدہ حسین بے نظیر کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ انہوں نے بے نظیر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب نہ کریں، کیونکہ وہاں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، بے نظیر نے اس مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں جلسے سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد وہ اپنی گاڑی میں واپس آئیں اور مخدوم امین فہیم اور ناہید خان کے درمیان بیٹھ گئیں جبکہ ان کے سیکورٹی افسر میجر امتیاز اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے تھے اور صفدر عباسی اور پیپلز پارٹی کے ایک کارکن خالد شہنشاہ پچھلی سیٹ پر موجود تھے۔ جونہی ان کی گاڑی لیاقت باغ سے باہر آئی تو خالد شہنشاہ نے گاڑی کا سن روف کھول دیا۔ عابدہ لکھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے قبل خالد شہنشاہ نے گردن کے گرد انگلی لہرانے کا عجیب اشارہ دیا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ وہ کسی کے مارے جانے کا اشارہ کر رہے تھے۔ یہ منظر وہاں لگے کیمرے نے محفوظ کر لیا تھا۔بے نظیر نے کھڑے ہو کر سن روف کے ذریعے اپنا سر باہر نکالا اور لوگوں کی طرف ہاتھ ہلایا۔ چند ہی سیکنڈ بعد گولیاں چلنے اور پھر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی۔ بے نظیر گردن پر گولی لگنے کے بعد ناہید خان کی بانہوں میں گر گئیں۔ بے نظیر کو فورا ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ بہت زیادہ خون بہ جانے کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔آصف زرداری اس وقت دبئی میں تھے۔ ان سے بے نظیر کے پوسٹ مارٹم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ آصف زرداری اپنے بچوں کے ساتھ فوری طور پر پاکستان پہنچے اور بے نظیر کی گڑھی خدا بخش میں ان کے والد کے پہلو میں تدفین کر دی گئی۔آخر میں عابدہ حسین پیپلز پارٹی کی اس سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا تذکرہ کرتی ہیں جس میں آصف زرداری نے بے نظیر کے ہاتھ سے لکھی ہوئی اس متنازعہ وصیت کا تذکرہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ بے نظیر کی شہادت کی صورت میں پارٹی کی قیادت آصف زرداری اس وقت سنبھالیں گے جب تک کہ بلاول اپنی تعلیم سے فارغ ہو کر پارٹی کی قیادت کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔کتاب میں عابدہ حسین نے لکھا ہے کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری نے ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی جو وصیت پیش کی تھی، وہ اسے بالکل صحیح سمجھتی ہیں اور اس کے متنازعہ ہونے کے بارے میں جو تاثر ہے وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس وصیت کی تحریر کو اس خط سے مشابہہ پایا جو بے نظیر نے اپنے ہاتھ سے عابدہ حسین کو لکھا تھا۔عابدہ حسین کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ وہ بلاول کے بالکل پیچھے بیٹھی تھیں۔ آصف زرداری نے اعلان کیا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول ہوں گے اور وہ خود شریک چیئرمین کی حیثیت سے پارٹی کے معاملات چلائیں گے۔اسی وقت آصف زرداری کو اطلاع دی گئی کہ غیر ملکی صحافی باہر منتظر ہیں۔ آصف زرداری نے بلاول سے کہا کہ وہ پارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے باہر جا کر غیر ملکی میڈیا سے بات کریں۔ عابدہ حسین کے بقول، بلاول نے مڑ کر ان سے سوال کیا کہ وہ میڈیا سے کیا بات کریں۔ اس کے جواب میں، عابدہ حسین نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ بے نظیر کا وہ قول وہاں دہرائیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔عابدہ حسین کہتی ہیں کہ بعد میں بلاول نے انہیں بتایا کہ انہوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وہی بات کی جس کا مشورہ عابدہ حسین نے دیا تھا۔اپنی اس کتاب میں عابدہ حسین نے بے نظیر کے لباس اور وارڈروب کا تذکرہ مسلسل اس انداز میں کیا ہے گویا بے نظیر اپنے مختلف انداز کے دیدہ زیب لباس کے ذریعے گلیمر کا تاثر ابھارنا چاہتی تھیں، جیسے وہ کوئی شہزادی ہوں۔اپنی کتاب میں عابدہ نے جو تفصیلات بیان کی ہیں، وہ خود ان کے بے نظیر کے ساتھ رابطوں اور ان کے خیالات کے حوالے سے ہیں جن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بہت سے نازک موقعوں پر بے نظیر بھٹو نے انہی کے مشوروں پر عمل کیا۔ کچھ تجزیہ کار کتاب میں شامل کی گئی تفصیلات کو مبالغہ آرائی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ خود بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور نے بھی عابدہ حسین کے خیالات کو بے نظیر بھٹو کے خلاف جھوٹے الزامات قرار دیتے ہوئے ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا جس کے بعد کراچی میں اس کتاب کی رونمائی کی تقریب منسوخ کر دی گئی تھی۔بختاور نے اپنے نوٹس میں لکھا تھا کہ یہ کتاب ان کی والدہ کے حوالے سے جھوٹ کا پلندہ ہے جو ان کی وفات کے دس سال بعد لکھی گئی ہے اور وہ ان الزامات کا جواب دینے کیلئے زندہ نہیں ہیں۔