<?xml version="1.0" encoding="UTF-8" standalone="no"?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><rss xmlns:itunes="http://www.itunes.com/dtds/podcast-1.0.dtd" version="2.0"><channel><title>APS ASSOCIATED PRESS SERVICE,  ایسوسی ایٹڈ پر یس سروس، بین الا قوامی خبر رساں ایجنسی</title><description>International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video &amp;amp; Photo Service
from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee
email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843
  مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، 
چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی</description><managingEditor>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</managingEditor><pubDate>Wed, 28 Aug 2024 14:39:36 +0500</pubDate><generator>Blogger http://www.blogger.com</generator><openSearch:totalResults xmlns:openSearch="http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/">344</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex xmlns:openSearch="http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/">1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage xmlns:openSearch="http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/">25</openSearch:itemsPerPage><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/</link><language>en-us</language><itunes:explicit>no</itunes:explicit><itunes:summary>International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video &amp;amp; Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی</itunes:summary><itunes:subtitle>APS ASSOCIATED PRESS SERVICE</itunes:subtitle><itunes:category text="News &amp; Politics"/><itunes:category text="News &amp; Politics"/><itunes:category text="News &amp; Politics"/><itunes:category text="News &amp; Politics"/><itunes:category text="News &amp; Politics"/><itunes:owner><itunes:email>noreply@blogger.com</itunes:email></itunes:owner><item><title>لا پتہ افراد کے لواحقین کو کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا۔چودھری احسن پر یمی</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2009/07/blog-post_27.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 27 Jul 2009 21:01:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-1350146992812251858</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhRy0AU40VW6F1_VZ_MRdr9AOuINLYgZZEmBjS-yh0MFMW3s6mVoFoTzIWe3Ys6kM2AyPM418W_vQe4CLj6yEi-S1LihU7yutxA39RMnnA72PNeGZ3Di2NP7CH46a3zlcNPKgohNWV3GAQ/s1600-h/missingpeople610x.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5363155434051980098" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; WIDTH: 400px; CURSOR: hand; HEIGHT: 266px" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhRy0AU40VW6F1_VZ_MRdr9AOuINLYgZZEmBjS-yh0MFMW3s6mVoFoTzIWe3Ys6kM2AyPM418W_vQe4CLj6yEi-S1LihU7yutxA39RMnnA72PNeGZ3Di2NP7CH46a3zlcNPKgohNWV3GAQ/s400/missingpeople610x.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی تین نومبر دو ہزار سات کو عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا تعین بھی کرے گی۔ گزشتہ سوموار کے روز جسٹس خلیل الرحمٰن نے یہ ریمارکس سندھ ہائیکورٹ کے تین ججوں کی تقرری کے بارے دائر ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران اس وقت دیے جب درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان تینوں ججوں کا تقرر سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارش پر کیا گیا تھا۔جسٹس خلیل رمدے کا کہنا تھا کہ ایک آئینی چیف جسٹس کی موجودگی میں دوسرے چیف جسٹس کی تقرری کی کیا آئینی حیثیت ہے اس بارے میں بھی یہ عدالت غور کر سکتی ہے۔اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہو گا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے جسٹس رمدے کے سابق چیف جسٹس کی آئینی حیثیت کے بارے میں ریمارکس کے جواب میں کہا کہ اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہوگا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔ملک قیوم نے جو کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے جسٹس ڈوگر اور تین نومبر کی بعد کی عدلیہ کے حامی ہیں، کہا کہ اسی طرح اگر تین نومبر کے بعد کے صدارتی اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگایا گیا تو پھر موجودہ وزیراعظم کے بارے میں بھی نئی رائے دینا ہو گی کیونکہ انہوں نے بھی سابق صدر پرویز مشرف سے وزارت عظمٰی کا حلف لیا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس خلیل رمدے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بننے والے اس چودہ رکنی بنچ کا حصہ ہیں جو تین نومبر کے بعد اعلٰی عدلیہ میں تعینات اور برطرف ہونے والے مختلف ججوں کے مقدمات کا جائزہ لے رہا ہے۔یہ مقدمہ بظاہر سندھ ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی تین نومبر کے بعد تعیناتی اور برطرفی سے متعلق ہے لیکن عدالت اس پس منظر میں تین نومبر کے بعد سابق صدر اور فوجی سربراہ پرویز مشرف کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے علاوہ بعض دیگر امور کے بارے میں بھی کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اس بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کو انتیس جولائی کو عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دے رکھی ہے۔جسٹس ڈوگر کے چیف جسٹس کی حیثیت کے بارے میں اس وقت بھی دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں کیونکہ ہمیں اس معاملے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ گزشتہ پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کو معزول قرار دیے گئے تمام جج دو نومبر والی پوزیشنز پر بحال ہوئے ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی نئی تقرری نہیں ہوئی۔ملک قیوم نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیراعظم اور دیگر تمام آئینی شخصیات نے سابقہ دور میں بھی اور اس نئے سیاسی ڈھانچے میں بھی جسٹس ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم کیا تھا لیکن وہ اس مسئلے پر کسی نئی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔اس موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جسٹس ڈوگر اور صدر مشرف کے درمیان کیا معاملہ تھا یا یہ کہ کون انہیں چیف جسٹس مانتا ہے۔ ہم ان کی چیف جسٹس کے طور پر آئینی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ جبکہ وزیر اعطم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے افسوسناک ہیں ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مسائل حل نکالیں ۔ برآمدات میں اضافے کی کوشش کی جائے اور بین الاقوامی خریداروں کی حوصلہ افزائی کی جانے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ پیر کو کابینہ کے اجلاس کے موقع پر کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں نئی تجارتی پالیسی کی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم نے پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیا اور کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ان لوگوں کی مشکلات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے سوات میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ شرم الشیخ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ یہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ۔ دہشت گردی کے حوالے سے تمام امور پر بھارتی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال ہوا ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مل کر مسائل کا حل نکالیں ۔ دہشت گردی صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور مل جل کر ہی اس سے نمٹنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے بھی افسوس ناک ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ اس میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے ۔ جبکہ وزیراعظم نے تجارت کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دیں۔ جبکہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی قیادت میں گزشتہ پیر کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو جلداز جلد بازیاب کرایا جائے ۔ مظاہرین نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں بھی نعرے بازی کی ۔ملک میں لا پتہ افراد کے بارے میں قائم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے۔ ملک میں سینکڑوں افراد کے لاپتہ اور غائب ہونے کو چار سال مکمل ہو گئے ۔ احتجاجی کیمپ 30 جولائی تک جاری رہے گا گزشتہ پیر کوجماعت اسلامی پاکستان اور تحریک انصاف سمیت سول سوسائٹی کی مختلف شخصیات نے کیمپ کا دورہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں لا پتہ افراد کی گمشدگی کو چار سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیاگیا ہے۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چےئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ دیگر لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ہمراہ اس کیمپ میں موجود ہیں ۔ لا پتہ افراد کے بوڑھے والدین ، بیوی بچے بھی کیمپ میں شریک تھے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم ، ضلعی امیر سید محمد بلال کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے کیمپ کا دورہ کیا۔ اور لا پتہ افراد کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں نے بھی کیمپ کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ ہم نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر دروازے پر دستک دی ہے۔ چار سال ہو گئے سینکڑوں لاپتہ افراد کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر بھی دستک دی ہے۔ مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ سینکڑوں خاندان در بدر ہیں ۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف بسوں گاڑیوں ٹرینوں کو جلا دیا جائے تو حکومت حرکت میں آ جاتی ہے۔ ہم چار سالوں سے پر امن احتجاج کر رہے ہیں کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا ۔ ا نہوں نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں امریکی جنگ کو ملک و قوم پر مسلط کر کے سینکڑوں لوگوں کو غائب کر دیاگیا ۔ قوم کے معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کر دیاگیا ۔کوئی ادارہ نوٹس نہیں لے رہا ہے۔ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ عدلیہ کے لیے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ریلیوں اور اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کو لا پتہ افراد کے بارے میں یاد دہانی کے لیے یہ کیمپ لگایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ پرویز مشرف پر پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کرنے کا مقدمہ بھی چلایا جائے۔ ملک کے عوام کی اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ ملک میں امریکی پالیسی چل رہی ہے جنرل پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لا کر انکے جرائم کی سزا دلانی چاہیے تھی مگر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ جنرل ( ر ) پرویز مشرف نے امریکا کے سامنے جھکنے کا جو کلچر بنایا تھا موجودہ حکومت بدستور اس کلچر کو اپنائے ہوئے ہے ۔ 18 فروری 2007 ءکو جو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا حکومت اس کی توہین کر رہی ہے سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو عدالت میں بلانے کے فیصلے کو پوری قوم تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر ایک دفعہ کسی ڈکٹیٹر کو آئین توڑنے کے جرم میں سزا مل گئی تو پھر کوئی فوجی ڈکٹیٹر جمہوری اداروں پر شب خون نہیں مارے گا یوںجمہوری اداروں کو فروع ملے گا۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو نوٹس بھجوا کر اور صفائی کا موقع دے کر عدل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔جب تک 2 نومبر 2007 کی پوزیشن کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ اور 3 نومبر 2007 ءکے اقدامات پر عمل ہو گا تو آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے۔ عوام کا یہ بھی خیال ہے کہ اب بھی قومی نوعیت کے تمام فیصلے پارلیمٹ سے باہر ہو رہے ہیں ۔ ڈرون حملوں میں حکومت کی مرضی شامل ہے۔ ملک میں دہشت گردی اور بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ بھارت کی چیرہ دستیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے مگر حکومت بھارت کا نام لینے سے گھبراتی ہے۔اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhRy0AU40VW6F1_VZ_MRdr9AOuINLYgZZEmBjS-yh0MFMW3s6mVoFoTzIWe3Ys6kM2AyPM418W_vQe4CLj6yEi-S1LihU7yutxA39RMnnA72PNeGZ3Di2NP7CH46a3zlcNPKgohNWV3GAQ/s72-c/missingpeople610x.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>ہر فیصلے ہر معاملے پر حاوی صدر آصف زرداری۔ چودھری احسن پر یمی</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2009/07/blog-post.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Sun, 26 Jul 2009 17:40:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-5386176090282757650</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhL7hoaqXCNnYTLeJyR6HoOyC4MQmKsnW_1nmSUUrxtm3vcwAiAddagjMhfTXAEMnNOW6RZFReU7sLyybRswwut8NrRYZdM8oFrE-gLhcHr-Z_PrL_owafmUUmKqz6VzLzuBp7Xz3DZZUw/s1600-h/ASIFALInewphoto.JPG"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5362732719298792450" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; WIDTH: 314px; CURSOR: hand; HEIGHT: 400px" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhL7hoaqXCNnYTLeJyR6HoOyC4MQmKsnW_1nmSUUrxtm3vcwAiAddagjMhfTXAEMnNOW6RZFReU7sLyybRswwut8NrRYZdM8oFrE-gLhcHr-Z_PrL_owafmUUmKqz6VzLzuBp7Xz3DZZUw/s400/ASIFALInewphoto.JPG" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style="font-size:180%;"&gt;صدرمملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر ان کی 54ویں سالگرہ گزشتہ چھبیس جولا ئی کو انتہائی سادگی سے منائی گئی کراچی میں ان کی موجودگی کے باوجود کوئی بڑی تقریب منعقدنہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بلاول ہاوس کے ترجمان اعجازدرانی نے کہا کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر کراچی،اندرون سندھ اورملک بھر میں ان کی سالگرہ کے موقع پر ملک کی ترقی وخوشحالی اورشہید محترمہ بے نظیر بھٹوکے مشن کی تکمیل کے لئے دعائیں مانگی گئیں اورغریب لوگوں میں لنگرتقسیم کیا گیا۔ جبکہ آصف زرداری کی درازی عمرکیلئے بلاول ہاوس کے باہر بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔ صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جب صدارت کے عہدے پر بھی فائز ہوئے تھے تو انھوںنے تمام وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں کو ہدایت دی تھیں کہ وہ ان کے بطور صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پر مبنی اشتہارات کی اشاعت سے گریز کریں آصف زرداری کی ایوان صدر آمد پر بکروں کا صدقہ دیا گیا تھا۔اس موقع پر صدر آصف زرداری نے کہا تھاکہ ایک غریب ملک ہونے کے ناطے وہ اس طرح پاکستانی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ’دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ نئی جمہوری حکومت کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ نئی حکومت اور عوام کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی معاشرے اور معشیت میں بہتری لانے کی خواہش ہے اس موقع پر آصف علی زرداری کے حکم پر ہی حکومت سندھ نے ان کے انتخاب کی خوشی میں جو چھٹی کا اعلان کیا تھا وہ بھی واپس لے لیا تھا۔ اس کی وجہ آصف علی زرداری کا وہ عزم تھا کہ ملک کو چھٹیوں کی نہیں کام کی ضرورت ہے۔ کیو نکہ صدر آصف علی زرداری کے خیال میں آمریت کی وجہ سے پاکستان کی شبہیہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس عزت کو واپس حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے تاہم انہیں امید ہے کہ وہ مل کر اس ہدف کو حاصل کر لیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے محنت کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔تیئس برس قبل انیس سو ستاسی میں بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہوئی تھی تو کئی دنوں تک لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال اٹھتے رہے۔ بےنظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق پارٹی کے سربراہ کے طور پر ان کی نامزدگی پر بھی کچھ ویسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے آصف زرداری کا تعلق ایک درمیانہ بزنس کلاس سے ہے۔ ان کے والد حاکم علی زرداری پی پی ٹکٹ پر ستر کی دہائی میں الیکشن جیت چکے ہیں۔ بڑی مونچھیں اور مخصوص سندھی اسٹائل رکھنے والے چوون سالہ پر اعتماد آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم ہاو ¿س میں پولو گراو ¿نڈ تعمیرکرایا تھا۔ جس وجہ سے کئی مخالف سیاسی رہنما ان پر برہمی کا اظہار کرتے رہے اور اس حوالے سے کئی کہانیاں میڈیا میں آئیں تھیں۔ آصف زرداری بینظیر حکومت میں مختلف معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی پہلی مرتبہ برسر اقتدار آئی تو پارٹی کے کئی پرانے لیڈروں اور کارکنوں کو یہ شکایت تھی کہ حکومت اور پارٹی میں کسی عہدہ دار کی نہیں چلتی۔ ہر فیصلے اور ہر معاملے پر آصف زرداری حاوی ہیں۔ پارٹی کے بعض اراکین کے تحفظات اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے سیاسی رول بھی ادا کرنا شروع کیا۔ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوست نواز ہیں۔ جب وہ جیل میں سنگین حالات سے دوچار تھے تو ان کے والد حاکم علی زرداری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ آصف دوستوں کی وجہ سے ہی یہ دکھ دیکھ رہا ہے۔ آصف زرداری نے ایک مرتبہ اپنی گرفتاری پر کہا تھا کہ ان کا ایک پاو ¿ں جیل میں اور دوسرا وزیر اعظم ہاو ¿س میں ہے۔ یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کہ ان کی شادی کے بعد جب بینظیر حکومت میں رہیں تو وہ وزیر اعظم ہاو ¿س میں رہے اور جب اپوزیشن میں رہیں تو وہ جیل میں یا پھر بیرون ملک۔ پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو جب ان کی جماعت کی حکومت ان ہی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں برطرف ہونے سے لیکر دو ہزار چار تک وہ مسلسل جیل میں رہے۔ اور یوں آٹھ سال کا عرصہ انہوں نے قید میں گزارا۔ اس دوران چار حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن آصف زرداری کے لیے جیل کے دروازے نہیں کھلے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ایک طاقتور سیاسی شخصیت بن کر سامنے آئے ۔ آصف زرداری کا صدر منتخب ہونا مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کا آغاز تھا ۔ اس وقت عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں مکمل جمہوریت اس وقت ہوگی جب معزول چیف جسٹس کو بحال کیا جائے گا۔ وہ دن بھی آیا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال بھی ہوگئے آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد سالوں سے پارلیمان اور ایوان صدر کے درمیان جاری تصادم ختم ہوگیا۔آصف زرداری کا انتخابی عمل آئین اور قانون کے مطابق ہوا اور یہ ہی عوام کی فتح تھی انہوں نے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی فتح کو ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ ملک کو درپیش تمام مسائل کو ایک دن میں حل نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن آج کا دن مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کی شروعات ہے۔ بھٹو خاندان کے سیاسی وارث صدر پاکستان آصف علی زرداری جس خوش اسلوبی سے فلسفہ بھٹو کی روشنی میں ملک کا نظم و نسق چلارہے ان کے جاری سیاسی عمل سے جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اس طرح کی باتیں ملک دشمن عناصر و غیر جمہوری طاقتیں پھیلا رہی ہیں۔ کیو نکہ سیاسی عمل میں شامل تمام فریق ملک میں جمہوری نظام کی کامیابی اور اس کے برقرار رہنے کے بارے میں متفق ہیں لہذا اس نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کسی کو پاکستانی قوم کے عزم، اس کے اداروں کی طاقت اور رہنماو ¿ں کی ملک کو مشکلات سے نکالنے کے ارادے پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ ملک دشمن عناصر اس طرح کا پروپیگنڈا کر کے ملک اور عوام کی توجہ اصل مسائل کی طرف سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ’لیکن موجودہ قیادت نے ماضی میں بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج سے مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی اس دشمن سے لڑنے کا عزم اور صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ آج پاکستان ایک پھلتی پھولتی جمہوریت رکھتا ہے جس میں آزاد میڈیا اور شہری حقوق رائج ہیں۔ ’ جمہوری نظام، ہمارے ادارے اور انکی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بارے میں کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے’۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور انکی جماعت جمہوریت کی علم بردار ہے اور اسکی مرحوم سربراہ شہید بے نظیر بھٹو کی کوششوں سے آج ملک میں جمہوری دور رائج ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی اپنے مسائل خود حل کریں گے اور اپنی جنگیں خود لڑیں گے۔ انھیں سکھانے کے ضرورت نہیں بلکہ دنیا کی قدیم جمہوریت اور سب سے بڑی جمہوریت کوان سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ انھوںنے اپنے رہنماءاور لوگ کھوئے ہیں اور انھیںپتا ہے کہ کیسے انتقام لیا جائے۔‘ آصف زرداری اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے ’مگروہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو کینسر ہے جس کا علاج جمہوریت ہے۔‘ آصف زرداری نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہوا ہے کہ وہ بے وطن کرداروں کواپنا ایجنڈا مسلط کرنے نہیں دیں گے اور نہ ہی انھیں اپنے ناپاک عزائم میں ہونے دیں گے ۔وہ امریکی صدر اوباما کے خیال سے متفق ہیں کہ اس کینسر کا ریجنل علاج ہونا چاہیے۔ جبکہ آصف زرداری اپنے کئی ایک خطاب میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انھیں بینظیر کے قاتلوں کا علم ہے اور وہ انہیں بے نقاب کریں گے مگر وقت کا انتظار کرنا چاہیے ۔ ان کے مطابق قاتل یہ چاہتا ہے کہ ہم جلد بازی کریں اور طیش میں آئیں مگر ہم ایسا ہرگز نہیں کریں ہم اپنے فیصلے کا وقت خود طے کریں گے۔ آپ سب کو اختلاف رائے کا حق ہے مگر آصف زرداری کو فیصلے کرنے کا حق عوام نے دیا ہے۔‘ انہیں ملکی مسائل کے حل کا علم ہے زراعت سے لیکر بجلی پانی اور صنعت کے مسائل کا حل وہ جانتے ہیں مگر انہیں وقت درکار ہے۔ ان کی جماعت اقتدار کے ایوانوں میں عوامی ووٹ کے ذریعے پہنچی ہے کسی کی رعایت یا سفارش سے نہیں ۔ پاکستان کی جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں مگر ان کی جماعت کے شریک چئیر مین آصف زرداری ان خطرات سے نمٹ لیں گے ۔ آصف زرداری بے آواز لوگوں کی آواز ہیں اور بعض قوتوں سے ان کی اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی برداشت نہیں ہو پا رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے نزدیک دہشتگردی ایک فلسفہ ہے جو پاکستان میں پروان نہیں چڑھا بلکہ کسی اور ملک میں تخلیق کرکے پاکستان منتقل کیا گیاتاکہ ہم ایک سپر پاور کا مقابلہ کرسکیں اور ہم نے اس سپرپاور کا مقابلہ کیا۔ لیکن اس بلا کو بنانے والوں نے اسکا علاج نہیں بنایا اور اب یہ کینسر ایک بلا بن گئی ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے میں بھی انہی دائیں بازو کی قوتوں کا ہاتھ رہا ہے جو شدت پسندی کے اس فلسفے کو پروان چڑھاتی رہی ہیں۔ ان قوتوں کا انداز فکر ہی جارحیت ہے کہ ہم اقلیت ہیں لیکن اکثریت پر طاقت کے زور پر حکمرانی کریں گے جو کہ غلط ہے۔‘ تاہم یہ قوتیں عوام سے جیت نہیں سکتیں۔ ’قوموں پر امتحان آتے ہیں، یہ امتحان کی گھڑی ہے مگر آصف علی زرداری کو اپنے آپ پر اور پاکستان کے عوام پر یقین ہے۔ آج معاشی دہشتگردی کا زمانہ ہے اور وہ فلسفہ بھٹو کی روشنی میں ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بحال کی ہے اور دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے۔ گزشتہ مہینوں’ فرینڈز آف پاکستان کا ایک اجلاس ہوا اس میں جرمنی کے نمائندے نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے اور یہ موجودہ حکومت کی غلطی نہیں ہے بلکہ سابقہ حکومت سے انہیں یہ صورتحال ورثے میں ملی ہے ۔ صدر زرداری امریکہ کے صدر براک اوباما سے بھی پاکستان کی امریکی میزائیل حملوں کے بارے میں شکایت کا از سر نو جائزہ کیلئے بھی کہہ چکے ہیں۔ کیو نکہ صدر آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ امریکی میزائیل حملے ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں عوامی سطح پر ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ صدر زرداری سمجھتے ہیں کہ اس جنگ کا پہلا مقصد لوگوں کے دل دماغ جیتنا ہے صدر آصف علی زرداری کئی بار امریکہ سے کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرے کیونکہ دہشتگردی علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ افغانستان میں منشیات کے ناجائز کاروبار کا سرمایہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندی کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ زمینی حقائق کو اچھی طرح سمجھے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والے منشیات کی آمدنی سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دی جاتی ہے اور امریکہ افغانستان میں پوست کی کاشت کو رکوائے۔اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhL7hoaqXCNnYTLeJyR6HoOyC4MQmKsnW_1nmSUUrxtm3vcwAiAddagjMhfTXAEMnNOW6RZFReU7sLyybRswwut8NrRYZdM8oFrE-gLhcHr-Z_PrL_owafmUUmKqz6VzLzuBp7Xz3DZZUw/s72-c/ASIFALInewphoto.JPG" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس میں دہشتگردی کا حل نکلنے کی توقع نہیں،نواز شریف</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/10/blog-post_08.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Wed, 8 Oct 2008 19:56:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-2589027854160662348</guid><description>&lt;a name="5502941402367330159"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgQw61HWkEFDyI_1AKTyIGLp1H_z6GtzECk6LfahOPU3SsLB4tfZ1SCZlOBeF8930Ae027TWsAus1IpGFkVuJgZew_FmApwy8JmJiqZ2N7vQK_VfH_P8wq7ZuoUnu2KbcfClYCKDTxc5wfI/s1600-h/NAWAZSHARIFTALKINGSTYLE.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;لاہور (اے پی ایس )مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کا حل نکلنے کی توقع نہیں تاہم ایسے اجلاس ہوتے رہنے چاہئیں۔ شیخ زید اسپتال لاہورمیں مسلم لیگ ن کے رہنما رشید نوانی کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی ایک ناسور بن چکا ہے جسے ختم کرنے کیلئے پوری قوم کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی پالیسی ترتیب دی جانی چاہئے۔انہوں نے ملک میں جاری دہشت گردی کوپرویز مشرف کے آٹھ سالہ آمرانہ دور کا تحفہ قرار دیا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ معزول ججز کو بحال کرنے کی بجائے عدلیہ کی بے حرمتی کی گئی ہے۔اس کے بعد میاں نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے علیحدہ علیحدہ لاہور کے پرانے ائیرپورٹ پہنچے جہاں سے وہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔اس موقع پرسیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5553.html" rel="bookmark"&gt;6:21 PM&lt;/a&gt; &lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5502941402367330159"&gt;0 comments&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5502941402367330159"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="8881640911324941770"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_9563.html"&gt;پارلیمنٹ میں بحث کے بغیرمتفقہ لائحہ عمل پرپہنچنا مشکل ہے،قاضی حسین احمد&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg4Xk06nU9G2vo0SXMUm7IcmyKN2lwWoI3kGHhpYXjna0omsQezbI3dA-3nhCNKYi-FTVsUQrbD1EywkrJGLd5oMRIHW9MFd_iCf804bx3jIPKVeL7QrS3WncyKfKh45pvpwxodfC_BWVSI/s1600-h/QHA600.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;اوکاڑہ :جماعت اسلامی کے امیرقاضی حسین احمدکاکہناہے کہ پارلیمنٹ کے اِن کیمرہ سیشن میں آرمی کی جانب سے بریفنگ دی جا رہی ہے،بحث نہیں کی جا رہی، اسلئے بحث کے بغیرکسی متفقہ لائحہ عمل پرپہنچنے میں کامیابی مشکل ہے۔اوکاڑہ میں ٹرین مارچ کے استقبالی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمدنے کہا ہے کہ18فروری کے انتخابات بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں لا سکے اورناکام داخلہ اور خارجہ پالیسی سابق حکومت کاتسلسل ہے،ان کاکہناتھا کہ جماعت اسلامی کااجتماع عام ایسا لائحہ عمل دے گاجس سے ملکی سیاست امریکی مداخلت سے آزادہوجائے گی،جماعت اسلامی کے نائب امیرلیاقت بلوچ کاکہناتھاکہ حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اسلئے اسے مستعفی ہو جاناچاہیے۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_9563.html" rel="bookmark"&gt;6:16 PM&lt;/a&gt; &lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=8881640911324941770"&gt;0 comments&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=8881640911324941770"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="8580858247088673925"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_110.html"&gt;پاکستان دہشت گردی کا نشانہ ہے عالمی برادری مدد کرے۔صدر زرداری&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhspiHXRKGkPAQIrgA376OgxJPQ6iZaZqpu65N5x2X_epQhKEqPGbOT07cix3iTjZAwgQKFV-l4-DbLyWQS8rK-48P33Meh2D4VbJ-DoeUmFfuOf8fWiHfLrDQKp9FP6Rprhibr_0NPdD8f/s1600-h/asifali.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;اسلام آباد (اے پی ایس )صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ ہے عالمی برادری اسے مشکلات سے نکالنے میں مدد کرے ۔ انہوں نے یہ بات برطانیہ کے پاکستان میں سفیر رابرٹ برنکلے سے بات چیت کے دوران کہی۔ جنہوں نے ایوان صدر اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق برطانوی سفیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی مدد کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ اس سے پہلے لیبیا کے سفیر Ibrahim Mukthar Henitish نے بھی صدر زرادری سے ملاقات کی۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی نے صدر زرداری سے ملاقات میں امن و امان اور قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_110.html" rel="bookmark"&gt;6:07 PM&lt;/a&gt; &lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=8580858247088673925"&gt;0 comments&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=8580858247088673925"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="4118935195638293795"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_8019.html"&gt;آٹھ اکتوبر: حکومت نے تعمیر نو اور نو آباد کاری کا عزم کر رکھا ہے ۔وزیر اعظم گیلانی&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg_UX-TkVIjtB1-AiVKkuA1tS4omoeQHW-gJaVvToJaalU4x1FHAVqqvDvLGiQodsHGbOaz7-x6i75exraJ4pxsdzK2EmVPxyZl6hhIeFCIXOW00ResdEttTSkCfQpo3ds74XpEDmRSPGoG/s1600-h/pmppsize.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;اسلام آباد (اے پی ایس) گذشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمال مغربی علاقوں میں آٹھ اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلے کی تیسری برسی منائی گئی۔ اس موقع پر زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ضلع مظفرآباد سمیت ملک میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ اسی سلسلے میں دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا ایک جامع نظام وضع کیا جارہا ہے جس کی عدم موجودگی میں ان کے بقول پائیدار اقتصادی ترقی پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے تعمیر نو اور نو آباد کاری کے ذریعے آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی تباہ کاریوں کو ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیشن کی سربراہی کررہے ہیں جو ملک میں قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کی نگرانی کرتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے جب کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی ہر طرح کی آفت سے نمٹنے کے لیے سیل موجود ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی استطاعت میں اضافے کی ضرورت ہے۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیلاب ، خشک سالی اور پہاڑی تودے گرنے جیسی آفات اور دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے جن سے ہونے والی تباہی اربوں ڈالر کے نقصان کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 50ایسے اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں قدرتی آفات کے خطرات زیادہ ہیں اور حکومت نے ان علاقوں کے لیے مناسب فنڈز مختص کررکھے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب زلزلوں اور خشک سالی جیسی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی اطلاع کا نظام مزید مئوثر بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 8اکتوبر 2005کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آنے والا 7.6شدت کا تباہ کن زلزلہ تقریباً 75ہزار افراد کی ہلاکت اور 35لاکھ افراد کو بے گھر کرنے کا سبب بنا تھا۔حکام کے مطابق زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے 5.6ارب ڈالر کی رقم خرچ کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکومت کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے کام کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_8019.html" rel="bookmark"&gt;5:54 PM&lt;/a&gt; &lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4118935195638293795"&gt;0 comments&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4118935195638293795"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="3976815001860949667"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_2347.html"&gt;کم تنخواہ والے طبقے کی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجرائ&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhFD8r4S-lhNj_lEEHDEqY8nXQfSenaIvoQ5MeWj1MmFw6NfmFtr5kZNh3gW4YZ3MsqrGyY5siqq0hmISrJ_PQyMKWzuXayShOwtB0xqyc0sMzkVXskp_KYLII6dNcLn9ZHgieUuuRlF_cn/s1600-h/Sherry_800.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;اسلام آباد (اے پی ایس)وفاقی حکومت نے کم تنخواہ والے طبقے کی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت چھ ہزار سے کم آمدن والے خاندانوں کو ہر ماہ حکومت کی طرف سے ایک ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔بدھ کو وفاقی دارلحکومت میں نیوز کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصدبڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاءکی خرید میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی کشمیر، شمالی علاقوں اور فاٹا سمیت ملک بھر میں مستحق افراد اپنے اپنے علاقے کے سینٹر یا ممبران قومی اسمبلی سے ایک فارم حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کی نادرہ کی طرف سے جانچ پڑتال کے بعد اس خاندان کو انکم سپورٹ کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ کارڈ صرف اس خاندان کی خاتون ہی حاصل کر سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے لیے 34 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس سے ملک کی 12 سے 14 فیصد آبادی مستفید ہو سکے گی۔ عوام کی فلاح ریاست کی ذمہ داری ہے اور عالمی سطح پر تیل اور خوراک کے قیمتوں میں اضافے سے جو اقتصادی تنزلی آئی ہے اس کے اثرات سے غریب عوام کو بچانے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔دوسری طرف ناقدین کاکہنا ہے کہ اس پروگرام کے لیے 34 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے سے بدعنوانی کے امکانات پید ا ہونگے اور ان کے بقول بہتر ہوتا اگراس رقم سے ملک میں صنعتی یونٹ قائم کر کے روزگار کے مواقع پیداکیے جاتے۔تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_2347.html" rel="bookmark"&gt;5:42 PM&lt;/a&gt; &lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=3976815001860949667"&gt;0 comments&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=3976815001860949667"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="475165805440883813"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_1024.html"&gt;افغا نستان میں مشکل صورتحال ہمارے غلط اندازے کی وجہ سے ہے۔اوبامہ&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEggVl9s9ncHy3ZK_xaMfQL0oO6o61HYLZYBS7SVtRTyieGjflZ90_FA3zmTD95XG6DQvTbhH5OraDoE362nj5m02gQNNMCxMXcHN5JfLXJoFVsvWqvLhk1ODZdf59QZoucl7pMyUjDtOv4T/s1600-h/obama1.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;نیو یارک (اے پی ایس )امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنا ہوگی صدر بش کی طرف سے ڈکٹیٹرشپ کی حمایت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے- انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں تو پھر اسے ہلاک کرنے کےلیے وہ پاکستان میں ضرور کارروائی کریں گے- ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار سینٹیر جان مکین نے کہا کہ وہ سینیٹر باراک اوبامہ کے برعکس اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کےلیے پاکستانی حکومت اور عوام کا تعاون چاہیں گے۔ امریکی صدارتی امیدوار انتخابات سے صرف ستائیس روز قبل منگل کی شب ہونے والے مباحثے میں ووٹروں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے- صدارتی امیدواروں کے دوسرے مباحثے میں ملک میں آنےوالے اقتصادی بحران، ٹیکسوں، ہیلتھ انشورنس، گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور سوشل سکیورٹی سمیت معاشی مسائل ووٹروں کے سوالوں کے محور رہے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی مسائل کے متعلق سوالات میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے موضوعات نمایاں رہے۔ پاکستان پر امریکی پالسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کر سکتے- ہم نے دہشتگردی کےحلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے۔دونوں صدارتی امیدواروں سے خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی ایک ووٹر ٹمی ہاک کا سوال تھا ’ کیا ہمیں پاکستان کی خود مختاری کا اس وقت بھی احترام کرنا چاہیے جب القاعدہ کے دہشتگرد اس کی حدود میں ہو؟ کیا ہمیں سرحد تک ان کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے یا پھر ہمیں پاکستان میں بھی اس طرح پالیسی اپنانی جیسی ہم نے ویتنام جنگ کے دوران کمبوڈیا میں اپنے دشمنوں سے کیا تھا؟‘ ڈیموکریٹک پارٹی کےصدارتی امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے سوال کو عمدہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ پاکستان میں ہمارے ساتھ بہت ہی مشکل صورتحال ہے۔’مشکل صورتحال ہمارے غلط اندازے کی وجہ سے ہے کہ ہم نے ابھی افغانستان میں اپنا کام ختم ہی نہیں کیا تھا کہ القاعدہ کو کچلنے سے قبل ہم نے عراق میں مداخلت کردی-‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی تمام حکمت عملی اور وسائل عراق میں لگائے اور اسامہ بن لادن کو اس بیچ میں پاکستان میں صوبہ سرحد کے پہاڑی علاقوں میں فرار ہوجانے کا موقعہ مل گیا۔ اب وہ ہمارے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں اور افغانستان کی صورتحال سنہ دو ہزار ایک سے بھی کافی درجہ خراب ہو چکی ہے اور یہی دہسشتگردی کا مرکزی علاقہ ہے جہاں وہ اب بھی امریکیوں کو قتل کرنے کے منصوبہ بنا رہے ہیں -‘ سینیٹر اوبامہ نے امریکی وزیر دفاع کی بات کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ دہشتگردی کےخلاف جنگ افغانستان میں شروع ہوئی تھی اور افغانستان میں ہی ختم ہوگی- ایسے ملک میں جب آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا۔اوبامہ نے کہا ’دہشتگردی کےخلاف جنگ کا مرکز افغانستان ہے اس لیے افغانستان کی حکومت پر وہاں (افغانستان) کی صورتحال میں بہتری لانے کےلیے دباو ¿ بڑھانا چاہیے- عراق میں جنگ ختم کر کے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا کر افغانستان میں متعین کرنی چاہیے- افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ روکنی چاہیے جس سے آنیوالی رقم دہشتگردی پر خرچ ہورہی ہے- انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- انہوں نے جنرل مشرف کا نام لیے بغیر کہا ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرسکتے- ’ ہم نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے-انہوں نے کہا ’ہمیں پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہیے اور فوجی امداد کے بجائےغیر فوجی امداد میں توسیع کرنی چاہیے تاکہ پاکستان ہمارے ساتھ کام کرنے کےلیے مزید مستحکم ہو سکے-دونوں امیدواروں کے درمیان آخری اور تیسرا مباحثہ پندرہ اکتوبر کو نیویارک میں ہوگی ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری معلومات یا نظر میں اسامہ بن لادن آتا ہے اور پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل نہیں یا اس کا ارادہ نہیں رکھتی تو ہم خود کارروائی کریں گے- اسامہ بن لادن کو ہلاک کریں گے اور القاعدہ کو کچل کر رکھ دیں گے اور ہماری قومی سلامتی کی یہی سب سے بڑی ترجیح ہے-جان مکین نے اپنے حریف صدارتی امیدوار اوبامہ کی طرف سے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر حملے کرنے کی بات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔جان مکین نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں سے آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا- انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں ’افغان حریت پسندوں‘ کی طرف سے سابقہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ کو علاقے سے ہاتھ صاف کرکے واپس آجانا غلطی تھی جس سے طالبان واپس آ گئے- دونوں امیدوار ایک سوال کے جواب میں اس پر متفق دیکھے گئے کہ اسرائیل پر ایرانی حملے کی صورت میں امریکہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا- البتہ باراک اوبامہ نےایران اور شمالی کوریا سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے پر زور دیا جبکہ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ ہم اب ایک نئی ’ہولو کسٹ‘ نہیں دیکھنا چاہتے- اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_1024.html" rel="bookmark"&gt;5:27 PM&lt;/a&gt; &lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=475165805440883813"&gt;0 comments&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=475165805440883813"&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>ملکی سلامتی کے حوالے پارلیمنٹ کا بند کمرہ اجلاس،ڈی جی آئی ایس آئی بریفنگ دیں گے۔تحریر : اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/10/blog-post.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Wed, 8 Oct 2008 06:19:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-2480953335870510170</guid><description>&lt;a name="7187912022061272239"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgSaHGx31IQb5CqhvdAJiFowKQI3-TRJCorKSSbl4xUr2zdoYctqgNo4s1AZzaaQPZzdN9HTw3rDZyJ8Xcep6ou3VG1hixuJbODcXrfjf_iCWwMdVuWhaL7HZ1isBPRcB6zFJ9CBxdUQboR/s1600-h/parliment.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhSNnHo7fKYndFgbIN-B-njIvtVbKFsS_50oBmq7lT24O-TjAQZ2hMoubjkYb3FEEeNrdINe7Km1Jsg5MCUBqhFNHCJSXo-G1DBaJDe-Xsvo3SNtzsBdnQhMkp9VPyyi_XR5H_TeOfuETix/s1600-h/dgisipasha.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا تیسرا مشترکہ بند کمرہ اجلاس بدھ کو شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاوس میں ہوگا۔ سخت سیکیورٹی میں ہونیوالے اس اجلاس میں ملک کی موجودہ داخلی وخارجی صورتحال اور ملکی سلامتی کو درپیش خطرات پر غور اور ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اجلاس کی صدارت کرینگی، ایجنڈا تیار، ارکان پارلیمنٹ کو داخلی و خارجی صورتحال سمیت ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائیگا۔ اجلاس ٹھیک شام 5 بجے شروع ہوگا، اسمبلی ہال کے دروازے بند کردیئے جائینگے جس کے بعدکسی کو اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی، اجلاس میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا شرکائ کو بریفنگ اور ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو فاٹا کی صورتحال، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری جنگ کے مختلف پہلووں پر جی ایچ کیو کی طرف سے بریفنگ دی جائے گی، یہ اجلاس ایک دن میں بھی ختم ہوسکتا ہے جبکہ کئی روز جاری بھی رہ سکتا ہے۔ سرکاری حکام کی بریفنگ کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کامل آغا اور دیگر پارلیمانی لیڈر اظہار خیال کریں گے۔ میڈیا کو اس اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دارالحکومت میں فوج کو طلب اور ریڈ زون نو گو ایریا قرار دیدیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کی مشاورت سے اجلاس کا ایجنڈا تیار کرلیا ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران مشترکہ اجلاس کے انتظامات اور خاص طورپر سکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے اقدامات کو حتمی شکل دی گئی۔ ارکان پارلیمنٹ یا ایجنڈے کے حوالے سے مدعوئین کے علاوہ کسی کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔ جنرل احمد شجاع پاشا کو چند روز قبل ہی آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل احمد شجاع پاشا جو پاکستان فوج میں بطور ڈائریکٹر جنرل قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں اور سرحدوں پر ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستان کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات اور قومی مفادات کے تقاضوں کے بارے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کو بریفنگ دیں گے اور اس حوالے سے وہ ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جواب بھی دیں گے۔ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ سیشن کے موقع پر تمام اراکین سینٹ وقومی اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اجلاس میں بروقت شرکت کو یقینی بنائیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور سینٹ سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیف وہپ وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت سید خورشید شاہ اور مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ شیخ آفتاب احمد سینٹ میں حکومتی چیف وہپ مولانا عبدالغفور حیدری، مسلم لیگ مسلم لیگ (ق) کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ ریاض حسین پیرزادہ اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کامل علی آغا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اراکین کی پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ سیشن میں بروقت شرکت کو یقینی بنائیں۔ دریں اثناء وزارت پارلیمانی امور کے مشیر اظہار امروہوی نے بتایا ہے کہ صدرمملکت کو آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قومی نوعیت کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کا ”ان کیمرہ“ سیشن ایک دن کیلئے ہو، اس کی مدت میں معاملات کی نوعیت کے حوالے سے اضافہ ہوسکتا ہے، ممکن ہے کہ اجلاس آئندہ دوچار روز تک جاری رہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کی صدارت قواعدوضوابط کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کرتا ہے۔ تاہم اگر اسپیکر موجود نہ ہو تو چیئرمین سینٹ اجلاس کی صدارت کرتا ہے، دونوں کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کو اجلاس کی صدارت کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر داخلہ رحمن ملک یا ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حکام میں سے جس کو بھی اجازت دی جائے گی وہ اراکین کو بریفنگ دیں گے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کے موقع پر سخت ترین حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں اور امن وامان قائم رکھنے والے اداروں کو ”ہائی الرٹ“ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_8796.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;5:05 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=7187912022061272239"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=7187912022061272239"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="5830116268642515099"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5318.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;کیا امریکہ کے ہاتھوں پاکستان کے شہریوں کا قتل عام حکومت کی اجازت سے ہورہا ہے ؟۔ رپورٹ اے پی ایس&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi1PDgoqnFmIpsjBX4HqOZLeIv0N6aAVVo9adEET2Hqt6hM10SgszhGdPMqSXC1hVtVeqTAAIi0avQ1e1GRYGN01K3V4duZZLyJcSNndzj0xc_lHE2omxnzvXackhwDQJBxGpaGBWTwI7VM/s1600-h/kamrandefence+secretary610x.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;سیکرٹری دفاع کامران رسول نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی طیارے حکومت کی اجازت سے پاکستان کی فضائی حدود کو نگرانی کیلئے استعمال کر رہے ہیں، پاکستان امریکا کی امداد پر انحصار کرتا ہے اور امریکا سے دشمنی مول نہیں لے سکتا، امریکی خفیہ اطلاعات، تربیت و ہتھیاروں کے بغیر پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ نہیں جیت سکتا، اگر امریکا اور برطانیہ نے دہشت گردی کے الزامات لگا کر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں تو پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا کیونکہ پاکستانی معیشت دیوالیہ ہونیوالی ہے، اتحادی افواج نے پاکستان میں مخصوص اہداف کے سرگرم تعاقب (ہاٹ پرسوٹ) کی متعدد مرتبہ درخواست کی جس کو حکومت نے ہمیشہ رد کیا ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین نثار میمن کی صدارت میں ہوا جس میں سینیٹر پروفیسر خورشید، دلاور عباس، نعیم حسین چٹھہ، کامل علی آغااور کامران مرتضی شریک تھے۔ اجلاس میں کمیٹی نے حکومت بالخصوص صدر آصف زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری مجاہدین کے حوالے سے سوچ سمجھ کر بیان دیئے جائیں، کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اس قسم کے بیانات سے ان کے احساسات مجروح ہونگے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ و دفاعی پالیسیوں اور امریکا کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کریں اور پارلیمان کو تمام معاملات طے کرنے کے اختیارات دیں۔ اس موقع کمیٹی کے چیئرمین نثار میمن نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی طاقت کے ساتھ سیاسی حل بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مربوط اور موثر بنائیں ۔ نثار میمن نے کہا کہ کمیٹی کے اس اجلاس کا بنیادی مقصد قائمہ کمیٹی کے دورہ برطانیہ اور برطانوی دارا لعوام کی دفاعی کمیٹی سے ملاقات کے ایجنڈے سے متعلق مختلف دفاعی ماہرین سے مشاورت ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کی سابق سربراہ شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں کو روکیں ورنہ مستقبل میں ایک ایسا وقت آئے گا جب پاکستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہو گا اور اقوام متحدہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کو اپنی تحویل میں لے لے گا، امریکا نے خطے میں اپنے مقاصد پورے کرنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے محور کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر دیا ہے، امریکا پاکستان کا دوست نہیں بلکہ ایک بدترین دشمن ہے۔ اس موقع پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جن کشمیری مجاہدین کو ہم نے خود پروان چڑھایا آج انہی کو صدر مملکت دہشت گرد قرار دے کر زیادتی کر رہے ہیں، صدر پاکستان کے اس بیان سے کہ حکومت نے امریکا کو حملے کرنے کی اجازت دی، دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس موقع پر کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ امریکا اب ہمارا اتحادی نہیں رہا، 18فروری کے انتخابات میں عوام نے امریکی اور پاکستانی حکومت کی امریکا نواز پالیسیوں کو مسترد کر دیا تھا۔ سینیٹر پروفیسر خورشید نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالات کی خرابی کا سبب افغانستان میں موجود بھارتی، روسی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو کہ سرحد پار حالات خراب کرنے کیلئے مختلف قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5318.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:50 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5830116268642515099"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5830116268642515099"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="7252886384326451787"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_4603.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;فضائی حدود کی خلاف ورزی، ایرانی جیٹ طیاروں نے امریکی فوجیوں کو لے جانے والا طیارہ اتارلیا&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiW2au7bLnxfXBiL1VIMortUZKQr_ezdPCwvK6zJ-_N81LhUoBPX-tNWASWWBcaN1JLnPjh7d1lWnf5c4YMl_jMfDxA_EXMNgXDK6OfIng3nmoii8ybV5yHBeTaMb6U0lrzb7JbotpLHLiN/s1600-h/iranijet.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;تہران : ایرانی جیٹ طیاروں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے طیارے کو ایران میں اتارلیا ،طیارے میں 5امریکی فوجیوں سمیت 8افراد سوار تھے جن سے پوچھ گچھ کے بعد طیارے کو افغانستان جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ایرانی ٹی وی العالم کے مطابق طیارہ ترکی سے افغانستان جارہاتھا کہ اس دوران غلطی سے ایرانی حدود میں داخل ہوگیا جس پر ایرانی طیاروں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے اترنے پر مجبور کردیا، طیارہ ریڈار سے بچنے کیلئے نچلی پرواز کر رہا تھا۔ٹی وی نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ طیارہ ہنگری کا تھا جو کہ امدادی سامان لے کر افغانستان جارہا تھا۔ٹی وی کے مطابق طیارے میں پانچ امریکی فوجیوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ پائلٹ نے ایرانی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا اور طیارے کو پوچھ گچھ کے بعد افغانستان جانے کی اجازت دیدی۔قبل ازیں ایرانی نیوز ایجنسی نے رپورٹ دی تھی کہ ایرانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی طیارے کو اتارلیاگیا ہے جس کے بعد پینٹاگون نے اپنے کسی طیارے کو ایران میں اتارے جانے کی تردید کی تھی۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_4603.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:44 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=7252886384326451787"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=7252886384326451787"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="5885832119143055629"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_597.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے، نواز شریف&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiauOPbFxNoeS7fVCyKnmlmFS4qUyvp5wXLA_SWk55iYrbyoXDVbpz19Sh1NexZTseCaKPCs5nN09rvuHwNYqMTJEq-nUqjyJfThKmC0TkP2S5crY5F8broOL5jH6osnmtGFrVftZRa1drg/s1600-h/NAWAZSHARIFTALKINGSTYLE.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;لاہور:پا کستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ حکومت سمیت کسی بھی اکیلے کے بس کی بات نہیں ‘پا رلیمنٹ سے باہر بھی سیا سی جما عتوں کو اعتماد میں لیا جا ئے‘دہشت گرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں مگر ضرورت ہے کہ دہشت گردی میں اضا فے کی وجو ہات کو تلاش کر کے مسئلہ حل بھی کیا جا ئے ۔وہ گز شتہ روز جدہ سے واپسی پر پارٹی رہنما ؤں سردار ذالفقار کھو سہ ‘چوہدری عبد الغفور اور دیگر سے پر انے اےئر پورٹ پر گفتگو کر رہے تھے ۔ اس مو قع پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شر یف نے بھی ان کا استقبال کیا ۔میاں نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جا ئے، کم ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وجوہات کو بھی تلاش کیا جائے جن کی وجہ سے آج قبائلی علاقوں سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے ۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_597.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:37 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5885832119143055629"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5885832119143055629"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="47367413306415285"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_8403.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;بینکاری نظام کو کوئی خطرہ نہیں،سرمائے میں کمی عید پر رقوم نکلوانے سے ہوئی، گورنراسٹیٹ بینک&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEijy_xFd-5aeyQNk0LAOzdqqYopvxE60bW44bfQtNa1XBO2EmEKvmzlJZ4WBMmJtfg2IbUqFkaeHJ1-h9RqpkwrHEcVrbnkZkP59RJyd7aB3BK1H4CceaOFVA8jptq4Jnqa_QI3codUgZdu/s1600-h/dollars.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ بینکاری نظام کو کوئی خطرہ نہیں، سرمائے میں کمی عید پر رقوم نکلوانے سے ہوئی، پاکستان کا بینکاری شعبہ دھچکے برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کا بینکاری شعبہ مختلف اقسام کے مارکیٹ دھچکوں اور سخت مجموعی معاشی حالات کا مقابلہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، آج ایک بیان میں گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ یہ صلاحیت گزشتہ چند برسوں کے دوران کی جانے والی مالی اصلاحات کے مسلسل عمل کے ذریعے حاصل کی گئی ہے ، بینکنگ سسٹم کے استحکام کے بارے میں کسی قسم کی کوئی تشویش موجود نہیں، اُنہوں نے کہا کہ بینکنگ سسٹم نے ٹھوس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا مستقبل روشن ہے اسی وجہ سے سرمایہ کاروں نے بینکنگ سسٹم پر اعتماد ظاہر کیا ہے اور اُنہوں نے 2006ء ء کے بعد سے اب تک تقریباً 500/ ملین ڈالر کا اضافی سرمایہ لگایا ہے جس سے بینکوں کی سرمائے کی بنیاد بہتر ہوئی ہے اُنہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کی کیپٹل ایڈیکوئیسی کم از کم سطح سے کافی اوپر ہے، بینکنگ سسٹم کا کیپٹل ایڈیکوئیسی ریشو جون 2008ء ء کو 12.1 ہے جو بین الاقوامی حد سے کافی اوپر ہے، غیرفعال قرضوں کا تناسب اور سرمائے اور غیرفعال قرضوں کا تناسب بھی بہت کم ہے اور قابل قبول حد کے اندر ہے اُنہوں نے کہا کہ infection ratio (net) بہتر ہو کر جون 2008ء ء میں 1.1 فی صد تک آ گیا جو دسمبر 2006ء ء میں 1.6 فی صد تھا پاکستان کا بینکاری نظام بتدریج ترقی کر رہا ہے اور اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، منی مارکیٹ ریٹس پر حالیہ دباوٴ کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ اس دباوٴ کا تعلق عید کے موقع پر نقدی نکلوائے جانے سے ہے، عید کی تیاریوں کے سلسلے میں کھاتیداروں نے بینکاری نظام سے بھاری رقوم نکلوائیں تاہم یہ صورت حال عید کے بعد کے دنوں میں بالآخر بہتر ہو جائے گی کیونکہ بالآخر یہ رقوم دوبارہ بینکاری نظام میں آ جائیں گی، گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ڈپازٹس کے حصول کے لیے اقدامات کریں۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_8403.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:31 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=47367413306415285"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=47367413306415285"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="3418433073700285737"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_2455.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;بے نظیر قتل کی تحقیقات نہیں کی جارہی، کمیٹی قتل کے حقائق معلوم کرے گی، اقوام متحدہ&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjxYaP2Gii2akndjyYH5RjM2cm05C9EB5pgiUTB4gVZqmNL6sSWa49z6FEqcH6DDBNrUxnibK1ZL1XbW3sGDQb_MJlJSOpY6HyduelKw3jKnWpRf-jgSwnshF7LVzieDxtZLVCBrqq7jFIv/s1600-h/BhuttoBenazir171.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حقائق جاننے کیلئے کمیشن جلد بنایا جائیگا۔ نیویارک میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات نہیں کرائی جائیں گی بلکہ قتل کے حقائق تلاش کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں کمیشن کی تشکیل کیلئے حکومت پاکستان سے بات چیت جاری ہے۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے شواہد جمع کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_2455.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:28 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=3418433073700285737"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=3418433073700285737"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="7334327300516084191"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_2767.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;سرحد حکومت کی عملداری ختم ہوچکی، امریکی ایماء پرجغرافیہ تبدیل کیا جارہا ہے، فضل الرحمن&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi4DJ0Q31be9u-ie9z5KEjRZ5TlmZZc2lSMhOENhLLXfM6qd3-m8GBBf3MQ6d3768ztrQANdcbNrCTvf01gVvnne-QDY1frGkTn8dOWRhsd0sZ8QLZA1_Cya0nC5XAB_F_2QfmgCzIlhdD7/s1600-h/fazalurehman610x.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پارلیمنٹ کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ امریکی خواہش اور دباؤ پر سرحد کا جغرافیہ تبدیل کیا جا رہا ہے، کشمیر کا حل صرف کشمیریوں کو حق رائے دہی دینے میں ہے، سرحد میں حکومت کی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے اور سرحدی علاقے عملاً عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں، صدر آصف علی زرداری کو سفارتی گفتگو میں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے، افغانستان میں شروع کی گئی جنگ کے اثرات اب پاکستان بھگت رہا ہے اور بھارت بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا ، حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کرے۔ وہ ڈیرہ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر سرحد حکومت عسکریت پسندوں، عوام اور قبائلیوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور فوج نے آپریشن بند نہ کیا تو اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبہ میں اے این پی کی حکومت ہے جو سرے سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم ہی نہیں کرتی اور اس پر ظلم یہ ہے کہ اپنے ہی عوام پر فضائی اور زمینی حملے کئے جا رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_2767.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:25 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=7334327300516084191"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=7334327300516084191"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="5882554990054919847"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5280.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، واپڈا، سی ڈی اے، این ایچ اے، نادرا اور پی آئی اے کا اسپیشل آڈٹ ہوگا&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgs91b1KPppKNBAEy0imWZdKWE22gxj9p1vN9jP4edkqGr2OnNTsdOFVJhSHGmvKT1Gfg-Yrfv9Pbv7p7cEtsITr1PzX9u4im1-65kVVXHVGemh4bb9ZwvA_zza5WwwR95jUC_CQZdErlAE/s1600-h/chnisar1.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 56فیصد تجاویز اور احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا افسوسناک ہے آئندہ اس عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور13ہزار آڈٹ اعتراضات کو تین ماہ میں نمٹانے کیلئے پانچ سب کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں جبکہ واپڈا‘ریلوے‘سی ڈی اے‘این ایچ اے ‘ مقتدرہ قومی زبان ‘نادرا اورپی آئی اے کا سپیشل آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں جلد ان محکموں سے رپورٹیں طلب کی جائیں گی-پاکستان کرکٹ بورڈ میں مالی بے ضابطگیوں کا آڈٹ کرنے کیلئے آڈیٹر جنرل کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کمیٹی کا پہلا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چوہدری نثار کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نیر آغا نے بریفنگ دی۔ جس کے بعد چوہدری نثار علی خان نے پانچ سب کمیٹیاں تشکیل دیں جن کے چیئرمین اسفندیار ولی خان‘صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ عذرا پیچوہو، خواجہ آصف، ریاض حسین پیرزادہ اور حیدر عباس رضوی ہوں گے۔ اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو واپڈا ،ریلویزاور سی ڈی اے کی آڈٹ رپورٹس 4 ماہ کے اندر مکمل کر کے اسے صدر پاکستان کو بجھوانے کی ہدایت کی ہے۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5280.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;4:23 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5882554990054919847"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=5882554990054919847"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="6160571236678834759"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/information-ministers-explanation-falls.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Information Minister’s explanation falls short of clear denial on perception&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgeuYcZeuL98FaA409VclHYPwtt7tQ1Nw8onpiA0kpkyX_DFAc1jdn4rYUrrzG5Lhr5HEveFY1gJGpDjoRMrHuERDr9z8-IrmTzhtdYJGdSI-cNwDDls6RVc-Wh43IHwRFL-LszsO678-Et/s1600-h/sherry610x.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh-6VgFbNhA7Fm7judJG5_cXi8myqBuIN5MBAD_wf9rVM0zmBMAEQ-8KJoAaxtZQE4GTGlnFQXX-aTg5Og2zQXxwMH-UV2X6sBP_q5jDt4Bu8xBBOYY4uJy1EZI8cW6z9WdAQLC9b2zoeXY/s1600-h/sherrysep17.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.khaleejtimes.com/friend.asp" target="_self"&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;ISLAMABAD — Pakistan’s people and politicians have criticised President Asif Ali Zardari’s remarks about Indian threat and Kashmiri rebels.The reaction to Zardari’s perception have, however, surprisingly less strident and aggressive than could be expected in the past.In an interview to Wall Street Journal, Zardari said India has never been nor is a threat to Pakistan and that the Kashmiri rebels are ‘terrorists’. Traditionally such talks would have shocked Pakistanis in general and radicals in particular provoking violent response.The remarks have attracted statements by politicians and editorial comments in a section of the Press. Zardari was accused of falsifying history and betraying the struggle of Kashmiri people who have always been characterised as ‘freedom fighters”. It was pointed out that the two countries fought three wars, two over the status of Kashmir, though current public mood is widely supportive of the ongoing peace processInformation Minister Sherry Rehman issued an explanation that fell short of a clear denial. She said the government is firmly committed to extending moral and diplomatic support to the just cause of Kashmiris for their right of self-determination, which has remained the central position of the Pakistan People’s Party (PPP) for the past 40 years. “While insisting that there is no change in this policy, Rehman said: “The president has never called the legitimate struggle of Kashmiris an expression of terrorism, nor has he downplayed the sufferings of the Kashmiris. All his statements on India should be viewed in the context of Pakistan’s current bilateral relations with that country.Maulana Fazlur Rehman, chairman of the prestigious Kashmir Committee of the Parliament regretted characterisation of Kashmiri militants as terrorists but appreciated the observation that Pakistan does not consider India as a threat. He said he would ask Zardari to take back his words about militants.Fazl who also heads religio-political party and a component of the ruling coalition, the Jamiat-e-Ulema Islam, said Zardari’s remarks about India as no threat to Pakistan, is motivated by sentiments of goodwill that reflects current national outlook of building peaceful ties with India.Asked how would the military establishment react to the statement, Maulana Fazl said that he was not sure but conceded that traditionally every Pakistani soldier is trained on the concept of viewing India as the ‘enemy’.But former ISI chief General (r) Hamid Gul said only a person “living on Mars” could say India has never been a threat to Pakistan.He said India has fought three wars with Pakistan and continues to destabilise it even today.Kashmiri militant and Mujahideen leader Hafiz Saeed accused Zardari of being too dovish towards India and pours salt on the sufferings of the Kashmiri people who have made tremendous sacrifices for freedom.Prominent journalist and secretary general South Asia Free Media Association (SAFMA), Imtiaz Alam, said there is need to effect a paradigm shift in Pakistan’s policy towards India.Alam, whose organisation has played a pioneering role in forging India-Pakistan peace process, welcomed Zardari’s statement that India poses no threat to Pakistan. He, however, noted that Zardari is not very articulate in diplomatic jargon and often generates controversy over his observations. “But his gut sense is right and sharp,” he said.PPP spokesman Farhatullah Babar said Zardari meant that “foreign jihadi militants” who have “sneaked into Kashmir” are to be condemned as terrorists. He said the WSJl writer had read too much into Zardari’s quote, and that the president was talking in generalities about fighting terrorism.“The official position is that we do not allow foreign incursions into Pakistani territory and not support such infiltration in any other,” Babar said.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/information-ministers-explanation-falls.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;3:39 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=6160571236678834759"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=6160571236678834759"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="1638251959354737605"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/123-bush-to-sign-indo-us-nuclear-deal.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;123... Bush to Sign Indo-US Nuclear Deal Bill Today&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgE3CxLV3PS1EkhV_Y_735bXYvLw2av5u6Dm9UvBpHT5RSNTZBPsh-RFw9oQWnUwTL9GHCNmLvQeUuI6xBHRbZr5dJLjjYT5bWCA9r8Y0GMLwNoo9Z3zIS_p4p-E4SvGvP5HQtv-x0u8NN8/s1600-h/bushsignoct4.gif"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.khaleejtimes.com/friend.asp" target="_self"&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;WASHINGTON — President George W. Bush will sign into law on Wednesday the Congressional ratification of the India-US civil nuclear deal to pave the way for the two countries to formally ink the implementing 123 accord.“On Wednesday, at 2:50 p.m. in the East Room, the President will sign the India civil nuclear bill,” White House spokesman Scott Stanzel told reporters travelling with Bush in San Antonio, Texas on Tuesday.Lawmakers, prominent members of the Indian American community, leading businessmen of the two countries besides officials and diplomats, who all played a major role in pushing the deal through before the Congress took a break for the Nov 4 election have been invited for the signing ceremony.Bush is also expected to take care of Indian concerns over a couple of new riders in the legislation that apparently came in the way of US Secretary of State Condoleezza Rice and Indian External Affairs Minister Pranab Mukherjee signing the 123 agreement during her visit to New Delhi over the weekend.Bush would likely seek to allay India’s concerns regarding nuclear fuel assurances, technology transfers foruranium enrichment and reprocessing of spent nuclear fuel with a signing statement as he did over certain “extraneous and prescriptive” provisions in the US enabling law, the Hyde Act in December 2006.US presidents have often used such signing statements to interpret a law the way they choose without taking the extreme step of rejecting a bill outright with a veto. Usually these are quietly listed in the Federal Register recording all executive actions without a public announcement. However, despite the White House announcement of signing ceremony, the State Department was still unwilling to commit when the two countries would formally enter into the 123 agreement to resume nuclear commerce after 30 years. Nor would it comment on the reported Indian concerns.“I don’t know when it will be signed,” spokesman Robert Wood told reporters. But “I’m not aware of any concerns that the Indian Government may have, but I’d refer you to them with regard to any concerns that they might have.”Like Rice, he too attributed the delay in signing the 123 agreement to “just administrative matters.”“We’ve had extensive discussions with the Indians with regard to this agreement and we’ve covered a wide range of areas,” Wood said without elaborating.“I think the fact that we were able to get this agreement done says a lot about what we’ve all gone through in terms of working with Congress, with the Indian Government and with others in the international community to bring thisagreement to fruition,” he said.Denying any hiccups had delayed the signing, Wood said: “Well, it’s — formally, it’s not signed, but let’s be real. I mean, the deal has been reached, and it’s a great deal for both India and the United States.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/123-bush-to-sign-indo-us-nuclear-deal.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;3:35 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=1638251959354737605"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=1638251959354737605"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="2357326695312001759"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/lebanese-singer-najwa-sultan-on-07.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Lebanese singer Najwa Sultan on 07 October 2008 shows the singer herself performing in a concert held in Rotana Beach hotel in Abu Dhabi.&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEirrUbS6iS_y8YkYeRzDEAlf4C2yoH44H_E8j5wZfbHiuFe__4x6leNpOtcIsspH0Vuwlyg-rY3iR8P6x3rOQR_tILReEUzIpKRYDnXyoVxpfLX7AcLx6l2BG_9ARbZpUXf3l2paX4Hk587/s1600-h/shesingeruae.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;An undated handout picture made available by the information office of Lebanese singer Najwa Sultan on 07 October 2008 shows the singer herself performing in a concert held in Rotana Beach hotel in Abu Dhabi.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/lebanese-singer-najwa-sultan-on-07.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;3:31 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=2357326695312001759"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=2357326695312001759"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="4599140262080781146"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/visitors-look-at-model-of-burj-and-mall.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Visitors look at a model of Burj and Mall Dubai complex by property company Emaar during the Cityscape exhibition in Dubai,&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgWnn74rb9w7HOjUjVNb4I9v3Nui6D5ukEj4il74HA3VDmPJ1dqmbzvkQCNBpB4z_a5mCEV8GY4VGylOCzjwnsjbJQZmzpzUgABU4JIBH7_3UjCvcMeUaIroUN6LAx4cl2q5klqPaJpjofu/s1600-h/uaepropertyexhibution.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Visitors look at a model of Burj and Mall Dubai complex by property company Emaar during the Cityscape exhibition in Dubai, United Arab Emirates, on Monday. Cityscape Dubai, in its 7th year, is the largest business-to-business real estate investment and development event in the world. It attracts regional and international investors, property developers, governmental and development authorities, leading architects, designers, consultants and all senior professionals involved in the property industry.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/visitors-look-at-model-of-burj-and-mall.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;3:25 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4599140262080781146"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4599140262080781146"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="6469130398114890747"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/picture-made-available-on-tuesday-shows.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Picture made available on Tuesday shows Emirates singer Remas performing in a scene of her new clip 'Merat Moustafa', which is written by Ahmed Sheta,&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhNkJJeT2pLFuGe7sQduNK2XqtI1Fv9qmpIotDEFfRiD0UgJq1BNj4OE235ezxWuBPDZ2jLCyL_vFLTWDsU1tMPq0xK8No-oeqzsokmqi5vshUaHm652AlhX81KKWu8gNeMj-pYmsyYd5O-/s1600-h/ktpicoct8.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Picture made available on Tuesday shows Emirates singer Remas performing in a scene of her new clip 'Merat Moustafa', which is written by Ahmed Sheta, composed by Hani Farouk and directed by Gamil Gamil Moughazy in Cairo, Egypt.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/picture-made-available-on-tuesday-shows.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;3:23 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=6469130398114890747"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=6469130398114890747"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="312622884095469881"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5313.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;روپے کی قدر میں مسلسل کمی، پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔تحریر: محمد رفیق&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjp6CRKrlO9UxLUuZhuzg79WEqSCQfof3kBHCNtrfNI3PS9S6ssqQaVVZocNeEvRv1_TlVRqHkeIiXutVhvDyTlhbo5gRjEl5LAl2GUEegcCGrv8meWcEgYgnBrAyN2FvlFmNBsjWxSkzU2/s1600-h/pakistanipionscurrency.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgtCwIhyphenhyphenp8yuv60DNUYH8lAonDc0KTIRckf94vp3sKyqLI9wl25TKWBXMqpevros-RR4qOuB0mMxanjvmITaLIcuLdNjWug3S9WHSBrsUzf_o9TmCbYaGLYp-mMkP-TnFd-3VGprJ84zEh1/s1600-h/Mrafiq.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی کے بعد پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تر پہنچ گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈالر روپے کو مسلسل پچھاڑ تے ہوئے 78 کی ریکارڈ ترین سطح سے تجاوزکر گیا ہے، سال رواں کے آغاز سے روپے کی قدر میں 21 فیصد کمی ہوئی ہے۔ا سٹیٹ بنک کے پاس صرف 2 ماہ کی درآمدات کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جبکہ مالی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ ناقابل برداشت جبکہ مہنگائی میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی ہے جو دیوالیہ کی سطح سے تھوڑی سی اوپر ہے۔ سنگا پور میں این آئی بی بنک کے اکانومسٹ ٹم کونڈن نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کو فوری طور پر یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ادائیگیوں میں توازن کے مالیاتی گیپ کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی امید دوست ممالک امریکہ اور سعودی عرب سے وابستہ ہے کہ کیا وہ چھ ماہ کی جمہوری حکومت کو کامیاب اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن ملک کو انتشار کی جانب بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ امریکی مالیاتی فرم کے عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ صرف یہی چیز پاکستان کو بچا سکتی ہے۔ 27ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 8.13 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 690 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ درآمدی بلوں کی ادائیگی کے مستقل دباو ¿ کی وجہ سے حکومت مرکزی بنک سے قرض لینے پر مجبور ہوئی ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک سے قرضہ لینے کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے، اس عرصے میں حکومت نے سٹیٹ بنک سے 2.21 بلین ڈالر کی رقم حاصل کی۔ پاکستانی بنکرز نے سرمائے کی اس مسلسل کمی کو روکنے کیلئے سٹیٹ بنک سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ سینئر بنکر نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ سٹیٹ بنک کو فوری طور پر کچھ کرنا چاہئے ورنہ نظام کی ناکامی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا تسلسل برقرار ،ڈالر اٹھتر روپے چو نسٹھ پیسے کی سطح پر پہنچ گیا ۔ کراچی انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روزڈالر میں خریداری دیکھی جارہی ہے اور کاروبار کے دوران روپے کی قدر میں دس پیسے کی کمی سے ڈالر اٹھتر روپے چالیس پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہورہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈالر اٹھتر روپے پینسٹھ پیسے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے حجم میں کم نہ ہونے کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت آٹھ ارب دس کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ انٹربینک کاروبار کے آغاز پر روپے کے مقابلے میں ڈالر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔اطلاعات کے مطابق، انٹربینک میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر78 روپے80 پیسے کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہورہا ہے۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر30 پیسے اضافے کے ساتھ78 روپے80 پیسے پر ٹریڈ ہورہا ہے۔گزشتہ روزہفتے کے آغاز پرپہلے کاروباری روزا نٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتارچڑھاو دیکھا گیا ،جس کے بعد روپے کی قدر میں13 پیسے کا استحکام دیکھا گیا اور ڈالر78 روپے 35 پیسے پر بند ہوا۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_5313.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;12:56 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=312622884095469881"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=312622884095469881"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="4524953436848440435"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_1443.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور فسادی امریکہ ہے مہنگائی، بد امنی ، دھماکے ، مشرک کی پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔قاضی حسین احمد&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEj7WfCYvAqYs112hyphenhyphenEq4fykLrEZXzgos6LbNCWn_mc9gcMkKPDEHf1-CUntclzkSJMMHxm1lpG_Lkwpc1LOynxXQJdX5jgu_YjE1k6wpl1uUQCCa5aMdKcX_2KsOyNPVsr6-XldKjwYvIVe/s1600-h/QHA600.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;اٹک ( اے پی ایس ) امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کی جڑ امریکی پالیسیاں اور ان کے مسائل کا حل مینارِ پاکستان کے سائے تلے اجتماعِ عام میں بتائیں گے ،حکومت اور فوج امریکی صف میں کھڑے ہیں۔آزادی اور خود مختاری سے ہم محروم ہو چکے ہیں، دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور فسادی امریکہ ہے مہنگائی، بد امنی ، دھماکے ، مشرک کی پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے حکمرانوں کا رویہ انتہائی شرمناک ہے امریکہ سے جان چھڑانی ہو گی 24تا26اکتوبر سہ روزہ اجتماع عام میں ان کا حل بتائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اٹک ریلوے اسٹیشن پر ”۔ٹرین مارچ“ کے استقبالیہ ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کے ہمراہ لیاقت بلوچ، سراج الحق، اور شبیر احمد خان سابق ایم این اے تھے جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں محمد اسلم ، امیر ضلع اٹک، ناصر اقبال خان اور محمد اقبال ملک نے ریلوے اسٹیشن پر ٹرین مارچ کا استقبال کیا قبل ازیں اٹک شہر کے جنرل بس سٹینڈ سے میاں محمد اسلم ایم این اے اور ناصر اقبال خان کی قیادت میں ایک بڑی ریلی نکالی جس نے کچہری چوک، کالج روڈ، پائلٹ سیکنڈری سکول، بلدیہ چوک ، سول بازار، چوک فوارہ، مدنی چوک سے ہوتے ہی ریلوے اسٹیشن تک پہنچی ، قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف حملہ آور ہے ملک میں ہونے والے دھماکے حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں اور دوستی کا نتیجہ ہیں، ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے حکمرانوں کو امریکہ نوا زپالیسیاں ختم کرنا ہونگی ، پاکستانی عوام حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں انہوں نے کہا کہ ان ہی امریکہ نواز پالیسیوں کے باعث ہم اپنے بھائیوں کا با جوڑ ،وزیرستان ، قبائلی علاقہ جات، میں خون بہا رہے ہیں ان علاقوں میں امریکی شہ سے کیا جانا والا آپریشن فوراً بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ فلسطین ، کشمیر، افغانستان، اور عراق کی صورت حال کا ذمہ دار امریکہ ہے کشمیری حق خود ارادیت حاصل کر کے پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں بعد ازاں ٹرین مارچ کا قافلہ حسن ابدال کے لئے رواہو گیا۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_1443.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;12:27 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4524953436848440435"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4524953436848440435"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="4819587078492349278"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_3048.