<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:blogger='http://schemas.google.com/blogger/2008' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd="http://schemas.google.com/g/2005" xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124</id><updated>2026-10-27T08:03:28.625-07:00</updated><category term="Sex Advise"/><category term="Masala"/><category term="Better sex postion"/><category term="Jokes"/><category term="Poetry"/><category term="suhagrat"/><category term="Hiv/aids"/><category term="Orgasm"/><title type='text'>Desi Sexy Urdu Stories</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default?redirect=false'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><link rel='next' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default?start-index=26&amp;max-results=25&amp;redirect=false'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>133</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>25</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-4448448089834886387</id><published>2012-01-16T13:46:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:46:16.084-08:00</updated><title type='text'>بہنوئی کے لنڈ کی دیوانی سالی</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
یہ کہانی ہے میری اور میری سالی کی۔اس کہانی میں سارے نام فرضی ہیں۔ کیونکہ یہ کہانی بالکل حقیقت ہے۔میری شادی کو دو سال ہوئے تھے اور میرا ایک خوبصورت سا بیٹا تھا، ایک بار میری بیوی نے فرمائش کی کہ پکنک پر چلتے ہیں سمندر کے کنارے میں نے حامی بھر لی کافی دن سے باہر کا کوئی پروگرام نہیں بنا تھا اس لیے اور میری دو دن کی چھٹی آرہی تھی۔ میری بیوی نے کہا ہم لوگ جیا کو بھی ساتھ لے کر چلینگے جیا میری اکلوتی سالی ہے میرے سسر کے دو ہی بچے تھے ایک میری بیوی اور ایک میری سالی۔ میری سالی کی عمر بیس سال ہے اور وہ خوبصورت تو ہے ہی مگر سیکسی بھی بہت ہے اچھے اچھوں کا ایمان خراب کرسکتی ہے۔خیر پروگرام طے ہو گیا سالی کو بھی مطلع کردیا گیا۔ وہ ایکدن پہلے ہی ہمارے گھر آگئی۔صبح ہم کو نکلنا تھا۔ جلدی جلدی ہم نے ناشتہ وغیرہ کر کے سامان گاڑی میں رکھا اور نکل پڑے 2 گھنٹے کی ڈرایونگ کے بعد ہم لوگ اپنے ہٹ پر پہنچ گئے ہٹ مجھے آفس کی جانب سے ملتا تھا سال ، یہ ہٹ کیا تھا اچھا خاصہ بنگلہ تھا۔ یہ صرف آفیسرز کی عیاشی کے لیے مخصوص تھا مگر میں چکر چلا کر لے لیا کرتا تھا۔ میری بیوی میری سالی سے بہت پیار کرتی ہے اور اسکی ہر بات مانتی ہے اسی وجہ سے مجھے بھی اپنی بیوی کا دل رکھنے کو جیا کی باتیں ماننا پڑتی ہیں۔ خیر ہم لوگ اپنے ہٹ تک پہنچ گئے وہاں کچھ ایسا ہے کہ ہر ہٹ کا کافی بڑا ایریا مخصوص ہے جہاں کسی دوسرے فرد کی آمد نہیں ہوسکتی۔ اسکا راستہ ایک ہی ہے جس سے ہم لوگ آئے تھے اب وہاں دروازے پر گارڈ بیٹھا تھا جو کسی کو بھی بغیر اجازت نامے کے اندر نہیں جانے دے گا۔ اس لئے کافی محفوظ قسم کا ہٹ تھا۔ خیر ہم لوگ وہاں پہنچے اور پہنچتے ہی سمندر میں اتر گئے سمندر بڑا پرسکون تھا۔ موسم بھی بڑا رومانٹیک تھا۔ ہم لوگوں نے کافی دیر تک انجوائے کیا میرا بیٹا اس دوران مزے سے سوتا رہا۔خیر اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور میں تو کافی تھک چکا تھا مگر جیا کو ابھی مستی چڑھی تھی اسنے جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہنی تھی اور وہ پانی سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔میری بیوی نے اس کو آواز دے کر بلایا اور کھانا کھانے کو کہا۔ خیر ہم پھر ہم سب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو میری بیوی اور جیا نے دوبارہ سے پلان کیا کہ سمندر میں جایا جائے مگر میں نے انکار کردیا۔ پھر یہ لوگ چلے گئے اور میں لیٹ کر آرام کرتارہا۔ میرا بیٹا اسی دوران اٹھ گیا میں نے اپنی بیوی کو آواز دی وہ جلدی جلدی سمندر سے باہر آئی اور میرے بیٹے کو دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد جیا بھی واپس آگئی۔ پھر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ جیا کافی تھک چکی تھی سو وہ لیٹی اور لیٹتے ہی سو گئی۔ میں اور میری بیوی باتیں کرتے رہے۔ کافی دیر اسی طرح گذر گئی تو پھر شام ہوئی اور پھر رات بھی ہوگئی اسی دوران جیا جاگ گئی اور اس نے غصے سے میری بیوی سے کہا آپی تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں مجھے سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنا تھا۔ میری بیوی نے کہا تم اتنا تھک گئی تھی اس لیے نہیں جگایا۔ خیر تھوڑی دیر میں جیا نارمل ہوگئی ۔ پھر رات کے کھانے کا انتظام کیا گیا اور ہم لوگوں نے خوب مست ہو کر کھایا۔ اب مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا تھا اور میری بیوی تو کھانا کھانے کے بعد اور بیٹے کو فیڈ کروانے کے بعد مزے سے سو گئی تھی میں نے جیا سے کہا تم بھی سو جاؤ اس نے کہا جی جو اب کہاں نیند آئے گی اتنی دیر تو سو چکی ہوں۔ میں نے کہا اکیلی کیا کروگی مجھے بھی نیند آرہی ہے۔ تمہاری آپی بھی سو چکی ہے۔ اس نے کہا جی جو ابھی نہ سوئیں نا میرے ساتھ سمندر تک چلیں میں نے کہا پاگل ہوگئ ہو کیا میں بہت تھک گیا ہوں تو یہ سن کر اسکا منہ بن گیا۔ خیر میں نے فیصلہ کیا کے اسکی بات مان لیتا ہوں۔میں نے کہا چلو چلتے ہیں باہر، یہ سن کو وہ خوش ہوگئی۔ میں نے اپنی بیوی سے کو جگایا اور اسکو بتایا کہ ہم دونوں ذرا باہر چہل قدمی کرنے جارہے ہیں تم چلنا چاہو گی ہمارے ساتھ تو اس نے کہا نہیں مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے آپ لوگ چلے جائیں۔ یہ کہہ کر وہ تو واپس سو گئی میں یہ بتاتا چلو میری بیوی نیند کی بہت پکی ہے۔ اسکو نیند بھی جلدی آتی ہے اور سو جائے تو اسکو جگانا بہت مشکل کام ہے۔ خیر جیا اور میں ہٹ سے باہر نکلے اور سمندر کے کنارے جا کر بیٹھ گئے ۔ جیا نے کہا جی جو سمندر میں جانے کا دل کر رہا ہے میں نے کہا یہ موسم ٹھیک نہیں سمندر میں جانے کے لیے مگر پھر وہ بچوں کی طرح ضدکرنے لگی میں نے ہار مانتے ہوئے کہا اچھا جو کپڑے تم نے پہنے ہوئے ہیں ان میں سمندر میں نہ اترو یہ سوکھنے میں بہت وقت لینگے اور رات بھر میں ٹھنڈ لگنے سے تم بیمار ہوسکتی ہو۔ تم کپڑے دوسرے پہن کر آجاؤ۔اس نے ذرا دیر سوچا اور پھر ٹھیک ہے کہتی ہوئی ہٹ میں چلی گئی جبکہ میں سمندر کے کنارے ہی بیٹھا رہا چاند نکلا ہوا تھا اسکی چاندنی کافی دور تک سمندر کو روشن کیے ہوئے تھی اتنا کہ ہر منظر کافی صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں جیا واپس آگئی میں نے اسکو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ ایک پتلی سی ٹی شرٹ اور نیچے ٹائڈ پہنے ہوئے تھی جو کہ اسکی پنڈلیوں سے تھوڑا نیچے تک تھا۔ جبکہ ٹی شرٹ اسکی کمر تک ہی تھی اسکی بڑے بڑے کولہے صاف ابل رہے تھے اس ٹائڈ میں سے۔ میں تو اسکو دیکھ کر پاگل سا ہوگیا۔ میں نے کہا اب تم میرا انتظار کرو میں بھی کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں ۔ یہ کہہ کر میں بھی ہٹ میں چلا گیا اور جاکر میں نے ایک بھی ایک ٹائڈ نکالا اور ایک سینڈوز نکالا اور پہن کر جیا کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا چلو اب چلتے ہیں اس نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور ایک تعریفی نظر مجھ پر ڈالی۔ سینڈوز بنیان کی طرح تھا کالے رنگ کا جبکہ ٹائڈ میرے گھٹنوں سے اوپر تک تھا میں نے اسکے نیچے کوئی انڈروئیر نہیں پہنا تھا جس سے میرے لنڈ کی پوزیشن کسی حد تک پتہ چل رہی تھی کہ کس پوزیشن میں ہے۔ خیر ہم دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سمند رمیں چلے گئے پانی ہم دونوں کی کمر تک آرہا تھا تھوڑی دیر ہم پانی سے کھیلتے رہے پھر میں نے جیا سے کہا چلو اور آگے چلتے ہیں اس نے کہا نہیں جی جو دل تو بہت کرتا ہے مگر ڈر بھی لگتا ہے میں نے کہا میں بھی تو چل رہا ہوں تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا یہ کہہ کر میں آگے بڑھا تو جیا کو بھی مجبوراً میرا ساتھ دینا پڑا۔پھر ہم آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گہرے پانی میں پہنچ گئے سمندر بہت پرسکون تھا اس لیے گھبرانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ وہاں پہنچ کر پانی کے دباؤ سے جیا کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اس نے کہا جی جو میرا ہاتھ پکڑ لیں مجھے ڈر لگ رہا ہے میں تو موقعے کی تلاش میں تھا فوراً اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور کافی نزدیک ہو کر کھڑا ہوگیا۔ اب وہ کافی پرسکون لگ رہی تھی۔ کہ اچانک اسکا پاؤں پھسلا اور وہ گرنے لگی کہ میں نے اسکو پکڑااور گرنے سے بچا لیا اسکو پکڑنے کے چکر میں میرا ایک ہاتھ تو اسکے ہاتھ میں تھ دوسرا میں نے اسکی کمر میں ڈالا اوپر پھر اسکو اوپر اٹھاتے اٹھاتے میں نے وہ ہاتھ جو اسکے ہاتھ میں تھا اسکو چھوڑ کر اسکے ایک ممے کو پکڑ لیا اور اسکو دباتا ہوا جیا کو ایک ہی ہاتھ کے بل پر پورا اوپر اٹھایااور اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ تھوڑی دیر تو کچھ نہ سمجھ پائی پھر کہنے لگی جی جو واپس چلیں میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے کہا چلو واپس چلتے ہیں یہ کہہ کر میں نے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا اور ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر ہم چلتے ہوئے واپس آرہے تھے کہ اچانک میں نے سلپ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اسکا وہ ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے کھینچتے ہوئے اپنے لنڈ پر لگایا اور تقریباً زور سے اپنا لنڈ اسکے ہاتھ سے دبا دیا۔ میرا لنڈ جیا کی قربت کی وجہ سے تھوڑا کروٹیں تو لے ہی رہا تھا۔ اسکا ہاتھ لگا تو اسے بھی کرنٹ لگا اور جیا کو بھی مگر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی جو کیا ہو ا سنبھل کے چلیں۔ میں نے کہا ہاں ایسا ہو جاتا ہے جب بغل میں ایک خوبصورت لڑکی ہو یہ کہتے ہوئے میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا ۔ تو اس نے شرما کر نظریں نیچے کر لیں۔ میرا اس سے کافی مذاق چلتا رہتا تھا۔ اس لیے اس نے شاید اس بات کو بھی ویسے ہی لیا ہوگا۔ مگر اسکی آنکھوں کی ایک دم پیدا ہو جانے والی سرخی کچھ اور کہہ رہی تھی۔ خیر ہم لوگ ساحل پر واپس آگئے میں نے جیا سے کہا کپڑے گیلے ہیں چلو تھوڑی دور تک چلتے ہیں کپڑے سوکھ جائیں تو واپس ہٹ میں چلیں گے۔ یہ کہہ کر ہم دونوں چلتے ہو ئے ہٹ سے دور جانے لگے اسی دوران میں نے جیا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے چونک کر میری جانب دیکھا اور پھر مسکرا کر سامنے دیکھنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑاہوا تو تھا ہی ذرا دیر بعد اسکو ہلکے سے دبایا تو وہ منہ نیچے کر کے مسکرانے لگی ، مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں مزید آگے بڑھا تو وہ روکے گی نہیں مگر میں محتاط رہنا چاہتا تھا ہم دونوں خاموشی سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہم لوگ ہٹ سے کافی دور آچکے تھے۔ یہاں ساحل تھا دور تک اور کوئی بندہ نہ بندے کی ذات دوسرے ہٹ بھی کافی دور تھے جہاں سے کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا کچھ کچھ فاصے پر بیٹھنے کے لیے سیمنٹ کی بنچز بنی ہوئی تھیں۔ جن پر ٹائلز لگے ہوئے تھے میں نے جیا سے کہا چلو ادھر بیٹھتے ہیں تھوڑی دیر یہ کہہ کر میں اسکے جواب کا انتظار کیئے بغیر اسکو کھینچتا ہوابنچ تک لے گیا۔ پھر ہم دونوں بنچ پربیٹھ گئے میں اسکے بلکل نزدیک چپک کر بیٹھا تھا اور اسکا ہاتھ ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔میں نے جیا سے کہا ایک بات کہوں ؟ اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہا جی کہیں جی جو۔ میں نے کہا پہلے وعدہ کرو تم برا نہیں مناؤ گی۔ اس نے کہا آپ کی کسی بات کا برا نہیں مناتی میں آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے جیا سے کہا تم بہت خوبصورت ہو جیا۔ میرا دل چاہتا ہے تمکو پیار کرنے کو۔ یہ سن کر اسکا چہرہ سرخ ہوگیا۔پھر میں نے ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھ کر اسکا چہرہ اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں شاید وہ آنے والے لمحات کا اندازہ کر رہی تھی اسی وجہ سے انکی شدت سے اسکی یہ حالت تھی۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے پہلے تو وہ ذرا کسمسائی مگر پھر خود کو تقریباً میرے حوالے کردیا۔ میں نے ایک لمبی کس کی اسکے ہونٹوں پر اور پھر اسکی جانب دیکھتا ہوا اسکا ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا وہ اپنے لنڈ پر رکھ دیا اور ذرا سا دبایا۔ جیا کو ایکدم کرنٹ سا لگا مگر شاید اسے اچھا بھی لگا ہوگا اسی وجہ سے اس نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ جیا میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے اوہ اب تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا میں نے جیا کے ہاتھ سے ہاتھ ہٹا لیا کیونکہ اب وہ ہاتھ خود کام کر رہا تھا میں نے وہ ہاتھ جیا کے ایک ممے پر رکھ کر اسکو زور سے دبایا اور اسکا پورا بدن ایک دم کپکپا اٹھا۔ وہ میری جانب ہراساں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ پھر میں نے مزید انتظار نہ کیا جہاں اتنا کچھ ہو گیا وہاں مزید ہونا بھی مشکل نہ تھا، میں نے اسکی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال دیا اور بریزر پر سے ہی اسکے ممے کو دبانے لگا۔ اب جیا کا سانس تیز چلنے لگا تھا۔ جی جو یہ کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آجائے گا میں بدنام ہو جاؤں گی ۔ میں نے کہا یہاں اس وقت کوئی نہیں آئے گا۔ اور تمہاری آپ مست ہو کر سو رہی ہے۔ تم بس انجوئے کرو، میری بات سن کر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو ہمارا ہٹ اور باقی دوسرے ہٹ کافی دور دور تھے اور پورے ساحل پر ہم دونوں کے سوا کوئی تھا بھی نہیں۔ اسکے چہرے پر اب سکون کے آثار آگئے تھے میں سمجھ گیا کہ اب اسکو کوئی فکر نہیں ہے لہٰذا میں جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکی ٹی شرٹ کو اوپر اٹھایا تو اس نے مزاحمت کی مگر میں نے اسکی جانب دیکھا تو اسکی آنکھوں میں عجیب طرح کی مستی سی تھی۔ میں نے دوبارہ کوشش کی اور اسکی ٹی شرٹ کو اتار دیا اس بار اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ کالے رنگ کے بریزر میں جکڑے ہوئے اسکے گورے گورے بڑے بڑے ممے میرا دماغ ابال رہے تھے۔ میں نے اسکو اپنے سینے سے لگایا اور پیچھے ہاتھ لے جا کر اسکے بریزر کے ہک کھول کر اسکے خوبصورت مموں کو بریزر کی قید سے آزاد کر دیا اس نے شرما کر دونوں ہاتھوں سے اپنے ممے چھپا لیے میں نے مسکرا کر اسکی جانب دیکھااور کھڑا ہو کر اپنا سینڈوز اور ٹائڈ ایک ہی لمحے میں اتار دیا۔ وہ مجھے پور ننگا دیکھ کر عجیب سے ہوگئی میرا لنڈ اسکے ممے دیکھ کر پورا تن کر اپنے فل سائز میں آچکا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ اور پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اب میں اسکے نزدیک بیٹھا اور اس سے کہا کھڑی ہو جاؤ وہ سوچتے سوچتے کھڑی ہوئی تو میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکا ٹائڈ اسکے گھٹنوں تک کھینچ کر اتار دیااب اسکی کنواری چوت میری نظروں کے سامنے تھی۔ میں نے اسکی چوت پر ایک کس کیا تو وہ ایک بار پھر سے کپکپا اٹھی۔ اور میں نے دیکھا کہ اس نے باقی ٹائڈ خود ہی میرے کہے بغیر اتار دیا تھا شاید وہ بھی اب یہ چانس ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھر میں نے اسکو بینچ پرلٹا دیا اور اسکے ممے چوسنے لگا وہ پاگل سی ہور ہی تھی اور اس کے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں اسکا بدن گرم ہونے لگا تھا۔ خود میرا بھی حال کچھ اس سے مختلف نہیں تھا بس فرق اتنا تھا کہ اسکا پہلا موقع تھا اور میں کئی بار اپنی بیوی سے یہ سب کر چکا تھا۔ پھر میں نے مزید آگے بڑھنے کا سوچا اور اسکی چوت پر انگلی رکھی تو پہلے سے گیلی ہو چکی تھی بس اب کیا تھا میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ اور اسکو دبایا تو میرے لنڈ کا ہیڈ اسکی چوت میں چلا گیا وہ تکلیف سے اچھلنے لگی ۔ جی جو بہت تکلیف ہو رہی ہے پلیز یہ سب نہ کریں میں نے کہا ابھی تکلیف ختم ہو جائے گی بس پھر مزے کرنا۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا لنڈ واپس باہر نکالا صرف اتنا کے وہ اسکی چوت سے الگ نہ ہو اسکے بعد دوباہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ میں نے اسے اندر ڈالا اوروہ اسکی چوت کو پھاڑتا ہو کافی اندر تک چلا گیا اب وہ درد سے کراہ رہی تھی چیخ اس لیے نہیں رہی تھی کہ اسکو ابھی بھی ڈر تھا کہ کوئی اسکی آواز سن کر آ نہ جائے۔ پھر میں نے ایک بار پھر وہ ہی عمل کیا اور لنڈ کو تھوڑا باہر نکال کر پھر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اندر گھسیڑا میرا پورا لنڈ اس کی چوت میں داخل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بتاؤں اسکی چوت کتنی ٹائٹ اور کتنی گرم تھی۔ مزے کے ساتوں آسمان پر پہنچ گیا تھا میں میرا دل کر رہا تھا اسی طرح زندگی ختم ہو جائے میرالنڈ اسکی چوت میں ہی رہے۔ پھر میں نے تھوڑا لنڈ باہر نکالا اور پھر اندر کیا اور یہ عمل بار بار کرتا رہا اسکی تکلیف کافی حد تک کم ہو چکی تھی اور وہ تیز سانسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔میں نے پورا لنڈ اسکی چوت میں ڈال کر اسکے اوپر لیٹ گیا اب وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی اس نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا میں سمجھ گیا اب وہ بالکل تیار ہے چدنے کے لیے میں نے اپنا کام شروع کردیا اور تیز تیز لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا ۔ ایک تو سمندر، دوسرے چاندنی رات اور پھر جیا جیسے خوبصورت لڑکی میرا تو دماغ جنت کی سیر کر رہا تھا۔ میں نے بھی زیادہ سے زیادہ وقت کھینچنے کے لیے کوشش کی اور تقریباً دس منٹ تک اسکی زبردست چدائی کی اس دوران وہ دو بار فارغ ہوچکی تھی اور ہر بار زور دار آہیں بھرنے کے بعد کہتی تھی جی جو بس کرو اب میں تھک گئی مگر میرا لنڈ تو جیسے دیوانہ ہوگیا تھا وہ کہاں رکنے والا تھا جب تک اسکا لاوا نہ نکل جاتا۔ خیر پھر میں نے بھی فارغ ہونے کا فیصلہ کر لیا اور لنڈ کو تیز تیز اندر باہر کرتا رہا۔ اور آخر کار زبردست جھٹکوں کے ساتھ میرا لنڈ اسکی چوت کو اپنے لاوے سے بھرنے لگا۔ اب کی بار اسکا پورا بدن ایسے کپکپا رہا تھا جیسے کسی مشین پر لیٹی ہو۔ خیر میں تھوڑی دیر اسکے اوپر ہی لیٹا رہا اور اسکے بدن کو چومتا رہا۔ پھر ہم دونوں اٹھے اور کپڑے پہن کر واپس سمندر میں چلے گئے تاکہ خود کو صاف کرسکیں وہاں بھی میں نے اسکو خوب مساج کیا اور اسکی چوت میں انگلی ڈالی۔ پھر ہم واپس ہٹ میں آگئے اور سو گئے اسکے بعد بھی کئی بار میں نے اسکو چودا جب جب موقع ملا وہ بھی میرے لنڈ کی دیوانی ہو چکی تھی۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/4448448089834886387/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_7029.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4448448089834886387'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4448448089834886387'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_7029.html' title='بہنوئی کے لنڈ کی دیوانی سالی'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-6098139741209513466</id><published>2012-01-16T13:45:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:45:38.440-08:00</updated><title type='text'>چودو چوہدری چدائی کا شوقین</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
چوہدری بختیار جدی پشتی رئیس تھا اور اس کے شوق بھی وہی تھے جو عام طور پر رہیسوں کے ہوتے تھے۔ اس کا باپ اس کے ترکے میں 50 مربعے زمین چھوڑ کر مرا تھا۔&lt;br /&gt;اس کی بہنیں شادی کی عمر گزار کر گھر میں بیٹھی تھیں،جائداد کے حصے بخرے نہ ہوں اسی لئے وہ کبھی بیاہی ہی نہ گئی تھیں۔&lt;br /&gt;بلقیس اس کی بیوی بھی ایک زمیندار خاندان سے تھی جو صرف اسی وقت کام آتی تھی جب چوہدری کو اپنا غصہ کسی عورت پر نکالنا ہوتا تھا۔ وہ بیچاری چوہدری کی مار کھاتی اور اسے اپنا فرض سمجھ کر چپ ہو رہتی۔&lt;br /&gt;چوہدری عیاش طبع تو تھا ہی ساتھ میں ظالم بھی تھا۔&lt;br /&gt;آئے روز لاہور اور گوجرانوالا کے بدنام کوچوں سے رنڈیاں آتیں اور ہزار بار کے بکے ہوئے سکوں کو کسی نئے سکے سے بھی زیادہ دام میں بیچتیں۔&lt;br /&gt;اس کی رعایا میں سو کے قریب کمی خاندان تھے جو کئی نسلوں سے اس کے خاندان کی چاکری کر رہے تھے۔ چوہدری ان کو بس ان دیتا کہ وہ زندہ رہیں اور اتنا دباتا کہ بس جان اٹکی رہے۔&lt;br /&gt;یہ کمی اپنی بہو بیٹیاں چوہدری کے بستر پر سلانا اپنے لئے خوش بختی سمجھتے۔&lt;br /&gt;ادھر کسی کی بیٹی تیرہواں سن پار کرتی اور اس کی شلوار میں خون کی پہلی بوند پڑتی تو پاکی نہاتے ہی اس کا باپ اسے چوہدری کے بستر تک چھوڑ آتا۔&lt;br /&gt;اگر کوئی ایسا نہ کرتا تو اس کی شامت آ جاتی، اس کی بہو بیٹیوں پر چوہدری کے کتے سب کے سامنے ٹوٹ پڑتے۔&lt;br /&gt;اگر کوئی اور چوہدری سے پہلے کسی لڑکی کو جھوٹا کر دیتا تو اس لڑکی پر سارا گاؤں باری باری سوار ہوتا، اس وقت تک جب تک وہ زندگی سے آزاد نہ ہو جاتی۔&lt;br /&gt;گاؤں کے لوگوں میں غیرت اور عزت جیسے لفظ صرف چوہدریوں کے لئے تھے۔&lt;br /&gt;چوہدری کبھی بھی کسی کو طلب کر لیتا اور کسی کو اپنے بستر پر لے جاتا۔&lt;br /&gt;یہ سب کرنے کے لئے اسے کسی سے چھپنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ اسے رعایا پر حکومت کرنے کا گر سمجھا جاتا تھا۔&lt;br /&gt;بلقیس اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر چپ تھی،اس نے یہی سب اپنے گھر بھی دیکھا تھا۔&lt;br /&gt;چوہدری ایک دن ایک غریب لڑکی کو لایا اور ایک کمرے میں اسے زبردستی چودنے لگا۔ لڑکی کی چیخوں سے پورا گھر گونج رہا تھا۔&lt;br /&gt;بلقیس اٹھ کر کمرے کے دروازے پر آ گئی، لڑکی چوہدری کے بھاری وجود کے سامنے کچھ بھی نہ تھی۔ کم خوراک اور سخت محنت نے اسے اتنا موقع ہی نہ دیا تھا کہ اس کے جسم پر کوئی گوشت آتا۔ چوہدری شراب کے نشے میں اس کی چوت پھاڑنے حد تک مار رہاتھا۔ بلقیس کچھ لمحے تو یہ ننگا ناچ دیکھتی رہی پھر آ گئی۔