ان سب باتوں سے قطع نظر یہ کتاب بہت سے لوگوں کیلئے دلچسپی کا باعث بھی ہے، کیونکہ یہ کتاب بے نظیر بھٹو کے بارے میں ہے اور اسے ایک کہانی کی شکل میں لکھا گیا ہے۔اس کتاب کی مصنفہ عابدہ حسین نے اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز 1971 میں کیا۔ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں۔ بعد میں وہ پاکستان مسلم لیگ نون میں شامل ہوگئیں اور اس پارٹی کے ٹکٹ پر دوبارہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ 2006 میں دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئیں۔ عابدہ حسین 1991 سے 1993 تک امریکہ میں پاکستان کی سفیر بھی رہیں۔اے پی ایس&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/05/blog-post.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh4MCyoqYKY_dEZELOvY_kYU7bhP2lZqmsodLTJkch_0iAWT6SDdh59ql1Q9QXoy4RNo7ipjXCxnOpd5DNhNQEj1HYOekymywlVbV0tlylTFe6AKQssCc1IOXgi6MiYaeci7UUrAgyswxE/s72-c/BB+FINAL.png" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-1569743072231952974</guid><pubDate>Sat, 28 Apr 2018 23:10:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-04-29T04:10:58.506+05:00</atom:updated><title>جمہوریت کی موت کیسے ہوتی ہے ؟۔ چودھری احسن پریمی</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiFhTTocJpXLZPjpWeHdqCJbapIFd4-a5B7fIrc91eHY9N5T38wkoRw4mUQP0tkkN843HCnUR68b_9S2mnAnTxeosuJPcQBnTg3IWtuTT-5v_bj0sqJ2juMMIYISY5PfKsDtVgaqMZZCEU/s1600/democracy.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="431" data-original-width="647" height="426" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiFhTTocJpXLZPjpWeHdqCJbapIFd4-a5B7fIrc91eHY9N5T38wkoRw4mUQP0tkkN843HCnUR68b_9S2mnAnTxeosuJPcQBnTg3IWtuTT-5v_bj0sqJ2juMMIYISY5PfKsDtVgaqMZZCEU/s640/democracy.jpg" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp;جمہوریت کتنی مضبوط ہے، اس کی جانچ کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کے 2 پروفیسر اسٹیون لیوٹسکی اور ڈینیئل زیبلیٹ&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp;ایک چیک لسٹ پیش کرتے ہوئے خبردار کرتے ہیں کہ الیکشن تمام مسائل کا حل نہیں ہے۔ مطلق العنان حکمران بھی منتخب ہوتے ہیں اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں، جبکہ اس کی روح کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ادارے اکیلے ہی منتخب مطلق العنان حکمرانوں کو لگام دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتے بلکہ جہاں سیاسی جماعتوں اور شہریوں پر آئین کی حفاظت لازم ہوتی ہے، وہاں اس کی جمہوری روایات کے ذریعے حفاظت بھی لازم ہے۔&amp;nbsp;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;اپنی تازہ ترین کتاب How Democracies Die (جمہوریتوں کی موت کیسے ہوتی ہے) میں وہ لکھتے ہیں: مضبوط جمہوری روایتوں کے بغیر آئینی ضوابط اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام جمہوریت کی مضبوطی کا وہ سبب نہیں بنتے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ ادارے سیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں جن کا استعمال وہ لوگ ان کے خلاف کرتے ہیں، جن کا ان اداروں پر اختیار نہیں ہوتا۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;ایک اور سنسنی خیز اقتباس ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ مطلق العنان حکمران کس طرح جمہوریت کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ عدالتوں اور دیگر اداروں پر دھونس جما کر، میڈیا اور نجی شعبے کو خرید کر (یا زبردستی خاموش کروا کر) اور سیاست کے قواعد تبدیل کرکے، جس میں میدان مخالفین کے لیے ناموافق بنا دیا جاتا ہے۔ مطلق العنانیت کے انتخابی راستے کا افسوسناک انجام یہ ہے کہ جمہوریت کے قاتل جمہوری اداروں کا ہی آہستگی، غیر محسوس اور قانونی انداز میں استعمال کرتے ہیں تاکہ جمہوریت کو قتل کیا جاسکے۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp; جبکہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اب اپنی غلطیاں مان رہے ہیں اور مجھے ان کے متعدد پیغامات آچکے ہیں لیکن ہمیں اب ان پر اعتبار نہیں ہے۔مضبوط جمہوری روایتوں کے بغیر آئینی ضوابط اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام جمہوریت کی مضبوطی کا وہ سبب نہیں بنتے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے لیڈر کا کہاں کھڑے ہیں کیا وہ محسوس نہیں کر رہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے ؟۔