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;غیر ملکی کما نڈروں کی ا فغا نستان میں حالیہ شکست کی ما یوسی پرامریکی وزیر دفاع کا رد عمل&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjgrK7teMZqPnsM66LXkyIQDCRq0hMM0B4oGfm9W3k_SgI9OzvuklkSVpXhkyfi7cle_HdGRcQsT_hOlsw5-zz-DQrZB1qpPKWgw3JJeIOZVGfnPFM-uvV34SqSyrn-gBXn30zfDxg07KRg/s1600-h/USDEFENCEMINPPSIZE.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;واشنگٹن:(اے پی ایس) امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی کمانڈر کے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے طالبان سے بات چیت کرنا پڑے گی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ برطانوی کمانڈر کا یہ کہنا درست نہیں کہ افغانستان کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔افغان صوبے ہلمند میں برطانوی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے حال ہی میں ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ برطانیہ کو افغانستان میں فیصلہ کن جیت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بین الاقوامی فوج افغانستان سے واپس جائے گئی اس وقت بھی ملک میں شورش کی چنگاری سلگتی رہے گی۔ برطانوی کمانڈر کے بیان کے بعد افغانستان میں برسرِ پیکار اتحادی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر رچرڈ بلانشٹ نے بھی کہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں ہے جبکہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی عیدی کا کہنا ہے کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں عسکری لحاظ سے نہیں جیت سکتے اور یہاں فتح کے لیے سیاسی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔ان بیانات پر نیٹو میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع سے ملاقات کے لیے بوڈا پسٹ جاتے ہوئے رابرٹ گیٹس نے دورانِ سفر صحافیوں کو بتایا کہ اگرچہ برطانوی کمانڈر کی جانب سے’فیصلہ کن عسکری فتح‘ کو ناممکن قرار دینا درست نہیں تاہم اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ایسے طالبان سے بات چیت کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو افغان حکومت سے مل کر کام کرنے پر تیار ہوں۔ طالبان سے رابطہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’جو ہم نے عراق میں میں دیکھا وہی افغانستان پر لاگو ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کا ایک حصہ افغان سکیورٹی فورس کو طاقتور بنانا ہے جبکہ دوسرا حصہ ان لوگوں سے مفاہمت کرنا ہے جو افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہیں‘۔ رابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نیٹو ممالک پر زور دیں گے کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجیں۔ اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_3048.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;12:13 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4819587078492349278"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4819587078492349278"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="4063138772705130997"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_08.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;باجوڑایجنسی سے افغان مہاجرین کا انخلا&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiQcYDeYASEI8jl1nR9X65s_27jBhaSjij4sNFnAqds2RmolzLTDO6NfG_LmtJFuwn4L9QroR5-CJlccCiYQ7WHkxMDj5cpkGXa6rhmSNOtJsbX6oqM6TEQzRTIb8_sqE0b__SIVp3Mr9ea/s1600-h/refugee.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;با جوڑ(اے پی ایس) باجوڑایجنسی کی انتظامیہ کی طرف سے ایجنسی میں مقیم افغان مہاجرین کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے دو روز بعد بڑی تعداد میں افغان خاندان سرحد عبور کر کے یا تو افغانستان واپس جارہے ہیں یا پھر دیر کے راستے صوبے سرحد کے شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ منگل کو حکام نے سرکاری احکامات کے خلاف ورزی کرنے والے افغانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 20مہاجرین کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان کی متعدد دکانوں اور گھروں پر تالے بھی لگا دیے۔ حکام نے دو اکتوبر کو افغان مہاجرین کو باجوڑ سے تین دن کے اندر نکلنے کا حکم دیا تھا اور علاقے میں مقیم لگ بھگ ستر ہزار افغانوں کو اس حکم نامے سے آگاہ کرنے کے لیے اردو زبان میں تحریر کیے گئے اشتہارات تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی بھر کی مساجد اور سرکاری گاڑیوں پر نصب لاو ¿ڈ سپیکروں کے ذریعے بھی یہ اعلانات کیے جاتے رہے ۔ انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی متنبہ کیا تھا کہ جن لوگوں کے پاس یہ مہاجرین رہا ئش پذیر ہیں یا جن مقامی لوگوں نے انھیں اپنے مکانات اوردکانیں کرایہ پر دے رکھی ہیں وہ فوری طور پر انھیں خالی کرا کے افغان شہریوں کو علاقہ بدر کرنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ حکام نے مقامی لوگوں اور افغان مہاجرین کو سختی سے متنبہ کیا کہ اگر مقررہ معیاد کے اندر اندر افغان مہاجرین ایجنسی سے نہیں نکلے یا مقامی لوگوں کے پاس پائے گئے تو انتظامیہ افغان مہاجرین اور ان کو پناہ دینے والے مقامی لوگوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی گی۔محتاط اندازوں کے مطابق لگ بھگ چودہ ہزار افغان مہاجرین اب تک ایجنسی سے نکل گئے ہیں جنھوں نے انخلا کے لیے دو مختلف راستے اختیار کیے ایک راستہ صدرمقام خار سے 30 کلومیٹر شمال مغرب کے جانب واقعہ غاخی پاس نامی پاک افغان سرحد اور دوسرا راستہ باجوڑایجنسی اورضلع دیر کے سرحدی علاقہ طور غنڈئی تھا ۔ اطلاعات کے مطابق مالی طور پر کمزور افغان خاندانوں نے وطن واپسی کے لیے غاخی پاس کا راستہ اختیار کیا کیونکہ یہ راستہ ایک تو نزدیک بھی ہے اور سفر کے لحاظ سے سستا بھی لیکن وعینی شاہدین کے مطابق باجوڑایجنسی میں مقیم مخیر افغانیوں نے وطن واپس جانے کی بجائے صوبہ سرحد کے مختلف بندوبستی علاقوں جن میں پشاور، مردان، نوشہرہ ، دیر اورملاکنڈ شامل ہیں کا رخ کیا جس کے لیے انھوں نے طور غنڈئی کا راستہ اختیار کیا ۔ واضح رہے کہ باجوڑایجنسی میں افغان مہاجرین گزشتہ 30 سالوں سے رہائش پذیر ہیں اور دو سال قبل حکومت پاکستان نے UNHCR کے مالی تعاون سے ایجنسی کے مختلف علاقوں میں قائم دس پناہ گزین کیمپوں اور مختلف رہائشی علاقوں میں مقیم قریباً اسی ہزار مہاجرین کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی تھی۔ تاہم افغانستان میں سیکورٹی کی خراب صورت حال کو وجہ بنا کر ان افغانوں کی اکثریت واپس باجوڑ آ کر غیر قانونی طور پر دوبارہ آباد ہو گئی ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ ان افغان باشندوں میں سے بیشتر لوگ باجوڑ ایجنسی میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ساتھ قریبی رابطے ہیں۔ بیشتر افغان مہاجرین نے انتظامیہ کے طرف سے دی گئی میعاد کو انتہائی کم قرار دیا ہے جبکہ زیادہ تر نے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ انہیں وطن واپس جانے کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے اور انہیں مناسب خرچہ بھی دیا جائے ۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج باجوڑ میں اگست کے اوائل سے ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے جس کا مقصد علاقے سے مقامی اور غیر ملکی جنگجووں کا خاتمہ ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ علاقے سے ہجرت کرکے صوبہ سرحد کے شہروں اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر بھی مجبور ہوئے ۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_08.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;12:00 AM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4063138772705130997"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4063138772705130997"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Tuesday, October 7, 2008&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a name="1005047586294062675"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_428.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;امریکہ تائیوان کو ہتھیار نہ دے: چین کا انتباہ&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgVfdsUF8DmV_9ALsuNosvxhEVUsMIEBMRNYqXPdoL2PdkZqWAe9W0hfkExEBklgzf1u4_CiJcAsCkfc5KLBuuIwLEdpHOO5v2XgoYC5qJel7bMiO-7BhBAmvrgK1v3pGW9X8b6jfYkj4z8/s1600-h/USTAIWANTANK.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;اسلام آباد (اے پی ایس) چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیار بیچنے کے فیصلے سے چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب ہوں گے۔ چین کے وزیر ِ خارجہ نے امریکہ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے کہ وہ تائیوان کے ہاتھ فوجی سازوسامان فروخت کرے گا۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے۔امریکی محکمہ دفاع نے گذشتہ ہفتے کروڑوں ڈالر کے میزائل، ہیلی کاپٹر اور دوسرا فوجی سامان تائیوان کو فروخت کرنے کے منظوری دی تھی۔امریکی اور تائیوانی قانون سازوں نے ابھی اس کی منظوری نہیں دی تاہم چینی حکام نے فوری طور پر اس کی مذمت بھی کر دی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان قِن گیَنگ نے کہا کہ اس اقدام سے چین کی سلامتی کو خطرہ ہے اور یہ امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات پر نہایت برا اثر مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے نتائج خطرناک ہوں گے اور امریکہ کے اس اقدام سے چین امریکہ تعلقات کے ہر پہلو کو نقصان ہوگا۔چین نے سینکڑوں میزائلوں کا رخ تائیوان کی طرف کر رکھا ہے اور اس نے عہد کیا ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اس جزیرہ کو چین کا حصہ بنا کر رہے گا، خواہ اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دونوں مملکتوں میں علاحدگی اسوقت ہوئی جب1949 ء میں چین میں کمیونسٹوں نے خانہ جنگی میں فتح حاصل کی تو قوم پرست جماعتوں نے بھاگ کر تائیوان میں پناہ لی تھی۔امریکی قانون کے مطابق حکومت کو اختیار ہے کہ وہ تائیوان کے ہاتھ فوجی ہتھیار فروخت کرے۔ پینٹگان کا کہنا ہے کہ مجوّزہ منصوبہ قانون کے عین مطابق ہے۔اے پی ایس&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_428.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;11:49 PM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=1005047586294062675"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=1005047586294062675"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="8394676520398651532"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/in-camera-joint-sitting-to-discuss.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;In-camera joint sitting to discuss security, counter terrorism measures&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjJdwBav1jHpYkJM2I1vYUmTTIoduvd8IHKo4fMSt_p8Ti8T4CPCAosYGu7Bnbw-c5wulQ86uOn6VMbJt-AJqp6cB1AW3l3y13sTZSNoVRREn5gpY2DnSxVH9aOftg7IlFMygubgbUDF4zj/s1600-h/parliment.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a title="PDF" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;do_pdf=1&amp;amp;id=54884','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=640,height=480,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;do_pdf=1&amp;amp;id=54884" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;a title="Print" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=view&amp;amp;id=54884&amp;amp;pop=1&amp;amp;page=0&amp;amp;Itemid=1','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=640,height=480,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=view&amp;amp;id=54884&amp;amp;pop=1&amp;amp;page=0&amp;amp;Itemid=1" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;a title="E-mail" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=emailform&amp;amp;id=54884&amp;amp;itemid=1','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=400,height=250,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=emailform&amp;amp;id=54884&amp;amp;itemid=1" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;ISLAMABAD: An in-camera joint sitting of both houses of the parliament will be held at National Assembly hall on Wednesday to discuss the current security situation in the country and to devise a consensus strategy to counter the scourge of terrorism. President Asif Zardari, on the recommendation of the Prime Minister has called the session at 5 p.m.The army, security and law enforcing agencies will brief the parliamentarians about the prevailing security, law and order situation and rise in suicide attacks over the past 12 months.The army and security agencies representatives will take into confidence the public representatives on the measures to be taken to counter these threats in the greater national interest.Sources said the session will be very exhaustive in which there will be an open debate on the security threats to Pakistan and some pointed questions will be asked by the parliamentarians.The army will explain the need for operation in the tribal areas and how long they will take to conclude.The army will also apprise of the steps being taken to reduce the civilian casualties, and to win the hearts and minds of the people.Parliament sources said that the in-camera session will provide the parliamentarians all the necessary inside information required to understand the issue in its entirety.The sources also said that Director General Military Operation will speak on behalf of the army.Meanwhile, it was learnt that speaker National Assembly will chair the House Business Advisory Committee meeting prior to the start of the session.Leaders of all the political parties will attend the meeting in which they will chalk out the strategy for the session.The speaker has also sent invitation to all the political forces, not represented inside the parliament to make the session a true representative of the public aspirations.Deputy Speaker of the National Assembly Faisal Karim Kundi said that since it was an in-camera session, no one will be allowed to witness the proceedings, including the journalists.He said there will be no guests or special invitees for the session, except for those who will brief the parliamentarians.He said the employees of the parliament have also been barred from entering the premises on Wednesday.Replying to a question he said after the conclusion of the sitting, a press release will be issued and there will be no briefing for the media as it is an in-camera session.Meanwhile the local administration has put in place tight security around the Parliament House. All the vehicles entering Constitution Avenue will be subjected to thorough search by the law enforcing personnel.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/in-camera-joint-sitting-to-discuss.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;11:43 PM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=8394676520398651532"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=8394676520398651532"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="4878896224802160927"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/three-blasts-occur-in-garhi-shahu.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Three blasts occur in Garhi Shahu&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhjnNy4AdgUiyW9wHr7vMejRE5moNirNFvS-DpiYIdRexYdXaPGa2OnE48T746Um5LIE8mv8YXL4jYyHan9CEQIH2Je0Gp8uYxvUd0KjbZiWsCHm7vmOsei5iINYIOOtTbJYPmp_PdaXuRJ/s1600-h/lahoreshahifort.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a title="PDF" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;do_pdf=1&amp;amp;id=54939','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=640,height=480,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;do_pdf=1&amp;amp;id=54939" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;a title="Print" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=view&amp;amp;id=54939&amp;amp;pop=1&amp;amp;page=0&amp;amp;Itemid=1','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=640,height=480,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=view&amp;amp;id=54939&amp;amp;pop=1&amp;amp;page=0&amp;amp;Itemid=1" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;a title="E-mail" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=emailform&amp;amp;id=54939&amp;amp;itemid=1','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=400,height=250,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=emailform&amp;amp;id=54939&amp;amp;itemid=1" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;LAHORE:Five persons were injured in three blasts which occurred in Garhi Shahu area while a vehicle of Bomb Disposal Squad (BDS) was also damaged. Police and Bomb Disposal Squad (BDS) sources told news agency that all three blasts occurred within 25 minutes.However, the sources could not confirm the types of explosives used for blasts.SSP Operation Lahore Ch Shafiq said that five persons suffered minor injuries in the blasts which were of low intensity.Police and other rescue teams reached the spot and cordoned off the area.&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/three-blasts-occur-in-garhi-shahu.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;11:32 PM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4878896224802160927"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=4878896224802160927"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="1327162474711354927"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/naqsh-e-sani-poetic-collection-of-athar.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;"NAQSH-E-SANI" POETIC COLLECTION OF ATHAR QAYYUM RAJA LAUNCED&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhZ7Ey1k_lHdXze1dqTVT-fVk2bV5QAn4CSekOFaJzZy-TKZVcnyAgiXCY6wQFf6TXTO6Xdftt0WYZ-nK79gSHMHm0hlhwEhLPNNa5WFZUL4eH-8qQdy3KeLHA7WA4OgDGW-t7TUrr20DiW/s1600-h/rajaqayyumpid.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgVoGEcJ8ILI7yQsVzuWY4SC2K_G3eYOkNInoMNPh5RTXVw9Z8i2ncLK2AFJjOhoCAELbcfCQjAZAHfbSa9PLWC54B0JF2E0HdaH9yakwPSAoLwwMZatypGGYXS3UmAWA1alMECw8ccpMiu/s1600-h/rajaqayyumpid2.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/naqsh-e-sani-poetic-collection-of-athar.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;11:28 PM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=1327162474711354927"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=1327162474711354927"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a name="875666272129262070"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_07.html"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;عید&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgBHUMTAoySNG2DAzHXq65uUg4HeUPSCXKEM0M9j-yqcwFg7W5PVw-5d67AFg9F9GcaoY5YzU7LVp8duMcxYKA_nZz4DJdw3bfAcOVMr5661q5NyiGPK1Fg-cfdMLiJknhhvd-L3oVSVZek/s1600-h/TazeenAkhtar.gif"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;یکم اکتوبر کوملکی تاریخ میں طویل عرصہ بعد پہلی بار پاکستانیوں نے ایک قوم ہونے کا مظاہرہ کیا جب ملک بھر میں ایک عید منائی گی۔بظاہر یہ بہت اچھی بات ہے مگر لوگوں کا ماننا ہے کہ اصل میں بات کچھ اور ہے اور وہ بالکل اچھی نہیں ہے۔ملکی تاریخ میں طویل عرصے بعد متفقہ عید ہی نہیں منائی گئی بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ چاند نظر آنے کا اعلان بھی آدھی رات کے قریب جا کر کیا گیا تب تک تمام میڈیا بتا رہا تھا کہ چاند نظر آنے کی شہادتیں نہیں ملیں، اس سے ایک روز قبل 28رمضان کو ماہرین فلکیات کہہ چکے تھے کہ 29رمضان کو چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں، سارا الیکٹرانک میڈیا اگلے روز ہی بتا رہا تھا کہ ملک کے اکثر علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادت نہیں ملی ہم یہ خبریں سن کر گھر سے مارکیٹ کی طرف نکل گئے۔ذہن بن چکا تھا کہ صبح روزہ ہے اور عید پرسوں ہے لہٰذا کوئی ایمرجنسی نہیں، نہ خریداری کی، نہ پیکنگ کی، نہ آبائی علاقے کو روانگی کی، مارکیٹ پہنچنے سے پہلے ہی ایس ایم ایس بھی آ گیا۔”محترمہ(........)صاحبہ کا سوٹ سل کر نہیں آیا، اس لئے عید کل نہیں پرسوں ہو گی“خیر یہ تو ایک سیاسی لطیفہ تھا جو حکومت کے مخالفوں نے گھڑ کر چلا دیا، اس لئے ہم محترمہ کا نام حذف کر رہے ہیں تاہم لطیفے کے اس حصے سے ہم بھی متفق ہو چکے تھے کہ عید کل نہیں پرسوں ہو گی مگر جونہی ہم مارکیٹ پہنچے تو چاند نظر آ چکا تھا اور صبح عید کا اعلان بھی ہو چکا تھا، ہماری طرح پوری قوم کیلئے یہ ایک غیر متوقع اعلان تھا، کوئی بھی اس کیلئے ذہنی طور پر تیار نہ تھا۔مذکورہ بالا تمام پس منظر میں یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ یہ ایک ”انجیئرڈ فیصلہ“ تھافطری یا قدرتی نہیں، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح عید کے اعلان میں حکومت کے کیا مقاصد کارفرما تھے؟انجیئرڈ عیدیں پہلے بھی منائی جاتی رہی ہیں، اس ملک میں جمعہ کی عید سے بچنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کیونکہ ایسا مانا جاتا ہے کہ ایک دن میں دو خطبے حکمران پر بھاری ہو سکتے ہیں مگر یہ فیصلہ اس لئے منفرد ٹھہرا کہ کم از کم ہماری یادداشت میں ایسی کوئی عید نہیں گزری جس کا اعلان آدھی رات کے قریب کیا گیا ہو اس لئے ہم حق بجانب ہیں کہ یکم اکتوبر کی عید انجیئرڈ تھی، نیچرل نہیں، اب آتے ہیں حکومت کے مقاصد کی طرف، ہماری رائے میں اس سے دو فوائد حاصل کئے گئے۔(1)حکومت کی پہلی عید متفقہ ہوئی، موجودہ سیٹ اپ کے قیام کے بعد جو پہلی عید آئی وہ پوری قوم نے ایک ساتھ منائی، گویا قومی مصالحت و موافقت(اتفاق رائے)کا جو پرچار حکمران پچھلے کئی مہینوں سے کر رہے تھے عید پر اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آ گیا عید جو امت مسلمہ کیلئے مقدس، متبرک اور پرمسرت ترین دین ہے یہ اہم ترین دن پوری قوم ایک ساتھ منا رہی تھی، حکومت کو اس کا کریڈٹ نہ دیا جائے تو بھی اس کی Good Willمیں اضافہ ضرور ہوا، ایسا تاثر ضرور ابھر آیا کہ موجودہ حکومت کی وجہ سے ملک میں یہ برکت ہوئی کہ قوم نے متفقہ عید منائی، امریکہ اور آرمی تو حکومت کے ساتھ تھے ہی، اللہ کی بھی تائید حاصل ہونے کا ماحول بن گیا۔(2)قومی یا شرعی حوالے سے اہم دن حکومتوں کیلئے بڑے بھاری ہوتے ہیں، خاص طور پر جب حالات بھی ایسے جا رہے ہوں جیسے کہ آج کل ہیں، 14اگست ہو، محرم یا عیدین، حکومت کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کہیں کوئی دہشتگردی نہ ہو جائے، یکم اکتوبر کی عید خیر خیریت سے گزر گئی، یہ انہونی کیوں کر ہوئی، جب 28رمضان سے29رمضان کی آدھی رات تک ایسی خبریں آ رہی تھیں کہ چاند نظر آنے کا امکان نہیں، شہادتیں نہیں ملیں تو بچے بچے کے ذہن میں یہی تھا کہ روزے30ہوں گے اور عید 2اکتوبر کو ہو گی لہٰذا جس جس نے عید کی جو جو تیاری کرنا تھی وہ یکم اکتوبر یعنی30رمضان تک اٹھا رکھی جس نے کپڑے لینے تھے اس نے بھی اور جس نے بم پھوڑنے تھے اس نے بھی، یہاں حکومت نے دہشتگردوں کے ساتھ ہاتھ کیا اور آدھی رات کو اگلی صبح عید کا اعلان کر کے دہشتگردوں کیلئے تیاری کا وقت انتہائی تنگ کر کے رکھ دیا چند گھنٹے کے اندر منصوبہ بندی، روانگی، تنصیب اور تکمیل تک کے مختلف مراحل طے کرنا ممکن نہ تھا لہٰذا دہشتگرد ہاتھ ملتے رہ گئے اور عید امن سے گزر گئی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگرد بھی بڑے سیانے ہیں، عیدیں 29روزوں کے بعد بھی ہوتی رہی ہیں اور 30کے بعد بھی، وہ دونوں امکانات سامنے رکھ کر دونوں دونوں پر واردات کی تیاری کر سکتے تھے لہٰذانمبر 2پر جو نکتہ اٹھایا گیاہے ضروری نہیں کہ اس میں وزن ہو مگر تھوڑا غور کرنے سے اس کا جواب بھی مل جاتا ہے، پہلی بات یہ ہے کہ اگر عید دو اکتوبر کو ہوتی تو یکم اکتوبر کے روز دہشتگرد اپنے وسائل دائو پر نہیں لگاتے وہ خاص دن ہی کونشانہ بنائیںگے اور اس سے ایک روز پہلے اپنی توانائیاں مجتمع کریں گے، صرف نہیں کریں گے۔ مزید یہ کہ اگر ایک روزپہلے وہ واردات کرگزریں تو خاص دن کو کچھ نہیں کر پائیں گے کیونکہ ساری ریاستی مشینری خبردار ہو چکی ہو گی اور کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدان میں اتر چکی ہو گی، تب کامیابی کے امکانات بہت کم اور ناکامی کے خطرات بہت زیادہ ہوں گے ویسے بھی آج کل جتنی چیکنگ ہو رہی ہے اس میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی خودکش حملہ آور یا بارود سے بھرا ٹرک زیادہ دیر نظروں سے اوجھل رہ جائے اس کا عملی مظاہرہ ہم خود دیکھ بلکہ بھگت چکے ہیں جب اسلام آباد کی راحت بیکرز پر ابھی ہمیں صرف ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا گاڑی کھڑی کئے ہوئے کہ دو فرض شناس پولیس والوں نے آ کر اس کی تلاشی لے ڈاتی، ہم نے ان سے دریافت کیا کہ بھائی تلاشی لے لو مگر اطلاع کیلئے اتنا بتا دو کہ ہماری کس بات یا حرکت سے ہم مشکوک قرار پائے تاکہ آئندہ اس سے پرہیز کر سکیں اس پر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ آپ کی گاڑی کافی دیر سے یہاں کھڑی تھی، مقصد کہنے کا یہ ہے کہ دہشتگردوں کو مختصر وقت میں کمین گاہ سے چل کر جلد از جلد ٹارگٹ کو ہٹ کرنا ہوتاہے اس سے پہلے کہ چیک کر لیا اور پکڑ لیا جائے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بات ولی باغ خودکش دھماکے سے ثابت بھی ہو گئی یہ حملہ کب ہوا؟2اکتوبر کو اگر29رمضان کی آدھی رات عید کا اعلان نہ ہوتا تو عید کب ہوتی؟2اکتوبر کو اس سے ایک اور بڑی دلچسپ بات بن جاتی ہے حکومت نے عید کی تاریخ بدل کر عید کے ساتھ ساتھ ساکھ بھی بچا لی اور دہشتگردوں نے دو اکتوبر کو اسفند یار ولی کے حجرے کو نشانہ بنا کر واضح کر دیا کہ وہ عید کے روز واردات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، دونوں کا کام ہو گیا۔کیسا ہے؟اب آتے ہیں درمیان والوں کی طرف، معاف کیجئے درمیان والوں سے مراد تیسری دنیا نہیں بے چارے عوام ہیں، اپنا اپنا کام تو ”رِٹ“والوںنے بھی کر لیا اور ”رَٹ“والوں نے بھی مگر عام آدمی دونوں کی چکی میں پس کر رہ گیا خوار الگ ہوا اورگناہ گار الگ، آئیے جائزہ لیتے ہیں حکومت کو جس کام سے دو فائدے ہوئے اس سے عوام کو کتنے نقصانات ہوئے۔(1)عیدکاچاند نظر آنے کی جو خوشی ہوتی ہے اس بار عوام اس سے محروم رہ گئے، ان سے یہ خوشی بھی چھین لی گئی، آدھی رات کو اعلان ہونے پر عوام خوش کم اور حیران پریشان زیادہ ہوئے۔(2)چاند رات غائب ہو گئی، ہمارے ہاں اکثر لوگ چاند رات کو بھی بڑے جوش و جذبے سے مناتے ہیں اور اسی رات خریداری کرتے ہیں، آدھی رات کو اعلان ہوا تو چاند رات کوئی خاک مناتا اور بچوں کو لے کر خریداری کرنے کیسے جاتا؟(3)دیہات اور چھوٹے شہروں و قصبوں سے بڑے شہروں میں آ کر ملازمت و کاروبار کرنے والوں کی اکثریت اپنے گھر والوں کے پاس نہیں پہنچ سکی اور جو تھوڑے بہت پہنچ سکے وہ بھی بس اڈوں پر ذلیل و خوار ہو کر ہی نہیں بلیک میل ہو کر بھی، ٹرانسپورٹروں نے منہ مانگے کرائے وصول کئے اورسیٹ بھی نہیں دی، ڈنڈے سے لٹکا کر یا پائدان پر چڑھا کر اس حالت میں گھر پہنچایا کہ جیسے بھیڑ بکریاں مذبح خانے لے جائی جا رہی ہوں۔(4)چونکہ اکثر پردیسی گھر نہیں پہنچ سکے اس لئے بہت سے بچے عیدی سے محروم رہ گئے۔(5)ایک روزہ کم کر کے اور غلط دن عید ڈیکلیئر کرنے والے خود تو گناہ گار ہوئے ہی ساتھ ہی کروڑوں مسلمانوں کو بھی گناہ گار کر دیا یہ الگ بات ہے کہ اس کی ذمہ داری اعلان کرنے والوں کے سر ہے۔(6)اکثر توگوں نے بوجھل دل کے ساتھ بلکہ بادل نخواستہ عید کی کیونکہ ان کو یقین ہی نہیں آ سکا کہ آج واقعی عید ہے۔لہٰذا ہم اس حد تک تو حکومت سے متفق ہیں کہ اس روز پوری قوم ایک تھی، اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ کس پر ایک تھی، حکومت کے نزدیک متفقہ و مشترکہ عنصر یہ تھا کہ پوری قوم ایک ساتھ عید منا رہی ہے ہماری رائے میں متفقہ و مشترکہ عنصر وہ بوجھ تھا جو ہر بندہ دل پر لے کر عید منا نہیں نمٹا رہا تھا۔ان دونوں آراءسے ہٹ کر ایک رائے اپوزیشن والوں کی بھی ہے اور واقعی ذرا نہیں کافی ہٹ کے ہے، حزب مخالف کے ایک بزلہ مسخ دوست کی رائے یہ ہے کہ ”29رمضان کو چاند نظر آنے یا نہ آنے کی بحث ہی فضول ہے کیونکہ چاند تو اس سے بھی کئی روز پہلے نظر آ چکا تھا، ہمارے صدر صاحب کو، جب وہ امریکہ میں سارہ پالن سے ملے تھے“ ہمارا اس پر کوئی تبصرہ نہیں۔&lt;br /&gt;Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at &lt;/span&gt;&lt;a class="timestamp-link" title="permanent link" href="http://apsnewsagency.blogspot.com/2008/10/blog-post_07.html" rel="bookmark"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;6:11 PM&lt;/span&gt;&lt;/a&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt; &lt;/span&gt;&lt;a class="comment-link" onclick="" href="http://www.blogger.com/comment.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=875666272129262070"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;0 comments&lt;/span&gt;&lt;/a&gt; &lt;a title="Edit Post" href="http://www.blogger.com/post-edit.g?blogID=8405748449877402589&amp;amp;postID=875666272129262070"&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>سمجھ دار، ویلر ڈیلر،بہادر اور جمہوریت پسندصدر آصف زرداری۔ تحریر : چودھری احسن پریمی۔ اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_6711.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Wed, 1 Oct 2008 00:52:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-553718497882480448</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiihsfbYoda9-zz1apNeB6EnwGfTjYfEc1IUHUJ0ACehewA2KbfiUOX2sU0usCd5KRCW32qLyMtPWgmR3ypPYEj-WChzE7t8uTYbJzB6EPFnUWiJ8TznNRg7epKiVrGcO22IPMjdJoy0Dk/s1600-h/asifali.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251889758053257618" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiihsfbYoda9-zz1apNeB6EnwGfTjYfEc1IUHUJ0ACehewA2KbfiUOX2sU0usCd5KRCW32qLyMtPWgmR3ypPYEj-WChzE7t8uTYbJzB6EPFnUWiJ8TznNRg7epKiVrGcO22IPMjdJoy0Dk/s400/asifali.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے نو متنخب صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طالبان ایک کینسر ہیں اور اس سے ملک کو پاک کر کے دم لیں گے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ میرا فیصلہ ہے کہ ہم ان (طالبان) کا پیچھا کریں گے، اور ملک سے ان کو صاف کریں گے۔‘آصف علی زرداری نے طالبان کے خلاف کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میری اولین ترجیح ہے کیونکہ دوسری صورت میں ملک نہیں رہے گا تو میں کس کا صدر ہوں گا۔‘ آصف علی زرداری سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اس لیے طالبان کے خلاف ہیں کہ انہوں نے ان کی بیوی کو ہلاک کیا تھا تو انہوں نے کہا ’بالکل، یہ میرا بدلہ ہے جو میں ہر روز لیتا ہوں۔ پاکستان کے اندر مزید امریکی فوجی کارروائیاں نہیں ہونی چاہیں اس سے منفی اثر پڑے گا اور اس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑے گی طالبان پاکستان کے معاشرے کے لیے ایک کینسر ہیں وہ ان کے خلاف صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے بینظر بھٹو کو ہلاک کیا تھا۔ آصف زرداری نے مزید کہا ہے کہ طالبان نے ان کے بچوں سے ان کی ماں کو چھین لیا۔ وہ ان سے آکسیجن چھین لیں گے تاکہ ملک میں کوئی طالبان باقی نہ رہے۔ ایک سوال پر کہ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا تو آصف زرداری نے کہا کہ انہیں تشویش ضرور ہے لیکن خوف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے سامنے ایک مقصد ہے۔ زرداری نے آئی ایس آئی کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ ’یہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہم اسے حل کر لیں گے۔‘ آصف زرداری نے کہا کہ وہ مشرف کی طرح دوغلی پالیسی نہیں اپنائیں گے۔ انہوں نے اس جگہ انگریزی زبان کا ایک محاورہ بھی استعمال کیا جس کا لفظی ترجمہ ہے کہ شکاری کتے کے ساتھ شکار کرو اور خرگوش کے ساتھ بھاگتے رہو۔ اخبار کے مطابق آصف علی زرداری نے نیویارک میں اپنے قیام کے دوران امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات بھی کی۔ جس کے بعد میں پتہ چلا کہ آئی ایس آئی کے تین ڈاریکٹوریٹس کے سربراہان کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔آصف زرداری پر سیاسی بنیادوں پر بھی مقدمات قائم کیئے جا تے رہے ہیں ۔آصف علی زرداری نے کہا کہ جو بھی ان کی حکومت کے ساتھ نہیں چلے گا وہ اس کو باہر کر دیں گے۔آصف علی زرداری نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ پاکستانی فوجیوں کی دہشت گردی کے خلاف خصوصی تربیت کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ وہ امریکی ماہرین کی زیر نگرانی پاکستان کے فوجیوں کی مناسب تریبت کرانا چاہتے ہیں۔لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے اندر مزید امریکی فوجی کارروائیاں نہیں ہونی چاہیں اس سے منفی اثر پڑے گا اور اس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑے گی قبائلی علاقوں میں وہ صنعتیں لگانا چاہتے ہیں، پوست کی جگہ لوگوں کو متبادل فصلیں کاشت کرنے پر راغب کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرنا چاہتے ہیں کہ ہم طالبان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں اور ان کو کوئی پناہ گاہ فراہم نہ کی جائے۔ قبائلی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کسی نے ان پہاڑوں سے افغانستان اور انڈیا کے درمیان بغیر پیسے دیئے یا انڈیا سے لوٹے ہوئے مالِ غنیمت میں سے حصہ دیئے سفر نہیں کیا ہے۔ آصف علی زرادری نے ملک کے معاشی بحران پر بات کرتے ہوئے سعودی عرب سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے تیل کی درآمد پر ہونے والے پندرہ بلین ڈالر کم کرنے میں مدد کریں اور جمہوری پاکستان کو کم نرخوں پر تیل فراہم کریں۔ انہوں نے فرانس سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے اور امریکہ سے ہر اس ملک سے جو مدد کرنے کی استاعت رکھتا ہے پاکستان کی مدد کرنے کی بات کرنے کی درخواست کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے نمائندے راجر کوہن جنہوں نے یہ انٹرویو کیا زرداری کے بارے میں اپنے تاثرات لکھتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے زرداری کو ایک ’سٹریٹ سمارٹ‘ یعنی چالاک یا سمجھ دار، ’ویلر ڈیلر‘ یا سودے باز، ’سیکولر‘، امریکہ نواز، جمہوریت پسند اور بہادر شخص پایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ (زرداری) افغانستان اور بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنے میں انتہائی سنجیدہ ہے۔فوج کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں ایک سوال پر زرداری نے کہا کہ پاکستان فوج کے جرنیل ایک دور سے گزرے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کی کیا اہمیت ہے۔ بینظیر بھٹو کے انتقام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں کسی سے جنگ کا شوق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں برداشت کی قوت ہے۔ ان کی سب سے بڑی قوت تکلیف برداشت کرنے میں ہے۔ زرداری نے کہا کہ وہ تکلیف دینے پر یقین نہیں رکھتے بلکے تکلیف جھیلنے یا برداشت کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے کہ جو سب سے زیادہ تکلیف برادشت کر سکتا ہے وہ ہی بہادر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسی لیے عورت کو زیادہ بہادر اور طاقت ور سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ آصف زرداری سے گذارش ہے کہ آپ نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں جو عزم کیا ہے۔وہ اپنی جگہ لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ قبائلی علاقوں میں ایسے افراد کے خلاف کا روائی کی جا ئے جن کے سرحد پار رابطے ہیں اور جو امریکیوں کی ہی بی ٹیم ہیں نہ کہ ان کے نام پر معصوم پا کستا نیوں کا قتل عام شروع ہو کیو نکہ آپ طا لبان کو کینسر جیسی موذی مرض سمجھ رہے ہیں کہیں اگر کو ئی غلط نشا نے سے اگر پا کستا نیوں کی جان جا تی رہی تو عوام یہی سمجھیں گے کہ حکمران عوام کیلئے ایک کینسر ہے اور وہ اس کے تدارک کیلئے کسی اور علاج کی طرف نہ چل نکلیں۔جبکہ امریکہ نے پاکستان کی آزادی اور علاقائی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ یہ بات واشنگٹن میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سٹریٹیجک مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے جو وزارت خارجہ نے گذشتہ منگل کے روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کو جاری کیا ہے۔مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے کی ہے ۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں نے پختہ، طویل المعیاد اور کثیر الجہتی اشتراک قائم کرنے کا عزم دہرایا اور پاکستان سمیت پورے خطے میں امن، سلامتی ، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا اعادہ کیا ہے۔مذاکرات میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کو دنیا بھر کے لیے خطر ہ قرار دیا گیا اور امریکہ نے کہا کہ وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو تربیت اور سازوسامان فراہم کرے گا۔دونوں ملکوں نے 20ستمبر کو اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی اور اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی۔ دونوں ملکوں کے حکام نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ترقی اور انہیں جدید طرز پر لانے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔ پاکستان اور امریکہ نے زراعت ،تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی اور اقتصادی میدان سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کا عزم کیا ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے اور خوراک کی سیکیورٹی کو بڑھانے میں مدد دینے کا بھی یقین دلایا۔ پاکستان نے ”فرینڈز آف پاکستان“ کے اجلاس کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے اسے آئندہ سالوں کے دوران چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔امریکہ نے پاکستان کی معیشت کو استحکام بخشنے کے حوالے سے حکومت کے مرتب کردہ اصلاحی اقدامات اور ان کے نفاذ کی حمایت کی۔ اجلاس میں طے پایا ہے کہ توانائی اور تعلیم کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اس سال کے آخر میں ہوں گے۔پاکستان نے سیلاب زدگان اور قبائلی علاقے باجوڑ میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے امریکہ کی طرف سے 40لاکھ ڈالر کی امداد پر شکریہ ادا کیا ۔ امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات اور جرگے کے عمل کی بحالی کے علاوہ اس سال کے آخر میں اسلام آباد میں علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس منعقد کرنے کے عزم کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے وہاں Reconstruction Opportunity Zonesقائم کرنے کاعزم دہرایااور کہا کہ اس حوالے سے کانگریس میں قانون سازی کی منظوری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ملکوں کے حکام نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اے پی ایس&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiihsfbYoda9-zz1apNeB6EnwGfTjYfEc1IUHUJ0ACehewA2KbfiUOX2sU0usCd5KRCW32qLyMtPWgmR3ypPYEj-WChzE7t8uTYbJzB6EPFnUWiJ8TznNRg7epKiVrGcO22IPMjdJoy0Dk/s72-c/asifali.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>عید پر وفاقی دارلحکومت میں آٹے کا بحران،حکمرانوں کی ناقص کاردگی پر عوامی غصے کی لہر</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_286.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Tue, 30 Sep 2008 22:58:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-636075506585098243</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiiNtBNpy89JE-qliOc4dzXL5Yubz7TCPXoFjNG5vfeTAQkghmGT6OdgLhABgJ3cCtbhLkHtD_Rm_q49NmxuY-R2Xwok8gdlaWNSz-L1sOLxqK3jSMq7-zyju9vGpmzkeoC2AZAIP0qcow/s1600-h/journalistpmsep24.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251860432807274674" style="FLOAT: right; MARGIN: 0px 0px 10px 10px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiiNtBNpy89JE-qliOc4dzXL5Yubz7TCPXoFjNG5vfeTAQkghmGT6OdgLhABgJ3cCtbhLkHtD_Rm_q49NmxuY-R2Xwok8gdlaWNSz-L1sOLxqK3jSMq7-zyju9vGpmzkeoC2AZAIP0qcow/s320/journalistpmsep24.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg607uOKDi88VIMHnUEYxyMG1A4wD46lnnqi8CbQKxyrGPL9ywwETtBirsdMXXG-LvJMr-vMLmBf9MERsmRdri5wshwFZaijULpSeJg4EvW0bm5Eb7BBEgbjPA6FY6eaD-a3j2Lqpolkj8/s1600-h/asifali.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251860233544149810" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg607uOKDi88VIMHnUEYxyMG1A4wD46lnnqi8CbQKxyrGPL9ywwETtBirsdMXXG-LvJMr-vMLmBf9MERsmRdri5wshwFZaijULpSeJg4EvW0bm5Eb7BBEgbjPA6FY6eaD-a3j2Lqpolkj8/s400/asifali.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد (اے پی ایس) حکومتی نام نہاد دعوئوں کے با وجود عید الفطر پر و فاقی دارالحکومت کی تمام ما ر کیٹوں میں آ ٹے کی قلت کی و جہ سے اسلام آباد کے شہریوں کو سخت پر یشانی کا سا منا ہے۔ متعلقہ ذمہ دار حکام کی ناقص کا ردگی پر اسلام آباد کے شہریوں میں سخت غصے کی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔مارکیٹوں میں آٹے کی قلت کی وجہ سے لوگوں نے غصے میں موجودہ حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر وہ عوام کو بنیادی سہو لتوں اور روز مرہ کی اشیاءکی فراہمی کو یقینی نہیں بنا سکتی تو اقتدار سے الگ ہو جا ئیں۔جبکہ بعض افراد نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی اگر ذرا بھر بھی کوئی عوامی ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں تو عید پڑھنے سے قبل اسلام آباد کی ما ر کیٹوں میں آٹے کی دستیابی کو یقینی بنا ئیں ورنہ آپ کا عید پڑھنا بے کار ہے کیونکہ جس رعایا کے آپ حکمران ہیں عید پر اس رعیت کے چولہے بجھے ہوئے ہیں۔اے پی ایس&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiiNtBNpy89JE-qliOc4dzXL5Yubz7TCPXoFjNG5vfeTAQkghmGT6OdgLhABgJ3cCtbhLkHtD_Rm_q49NmxuY-R2Xwok8gdlaWNSz-L1sOLxqK3jSMq7-zyju9vGpmzkeoC2AZAIP0qcow/s72-c/journalistpmsep24.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>ملک دشمنوں کا ناپاک عزائم ایجنڈا تیز ترین رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تحریر: چودھری احسن پر یمی اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_8558.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Tue, 30 Sep 2008 19:11:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-7401223211768362150</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgZ2OrjGZ7UQFkbHraac9Dctf500hS6czFR4-c8Y0Ra64DwSVLZy5bZFCO5I52OkDa2ftH2PqByRxw2JqPF3TLmaGoL_cp56isL2yYGP1JV0oMZLQzs8mkKNQy2YvbSfyWLrM6uSkIl0Kg/s1600-h/eid-card.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251802110996623090" style="FLOAT: right; MARGIN: 0px 0px 10px 10px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgZ2OrjGZ7UQFkbHraac9Dctf500hS6czFR4-c8Y0Ra64DwSVLZy5bZFCO5I52OkDa2ftH2PqByRxw2JqPF3TLmaGoL_cp56isL2yYGP1JV0oMZLQzs8mkKNQy2YvbSfyWLrM6uSkIl0Kg/s200/eid-card.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh5Iojqc8V9_a_5Z_UH_mVZ-vm6ILWZ2eXhJ7afe_n88F_ZyXlxOFdKgoAfVOoqc0YX5ny1kRSNgTWHIyyDG1f0UvYy4U5d14GNOFEJk3oQWoXekFa-y7i_POdSSx1B_8DN1TzxSA-i26Y/s1600-h/cinc.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251801890961205874" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh5Iojqc8V9_a_5Z_UH_mVZ-vm6ILWZ2eXhJ7afe_n88F_ZyXlxOFdKgoAfVOoqc0YX5ny1kRSNgTWHIyyDG1f0UvYy4U5d14GNOFEJk3oQWoXekFa-y7i_POdSSx1B_8DN1TzxSA-i26Y/s400/cinc.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;وطن عزیز کو ہر طرح سے عدم استحکام کرنے کیلئے ملک دشمن عالمی طاقتوں اور ان کے بے شرم اور بے غیرت قسم کے دلالوں کی وجہ سے ان کا ناپاک عزئم کا ایجنڈا تیز ترین رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جہاں ان طاقتوں نے ملک و قوم کو مختلف بحرانوں میں دھکیل دیا ہوا ہے ان میں سے ایک معاشی بحران ہے۔آج وطن عزیز کا نا ک نقشہ یہ ہے کہ آج وطن عزیز کو معاشی امداد کی ضرورت ہے۔اور مجبور حکومت معاشی امداد کیلئے ادھر ادھر ہاتھ پا ئوں مار رہی ہے لیکن کو ئی بھی گھاس نہیں ڈال رہا اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ بیرونی طاقتوں و عالمی معاشیاتی اداروں کی بھی ملک و عوام دشمن شرائط بھی ہوتی ہیں جن پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرانا پڑتی ہے ۔اور یہی مشکلات موجودہ حکومت کو در پیش آرہی ہیں۔ کیونکہ موجودہ حکومت عجلت میں کو ئی بھی ایسا فیصلہ نہیں کر نا چاہتی جس سے عوامی نفرت میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ موجودہ حکومت کو سابقہ دور حکومت میں بوئے گئے بیج سے تیار کی گئی فصل کو کا ٹنے میں جو دشواری پیش آرہی ہے وہی موجودہ حکومت کی بدنامی اور اس کو چلتا کرنے کیلئے کا فی ثابت ہو گی۔ ایک مخصوص طبقہ جو ساٹھ سال تا حال کسی نہ کسی طرح اقتدار کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ عوام کا خون چوسنے کے علاوہ قو می خزانے کو بھی بے دردی سے لو ٹتا رہا ہے۔ وہ آج وطن عزیز کی معاشی بدحالی پر بے حس،بے شرم اور بے غیرت بن چکا ہوا ہے انھیں آج کوئی بھی پوچھنے والا نہیں اگرچہ ملک بھر کے نام نہاد سیاسی جما عتوں کے سربراہ کسی بھی ایجنڈے پر اتفاق نہیں کرتے لیکن یہ بے غیرت قومی خزانے کی لوٹ مار اور مراعات لینے پر سب اتفاق کرتے ہیں ۔ آج وطن عزیز کو معاشی بد حالی کا سا منا ان بے غیرتوں کے کرتو توں کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے آج کوئی بھی قا نون اور قا نون نافذ کر نے والا یا کوئی بھی ملک کی سلامتی کا ضامن ریاستی ادارہ ان کو ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں اور ملک بھر کے عوام کے خیال کے مطابق یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو بحال نہیں کیا گیا تا کہ ملک اور عوام کے دشمن پاکستان کو عدم استحکام کرنے کیلئے پاک سرزمین پر کھل کر رقص ابلیس کر سکیں۔موجودہ حکومت کی اگرچہ کچھ مجبوری ہے کہ وہ کھل کر پالیسی بیان میں ان ملک دشمن طاقتوں کو بے نقاب نہیں کر رہی ۔لیکن ملک بھر کے عوام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک دشمن عالمی طاقتیں پاکستان کو عدم استحکام، اس کو توڑنے اور اس کی اپنی مرضی سے جغرافیائی سرحد بندی کے علاوہ اس کے نیوکلیئر پاور کا خاتمے کے علاوہ مستقبل قریب میں اس سرزمین کو چین کے خلاف استعمال کرنے کے علاوہ اس خطے میں اجارہ داری قا ئم کرنا چا ہتی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو حرف آخر ہے اور یہی ان کے وہ نا پاک عزائم ہیں جن کی پا یہ تکمیل کیلئے یہ نا سور خود ساختہ تخلیق کردہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں تا کہ ان ملک دشمنوں کے اپنے ہی قبا ئلی علاقوں میں موجود ایجنٹ ایسی کار وائیاں کر تے رہیں اور ان کو پاک سرزمیں پر حملوں کا جواز ملتا رہے۔جبکہ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود کو شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔لندن میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براون سے ایک ملاقات کے بعد امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہو گیا ہے اور اسے اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ امریکی جنرل نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ پیر کو شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ امریکی سفارت کار نیگرو پونٹے سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر خصوصی طور پر بات کی گئی۔ نیگرو پونٹے شدت پسندی کے مسائل پر بات چیت کے لیے پچھلے کچھ عرصے میں کئی بار پاکستان آئے ہیں۔شدت پسندوں کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔ گذشتہ پیر کو پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلی کی گئیں اور کچھ افسران کو ترقی دی گئی جن میں احمد شجاع پاشا کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے اور آئی ایس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ لندن میں جنرل پٹریئس نے کہا کہ مستقل مزاجی سے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔جنرل پٹریئس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان شدت پسندوں پر پاکستان میں امریکی حملوں کے تناظر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سرحد کے پار پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ مارے گئے ہیں۔ستمبر کے اوائل میں انگور اڈہ میں امریکی کمانڈوز نے سرحد عبور کر کے کا رروائی کی تھی جس پر پاکستان کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ حال ہی میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام و فوجیوں کی طرف سے یہ اعادہ کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے گا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر سرحد عبور کرنے کا الزام رکھتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جنرل مائیکل مولن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہیں۔ جنرل پٹریئس نے گورڈن براون سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو خود بھی یہ معلوم ہے کہ اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور’اسلام آباد میں اس معاملے کی اہمیت اور نوعیت دونوں ہی تسلیم کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔افغانستان میں موجود امریکی اور اس کی اتحادی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے قریب پہلی دفعہ امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے میزائل داغے گئے۔ پھرشمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائلوں کے تین حملے کیے گئے۔ اور اس کے بعد شمالی وزیرستان میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر میزائل حملہ کیا گیا تھا۔ ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا تھاکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا ’امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ’اِن افغانستان شیڈو‘ اور ’سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم‘ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے مو ¿ثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ ’ پاکستان کی صورتحال سے دنیا اس وقت کنفیوزڈ اور پریشان ہے۔ اس حوالے سے نئی حکومت کا پہلا امتحان پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر قابو پانا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آئی ایس آئی میں اسلامی حمایت پسند عناصر موجود ہیں جو کہ القاعدہ کے عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایس آئی کے بجٹ کو اپنے کنٹرول میں لے آتی ہے تو پھر اس ایجنسی کی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘ طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے مشکل بات آئی ایس آئی اور اس کے فنڈز پر قابو کرنا ہے۔ اور جب تک حکومت آئی ایس آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں لاتی اس وقت تک القاعدہ کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائیاں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ۔نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نے صدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ ماہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔ انگور اڈہ میں کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیاتھا۔سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاتھا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔‘ انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئی گھنٹے تک کارروائی جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مو ¿قف تھا کہ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو ¿ثر بنادیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے کی گئی ہے۔تاہم اخبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو ¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئی ۔ اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نے کہا کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں آنے والا تعطل ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا یاجاسکتا تھا۔ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کا روں کے مطابق اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ان معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ امریکہ کے چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے دس ستمبر کو کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ایڈمرل مائیکل مولن کی جانب سے یہ بیان ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی سے بحرِ ہند میں امریکی بحری بیڑے پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد سامنے آیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مستقبل کا کوئی مشترک لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی حملوں کی اجازت دو ماہ قبل دے دی تھی۔ اس نئے لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستانی فوج نے یہ سوال اٹھایا کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کی رو سے غیر ملکی فوجی دستوں کو پاکستان کی سر زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں فوج نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی صورت میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کے لیے جوابی حملے کیے جائیں گے۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے انتباہی فائر کیے۔ اگر امریکی حملے جاری رہے تو موجودہ جمہوری حکومت پر فوج اور سیاسی حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے دباو بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہے تو عام خیال یہ ہے کہ ایسا صرف اس مفروضے کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ امریکہ، پاکستان کی مدد کے بغیر شدت پسندوں سے لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب ایک تجزیے کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سال امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے پاکستانی حدود میں زیادہ سے زیادہ حملے کر سکتی ہے۔ اے پی ایس&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.associatedpressservice.com/main.php" target="myfrm"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgZ2OrjGZ7UQFkbHraac9Dctf500hS6czFR4-c8Y0Ra64DwSVLZy5bZFCO5I52OkDa2ftH2PqByRxw2JqPF3TLmaGoL_cp56isL2yYGP1JV0oMZLQzs8mkKNQy2YvbSfyWLrM6uSkIl0Kg/s72-c/eid-card.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_30.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Tue, 30 Sep 2008 16:24:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-3056802191281730410</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiiDcUw1ZEeip1xUvUOhOG6UyeCSqqQ0v-CvYjgqKuLKHM1AtrykMteMzuVit4ip5s3BOrJErq58N4xSZ8i1Q1pRCBBCrriIxkUTE9o5C7a9z-SUvHgjgRhrd-sGIicdcfxIQl-uvM8LF8/s1600-h/uscentralcommond.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251758619472400594" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiiDcUw1ZEeip1xUvUOhOG6UyeCSqqQ0v-CvYjgqKuLKHM1AtrykMteMzuVit4ip5s3BOrJErq58N4xSZ8i1Q1pRCBBCrriIxkUTE9o5C7a9z-SUvHgjgRhrd-sGIicdcfxIQl-uvM8LF8/s400/uscentralcommond.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد (اے پی ایس )امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود کو شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔لندن میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براون سے ایک ملاقات کے بعد امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہو گیا ہے اور اسے اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ امریکی جنرل نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ پیر کو شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ امریکی سفارت کار نیگرو پونٹے سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر خصوصی طور پر بات کی گئی۔ نیگرو پونٹے شدت پسندی کے مسائل پر بات چیت کے لیے پچھلے کچھ عرصے میں کئی بار پاکستان آئے ہیں۔شدت پسندوں کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔ گذشتہ پیر کو پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلی کی گئیں اور کچھ افسران کو ترقی دی گئی جن میں احمد شجاع پاشا کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے اور آئی ایس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ لندن میں جنرل پٹریئس نے کہا کہ مستقل مزاجی سے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔جنرل پٹریئس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان شدت پسندوں پر پاکستان میں امریکی حملوں کے تناظر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سرحد کے پار پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ مارے گئے ہیں۔ستمبر کے اوائل میں انگور اڈہ میں امریکی کمانڈوز نے سرحد عبور کر کے کا رروائی کی تھی جس پر پاکستان کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ حال ہی میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام و فوجیوں کی طرف سے یہ اعادہ کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے گا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر سرحد عبور کرنے کا الزام رکھتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جنرل مائیکل مولن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہیں۔ جنرل پٹریئس نے گورڈن براو ¿ن سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو خود بھی یہ معلوم ہے کہ اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور’اسلام آباد میں اس معاملے کی اہمیت اور نوعیت دونوں ہی تسلیم کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔افغانستان میں موجود امریکی اور اس کی اتحادی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے قریب پہلی دفعہ امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے میزائل داغے گئے۔ پھرشمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائلوں کے تین حملے کیے گئے۔ اور اس کے بعد شمالی وزیرستان میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر میزائل حملہ کیا گیا تھا۔ ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا تھاکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا ’امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ’اِن افغانستان شیڈو‘ اور ’سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم‘ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے مو ¿ثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ ’ پاکستان کی صورتحال سے دنیا اس وقت کنفیوزڈ اور پریشان ہے۔ اس حوالے سے نئی حکومت کا پہلا امتحان پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر قابو پانا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آئی ایس آئی میں اسلامی حمایت پسند عناصر موجود ہیں جو کہ القاعدہ کے عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایس آئی کے بجٹ کو اپنے کنٹرول میں لے آتی ہے تو پھر اس ایجنسی کی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘ طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے مشکل بات آئی ایس آئی اور اس کے فنڈز پر قابو کرنا ہے۔ اور جب تک حکومت آئی ایس آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں لاتی اس وقت تک القاعدہ کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائیاں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ۔نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نے صدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ ماہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔ انگور اڈہ میں کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیاتھا۔سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاتھا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔‘ انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئی گھنٹے تک کارروائی جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مو ¿قف تھا کہ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو ¿ثر بنادیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے کی گئی ہے۔تاہم اخبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو ¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئی ۔ اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نے کہا کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں آنے والا تعطل ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا یاجاسکتا تھا۔ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کا روں کے مطابق اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ان معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ امریکہ کے چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے دس ستمبر کو کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ایڈمرل مائیکل مولن کی جانب سے یہ بیان ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی سے بحرِ ہند میں امریکی بحری بیڑے پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد سامنے آیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مستقبل کا کوئی مشترک لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی حملوں کی اجازت دو ماہ قبل دے دی تھی۔ اس نئے لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستانی فوج نے یہ سوال اٹھایا کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کی رو سے غیر ملکی فوجی دستوں کو پاکستان کی سر زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں فوج نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی صورت میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کے لیے جوابی حملے کیے جائیں گے۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے انتباہی فائر کیے۔ اگر امریکی حملے جاری رہے تو موجودہ جمہوری حکومت پر فوج اور سیاسی حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے دباو بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہے تو عام خیال یہ ہے کہ ایسا صرف اس مفروضے کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ امریکہ، پاکستان کی مدد کے بغیر شدت پسندوں سے لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب ایک تجزیے کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سال امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے پاکستانی حدود میں زیادہ سے زیادہ حملے کر سکتی ہے۔ اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiiDcUw1ZEeip1xUvUOhOG6UyeCSqqQ0v-CvYjgqKuLKHM1AtrykMteMzuVit4ip5s3BOrJErq58N4xSZ8i1Q1pRCBBCrriIxkUTE9o5C7a9z-SUvHgjgRhrd-sGIicdcfxIQl-uvM8LF8/s72-c/uscentralcommond.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>بے نظیر زرعی کارڈ کا اجرائ۔تحریر : اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_392.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 29 Sep 2008 23:28:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-1050954955632943219</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh9Y7igaFVnuAXL0ETfHguwbXiaX-YzOPmtvhbkS_wCBMVjMf4UhnC08CucsfcZWOQYn1meulhwgHcI29OZktgB58jvPGOGSOPuU_fq2eskVJ89IYr8PcS8KAznuXyWJnPYGc7xMvYU4dQ/s1600-h/BhuttoBenazir171.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251497007932750802" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh9Y7igaFVnuAXL0ETfHguwbXiaX-YzOPmtvhbkS_wCBMVjMf4UhnC08CucsfcZWOQYn1meulhwgHcI29OZktgB58jvPGOGSOPuU_fq2eskVJ89IYr8PcS8KAznuXyWJnPYGc7xMvYU4dQ/s400/BhuttoBenazir171.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جولائی 2007 ء سے پاکستان کے1,386 سیکورٹی اہلکار شہید اور تین ہزار تین سو اڑتالیس زخمی ہوئے ہیں۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑر ہا ہے، نائن الیون کے بعد سے اب تک اٹھاسی خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ایک ہزار ایک سو اٹھاسی افراد شہید اور تین ہزار دو سو نو زخمی ہوئے۔ خودکش حملوں کا سب سے بڑا شکار عوام بنے اور آٹھ سو سینتالیس شہری شہید ہوئے۔ خودکش حملوں میں ایک سو چوہتر فوجی، ایک سو بائیس پولیس اور پینتالیس ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔ سیکورٹی فورسز نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پینتیس غیر ملکی ایجنٹس گرفتار کئے، ذرائع کے مطابق براہمداغ بگٹی افغانستان میں بیٹھ کر ریاست مخالف سرگرمیوں ملوث تھا۔ براہمداغ بگٹی کی سرگرمیوں کے بارے میں افغان حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو کسی قسم کے غیرملکی فنڈز براہ راست نہیں ملے۔ اس جنگ میں امریکا کی جانب سے معلومات کا تبادلہ محض دعوٰی ہے اور بعض اوقات ایک ماہ پرانی معلومات دی جاتی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ بغیر پائلٹ جاسوس طیارے راڈار پر نظر نہیں آتے، ان جاسوس طیاروں کے بارے میں جاننے اور راڈار کی ٹیکنالوجی میں اضافے کی ضرورت ہے۔سوات میں جاری آپریشن کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور اسے ختم کرنے کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے۔جبکہ ریپبلکن صدارتی امیدوار جان مک کین نے نائب صدر کی امیدوار سارہ پالن کے اس بیان کے بارے میں کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی حدود میں کارروائی بلاجواز نہیں کہا ہے کہ سارہ پالن نے جو کہا وہ پالیسی بیان نہیں تھا اور زیادہ تر امریکی اسے صحیح نہیں سمجھیں گے۔الاسکا کی گورنر سارہ پالن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم صدر زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا پاکستان میں سرحد پار کارروائی کرے گا تو سارہ پالن نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہمیں ضرور حملہ کرنا چاہئے۔جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے معتمد خاص طارق عزیز کو موجودہ حکومت میں اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق اسی مقصد کیلئے صد رمشرف کے دورحکومت میں صدر پرویز کا دائیاں بازوکہلانے والے طارق عزیز پیر کو لندن سے اسلام آباد پہنچیں ہیں۔طارق عزیز کو ایوان صدر یا ملک سے باہر سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سونپی جاسکتی ہیں۔طارق عزیز 18اگست کو صدر پرویز کے استعفیٰ کے بعد لندن چلے گئے تھے۔جبکہ ایک خبر رساں ادارے نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان اہم خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔ دونوں رہنماو ¿ں نے نیو یارک کے کسی خفیہ مقام پر اہم ملاقات کی ہے۔ جس میں اہم امور پر تفصلی تبادلہ خیال ہوا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کے بیٹے مونس الہیٰ بھی تھے۔ نیویارک میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی جو اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ہمراہ امریکہ کے نجی دورے پر تھے کے درمیان نیو یارک کے کسی خفیہ مقام پراہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ۔چوہدری پرویز الٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ہمراہ ہفتہ کے دن دو بجے ورجنیا کے ڈلیس ایئر پورٹ سے امریکہ کی ایک مقامی ایئر لائن کے ذریعے نیو یارک پہنچے ، جہاں ان کی آصف علی زرداری کے ساتھ خفیہ طور پر تفصیلی ملاقات ہوئی ۔چوہدری پرویز الٰہی اسی رات اہم ملاقات کر کے واپس واشنگٹن پہنچ گئے جہاں سے وہ گزشتہ روز شام پانچ بجے برٹش ایئر ویز کے ذریعے واپس پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔جبکہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے دورہ امریکہ میں اپنی پالیسی واضح کر دی ہے پارلیمنٹ پر ایک بار پھر پرویز مشرف پالیسی مسلط کی جا رہی ہے۔ آصف علی زرداری کو چاہیے تھا کہ یہاں پارلیمنٹ سے پالیسی لے کر جاتے اور وہاں جا کر صرف آگاہ کرتے لیکن آصف علی زرداری نے بش کی زبان بول کرنا امید کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں کہا گیاتھا کہ اس میں طالبان ملوث نہیں امریکی دورے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اس میں بیت اللہ مسعود ملوث ہے۔ ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف نے اسلام آباد میں ایک گزشتہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر پاکستان کے حالیہ دورہ امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار احمد نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک با عزت قوم کے سربراہ کے طور پر قوم کا نظریہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ۔ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میںاور ہر محب وطن پاکستانی یہ کہتا ہے کہ ہمیں ایسا صدر چاہیے جس سے پاکستان کے عوام خوش ہوںا ور جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کر سکے ۔ پارلیمنٹ پر ایک بار پھر مشرف پالیسی مسلط کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے صدارت کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ آصف علی زرداری ابھی تک پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ہیں اور اس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے ارشادات کی روشنی میں پی پی پارلیمنٹیر ینز کو پارلیمنٹ میں کسی حد تک آزادی ہو گی اور وہ دوسرے پارلیمنٹرین کی طرح اپنی سوچ وضع کر سکیں گے۔ خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ایران ہر کڑی آزمائش میں پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا لیکن ہماری خارجی پالیسی کی ترجیحات میں ایران کے بارے میں خاطر خواہ ذکر ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی بات خوشکن تھی کہ صدر بننے کے بعد وہ پہلے چین کا دورہ کرتے لیکن وعدہ کی پاسداری نہ کرتے ہوئے وہ لندن اور امریکہ کے دورے پر چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بیان حکومت کو دینا چاہیے وہ آرمی چیف سے دلوایا جاتا ہے ۔ اسی طرح چین خود جانا تھا لیکن آرمی چیف کو بھجوا دیا گیا ۔ اقتصادی حالات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ موجودہ اقتصادی صور تحال پر پارلیمنٹ میں ایک سحر حاصل گفتگو ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہی ایسے حالات آئے لیکن ان پر احسن طریقے سے قابو پایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ عین اس موقع پر ایڈ دی جارہی ہے جب ہمیں زیادہ سے زیادہ فوجی کارروائی کرنے کا بھی دباو ¿ ہے اور اس سے ایک بار پھر آئی، ایم ایف پروگرام کو قوم پر مسلط کیا جا ئے گا۔خود کش دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون سے غیر ملکی ہاتھ اور ملکی عناصر شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پہلیاں بھجوائی جا رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری نے کہا کہ اس میں طالبان کا ہاتھ نہیں اور آج امریکہ سے واپسی پر کہا جا رہا ہے کہ بیت اللہ مسعود شامل ہے۔جبکہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت625 روپے سے بڑھا کر 950روپے فی40 کلو گرام کر دی ہے۔ ملک میں افراط زر میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے حکومت نے فوڈ سیکورٹی کے لئے اہم اقدامات کیے ہیں اس سال کاشتکاری مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی ہدایت ہے کہ وہ کاشت کاری مہم کا خود افتتاح کریںکسانوں کو بے نظیر زرعی کارڈ جاری کر نے اور ضرورت مند لوگوں کے لئے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے کا بھی اعلان کیاجبکہ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت625 روپے سے بڑھا کر 950روپے فی40 کلو گرام کر دی ہے انہوں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے اس کی 80فیصد تک اسمگلنگ کم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت کے لئے بے نظیر زرعی کارڈ کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت فصلوں کی انشورنس سکیم شروع کر رہی ہے جس کا پریمیم 1.5 فیصد ہو گا چھوٹے کسانوں کی پریمیم کی رقم حکومت خود ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گرین ٹریکٹر ز اسکیم کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس اسکیم سے کسانوں کو سستے ٹریکٹرز بھی مل سکیں گے وزیر اعظم نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ گندم کی پیداوار میں 3من فی ایکڑ اضافے کی کوشش کی جائے تا کہ 2کروڑ 50لاکھ ٹن گندم کا پیداواری ہدف حاصل کیا جا سکے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ خود گندم کی بوائی مہم کا افتتاح کریں گے اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی اس کی تقلید کر نے کو کہا جائے گا تا کہ لوگوں میں زیادہ گندم اگانے کے حوالے سے ضروری آگاہی پیدا کی جا سکے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کاشتکار بے نظیر زرعی کارڈ سکیم کے تحت زرعی ترقیاتی بنک کے ساتھ ساتھ کمرشل بینکوں سے بھی قرضہ حاصل کر سکیں گے وہ یہ قرض فصل کاٹنے کے بعد واپس کریں گے وزیر اعظم نے صوبوں اور وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ گندم اور دیگر اجناس کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لئے ضروری اقدامات کریں انہو ںنے اس بات کی بھی یقین دہانی کر ائی کہ اس سال کے آخر تک ملک میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہو گی اور آئندہ سال کے آخر تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ اور کسانوں کی سہولت کے لئے بے نظیر زرعی کارڈ سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ 34 ارب روپے سے بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام شروع کر دیا گیا ہے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت مشکل فیصلے کر رہی ہے پہلا سال مشکل ہو گا پھر بہتری آئے گی انہو ںنے کہا کہ کسانوں کو کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک ڈھائی کروڑ افراد نے نادرا شناختی کارڈ نہیں بنوائے حالانکہ ہم نے بغیر فیس کے بنوانے کا اعلان کر رکھا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ جن افراد کے پاس نادرا شناختی کارڈ نہیں ہوں گے وہ حکومت کی طرف سے خصوصی سہولیات سے مستفید نہیں ہو سکیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت غریبوں کو ریلیف دینے کے لئے مختلف سکیمیں شروع کر رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ گڈ گورننس لانے کے لئے اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ایک مستحکم حکومت بنانا چاہتے ہیں اب مانگے تانگے سے کام نہیں چلے گا انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم بنیاد کے لئے مشکل فیصلے کر نا پڑ رہے ہیں ہمیں ملک کا مفاد دیکھنا ہے اور دیکھنا ہے کہ ملک کو صحیح سمت پر کیسے لانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کی تمام مشکلات کا ازالہ کیا جائے گا اور ان کی تمام شکایات بہت جلد دور ہو جائیں گی وزیر اعظم نے کہا کہ ترقیاتی کام شروع ہو چکے ہیں پانی کی کمی کے لئے ہم نے چھوٹے ڈیموں پر کام شروع کر دیا ہے اور بہت جلد پانی کی کمی پر قابو پا لیا جئاے گا ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب نئی فصل کی گندم مارکیٹ میں آئے گی اگر اس کی قیمت مارکیٹ میں 950سے کم ہوئی تو حکومت اسے 950روپے پر ہی خریدے گی اس موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ضرورت مند لوگوں کے لئے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا جس کے تحت 3.4ملین روپے تقسیم کیے جائیں گے اور ان پیسوں کو گھر کی خاتون خانہ ہی وصول کر سکیں گی تا کہ ان کو احساس ہو کہ یہ گھر ان کو چلانا ہے انہوں نے کہا کہ صحیح ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے میں شروع میں دشواری ہو گی لیکن ہم جلد ہی ایک صحیح نظام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں قبائلی علاقوں اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خوراک،پانی اور بجلی کے بحرانوں سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا اس موقع پر گندم کی نئی امدادی قیمت اور گندم کی پیداوار میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh9Y7igaFVnuAXL0ETfHguwbXiaX-YzOPmtvhbkS_wCBMVjMf4UhnC08CucsfcZWOQYn1meulhwgHcI29OZktgB58jvPGOGSOPuU_fq2eskVJ89IYr8PcS8KAznuXyWJnPYGc7xMvYU4dQ/s72-c/BhuttoBenazir171.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>سیا لکوٹ کی خبریں: امجد ساگر:اے پی ایس سیالکوٹ</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_1108.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 29 Sep 2008 22:14:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-867622105479330032</guid><description>&lt;strong&gt;۔نوجوان ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام افطار پارٹی کا انعقاد کیا گیا جس میں پارٹی کے تمام لیڈروں نے مشترکہ بیان میںکہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اختتام پر ہے ۔ہمیں اس ماہ کے بعد بھی اتنے خلوص سے ہی رہنا ہوگا جتنا اس مقدس مہینے میں رہنا لازم ہے ۔انہوںنے حکومت سے پر زور اپیل کی ہے کہ طلباءکیلئے منظم پالیسیاں ترتیب دے ۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے راہنما ابراہیم بٹ نے کہاکہ نوجوان ملک کے لئے ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں انہوںنے سٹی سیالکوٹ کے نو منتخب عہدیدران کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہاکہ تمام عہدیدران پارٹی کو فعال بنانے میں اپنا بھر پور کراد ادا کریں ۔تقریب میں ضلعی صدر حافظ خاور مغل ،مظفر جنجوعہ ، وحید بٹ ،حافظ خرم اور نعمان گھمن خصوصی طور پر مدعو تھے ۔اس کے علاوہ طلباءکی کثیر تعدار نے شرکت کی ۔جماعت اہل سنت کے اوقات نماز عید الفطر مرکزی جامع مسجد الکوثر گوالمنڈی کینٹ پیر مفتی خادم حسین قادری 9بجے، مرکزی مسجد خضری جھلکی مولاناذاکر حسین قادری 9بجے ،مرکزی جامع سلطانیہ دھیلے قادی غلام رسول قادری 9بجے ،مرکزی جامع مسجد سلطانیہ چھانگے پیر زادہ قاری ضیاءمحی الدین قادری 9بجے مرکزی جامو مسجد پیر بھولے شاہ بن نظام پورہ صوفی منظور علی نقشبندی 9بجے ، مرکزی جامع مسجد نور کینٹ قاری نصیر احمد نقشبندی 9بجے مرکزی جامو مسجد غوثیہ کینٹ پیر سید نذیر محمد سرود گیلانی 9بجے ،مرکزی جامع غوثیہ قادریہ پنسیر شریف پیر میاں محمد رفیق قادری 9بجے ، مرکزی جامع مسجد قادریہ چک براہم صاحبزارہ میاں غلام مصطفی قادری 9بجے ،مرکزی جامع مسجد غوثیہ رضویہ چپراڑ حافظ محمد ہمایوں قادری عطاری 9بجے ،مرکزی جامع مسجد گل بہار پیر کلیم اللہ شاہ گیلانی قادری 9بجے ۔اداکی جائے گی ۔&lt;br /&gt;(3)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تحصیل ناظم سیالکوٹ امتیاز الدین ڈار کی قیادت میں نائب ناظمین کی قیادت میں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس افسر محمد امین وینس سے ان کے دفتر میں ملاقات کی او تحصیل کونسل کے نائب ناظمین کے خلاف بے بنیاد اورجھوٹا مقدمہ درج کرنے پر احتجاج ریکار کروایا ۔یاد رہے گزشتہ روز تحصیل نائب ناظمین طارق بیگ اورڈاکٹر محمد افتحاد کو ایک جھوٹے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے ۔نائب ناظمین کے احتجاج پر ڈی سی او نے انہی تعاون اور انصاف دلایاجائے ۔&lt;br /&gt;(4)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ضلع کے چار مقامات پرمختلف تنازعات کی بنا پر چار افراد کوشدید زخمی کردیاگیا ۔تھانہ کوتوالی کے موضع مظفر پورہ میں لین دین کے تنازعہ پر علی سمیت 3افراد نے چھری سے حملہ کرکے محمد جمیل کو زخمی کر دیا۔تھانہ صدر ڈسکہ کے موضع دھیرووال میں تلع کلامی پر محمد بوٹا کے بھانو پنڈی میں سابقہ لڑائی جھگڑے کی رنجش پر ڈنڈوں سے حملہ کرکے عبدالحمید کو زخمی کردیا تھ انہ ستراہ کے موضع رام پو رمیں سابقہ مقدمہ بازی کے رنجش پر عبدالرشید سمیت 10افراد فائرنگ کرکے احسان اللہ کو شدید زخمی کردیا پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں ۔&lt;br /&gt;(5)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086) پولیس نے سماج دشمن عناصر کے خلاف مہم کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں ،پولیس تھانہ نیکا پورہ نے سجاد سے 11گرام ہیروین ،شاہد سے 15گرام ہیروین تھانہ اگوکی پولیس نے مظفر پورہ سے فیصل عباس سے 1028گرام چرس ،اگوکی سے امجد سے پستول ، مراد پو رپولیس ے جعفر سے 5بوتل شراب اوربیگووال پولیس نے موضع جھاڑ بانوالہ سے کامران پستول برآمد کرکے مقدمات درج کرکے ملزمان کو گرفتارکرکے جیل بھیجوا دیا۔&lt;br /&gt;(6)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ پولیس افسر سیالکوٹ محمد امین وینس نے کہاکہ پولیس تھانہ اگوکی کے ایس ایچ او رانا زاہد کی نگرانی میں پولیس نے وزیرآباد روڈ پر نول موڑ پر ناکہ لگاکر چیکنگ شروع کی اس دوران ایک کارکو روک کر جب چیک کیا تو کار میں بھاری مقداد میں ناجائز اسلحہ جس میں 7رائفل 2روئفل بارہ بور ، 31پستول تیس بور اور 28ہزار گولیاں برآم دکرکے کار میںسوار کاشف اقبال والد محمد اقبال سکنہ بوچک سمبڑیال کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔ڈی ،پی ،او سیالکوٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اسلحہ عیدالفطر پر تقریب کاری کیلئے استعمال ہوسکتاتھا۔ ملزم کاشف کافی عرصہ سے ناجائز اسلحہ کاکاروبار کرررہاہے ملزم سے تفتیش جاری ہے مزید اہم انکشافات کی توقع ہے ڈی پی او کے ریڈنگ یارلی میں حصپ لینے والے پولیس ملازمین کی حوصلہ افزائی کیلئے انعام دینے کا اعلان کیاہے ۔&lt;br /&gt;(7)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ای ڈی او ایجوکیشن کے دفتر میں ایک پرائیویٹ کی جعلی رجسٹریشن پکڑی گئی ۔تفصیلات کے مطابق ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے ایک پرائیویٹ سکول اے ایس پبلک سکول فتح پور کا ماسٹر محمد صادق جب ای ڈی او ایجوکیشن سیالکوٹ کے دفتر میں پانچوں اور آٹھویں کلاس کے طلبہ کاداخلہ جمع کروانے کیلئے آئے تو اسسٹنٹ حاجی محمد اسلم نے کاغذات کی جانچ پڑتال جس سے پتہ چلا کہ ان کی رجسٹریشن بوگس ہے اور انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد افضل بٹ کے جعلی دستخط کئے ہوئے ہیں فائل کی ویریفیکشین سے پتہ چلا کہ ان کے کاغذات میں درج آرڈر نمبر غلط ہے اوران ک اریکارڈ رجسٹریشن دفتر میں موجود نہیں ہے حاجی محمد اسلم نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایاکے خبر درست ہے اب ای ،ڈی ،او ایجوکیشن جس کی بھی ڈیوٹی لگائیں گے وہ تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے گا ۔&lt;br /&gt;(8)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ای ڈی او ایجوکیشن ضلع سیالکوٹ خالد حسین گوررائیہ او رڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر زنانہ تحصیل پسرور کی ملی بھگت سے غیر قانونی ہونے والی ٹرانسفر کینسل ہونے کے باوجود اقصی نامی ٹیچر گارنمنٹ سکول وینس حاضر نہیں ہوئی ۔پنجاب ٹیچر ز یونین ضلع سیالکوٹ کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات محمد امتیاز طاہر نے اخبار نویسوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اقصی نامی ٹیچر گارنمنٹ سکول وینس مرکز پھوکلیان سکول فندز سے لاکھوں روپے خورد برد کرنے کے الزام میں اس کے خلاف انکوائری زیر التوا ہے انڈرانکوائری ہونے کے باوجود ای ڈی او ایجوکیشن ضلع سیالکوٹ خالد حسین گوررائیہ نے اقصی نامی ٹیچر کو آرڈر نمبر 4698-99ایڈمن مورخہ 02-09-08کو گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول سے خانپور سیداں تحصیل پسرور ٹرنسفر کردیا ۔بعد ازاں پنجاب ٹیچر ز یونین کونسل کے عہدیدان کے دبائواو راس معاملہ کو ہائی الائٹ کرنے پر ای ڈہ او ایجوکیشن خالد گورائیہ نے اقصی نامی ٹیچر کی ٹرانسفر آرڈر نمبر 4831-32ایڈمن مورخہ 06-09-08کوکینسل لیکن ٹرانسفر کینسل ہونے کے باوجود اقصی نامی ٹیچر تاحال اپنے سکول گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول حاضر نہیں ہوئی پنجاب ٹیچر یونین کے عہدیدان کا ای ڈی او سے رابچہ کرنے پر معلوم ہوا کہ پنجاب ٹیچر یونین کے عہدیداران کی آنکھوں میں مٹی جھونکنے ہوئے اقصی نامی ٹیچر کا ٹرانسفر کیس انکوائری کے باوجود ای ڈیا و ایجوکیشن نے اپنءریکمنڈیشن کے ساتھ انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفر ضلع نارووال کے کئے سیکرٹری سکولز کو بھیج دیا ۔پنجاب ٹیچریونین کے صدر چوہدری انعام ،محمد امتیاز ، ملک اعظم ، مرزا شبیر ، عبدالقیوم ، اعظم گجر ، ارشد علی ، رشید اقبال محمد علی استراہ اور دیکر عہدیداران نے ڈی سی او سیالکوٹ عطا محمد سے مطالبہ کیا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جائے اورمحکمہ تعلیم کے آفسران کو اقصی نامی ٹیچر کو سکول حاضر کیا جائے&lt;br /&gt;(9)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ کو توالی کے علاقہ پورن نگر میں 2ڈاکو ئوں نے گن پوائنٹ پر صحافی سے بقدی اور موبائیل چھین کے لے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق صحافی سید انجم شاہ سے دو نامعلام افراد نے اسلحی کی روز پر روک کے جان سے مارنے کے دھمکی دیتے ہوئے 8500روپےءاورموبائیل فون چھین لیا اور فرادہوگئے صحافیوں نے مقدمہ درج اور ملزما ن کے خلاف کاروائی ک امطالبہ کیا ۔&lt;br /&gt;(10)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے حکم پر پولیس تھانہ سول لائن نے بدنام زمانہ منشیات فروش کو بھاری مقدار میں ولائتی شراب سمیت گرفتار کرلیا ،ڈی پی او کیطرف سے اعلی کارکردگی پر پولیس کو انعام بتایاگیا ہے کہ پولیس تھانہ سول لائن کو خبر ہوئی کہ بدنام زمانہ منشیات فروش ایوب مسیح ولائتی شراب لارہاہے جو عید پر فروخت کی جائے گی ، جس پر تھا نہ سول لائن کے ایس ایچ او رانا الیاس نے ڈی ایس پی سٹی وسیم اختر کی قیادت میں بھاری نفدی کے ہمرا مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی اور ہنٹر پورہ کے قربت سے ایوب مسیح کو 110بوتل ولائتی شراب سمیت گرفتار کرلیا پولیس کی اعلی کارکاردگی پر دسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ محمد امین وینس نے نقد انعام کا اعلان کیا ہے ۔&lt;br /&gt;(11)سیالکوٹ ( رپورٹ امجد ساگر 3086)ڈپٹی ایجوکیشن آفیسرڈسکہ نے کرپشن اوربد عنوانی کی انتہا کرتے ہوئے لاکھوں روپے اکھٹاکرنے کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے باوثوق زرائع کے مطابق ن لیگ کی سیاسی سفارش سے تعینات ہونے والے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر یاسین ورک بچوں کی کتابوں کی ڈلیوری کے بھی 3لاکھ 70ہزار روپے ڈکار گیا واضع رہے کہ حکومت پنجاب نے کتابوں کی ترسیل اور کرایہ کیلئے فی سکول 300روپے کی ادائیگی کی جو 3لاکھ 70ہزار روپے نیتی ہے جس میں چند سکولوں کی تو صرف 300روپے نہ دینے پ راکتفاکیا لیکن زیارہ سکولوں سے 300روپے وصول کئے گئے ۔باوثوق زراےع کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈسکہ یاسیمن ورک نے پڑھالکھا پنجاب کے تحت مختلف مراکز میں بچوں کو حکومت پنجاب کی طرف سے مفت ملنے والی کتابیں بھجوانے کیلئے ٹرانسیوٹیشین کی حد میں دو لاکھ اٹھارہ ہزار آتھ سو روپے سرکاری خزانہ سے وصول کئے جن میں مرکز بمبانوالہ کیلئے ایجوکیشن آفیسر محمد اسلم بھٹی نے کتابیں وصول کیں اور 16ہزار 5سو روپے سرکاری خزانے سے وصول کئے مرکز ستراہ کیلئے 19ہزار 5سو روپے ، موترہ کے لئے 30ہزار 3سو روپے ، مرکز ڈسکہ مردانہ کیلئے 28ہزار9سو روپے ,ستراہ زنامہ کیلئے 16ہزار 5سو روپے ، موترہ زنانہ کیلئے 25ہزار 5سوروپے ، سمبڑیال زنانہ کیلئے 33ہزار 9سوروپے اور مردانہ کیلئے 31ہزار 5سو روپے وصول کئے جبکہ ان مراکز کے ہیڈ قدیر احمد ، اقبال باجوہ ، لیاقت شیخ ،طلعت یاسین ، رخسانہ ، غفت بانو ، نگہت یاسمین اور طاہر تبسم کو صرف پانچ پانچ ہزار روپے ادا کئے ای طرح 21ایجوکیٹرز جن میںاللہ دتی ،حافظ عزیز الرحمن ، ابراہیم انور ، عرفان ،ارشد ،جاوید ، افضل ، شاہد ،عبدالقدو، شہباز ، فرح ناز ، طارق ، نصیر ، تنویر ، نصار ، ریاض ، رزاق ، افتخار ساہی ، و یگر سٹاف ت وبقایا جات ادانہیں کئے ۔ جن ہوں نے وصولی کے لئے ڈی سی او سیالکوٹ سے رابطہ کیا علاوہ ازیں یاسمین ورک نے تحصیل ڈسکہ کے 139طلباءاو طلبات کے وظیفہ کے رقم 6لاکھ 67ہزار 2سو روپے ادا نہیں کئے ۔بچوں کے والدیں دفتر کے چکر لگا لگا کر ٹھک ہار کر اپنے گھروں پر بیٹھ گئے ہیں ۔ شہر کے سیاسی ،سماجی ، حلقوں نے وزیراعلی پنجاب ،صوبائی وزیر تعلیم اوردیکر احکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اثر وسوخ کی وجہ سے ڈسکہ میں تعنینات کرپٹ افسر کے خلاف کاروئی کی جائے ۔ اور کرپٹ افسر کی پشت پنائی کرنے والے مقامی سیاست دانوں کا بھی محاسبہ کیاجائے جو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے سے ڈرتے ہیں ، رابطہ کرنے پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیش آفیسر محمد یاسین ورک نے بتایاکہ ایجوکیٹرز کو بقایاجات کی ادادگی کے لئے چیک بن گیاہے ۔ان کو آج 30ستمبر کو رقم ادا کردی جائے گی ،وظائف حاصل کرنے والے متعدد بچوں کو بھی رقم اداکردی گئی ،چند ایسے بچے رھ گئے ہیں جن کے ایڈیس نہیں ملے ۔پرائیویٹ سکول کے اساتذہ کہتے ہیں کہ رقم ہمیں دے دو ہم بچوں تک پہنچا دیں گئے ۔ای ڈی او ایجوکیشن سیالکوٹ خالد کورائیہ نے بتایا کہ اگر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر یاسین ورک نے کرپشن کی اور ثابت ہوگئی تو ان کے خلاف کاروئی ضرور ہوگی ،علاوہ ازیں معلوم ہوا ہے کہ وظفے سے پیسے بھی ہڑپ کرلئے گئے ہیں سال 2006کے وظیفے کے 6لاکھ 60ہزار روپے محکمہ تعلیم کی جانب سے یاسین ورک نے حاصل کئے اس وقت آج کی تحصیل سمبڑیال تحصیل ڈسکہ کی حصہ تھی ۔وہاں کے وظیفہ حاصلکرنے والے طلبا ءو طلبات کے حصہ میں تیں لاکھ بیس ہزرا چار سو روپے آتے تھے ،یاسین ورک نے وہاں کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر محمد حسین کو 2لاکھ بیاسی ہزار ایک سو روپے رہے کرتین لاکھ بیس ہزار چار وسو روپے کی وصولی پر ستخط کے لئے تاہم اس مہینے کی چار تاریخ کو تعینات ہونے والے سمبڑیال کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر رانا سر بلند خان نے آکر وظائف کے متعلق معاملات کاجائزہ لے کر ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر سے ا یک خط کے زریعے وظایف کی بقایا رکم مانگی جس پ رگزشتہ روز اتور ہونے کے باوجود 15ہزار روپے کی رانا سر بلند سے رابطہ کرکے انہیں پندرھ ہزار کی رقم دی ،جسے رانا سربلند خان نے اسی وقت طلبہ کو بلا کر تقسیم کردئے ۔زارین اثنا 29ستمبر بروز پیر کو اسی سلسلہ میں انکوائری بلائی گئی ۔جس میں را ن اسر بلند نے اس معاملے کو تفصیل سے بیان کی ۔ اور ڈی پی او آفس کے اہم ترین آفیسر سیف انور چیمہ ڈی او سی کو مزید بتایا کہ سمبڑیال کے ابھی بھی 19طلباءطلبات کے وظایف نہیں دئے جاسکے ۔علاوہ یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ کتابوں کی ڈیلوری کی رقم میں سے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر زنانہ کو بھی یاسین ورک نے کوئی ادائیدگی کرنا مناسب نہیں سمجھا جب کہ ڈپٹی ایجوکیشن آفسیر کے حصہ میں ایک لاکھ چالیس ہزار ورپے آتے تھے جو ادانہیں کئے گئے ۔&lt;br /&gt;(12)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سیالکوٹ میںتھانہ اگوکی پولیس نے علاقہ غیر سے عید کے موقعہ پر دہشت گردی کیلئے لائے گئے اسلحہ کی بھاری کھیپ پکڑ کر ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور اسلحہ سے بھری ملزم کی کار کو بھی قبضہ میںلے لیا ہے ۔ اس امر کا انکشاف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے ڈی ایس پی صدر سرکل محمد اکرم خان کے ہمراہ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے بتایاکہ گرفتار ملزم کاشف اقبال سے تفتیش جاری ہے اور وہ علاقہ غیر سے اپنی ہونڈ اسٹی کا رنمبریLEB-6544پر سات کلاشنکوفیں ، دو رائفلیں ، 31پستول ، 26ہزار گولیاں اور78میگزین لے کر سیالکوٹ لایا جسے تھانہ اگوکی پولیس کے سب انسپکٹر محمد اختر نے نول موڑ کے قریب ناکہ لگا کر چیکنگ کیلئے روکا اور کار کے اندر سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا ۔ ڈی پی او کاکہنا ہے کہ ملزم کاشف اقبال تھانہ سمبڑیال کے موضع بلوچک کا رہائشی ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے کیونکہ برآمد ہونےو الا اسلحہ عید کے موقعہ پر تخریب کاری اور دہشت گردی میں استعمال کیلئے لایاگیا تھا لیکن پولیس کی بروقت کاروائی سے سازش ناکام ہوگئی اور ملزم کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔ ڈی پی او کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے بتایا کہ ضلع میں شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے پولیس کی جرائم پیشہ عناصر سے جنگ دن رات جاری ہے اور ضلع بھر میں اہم مقامات پر ایک سو کلوز سرکٹ کیمرے لگائے جارہے ہیں جبکہ ضلع بھر کی124یونین کونسلوں میں موٹر سائیکل پولیس سکواڈ کے ملازمین کو اشتہاریوں ، عدالتی مفروروں اور ریکارڈ یافتہ ملزمان کی گرفتاریوں کا ٹاسک دیدیا گیا ہے اور اس حوالے یونین کونسلوں کی سطح پر مجرمان اور جرائم پیشہ عناصر کا ریکارڈ کمپیوٹر ائزڈ کرکے بیٹ بکیں تیار کرکے یونین کونسلوں میں تعینات پولیس کے عملہ کے حوالے کردی گئی ہیں ۔ ڈی پی او نے بتایا کہ اب اشتہاریوں ، عدالتی مفروروں اورریکامن برڈ یافتہ جرائم پیشہ عناصر کی مقامی سطح پر ہی سرکوبی ہوسکے گی جس سے جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور پولیس کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب سے 24گھنٹے مانیٹر نگ کی جائے گی اور اس سے وارداتوں میںنمایاں کمی واقع ہوگی اور جرائم پیشہ عناصر کوجلد ازجلد گرفتار کرنے میںمدد ملے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون سے ضلع سیالکوٹ کو کرائم فری بنایا جارہا ہے اور تھانوں میں کمپیوٹر فراہم کردیئے گئے ہیںتاکہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوسکے ۔ دریں اثناءسول جج سیالکوٹ محمد سلیمان گھمن نے پچاس ہزار کے مچلکوں پر گرفتار ملزم کاشف اقبال کی ضمانت بعدازگرفتاری منظوری کرتے ہوئے ا سکی رہائی کے احکامات جاری کردیئے ۔ اس سے قبل صحافیوں کو ملزم کے قبضہ سے برآمد ہونے والااسلحہ گولیاں اور کار کا معائنہ بھی کروایا گیا ۔&lt;br /&gt;(13)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)لاری اڈا پولیس نے مقابلہ کے بعد بدنام زمانہ منشیات فروش کو گرفتار کرکے ڈیڑھ کلوگرام چرس برآمد کرلی ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزم دانیال شاپر بیگ میں لاکھوں روپے مالیت کی اعلی کوالٹی کی ڈیڑھ کلو گرام چرس فروخت کیلئے لے کر جارہا تھا جسے لاری اڈا پر پولیس چوکی کے انچارج اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد علی نے کاروائی کرکے گرفتار کرلیااور اس کے قبضہ سے منشیات برآمد کرکے ملز م کے خلاف مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔ پولیس کے مطابق ملزم عادی منشیات فروش ہے ۔&lt;br /&gt;(14)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ سید حامد حسین نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے ماہانہ دورہ کے دوران معمولی مقدمات میں ملوث 90حوالاتیوں کی ذاتی مچلکوں پر ضمانتیں منظور کرکے رہائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔سوموار کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید حامد حسین نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کا دورہ کیااور سپریٹنڈنٹ جیل ملک مشتاق اعوان اور ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل اشتیاق گل کے ہمراہ پوری جیل کا اڑھائی گھنٹے سے زائد تفصیلی معائنہ کیااورقیدیوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل سنے اور موقعہ پر ہی ان کے حل کیلئے احکامات جاری کئے ۔ انہوں جیل کے لنگر خانہ ، ہسپتال ، کمپیوٹرسینٹرکا بھی دورہ کیا اور سزائے موت کے قیدیوں سے بھی ان کے مسائل سنے ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جیل میں مقید 58خواتین قیدیوں میں عید گفٹ اور کپڑے تقسیم کئے جبکہ60 مرد قیدیوں میں بھی عیدگفٹ تقسیم کئے ۔ قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جیل میں معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث 90قیدیوں جہانگیر ، صفدرحسین ، زاہد ، نعیم ، عبدالغفور ، اکبر ، محمد اشرف ، صغیر ، سیف اللہ ، علیم احمد ، الطاف ، پرویز ، شاہد ، نوید ، اکرم ، اعجاز ، فضل قمر ، ارشد ، امجد علی ،عبدالرشید ، گلفام ، ندیم ، محمد محسن ، رجب علی ، نویدا ، ندیم، رفیق ، رفاقت ، سلیم ، شاہد ، ذیشان ، حمید ، غلام شبیر ، عامر شہزاد ، فہد ، کاشف ، بشیر ، اظہر ، افضال ، عارف ، امداد ، شیر زمان ، مائیکل صدیق ، رفاقت ، مدثر ، رزاق ، اللہ بخش ، ناصر ، بابر ، عرفان ، امجد ، عبدالرزاق ، منور ، شوکت ، اللہ دتہ ، نوید ، شہباز ، عاصم ، وسیم ، اصغر ، نذیر ، صدیق ، دائود مسیح ، رضوان ، عبدالرشید ، آصف ، شوکت مسیح ، عادل بٹ ، جعفر حسین اور ندیم کے علاوہ ناظر مسیح ، شہباز احمد کی ذاتی مچلکوں پر رہائی کے احکامات جاری کئے ۔ سپریٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ جیل انگریز دور کی ڈیڑھ سو سال پرانی جیل ہے جو1863ءمیں تعمیر ہوئی اور یہاں 722قیدیوںکو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس وقت ضلع نارووال کے ایک ہزار کے قریب قیدیوں سمیت مجموعی طور پر 2800سے زائد قیدی مقید ہیں جن میں سزائے موت کے284قیدی بھی شامل ہیں تاہم گنجائش سے زائد قیدیوں کے باوجود تمام قیدیوں کو جیل مینوئل کے تحت تمام سہولیات میسر ہیں ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ سید حامد حسین نے جیل میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا اور جیل انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔&lt;br /&gt;(15)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ سٹی ڈسکہ پولیس نے سٹیڈیم روڈ کی رہائشی محمد اقبال کی درخواست پر اس کی بیوی کے زیورات خورد برد کرنے کے الزام میں ملزم شوکت علی اورپروین بی بی نامی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔پولیس رپورٹ کے مطابق محمد اقبال نے زیورات امانتا رکھے تھے جن کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ملزمان نے زیورات واپس کرنے سے انکار کردیا ۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ہے ۔&lt;br /&gt;(16)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)وزارت داخلہ کے احکامات کے بعدسیالکوٹ میں مقیم بلجیم ، اٹلی اور ائیر لینڈ کے رہائشی چار شہریوں کی حفاظت کیلئے خصوصی اقدامات کردئیے گئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ کی مختلف صنعتی فرموں میں معائنہ کا رکی حیثیت سے فرائض منصبی ادا کرنے والے چاروں غیر ملکی باشندوں کو آمدورفعت کے دوران اختیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی سخت کرنے کا مقصد ان غیر ملکی باشندوں کو کسی حادثہ سے بچانا ہے ۔&lt;br /&gt;(17)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تحصیل ناظم سیالکوٹ کے دفتر میں ٹیکس انسپکٹر خواجہ شجاعت جمیل پر تشدد اور ان کے ساتھ غنڈہ گردی کے خلاف اتفاق لیبر یونین ٹی ایم اے سیالکوٹ کا ایک ہنگامی اجلاس سینئر نائب صدر محمد شاہد بٹ کی صدارت میں منعقد ہو ا جس میں ٹیکس انسپکٹر شجاعت جیل پر تشدد کرنے والے نائب ناظمین مرزا طارق بیگ اور ڈاکٹر افتخار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سخت الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے نعرے بازی کی گئی اور وزیرا علی پنجاب میاں شہبا زشریف سے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے کاروائی کرنے کی اپیل کی گئی ۔ اجلاس میں متفقہ طو رپر ملزما ن کی عدم گرفتاری کی صورت میں ٹی ایم اے کے دفاتر کی تالہ بندی اور سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان بھی کیا گیا ۔ اجلاس میں عہدیداروں اور یونین کے ممبران کی کثیرتعداد نے شرکت کی ۔&lt;br /&gt;(18)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سیالکوٹ پولیس نے مختلف مقامات سے چھ ملزمان کو گرفتارکرکے ناجائز اسلحہ ، منشیات اور شراب کی بوتلیں برآمد کرلی ہیں۔تفصیلات کے مطابق تھانہ سبز پیر پولیس نے سبز کوٹ سے ملزم محمد جمیل کے قبضہ سے پستول ، تھانہ نیکاپورہ پولیس نے چوک علامہ اقبال سے ملزم سجاد کے قبضہ سے ہیروئن ، ملزم شاہد کے قبضہ سے115گرام ہیروئن ، اگوکی پولیس نے ملزم امجد کے قبضہ سے پستول ، تھانہ مراد پور پولیس نے ملزم جعفر کے قبضہ سے 20بوتل شراب اور تھانہ بیگووالہ پولیس نے ملزم کامران کے قبضہ سے پستول برآمد کرکے ان کے خلاف علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کرلئے ہیں ۔&lt;br /&gt;(19)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ اگوکی پولیس نے مظفر پور سے منشیات فروش کو بھاری منشیات سمیت گرفتار کرلیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم فضل جس کے خلاف منشیات فروشی کے پہلے بھی مقدمات درج ہیںڈیڑھ کلو گرام چرس فروخت کیلئے لے کر مظفر پور جارہا تھا جسے پولیس نے مخبری پر کاروائی کرکے گرفتار کرلیااور ملزم کے قبضہ سے منشیات برآمد کرکے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ محلہ داروںنے پولیس کاروائی کو سراہا ہے ۔&lt;br /&gt;(20)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ سمبڑیال کے علاقہ میں بھائی نے زرعی بنک کا ٹریکٹر بہن کے علم میںلائے بغیر فروخت کرکے لاکھوں روپے کی رقم خوردبردکرلی ۔ پولیس رپورٹ کے مطابق خورشید بی بی کے بھائی رفاقت علی نے چند سال قبل زرعی ترقی بنک سے مشترکہ اراضی پر ٹریکٹرقرضہ کے طور پر لیا تاہم جب رفاقت علی فوت ہوگیا تو اس کی عدم موجودگی میں خورشید بی بی کے دوسرے بھائی عاشق نے خورشید بی بی کی اجازت کے بغیر ہی ٹریکٹر فروخت کردیااور لاکھوں روپے وصول کرکے رقم خوردبرد کرلی تاہم جب اس حوالے سے خورشید بی بی نے بھائی سے پوچھا تو ملزم نے اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ۔ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں ۔&lt;br /&gt;(21)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ نیکاپورہ کے علاقہ سے اغوا ہونے والا شہری ملزمان کے چنگل سے آزاد ہوکر گھر واپس پہنچ گیا ۔ پولیس کے مطابق گنہ خورد کے ثناءاللہ کا بھائی کچھ عرصہ قبل تھانہ نیکاپورہ کے علاقہ سے نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا تھا جسے ملزمان نے گزشتہ اعلی صبح تھانہ صدر کے علاقہ میں ویران جگہ پر آزاد کردیا جس کے بعد وہ گھر واپس پہنچ گیا ۔ پولیس نے کاروائی شروع کردی ہے تاہم ملزمان کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے ۔ ورثاءکا کہنا ہے کہ مغوی کی رہائی تاوان کی رقم دینے کے بعد عمل میں آئی ہے ۔&lt;br /&gt;(22)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سیالکوٹ میں مختلف مقامات پر ڈکیتی ، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں 62لاکھ روپے سے زائد مالیت کے زیورات ، نقدی ، موبائل فون ، کار ، اشیاءخوردونوش اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ مراد پور کے علاقہ دسری میں چھ ڈاکو ایک شہری کے گھر داخل ہوگئے اور اسلحہ کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گھر سے ہزاروں روپے مالیت کے زیورات ونقدی لوٹ کرفرار ہوگئے ۔ تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقہ چک منڈاہر میں دو ڈاکوئوں نے اسلحہ کی نوک پر محمد شہزاد سمیت متعدد راہ گیروں سے ہزاروں روپے کی نقدی ، موبائل فون اور دیگر سامان چھین لیا ۔اسی تھانہ کے علاقہ چک رومالہ میں دو ڈاکوئوں نے اسلحہ کی نوک پر عمران سے ہزاروںروپے کی نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ۔ تھانہ کینٹ کے علاقہ بڑتھ میں بیرون ملک مقیم شہری محمد بشیر کے گھر سے اہل خانہ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاکر نامعلوم چور تین بیٹوں کے جہیز کے 20لاکھ روپے مالیت کے زیورات ، دو لاکھ روپے کی نقدی اور دیگر سامان چوری کرکے لے گئے ۔ تھانہ سول لائن کے علاقہ حکیم خادم علی روڈ سے بسم اللہ گودام سینٹر سے نامعلوم چور رات کی تاریکی میں28لاکھ روپے سے زائد مالیت کے چاول ، دالیں اور دیگر اشیاءخوردونوش لے کر فرار ہوگئے ۔ تھانہ کوتوالی کے علاقہ رامتلائی سے رضوان کی موٹر سائیکل نامعلوم چور لے گئے ۔ تھانہ پھلورہ کے علاقہ جاہڑ میں ایک شہری بابرکی دس لاکھ روپے مالیت کی نئی کار نمبریLWZ-3954ہونڈا سٹی نامعلوم چور لے گئے ۔پولیس مصروف کاروائی ہے ۔&lt;br /&gt;(23)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)بڈیانہ پولیس نے مقابلہ کے بعد ڈکیتی کے دوران دو شہریوں کے قتل سمیت درجنوں ڈکیتی وراہزنی کی وارداتوں میں مطلوب خطرناک دو اشتہاری مجرمان کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ہے ۔ ایس ایچ او بڈیانہ انسپکٹر رانا ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ پولیس پارٹی نے چھاپہ مار کر دو خطرناک اشتہاری مجرمان بشیر عرف بشیراں اور محمد رفیع عرف منشی کو اسلحہ سمیت گرفتار کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان انتہائی خطرناک ہیںاور انہیںمزاحمت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ بھی کی تھی تاہم دوران تفتیش ملزمان نے ڈکیتی کی وارداتوں میں دوشہریوں کے قتل سمیت ڈکیتی اور راہزنی کی20سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے ۔ دریں اثناءڈی پی او سیالکوٹ نے پولیس کارکردگی کوسراہا ہے اور کہا ہے کہ دونوں اشتہاری مجرمان علاقہ میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے اور پولیس کی کاروائی کو عوام نے بھی سراہا ہے ۔&lt;br /&gt;(24)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ صدر پسرور کے علاقہ کوٹلی حاجی پور میں ڈکیتی کے مقدمہ کا خطرناک اشتہاری مجرم پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہوگیا ۔ پولیس کے مطابق اشتہاری مجرم فیصل کی اطلاع ملنے پر اس کی گرفتاری کیلئے ملزم کے بھائی شاہ نواز کے گھر چھاپہ مارا تاہم پولیس کو دیکھ کر دونوں ملزمان چھت کے راستہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔ پولیس نےمقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے تاحال ملزمان کی گرفتاری عمل میںنہ لائی جاسکی ہے ۔&lt;br /&gt;(25)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ صدر پسرور کے موجع بونکے بکی میں بارہ ملزمان نے سابقہ تلخ کلامی پر حملہ آور ہوکر باپ بیٹے سمیت چار افراد کو تشدد کرکے لہولہان کردیااور فرار ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ظفر اللہ اور نواز وغیرہ بارہ افراد نے باہم صلاح مشورہ ہوکر اپنے ہی گائوں کے مختار کے گھر داخل ہوگئے اورکلہاڑی کے وارکرکے مختار اورا س کے والد محمد اسلم کو لہولہان کردیا تاہم جب انہیں بچانے کیلئے عبدالرئوف اور عبدالغفور نے مداخلت کی تو ملزمان نے انہیںبھی مار مار کر شدید زخمی کردیااور موقعہ سے قتل کردینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے ۔ زخمیوں کو سول ہسپتال داخل کروادیاگیا جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں تاحال کوئی گرفتاری عمل میںنہ لائی جاسکی ہے ۔&lt;br /&gt;(26)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ ستراہ کے موضع رام پور میں آٹھ ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد شدید زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق زخمیوں محمد افضل اور احسان کو مقامی ہسپتال میں داخل کروادیا جاچکا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم ملز م عبدالوحید اور اس کے دےگر سات ساتھیوں کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزمان کی فائرنگ سے علاقہ میں خوف وہراس پھیل گیااور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے جس کے بعد ملزمان موقعہ سےا سلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے ۔&lt;br /&gt;(27)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ ستراہ کے موضع کوٹلی نوشہرہ میں اشتہاری مجرم تین ساتھیوں سمیت پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہوگیا ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمہ میںمطلوب خطرناک اشتہاری مجرم غیاث محمد کی گرفتاری کیلئے پولیس کی بھاری نفری نے گائوں میں شیر محمد کے گھر چھاپہ مارا جہاں مجرم اشتہاری غیاث محمد ، شیر محمداور دیگر دو ساتھی سعداللہ اور ظفر اقبال موجود تھے تاہم پولیس کو دیکھ کر ملزمان موقعہ سے پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جن کا تعاقب بھی کیا گیا لیکن ملزمان کی گرفتاریاں عمل میں نہ لائی جاسکیں ۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے ۔&lt;br /&gt;(28)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈی ایس پی پسرور سلیم صادق کے حکم پر تھانہ سبز پیر پولیس نے لڑائی جھگڑے کے مقدمہ میں ملوث ملزم کو پناہ دینے کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم علی رضا کو لڑائی جھگڑے کے مقدمہ میں مطلوب ہے کو ا سکے بھائی حسنین رضا نے گھر میںپناہ دی جس کی گرفتاری کیلئے چھاپہ ماراگیا تو ملزم حسنین رضا نے بھائی علی رضا کو فرار کروایا تاہم بعد میں پولیس نے مزلم حسین رضا کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔&lt;br /&gt;(29)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)اپڈا سب ڈویثرن کوٹلی لوہاراں میں ایس ڈی او اور لائن مین کی ملی بھگت سے گھریلو اور کمرشل تین سو سے زائد ڈیمانڈ نوٹسز کے اجراءکا انکشاف ہوا ہے ۔باخبر زرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ واپڈا کوٹلی لوہاراں میں تعینات ایس ڈی او سیم کاشف اور لائن مین جاوید کی ملی بھگت سے جاری کئے جانے والے ڈیمانڈ نوٹسز کی تخمینہ رپورٹ اور اجراءپر جعلی دستخط کرکے عوام سے لاکھون روپے وصول کئے گئے ہیں اور محکمہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ واپڈا کے ایک اہلکا رنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایس ڈی او اور متعلقہ لائن مین خراب اور ناقابل مرمت میٹروں کو تبدیل کرکے پیسے خود ہڑپ کرلیتے ہیں اور ہر فائل کی اندراج کا ایک سو روپے الگ وصول کیا جاتا ہے ۔ اس قدر وسیع کرپشن کا رازافشاں ہونے پر ایس ڈی او پندرہ دن کی چھٹی لے کر چلا گیا ہے جبکہ سرکاری ٹیلی فون بھی بند کردیا گیا ہے ۔ مقامی رفاعی تنظیموں اور مقامی ناظم عبدالمنان سڈل نے ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ کرپٹ افسراور عملہ کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے ۔&lt;br /&gt;(30)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ سیدحامد حسین نے دربار امام علی الحق کے قریب ایک شہری طارق شاہ جو دربار امام علی الحق شہید کا سجادہ نشین بھی ہے کی ملکیتی اراضی پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دینے اور جگہ کو سیل کرنے کی کوشش کرنے کے الزامات پر مبنی تحصیل ناظم سیالکوٹ امتیا زالدین ڈار کے خلاف دائر کردہ رٹ درخواست پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) محمد امین وینس اور ایس ایچ او تھانہ نیکاپورہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور سماعت13اکتوبر تک ملتوی کردی ہے ۔ شہری طارق شاہ نے اپنے وکیل رانامحمدنعیم جاوید کی وساطت سے دائر کردہ رٹ درخواست میں الزام لگایا ہے کہ تحصیل ناظم امتیاز الدین ڈار تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرکے اس کی زمین پر ناجائز طو رپر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔&lt;br /&gt;(31)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)مظفر پور میں ادھار دی ہوئی پندرہ ہزار روپے رقم کی واپس مانگنے پر ملزمان نے دھلائی کے بعد بیس ہزار روپے اور طلائی چین چھین لی۔ بتایا گیا ہے کہ تھانہ اگوکی کے علاقہ مظفرپور میں بیوہ گلزار بیگم کا محنت کش بیٹا محمد جمیل نصیر عرف دانی کو دی ہوئی پندرہ ہزار روپے کی رقم واپس لینے گیا تو وہاں ملزمان پرنس اور علی وغیرہ نے چھری کے پے در پے وار کر کے محمد جمیل کو لہولہان کر دیا اور اس کی جیب سے بیس ہزار روپے اور گلے سے طلائی چین لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے زخمی کو ہسپتال میں داخل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درجکر لیا ہے۔&lt;br /&gt;(32)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ایڈیشنل سیشن جج سیالکوٹ محمد شیراز کیانی نے تھانہ کوٹلی سید امیر کے مقدمہ قتل میں ملوث احسان الٰہی ولد لیاقت علی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 7جنوری 2007کو 8/9سالہ شازیہ اختر دختر اللہ دتہ کو اینٹ مار کر قتل کیا تھا۔&lt;br /&gt;(33)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سول جج سیالکوٹ محمد شعیب عدیل نے تھانہ مراد پور کے مقدمہ ناجائز اسلحہ میںملوث ملزم نعیم الرحمن کو جرم ثابت ہو جانے پر ایک ساہ قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔&lt;br /&gt;(34)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)بہن کے ساتھ سکول سے بچوں کو ے جانے والے خاتون کو کار سوار نامعلوم ملزمان اسلحہ کے زور پر اغواءکر کے لے گئے۔ بتای اگیا ہے کہ تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقہ میانی میں محمد اکبر یٰسین کی بیوی صائمہ بی بی اپنی بہن عابدہ بی بی کے ہمراہ سکول سے بچوں کو لینے جا رہی تھی کہ سکول کے قریب کار سوار نامعلوم ملزمان اسلحہ کے زور پر صائمہ بی بی کو زبردستی اغواءکر کے لے گئے ۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مغویہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>مکتوب گو جرانوالہ ۔ تحریر : امجد ساگر اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_2424.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 29 Sep 2008 21:58:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-578651214093482823</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgk9GyeaWn_C7k4_r24qopLA-NFgolbtTKTW3AWKVOGH80Ona4DctKZdjwjr8aLDLNSedB6FAyBPK3cH6IrT5GvV1tqs5OLPuA0WfkFBdtsOEkAf8Re5neabMpmNwTmWdDh1y7gZQyPBdw/s1600-h/st29-11.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251477069729613490" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgk9GyeaWn_C7k4_r24qopLA-NFgolbtTKTW3AWKVOGH80Ona4DctKZdjwjr8aLDLNSedB6FAyBPK3cH6IrT5GvV1tqs5OLPuA0WfkFBdtsOEkAf8Re5neabMpmNwTmWdDh1y7gZQyPBdw/s400/st29-11.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiV4K93SCDzlZYP1TLmNyncFunzlxLCXx8Pri56Dka0N-4ekMs3ROO9NRCyp2M-XpDHQPCNitr0_AYoZCAFSnwnmB5W_uKFJg6zR6yKtCznyeqjQLgnTG6TDM7S7dZQZzRd4ft5nJuVCPA/s1600-h/st29-10.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251476826496111458" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiV4K93SCDzlZYP1TLmNyncFunzlxLCXx8Pri56Dka0N-4ekMs3ROO9NRCyp2M-XpDHQPCNitr0_AYoZCAFSnwnmB5W_uKFJg6zR6yKtCznyeqjQLgnTG6TDM7S7dZQZzRd4ft5nJuVCPA/s400/st29-10.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiPWy8-VWEF3t9m_4pK3Fj_mck4GSJTQjN70qre0Rntvs-vzrnaT1qP3uCKMogMgPg82BWKSZWybIK0rSTviMrBFWf9-s2DbY7TpLwo-ng78Hr1hRkAWWhy245VmH0WkQXO5SV1KNvjb3s/s1600-h/st29-9.jpg"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg_rq3aY0LbRorIJaHSAoVNCQIvRLPJIwoKg2cCeVZg8TzxY6A9IQ7j8qD2_mWAuF_b9FXQx_d_8MkEaMvjTOJjgyF9vzZ31Urr7locpUwMZRiN0R7mA-a7COS0gmr02yzxF3AUbWmHM0c/s1600-h/st29-8.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251476445502091122" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg_rq3aY0LbRorIJaHSAoVNCQIvRLPJIwoKg2cCeVZg8TzxY6A9IQ7j8qD2_mWAuF_b9FXQx_d_8MkEaMvjTOJjgyF9vzZ31Urr7locpUwMZRiN0R7mA-a7COS0gmr02yzxF3AUbWmHM0c/s400/st29-8.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg5AvM4toRFPthMr8e0rbZ3fphPysUKeTu_ahAmYP3RahTi5g9_p9UzgLOITfmiLINuxA8HC2ymVzS937ORaTWDmHE86cHs36cT88SC0iguMydCQd0vWbI1HOlSQa_yCtXuyB0Hqbh7ubY/s1600-h/st29-7.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251476212412045394" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEg5AvM4toRFPthMr8e0rbZ3fphPysUKeTu_ahAmYP3RahTi5g9_p9UzgLOITfmiLINuxA8HC2ymVzS937ORaTWDmHE86cHs36cT88SC0iguMydCQd0vWbI1HOlSQa_yCtXuyB0Hqbh7ubY/s400/st29-7.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjEa0bkuMRaqjrdIx4Gn3bvVFoYbqHJVF-sc1VQjBsIvEsd8_WUrKUGNzQn2EYTlwzFXgB6m8pazsAiyTFl4TK_I2FHpk_Os9JyQYs2y3EdaWs0FjDLQbc3imUhG2l_jpVg1am2G1LqcKY/s1600-h/st29-6.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251475969554410818" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjEa0bkuMRaqjrdIx4Gn3bvVFoYbqHJVF-sc1VQjBsIvEsd8_WUrKUGNzQn2EYTlwzFXgB6m8pazsAiyTFl4TK_I2FHpk_Os9JyQYs2y3EdaWs0FjDLQbc3imUhG2l_jpVg1am2G1LqcKY/s400/st29-6.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjw3njfACQQ7rUAQUk8BOZ4XnWXnTAaZeEFWb5ucI3Rbe233SaTRsw0Ih5wvBECezJ2a1jYZBLBStLxmn7je_QqDtMkWDpEE2bVKd9ZlW_uMJhbq2oTz23oFJ9uD7JbeJgLCQcUsYcTorA/s1600-h/st29-5.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251475777729042482" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjw3njfACQQ7rUAQUk8BOZ4XnWXnTAaZeEFWb5ucI3Rbe233SaTRsw0Ih5wvBECezJ2a1jYZBLBStLxmn7je_QqDtMkWDpEE2bVKd9ZlW_uMJhbq2oTz23oFJ9uD7JbeJgLCQcUsYcTorA/s400/st29-5.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh02kk4kxr-bWIX7NQckXx_8E6k7fQM4R5QLWw5zpGY7vzQARNJw70ONBoDn9C0LWXdyOnS-WAEeQs8PxebIpLblzGfdfaj7GzXF4KLwCOJ0mCThIjSgDG9FaAlE1oEMTd5C4DgVONiyUE/s1600-h/st29-4.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251475530871914226" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh02kk4kxr-bWIX7NQckXx_8E6k7fQM4R5QLWw5zpGY7vzQARNJw70ONBoDn9C0LWXdyOnS-WAEeQs8PxebIpLblzGfdfaj7GzXF4KLwCOJ0mCThIjSgDG9FaAlE1oEMTd5C4DgVONiyUE/s400/st29-4.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjqjXota-aqJsyCj8VYsANQ6k4m-0Kxk3iA8BnSNkBsBVP2OrZYrP8wpMPV95_kSc-FOaic1AD0bB_kYiS3XXzdSwWDu1SS3DgST2M2Oew_URKRRbio0sZjfChCNg-p1CDLM1n0Fvwkq5s/s1600-h/st29-3.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251475292798374370" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjqjXota-aqJsyCj8VYsANQ6k4m-0Kxk3iA8BnSNkBsBVP2OrZYrP8wpMPV95_kSc-FOaic1AD0bB_kYiS3XXzdSwWDu1SS3DgST2M2Oew_URKRRbio0sZjfChCNg-p1CDLM1n0Fvwkq5s/s400/st29-3.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh40hIzoFm-1foKrtegrwIGOELHft6S4TXEjOFzMTNnPo9Xt8SBvgMK_KqRCAh1us0y5jTLxWqKdzM0MQUGbL0VYhnx0QiC5hnu7MFr6vbmUgSbvHn_Jd62o82CICtN2Z0HrNJ_JgoMJzc/s1600-h/st29-2.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251474995701459378" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh40hIzoFm-1foKrtegrwIGOELHft6S4TXEjOFzMTNnPo9Xt8SBvgMK_KqRCAh1us0y5jTLxWqKdzM0MQUGbL0VYhnx0QiC5hnu7MFr6vbmUgSbvHn_Jd62o82CICtN2Z0HrNJ_JgoMJzc/s400/st29-2.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;صوبائی سیکرٹری اطلاعات مرکزی جمعیت علماءپاکستان الحاج مولانا محمد اکبر نقشبندی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا عظیم تحفہ قرن مجید ہے جو ایک مکمل ضابطہ حیات اور امن و سلامتی کا سرچشمہ نے جب تک مسلمان قرن حکیم کے قوانین پر عمل پیرا رہے بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے مدمقابل نہ ٹھہر سکی مگر جب مسلمانوں نے قرن پاک سے انحراف کیا تو ذلت و رسوائی انکا مقدر بن گئی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسجد انوار مدینہ جامعہ کیلانیہ میں جشن نزول قرن عبدالوحید ربانی ‘قاری محمد سلیم زاہد الحاج سرفراز احمد تارڑ ‘مفتی محمد حسین صدیقی ‘قاری مدثر حسین مجددی ‘پیر محمد اشرف شاکر ‘مولانا محمد عارف چشتی ‘محمد جمیل اعظم بٹ ‘عمران تارڑ اور دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا محمد اکبر نقشبندی نے کہا کہ بدترین نتائج بھگتنے کے باوجود سابقہ اور موجودہ حکومت ایک ایسی امریکہ نواز پالیسی پر مل پیرا ہے ۔ جس سے اب تک نقصان اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملا امریکہ مطلب کا دوست ہے ہمیںملکی مفاد میں دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں اپنے کردار پر نظرثانی کرنا ہو گی ۔تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے امیر صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار نے کہا ہے کہ نئی نسل کو قر کے سائنسی علوم سے روشناس ہونے اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے اور اﷲ اور رسول کے احکامات ”غور وفکر کرو اور علم حاصل کرو“ پر پوری شدت اوت تندہی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیم کے معاملات اور امور کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ضلعی امیر گوجرانوالہ صوفی محمد اسلم خان ‘نائب امیر پیر گلزار احمد ‘پیر احمد شاہ ‘قیصر محمود حاجی اور دیگر عہدیدار موجود تھے ۔ لاثانی سرکار نے کہا کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کو بہت سے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور جدید عہد کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے نوجوان نسل کو علم و ہنر کے ہتھاروں سے مسلح کرنے ‘دینی و دنیوی اور سماجی ضرورتوں کے مطابق کردار سازی اور تربیت کے اقدامات کرنا بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرونی و بیرونی حالات اور خلفشار کے پیش نظر نوجوانوں پر ذمہ داریوں کے بوجھ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ جس سے عہدہ بر Èءہونے کیلئے حکمرانوں ‘سیاسی اور مذہبی جماعتوں تنظیموں کے فرائض بھی بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں تنظیم مشائخ عظام ایسے باکردار اور تربیت یافتہ نوجوان تیار کر رہی ہے جو ان تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے نوجوانوں کو تنظیم مشائخ عظام کے پلیٹ فارم پر  È کر دین و ملت اور ملک و قوم کیلئے اپنی صلاحیتوں اور خدمت کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے ۔سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سپیشل مجسٹریٹ پرائس کنٹرول عبدالغفور چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتی ہدایت پر ڈی سی او گوجرانوالہ کی نگرانی میں گراں فروشوں کیخلاف  Èپریشن جاری رہیگا اس میں حائل سیاسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے قومی مجرم ہیں ۔ یہ معافی کے مستحق نہیں کار سرکار مداخلت کرنیوالے ٹائون نائب ناظم طارق جاوید بٹ اور اس کے حواری حکومتی گراف کو عوامی نظروں میں زیرو کرنے کیلئے منفی پراپیگنڈہ کے تحت کار سرکار میں مداخلت کر کے مہنگائی کو پروان چڑھانے کے چکروں میں ہیں ۔ ہم عوامی خادم ہیں ہم دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہیں ہم یوٹیلٹی بلز ادا کرتے ہیں ۔ ہمیں تنخواہیں ملتی ہیں عوام کو ریلیف دینا ہمارا اولین فریضہ ہے ۔ انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ کار سرکار میں مداخلت کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ۔پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں دینی مدارس کی حیثیت بجلی کے ٹرانسفارمرز جیسی ہوتی ہے کہ وہ ہوتے تو سب کیلئے ہیں لیکن ان سے روشنی اور حرارت وہی گھرانے حاصل کر پاتے ہیں جو باقاعدہ کنکشن لیتے ہیں وہ گذشتہ روز ایمن  Èباد وہنڈو روڈ پر واقع چننیاں موڑ میں ایک نئے دینی مدرسہ ”تعلیم الاسلام “ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا فروغ سوسائٹی کے تمام طبقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور جناب نبی اکرم نے اس ذمہ داری سے گریز کرنیوالوں کو قابل سزا قرار دیا ہے ۔ تقریب سے مولانا عبدالرئوف فاروقی اور مولانا شاہنواز فاروقی کے علاوہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے بانی مولانا قاری سعید الرحمن فاروقی نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ مولانا زاہد الراشدی نے سینکڑوں افراد کی موجودگی میں مدرسہ تعلیم الاسلام چننیاں موڑ کا سنگ بنیاد رکھ کر اس کی جلد تکمیل اور  Èبادی کیلئے دعا کی ۔پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی عید الفطر کی نماز شہر کی قدیمی عید گاہ نزد قبرستان کلاں میں ٹھیک نو بجے(پرانے  Èٹھ بجے) پڑھائینگے ۔ جبکہ ان کا خطاب ساڑھے  Èٹھ بجے شروع ہو جائیگا۔ مصنوعی مہنگائی کے خاتمہ اور گراں فروشوں کی پشت پناہی کرنیوالے ٹائون نائب ناظم اور اس کے ساتھیوں نے کار سرکار مداخلت اور افسران کو ہراساں کرنیوالوں کیخلاف عوامی سیاسی سماجی حلقوں نے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ گوجرانوالہ کی سماجی و سیاسی شخصیات نے ٹائون نائب انظم اور اس کے ساتھیوں کی اوچھی حرکت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ڈی  Èئی جی گوجرانوالہ ذوالفقار احمد چیمہ اور ڈی سی او گوجرانوالہ سے مطالبہ کیا ہے انہیں فوری گرفتار کیا جائے اگر انہیں گرفتار نہ کیا گیا تو مہنگائی کو کنٹرول کرنیوالے افسران خود کو غیر محفوظ سمجھیں گے ۔پاکستان تحریک انصاف عوامی امنگوں کی ترجمان ہے اور عمران خان وقت کی  Èواز بن کر ابھرے ہیں وہ دن دور نہیں جب تحریک انصاف پاکستان کو ایک  Èزاد اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا خواب پورا کریگی ۔ ان خیالات کا اظہار سردار عبدالماجد عارف ضلعی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف گوجرانوالہ نے سیٹلائٹ ٹائون مارکیٹ گوجرانوالہ میں منعقدہ ممبر شپ کیمپ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کو پاکستان تحریک انصاف کا قلعہ بنایا جائیگا۔ عمران خان سے عوام کی لازوال محبت اس امر کا ثبوت ہے کہ عوام ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں اس موقع پر معین احمد بٹ ایڈووکیٹ  Èرگنائزر ممبر شپ کیمپ رانا توقیر ‘چوہدری نذیر ‘ریاست کمبوہ ‘و ایمی خان موجود تھے ۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے کیمپ میں شرکت کر کے پارٹی کی رکنیت سازی حاصل کی اور پارٹی کے منشور کو سراہا ۔بااثر افراد نے غریب کھوکھے کے مالک کا جینا حرام کر دیا۔ تفصیل کے مطابق رتہ جھال کے قریب چھچھروالی کا رہائشی بابا رمضان نے کھوکھا لگا رکھا ہے اور اپنے بچوں کیلئے روزی روٹی کماتا ہے اور علاقہ کے بااثر افراد محمد یوسف اور لال دین وغیرہ نے معمولی سی بات پر اس کا جینا حرام کر دیا ہے کبھی ٹرالی ٹریکٹر قریب سے گذار کر ایسے پریشان کرتے ہیں اور کبھی کھوکھے کو  Èگ لگانے کی باتیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے ”دن“ کی وساطت سے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ افراد کی اصلاح کی جائے انہوں نے ڈی  Èئی جی گوجرانوالہ سمیت افسران بالا سے اصلاح و احوال کا مطالبہ کیا ہے ۔گوجرانوالہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر ریاض محمود باجوہ ‘سینئر نائب صدر شیخ محمد طارق نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی  Èخری تاریخ جو کہ تیس ستمبر 2008 ءہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس گوجرانوالہ سے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہونیوالے ریونیو میں خاضی کمی ہونے کا اندیشہ ہے جس کی بڑی وجہ گوجرانوالہ سے بہت سارے صنعتکار و تاجر حضرات اعتکاف و عمرہ کی سعادت کیلئے چلے گئے ہیں اور جو یہاں موجود ہیں وہ رمضان المبارک میں اوقات کار میں کمی اور عید کی تیاریوں میں مصروفیات کی بناءپر اپنی انکم ٹیکس ریٹرن وقت پر جمع نہیں کروا سکے گے ۔ جس سے محکمہ انکم ٹیکس ریونیو میں وہ اعدادوشمار حاصل نہیں کر پائینگے جس کا حکومت نے ٹارگٹ رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے محکمہ انکم ٹیکس کے احکام سے اپیل کی کہ ان ساری وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ کو چاہیے کہ فورا ہی انکم ٹیکس ریٹرن  Èخری تاریخ تیس اکتوبر تک بڑھا دی جائے تاکہ کاروباری اور تاجر پیشہ حضرات انکم ٹیکس ریٹرن مقررہ تاریخ تک جمع نہیں کرا سکے وہ بھی جمع کرا سکیں اس اقدام سے اور بھی کافی لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائینگے ۔ جس سے حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہو گا اور حکومت اپنا ٹارگٹ بھی  Èسانی سے پورا کر سکے گی ۔عوام کی بہتر طریقہ سے خدمت کر کے خلفائے راشدین کے دور کی یاد تازہ کرینگے ۔ غریب عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار ایس ایچ او تھانہ اروپ چوہدری محمد نواز نے گذشتہ روز مسجد میں لگائی جانیوالی کھلی کچہری میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کیلئے تھانے کے دروازے غریب عوام کیلئے دن رات کھلے ہیں اور ظالم اور جاگیرداروں کیلئے بند ہیں ۔ عام غریب شہری کو عزت اور پذیرائی ملے گی ۔ میرٹ کا بھول بھالا کرینگے ۔ علاقہ میں جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کر کے جرم کا قلع قمع کرینگے اور معاشرہ کو منشیات کی لعنت سے پاک کر کے امن و امان کا گہوارہ بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرینگے ۔ مسلم لیگ (ق) کے ضلعی رہنما اور این اے96کے ٹکٹ ہولڈر شیخ نوید نے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) کے دو تھنک ٹینک کے دورہ چین کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور چین کو مل کر مسائل حل اور امن قائم کرنے کےلئے کام کرنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ نوید نے کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کو تسلیم کرانے کےلئے ہمیں اپنے خیر خواہوں سے دوستی کو مزید مضبوط کرنا ہو گا۔ قومی سلامتی اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کےلئے قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں غیر واضح ہیں۔ حکمران ملکی حالات اور عوام کی مشکلات پر غور کریں۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور ملکی سلامتی کےلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ممتاز شاعر تنوےرصہبائی گذشتہ روز قضائے الہی سے انتقال کرگئے جنہےں سےنکڑوںسوگواروں کی موجودگی مےں جگنہ قبرستان مےںسپردخاک کردےاگےا۔ نمازجنازہ مےں پروفےسرمحمداقبال جاوےد، پروفےسرمحمدمشتاق،سےدمحمودبسمل، جان کاشمےری، اقبال نجمی، فرزند علی شوق اورعلم و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثےرتعداد مےں شرکت کی۔ مرحوم کی رسم قل گذشتہ بروز پےر صبح آٹھ بجے انکی رہائش گاہ واقع ٹرنکانوالہ بازاربالمقابل اےشےن ٹےنٹ سروس سےالکوٹ روڈ گوجرانوالہ مےںاداکی گئی۔ تنوےر صہبائی مرحوم مےانوالی مےں 1949مےں پےداہوئے اورمحکمہ تعلےم مےں بطورسےنئر لائبرےرےن خدمات بھی انجام دےتے رہے۔عید کی خریداری کی وجہ سے شہر کے تمام تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں جبکہ تمام تھانہ انچارج اور ڈی ایس پی بھی تجارتی مراکز میں پیدل گشت کرینگے ۔عید الفطر کی  Èمد کے پیش نظر گوجرانوالہ سے اپنے اپنے  Èبائی علاقوں کو جانیوالے شہریوں کا سلسلہ گذشتہ روز سے مزید زور پکڑ گیا جس کی وجہ سے بسوں اور ویگنوں کے اڈوں پر بے پناہ رش دیکھنے میں  Èیا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اوور چارجنگ روکنے کیلئے کمیٹیاں قائم کرنے کے باوجود بین الاضلاعی اڈوں پر مسافروں سے زائد کرائے وصول کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ تفصیل کے مطابق گوجرانوالہ سے دیگر شہروں کو جانیوالے مسافروں کا سلسلہ گذشتہ روز زور و شور سے جاری ہو گیا۔ اکثر سرکاری ملازمین نے عید کی چھٹیوں کیساتھ دو چھٹیاں خود لے لیں اس طرح اپنے اپنے  Èبائی علاقوں کو جانیوالے سرکاری ملازمین 8 دن کے بعد اپنے اپنے دفتروں میں حاضری دینگے ۔ دوسری طرف سرکاری ملازمین کیساتھ ساتھ مزدور اور دیگر طبقہ کے افراد بھی اپنے اپنے  Èبائی علاقوں کو روانہ ہونا شروع ہو گئے ۔ زائد کرائے وصول کرنے پر مسافروں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بعض اڈوں پر بسوں کی تعداد پوری نہ ہونے کے باعث بھی مسافروں کو سفر کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ زائد کرائے وصول کرنیوالوں اور بسوں کی تعداد پوری نہ کرنیوالوں کیخلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے۔واپڈا ٹائون میں ملازمین کے مینجمنٹ کمیٹی کیساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ایمپلائز یونین نے اپنے مطالبات منظور ہونے پر مینجمنٹ کمیٹی کے نائب صدر میاں احسان اور معززین رہائشی ‘چیئرمین مقصود احمد مغل ‘خالق انجم محبوب ‘عمران الحسن بٹ کی کاوشوں کو سراہا اور ایمپلائز یونین کو عید الائونس اور تنخواہ کی فوری فراہمی کو خوش ئند قرار دیا ۔ ایمپلائز یونین کے نائب صدر چوہدری محمد ریاض ‘مہر یوسف ‘طالب حسین ‘محمد منیر نے مطالبات منظور اور مراعات دینے کی یقین دہانی پر تمام ملازمین کو اپنے فرائض ادا کرنے کا اعلان کیا۔ مذاکرات کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرنیوالوں کا شکریہ ادا کیا۔