جبکہ آصف علی زرداری نے کہا کہ شریف برادران کبھی الیکشن جیتتے نہیں بلکہ ہمیشہ الیکشن بناتے ہیں، ان لوگوں نے 2013 کے انتخابات بھی آر اوز کے ذریعے بنائے لیکن ہم نے جمہوریت کی خاطر ان کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب جمہوریت کو چھوڑ کر شہزادہ سلیم بن گئے، پھر ان پر دوسری جمہوری طاقتوں نے حملہ کیا تو اس وقت بھی ہم نے انہیں بچایا لیکن یہ پھر بھی باز نہ آئے اور انہوں نے ڈاکٹر عاصم کے خلاف کیسز بنا دیئے، میرا اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان بھی ان کے لیے تھا کیونکہ ان کے اندر جمہوری طرز عمل نہیں ہے۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اب اپنی غلطیاں مان رہے ہیں اور مجھے ان کے کئی پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں لیکن اب ان پر اعتبار نہیں ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نواز شریف کے ساتھی اور میرے سیاسی مخالف ضرور ہیں لیکن وہ جو بات کرتے ہیں اس پر قائم رہتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنماوں کی تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ جو لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں ان کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے، انٹرنیٹ کا دور ہے ایک بٹن دبانے سے ساری چیزیں سامنے آجاتی ہیں۔آئندہ عام انتخابات میں سیاسی اتحاد کے حوالے سے سابق صدر کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے)سمیت سب کے ساتھ اتحاد ہو سکتا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی، عام انتخابات میں آزاد امیدوار زیادہ کھڑے ہوں گے جس کے ساتھ اتحاد کے امکانات زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ الیکشن ہوں گے اور صاف و شفاف ہوں گے، آئندہ الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت ہوگی۔عدالتوں کے کردار سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے ہمارے خلاف سب سے زیادہ پھرتیاں دکھائیں لیکن ہم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کے خلاف مثبت تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا رویہ صحیح ہونا چاہیے اور موجودہ چیف جسٹس عدلیہ کو اچھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس وقت کم ہے۔سینیٹ انتخابات میں پیسوں کے استعمال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر پیسے کے استعمال کی بات ہے تو میں نواز سے زیادہ پیسے استعمال نہیں کر سکتا، سینیٹ انتخاب میں پیسے کے استعمال کا نہیں پتہ لیکن میں نے اثر و رسوخ کا استعمال ضرور کیا۔جبکہ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ 10 سے 20 دنوں بعد میرا مستقبل کیا ہوگا اور میں کہاں ہوں گا لیکن جہاں بھی ہوں گا میرے نظریے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر پہلے بھی مشکلات آئیں اور 7 سال جلا وطن کردیا گیا اور 14 ماہ جیل میں بھی رکھا لیکن یہ لوگ مجھے خوف زدہ نہیں کرسکے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان مظالم اور زیادتیوں کے خلاف ہمیں کھڑا ہونا چاہیے۔نواز شریف نے کہا کہ اگر اب ان اقدامات کے خلاف کھڑے ہوں گے تو ہمارے آئندہ 70 سال بہتر ہوں گے اور اس ملک میں کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی اور یہ صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں آئین اور قانون کو کچھ نہیں سمجھا جاتا اور اسے اپنے جوتوں کی نوک پر رکھا جاتا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس ملک کے 3 ستون ہیں؛ عدلیہ، پارلیمان اور حکومت، لیکن آج حکومت کی رٹ کہاں ہے، کیا اب پارلیمان کی کوئی حیثیت ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم ان سب چیزوں کو بیٹھ کر دیکھتے رہیں گے یا ان کے خلاف کوئی کام بھی کریں گے؟ اور اگر یہ سب نہیں کرنا تو ہمیں عوام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں۔نواز شریف نے کہا کہ ہمارے لیے اگر مخلوق کی کوئی اہمیت نہیں تو پھر ہمارا فائدہ نہیں، ہمیں اپنی سوچ اور فکر کو تبدیل کرنا ہوگا اور اگر ہم نے اپنی 20 سے 40 سالہ سیاست میں کوئی اصلاحات نہیں لاسکے تو ہمیں معافی مانگنی چاہیے اور اس کی بہتری کے لیے ہمیں عہد کرنا چاہیے اور یہ بہت بڑی خدمت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ 10 سے 20 دنوں کے بعد میرا مستقبل کیا ہوگا اور میں کہاں ہوں گا لیکن جہاں بھی ہوں گا میرے نظریے میں تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ اگر ہم نے اپنے ملک کو بدلنا ہے تو ہمیں راستہ بدلنا ہوگا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 70 برسوں میں ہم رسوائی کے دور سے گزرے اور ہم نے ذلت اٹھائی اور 1971 میں ہمیں اپنی غلطیوں کا خمزایہ بھگتنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بطن سے پیدا ہونے والا بنگلہ دیش آج ہم سے آگے نکل گیا اور ان کا ٹکہ ہمارے روپے سے زیادہ مضبوط ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا نعرہ&amp;nbsp; ووٹ کو عزت دو پاکستان کے گھر گھر میں پہنچ گیا اور لوگوں کو یہ بتادیا کہ ان کے ووٹ کی کیا عزت ہے اور اب ہمیں اس نعرے پر عمل کروانا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح لوگوں کے جذبات اب دیکھ رہا ہوں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے اور اب قوم کے بڑے حصے کے کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے۔