سابق ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب خواجہ صدیق اکبر کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر خواجہ عمر فاروق کی رسم چہلم ان کی رہائش گاہ 58 اے سیٹلائٹ ٹائون میں ادا کی گئی ۔ رسم چہلم میں سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد صف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خواجہ نعیم ‘خرم دستگیر خان ایم این اے ‘ریٹائرڈ بریگیڈیئر خواجہ ہمایوں ‘سابق کمشنر اسلام باد خواجہ طارق ‘سابق وزیر اعلی پنجاب مشیر میاں اظہر حسن ڈار ‘میاں سعودالحسن ڈار سابق ایم پی اے ‘ناظم میاں ودود حسن ڈار ‘میاں مشتاق حسین پگانوالہ ‘سابق میئر الحاج محمد اسلم بٹ ‘سابق ڈپٹی میئر حاجی سیف الدین بھٹی ‘خصوصی عدالت کے سابق جج خواجہ جاوید احمد ‘ممتاز صنعتکار خواجہ خالد عزیز ‘سٹی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی چوہدری محمد صادق ‘میر محمد سرور ‘ملک عبدالخالق ‘میاں منظور حسین ‘میاں نیئر منظور ‘خواجہ محمد عثمان ‘پیر غلام فرید سابق ایم پی اے ‘سابق نائب ناظم تحصیل صدر گوجرانوالہ ‘سردار انعام الحق ‘ڈاکٹر فرخ بشیر ناگی ‘خواجہ قمر راٹھور ‘نعیم اﷲ بٹر ‘میاں محمد افضل ایڈووکیٹ ‘ڈاکٹر صف جاوید سمیت صنعتکاران ‘تاجروں ‘سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ مرحوم کی رسم چہلم کی دعا مغفرت مولانا قاری محمد عبداﷲ نے کروائی ۔پاکستان پیپلز پارٹی ضلع گوجرانوالہ کے سیکرٹری اطلاعات محمد نعمان عزیز ایڈووکیٹ اور سٹی گوجرانوالہ کے سیکرٹری اطلاعات چوہدری محمد صادق نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صدر صف علی زرداری نے اقوام متحدہ میں خطاب کے موقع پر دہشت گردی اور بدامنی پر پاکستان کا موقف جس انداز اور جرات سے پیش کیا ہے اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدر صف علی زرداری نے امریکی مداخلت کو امریکہ میں ہی مسترد کر دیا اور پاکستان کے اندرونی معاملات اور سرحدوں کی خلاف ورزی کی مذمت کی ۔ جس سے پوری قوم کے سر فخر سے بلند ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی اور استحکام کیلئے دنیا کے امیراور بڑے ممالک کی طرف سے فرینڈز ف پاکستان کا قیام اور پاکستان کی بھرپور امداد کا اعلان صدر صف علی زرداری کی شاندار سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ ج ان کی سفارتی کوششوں اور جمہوری استحکام کی وجہ سے پاکستان کے دوستوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی خارجہ پالیسی کو اپناتے ہوئے پاکستان کے دنیا بھر کے تمام ممالک سے بہترین تعلقات بنائے گی اور خصوصا عرب ممالک سے قریبی اور برادرانہ تعلقات بڑھائیگی ۔ انہوں نے صدر صف علی زرداری کے دورہ امریکہ پر تنقید کرنیوالوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انہیں بیانات اور پالیسیوں کی وجہ سے قوم سے ان کو مسترد کر دیا ہے ۔ چنداحساس کمتری کے شکار سیاستدان پاکستان کی ترقی نہیں دیکھ سکتے ۔ پاکستان کو دنیا کے شانہ بشانہ چلنا ہو گا۔ل پاکستان طلباءاجتماع طلباءکے حقوق کی واز بلند کریگا۔ جمعیتہ طلباءاسلام کے زیر اہتمام ل پاکستان طلباءاجتماع تیرہ ‘چودہ ‘پندرہ اکتوبر کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعیتہ طلباءاسلام صوبہ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات حافظ خرم شہزاد نے طلباءاجتماع کے سلسلہ میں مختلف مقامات پر خطاب اور علماءکرام سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔ انہوں نے علامہ زاہد الراشدی ‘مفتی محمد عیسی خان ‘مولانا سید عبدالمالک شاہ ‘بابر رضوان باجوہ ‘مولانا شیخ امتیاز حسین ‘عثمان منصوری ‘عثمان عمر ہاشمی ‘قاری عبیداﷲ عامر ‘مولانا صبغت اﷲ مروت سے خصوصی ملاقاتیں کی اور ل پاکستان طلباءاجتماع کے دعوت نامے دیئے ۔اس موقعہ پر انہوں نے بتایا کہ طلباءاجتماع ملک میں طلباءکا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہو گا۔ جس میں پاکستان و ہندوستان کے علماء‘دینی مدارس اور کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء‘جمعیت علماءاسلام کے قائدین ‘اسلامی ممالک کے سفراءبھرپور شرکت کرینگے ۔ اجتماع کی تیاریوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اجتماع کا دوسرا دن چودہ اکتوبر مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کے نام سے منسوب ہو گا اور اس دن عظیم الشان مفتی محمود کانفرنس ہو گی ۔ جس میں مفتی محمود کے علمی ‘مذہبی ‘ملی و سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا کیونکہ چودہ اکتوبر مفتی محمود کا یوم وفات ہے ۔بھٹو کا روٹی ‘کپڑا اور مکان والا مشن پورا کیا جائیگا۔ پیپلز پارٹی عوام کی حالت بدل کر دم لے گی ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے بلو بٹ صدر پی پی پی گوجرانوالہ کینٹ کی طرف سے دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں اظہر حسن ڈار نے کہا کہ صف علی زرداری کی قائدانہ صلاحیتیں سب تسلیم کرتے ہیں ۔ روٹی ‘کپڑا اور مکان کا نعرہ محص نعرہ نہیں بلکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا جسے ہر حال میں پورا کیا جائیگا۔ اس کیلئے پیپلز پارٹی کو وقت درکار ہے ۔ خالد پرویز بلو بٹ نے کہا کہ صف علی زرداری سے عوام کو بے حد توقعات وابستہ ہیں ۔ دہشت گردی قومی ترقی کی راہ میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ہماری بہن محترمہ بے نظیر بھٹو خود اس دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کواپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق کھتے ہوئے پیپلز پارٹی کیساتھ تعاون کرنا چاہیے ۔ حالیہ خود کش حملوں سے پاکستان کا شدید نقصان ہوا ہے ۔ تقریب میں میاں سعید ‘ضلعی فنانس سیکرٹری ‘چوہدری اشرف جندرہ ‘مرزا فاروق ‘سہیل خاں ‘مشتاق ‘بادل شیخ افضل ‘خالد حسینی غا مجید ‘ریاض خان ‘نوید بٹ ‘طارق چشتی ‘سمیع اﷲ بٹ ‘نعمان بٹ ‘راحیل بٹ ‘جمشید بٹ اور مصطفے بٹ سمیت پیپلز پارٹی کے درجنوں متحرک کارکنوں نے شرکت کی ۔اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgk9GyeaWn_C7k4_r24qopLA-NFgolbtTKTW3AWKVOGH80Ona4DctKZdjwjr8aLDLNSedB6FAyBPK3cH6IrT5GvV1tqs5OLPuA0WfkFBdtsOEkAf8Re5neabMpmNwTmWdDh1y7gZQyPBdw/s72-c/st29-11.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>حکمران ،بش اور کرزئی کی بجائے عوام کو خوش کریں،چودھری نثار</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_442.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 29 Sep 2008 20:07:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-5803204747354933328</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi06Hs5f_iFMef3znoGL4mPbZpdJzxdbdJy5LQZHwwDyo5cwbaMF6sLKv7jZp07AN-spJnKXzqhSsz3pgnPD4UNfElL4i8SXkeEaL0eKa6Wr4LvKGJEMh3mDhwNxtghskI0FqQzzuXQnXU/s1600-h/chnisar1.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251445241042807346" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi06Hs5f_iFMef3znoGL4mPbZpdJzxdbdJy5LQZHwwDyo5cwbaMF6sLKv7jZp07AN-spJnKXzqhSsz3pgnPD4UNfElL4i8SXkeEaL0eKa6Wr4LvKGJEMh3mDhwNxtghskI0FqQzzuXQnXU/s400/chnisar1.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد (اے پی ایس)قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری نثارعلی خان نے موجودہ حکومت کی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں خاص طور پر صدر آصف علی زرداری کے دورہ امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکی صدر بش اور افغان صدر حامد کرزئی کو خوش نہیں کرنا بلکہ پاکستان کے عوام کو خوش کرنا ہے۔اسلام آباد میں پیر کے روزایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ یہ اچھا ہوتا اگر صدر زرداری ملک میں اپنی خارجہ پالیسی وضع کرتے اور بعد میں امریکہ جا کر اس کااظہار کرتے۔ لیکن چوہدری نثار کے بقول پاکستانی صدر نے اس کے برعکس پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ میں وضع کی۔ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ایران پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں کہا ں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورت حال میں ایران انتہائی اہم ملک ہے اور اسے ارادی یا غیر ارادی طور پر نظر انداز کیا جا رہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں پارلیمان کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ یہ اچھا ہوتا اگر آصف زرداری اپنے وعدے کے مطابق پہلا دورہ چین کا کرتے اور ان کے بقو ل اگر وہ ایسا کرتے تو اس سے چینی حکام اور عوام کے لیے ایک مثبت پیغام جاتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کا دورہ کرنے کے بعد یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاکستانی صدر کا پہلا باضابطہ دورہ چین کا ہی ہوگا۔پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ اگرحکومت موجودہ حالات میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے IMF سے مددلیتی ہے تو اس کا مطلب پاکستان کو واپس ماضی کی جانب دھکیلناہوگا۔پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت یہ بتائے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کو ن سی طاقت ہے انہوں نے کہا کہ طاقت سے دہشت گردی کے ان واقعات کو نہیں روکا جا سکتا۔اس موقع پرقائد حز ب اختلاف چوہدری نثار نے کہا کہ صدر زرداری اپنی اہلیہ اورسابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوکے قتل کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہہ ان کے قتل میں طالبان ملوث نہیں ہیں اور وہ اس قتل کے حوالے سے مسلم لیگ ق اور سابق صدر پرویز مشرف کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں ۔جبکہ امریکا کے دورے کے بعد صدر زرداری کہہ رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹوکے قتل میں بیت اللہ مسحود ملوث ہیں۔اے پی ایس&lt;/strong&gt; &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi06Hs5f_iFMef3znoGL4mPbZpdJzxdbdJy5LQZHwwDyo5cwbaMF6sLKv7jZp07AN-spJnKXzqhSsz3pgnPD4UNfElL4i8SXkeEaL0eKa6Wr4LvKGJEMh3mDhwNxtghskI0FqQzzuXQnXU/s72-c/chnisar1.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>کیا قوانین جا گیرداروں اور وڈیروں پر لاگو نہیں ہوتے؟۔تحریر: اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_29.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 29 Sep 2008 12:04:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-10920847524255094</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgPMfuBpHHPGccgN3Q5FI0gKxVmax8AfiNIus8c_4t0-DdAnzncQTy71mgqwXGManf9vKXzr7IN1OxYW36_VRPcN0AEsy33wOMRr-BpgpwKKKln5h9sQa5IA1aNiBpltazbZoVmzTdVoCU/s1600-h/logowomen.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251320610994128546" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgPMfuBpHHPGccgN3Q5FI0gKxVmax8AfiNIus8c_4t0-DdAnzncQTy71mgqwXGManf9vKXzr7IN1OxYW36_VRPcN0AEsy33wOMRr-BpgpwKKKln5h9sQa5IA1aNiBpltazbZoVmzTdVoCU/s320/logowomen.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.associatedpressservice.com/main.php" target="myfrm"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;  ریاستی سطح پر خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے با وجود ملک میں خاندانی غیرت اور دیگر واقعات میں خواتین کے قتل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران 225 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ خاندانی تنازعات اور دیگر واقعات میں قتل کی گئی خواتین کی تعداد 722 ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کے نام مختلف ہیں لیکن روایات ایک سی ہیں اور انجام بھی یعنی الزامات کے تحت خواتین کا قتل۔ جنوری 2008 سے جون 2008 کے دوران کاروکاری کے الزامات کے تحت قتل کی گئی خواتین کے علاوہ مقامی عدالتوں میں درج ان خواتین کے مقدمات میں سے صرف دو ملزمان کو سزا مل سکی ہے جبکہ بقیہ تمام مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ملک میں عدالتی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کارو کاری کے الزامات کے تحت قتل کی گئی خواتین کے مقدمات عدالتوں میں طویل عرصے تک چلتے ہیں جس کی وجہ سے فوری انصاف کی امید ختم ہو جاتی ہے ۔ بلوچستان میں زندہ درگور کی جانے والی خواتین سمیت دیگر واقعات کی تفصیل بھی میڈیا مین آچکی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کاروکاری،غیرت کے نام پر قتل اور خواتین سے روا رکھے جانے والے دیگر غیر انسانی سلوک کے خلاف سالوں سے آواز اٹھا رہی ہیں۔حالیہ چند سالوں میں پارلیمان میں ایسی قانون سازی بھی کی گئی ہے جن میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی حوصلہ شکنی کے قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کے قتل کے واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔ کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی شرح دیہی علاقوں میں زیادہ ہے اور زیادہ تر واقعات اندرونِ سندھ ،پنجاب اور بلوچستان میں پیش آتے ہیں جہاں جاگیر دارانہ نظام موجود ہے ۔ ملک میں ان واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین تو موجود ہیں لیکن یہ قوانین ان جا گیرداروں اور وڈیروں پر لاگو نہیں ہوتے ۔ نہ وہ تھانوں کی سنتے ہیں اور نہ ہی افسران کی بلکہ ان کے منظور ِ نظر افراد ہی وہاں قانون کے رکھوالے ہوتے ہیں ایسے میں کتنے ہی قوانین بنا لیے جائیں یا شواہد پیدا کر لیے جائیں یا میڈیا کے ذریعے کتنی ہی آگاہی پیدا کی جائے جب تک ان علاقوں میں ان قوانین کا نفاذ نہیں ہوگا تبدیلی کی توقع کرنا لا حاصل ہے ۔اگرچہ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی داستان افسردہ اور ہزاروں سال پرانی ہے اور اس کی اہم وجہ ہم پر مسلط جاگیردارانہ نظام ہے ” آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بلوچستان میں ایک قبیلے کے فرد نے دوسرے قبیلے کے فرد کے کتے کو مار دیا تھا جس کے بعد ایک جرگہ بٹھایا گیا جس نے پندرہ لڑکیاں سزا میں دینے کا فیصلہ کیا یہ ہے عورت کی حیثیت اور قدر ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “۔اس غیر انسانی سلوک کو سماجی حمایت حاصل نہیں ہے بلکہ جاگیر داریک دوسرے کی حمایت کر کے اس فرسودہ نظام کو مل کر تحفظ دیتے ہیں ۔ جو خاموش ہیں وہ صرف ڈر اور خوف کی وجہ سے ۔ لوگ اگرچہ خواتین کو تحفظ کے حوالے سے سڑکوں پر صرف مظاہرہ کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ انھوں نے گزشتہ سات آٹھ سالوں میں با قاعدہ ڈرافٹ تیار کر کے پوری پارلیمان کو دیا جو بدقسمتی سے سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا انسا نیت کے سب سے مظلوم طبقہ خواتین کو ان واقعات میں کمی لانے کے حوالے سے انہیں حکومت سے کوئی توقع نہیں کیونکہ توقعات ان سے رکھی جاتی ہیں جو وعدوں کا پاس رکھنا جانتے ہیں ۔ حکومت نے اب تک صرف وعدے ہی کیے ہیں اور پھر بھول گئے ہیں۔اے پی ایس&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgPMfuBpHHPGccgN3Q5FI0gKxVmax8AfiNIus8c_4t0-DdAnzncQTy71mgqwXGManf9vKXzr7IN1OxYW36_VRPcN0AEsy33wOMRr-BpgpwKKKln5h9sQa5IA1aNiBpltazbZoVmzTdVoCU/s72-c/logowomen.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>Kashmala urges foreign investors to make investment in Pakistan</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/kashmala-urges-foreign-investors-to.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Sun, 28 Sep 2008 21:07:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-2164513698255932684</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiOkObglpV8py8JIKLERB1w2QzzQO2Mox3Y5e7UKwYIxoJdTDruKAZ3j6S5Rj93Taryb4U1OLBLUnpE8oHTwQs0VoMunE87BPB_96A_aV2saeAyoec8c4XMtiY2h1wlwuPusI7Ql1tWzx4/s1600-h/kashmalatariq.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5251090744613769362" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiOkObglpV8py8JIKLERB1w2QzzQO2Mox3Y5e7UKwYIxoJdTDruKAZ3j6S5Rj93Taryb4U1OLBLUnpE8oHTwQs0VoMunE87BPB_96A_aV2saeAyoec8c4XMtiY2h1wlwuPusI7Ql1tWzx4/s320/kashmalatariq.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a title="E-mail" onclick="window.open('http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=emailform&amp;amp;id=54226&amp;amp;itemid=1','win2','status=no,toolbar=no,scrollbars=yes,titlebar=no,menubar=no,resizable=yes,width=400,height=250,directories=no,location=no'); return false;" href="http://www.app.com.pk/en_/index2.php?option=com_content&amp;amp;task=emailform&amp;amp;id=54226&amp;amp;itemid=1" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-family:trebuchet ms;"&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;BEIJING:MNA Kashmala Tariq who is representing Pakistan at the 2008 Summer Davos of the World Economic Forum (WEF) being held in Tianjin urged foreign investors to play their due role in making investments in Pakistan to address the socio-economic problems of the people. “I have held very fruitful meetings with CEOs of a number of key business tycoons including one dealing with solar energy and another business magnate from Holland that is keen to make investment in dairy and mobile banking in Pakistan, Kashmala Tariq told official news agency in an interview on Sunday. She pointed out that while addressing a number of plannery sessions of the WEF and holding meetings with Chief Executive Officers and business tycoons of multi-national companies from around the world who were attending the Forum, she emphasized them to make investment in Pakistan as there are number of international companies who were already doing roaring business in her country. Speaking on war on terror in which Pakistan is the front line state, she said her country is committed and will continue to play its important role to eliminate extremism and terrorism from all farm of its manifestations. Kashmala Tariq said that by setting up joint ventures with Pakistani counterparts, the international investors would also contribute greatly to eliminate the extremism and terrorism as nemployment, deprivation and lack of basic amenities are some of the reasons behind this menace.&lt;br /&gt;Referring to law and order situation, she said that there are still a number of international companies doing excellent business and if any businessmen intend to make investment in joint ventures with Pakistani business they would be able to earn huge profit. “The government will give guarantee for their investments and facilitate them in all aspects”, she added. MNA Kashmala suggested to the internationally acclaimed companies that for the women empowerment, it is necessary that they should come forward and allocate a quota of 30 or 50 percent for women in employment to help address their socio-economic challenges being faced by them. To address the challenges of poverty and deprivation is possible only through economic empowerment of women in the world, she observed. She informed that at the WEF the presence of women was 14 per cent and demanded to provide them maximum participation. Meanwhile, the Chinese Premier Wen Jiabao who inaugurated the 2-day WEF on Saturday said that his country has full confidence and capability to overcome various difficulties to ensure sound and fast economic growth. Wen said China is in the stage of rapid industrialization and urbanization, and has huge potential for economic growth. The important period of strategic opportunities for China’s development will last quite a long time. an even longer period of time, said Premier Wen Jiabao. &lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiOkObglpV8py8JIKLERB1w2QzzQO2Mox3Y5e7UKwYIxoJdTDruKAZ3j6S5Rj93Taryb4U1OLBLUnpE8oHTwQs0VoMunE87BPB_96A_aV2saeAyoec8c4XMtiY2h1wlwuPusI7Ql1tWzx4/s72-c/kashmalatariq.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>ملک دشمن عالمی طاقتوں سے پاکستان کے و جود کو خطرہ ہے ۔ تحریر : اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_28.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Sun, 28 Sep 2008 01:32:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-3109786553898971127</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh3hU6boXQujrEKl0fOIZUzQudlHzkxsp2dkGJ842ydGHhdMfGKpQhwuq_cZYG9XjHkolKX7DnMJ_jXjnnGNTt80iJvIBG6a-SWVDRuIR259vNAgTzAhmYCkBIDLnEaPu7uNN5qQ0ES1Jk/s1600-h/pakistanflag.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5250786874234413442" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh3hU6boXQujrEKl0fOIZUzQudlHzkxsp2dkGJ842ydGHhdMfGKpQhwuq_cZYG9XjHkolKX7DnMJ_jXjnnGNTt80iJvIBG6a-SWVDRuIR259vNAgTzAhmYCkBIDLnEaPu7uNN5qQ0ES1Jk/s320/pakistanflag.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بعض اخبارات نے آصف زرداری کے دورہ نیویاک کو کامیاب قرار دیا ہے ۔ جبکہ پاکستان کے بیشتر اخبارات نے نیویارک میں ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کےاس اجلاس کو اپنی شہ سرخی کا موضوع بنایا ہے جس میں پاکستان کی اقتصادی امداد کےلیے کنسورشیم بنانے کا وعدہ کیاگیا ہے۔اخبارات نے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس کی خبر کےساتھ ساتھ اس اجلاس کے بارے میں تجزیاتی رپورٹس اور ردعمل کو بھی اخبارات میں نمایاں جگہ دی ہے جبکہ بعض اخبارات کے اداریوں کا موضوع پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب رہا اور کچھ نے پاکستانی صدر کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے اپنا اداریہ لکھا۔ روزنامہ جنگ کی سرخی کے الفاظ ہیں ’عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو بھر پور اقتصادی امداد دینگے، فرینڈز آف پاکستان کی یقین دہانی ‘ جبکہ انگریزی اخبار ڈان نے اسی اجلاس کی سرخی یوں جمائی ہے ’پاکستان کے ہمددر ممالک نے اس کو اقتصادی بحران سے بچانے کے لیے تجاویز پیش کیں‘۔ روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ’ پاکستان جمہوریت کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، چین، سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور جاپان سے مستقل بنیادوں پر اقصادی تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور فرینڈز آف پاکستان کو ایک مستقل ادارہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ نوائے وقت نے زرداری صاحب یہ نہ کھپے کے عنوان سے اپنے اداریہ میں کہا کہ صدر زرداری کو اب ایسے کونسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثفاقتی تعلقات کو استوار کرنا انہوں نے اپنی اوالین ترجیح میں شامل کرلیا ہے۔اسی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ سفارتی حلقوں میں اسے آصف زرداری کے حالیہ دورہ نیویارک کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ اردو روزنامہ ایکسپریس نے صدر آصف علی زرداری کے اقوام متحدہ سے اجلاس کو عکسری اور سفارتی ماہرین کی آراء پرمبنی خبر یوں شائع کی ہے۔’ صدر زرداری کادورہ کامیاب رہا، عوام کو بیوقوف بنایاجا رہا ہے۔‘ اردو روزنامے آج کل نے اپنے ادارے میں کہا کہ صدر آصف زرادری کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے کیونکہ صدر زرداری نے اپنے خطاب میں پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے سنگین مسئلے کو احسن انداز میں پیش کیا ہے جبکہ انگریزی اخبار دی نیشن نے صدر زرداری کے خطاب پر نکتہ چینی کی اور اخبار لکھتا ہے کہ آصف زرداری کے خطاب کا بڑا حصہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بینظیر بھٹو کے ذکر پر مبنی تھا اور دہشتگردی کے سوا کسی دوسرے مسئلہ پر بات نہیں کی گئی۔ انگریزی اخبار ڈان نے آصف علی زرداری اور منموہن سنگھ کی ملاقات کے بارے میں اپنے اداریہ کا عنوان’ نئی شروعات ‘ رکھا ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ امید ہے کہ زرداری اور منموہن ملاقات ان نقصانات کا ازالہ کرنے میں مددگار ہوگی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چند ماہ میں باہمی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اخبار نے دونوں ملکوں کے درمیان چار مقامات سے تجارتی راستے کھونے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا اس اعلان پر عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔ اردو اخبار نوائے وقت نے’زرداری صاحب یہ نہ کھپے‘ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں کہا کہ صدر زرداری کو اب ایسے کونسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثفاقتی تعلقات کو استوار کرنا انہوں نے اپنی اوالین ترجیح میں شامل کرلیا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان اور بھارت تجارت کے راستے کھولنے کے عزم کو عملی جامہ پہنایا گیا تو پھر اکھنڈ بھارت کے خواب کی تعبیر کے لیے واہگہ والی لکیر مٹانےاور دیوار برلن کو گرانے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔ پاکستان کے مختلف اخبارت میں صدر آصف علی زرداری کی امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات کے حوالے سے کارٹون بھی شائع کیے ہیں۔جبکہ حسین عبد اللہ ہارون نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سیکرٹری جنرل کو اپنی اسناد پیش کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا تھاکہ انہوں نے سیکرٹری جنرل سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کےلیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کرنے کے لیے کہا ہے۔ اقوام متحدہ کیطرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اب صرف سیکرٹری جنرل کے حکم پر اقوام متحدہ کر رہی ہے نہ کہ سلامتی کونسل-اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستانی حکومت کی ہی مرضی و مشاورت سے تحققیقاتی کمیشن کا سربراہ اور اراکین مقرر کریں گے- اس تحقیقات کے لیے فنڈز پاکستان کو مہیا کرنے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر حسین ہارون کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کے طور پر تعینات کیاگیا ہے۔حسین ہارون کے پیشرو اور ایک سینئر سفارتکار منیر اکرم کو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے بعد ’ریٹائر‘ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کے دور میں دو سینئر سفارت کاروں ، منیر اکرم اور ریاض محمد خان کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ منیر اکرم اور ریاض محمد خان نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھ کرانہیں مشورہ دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا نہ صرف بے سود بلکہ پاکستان کیلیے نقصان دہ ہوگا- ان دو سفار تکاروں کا موقف تھا کہ اقوام متحدہ سے تحققیقات کروانے سے ایک ’پینڈورا‘ باکس کھل جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے اہم مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔سفارت کاروں کا موقف تھا کہ کہ بینظیر قتل تحقیقات کا معاملہ اگر سکیورٹی کونسل میں پہنچ گیا تو مزید گڑ بڑ ہو سکتی ہے اور سکیورٹی کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی کمیشن کے اراکین پاکستان میں جس سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں اور جس ادارے میں جانا چاہیں جا سکتے ہیں- دونوں سفارت کاروں کا موقف تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کیلئے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے- اقوام متحدہ نے ابھی تک لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کروائی ہے جس پر ساڑھے تین سو ملین ڈالر کی رقم خرچ کی جا چکی ہے اور تاحال اس تحقیق کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ہے۔ پاکستان نے رفیق الحریری کی تحققیات اقوام متحدہ سے کروانے کی مخالفت کی تھی جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ بھی رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لبنانی وزیر اعظم کے قتل میں پڑوسی ملک شام پر الزام لگایا جا رہا تھا جبکہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام کسی دوسرے ملک پر نہیں ہے- جبکہ افغانستان کے وزیرِ دفاع عبدالرحیم وردک نے چند روز قبل کہا تھاکہ افغانستان اور پاکستان کی سر حدی علاقوں میں کارروائیاں کرنے کے لیے ایک مشترکہ فوج بنانے پر پاکستانی حکام سے مذاکرات ہوئے ہیں۔واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ایسی مشترکہ فوج کی تشکیل کرنے پر غور کر رہی ہے جس میں افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پاکستان، افغانستان اور افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فوج کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے اور اس کے لیے مشترکہ فوج تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ امریکی اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کی کارروائیاں اس لیے زور پکڑ رہی ہیں کہ ان تنظیموں کے ارکان کی سرحد کے آر پار نقل و حمل میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ جبکہ حال ہی میں امریکہ کی جائنٹ سٹاف کمیٹی کے چیف ایڈمرل مولن نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حکمت عمل تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کا پیچھا کرتے ہوئے سرحد عبور کرنا یو این منشور کے خلاف نہیں۔ امریکی فوجی اپنی حفاظت میں پاکستان کے اندر دہشگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتے ہیں لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ضروری ہے پاکستان میں اس اپنی مرضی سے شامل رہے۔ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے ایک روز قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کا پاکستانی سرحدوں کے اندر آنا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پاکستان سے تعاون مزید بڑھانا چاہیے کیونکہ ان کی کاروائیوں سے پاکستان اور امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے۔ جبکہ امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگلے سال موسم بہار سے پہلے افغانستان میں مزید فوج نہیں بھیجی جا سکتی۔گزشتہ ہفتے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے مطالبہ کیا تھا کہ دس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں مسٹر گیٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری لڑائی کے کیلئے صرف امریکی کمک بڑھانے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے افغانستان کی اپنی فوج کو مزید مستحکم کیا جانا چاہئے اور اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پاکستان سے تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے اندر بھی صورت حال ایسی ہی ہے جیسے عراق اور افغانستان میں ہے اس لیے اگر پاکستانی فوج کی طرف سے بھی کارروائی کی جائے تو اس کو پر زور ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی اقتصادی ترقی پر توجہ دینی چاہیِے۔رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اگر امریکہ کو ا س وقت کہیں سے خطرہ ہے تو وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی صورت حال افغانستان کی جنگ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ امریکی فوجیوں کو پہنچا یایا جانے والا چالیس فیصد تیل اور اسی فیصد دوسرا سامان پاکستان کے راستے ہی افغانستان پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائس چیرمین آف جائنٹ چیف آف سٹاف جیمس کارٹ رائٹ نے بتایا کہ ہم پچھلے تین ہفتے سے متبادل راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان کے صدر آصف زرداری نے نیو یارک میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے ۔اس حوالے سے پاکستان کی وزیر اطلاعات نے دونوں رہنماو ¿ں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار انداز میں ہوئی اور امریکی صدر نے دہشتگری کے خلاف آصف زرداری کے عزم کی تعریف کی ہے۔ شیری رحمان نے بتایا کہ صدر بش نے اسلام آباد میں ہونیوالے میریئٹ ہوٹل پر بم حملے میں ہلاک ہونیوالے پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر تعزیت کی اور، بقول شیری رحمان، صدر زرداری کو دہشتگردی کیخلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجانے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ (آصف زرداری) ذاتی طور پر دہشتگردی کے نقصانات اٹھانے کے باوجود بڑی ہمت سے کھڑے ہیں۔ صدر آصف زرداری جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ صرف پانچ وفاقی وزراء کے ساتھ امریکہ کا دورہ کر رہے تھے اب انہوں نے اپنے وفد میں بائیس صحافیوں کا بھی اضافہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر کے چند اخبارات کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شا ئع ہونے والے اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کے ما لکان اور ا یڈیٹرز اور رپورٹرز نے بھر پور طریقے سے مذمت کر تے ہو ئے وزارت اطلاعات سمیت دیگر ذمہ داروں کے خلاف احتجاج کرتے ہو ئے کہا کہ سرکاری وسائل پر ایسے سفارشی نام نہاد صحا فیوں کو بھی ساتھ لے جا یا گیا جنھیں کبھی دو لفظ بھی نہیں لکھے۔جبکہ انھوں نے مطا لبہ کیا کہ ایک طویل عرصے سے چند قومی اخبارات کے علاوہ منظور نذر اور ڈمی اور سفارشی صحافیوں کو ساتھ لیکر جانے کا کلچر بن گیا ہوا ہے جو ملک بھر کے ہزاروں کی تعداد میں شا ئع ہونے والے اخبارات میں کام کرنے والے صحا فیوں کا حق ما ر رہے ہیں انھوں نے مزید کہا کہ اس میں اختیارات کا نا جا ئز استعمال کرنے والے اور سرکاری وسائل سے سفارشی اور ڈمی صحافیوں کو صدر اور وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر لے جا نے پرپبلک ا کا ئونٹس کمیٹی ذمہ داروں سے اس کا جواب ما نگے۔ جبکہ ملک بھر کے پرنٹ میڈیا کے صحا فیوں نے یہ بھی مطا لبہ کیا ہے کہ کہ چند نام نہاد اینکر پرسنز جو کہ سرکاری ٹی وی سمیت نجی چینلز میں بھی کام کر تے ہیں۔وہ ان دوروں میں جا کر ملک بھر کے صحا فیوں کا حق مار رہے ہیں۔جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے تصدیق کی تھی کہ صدر زرداری کے وفد میں بائیس صحافیوں کا اضافہ کیا گیا جن کے تمام اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی- اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh3hU6boXQujrEKl0fOIZUzQudlHzkxsp2dkGJ842ydGHhdMfGKpQhwuq_cZYG9XjHkolKX7DnMJ_jXjnnGNTt80iJvIBG6a-SWVDRuIR259vNAgTzAhmYCkBIDLnEaPu7uNN5qQ0ES1Jk/s72-c/pakistanflag.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>فرینڈز آف پاکستان،جمہوریت کی فتح ۔ تحریر : عظیم دولتانہ ایم این اے و پارلیمانی سیکریٹری بر ائے وزارت اطلاعات</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_27.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Sat, 27 Sep 2008 02:00:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-4961569556486166123</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjbZgG5lbYtbL589XITRj2UBKnR-q8kRe7jJFZdteFW9TjCzSwodsOPl4_JGFoN8gM9hRJNKQgUzx8Rx_THUVWRr-yFIHGxUccfR3JKuVKf8fTffL-OYrutAlV2hMN5mKV3QG-030tOd5c/s1600-h/azeemdaultana.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5250424639303744706" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjbZgG5lbYtbL589XITRj2UBKnR-q8kRe7jJFZdteFW9TjCzSwodsOPl4_JGFoN8gM9hRJNKQgUzx8Rx_THUVWRr-yFIHGxUccfR3JKuVKf8fTffL-OYrutAlV2hMN5mKV3QG-030tOd5c/s320/azeemdaultana.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjlSKUy7bUbvb9K_JIlnRWLot92a9FPEIr4l18jpoAtxwwTF_EIRxjOwBDOkV0ArY62x-4hM-2VO1fNKYLCw-kp72OfPXbTOZKSliJ6uP_YDxiL9T2GCT9Olja7cYbspTQExBPasWjKQq8/s1600-h/asifali.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5250424465279806930" style="FLOAT: right; MARGIN: 0px 0px 10px 10px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjlSKUy7bUbvb9K_JIlnRWLot92a9FPEIr4l18jpoAtxwwTF_EIRxjOwBDOkV0ArY62x-4hM-2VO1fNKYLCw-kp72OfPXbTOZKSliJ6uP_YDxiL9T2GCT9Olja7cYbspTQExBPasWjKQq8/s400/asifali.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;فرینڈز آف پاکستان کانفرنس جمہوریت کی ایک بہت بڑی جیت ہے کیونکہ اس کانفرنس میں پاکستان کے اقتصادی مسائل کو حل کر نے کے لئے بین الاقوامی سطح پر فورم کو باقاعدہ شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں پر مشتمل فرینڈز آف پاکستان گروپ کا اجلاس نیویارک میں ہوا صدر آصف علی زر داری سے اجلاس سے خطاب کیا اجلاس میں پاکستان کو اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے امداد فراہم کر نے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا فرینڈز آف پاکستان گروپ کے وزراء خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے فرینڈز آف پاکستان دنیا کے 11ترقی یافتہ ممالک کوپاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کر نے کے لئے منعقد کیا گیا فرینڈز آف پاکستان کی تجویز امریکہ کی طرف سے دی گئی جسے ترقی یافتہ ممالک نے پاکستان کے عالمی منظر نامے میں اہمیت کی بنا پر قبول کیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر فرینڈز آف پاکستان کا اجلاس اقوام متحدہ کی کونسل حال میں ہی ہوا اس میں جن 11ممالک نے شرکت کی ان میں امریکہ ،برطانیہ،چین،جاپان،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور ڈی ایٹ کے دوسرے ممالک شامل ہیں اجلاس بند کمرے میں ہوا اجلاس میں کلیدی خطاب صدر آصف علی زر داری نے کیا فرینڈز آف پاکستان فورم میں شرکت کے لئے شریک ممالک کے وزراءخزانہ اور وزراء خارجہ نے بھی شرکت کی فرینڈز آف پاکستان گروپ کے اجلاس کے بعد صدر آصف علی زرداری امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور یو اے ای کے وزیر خارجہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کی تفصیلات بتائیں صدر آصف علی زر داری نے کہا کہ یہ اجلاس جمہوریت کی ایک بہت بڑی جیت ہے کیونکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل کو حل کر نے کے لئے بین الاقوامی سطح پر فورم کوباقاعدہ شکل دے دی جائے اس کا آئندہ اجلاس یو اے ای کے دار الحکومت ابو ظہبی میں ہو گا جس میں اس حوالے سے مزید لائحہ عمل طے کیا جائے گا انہو ںنے کہاکہ اجلاس میں بات چیت اتنہائی موثر اور مفید رہی ہے اور پاکستان کے مسائل کا ادراک عالمی برادری کو تو تھا ہی مگر اس کو حل کر نے کے لئے ایکشن پلان بنانا اور اس مقصد کو حاصل کر نے کے لئے یہ پلان انتہائی اہم کر دار ادا کر ے گا جبکہ بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پوری طرح ادراک ہے کہ پاکستان اس وقت کس قسم کی اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور فرنٹ سٹیٹ ہوتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اس کا کر دار بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے مل کر یہ فورم تشکیل دیا ہے اور اس کے بہت جلد اچھے نتائج نکلیں گے اسی طرح پورے ای اور برطانوی وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ فورم نے یہ اہم فیصلے کئے ہیں اور کچھ عرصے میں اس کے نتائج پاکستانی عوام تک پہنچنے شروع ہو جائیں گے۔قبل ازیں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف زرداری نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر پوڈیم پر رکھی اور اپنے خطاب کے آغاز ہی میں دنیا بھر سے آئے وفود کو بتایا کہ خود ان کا خاندان دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ اور اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ انصاف کے نام پر جلد از جلد بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا حکم دے۔ ”اگر ایک ملک کے صدر اور اس کے بچوں کو اقوام متحدہ کےذریعے انصاف نہیں مل سکتا تو دنیا کے غریب لوگوں کو یہ کیسے یقین آئے گا کہ اقوام متحدہ کمزوروں کا دفاع کر سکتی ہے۔” صدر زرداری نے بھٹو ڈاکٹرین یا بھٹو کے منشور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس صدی کا مارشل پلان ہے۔ مارشل پلان کا نقطہ نظر تھا کہ معاشی طور پر مضبوط یورپ کمیونزم کا بہتر طور سے مقابلہ کر سکتا ہے جبکہ بھٹو ڈاکٹرین کے مطابق معاشی طور پر مضبوط پاکستان، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بہتر طور سے نمٹ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک خونی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے ہزاروں معصوم شہری اور فوجی گنوائے ہیں۔ اور اس جنگ کی بنیادیں سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے دنوں میں ڈالی گئی تھیں۔ ’دنیا نے سوویت یونین کی ہار کے بعد افغانستان کو بھلا دیا اور پاکستان کو تیس لاکھ پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ان کےکیمپ تشدد اور انتہا پسندی کی درسگاہوں میں بدل گئے۔” صدر زرداری نے زور دیا کے دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ دل و دماغ کی جنگ ہے جسے معاشی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔’اس جنگ کو معاشی میدان میں لڑنا ہوگا ۔ہمیں غریبوں کو امید دلانی ہوگی۔ ان کے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔ انہیں نوکریاں چاہئیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم چاہیے۔ انہیں خوراک چاہیے۔ توانائی چاہیے۔ اور ہمیں لوگوں کو ان کی اپنی حکومت میں حصہ دار بنانا ہوگا ۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان اکیلے نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس میں اسے دنیا کی مدد چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔ ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے دوست ہماری زمین اور ہماری خود مختاری کو پامال کریں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئے گئے حملوں سے دراصل انہیں عناصر کو فائدہ ہوتا ہے جن کے خلاف ہم یہ مشترکہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بات چیت سے مسائل حل کرے گی۔ ’ہم بہت تحمل سے فاٹا اور اپنے پختونخواہ صوبے کے رہنماوں کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی ترک کر کے قانون کی پابندی شروع کریں۔ ” اس کے ساتھ ہی صدر زرداری نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پڑے گی، حکومت طاقت کا استعمال بھی کرے گی۔ جموں اور کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں۔ ’ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی اور ایک دوسرے سے مل کر پر امن طریقے سے باہمی مسائل حل کرنے ہونگے تاکہ ہم جنوبی ایشیا کو تجارت اور ٹیکنالوجی کی منڈی بنا سکیں۔اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjbZgG5lbYtbL589XITRj2UBKnR-q8kRe7jJFZdteFW9TjCzSwodsOPl4_JGFoN8gM9hRJNKQgUzx8Rx_THUVWRr-yFIHGxUccfR3JKuVKf8fTffL-OYrutAlV2hMN5mKV3QG-030tOd5c/s72-c/azeemdaultana.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>Photo News</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/photo-news.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Fri, 26 Sep 2008 18:16:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-2943289771595675420</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgF2WWguuJVxOL6fJ51hCLVQChuEvsPjfX1ZHiw8NaGJkXIiWcU4QWnBZ1jraT67sYwZ2tYoeDd4n09lv0iiZcyQ8Wia3tVxHlKswPm1S-UsqJvtfDOh_WhT7c3WLCz5Lkvpe4LQ-9Oeis/s1600-h/watoowithcap.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5250303217115119570" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgF2WWguuJVxOL6fJ51hCLVQChuEvsPjfX1ZHiw8NaGJkXIiWcU4QWnBZ1jraT67sYwZ2tYoeDd4n09lv0iiZcyQ8Wia3tVxHlKswPm1S-UsqJvtfDOh_WhT7c3WLCz5Lkvpe4LQ-9Oeis/s400/watoowithcap.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgF2WWguuJVxOL6fJ51hCLVQChuEvsPjfX1ZHiw8NaGJkXIiWcU4QWnBZ1jraT67sYwZ2tYoeDd4n09lv0iiZcyQ8Wia3tVxHlKswPm1S-UsqJvtfDOh_WhT7c3WLCz5Lkvpe4LQ-9Oeis/s72-c/watoowithcap.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>آصف زرداری کا نتیجہ خیز دورہ امریکہ تحریر : چودھری احسن پریمی اے پی ایس (ا یسوسی ایٹڈ پریس سروس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_26.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Fri, 26 Sep 2008 17:15:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-5620588707364276907</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiqLgK6iPz-PEcZ53FyqtqbjlOAI9uvPoU31o_StkbM8vWTLCO1F578Ifie_pZeSV2CRcBGYqhG6yKtEQ2Mht-KiO6rV3yPgaqAzyMvK2BkniuHKEkpvsV1h7yyPJhjO09mqYfgcksVqKA/s1600-h/preungenassemblyadd.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5250288762306183378" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiqLgK6iPz-PEcZ53FyqtqbjlOAI9uvPoU31o_StkbM8vWTLCO1F578Ifie_pZeSV2CRcBGYqhG6yKtEQ2Mht-KiO6rV3yPgaqAzyMvK2BkniuHKEkpvsV1h7yyPJhjO09mqYfgcksVqKA/s400/preungenassemblyadd.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خوشگوار خطاب اور اسی رات میریٹ ہوٹل اسلام آباد سانحہ کے سوگ کے ساتھ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں امریکا چلے گئے۔ صدر بننے کے بعد ان کا یہ پہلا دورہ امریکا تھا جہاں وہ نیو یارک میں امریکا کے صدر جارج ڈبلیو بش اور دیگر عالمی رہنماوں سے پاکستان کے موجودہ اقتصادی حالات اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات خاص کر میریٹ اسلام آباد کے افسوسناک حادثہ کے پس منظر میں فاٹا سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر جارج بش کا یہ الوداعی خطاب تھا۔ اس کے بعد وہ دو ماہ بعد 5 نومبر کو ہونے والے امریکا کے صدارتی انتخاب کے بعد اپنی صدارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے تاہم اس کے باوجود عالمی سطح پر امریکی صدر بش کے ساتھ صدر آصف زرداری کی ملاقات کو خاصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے حوالے سے بھی کئی اہم امور زیربحث آئے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور اس کے بدلے میں پاکستان کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی امداد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں امریکا اور برطانیہ کی طرف سے نیو یارک ہی میں اقوام متحدہ کی عمارت میں ”فرینڈز آف پاکستان“ کے نام سے ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی ۔ جس میں دنیا کے 8بڑے ممالک کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر کئی اسلامی ممالک کے سربراہ اور نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کے فوری حل کے لئے ”بیل آرٹ پیکیج“ پر غور کیا کیا گیا۔ جس کے تحت پاکستان کو طویل المیعاد اور مختصر المیعاد پروگرام کے تحت 8ارب سے 10ارب ڈالر کی اقتصادی امداد کا اعلان متوقع ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اجتماعی طور پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا اور اس حوالے سے پاکستان کو مالی، اقتصادی، صنعتی و تجارتی اور تکنیکی شعبوں میں بھرپور اور عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ اقتصادی حالات اور دہشت گردی کے حالیہ افسوسناک واقعہ کے تناظر میں صدر آصف زرداری کا دورہ نیو یارک کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس سے پاکستان کے آئندہ سیاسی اور اقتصادی حالات پر یقینا بڑے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس حوالے سے مستقبل میں پاکستان میں سرحد اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن مزید تیز کر دیا جائے گا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کو اپنا کام کرنے دیا جائے اورامریکی فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین سے دور رہیں، انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمہ کا ٹھوس عزم رکھتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی فورسز کا پاکستانی علاقہ میں داخلہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے،انہوں نے دنیا کی مدد سے دہشت گردوں کو شکست دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا،قبل ازیں صدر کا نیو یارک پہنچنے پر پ ±رتپاک خیر مقدم کیا گیا ،صدر زرداری کی صدر بش سے بھی ملاقات ہوئی۔،احمدی نڑاد، نکولس سرکوزی، منموہن ، وین جیاباو ¿، عبداللہ گل، حامد کرزئی و دیگر رہنماو ¿ں سے بھی ملاقات کی۔ صدر زرداری نے امریکا میں ایک ٹی وی چینل کودیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر داخل ہونے والی کسی بھی امریکی فورسز کو واپس جانے کیلئے کہے گا جنہیں واپس جانا ہو گا پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کا ٹھوس عزم رکھتا ہے اور صرف ہماری افواج ہی اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کارروائی کی ذمہ دار ہیں اور کسی بھی غیر ملکی فورسز کا پاکستانی علاقہ میں داخلہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہو گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اتحادی ممالک کے تعاون سے دہشت گردی کی لعنت کو شکست دے سکتا ہے۔ پاکستان دنیا کے تعاون سے دہشت گردی کے خاتمہ کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہم اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت گرد پاکستان میں جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں، پاکستانی عوام اور دنیا کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں دہشت گردی کے اس واقعہ میں قیمتی جانی نقصان پر بڑا دکھ ہوا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے دنیا کے ساتھ متحد ہے اور دہشت گردوں کو دنیا کے ساتھ مل کر شکست دی جائے گی۔ صدر زرداری نے کہا کہ حکومت میں آنے کے فوراً بعد ہم نے تمام صورتحال کی ازسرنو تشریح کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ سیاسی طاقت کا سوال ہے کہ لوگوں کے پاس جا کر انہیں بتایا جائے کہ یہ ہماری جنگ ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کی پہلے ہی کوششیں کر رہا ہے، ہم دہشت گردوں کو گرفتار کریں گے، ہمیں انٹیلیجنس دی جائے، ہم اپنا فرض ادا کریں گے اور پاکستانی فورسز بہتر طور پر کام کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر داخل ہونے والے کسی بھی امریکی فوجی کو واپس بھیج دیں گے۔قبل ازیں صدر آصف علی زرداری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63ویں اجلاس میں شرکت کیلئے 5 روزہ دورہ پر پیر کو نیویارک پہنچے ۔ سینئر امریکی حکام نے امریکہ پہنچنے پر صدر کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات شیری رحمان، وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر، قومی سلامتی کے مشیر محمود درانی اور اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر زرداری نے امریکہ میں قیام کے دوران انتہائی مصروف وقت گزارا۔ اپنی آمد کے بعد پہلے روز امریکی صدر بش کی جانب سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان مملکت و حکومت کے اعزاز میں دیئے جانے والے استقبالیہ میں بھی انھوں نے شرکت کی۔ اسی روز امریکہ کے نائب وزیر خزانہ نے بھی صدر مملکت سے ملاقات کی۔ صدر زرداری اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے درمیان باضابطہ ملاقات بھی ہوئی جس میں پاکستان اورامریکہ کے باہمی تعلقات، دوطرفہ امور، دنیا کو درپیش دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے خطرات اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی صدر بش نے صدر زرداری سے ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا کہ ہم پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں ،دو طرفہ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں،معاشی استحکا م کیلئے بھرپور مدد کرینگے،جبکہ پاکستانی صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عالمی امن کے لئے مل کر کام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سنگین مسائل کا سامناہے لیکن ہم انہیں خود حل کر لیں گے، دونوں رہنماو ¿ں کی ملاقات نیویارک میں خوشگوار ماحول میں ہوئی، اس دوران دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون‘ اقتصادی اور معاشی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر صدر آصف علی زرداری سے اپنی پہلی ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں حالیہ دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں اور مسائل کو مل کر حل کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دوستی بہت پرانی ہے اور دونوں ملک مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے امریکہ آنے پر صدر زرداری کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی‘ وزیر خزانہ سید نوید قمر‘ وزیر اطلاعات شیری رحمن اور قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی نے صدر زرداری جبکہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور دیگر اعلیٰ حکام نے امریکی صدر کی معاونت کی۔ ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون‘ اقتصادی اور معاشی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں صدور کی ملاقات والڈورف ایسٹوریا ہوٹل میں ہوئی جہاں امریکی صدر کا قیام ہے یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے جاری رہی۔ امریکی صدر نے پاکستان کے نو منتخب صدر کو خوش آمدید کہا اور اپنے ملک کی جانب سے تعاون کا یقین دلایا۔ دونوں رہنماو ¿ں میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔ صدر بش نے اختتام ہفتہ پر اسلام آباد میں ہونے والے بم دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدر زرداری پر اعتماد تھے کہ پاکستان درپیش مسائل پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا جواب جمہوریت ہے۔صدر بش نے صدر زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ” میں آپ کی آمد کا شکرگزار ہوں اور میں آپ سے ملاقات کا انتظار کر رہا تھا آخر پاکستان ایک قریبی اور اہم دوست ہے“۔ بیجنگ اولمپکس کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور ان کی دو بہنوں سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ انہیں صدر زرداری کے بارے میں دلچسپ انداز میں اس وقت معلوم ہوا تھا جب ان کے بچوں سے اولمپکس کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ” اس سے مجھے آپ کا وہ عظیم دکھ بھی یاد آیا جس سے آپ اہلیہ کو کھو دینے کے موقع پر گزرے اور میں اس بات پر آپ کا بہت شکرگزار ہوں کہ آپ اپنی اہلیہ کے ورثے کے احترام میں عوامی خدمت میں شامل رہے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ خوشحالی کو پھیلانے میں کس طرح مدد کی جائے ہم دنیا بھر میں اپنے دوستوں کے لئے اچھی زندگی کے خواہش مند ہیں۔ ہم ان کیلئے معاشی خوشحالی چاہتے ہیں اور ہم مل کر کام کر سکتے ہیں اور یقیناً ہم سیکورٹی کے متعلق بھی بات کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ آپ نے اپنے ملک کے تحفظ کے فرض اور پاکستان کی سالمیت کے حق کے حوالے سے بہت ٹھوس گفتگو کی ہے۔ امریکا کی موجودہ معاشی مشکلات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عالمی رہنما سوچ رہے ہیں کہ آیا امریکا کے پاس موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کا کوئی ٹھیک منصوبہ ہے یا نہیں۔ میں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ سیکرٹری پالسن نے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے بہت مضبوط منصوبہ بنایا ہے اور اب وہ ہماری کانگریس کے متعلق سوچ رہے ہیں میں نے انہیں یہ بھی یقین دلایا ہے کہ میں نے کانگریس میں دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماو ¿ں سے بات کر لی ہے اور ان میں فورا کچھ کرنے کی خواہش موجود ہے۔ صدر بش نے یادہانی کرائی کہ جب قانون سازی کا عمل ہوتا ہے تو قدرتی طور پر کچھ لو اور کچھ دو ہوتا ہے۔ صدر زرداری نے صدر بش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے خیالات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمیشہ کی طرح آپ نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم پاکستانی آپ کے دل میں رہتے ہیں۔ ہم آپ کے احساسات، امریکی آئیڈیل کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا حلقہ مکمل ہو چکا ہے اور اس میں دنیا بھر سے تمام دوستوں کی مدد شامل رہی ہے اور ہم جمہوریت کیلئے مدد کرنے پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت سب باتوں کا جواب ہے ہم تمام مسائل حل کر لیں گے، ہم ایک صورتحال کا شکار ہیں ہمارے مسائل ہیں لیکن ہم انہیں حل کر لیں گے اور چیلنج پر پورا اتریں گے۔ میری اہلیہ کی وراثت یہی ہے۔ جمہوریت یہی ہے کہ مشکل فیصلے کئے جائیں اور اپنے ملک کے عوام کیلئے درست کام کیا جائے۔ اس مشکل وقت میں ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے، ہم دنیا کے ساتھ اپنی ذمہ داری میں حصہ دار بنیں گے۔اطلاعات کے مطابق ملاقات میں صدر بش نے پاکستانی حدود میں امریکی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔صدرآصف زرداری کی ملاقات کو دو حصوں پر مشتمل قرار دیا جاسکتا ہے ایک وہ حصہ جب دونوں صدر کے معاونین شامل تھے اور صدر بش اور ورزاء نے صحافیوں کے سامنے ایک دوسرے ملک کیلئے ابتدائی کلمات ادا کئے ملاقات کا دوسرا حصہ وہ تھا۔جب صدر زرداری اور صدربش کے درمیان 20 منٹ کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی ۔ قبل ازیں صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ شب صدر بش کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔ صدر بش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے آنے والے سربراہان مملکت و ریاست کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا جس میں کئی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے موثر کردار ادا کر رہے ہیں، اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں خود کش حملہ کھلی جارحیت ہے اور دہشت گردی کی کارروائی ہے، افغانستان میں طالبان کو دوبارہ برسراقتدار نہیں آنے دیا جائے گا، شام اور ایران دونوں دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا آخری خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد قرآن پاک، توریت اور بائبل کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا کوئی دہشت گردی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بم دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے امریکہ جمہوری قوتوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی موثر کردار ادا کیا ہے اور ان کا کردار لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف اقوام عالم کو متحد ہونا ہو گا اور قرارداد پاس کرنے کی بجائے اس کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور شام دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں اور شمالی کوریا اور ا یران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے مزید سخت پابندیاں لگانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ایک بار پھر طالبان کی جنت نہیں بننے دیں گے اور طالبان اب کبھی دوبارہ برسراقتدار نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ریاست فلسطینیوں کا حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے عالمی رہنماو ¿ں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر درپیش مشکلات اور مسائل کے پیش نظر ملکی مفاد کی بجائے پوری دنیا کے مفادات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج حقیقی معنوں میں عالمی قیادت کی ضرورت ہے۔ توانائی، خوراک اور معیشت کے بحرانوں پر قابو پانے کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں۔ جبکہ صدر آصف علی زرداری نے یہ بھی کہاہے کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے نیا پلان بنانا ہو گا صدر بش نے پاکستان کی خود مختاری کے احترام کا یقین دلایا ہے مسئلہ کشمیر کور ایشو ہے اور اس مسئلے کو جنرل اسمبلی کے اجلاس اور بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اجاگر کیا جائے گا دورہ امریکہ سرکاری نہیں پہلا دورہ چین کا ہو گا آئی ایس آئی کے کردار پر امریکی حکام نے کوئی بات نہیں کی جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا معاملہ پارلیمنٹ ہی طے کرے گی دہشت گردی پر امریکہ اور پاکستان کا موقف ایک ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے نیو یارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا صدر مملکت نے کہاکہ میں نے اہم علاقائی رہنماوں سے ملاقات کی ہے جس کے مفید نتائج سامنے آئے ہیں ایک سوال پر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے جس کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں او رپاکستانی عوام ہمارے ساتھ دے رہی ہے صدر بش کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ میرا امریکہ کا یہ غیر سرکاری دورہ ہے میں دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے آیا ہوں اس لئے میں ان سے بہت سے معاملات پر بات نہیں کرسکا۔ تاہم ملاقات میں صدر بش نے پاکستان کی خود مختاری کے احترام کا یقین دلایا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم یہاں مدد مانگنے نہیں آئے تاہم پاکستان کو کسی امدادی پیکج کی پیشکش نہیں کی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی بات ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ کا دورہ میرا سرکاری نہیں پہلا سرکاری دورہ چین کا ہو گا جب میرا امریکہ کا سرکاری دورہ ہو گا اس میں تمام معاملات کو سلجھایا جائے گا آئی ایس آئی کے بارے میں سوال پر صدر مملکت نے کہاکہ آئی ایس آئی کے کردار پر امریکی حکام نے کوئی بات نہیں کی ایرانی صدر احمدی نڑاد کے بارے میں آصف علی زرداری سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ کیا آپ بھی ان کی طرح جرات کا مظاہرہ کریں گے جواب میں صدر زرداری نے کہا کہ میں تو اپنے آپ کو بہت کمزور سمجھتا ہوں لیکن کیس کی وکالت میں ہر صورت کرنے کو تیا رہوں ۔جب میں جنرل اسمبلی میں بے نظیر کی تصویر کے ساتھ کھڑا ہو کر خطاب کروں گا تو یہ میرا بہت بڑا امتحان ہو گا انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور پاکستان کے عوام اور پاکستان کمزور نہیں ہیں پاکستان کے عوام متحد ہو کر اس آزمائش کا مل کر مقابلہ کریں گے کشمیر کے مسئلے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ ایک کور ایشو ہے اور اس پر ہمارا موقف وہی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا تھا ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات اور گیس پائپ لائن کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں بات چیت ہوئی ہے آئندہ وزراء کے درمیان ملاقاتوں میں گیس پائپ لائن کا معاملہ طے کیاجائے گا اور اسے آگے بڑھایاجائے گا انہو ںنے کہاکہ یہ سات بلین کا پراجیکٹ ہے اور ہمیں اپنے مسائل کو بھی دیکھنا ہو گا اس بارے میں ایران کا تعاون ہمارے ساتھ ہے اور اس سلسلے میں بات چیت آگے بڑھی ہے انہوں نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا صدر بش سے ملاقات کے دوران انہوں نے فاٹا میں جاری امریکی حملے روکنے کی کوئی یقین دہانی کرائی ہے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر بش نے پاکستان میں معاشی بحران میں تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ایک سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی خواہشوں اور امیدوں سے فتح نہیں ہو سکتی اس کے لیے عملی مظاہر ہ کرنا ہو گا ۔ صدر زرداری نے کہا کہ وہاں ملاقاتوں کے دوران میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ امریکی اور یورپی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کریں انہوں نے کہا کہ یورپی اور امریکی پا کستان کی حمایت کرتے ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اخلاقی اور قانونی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس انداز سے بات کروں گا جو بے نظیر بھٹو چاہتی تھیں انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا ایک اہم ایشو ہے اور اجلاس میں وہ اس مسئلے کو سامنے رکھیں جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا ۔ میں بھی اسی موقف کو لے کر آگے چلوں گا اور بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے بھی مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بڑھانے اور دیگر منصوبوں پر تبادلہ خیال ہو گا انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان پر ایک بہت بڑی مصیبت ہے جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے سوال پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ن لیگ اور پی پی پی کے اتحاد کے بارے میں صدر مملکت نے کہا کہ میں اب بھی میاں نواز شریف کو اپنا بڑا بھائی سمجھتا ہوں لیکن ن لیگ والے یہ سب کچھ ختم کرنا جا رہی ہے اور جو ایک اچھا ماحول بنا ہوا ہے اس کو خراب کیا جائے ۔انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی۔جبکہ پاکستان کے صدر آصف زرداری اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پایا ہے کہ پاکستان اور بھارت تین ماہ کے اندر امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔اقوام متحدہ کے تریسٹھویں اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور آصف زرداری کے درمیان نیویارک کے ملینیم ہوٹل میں ہونی والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والی ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے امن مذاکرات کے رکے ہوئے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں تشدد،جارحیت اور دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں اور دونوں ممالک ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ اگلے تین ماہ میں ملاقات کریں گے اور تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کے پانچویں دور کی تاریخ طے کریں گے۔ مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ بندی پر سختی سے عملدرآمد کیا جانا چاہیئے اور انسداددہشت گردی میکنزم کے بارے میں ایک خصوصی اجلاس بلانا چاہیئے انسداد دہشت گردی میکنزم میں کابل بم دھماکے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دونوں رہنماو ¿ں نے دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر بھی اتفا ق کیا ۔ دونوں رہنماو ¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان جاری امن عمل کو نقصان پہنچا ہے پاکستان اور بھارت نے سرحد پار تجارت پر بھی اتفاق کیا ۔ ملاقات کے بعد آصف زرداری نے کہا کہ وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے انتہائی متاثر ہوئے ہیں اور بھارت میں جو اقتصادی ترقی ہوئی وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے مرہون منت ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستان اقوام متحدہ میں جانے کا حق رکھتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ صدر زرداری سے کشمیر اور دہشتگردی سمیت تمام اہم مسائل اور دونوں ملکوں کے درمیاں تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ صدر زرداری سے سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ پانی کے مسئلے پر بات چیت ہوئی ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا ۔ بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی واٹر کمیشن کو دورے کی دعوت بھی دی ۔ بھارتی وزیر اعظم کیساتھ ملاقات سے قبل صدر آصف زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیاں ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے اور کشمیر میں اٹھنے والی حالیہ احتجابی لہر مقامی لوگوں کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جو امن کا پیغام دیا تھا اور وہ بینظیر بھٹو کے فلسقے کو عمل تک ضرور لے جائیں گے۔ ۔صدر آصف زرداری نے امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات میں ان کی تعر یف کرتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی حسین ہیں اور انہیں دیکھنے کے بعد انہیں سمجھ آیا ہے کہ پورا امریکہ ان کا دیوانہ کیوں ہے۔امریکی ریاست الاسکا کی گورنر اور امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن خارجہ پالیسی میں اپنی ناتجربہ کاری کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہی تھیں۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جب سارہ پیلن پاکستانی صدر آصف زرداری سے ملاقات کے لیے نیویارک کے ہوٹل پہنچیں تو ان کا استقبال پاکستان کی خاتون وزیر شیری رحمان نے یہ کہہ کر کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی مصروف شخصیت اتنی خوبصورت بھی لگے۔سارہ ابھی شیری رحمن کا شکریہ ہی ادا کر رہی تھیں کہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے صدر آصف زرداری کمرے میں داخل ہوئے اور ان سے ہاتھ ملایا۔آصف زرداری نے کہا ’ آپ انتہائی حسین ہیں اور اب پتہ چلا ہے کہ امریکی عوام آپکی دیوانہ کیوں ہے۔سارہ پیلن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’ آپ کتنے اچھے ہیں‘۔جب دونوں رہنما ہاتھ ملا کر اپنی نشستوں پر بیٹھنے لگے تو پاکستانی وفد کے ایک رکن نے دونوں رہنماو ¿ں کو مشورہ دیا کہ وہ فوٹوگرافروں کو تصویر کا موقع دینے کے لیے ہاتھ ملاتے رہیں۔ آصف زرداری نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر اس نے اسی طرح اصرار کیا تو میں گلے بھی لگا سکتا ہوں جس پر سارہ پیلن مسکرا دیں۔جبکہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف زرداری نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر پوڈیم پر رکھی اور اپنے خطاب کے آغاز ہی میں دنیا بھر سے آئے وفود کو بتایا کہ خود ان کا خاندان دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ اور اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ انصاف کے نام پر جلد از جلد بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا حکم دے۔ ”اگر ایک ملک کے صدر اور اس کے بچوں کو اقوام متحدہ کے ذریعے انصاف نہیں مل سکتا تو دنیا کے غریب لوگوں کو یہ کیسے یقین آئے گا کہ اقوام متحدہ کمزوروں کا دفاع کر سکتی ہے۔” صدر زرداری نے بھٹو ڈاکٹرین یا بھٹو کے منشور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس صدی کا مارشل پلان ہے۔ مارشل پلان کا نقطہ نظر تھا کہ معاشی طور پر مضبوط یورپ کمیونزم کا بہتر طور سے مقابلہ کر سکتا ہے جبکہ بھٹو ڈاکٹرین کے مطابق معاشی طور پر مضبوط پاکستان، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بہتر طور سے نمٹ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک خونی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے ہزاروں معصوم شہری اور فوجی گنوائے ہیں۔ اور اس جنگ کی بنیادیں سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے دنوں میں ڈالی گئی تھیں۔ ’دنیا نے سوویت یونین کی ہار کے بعد افغانستان کو بھلا دیا اور پاکستان کو تیس لاکھ پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ان کےکیمپ تشدد اور انتہا پسندی کی درسگاہوں میں بدل گئے۔”&lt;br /&gt;صدر زرداری نے زور دیا کے دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ دل و دماغ کی جنگ ہے جسے معاشی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔’اس جنگ کو معاشی میدان میں لڑنا ہوگا ۔ہمیں غریبوں کو امید دلانی ہوگی۔ ان کے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔ انہیں نوکریاں چاہئیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم چاہیے۔ انہیں خوراک چاہیے۔ توانائی چاہیے۔ اور ہمیں لوگوں کو ان کی اپنی حکومت میں حصہ دار بنانا ہوگا ۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان اکیلے نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس میں اسے دنیا کی مدد چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔ ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے دوست ہماری زمین اور ہماری خود مختاری کو پامال کریں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئے گئے حملوں سے دراصل انہیں عناصر کو فائدہ ہوتا ہے جن کے خلاف ہم یہ مشترکہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بات چیت سے مسائل حل کرے گی۔ ’ہم بہت تحمل سے فاٹا اور اپنے پختونخواہ صوبے کے رہنماو ¿ں کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی ترک کر کے قانون کی پابندی شروع کریں۔ ” اس کے ساتھ ہی صدر زرداری نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پڑے گی، حکومت طاقت کا استعمال بھی کرے گی۔ جموں اور کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں۔ ’ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی اور ایک دوسرے سے مل کر پر امن طریقے سے باہمی مسائل حل کرنے ہونگے تاکہ ہم جنوبی ایشیا کو تجارت اور ٹیکنالوجی کی منڈی بنا سکیں۔” اقوام متحدہ سے خطاب سے پہلے صدر زرداری نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صدر زرداری نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے افغان سرحد پر امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ نہیں کی تھی بلکہ انہیں روشنی کے گولے یا فلیئیرز پھینک کر سرحد کی نشاندہی کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ رائس نے بھی اس موقع پر اعتراف کیا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا کئی مقامات پر تعین کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔&lt;span style="font-size:180%;color:#ff0000;"&gt; ا یسوسی ایٹڈ پریس سروس،اسلام آباد&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiqLgK6iPz-PEcZ53FyqtqbjlOAI9uvPoU31o_StkbM8vWTLCO1F578Ifie_pZeSV2CRcBGYqhG6yKtEQ2Mht-KiO6rV3yPgaqAzyMvK2BkniuHKEkpvsV1h7yyPJhjO09mqYfgcksVqKA/s72-c/preungenassemblyadd.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>عافیہ کہانی کے گمنام کردار</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_25.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Thu, 25 Sep 2008 02:45:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-6170419072025387816</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiYKLAK87B4oPHSLE9yt3d6t0jARa5XayjaGEizg2uezU_mtC_rnBTclpoNg15PR5nbIaNPbX5Q1fNl6wxHIbUC62zrsrqmkMWHqWbgxt0gADZT_PNvLCW8WURrG43_R7Eb8R_EEW0yk_s/s1600-h/TazeenAkhtar.gif"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5249692765965095538" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiYKLAK87B4oPHSLE9yt3d6t0jARa5XayjaGEizg2uezU_mtC_rnBTclpoNg15PR5nbIaNPbX5Q1fNl6wxHIbUC62zrsrqmkMWHqWbgxt0gADZT_PNvLCW8WURrG43_R7Eb8R_EEW0yk_s/s400/TazeenAkhtar.gif" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;ڈاکٹر عافیہ صدیقی۔ یہ وہ نام ہے جسے سن کر انسانیت پر سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ عافیہ کی بپتا سن کر پتھر سے پتھر دل انسان کا دل بھی کانپ اٹھتا ہے اور ظالم سے ظالم دمی بھی عافیت کا طلب گار ہو جاتا ہے۔ عافیہ پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر چند باتیں ایسی ہیں جن کی طرف بہت کم لوگوں کا دھیان گیا ہے اور ان میں سے بھی بہت کم نہ ہونے کے برابر لوگوں نے تحقیق اور سوال کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ عافیہ کے باقی دو بچے (ایک غالباً تین سال کا بیٹا اور سات یا ٹھ سال کی بیٹی) کہاں ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ عافیہ کا خاوند امجد کدھر گیا؟ وہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود منظر سے کیوں غائب ہے؟شروع میں ہمارا خیال تھا کہ جب عافیہ کو کراچی میں اغواءکیا گیا تو اغواءکاروں نے ننھے بچوں کو اس سے الگ کر لیا ہو گا اور ان کے والد امجد کے سپرد کرکے کہا ہو گا کہ بچوں کی سلامتی چاہتے ہو تو انہیں لے کر روپوش ہو جا اور امجد نے ایسا ہی کیا ہو گا کیونکہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہو گا اور ویسے بھی بچوں کا مل جانا کیا کم غنیمت تھا مگر یہ صرف ہماری سوچ تھی کیونکہ ہمارے خیال میں اغواءکاروں میں اتنی تو انسانیت ہو گی مگر یہ صرف خام خیالی نکلی جب افغانستان میں عافیہ کے ہمراہ اس کے بڑے بیٹے کی تصویریں اور مووی کلپ انٹرنیٹ پر جاری ہوئے۔ اس میں افغان حکام کو ماں بیٹے سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے دکھا یاگیا تھا مگر اب جبکہ عافیہ کے بعد اس کا بڑا بیٹا بھی بگرام کے جہنم سے نکل یا ہے تو باقی دو بچوں کا خیال تا ہے کہ وہ کس کے پاس ہوں گے؟۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے میں نے چند ٹیلی فون کئے اور کچھ لوگوں سے بات چیت کی۔ یقین سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اس بات چیت سے میں نے جو نتیجہ نکالا اس کے مطابق عافیہ کے باقی دونوں بچے افغانستان ہی میں ہیں مگر امریکی تحویل میں جہاں تک خود افغان حکام کی بھی رسائی نہیں تاوقتیکہ خود امریکی حکام انہیں ورثاءکے حوالے کرنے کا فیصلہ نہ کر لیں۔ عافیہ کو دریافت کرنے کا سہرا تو برطانوی نو مسلم صحافی ریڈلی کے سر ہے اور انہوں نے یہ انکشاف عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا جس کے بعد ہمارے سابق ہیرو نے بھی عافیہ کے لیے بہت  Èواز بلند کی مگر اس کی بگرام سے نجات‘ امریکہ منتقلی اور اس کے بیٹے کی ورثاءکو حوالگی تک کے مراحل بڑے مشکل تھے اور یہ مراحل ان لوگوں کی سرتوڑ کوششوں سے سر ہوئے جن کو ہم ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ امریکہ سے ہو تو ان کی طرف سے ہم حق بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں میں سرفہرست کوئی اور نہیں‘ ہمارے مشیر داخلہ رحمان ملک ہیں۔ شاید میں اس وقت ان کے خلاف لکھ رہا ہوتا مگر جب عافیہ کے ورثاءمانتے ہیں کہ ان کو جتنا ریلیف یا انصاف ملا وہ رحمان ملک کی تگ و دو سے ملا تو ہمیں بھی ان کو سراہنے میں کوئی عار نہیں۔ رحمان ملک کو اس نیک کام میں اپنی وزارت کے سیکرٹری کمال شاہ کا خصوصی تعاون حاصل رہا اور یقیناً انہیں یہ ٹاسک صدر صف زرداری نے دیا تھا اس لیے وہ بھی مبارکباد اور تحسین کے لاحق ہے۔ ویسے تو انہوں نے جو کیا وہ ان کا بنیادی فرض تھا مگر جووقت (دور) جارہا ہے اس میں کوئی اپنا فرض بھی ادا کر دے تو اس کی مہربانی ہے۔عافیہ کے خاوند امجد کی ابھی تک کوئی خیر خبر نہیں۔ یہ امجد کون ہے؟ پہلے اس پر بات کر لیتے ہیں۔ امجد کراچی کی ایک بڑی اور معزز فیملی کا چشم و چراغ ہے۔ وائز اور بوٹسمین نام کی دوا ساز کمپنیاں اسی فیملی کی ملکیت ہیں۔ امجد کے دو اور بھائی بھی ہیں جن کے نام اشرف اور ارشد ہیں۔ امجد کا ایک بھائی ان کمپنیوں کا ایم ڈی ہے امجد امریکہ میں تھا جب عافیہ اور بچوں کو کراچی میں غائب کیا گیا اور پھر پانچ برس بعد اس کی پہلی خبر ریڈلی کی زبانی افغانستان سے ملی۔ امجد کو امریکہ میں نائن الیون کے بعد ایف بی ئی نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ یہ امجد عافیہ پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹنے کے ساتھ ہی غائب ہو گیا۔ عافیہ جو اس کی اہلیہ اور اس کے تین بچوں کی ماں تھی۔ اس امجد کو اپنی بیوی کی تو درکنار اپنے تین بچوں کی بھی پانچ سال تک کوئی فکر لاحق نہیں ہوئی کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟۔ یہ امجد‘ عافیہ کی داستان الم کا بڑا عجیب و غریب کردار ہے بلکہ اس کہانی کا سب سے زیادہ پراسرار کردار ہے ۔ یہ امجد عافیہ کے والد کے سوئم پر ان کے داماد کی حیثیت سے موجود تھا۔ مہمانوں کو مل بھی رہا تھا۔ مگر سوئم کے بعد اچانک غائب ہو گیا۔ اس کے چند ہفتے بعد عافیہ کو ڈاک سے ایک لفافہ ملا۔ یہ لفافہ امجد نے بھیجا تھا اور جب عافیہ نے یہ لفافہ کھولا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ یہ بالکل غیر متوقع تھا اور بظاہر اس کی کوئی وجہ نظر نہیں تی تھی۔ لفافے کے اندر طلاق نامہ تھا ........ مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن ایک اور بات بھی تھی۔ طلاق نامے پر تاریخ اس روز کی تھی جس روز عافیہ کے والد کا سوئم تھا اور امجد اس میں داماد کی حیثیت سے شریک تھا۔ عافیہ کی کہانی کا یہ ایک ایسا موڑ ہے جس پر جاکر گہرائی سے واقعات کا مشاہدہ‘ تجزیہ اور تحقیق کی جائے تو اصل بات نکل سکتی ہے۔ جو اس وقت میرے پاس بھی نہیں‘ مگر جس طرح عافیہ سامنے گئی ہے ایک روز امجد کے راز بھی کھل کر رہیں گے۔اس کیس میں اسرار کے اور بھی پردے ہیں جن کے پیچھے امجد کے علاوہ بھی کچھ پردہ نشین چھپے بیٹھے ہیں، عافیہ کہانی کا ایک اور کردار بھی بہت سے لوگوں کی نظروں سے اب تک اوجھل ہے۔ یہ کردار امجد سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔ عافیہ کی مخبری کس نے کی؟ کس نے اغواءکاروں کو بتایا کہ عافیہ اس وقت کہاں ہے؟ یہ مخبر بھی کوئی اور نہیں‘ امجد ہی کی ایک قریبی رشتہ دار صائمہ سید ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ یہ امجد کی کزن ہے۔ یہ صائمہ امریکہ اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتی ہے اور اسلام باد بھی اس کا نا جانا لگا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امجد نے عافیہ کو ناحق طلاق کیوں دی اور اس پر پچھلی تاریخ کیوں ڈالی۔ پھر غائب کیوں ہو گیا کہ بچوں سے بھی بے نیازی اختیار کر لی۔ صائمہ نے یہ ظلم کیوں ڈھایا۔ اس کو عافیہ کے امریکیوں کے ہاتھ نے سے کیا دلچسپی تھی؟ ایک عام ذہن تو یہی سوچ سکتا ہے کہ امجد اور صائمہ میں افیئر ہو گا اور دونوں شادی کرنا چاہتے ہوں گے جس کے لیے عافیہ کو راستے سے ہٹانے کے لیے یہ سب کیا ہو گا مگر اس کے لیے اتنا بڑا ظلم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کوئی بہت بڑی گیم ہے۔ جس کا شاید تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کیس پر کام کرنے والی اتھارٹیز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان خطوط پر بھی کام کرائیں اور اپنا کردار ادا کرتے رہیں جب تک دونوں بچے بھی بازیاب نہیں ہو جاتے ان بچوں کو ممکنہ طور پر یرغمال رکھ لیا گیا ہے تاکہ نہ تو عافیہ امریکی عدالت میں اغواءکاروں کا پول کھول سکے اور نہ اس کا بیٹا ان چہروں پر سے نقاب اتار سکے جنہوں نے عافیہ کی عفت اور بچوں کا بچپن چھین لیا، بچوں کو بطور ضمانت رکھنے والوں کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کے سامنے ایک اور ابو غریب نہ سکے اور مہذب امریکہ کا سفید چہرہ جو پہلے ہی معصوموں کے خون سے رنگین ہے مزید داغدار نہ ہو سکے۔&lt;/strong&gt; &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiYKLAK87B4oPHSLE9yt3d6t0jARa5XayjaGEizg2uezU_mtC_rnBTclpoNg15PR5nbIaNPbX5Q1fNl6wxHIbUC62zrsrqmkMWHqWbgxt0gADZT_PNvLCW8WURrG43_R7Eb8R_EEW0yk_s/s72-c/TazeenAkhtar.gif" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>پاکستان میں شدید معاشی بحران اور امریکہ کے خلاف عوام کی شدید نفرت۔تحریر: محمد رفیق اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_1827.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Thu, 25 Sep 2008 00:46:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-4843303546846982185</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgj9O0_Y8tGHXxKELmAM2l4QdeFHP6bvLLDPXDdu6HQYToTw-0xmdHweVbx6FjBN2gqTkFeTZNSRKqTzVDSp2o-zvZSd0VlPRc0vGP25HXoBnM78cgkQtRZcn_05opd7LFplSvEiQKui5Q/s1600-h/Mrafiq.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5249661777446737538" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgj9O0_Y8tGHXxKELmAM2l4QdeFHP6bvLLDPXDdu6HQYToTw-0xmdHweVbx6FjBN2gqTkFeTZNSRKqTzVDSp2o-zvZSd0VlPRc0vGP25HXoBnM78cgkQtRZcn_05opd7LFplSvEiQKui5Q/s400/Mrafiq.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiTpYb83Pka3tqogqV0FuRDm76Lfm1vT0w1LcMq5U5Of9p6QFT7dtkFqv8wyiz7Rq3wSP-cT9gFYdyT6-oPycm3ZyDbrIW4aaRw5wEbHvGw4sDVtGeMhNsvUBGUcovg5HhxfvQswB1D9Qc/s1600-h/pakusflag.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5249661622715500658" style="FLOAT: right; MARGIN: 0px 0px 10px 10px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiTpYb83Pka3tqogqV0FuRDm76Lfm1vT0w1LcMq5U5Of9p6QFT7dtkFqv8wyiz7Rq3wSP-cT9gFYdyT6-oPycm3ZyDbrIW4aaRw5wEbHvGw4sDVtGeMhNsvUBGUcovg5HhxfvQswB1D9Qc/s400/pakusflag.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;بھارت اورامریکا کے مابین سول نیوکلےئر معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ بھارت امریکا کے بعد اب جلد ہی فرانس سے ایٹمی معاہدہ کرنے والا ہے اگرچہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہر لحاظ سے محفوظ ہاتھوں میں ہیں ۔پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے جس کی بڑی وجہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے معیشت بھی بہتر ہو گی اور پاکستان اپنے پر امن ایٹمی پروگرام میں باآسانی آگے لے جا سکتا ہے اس سلسلے میں چین کے ساتھ تعاون پر غور کیا جا ناچاہیے ۔ جو ہمیشہ سے پاکستان کا اچھا دوست رہا ہے ۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی کا بھارتی پالیسی سے گہرا تعلق ہے امریکہ نے بھارت سے معاہدہ کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہئے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس ایٹمی معاہدے سے امریکہ نے پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کو ایٹمی قوت تسلیم کر لیا ہے یہ معاہدہ ایٹمی عدم پھیلاو ¿ معاہدے کے خلاف ہے پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پرنظر ثانی کرتے ہوئے مستقبل کے لئے پائیدار لائحہ عمل اپنانا چاہئے امریکہ بھارت معاہدے سے نہ صرف پاکستان کو خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر ایٹمی پھیلاو ¿ بڑھے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ ہم دنیا کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں اس معاہدے کا مقصد بھارت کو خطے کی طاقت ور ترین فوجی قوت بنانا ہے ۔پاکستان کو بھی چاہئے کہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے یہ دیکھے کہ اس معاہدے سے پاکستان کس حد تک متاثر ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔جبکہ ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی فوجی سرگرمیوں کا محور پاکستان اور چین ہیں،بھارت ایسا اسلحہ خریدرہاہے جسے وہ اپنی سرزمین سے دور جنگی کارروائیوں کے لئے استعمال کرسکے ۔امریکہ کے ساتھ جوہری تعاون اور دیگر شعبوں میں پیش رفت کے ذریعہ بھارت خود کو ایک ایسی فوجی طاقت کے طور پر سامنے لا رہا ہے جو اپنے بحری جہازوں اور تجارتی راستوں کے تحفظ کیلئے ہزاروں میل دور اپنے فوجی تعینات کرنے، مشرقی وسطی میں مقیم اپنے لاکھوں شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی امن مشنز کیلئے بھاری تعداد میں فوجی دستے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات ایک معروف امریکی اخبارنے اپنی ایک رپورٹ میں کہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت ایک عالمی فوجی طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے تاہم اس کی فوجی سرگرمیوں کا محور اس کے دو ہمسایہ ممالک پاکستان اور چین ہی ہیں جن کے ساتھ ماضی میں وہ جنگیں لڑ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ان دنوں ایسا فوجی اسلحہ خریدنے میں مصروف ہے جسے امریکہ کی طرح اپنی سرزمین سے بہت دور جنگی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکے، اس طرح کے اسلحہ میں طیارہ بردار جنگی بحری جہاز، سی 130 جیسے ٹرانسپورٹ طیارے، لڑاکا طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے جہاز اور دیگر جدید اسلحہ شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے بیرون ملک فوجی اڈہ بھی قائم کیا ہے چنانچہ تاجکستان میں بھارت کی طرف سے تعمیر کردہ ایئر بیس تاجکستان بھی استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان کے انتہائی پسماندہ دور دراز قبائلی علاقے باجوڑ میں جاری جنگ پاکستان آرمی کیلئے ایک کڑی آزمائش ثابت ہو رہی ہے ، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک ملٹری انٹیلی جنس آفیسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ باجوڑ کے قبائلی علاقے کے جنگی حالات میریٹ ہوٹل بم دھماکہ کے تناظر میں ایک نئی شکل اختیار کر رہے ہیں، بعض ماہرین میریٹ بم دھماکہ کو باجوڑ جنگ کے سلسلے کو ایک کڑی سمجھ رہے ہیں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض آرمی کے ذمہ داران نے کہا اس لڑائی کو ہار یا جیت دوسرے قبائلی علاقوں کو قسمت کا فیصلہ کریگی، وزیرستان کے بعد باجوڑ کو القاعدہ اور طالبان انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ گاہ تصورکیا جاتا ہے باجوڑ آپریشن جو اگست میں شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان آرمی کو ٹینک اور جنگی جہازوں کے ذریعے بمباری کرنا پڑی جسکے جواب میں انتہا پسندوں نے بھی ہر طرح کا اسلحہ استعمال کیا آرمی آفیشل کے مطابق انتہا پسندوں کے پاس حیران کن جدید اسلحہ، قوت مدافعت اور مواصلاتی نظام ہے یہاں تک کہ وہ اسنیپر رائفل کا استعمال آرمی کے جوانوں سے کئی گنا بہتر کر سکتے ہیں انتہا پسند اب ایک منظم فوج کی شکل میں جنگ کر رہے ہیں باجوڑ کے علاقے اب انتہا پسندوں کے مرکز کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں انتہا پسند مختلف قبائلی علاقوں سے نکل کر باجوڑ میں اکٹھے ہو رہے ہیں یہاں تک کہ افغانستان کے صوبے کنڑ سے بھی انتہا پسندوں کی آمد و رفت جاری ہے جو اپنے کمانڈروں کے ماتحت مضبوط ہو رہے ہیں۔