نمائندوں سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ بہت کوشش کی گئی کہ پارٹی کے لوگوں کو توڑا جائے اور جن لوگوں کو توڑا گیا وہ ہمارے تھے ہی نہیں اور آئندہ عام انتخابات میں ہمیں انہیں ٹکٹ بھی نہیں دینا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حکومت کی تبدیلی اور سینیٹ انتخابات میں جو ہوا اس کی مثال نہیں ملتی اور لوگوں کو پیسوں سے خریدا گیا اور پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے تیر کے نشان پر ووٹ لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کس منہ سے تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہے جبکہ جماعت اسلامی نے بتا دیا کہ پرویز خٹک نے کہا تھا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب تحریک اںصاف اوپر سے آرڈر کی وضاحت یہ کہہ کر دے رہی کہ بنی گالا سے آرڈر تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اوپر سے ہی آرڈر لینے ہیں تو سیاست نہیں کرنی چاہیے اور عمران خان اوپر سے آرڈر لیتے ہیں اور تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور یہ منافقت ہے۔نواز شریف نے کہا کہ عمران خان زرداری کو بیماری کہتے تھے اور انہی کے نشان پر ووٹ دیا اور انہیں چیزوں نے پاکستان کی سیاست کو تبدیل کیا اور اسے صرف عوام روک سکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے دس نکات کا&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp;اعلان کیا ہے ، جن میں&amp;nbsp; انہوں نے آئندہ کی پارٹی پالیسی دی ہے۔لاہور میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں اور سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نیلسن منڈیلا نہیں بلکہ مارکوس ہیں، جبکہ شہباز شریف کرپٹ ٹولے کے چیف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور دیگر جماعتیں مدمقابل ہوتی تھیں، لیکن اب تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں مقابلہ ہوگا۔ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا یہ سول اداروں کے دائرہ اختیار میں ہے، تاہم جہاں سیکیورٹی کے معاملات ہوں وہاں سیکیورٹی اداروں کی مشاورت ضروری ہوتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا تھا جو بھی ہو مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے، لیکن مودی کا مائنڈ سیٹ ایسا نہیں کہ ان کے ساتھ مذاکرات ہوں۔قوانین اور دیگر نامکمل جمہوری اداروں میں جگہ موجود ہے. لوگ اب بھی ووٹ دیتے ہیں. انتخابی آٹوموٹس جمہوریہ کی نمائش کو برقرار رکھنے کے دوران اپنے مادہ کو بے نقاب کرتے ہیں.جمہوریت کو ختم کرنے کے لئے بہت سی سرکاری کوششیں "قانونی" ہیں، اس لحاظ سے کہ وہ قانون سازی کی طرف سے منظوری دیتے ہیں یا عدالتوں کو قبول کرتے ہیں. انہیں جمہوریت کو بہتر بنانا، عدلیہ کو زیادہ موثر، بدعنوانی کا مقابلہ کرنے یا انتخابی عمل کی صفائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے.اخبارات اب بھی شائع کرتے ہیں لیکن خود کو خریدنے یا خود سنسر میں ڈال دیا جاتا ہے. شہریوں نے حکومت پر تنقید جاری رکھی ہے لیکن اکثر خود کو ٹیکس یا دیگر قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. یہ عوامی الجھن کا بوجھ ہے. لوگ فوری طور پر نہیں سمجھتے ہیںکہ کیا ہو رہا ہے. بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے تحت رہ رہے ہیں.لیکن ایسا نہیں ہے۔کیونکہ وہاں کوئی لمحہ نہیں ہے - کوئی مارشل قانون کا اعلان، یا آئین کی معطلی - جس میں حکومت واضح طور پر "تنازعہ" کریکٹر میں "کراس"، معاشرے کے الارم کی گھنٹوں کو کچھ بھی نہیں بنا سکتا. جو لوگ حکومت کی بدعنوانی کی مذمت کرتے ہیں ان کو مبالغہ یا روبوٹ کے طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے. ڈیموکریسی کی کشیدگی، بہت سی، تقریبا ناقابل قبول ہے. ایک بار جب اقتدار اور اختیار ملتا ہے تو جمہوریت کو دوسرا اہم امتحان کا سامنا کرنا پڑتا ہے: خود مختار رہنما کیا جمہوری اداروں کو ختم کردیں گے یا ان کی طرف سے پابند رہیں گے؟۔سیاسی جماعتوں اور منظم شہریوں کی طرف سے بلکہ جمہوری معیاروں کے ذریعہ قوانین کا دفاع ہونا چاہئے. مضبوط معیار کے بغیر، آئینی چیک اور بیلنس جمہوریت کی بربادیوں کے طور پر کام نہیں کرتے. ہم انہیں تصور کرتے ہیں. ادارے سیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں، جو ان لوگوں کے خلاف کنٹرول کرنے والے افراد پر زور دیتے ہیں جو وہ نہیں کرتے. اخلاقیات کے لئے انتخابی راستہ کی پریشانی کا اختلاف یہ ہے کہ جمہوریہ کے قاتلین جمہوریت کے بہت سے اداروں کو استعمال کرتے ہیں - آہستہ آہستہ، ذلت اور یہاں تک کہ قانونی طور پر بھی اسے&amp;nbsp; ہلاک کر دیتے ہیں.ضرورت اس امر کی ہے کہ نفرت سے زیادہ ہمیں آئین کے دفاع کی ضرورت ہے۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/04/blog-post.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiFhTTocJpXLZPjpWeHdqCJbapIFd4-a5B7fIrc91eHY9N5T38wkoRw4mUQP0tkkN843HCnUR68b_9S2mnAnTxeosuJPcQBnTg3IWtuTT-5v_bj0sqJ2juMMIYISY5PfKsDtVgaqMZZCEU/s72-c/democracy.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item><item><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-6043521930750244266.post-2341795125780122383</guid><pubDate>Wed, 28 Mar 2018 23:00:00 +0000</pubDate><atom:updated>2018-03-29T04:00:34.344+05:00</atom:updated><title> باجوہ ڈاکٹرائن، عدلیہ اور قانون کی بالادستی۔ چوھری احسن پریمی</title><description>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;