ایک آرمی آفیشل کے مطابق مقاصد کے حصول کے بغیر اب پاکستانی فوج ان علاقوں سے واپس نہیں جائیگی کیونکہ یہ علاقے غیر ملکی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں جنکا خاتمہ انتہائی ضروری ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جولائی میں مخلوط حکومت اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مابین ہونے والی ملاقات میں آرمی چیف کو عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلئے تمام اختیارات سونپ دیئے گئے تھے ، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی مہم جوئی اور تابڑ توڑ حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر جنرل پرویز کیانی کو فیصلہ کن حکمت عملی اپنانے میں آسانی ہوگی۔ جبکہ عوامی حلقوں کی رائے کے مطابق 60 سال سے ایک دوسرے کے اتحادی پاکستان و امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی فوجیں پاکستان کے اندر زمینی حملے بھی کر رہی ہیں۔ جاسوس طیارے بھی پرواز کرتے رہتے ہیں۔ امریکی میزائلوں سے بے گناہ شہری، خواتین، بچے، بزرگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی رائے عامہ میں امریکا کے خلاف نفرت شدت اختیارکرتی جا رہی ہے جب کہ مذہبی انتہاپسندوں کی عوامی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔اے پی ایس&lt;/strong&gt; &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgj9O0_Y8tGHXxKELmAM2l4QdeFHP6bvLLDPXDdu6HQYToTw-0xmdHweVbx6FjBN2gqTkFeTZNSRKqTzVDSp2o-zvZSd0VlPRc0vGP25HXoBnM78cgkQtRZcn_05opd7LFplSvEiQKui5Q/s72-c/Mrafiq.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 27 ویں برسی آج منائی جائیگی</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/27.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Wed, 24 Sep 2008 23:23:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-3247030700097817940</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhlF_EIUy-AirLE71O3HJWgIOGXITW1eLxBgxV83tjzI6x_E2otFbGIxliQZl0g0PGSb4lPaptY5c6xVySB-xHFk_gb39mJYNJj8FWiPI4r43-4qpInE4B-mA-x9HAziUuutr64JICHee0/s1600-h/zahurelahi.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5249640511061249602" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhlF_EIUy-AirLE71O3HJWgIOGXITW1eLxBgxV83tjzI6x_E2otFbGIxliQZl0g0PGSb4lPaptY5c6xVySB-xHFk_gb39mJYNJj8FWiPI4r43-4qpInE4B-mA-x9HAziUuutr64JICHee0/s400/zahurelahi.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style="color:#ff0000;"&gt;اجتماعی دعا صبح 10:30 بجے ظہور پیلس گجرات میں ہو گی&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;لاہور ( احسن پریمی) شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 27 ویں برسی جمعرات 25 ستمبر کو عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔ اس موقع پر ظہور پیلس گجرات میں صبح 9:30 بجے قرن خوانی ہو گی جس میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین سمیت ممتاز سیاسی شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کا غاز قرن خوانی‘ چوہدری ظہورالٰہی شہید کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانے اور فاتحہ خوانی سے ہو گا۔ بعد ازاں 10:30 بجے ظہور پیلس میں اجتماعی دعا ہو گی۔شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 7مارچ 1920ءکو گجرات کے ایک چھوٹے سے گائوں ”نت“ میں پیدا ہوئے۔ ملازمت کا غاز محکمہ پولیس سے کیا مگر کچھ عرصہ بعد یہ ملازمت چھوڑ دی۔ 1944ءمیں مسلم لیگ گجرات میں شامل ہو کر مسلمانوں کی خدمت کو شعار بنایا۔ 1945-46ءکے انتخابات میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے ل انڈیا مسلم لیگ کیلئے بھرپور کام کیا۔ 1947ءمیں قیام پاکستان کے وقت سینکڑوں مغویہ مسلمان عورتوں کو ہندوئوں اور سکھوں کے قبضے سے  Èزاد کرایا۔ 1953-54ءمیں انہوں نے ضلعی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ون یونٹ کے قیام سے ذرا پہلے ضلع کے سیاسی وڈیروں کو سنٹرل کوپریٹو بنک کے ڈائریکٹر کے الیکشن کے موقع پر للکارا اور سحر توڑ دیا کہ نوابزادے ناقابل شکست ہیں کچھ عرصہ بعد ڈسٹرکٹ بورڈ کے انتخابات میں چوہدری ظہورالٰہی بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے۔ 1958ءمیں مارشل لاءلگنے کے بعد چوہدری ظہورالٰہی شہید کو ایبڈو کے تحت چھ سال کیلئے سیاست بدر کر دیا گیا۔ 1962ءمیں پہلی مرتبہ ان کے گروپ نے نوابزادہ اصغر علی خان کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اپنی ذہانت‘ جدید حب الوطنی اور اہم سیاسی زعما سے گہرے تعلقات کے باعث مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنائے گئے۔ 1968ءمیں وہ کونسل مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1976ءکے انتخابات میں علاقے کی اہم شخصیت نوابزادہ اصغر علی خان کو شکست دیکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ چوہدری ظہورالٰہی شہید کو حق گوئی کی راہ سے ہٹانے کیلئے ان کے خاتمے کیلئے کئی منصوبے بنائے گئے۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں انہیں سازش کے نتیجے میں بلوچستان کے علاقے کوہلو میں بھجوایا گیا تاکہ ان کا وجود ختم کیا جا سکے مگر گورنر بلوچستان نواب اکبر بگتی مرحوم نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ 1964ءمیں انہوں نے مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کی پارلیمانی پارٹی کی سیکرٹری جنرل شپ سے استعفیٰ دے دیا۔1965ءمیں انہوں نے کنونشن لیگ کو خیر باد کہہ دیا۔ 1965ءکے صدارتی الیکشن میں انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابلہ میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا ڈٹ کر ساتھ دیا۔ اس دوران ان پر بے شمار مقدمات درج ہوئے۔ 1970ءکے انتخابات میں انہوں نے کونسل مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور کامیاب رہے۔ بھٹو دور میں انہیں ایک بار پھر ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی قید و بند کے زمانے میں غیر معمولی استقامت اور حاکمانہ جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے پر انہیں مارچ 1977ءکے انتخابات میں اللہ کا سپاہی کا عوامی لقب ملا۔ جولائی 1977ءمیں بھٹو حکومت کے خاتمے پر وہ رہا ہوئے۔ جولائی 1978ءمیں قومی اتحاد نے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے مسلم لیگی نمائندے کی حیثیت سے وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت کا قلمدان سنبھالا۔ 25 ستمبر 1981ءمیں انہیں لاہور میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا۔ اے پی ایس&lt;/strong&gt; &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhlF_EIUy-AirLE71O3HJWgIOGXITW1eLxBgxV83tjzI6x_E2otFbGIxliQZl0g0PGSb4lPaptY5c6xVySB-xHFk_gb39mJYNJj8FWiPI4r43-4qpInE4B-mA-x9HAziUuutr64JICHee0/s72-c/zahurelahi.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>وزیر اعظم کے ساتھ ایک افطار ڈنر۔ تحر یر : چودھری احسن پریمی اے پی ایس</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_24.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Wed, 24 Sep 2008 22:45:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-3332662252705607510</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhnJTMbkCEF_jI-LmdpYjH9JYku-ULznD0TvQXtb2g6o_wEMgEMct9-tZDU6pv7R2L3Wqb02BWKO9Jm4q3txUhY5GqdM5Y-e1htJs9byaXAyify2XaZ0B6KZrcXJT0AwYJ9wSLWpiCdpRo/s1600-h/journalistpmsep24.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5249630589115871474" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhnJTMbkCEF_jI-LmdpYjH9JYku-ULznD0TvQXtb2g6o_wEMgEMct9-tZDU6pv7R2L3Wqb02BWKO9Jm4q3txUhY5GqdM5Y-e1htJs9byaXAyify2XaZ0B6KZrcXJT0AwYJ9wSLWpiCdpRo/s400/journalistpmsep24.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تمام وزراءکو کسی بھی معاملے پر بیان بازی سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ پالیسی بیان سیکرٹری اطلاعات دیا کریں گے ۔ وزیراعظم نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گردوں کو غیر معمولی طور پر اجاگرنہ کریں اس سے قومی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ ہم سب کا مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ بدھ کو وزیراعظم ہاوس میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کے موقع پر کیا سانحہ میریٹ پر پوری قوم صدمے سے دو چار ہے ۔ موجودہ حالات کے حوالے سے میڈیا سے بہت زیادہ توقعات ہیں میڈیا دہشت گردی کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کرے ہمیں میڈیاکی سپورٹ کی ضرورت ہے قوم کے وسیع تر مفاد میں میڈیا کو اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے ۔معیشت کو نقصان پہنچ رہاہے وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے میڈیا کوعوام میں شعور بیدارکرنا چاہیے اور غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دینے چاہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ کسی کو حکومتی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے ۔قومی سلامتی کا معاملہ ہے ۔ حکومت خود مختاری اور سالمیت پر سمجھوتہ کرے گی نہ اسکی خلاف ورزی کو برداشت کریں گے نہ صرف اپنے ملک میں امن چاہتے ہیں بلکہ خطے میں بھی امن کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔اس حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون کیاجائے ۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کیلئے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری دورہ امریکہ پر ہیں امریکی صدر بش سمیت اہم رہنماو ¿ں جن میں ایران ترکی فرانس بھارت اور دیگر ممالک کی قیادت شامل ہے کے ساتھ بات چیت میں تعلقات کے استحکام اور فروغ سے متعلق بات چیت ہوئی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ میریٹ پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے یہ سوچ ہونی چاہیے کہ انسانیت متاثر ہوئی ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہیں ۔ میڈیاکے خلاف کسی کارروائی کا ارادہ ہے نہ ہمارے میڈیا کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم ہیں ۔ ملک میں ہم ترقی امن خوشحالی چاہتے ہیں ضابطہ اخلاق کے حوالے سے میڈیاخود ریگولیٹری سسٹم قائم کرے۔ میڈیا نے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مثبت کردار ادا کیا ہے تاہم کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے مثبت کردار ادا نہیں کیا انہوں نے کہا کہ میڈیا سے عوام کو بڑی امیدیں ہیں۔ لیکن تمام میڈیا نے ساری امیدوں کا پاس نہیں کیا کچھ عناصر ایسے ہیں جنہوں نے منفی پہلوو ¿ں کو اجاگر کیا ہے اور حقائق کا خیال نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ کردارادا کرے اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر عمل پیرا ہے ہماری پالیسی یہ ہے کہ عوام کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں اور ان عناصر کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں جو شرپسند علاقوں میں موجود ہیں ۔انہوں نے وزراء کے بیان بازی کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسے بیان سامنے آ رہے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا اشارہ رحمان ملک اور بعض وزراء کے متضاد بیانات کی طرف ہے جنہوں نے میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایسے بیانات پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس قسم کے پالیسی بیان صرف سیکرٹری اطلاعات دیا کریں گے اور وزراء کو اس حوالے سے بیان دینے سے روک دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام مسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میریٹ ہوٹل کے المناک سانحہ پر ذرائع ابلاغ کے کردار کو سراہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس سانحہ سے معیشت پر شدید اثر پڑا ہے وزیراعظم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر زور دیا وہ عالمی مسائل سے متعلق خبریں دیتے وقت پاکستان سمیت علاقائی ذرائع ابلاغ سے تعاون کریں۔قبل ازیں وزیراعظم نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے واقعات سے خوفزدہ ہے نہ دہشت گردوں کے سامنے جھکیں گے عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے امن وامان کے قیام کو اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے اجلاس میں ملک میں مجموعی امن وامان کی صورتحال اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ ، افغان سفیر کے اغواء ، اسلام آباد کی حفاظت کو مضبوط بنانے ، موثر سیکیورٹی پلان سمیت امن وامان سے متعلق اہم امو رپر غور کیا گیا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس کے آغاز میں بیس ستمبر کو میرٹ دھماکے میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ اس دھماکے میں ہلاک جمہوریہ چیک کے سفیر کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی وزارت داخلہ کی جانب سے کابینہ کو افغان سفیر کی بازیابی کیلئے کئے جانے والے اقدامات ، اسلام آباد کی حفاظت کے بارے میں مجوزہ سیکیورٹی پلان سے آگاہ کیاگیا۔ وفاقی کابینہ نے میریٹ دھماکے کی مذمت کرتے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ اسلام آباد سانحے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا گیا ہے۔کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ حکومت دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے دہشت گردی کے واقعات حکومتی عزم کو پست نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے حکومت بنیادی آئینی ذمہد اریوں سے آگاہ ہیں امن وامان کے قیام کے سلسلے میں موثر اقداما جاری رہیں گے کابینہ کے ارکان نے امن وامان اور سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں ۔اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.associatedpressservice.com/main.php" target="myfrm"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhnJTMbkCEF_jI-LmdpYjH9JYku-ULznD0TvQXtb2g6o_wEMgEMct9-tZDU6pv7R2L3Wqb02BWKO9Jm4q3txUhY5GqdM5Y-e1htJs9byaXAyify2XaZ0B6KZrcXJT0AwYJ9wSLWpiCdpRo/s72-c/journalistpmsep24.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_9781.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 22 Sep 2008 08:41:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-428180748230840576</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjVngkzczSKFcfhlQBNsIDV5qtjzaHsggq-ZaLRGyUe0qTdRnCvg0BQT-rs0NT2UanEC1kpxHRi15nJlDVUAdE00ttQm9q4_ZAK0ahOIRnlkRh1l_ONNJru1elxtGMJCq77VjKfPK10-W0/s1600-h/marriat.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5248670517828228162" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjVngkzczSKFcfhlQBNsIDV5qtjzaHsggq-ZaLRGyUe0qTdRnCvg0BQT-rs0NT2UanEC1kpxHRi15nJlDVUAdE00ttQm9q4_ZAK0ahOIRnlkRh1l_ONNJru1elxtGMJCq77VjKfPK10-W0/s400/marriat.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد (اے پی ایس)امریکی محکم دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں دو امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ وزیراعظم پاکستان کے مشیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت ملک میں موجود شدت پسندوں کو چن چن کر نشانہ بنائے گی۔پاکستانی وزارتِ داخلہ نے دھماکے سے چند منٹ قبل کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک ٹرک کو میریئٹ ہوٹل کے مرکزی دروازی پر موجود رکاوٹ سے ٹکراتے اور اس میں آگ لگتے دکھایا گیا ہے۔ ہفتہ کی شام ہونے والے اس دھماکے میں پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق کم از کم ترپّن افراد ہلاک اور دو سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں متعدد غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ک ہے کہ ملک میں دہشتگردوں کے ایک، دو ٹھکانے اب بھی باقی ہیں جہاں سے ملنے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر وہاں کارروائی کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بس کے باوجود خودکش حملے کے لیے تیار کسی شخص کو روکنا ناممکنات میں سے ہے۔ تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم مشیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ’ان تمام حملوں کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں‘۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی محکم دفاع کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں فوجی دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہوں نے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دونوں فوجی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں تعینات تھے اور جب تک ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کو مطلع نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔ ان دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دھماکے میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ اس سے قبل روڈ لوف نامی امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق سینیچر کی شب ہی ہو گئی تھی۔ اتوار کی صبح اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِاعظم پاکستان کے مشیرِ داخلہ سے بھی یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا ہوٹل میں امریکی فوجی موجود تھے تو ان کا کہنا تھا کہ’ایک یا دو امریکیوں کے لیے ایک ہزار پاکستانی ہلاک کرنا کوئی انصاف نہیں‘۔ ادھر ڈنمارک کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے ایک شہری کے لاپتہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کلوس ہوم کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بہت کوشش کی ہے مگر لاپتہ ڈینش باشندے کی تلاش میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھماکے وقت ڈنمارک کے چار باشندے ہوٹل میں موجود تھے جن میں سے ایک لاپتہ ہے۔ ترجمان کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والی خاتون سفارتکار کو بھی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دو شہری اس حملے میں دو محفوظ رہے۔ اس سے قبل مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں جمہوریہ چیک کے سفیر آئیوو زدراک، ایک ویت نامی خاتون اور دو امریکی شامل ہیں جبکہ ہسپتال میں زیر علاج گیارہ زخمی غیرملکیوں میں چار امریکی، چار سعودی باشندوں کے علاوہ برطانیہ، لبنان اور افغانستان کا ایک ایک شہری شامل ہیں۔ انہوں نے تحقیقات میں مدد کی غیر ملکی پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ ملکی ادارے ایسی تفتیش کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی سفارتخانے کے ترجمان لو فنٹر نے حملے کی تحقیقات میں پاکستانی اداروں کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں صحافیوں کو کلوز سرکٹ کیمرے سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں دھماکے سے چند لمحات قبل کے مناظر شامل تھے۔ ویڈیو میں ہوٹل کے گیٹ پر تعینات سپاہی اور سکیورٹی اہلکار آخری لمحات تک باورد سے بھرے ٹرک میں دھماکے کو روکنے اور آگ بجھانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ادھر پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری دھماکے کے بعد رات گئے ٹیلی وڑن پر قوم سے خطاب کے بعد اتوار کی صبح امریکہ روانہ ہوگئے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ صدر جارج بش سے ملاقات بھی کریں گے۔ صدر مملکت کی امریکہ روانگی کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی اور اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تین لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے فی کس کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کے عزم کو دہشت گردی کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ میریٹ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی حتمی تعداد اب بھی معلوم نہیں کی جا سکی ہے اور میریئٹ ہوٹل میں کیے جانے والے ’سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن‘ کے انچارج ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ ساری رات جاری رہنے والی آگ کے بعد اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا کہ ہوٹل کی عمارت سے کوئی زندہ فرد مل سکے گا اسی لیے اب ان کا کام لاشوں کی تلاش تک ہی باقی رہ گیا ہے۔ راولپنڈی سے آنے والی دو سو افراد پر مشتمل ’ریسکیو 1122’ ٹیم کے انچارج نے بتایا کہ آگ کی شدت کے باعث ایک موقع پر عمارت کے اندر درجہ حرارت چار سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اور اس درجہ حرارت میں عمارت کے اندر کسی ذی روح کا زندہ بچ جانا معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ اتوار کی دوپہر بارہ بجے تک پانچ منزلہ عمارت میں لگی آگ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا تھا تاہم چوتھی منزل سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا تھا۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اس خودکش بم حملے میں چھ سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے علاوہ ایسا کیمیائی مادہ بھی استعمال کیا گیا جس سے ہوٹل کی عمارت کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ امدادی ٹیم کے انچارج کے مطابق ’بہت سے افراد اس پانچ منزلہ عمارت میں پھنس کر اس لیے ہلاک ہوگئے کیونکہ عمارت سے ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے۔یہ ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد نے عمارت کی بالائی منزلوں سے چھلانگیں بھی لگائیں‘۔ تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے دھماکے کے اردگرد کے علاقے سے مختلف نمونے اکٹھے کیے جن میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے علاوہ انسانی اعضا اور خون کے نمونے بھی شامل تھے۔ یہی ہنگامی راستے آگ لگنے کی صورت میں امدادی کارکنوں کے متاثرہ عمارت کے اندر داخل ہونے کے راستوں کا کام دیتے ہیں لیکن ان کی عدم موجودگی کے باعث امدادی کارکن اس وقت تک عمارت کے زیادہ متاثر ہونے والے حصوں میں نہیں جا سکے۔ان کا کہنا تھا ’اگر یہ ہنگامی راستے موجود ہوتے تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں‘۔ امدادی کارکنوں کے علاوہ ہوٹل کی عمارت میں اتوار کو تحقیقاتی اداروں کے اہلکار بھی موجود رہے۔ ان کی آمد سے قبل متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے تمام غیر متعقلہ افراد بشمول میڈیا کے نمائندوں کو ہوٹل کے قریب جانے سے روک دیا گیا تھا۔ ان تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے دھماکے کے اردگرد کے علاقے سے مختلف نمونے اکٹھے کیے جن میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے علاوہ انسانی اعضا اور خون کے نمونے بھی شامل تھے۔ یہ نمونے اکٹھے کرنے والوں میں غیر ملکی بھی دیکھے گئے ہیں۔ دھماکے تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی ٹیم کے افسران نے اتوار کی صبح ہوٹل کےگرد تین کلومیٹر کے علاقے کو اپنی تحقیقات میں شامل کیا تاکہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی یا گاڑیوں کے بارے میں شواہد اکٹھے کیے جاسکیں لیکن تاحال اس بارے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ بہت سے افراد اس پانچ منزلہ عمارت میں پھنس کر اس لیے ہلاک ہوگئے کیونکہ عمارت سے ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے۔یہ ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد نے عمارت کی بالائی منزلوں سے چھلانگیں بھی لگائیں۔حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔دھماکے کے بعد ملک بھر اور خصوصاً اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس میریئٹ ہوٹل پر حالیہ برسوں میں حملے کا یہ تیسرا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل چھبیس جنوری دو ہزار سات کو ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے تھے اور سنہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو عبداللہ محسود نے ہوٹل میں ہوئے ایک پراسرار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو اس وقت کی حکومت کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔ اے پی ایس&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/strong&gt;&lt;a href="http://www.associatedpressservice.com/main.php" target="myfrm"&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjVngkzczSKFcfhlQBNsIDV5qtjzaHsggq-ZaLRGyUe0qTdRnCvg0BQT-rs0NT2UanEC1kpxHRi15nJlDVUAdE00ttQm9q4_ZAK0ahOIRnlkRh1l_ONNJru1elxtGMJCq77VjKfPK10-W0/s72-c/marriat.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>آصف زرداری کا عزم ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایم این اے</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_22.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Mon, 22 Sep 2008 02:16:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-8472714901278554016</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjB8utcwqJOTTY1ixkGuhip528tXHLohPW5tE6YVRyAbvGIouuydFcAz0njjyY9rlwid_I0yh5crHQ9fIwNPBgufRwYIzMSYn1RAjpm_sS06p2xE9ZrDr_0-Veo2RtrRLiB_RFS-1n79PM/s1600-h/fardusashiqmna.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5248572028635264274" style="FLOAT: right; MARGIN: 0px 0px 10px 10px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjB8utcwqJOTTY1ixkGuhip528tXHLohPW5tE6YVRyAbvGIouuydFcAz0njjyY9rlwid_I0yh5crHQ9fIwNPBgufRwYIzMSYn1RAjpm_sS06p2xE9ZrDr_0-Veo2RtrRLiB_RFS-1n79PM/s200/fardusashiqmna.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjtzmeT0JRJCne9Yr4Jab7zt7a8FNxt8Qy9LGiyWjkpXnC9t7BgCMsgQFv9D_MZh85cQQG4E1oVLnfrb9VyLEFY6xnmkPFW26Ai-AuJUjH4XcRSi2rfkXIP5cqAFmZaBjc1KaC-Twmjehg/s1600-h/asifali.jpg"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5248571857831135906" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjtzmeT0JRJCne9Yr4Jab7zt7a8FNxt8Qy9LGiyWjkpXnC9t7BgCMsgQFv9D_MZh85cQQG4E1oVLnfrb9VyLEFY6xnmkPFW26Ai-AuJUjH4XcRSi2rfkXIP5cqAFmZaBjc1KaC-Twmjehg/s400/asifali.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;strong&gt;ایسے موقع پر جب جمہوریت مکمل ہوئی، بزدلوں نے خوشی کو غم میں بدل دیا بزدلوں کی ایسی کارروائیوں سے حکومت اور عوام کے حوصلے پست نہیں ہونگے پاکستان کو ایسے لوگوں سے پاک کیا جا ئے گا۔جبکہ صدر پا کستان آصف زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ دہشت گردی کا کینسر ختم کرکے رہیں گے دہشت گردی کے خلاف جمہوری قوتیں اور سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اسلام آباد میں بم دھماکہ سے پوری قوم کو جس غم کا سا منا ہے جناب آصف زرداری خود اس غم سے گزر چکے ہیں اوراپنی بیوی کی تدفین کر چکے ہیںشہداء کے لواحقین یہ سمجھیں کہ ان کے پیارے وطن کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہوئے، پاکستان ایک نڈر قوم ہے، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین میں سترہویں ترمیم اور صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ آصف زرداری اور ان کی حکومت عدلیہ کی آزادی پر یقین ر کھتی ہے انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کسی بھی طاقت کی طرف سے اپنی حاکمیت اعلیٰ، خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان سے کسی کے خلاف دہشت گردی ہو نہ ہم پر حملے کئے جائیں۔انہوں نے ایک عر صہ دراز سے حل طلب مسئلہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کو حل کر دکھا یا ہے کیو نکہ با قی تین صوبوں کے نام وہاں کی اکژیت کی پہنچان سے پکا رے جا تے ہیں جبکہ اس ضمن میں سرحد والوں سے اس تنا ظر میں نا انصافی ہو رہی تھی لہذا انھوں نے گذشتہ دو روز قبل اپنے پا رلیمنٹ کے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ اب صوبہ سرحد کو پختونخواہ پکارا جائے، انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی رٹ چیلنج کرنیوالوں کیخلاف طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا۔ آئین سے انحراف کے دن اب ماضی بن چکے ہیں اور انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ بھی کیا ہے کہ،ملک کو قائداعظم اور قائد عوام کے تصورکے مطابق آگے لے کر چلوں گا، صدر نے کہا کہ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ شکر بجا لاتا ہوں اور میں اپنے اوپر اعتماد کا اظہار کرنے اور اس اعلیٰ منصب پر منتخب کرنے کیلئے پارلیمنٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں مجھے یہ اعزاز و استحقاق شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ملا ہے اور میں آج پاکستان میں جمہوری طاقت کی اس علامت کے سامنے انکساری کے ساتھ کھڑا ہوں اور یہ اہم دن ہمیں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد دلاتا ہے جو دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں اور جن کی قربانی اور جرات سے یہاں جمہوریت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کاش آج میری جگہ وہ اس پارلیمنٹ سے خطاب کر رہی ہوتیں آمریت کے دور میں پارلیمنٹ کو اس کے اختیارات سے محروم کر دیا گیا اور اسے اس کا جائز مقام اور عزت نہیں دی گئی۔ ہر صدارتی انتخاب اور نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب آئینی تقاضا ہے۔ اس کے باوجود گذشتہ 8 سال کے دوران سربراہ مملکت نے صرف ایک بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قومی اہمیت کے امور پر پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے اور آئین سے انحراف کے دن اب ماضی بن چکے ہیں۔ بطور سربراہ مملکت میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ صدر اور حکومت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہمیشہ پارلیمنٹ سے رہنمائی حاصل کرے گی۔ ہم آئین کے تقدس، پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے 18 فروری کو عوام کی طرف سے دیئے گئے مینڈیٹ کا احترام ہماری حکمرانی کا حقیقی اصول ہوگا۔آصف زرداری کا ایک خواب ہے اور یہ خواب اپنے اس عظیم ملک کو غربت، بھوک، دہشت گردی اور باہمی اختلافات کے شکنجے سے آزاد کرنا ہے ہر امید کیلئے ایک منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر منصوبہ ایک ایجنڈے کا متقاضی ہوتا ہے۔ بلاشبہ حکومت کو ایک بھاری ایجنڈے کا چیلنج درپیش ہے اور یہ ایجنڈا ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے اور وفاق پر اعتماد کی بحالی کیلئے تیزی سے اقدامات کرنا ہے اور بلوچستان کے عوام سے معافی مانگنا بھی ایک ایسا اقدام ہے جو بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ کی جیل سے رہائی بھی ایک مثبت اقدام ہے جبکہ حال ہی میں بلوچستان کے دیرینہ تنازعہ کا حل اور اربوں روپے کی ادائیگی بھی درست سمت میں کئے گئے اقدامات ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ صدر نے کہا کہ ماضی میں کئے جانے والے پے در پے غیرآئینی اقدامات نے وفاق کو کمزور کر دیا ہے، جسے اب مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مصالحت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ 1973ءکا آئین ہی وہ واحد متفقہ دستاویز ہے جو اس سماجی معاہدے کو خدوخال دے سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ صوبائی خود مختاری اور ایک نئے فارمولے کے ذریعے وسائل کی تقسیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کا عمل شروع کرے جو متحدہ وفاق کی ضرورت کو پورا کر سکے۔صدر نے کہا کہ پاکستان کے منتخب صدر کے طور پر میں درخواست کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ 17 ویں آئینی ترمیم اور 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام پارٹیوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی صدر نے خود پارلیمنٹ کے سامنے آ کر اپنے اختیارات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہو۔ صدر نے کہا کہ پاکستان آج اپنی سلامتی کے حوالے سے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کی طرف سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایک جامع سہ نکاتی حکمت عملی تیار کی ہے کہ ایسے امن پسند لوگوں کے ساتھ امن قائم کرنا جو تشدد کو ترک کر دیں اور مقامی لوگوں کی ترقی اور سماجی بہتری کیلئے سرمایہ کاری کو فروغ دیں، طاقت کا استعمال صرف آخری حل کے طور پر ان عناصر کے خلاف کرنا جو ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیں، قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حکومت کی رٹ کو چیلنج کریں اور سیکورٹی فورسز پر حملے کریں۔ صدر نے کہا کہ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پالیسی کے بارے میں تمام فریقوں کو ذمہ داری دینے کیلئے وہ بند کمرے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو قومی سلامتی کے بارے میں بریفنگ دے تاکہ ہر رکن وطن عزیز کو درپیش خطرات کے بارے میں معلومات پر مبنی رائے قائم کر سکے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومت ارکان پارلیمنٹ کی آراءکی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے واضح وڑن کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر حکومت سے کہوں گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو اور میں اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کسی بھی طاقت کی جانب سے اپنی حاکمیت اعلیٰ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی چیلنج اس حکومت کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے، کوئی منتخب حکومت اپنے عوام کی غربت نہیں دیکھ سکتی، حکومت کے سامنے فوری اور انتہائی اہم کام عام لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کرنا ہے جنہیں اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے کا سامنا ہے لیکن ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ آج پوری دنیا کو درپیش تیل اور خوراک کے بحرانوں اور گزشتہ 9 سالوں میں زرعی شعبہ کو نظرانداز کئے جانے سے ہمارے عوام کو بڑھتی ہوئی غربت کا سامنا ہے جسے ختم کرنے کیلئے حکومت نے کسی سیاسی مقصد کے بغیر غریب ترین لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کیلئے ملک بھر میں بینظیر انکم سپورٹ اسکیم جیسے فلاحی منصوبے متعارف کرائے۔ صدر نے کہا کہ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، غیرملکی سرمایہ کاری کے دوبارہ آغاز، زرمبادلہ میں بتدریج اضافے، شرح مبادلہ کے استحکام اور سب سے بڑھ کر پائیدار ترقی کی بحالی کے پروگرام کے ساتھ معیشت کے ایک نئے دور کا آغاز دیکھ رہا ہوں۔ صدر نے کہا کہ خواتین کو انصاف کی فراہمی، بغیر منصفانہ ترقی ممکن نہیں۔ میں دکھ کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ خواتین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کے باوجود اس عظیم قوم کی خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ نہ صرف خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی پوری کوشش کر ے بلکہ انہیں مملکت کے مکمل شہریوں کی حیثیت حاصل ہونے کے طویل سفر کے ہر قدم پر بااختیار بنایا جائے پاکستان کی خواتین اس جدوجہد میں میرے ساتھ کھڑی ہوں گی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے نجی ٹی وی چینلز کو نشریات کی اجازت کے پہلے دن سے اب تک ذرائع ابلاغ نے ایک طویل سفر طے کر لیا ہے۔ حکومت نے پیمرا اور پرنٹ میڈیا آرڈیننسوں کو ختم کرنے میں ذرا بھر تاخیر نہیں کی جسے سابق حکومت تشدد کے ذرائع کے طور پر چھوڑ گئی تھی اور جو ذرائع ابلاغ کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہے تھے۔ صدر نے نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ہر صوبہ میں تمام صحافیوں کیلئے کم لاگت کی ہاوسنگ کالونیوں اور ویج سپورٹ کا جائزہ لیا جائے عوام کو ایک بہتر مستقبل چاہئے، وہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس کا تصوّر قائداعظم محمد علی جناح اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا اور درحقیقت اسی پاکستان کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی اور ہم اسی پاکستان کیلئے زندہ رہیں گے اور اسی پاکستان کیلئے آصف زرداری صدر کی حیثیت سے حکومت اور عوام کی بھرپور مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ آئیے ہم ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی مل جل کر تعمیر کرنے کا عہد کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم مقصد کے حصول میں ہماری مدد فرمائے۔اے پی ایس۔&lt;/strong&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjB8utcwqJOTTY1ixkGuhip528tXHLohPW5tE6YVRyAbvGIouuydFcAz0njjyY9rlwid_I0yh5crHQ9fIwNPBgufRwYIzMSYn1RAjpm_sS06p2xE9ZrDr_0-Veo2RtrRLiB_RFS-1n79PM/s72-c/fardusashiqmna.jpg" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item><item><title>اور اب ”میرے مطابق“</title><link>http://apsislamabadpk.blogspot.com/2008/09/blog-post_19.html</link><author>noreply@blogger.com (Associated Press Service)</author><pubDate>Fri, 19 Sep 2008 19:59:00 +0600</pubDate><guid isPermaLink="false">tag:blogger.com,1999:blog-2409251320090435028.post-317452940686123966</guid><description>&lt;a href="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgww2lybTnySaeKl0vUpwD5JKIXi_lRDjs85g3F0cecvUE4k-II8DxgW1Q7pXdS0Ce8qslMOSd7iQpB9hOOaFB0GZJ6KyWLadwyohW64OHE4YecIPxF2Ab7Oq_SBMmxWHb4yMCMz2xUK6A/s1600-h/Khalid+Majeed+Logo+12.bmp"&gt;&lt;img id="BLOGGER_PHOTO_ID_5247733221066284498" style="FLOAT: left; MARGIN: 0px 10px 10px 0px; CURSOR: hand" alt="" src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgww2lybTnySaeKl0vUpwD5JKIXi_lRDjs85g3F0cecvUE4k-II8DxgW1Q7pXdS0Ce8qslMOSd7iQpB9hOOaFB0GZJ6KyWLadwyohW64OHE4YecIPxF2Ab7Oq_SBMmxWHb4yMCMz2xUK6A/s400/Khalid+Majeed+Logo+12.bmp" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;strong&gt;اس سے ہماری براہ راست صرف ایک ملاقات ہے۔ یہ چھ ستمبر 2008 کی دوپہر تھی۔ جب صدارتی الیکشن کی پولنگ جاری تھی اور ”زرداری سب پہ بھاری“ کی گردان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے لبوں سے جاری تھی۔ کچھ خواتین ایم این اے ایک دوسرے کی قمیض کا کپڑا دیکھ دیکھ کر چہک رہی تھیں۔ جب قمر زمان کائرہ خوشی خوشی اِدھر ُادھر کاغذات ہاتھ میں تھامے گھوم رہے تھے بلکہ سب سے زیادہ وہ ہی متحرک تھے!! جب حنیف عباسی اپنی دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وزیراعظم سے بغل گیر ہوچکے تھے ۔ جب سپیکر قومی اسمبلی وزیر اعظم کے برابر کی نشست پر جلوہ افروز ہو چکی تھیں۔ جب فوزیہ حبیب اسمبلی میں اپنے لئے نشست تلاش کر رہی تھیں اور جب دوست محمد مزاری سینئر ممبران اسمبلی کو تابعداری سے سینے پر ہاتھ رکھ کے جھک جھک کر مل رہے تھے تو ہماری برابر کی نشست پر بیٹھے ساتھی نے زلزلہ نے کے بارے میں بتایا۔ کچھ نے ان کے خیال کو رد کر دیا اور کچھ سچ سجھ کر اپنی محسوس کرنے کی حس سے زمین کو محسوس کرنے لگے اور پھر انکار کر دیا۔ لیکن جب چند ہی لمحوں بعد بھی زمین کو پھر جھرجھری ئی تو یہ جھرجھری قدرے تیز تھی ۔ بس پھر کیا تھا۔ اکتوبر کی مد مد ہے اور پھر رمضان میں زلزلے کے خوف نے تو تقریباً سب کے جسم میں ایک برقی رو گزار دی ہو۔ سب لوگ اسمبلی سے باہر جانے لگے کہ سب کو 8 اکتوبر 2005 کا کبھی نہ بھولنے والا سانحہ یا د گیا۔ کشمیر اور سرحد کا حسن ابھی تک ماند ہے۔ دنوں اور راتوں میں تین سال کا فاصلہ نے کے باوجود اس زلزلے کا نام لیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ گھر کے گھر زمین بوس ہوگئے تھے۔ گاں کے گاں اجڑ گئے شہروں کے درودیوار نوبہاتیابیوہ کے بکھرے بالوں کی طرح ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ ہم لوگ بھی اونچی منزلوں سے اسمبلی کے باہر والے گیٹ پر  Èگئے۔اس گیٹ پر میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ کوئی افسرانہ اکڑ فوں نہیں تھی اور نہ ہی چیئرمینوں والی پھوں پھاں تھی ........ سوٹ تو پہن رکھا تھا مگر ٹائی کے بغیر تھا اور سب کے ساتھ واقعی گھل مل گیا اور باتیں کرنے لگا۔ اس کی باتوں سے، اس کی باڈی لینگویج سے اس کے حوصلے اور عزم کا پتہ چلتا تھا وہ واقعی کچھ کرنے اور کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ہے۔ اس کا بچپن سعودی عرب میں گزرا ہے۔ ایف ایس سی ڈی جے سائنس کالج کراچی سے کرنے کے بعد سندھ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا گویا وہ واقعی ”ڈاکٹر“ ہے لیکن خداداد صلاحتیں منہ زور پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتیں کہ کوئی ڈاکٹر ہے ، کوئی حساب دان ہے، کوئی کچھ بھی نہیں مگر وہ اپنے اظہار کے راستے خود تلاش کرتی ہیں۔ لہٰذا یہی کچھ اس کے ساتھ ہوا اور وہ ایک عمدہ کالم نگار صحافی بن گیا۔خدا لگتی تو یہ ہے کہ مجھے اس کی وکالت کا شوق نہیں اور نہ ہی میری اس کی کوئی بڑی گوڑی یاری ہے کہ میں اس کا بھرم نبھاتا پھروں لیکن یہ ضرور ہے کہ کسی شریف انسان کے ساتھ کوئی زبردستی چھیڑ چھاڑ کرے تو برداشت نہیں ہوتا۔ اب اگر انہیں پی ٹی وی کا قبلہ درست کرنے کے لئے چیئرمین بنا ہی دیا گیا ہے تو یار لوگ کچھ صبر کرکے بیٹھیں اور شکر بھی کریں کہ کوئی اہل شخص درست جگہ پر بٹھایا گیا ہے ورنہ تو ایک مدت سے نااہل لوگوں کو اہلیت کی سند دے کر بہت کچھ بنایا جاتا رہا ہے۔ رہی ان کی تنخواہ کی بات تو جو کام کرے گا اور اپنے کام کا دھنی ہوگا اس کا معاوضہ تو زیادہ ہی ہوگا۔ ان لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ بے حساب لوگ وہ ہیں جو بغیر کسی کام کے بڑے بڑے معاوضے وصول کر رہے ہیں اور دولت کما رہے ہیں۔ بلکہ بہت کام کرنے کے دعوے کرنے والے اکثر و بیشتر ایسے کام دکھاتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ ابھی کچھ ہی برس پہلے کی بات ہے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایک معصوم شکل و صورت کے شخص کو امریکہ سے لے ئے تھے۔ انہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے اور پھر وہ معصوم شکل و صورت کے مالک پہلے وزیر خزانہ بنے اور پھر وزیر اعظم بن گئے۔ یہ شارٹ کٹ عزیز نامی صاحب پہلے سادگی کا درس دیتے نہیں تھکتے تھے۔ جب وہ خود وزیر اعظم بنے تو سب نے دیکھا کہ انہوں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں۔ وہ جہاد پرویزی میں اعتدال پسندی روشن خیالی کے بعد ملک کو ”ان دی لائن ف فائر .... سب سے پہلے پاکستان کو پہنچانے میں ہراول دستے میں شامل تھے پھر ملک کی دولت کو لوٹنے میں پیش پیش ہوگئے۔ اس لئے عرض یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو کام تو کرنے دیں ۔ کچھ قبلے کا رخ تو بنتا نظر ئے۔ صاف ظاہر ہے کام درست نہ ہوا تو وہی ہوگا جو ہر غلط کام کرنے والے کے ساتھ ہونا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ذہن پر سوار تھے کہ چند روز سے یار لوگ انہی کی بابت باتیں کئے جارہے تھے۔ لہٰذا یہ سب لکھا گیا۔ حالانکہ لکھنے بیٹھے تو خیال وہی تھا کہ کوئٹہ کے ان مناظر کے بارے میں لکھا جائے جہاں بھوک سے بلکتی روزہ دار عورتوں کو لاٹھیاں ماری جارہی تھیں۔ بھوک کا عذاب کس قدر سخت ہے کہ مار کھاتی عورتیں گرتی پڑتی پھر ٹے کے پیکٹوں کو پکڑنے کی کوشش کرتی نظر رہی تھیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ وہ اس ٹے کو بھی اٹھا کر گھر لے جانا چاہتی تھیں جو زمین پر بکھر چکا تھا۔ اس لمحے اس صوبائی وزیر غزالہ گل کے دل پر کیا گزری ہوگی۔ ہر دو صورتوں میں احساس ندامت نے ہی گھیرا ہوگا کہ کاش میں یہ کام نہ کرتی یا پھر یہ کہ کاش ٹا بہت زیادہ ہوتا ........ لیکن کاش اس نیک دل وزیر کو کوئی یہ بتائے کہ پورے ملک میں ٹے کا عذاب اسی طرح ہے لوگ دو دو کلو ٹے کے لئے پریشان ہےں۔ اب عوام کے مسائل کے حل کرنے کے لئے حکومت کو جلد از جلد کچھ کرنا ہوگاکیونکہ ابھی تک تو صرف مشرف ”ہٹا“ اور جو لوگ معزول ہو چکے ہیں انہیں ”محکوم“ بنا۔ جو اعلان مری کے وقت ساتھ تھے اپوزیشن میں ”بٹھا“ اور کچھ بھولے بسرے دوستوں کو جلد از جلد گلے ”لگا“ اور انہیں وزارتیں ”تھما“ کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ اب حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی کچھ وقت نکالنا چاہیے۔ صرف عوام کو جناب صدر محترم کے کمرشل فلائٹ پر سفر کرکے لندن جانے کا انکشاف کرنا کافی نہیں بلکہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں شیری رحمن صاحبہ!!!کچھ ایسا انکشاف کیجئے کہ استحصال زدہ قوم کے چہروں پر خوشی کی دلفریب لہر دوڑ جائے!!&lt;/strong&gt; &lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;http://apsislamabadpk.blogspot.com/feeds/posts/default?alt=rss&lt;/div&gt;</description><media:thumbnail xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" height="72" url="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgww2lybTnySaeKl0vUpwD5JKIXi_lRDjs85g3F0cecvUE4k-II8DxgW1Q7pXdS0Ce8qslMOSd7iQpB9hOOaFB0GZJ6KyWLadwyohW64OHE4YecIPxF2Ab7Oq_SBMmxWHb4yMCMz2xUK6A/s72-c/Khalid+Majeed+Logo+12.bmp" width="72"/><thr:total xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0">0</thr:total></item></channel></rss>