&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhoDmW76BcRn9yt9HYKpNpaN958o0pJ7ERmZU5Nz6X8dgVPRgc_Arl2anjZtwfdEvGclAAUYiRjAjr-uaPWJsfA1qI1WcNeoCpBdLrxthL9tKVaa59MQUDYuK77aNlbMeh0CBwjqXtR73o/s1600/bajwa.jpg" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" data-original-height="351" data-original-width="624" height="358" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhoDmW76BcRn9yt9HYKpNpaN958o0pJ7ERmZU5Nz6X8dgVPRgc_Arl2anjZtwfdEvGclAAUYiRjAjr-uaPWJsfA1qI1WcNeoCpBdLrxthL9tKVaa59MQUDYuK77aNlbMeh0CBwjqXtR73o/s640/bajwa.jpg" width="640" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&lt;br /&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp;کسی بھی منطق یا دلیل کے نظریات یا ڈاکٹرائن کا جسم نہیں ہے، لیکن دنیا کی آئینے کی تصویر ضرور ہے.&amp;nbsp; لیکن منطق یا دلیل اس کی ٹرانسمیشن یا ترسیل ہوسکتی ہے۔ ہر نسل اپنی تیاری کیلئے اس ڈاکٹرائن یا نظریے کو انتہائی اونچے شیلف پر رکھتی ہے جہاں بچے اس تک پہنچ نہیںسکتے ہیں۔واحد سوال جسے کوئی دانشمند آدمی اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے، اور جو کوئی ایماندار شخص خود سے پوچھتا ہے، کیا یہ ڈاکٹرائن کا عقیدہ صحیح یا غلط ہے۔کیونکہ بہت سارے ڈاکٹرائن یا نظریے ایک کھڑکی کی طرح ہیں۔ ہم اس کے ذریعے سچ دیکھتے ہیں لیکن یہ ہمیں سچ سے تقسیم کرتا ہے۔کسی بھِی ڈاکٹرائن یا نظریے کی اخلاقیات ایسی نہیں ہے کہ ہم کس طرح خود کو خوش کر سکیں گے،بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو خوشی کے قابل کیسے بنا سکتے ہیں۔کسی بھی ڈاکٹرائن یا نظریہ کی اخلاقیات کے خلاف سب سے مضبوط دلیل عالمی سطح پر انسانی فطرت کی شناخت ہوسکتی ہے۔کہ تمام انسانوں کی زندگی، آزادی اور خوشحالی کے حصول کے لئے بے حد خواہشات ہیں. خالی سلیٹ کا نظریہ یا&amp;nbsp; ڈاکٹرائن ... مجموعی طور پر خواب ہے.اندھی اطاعت اور کسی غیر تسلیم شدہ انسانی طاقت کو&amp;nbsp; تسلیم کرنے کا نظریہ، چاہے سول ہو یا عسکری نظریات کا نظریہ اس کی کسی جمہوریہ اور عوام کے درمیان کوئی جگہ نہیں ہے۔&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp;جبکہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ فوج کا ملکی سیاست کے کسی بھی این آر او سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے باجوہ ڈاکٹرائن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ڈاکٹرائن ہے تو وہ نجی ٹی وی چینل پر دیئے گئے ایک انٹرویو کے مطابق پاکستان میں امن کی بحالی کے حوالے سے ہے۔ یہ ہر پاکستانی کی ڈاکٹرائن ہونی چاہیے، جبکہ اس ڈاکٹرائن کا 18ویں ترمیم، عدلیہ یا این آر او سے کوئی تعلق نہیں۔جنوبی ایشیا میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے خطے میں اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکا سپر پاور نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھا جائے، پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ مالی نقصان بھی ہوا، تاہم اس کی بحالی کے لیے معاشی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 کے آغاز کی صورتحال 2017 کے آغاز کی صورتحال سے بہت مختلف ہے، جہاں بھارت کی جانب سے متعدد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس میں کئی شہریوں کی جانیں چلی گئیں۔میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کی جانب سے دھمکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارت کی جانب سے کوئی دھمکی آتی ہے تو پورا پاکستان ایک ہوجاتا ہے چاہیے وہ ایک عام آدمی ہو یا کسی سیکیورٹی فورس کا اہلکار ہو۔ پاک فوج بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے بھرپور تیار ہے، قوم کو پاکستان کی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔بلوچستان کی سیکیورٹی کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فوج کی زیادہ تر توجہ صوبے میں جاری معاشی ترقی اور ضربِ عضب کے تحت جاری آپریشن پر ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کے دورہ ایران کے بعد سے صوبہ بلوچستان میں سرحد پر سیکیورٹی اور اندرونی سیکیورٹی کے معاملات بہتر ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تربت میں ایک ایونٹ منعقد کیا گیا تھا جس میں آرمی چیف نے اور ملک کے نامور گلوکاروں نے شرکت کی تھی، جہاں مقامی افراد نے رات گئے تک وہاں پر شرکت کی۔آپریشن ردالفساد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں سیکیورٹی اداروں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں جس کے اثرات سامنے آرہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے 7 بڑے دہشت گرد نیٹ ورک ختم کیے ہیں اور اس عرصے میں 16 خودکش بمباروں کو گرفتار کیا۔پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اگر ان اداروں کی محنت نہ ہوتی تو پاکستان میں یہ امن قائم نہ ہوتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جو عناصر پاکستان کو پرامن دیکھنا نہیں چاہتے، وہ ایسے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کے مقاصد میں پورا نہیں ہونے دیتے۔انہوں نے کہا کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں، تاہم یومِ پاکستان کی پریڈ کے دوران بھارتی ہائی کمشنر کو اپنی تہذیبی و اخلاقی صفت کو سامنے رکھتے ہوئے مدعو کیا۔کراچی کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2018 کا شہرِ قائد 2013 سے بہت مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں کراچی دنیا کا چھٹا سب سے خطرناک شہر تھا، تاہم اب پاکستان کا اس فہرست میں 67واں نمبر ہے۔ کراچی میں شٹر ڈان ہڑتالوں کا نام و نشان ختم ہوگیا ہے اور یہاں پر معاشی سرگرمیان بہتر ہو رہی ہیں۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فائنل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی فائنل کے لیے تیار نہیں تھا، لیکن اسے میچ سے قبل تیار کرلیا گیا، جبکہ پاکستان میں دیگر کرکٹ کے ایونٹ کے لیے راولپنڈی، پشاور، ملتان اور فیصل آباد کو بھی تیار کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کے لیے بہت اہم تھا جس میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل اور اسلام آباد میں 23 مارچ کے لیے پریڈ ہونی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ایونٹ بہترین انداز میں گزر گئے ہیں، جس کے لیے اسلام آباد پولیس اور عوام کے شکر گزار ہیں۔ پی ایس ایل کے فائنل میں لوگوں کا جوش و خروش اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کو دیکھ بے حد خوشی ہوئی۔واضح رہے کہ 25 مارچ کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پی ایس ایل کے فائنل کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے اور 27 ہزار افراد کی گنجائش والے نیشنل اسٹیڈیم کی سیکیورٹی کے لیے پاک فوج سمیت 8 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔اسٹیڈیم میں داخل ہونے کے لیے شائقین کو کئی چیک پوسٹوں پر تلاشی کے مرحلے سے گزرنا پڑا، لیکن سخت گرمی کے باوجود ان کا جوش دیدنی تھا۔سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوجی اتحاد (آئی ایم سی ٹی سی)کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں بات کرنا میرے اختیار میں نہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم سی ٹی سی کی کسی ایسی مہم کا حصہ نہیں بنے گا جو کسی دوسرے ملک کے خلاف ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب نہیں بھیج سکتا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا معاہدہ موجود ہے اور اسی کے تحت فوج ٹریننگ کے لیے سعودی عرب جاتی ہے۔ پاکستانی فوج صرف سعودی عرب کی سرحدی حدود کے اندر ہوگی اور ایران و یمن کے خلاف کسی عمل کا حصہ نہیں ہوگی۔پاک ۔ امریکا تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ سے باہمی تعلقات پر فرق پڑا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا سپرپاور ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون سے ہی امریکا سپر پاور بنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، لہذا جغرافیائی سیاست کی نظر سے معاملات کو دیکھنے سے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ انہیں جغرافیائی معیشت کے حوالے سے دیکھنا ہوگا۔پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد شروع ہوا تھا، جسے افغانستان سے مدد مل رہی تھی۔پاک فوج کی چیک پوسٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیک پوسٹیں اتنی نہیں ہیں جتنی بتائی جاتی ہیں، تاہم جب تک خطروں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا تب تک چیک پوسٹوں پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی چیک پوسٹس پر موجود جوان عوام کی حفاظت کے لیے ہی وہاں موجود ہے، جو کسی بھی خطرے کے خلاف پہلا دفاع ہے۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے پہلی مرتبہ میڈیا میں زیر بحث آنے والا باجوہ ڈاکٹرائن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں اور عدلیہ میں تصادم ہوا تو مسلح افواج سپریم کورٹ کی پشت پر ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی صورتحال پیش آتی ہے تو اس کے ذمہ دار سابق وزیر اعظم نواز&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;b&gt;&amp;nbsp;شریف کی جارحانہ پالیسی اور عدلیہ اور مسلح افواج پر حملے ہوں گے۔عمران کا کہنا تھا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ نواز شریف کس طرح عدلیہ پر حملے کر رہے ہیں اور وہ بڑی چالاکی کے ساتھ مسلح افواج کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دو چیلے ہیں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جو عدلیہ اور فوج پر حملہ کرتے ہیں یہاں تک کہ محمود خان اچکزئی نے تو فوج پر کھلے عام حملے بھی کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں مجھے لگتا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن، عدلیہ اور قانون کی بالادستی کے پیچھے کھڑی ہوگی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کا فائدہ نواز شریف کو ہوگا کیونکہ انہوں نے فوج کو بلانے کی مہم چلا رکھی ہے تاکہ وہ خود کو جمہوریت پسند ثابت کر سکیں اور فوج اور عدلیہ کی عزت پر حملہ کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اس بات کا اندازہ لگانا چاہیے کہ نواز شریف یہ سب فوج کو بلانے کے لیے کر رہے ہیں اور اس کا نتیجے میں نواز شریف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ اپنی کرپشن کے بجائے جمہوریت کو بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔انٹرویو کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے آئندہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے ساتھ اتحاد کیے جانے پر منفی رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایک کرپٹ انسان ہیں جس پر سیاسی مفادات اور شراکت داری کے لیے کبھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مجھے حکومت کے لیے مینڈیٹ حاصل کرنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا تو زرداری کا پہلا مطالبہ ایسی حکومت کا قیام ہوگا جو ان کی کرپشن کو بچا سکے اور وہ مجھ سے این آر او جیسا معاہدہ بھی مانگیں گے جیسا انہوں نے ماضی میں نواز شریف کے ساتھ کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کرپشن کے خلاف کھڑے ہونے والی جماعت کی ایسی حکومت کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی سے اتحاد ممکن نہیں ہے۔ جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طاقتور شخصیات کے بارے میں اکثر افسانوی باتیں گھڑی جاتی ہیں۔ اب ہم نظریہِ باجوہ کے بارے میں سن رہے ہیں۔ اس لفظ کا استعمال کچھ میڈیا حلقے اور خود ایک ٹی وی انٹرویو میں آئی ایس پی آر کے سربراہ بھی کرچکے ہیں۔اس نظریے کے مطابق آرمی چیف کے پاس نازک سیاسی مسائل سے لے کر معیشت اور خارجہ پالیسی تک ہر چیز پر ایک عظیم الشان وژن ہے۔ کیا ہمیں حیرت زدہ ہونا چاہیے؟ بالکل نہیں۔ کیا ہم فوج کے گزشتہ سربراہان کو بھی ایسا ہی دانا قرار دیا جانا بھول چکے ہیں؟۔مگر جنرل قمر باجوہ کی جو خوبیاں گنوائی جا رہی ہیں، وہ انہیں اپنے پیشروں سے بھی بالاتر دکھا رہی ہیں، یعنی ایک ایسا مسیحا جس کی قوم کو ایک عرصے سے ضرورت تھی۔ اگر میڈیا حلقوں پر اعتبار کیا جائے تو یہ 'نظریہ' خارجہ پالیسی میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کا وعدہ کرتا ہے جو کہ گزشتہ 70 سال کی 'احساسِ برتری' کی پالیسی سے بالکل مختلف ہوگی۔ یہ تو بہت زبردست بات ہے۔اس 'نظریے' کے مطابق جنرل پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور عالمی طاقتوں سے تعلقات میں توازن چاہتے ہیں۔ پرتشدد انتہاپسندی بالکل بھی قابلِ قبول نہیں مگر سدھر جانے والے جہادیوں کو مرکزی دھارے میں لانا اس 'نظریے' کے تحت اہم ہے۔'جمہوریت پسند' اور قانون کی بالادستی کے سخت حامی قرار دیے جانے والے جنرل اس 'نظریے' کے مطابق ہمارے سیاسی نظام سے ناخوش ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ آئین میں 18ویں ترمیم نے ملک کو کنفیڈریشن میں بدل دیا ہے۔ بظاہر ان کا سب سے بڑا خدشہ معاشی پالیسی میں بدانتظامی ہے جس نے ان کی نظروں میں پاکستان کو دیوالیہ پن کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے شروع کیے گئے مہنگے انفراسٹرکچر منصوبوں مثلا موٹروے اور میٹرو بس، اور بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی معیشت پر بوجھ سمجھتے ہیں۔حقیقتا صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ حالیہ ملاقات میں آرمی چیف نے ان سب باتوں کا اظہار کیا جنہیں اب تبدیلی کے ایک عظیم 'نظریے' کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل صرف اپنے ادارے کی سوچ کا اظہار کر رہے تھے، جسے ان کے ذاتی وژن کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ کوئی شخص ان کی(یا فوج کی)جانب سے مسائل کی تشخیص سے اتفاق کرسکتا ہے مگر نازک سیاسی اور معاشی مسائل کے لیے ان کے حل بے انتہا سادہ ہیں۔ایک کے بعد ایک فوجی حکمرانوں نے حالات بدلنے کے نام پر تختے الٹے مگر انہوں نے اگر زیادہ نہیں تو اتنے ہی خراب حالات میں ملک کو چھوڑا جن میں انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اسی طرح بھلے ہی ان کی اظہار کردہ نیت کے بارے میں شک نہ ہو، مگر سیاسی صورتحال، معیشت اور دیگر مسائل پر ان کی آرا نے منتخب سویلین حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو آشکار کردیا ہے۔بھلے ہی جنرل اقتدار حاصل کرنا نہیں چاہتے مگر کچھ لوگوں کے نزدیک یہ بحرانی صورتحال میں سب سے آسان کام ہے۔ وہ منتخب سویلین حکومتوں کو کھلی چھوٹ بھی نہیں دینا چاہتے۔ سیاستدانوں پر عدم اعتماد شدید ہے مگر اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ عام انتخابات ہوں گے۔لیکن اگر سینیٹ چیئرمین شپ کے حالیہ انتخابات کسی چیز کا اشارہ ہیں تو یہ واضح ہے کہ نواز شریف اور ان کے حامیوں کو مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں جگہ نہیں دی جائے گی۔ عدلیہ کے ساتھ مل کر فوج کا سایہ ابھرتے ہوئے سیاسی سیٹ اپ پر قائم رہے گا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کے زیادہ تر تفتیشی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ہی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں۔مگر جو چیز سب سے زیادہ تشویش ناک ہے وہ 18ویں ترمیم کے بارے میں فوج کے نظریات ہیں۔ تاریخی قانون سازی جس نے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دی ہے، اسے پارلیمنٹ نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے منظور کیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ صوبوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں صلاحیت کے مسائل کا سامنا کیا ہے مگر اسے بھی باقاعدہ مرحلے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔اس سے بھی اہم بات یہ کہ 18ویں ترمیم نے وفاق کو مضبوط کیا ہے اور مرکز اور صوبوں کے درمیان کشمکش کی ایک مستقل وجہ کو ختم کردیا ہے۔ مرکز میں اختیارات کے جمع ہونے سے بالخصوص چھوٹے صوبوں کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوئے تھے۔ ملک کو واقعی یکساں تعلیمی نظام کی ضرورت ہے اور صوبائی قوانین میں بہتری کی بھی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی واحد کوشش اگر ہوسکتی ہے تو غیر آئینی ہی ہوسکتی ہے، اور اگر ایسا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔یہ بات بھی درست ہے کہ معیشت نہایت خراب حالت میں ہے اور سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار جو اب کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اس مالی بدانتظامی کے لیے ذمہ دار تھے۔ یہ بحران کافی عرصے سے جنم لے رہا تھا اور یہ مسئلہ تیزی سے گرتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے مزید سنگین ہوا۔ مگر پھر بھی صورتحال ناقابلِ درستی نہیں ہے۔نظریہِ باجوہ کہلایا جانے والا یہ وژن بحران کا کوئی فوری حل نہیں پیش کرسکتا۔ معیشت قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، مگر اتنا ہی ضروری جمہوری مرحلے کا جاری رہنا بھی ہے، چاہے اس میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں۔ معاشی ترقی سیاسی استحکام سے بھی منسلک ہے اور فوجی حکومتوں کا بھی کوئی قابلِ فخر معاشی ریکارڈ نہیں رہا ہے۔یہ نظر آ رہا ہے کہ خارجہ اور قومی سلامتی پالیسیاں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہی ہاتھ میں رہی ہیں۔ جنرل باجوہ کے ان الفاظ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ مگر ہمارے خارجہ پالیسی چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر چیلنجز سیکیورٹی کے گرد گھومتی ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ہیں جس کے لیے عسکری قیادت ذمہ دار ہے۔ یہ معیشتوں کا دور ہے اور ایک جامع خارجہ پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ ہم پڑوسی ممالک بشمول ہندوستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات وسیع کریں۔ہاں ہم نے عسکریت پسندی کو شکست دینے اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے مگر ابھی بھی ہمارے وجود کے لیے خطرہ بنی ہوئی پرتشدد مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنے کی کوئی واضح حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ملکی اور خارجہ پالیسی مسائل پر ایک متبادل 'نظریہ' پیش کرنے کے بجائے سول ملٹری قیادت کے درمیان خارجہ پالیسی کے اہم امور پر خلیج پر کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔بدقسمتی سے ہمارے پاس کسی بھی چیز پر قومی بیانیہ نہیں ہے۔ نظریہِ باجوہ کہلانے والا یہ نظریہ ایک شخص کے نظریات سے زیادہ ایک ادارہ جاتی سوچ ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس سروس(اے پی ایس)&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style="text-align: right;"&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsnewsagency.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><link>http://apsnewsagency.blogspot.com/2018/03/blog-post.html</link><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhoDmW76BcRn9yt9HYKpNpaN958o0pJ7ERmZU5Nz6X8dgVPRgc_Arl2anjZtwfdEvGclAAUYiRjAjr-uaPWJsfA1qI1WcNeoCpBdLrxthL9tKVaa59MQUDYuK77aNlbMeh0CBwjqXtR73o/s72-c/bajwa.jpg" width="72"/><author>noreply@blogger.com (APS Newsagency)</author></item></channel></rss>