&lt;br /&gt;لڑکی کی چیخیں اب بند ہو گئی تھیں، شاید وہ درد سے بیگانہ گئی تھی یا ہوش سے۔ ایک ملازمہ اندر گئی اور ادھ مری لڑکی کو ایک چادر میں لپیٹ کر اس کے باپ کے حوالے کر دیا۔&lt;br /&gt;اس لڑکی کا باپ اپنی بیٹی کے کنوارے خون سے سنے چند لال نوٹوں پر جھپٹا،نیم بےہوش بیٹی باپ کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر اپنی پہلی کمائی پر دل ہی دل میں نازاں ہوئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بلقیس کو اپنی بڑی نند نصرت جو تیس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی وہ اپنے کمرے ہی مل گئی۔ اس نے بلقیس کو&lt;br /&gt;بلا لیا۔&lt;br /&gt;نصرت بولی: کی ہویا بھرجائی، آج تجھے نیند نہیں آئی۔&lt;br /&gt;بلقیس : نیند تو شاید آ جاتی مگر اس نمانی کی چیخوں نے سونے نہ دیا۔&lt;br /&gt;نصرت ہنسی: وے جھلی نہ ہو تو یہ کوئی نویں گل ہے کیا۔&lt;br /&gt;بلقیس: نویں تو نہیں بس آج عجیب سا درد ہوا تھا مجھے۔&lt;br /&gt;نصرت بولی: کیسا درد بھرجائی کھل کے بول۔&lt;br /&gt;بلقیس: رہن دے وڈی باجی تو میری چنتا نہ کر سو جا۔&lt;br /&gt;نصرت: وے بھلیے لوکے میں نے سو کے کیا کر لینا تو بیٹھ اور بتا۔&lt;br /&gt;بلقیس: باجی مجھے اج ایک عجیب سا درد ہویا کہ چوہدری صیب میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں کرتا۔&lt;br /&gt;نصرت: تیرے ساتھ مطلب، تو تو اس کی زنانی ہے، تیرے ساتھ ایسا کیوں کرے گا۔&lt;br /&gt;بلقیس: کنا ویلے ہو گیا چوہدری نے مجھے ھاتھ نہیں لگایا ویاہ کے بعد تو بس وہی کمی کمیں عورتیں یا رنڈیاں ہی اس کے ساتھ سوتی ہیں۔ اج میرے من میں ہوک اٹھی کہ کنا چنگا ہوتا کہ اس نمانی کے بدلے میں چیخ رہی ہوتی۔چوہدری بھلے درد دیتا پر دیتا تو صحیح۔&lt;br /&gt;نصرت نے گہری سانس لی اور بولی: بھرجائی یہ جو مرد ہوتا ہے نا اسے اپنا نالہ تو کھلا پسند ہے مگر گھر کی عورتوں کا نالہ اسے کسا ہوا چاہئیے۔ اپنے لئے تو سارے عورتیں جائز ہیں پر اپنی عورت کے لئے سب حرام۔ جس آگ میں تو سال سے جل رہی ہے میں اٹھارہ سال سے جل رہی ہوں۔&lt;br /&gt;جو درد تجھے اج ہویا ہے وہ مجھے اٹھارہ سال پہلے ہوتا تھا جب کسی نمانی کی چیخیں نکلتی تو میں سوچتی کہ کوئی میری بھی یوں چیخیں نکالے۔ جب کسی کو جھوٹا چوہدری کو کھلانے کی سزا ملتی تو میں روتی کاش اس گاؤں کا ہر مرد میرے اوپر چڑھ ڈورے، میں مرد کی نیچے سے ہی مر جاؤں۔&lt;br /&gt;بلقیس یہ سب سن کے حیران تھی کہ اس کی نند اسی دور سے گزر چکی ہے۔&lt;br /&gt;نصرت بولی: میری اگ تو بجھ گئی ہے تجھے تو اٹھارواں لگا ہے تیری شلوار تو ابھی تر ہے تو اس اگ میں کیوں جلے۔&lt;br /&gt;بلقیس: کیا مطلب وڈی باجی۔&lt;br /&gt;نصرت: ویکھ میرا ویاہ ہوتا تو اج تیرے جتنی میری دھی ہوتی، مرد کی اگ پہ تو قطرے گرتے رہتے ہیں عورت کی اگ اسے آپ بجھانی پڑتی ہے۔ اگلا بوہا(دروازہ) بند ہوے تے پچھلی کھڑکی کھول لینی چاہی دی ہے۔&lt;br /&gt;بلقیس:مگر۔۔ ۔ ۔&lt;br /&gt;نصرت: اگر تو اس اگ کو پالتی رہی تو اک دن یہ تجھے ساڑ دے گی، چوہدری کا کیا ہے نویں زنانی آ جائے گی، تجھے مرجھانا نہیں ہے بلکہ ایس کو نال نال بجھانا بھی ہے۔ بانی گرتا رہے تے زمین بنجر نہیں ہوندی۔&lt;br /&gt;بلقیس: لیکن اگر کسی کو پتہ لگ فیر۔&lt;br /&gt;نصرت: فیر کی روز روز مرنے سے اک واری چنگا۔&lt;br /&gt;بلقیس کسی حد تک مطمئن ہو گئی تھی مگر ڈر بھی رہی تھی۔&lt;br /&gt;بلقیس: پر یہ ہو گا کیسے۔&lt;br /&gt;نصرت: ویسے جیسے چوہدری کڑی لاتا ہے تو منڈے لے ائے گی۔&lt;br /&gt;بلقیس: مگر کیسے&lt;br /&gt;نصرت: تو مجھ پہ چھوڑ دے، پرسوں کی رات چوہدری کے ڈیرے پہ کنجریاں ناچیں گی، چوہدری ویلے سے نہیں مڑے گا، تو بس تیار رہنا۔&lt;br /&gt;بلقیس جو شاید پچھلے سوا سالہ شادی شدہ زندگی میں ایک دو بار چدی تھی اب اس آگ کے ھاتھوں بے چین ہو گئی تھی۔&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/6098139741209513466/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1068.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/6098139741209513466'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/6098139741209513466'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1068.html' title='چودو چوہدری چدائی کا شوقین'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-4017120382392018111</id><published>2012-01-16T13:44:00.003-08:00</published><updated>2012-01-16T13:44:59.241-08:00</updated><title type='text'>ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 4 ‬</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺣﺼہ ٤‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺑﺎپ - ﺑﯿﭩﮯ‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺪی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮف اﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮں ﺳﮯ ﺟﻮ ﺧﻮد ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﻟﮯ.. ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﯾہ ﻏﯿﺮ ﻓﻄﺮی ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ۔ اس ﻟﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍھﻨﮯ‬ ‫واﻟﻮں ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮں ﮐہ ۔ ﯾہ ﺧﺎﻟﺼﺘً ﻓﺮﺿﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں ﻣﯿﮟ ﮔﻮ ، ﻣﻮت اور دﯾﮕﺮ ﻏﻼﻇﺘﻮں ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اﮔﺮ آپ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﭘﺴﻨﺪ واﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍھﻨﮯ ﮐﯽ زﺣﻤﺖ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ۔ دﯾﮕﺮ ﺧﻮاﺗﯿﻦ و‬ ‫ﺣﻀﺮات ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ آﮔﮯ ﺑﮍھﯿﮟ ۔‬ ‫ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﯽ ﺗﮭﻮڑی اور ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﺘﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ،‬ ‫ﭘﻮﻧﺎ ﮐﮯ اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﭼﻮدﻧﺎ ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ رﻧﮉی ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ اور‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ۔ ﮨﺎں ، ﮨﻢ ﺟﻨﺲ ﻣﻮاﻓﻖ اور ﺟﻨﺲ ﻣﺨﺎﻟﻒ دوﻧﻮں ﮐﮯ رﺳﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﭘ‬ ‫آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉو ﮔﯿﺮی ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ‬ ‫ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔‬ ‫ﺻﺒﺢ ﮐﺎ وﻗﺖ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮے آس ﭘﺎس ﺑﺴﺘﺮ ﮔﯿﻼ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺗﺐ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐﺲ ﻃﺮح ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﭽﮭﻠﯽ رات اﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ وﻗﺖ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺗﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ ، ﭘﺮ اس ﻣﯿﮟ‬ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ِﺘﺎ ﺟﯽ اﮐﯿﻠﮯ ﭨﯿﻠﯿﻮژن ﭘﺮ ﺧﺒﺮﯾﮟ دﯾﮑﮫ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﯾہ ﺳﺎﻟﯽ دوﻧﻮں رﻧﮉﯾﺎں ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﮐﮩﺎں ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯿﮟ ؟ ان ﮐﻮ ﭘﺘہ ﮨﮯ ﻧﺎ ﮐہ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ان‬ ‫ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﭩﻮاﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ اور ان ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ارے ﺑﯿﭩﺎ ، ﺗﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﻮ اﭼﺎﻧﮏ ﻣﺎﮨﻮاری اﯾﺎم ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ، ﺗﻮ دوﻧﻮں ﭘﻮﺗﮍے ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﭘﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫اب رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ۔ دﯾﮑﮫ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﯿﺴﮯ ﺗﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾہ ﺑﻮل ﮐﺮ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﭘﺎﺟﺎﻣﮯ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺗﻨﺎ ﻟﻨﮉ دﮐﮭﺎﯾﺎ ۔‬ ‫ﻣﯿﮟ: ِﺘﺎ ﺟﯽ ، ﮐﯿﺎ آج ﮐﻞ آپ ﮐﻮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﯽ ِﭼ ّﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺑﮩﺖ دن ﺳﮯ آپ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻟﮕﺎﯾﺎ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ِﭼ ّﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ۔ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں ، ﯾہ ﺳﺎﻟﯽ دوﻧﻮں ﭼﻨﺎل رﻧﮉﯾﺎں ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺘﯿﮟ ۔ ﭘﺮ آج‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ آ ﺟﺎ ، ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔‬ ‫ﻣﯿﮟ ِﺘﺎ ﺟﯽ ‪ k‬ﭘﺎس ﮔﯿﺎ اور ﮔﮭﭩﻨﻮں ﮐﮯ ﺑﻞ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﻮﻻ اور ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﭘﺎس ﻻﺋﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨہ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮐﮭﻮﻻ اور ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ۔ وﮦ زور زور ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ان ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﺑﮩﺖ ﺑﮍا ﮨﮯ ۔ وﮦ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﮐﺎﻓﯽ اﻧﺪر ﺗﮏ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ اﻟﭩﯽ )ﻗﮯ( ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭘﺮ اﻧﮩﯿﮟ ان ﺳﺐ ﭼﯿﺰوں ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮق‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ۔ ﯾہ ﮐﺎﻓﯽ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﻼ ۔ ﭘﮭﺮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ ۔‬ ‫اب ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور وﮦ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﮍا اور اﭘﻨﺎ ﭘﺎﺟﺎﻣہ ١ ﮨﯽ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎل دﯾﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﺎﻟﻮں‬ ‫ﺳﮯ ﺑﮭﺮی ﮔﺎﻧﮉ ان ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﯽ ۔ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﺳﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ اور ﻣﯿﺮی ﭨّﯽ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﮐﻮ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ان ﮐﯽ ﺟﯿﺒﮫ ﻣﯿﺮے ﭼﮭﯿﺪ ﮐﮯ اﻧﺪر ﺗﮏ ﺟﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﭘﮭﺮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ اور ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ١ ﻟﻤﺒﺎ ﺳﺎ ﭘﺎد ان ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮڑ دﯾﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻠﮑﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮدن ﮔﮭﻤﺎﺋﯽ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮا ﭘﻮرا ﭘﺎد ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﮐﮯ اﻧﺪر ﭼﻠﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ اور وﮦ‬ ‫اﺳﮯ اﯾﺴﮯ ﺳﻮاد ﻟﮯ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮرے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺑﻮ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: آج ﺳﻨﺪاس ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ؟‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎں ﺳﻨﺪاس ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ اور ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﺳﺎﻟﮯ ﭼﻨﺎل ﮐﯽ اوﻻد ۔ ﯾﮩﯽ ﺳﻨﺴﮑﺎر دﯾﮯ ﺗﯿﺮی رﻧﮉی ﻣﺎں ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ۔ ﭼﻞ ﺳﻨﺪاس ۔ ﺻﺒﺢ اﭨﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﮕﻨﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ۔ آج ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭨّﯽ ﮐﺮاﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﻮڈ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﮨﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ،‬ ‫ﭩ‬ ‫ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور اﭘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ اﯾﺴﺎ ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﻼ ۔ ٠١ – ٥١‬ ‫ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی ﭨّﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﺮی ﺳﻨﺪاس ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﺗﻮ اﭨﮫ ﺟﺎ اور ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﮍ ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﮍا ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ اور دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﺳﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ اور اس ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﺳﺎری ﭨّﯽ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮ دی ۔ ﭨّﯽ ﺻﺎف ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ وﮦ ﮐﺎﻓﯽ دﯾﺮ ﺗﮏ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺎﭨﺘﺎ رﮨﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ اس ﮐﺎ ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ۔‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﭼﻞ ﺑﮭﮍوے ، اب ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﺑﮩﺖ دن ﺳﮯ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ ڈاﻻ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮨﻢ دوﻧﻮں ﻣﯿﺮے ﻣﺎں – ﺑﺎپ ﮐﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ اﻟﭩﺎ ﮔﺎﻧﮉ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﺑﮩﺖ ﺗﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ اور اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﺎ دﯾﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ زﯾﺎدﮦ درد ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺆا ۔ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮐﻮ ﺑﮍے ﺑﮍے ﻟﻨﮉ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎدت ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﺎ ، “ ﺳﺎﻟﮯ ﻣﺎدر ﭼﻮد ، ﻟﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ۔ ﺗﯿﺮی‬ ‫ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ ۔ ﺳﺎﻟﮯ رﻧﮉی ﮐﯽ اوﻻد”.‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﺗﻮ ﻣﺎر ﻧﺎ ﺑﮭﮍوے ۔ ﺗﻮ اﭘﻨﯽ ﺳﮕﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮭﯽ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ؟‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ِﭼ ّﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮی ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ڈر ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺳﺎﻟﯽ ﮨﺎں ﺑﻮﻟﮯ ﮔﯽ‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﺳﺎﻟﯽ رﻧﮉی ۔‬ ‫ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮨﻨﺲ ﭘﮍے ۔ ﭘﺮ ﯾہ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ وﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻮڑا ﮔﮭﺴﺎ ﮨﺆا ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ۔ وﮦ زور زور‬ ‫ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫ﭘﮭﺮ اس ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﮯ دوﻧﻮں ﭘﯿﺮ اس ﮐﮯ دوﻧﻮں اور رﮐﮭﮯ اور اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔ ُﺴﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔‬ ‫ﮭ‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ُوﮦ!!!! ﻣﺎدر ﭼﻮد ۔ ﺑﮭﮍوے ۔ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ۔ اﺗﻨﺎ ﻣﺰا ﺗﻮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﮯ وﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ آﺗﺎ ۔‬ ‫ا‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ اوﭘﺮ – ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﭼّﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﻮ درد ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺗﻮ وﮦ ﭼّﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ﮔﻨﺪی ﮔﺎﻟﯿﺎں‬ ‫ﻠ‬ ‫ﻠ‬ ‫دے رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﮨﺮ ﺑﺎر ﺟﺐ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے اﻧﺪر ﺗﮏ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺟﺲ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭘﯿﺪا ﮨﺆا ﺗﮭﺎ ، وﮨﯽ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ، ﯾہ ﺳﻮچ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: آﮦ!!! ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ۔ رﻧﮉی ﮐﯽ اوﻻد ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍﻧﮯ واﻻ ﮨﻮں ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﺟﮭﮍﻧﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮا رس ﭘﯿﻨﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﺗﻮ ﻧﮑﺎل ﻟﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اور ﻟﮯ ﻟﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺮﻧﺖ اﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ اور اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ رﮐﮫ ﻟﯿﺎ اور اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﮐﮯ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﻼ اور ﭼﭗ ﭼﭙﺎ‬ ‫ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺤﺴﻮس ﮨﺆا ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘہ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﭼﻮد ﺑﺎپ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﻣﺮد ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺳﻮاد ﺑﮩﺖ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸہ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ١ ﺑﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ۔‬ ‫اس ﻃﺮح ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﺑﺎپ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﺋﯽ اور ﮨﻤﯿﺸہ ﻣﺮواﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﺑﮩﺖ ﺳﺎرے ﻟﻮﮔﻮں ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮐﺎﻓﯽ ﺑﮍی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ زﯾﺎدﮦ ﺑﮍا ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ۔ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ، ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﭼﺪاﺋﯽ‬ ‫ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫۔ ﻣﯿﮟ آپ ﮐﮯ ﻣﺮاﺳﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ رﮨﻮں ﮔﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺪی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﭘﺮ‬ ‫ﺻﺮف اﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮں ﺳﮯ ﺟﻮ ﺧﻮد ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﻟﮯ ۔‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/4017120382392018111/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/4_8315.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4017120382392018111'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4017120382392018111'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/4_8315.html' title='ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 4 ‬'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-6147254117681732752</id><published>2012-01-16T13:44:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T14:09:11.849-08:00</updated><title type='text'>ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 3 ‬</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt; &lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt; &lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﺣﺼہ ٣‬&lt;br /&gt;
‫&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ‬&lt;br /&gt;
‫ﭘﯿﺎرے دوﺳﺘﻮ ۔ راﮨﻮل اﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ۔ ﯾہ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ۔ اس ﻣﯿﮟ ﻣﺮدوں ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻘﺎت ﮐﺎ‬ ‫ذﮐﺮ ﮨﮯ ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﯾہ ﻏﯿﺮ ﻓﻄﺮی ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ۔ اس ﻟﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍھﻨﮯ واﻟﻮں ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮں ﮐہ ﯾہ ﺧﺎﻟﺼﺘً ﻓﺮﺿﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں ﻣﯿﮟ ﮔﻮ ، ﻣﻮت اور دﯾﮕﺮ ﻏﻼﻇﺘﻮں ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اﮔﺮ آپ ﻧﻔﺎﺳﺖ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ واﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍھﻨﮯ ﮐﯽ زﺣﻤﺖ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ۔ دﯾﮕﺮ ﺧﻮاﺗﯿﻦ و ﺣﻀﺮات ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ آﮔﮯ ﺑﮍھﯿﮟ ۔ ﭘﮩﻠﮯ‬ ‫ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﯽ ﺗﮭﻮڑی اور ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﺘﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ، ﭘﻮﻧﺎ‬ ‫ﮐﮯ اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﺎ‬ ‫ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ رﻧﮉی ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ اور‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ۔ ﮨﺎں ، ﮨﻢ ﺟﻨﺲ ﻣﻮاﻓﻖ اور ﺟﻨﺲ ﻣﺨﺎﻟﻒ دوﻧﻮں ﮐﮯ رﺳﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﭘ‬ ‫آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉو ﮔﯿﺮی ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ‬ ‫ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﭘﮍھﺎﺋﯽ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اﭼﺎﻧﮏ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐہ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ دوﺳﺖ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﮍا ﮔﺸﺘﯽ ﻓﻮن اﭨﮭﺎﯾﺎ اور آواز ﮐﺎ ﺑﭩﻦ دﺑﺎﯾﺎ ﺗﻮ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ دھﯿﺎن ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﮐہ ﮐﻮﺋﯽ اور ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﻓﻮن ﺳﮯ ﺑﺎت ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﮐہ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮی ﻣﺎﺳﯽ ﺳﮯ ﺑﺎت ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﻣﺎل ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﻗﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮨﮯ اور ﺑﮩﺖ ﭘﺘﻠﯽ‬ ‫ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ان دوﻧﻮں ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮس ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ دﯾﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﺳﻦ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ اب ان دوﻧﻮں ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﻨﻮ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﻧﻤﺴﺘﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﻧﻤﺴﺘﮯ ۔ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮں ، ﺗﻮ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﮯ ؟‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ اﯾﮏ دم ﻣﺴﺖ ﮨﻮں ، ﺟﯿﺠﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ؟‬ ‫&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں: وﮦ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﺸہ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ رﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺘﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ۔ اس ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﺆا ﺗﻮ ﺗﯿﺮی ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﻮن ﮐﺮے ﮔﺎ!‬ ‫ﻣﺎں: اﯾﺴﯽ ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﻟﻮگ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ راﮨﻮل ، ﺷﯿﺎم ﺑﮭﺌﯿﺎ ، اور ﺿﺮورت ﭘﮍی ﺗﻮ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻧﺎ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﻮل ﮨﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﺗﯿﺮا ﺧﺎﻧﺪان ﮐﺘﻨﺎ ﭼﺪ ّﮍ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﮐ‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ۔ ﻣﯿﺮے ﺧﺎﻧﺪان ﮐﺎ ﻣﺰا ﮨﯽ ﮐﭽﮫ اور ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮐﭙﮍے ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺘﮯ ۔ ﺳﺐ دن ﺑﮭﺮ ﻧﻨﮕﮯ ﮔﮭﻮم رﮨﮯ‬ ‫ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻦ ﮐﺮے ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻦ ﮐﺮے ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎورﭼﯽ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮں ﺗﻮ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ آ ﮐﺮ اﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻣﻨہ ڈال دﯾﺘﺎ ﮨﮯ اور اﺳﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ اور ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮا‬ ‫ﭘﺘﯽ اﭼﺎﻧﮏ ﮨﯽ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دے دﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾہ ﺳﺐ دﯾﮑﮫ‬ ‫ﮐﺮ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﯾہ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ دﮐﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﻟﻮں ﺳﮯ ﺻﺮف اﭘﻨﮯ ﭘﺘﯽ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﮨﯽ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﺎس ﺑﺠﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍ رﮨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ اﺑﮭﯽ دم ﻧﮩﯿﮟ رﮨﺎ ۔ ﻣﯿﺮے آدھﺎ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ وﮦ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﺗﺎ‬ ‫ﮨﮯ ۔ اور وﮦ ﺻﺮف ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻧﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻧہ ﻣﯿﺮے ﻣ ّﻮں ﮐﻮ ۔ ﻧﺎ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ،‬ ‫ﻤ‬ ‫ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﭘﯿﺎس ﺑﺠﮭﺎؤں ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں اﻟﮑﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ُﺆرگ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ راﮨﻮل ﻣﺠﮭﮯ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﻧﮯ‬ ‫ﺳ‬ ‫دﯾﺘﺎ ۔ اس ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻮ ، ﮐﺮ دﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮩﺎں ﺗﮏ ﮐہ وﮦ اﭘﻨﮯ ﺑﺎپ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮭﯽ ﻣﺮواﺗﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮐﯿﺎ ؟ راﮨﻮل ﮔﺎﻧﮉو ﮨﮯ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ۔ اﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﭘﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮍی ﮨﮯ ۔ اس ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻟﻮﮔﻮں‬ ‫ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﺋﯽ ﮨﮯ ۔ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﺟﺐ ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ ﮐﮯ دوﺳﺘﻮں ﮐﻮ ﺧﻮش ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ، ﺗﻮ راﮨﻮل ﮨﯽ‬ ‫ان ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮوا ﮐﺮ اﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮش ﮐﺮ دﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: واﮦ ِﻠﭙﺎ ۔ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺗﻮ ﭘﻮرے ﮔﮭﺮ ﮐﻮ رﻧﮉی ﺧﺎﻧہ ﺑﻨﺎ دﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺎش ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮے ﮨﯽ ﮔﮭﺮ آ ﺳﮑﺘﯽ ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ ﺗﻮ‬ ‫ﺷ‬ ‫ﺻﺮف ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈاﻟﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﺘہ ﮨﮯ ﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﯽ ﮔﻨﺪی ﮔﻨﺪی ﭼﯿﺰﯾﮟ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔‬ ‫ﯾﺎد ﮨﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮔﺎؤں ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺮدوں ﮐﻮ ﺳﻨﺪاس ﮐﺮﺗﮯ دﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﮯ ۔ ان‬ ‫ﮐﮯ ﭘﺎد ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔ اور ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﺗﻮ ﺷﺎم ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮨﻢ ﭨّﯽ ﮐﻮ ﭼﮑﮭﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ۔‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ، ﯾﺎد ﮨﮯ ۔ اور ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎد ﮨﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻢ ﺟﺎن ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ اﯾﺴﯽ ﺟﮕہ ﺳﻨﺪاس ﮐﺮﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎں ﺳﮯ ﮔﺎؤں ﮐﮯ‬ ‫ﻟﮍﮐﮯ ﮨﻤﯿﮟ دﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں رے ۔ ﭘﺮ وﮦ دن ﮨﯽ اﻟﮓ ﺗﮭﮯ ۔ اب ﮐﮩﺎں وﯾﺴﯽ ﻣﺴﺘﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﻧﮩﯿﮟ اﻟﮑﺎ ۔ ﻣﯿﺮے وﮦ دن ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾہ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﮔﻨﺪی‬ ‫ﭼﯿﺰوں ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻗﯿﻦ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻢ اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﯽ ﭨّﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﯿﺸﺎب ﭘﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﯾﮩﺎں ﺗﮏ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻐﻞ ﮐﮯ ﺑﺎل ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﭨﮯ ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﺟﺐ اس ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨہ آﺗﺎ ﮨﮯ اور ﻣﯿﺮا ﺑﻼؤز ﮔﯿﻼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ اور‬ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ اﺳﮯ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﻐﻞ ﮐﮯ ﺑﺎل اﺗﻨﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐہ ان ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﺑﻮ آﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺟﻮ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ اور ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻣﺪﮨﻮش ﮐﺮ دﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮐﯿﺎ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ۔ اور ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎؤں ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ رات ﮐﻮ ﭘﯿﺸﺎب ﯾﺎ ﭨّﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﯾﺎ ﺑﯿﭩﺎ ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ رات ﮐﻮ ﺳﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮں ، وﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب اور ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﭨّﯽ ﺑﺮاﮦ راﺳﺖ‬ ‫ﭩ‬ ‫اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺻﺮف اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮں ، اور ﺟﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ، ﮐﺮ دﯾﺘﯽ ﮨﻮں ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﺳﺎﻟﯽ ﭼﻨﺎل ۔ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﻃﺮح رﻧﮉی ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ، ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮی ﻣﺎﺳﯽ ﺑﮭﯽ ان ﺳﺐ ﭼﯿﺰوں‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﭘﺘہ ﮨﮯ ۔ اس ﻟﺌﮯ ﺗﻮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ان ﺳﮯ ﺷﺎدی ﮐﺮواﺋﯽ ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫اور اﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﺎں ﯾﮩﺎں آﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮨﻢ وﮨﺎں ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺗﻮ ﺧﻮب ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﮔﺰر ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ ﻧﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉا رﮐﮭﺎ ﮨﮯ ۔ اور اب ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮭﯽ اﭘﻨﯽ دادی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اور ﭼﻮت ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮڑﺗﺎ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﺗﯿﺮا ﺗﻮ ﺳﺐ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ، ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﯽ رﮦ‬ ‫ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اور ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﺗﺎ وﮦ ۔ ﺟﺐ ﮐہ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﺘہ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮت ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﻮاﻧﺎ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ ﯾﺎد ﮨﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﭨّﯽ ﮐﺮﺗﮯ وﻗﺖ ﮐﺲ ﻃﺮح آس ﭘﺎس ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯾﺎں ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈاﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اب‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﮐﺎم ﭼﻼﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ، ﭘﺮ وﮦ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﭘﮍوﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ؟ ﮐﻮﺋﯽ اﭼﮭﺎ ﻣﺮد ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮے ﭘﮍوس ﻣﯿﮟ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ۔ ﺟﻨﮩﯿﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐہ ان ﮐﺎ ﻟﻨﮉ وﮨﯿﮟ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮓ ﺟﺎؤں ۔ ﭘﺮ اﮔﺮ ﭘﮍوس ﻣﯿﮟ ﺑﺎت ﮐﺴﯽ‬ ‫ﮐﻮ ﭘﺘہ ﭼﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎں رﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎؤں ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺗﻮ اﭘﻨﮯ ﺑﮍے ﺑﮭﺎﺋﯽ ، راﺟﯿﺶ ﺑﮭﺌﯿﺎ ﺳﮯ ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺪواﺗﯽ ۔ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ ﺳﺎﻻ وﮦ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ١ ﺑﺎر اﺳﮯ ﻧﮩﺎﺗﮯ دﯾﮑﮭﺎ‬ ‫ﺗﮭﺎ ۔ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺖ ﻟﻨﮉ ﺗﮭﺎ اس ﮐﺎ ۔ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﭘﺮ اس ﮐﯽ ﺗﻮ ﺷﺎدی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ اور وﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﺎت ﺑﮕﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﺷﺎدی ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ؟ دﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻣﺮد ﮐﻮ اﻟﮓ اﻟﮓ ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﯽ ِﭼ ّﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ اور‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘﺘﻠﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ؟ اﺳﮯ ﺑﺘﺎ دے ﮐہ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ دﮐﮭﺎ دے ﮐہ ﺗﻮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮭﯽ ﭼﺎٹ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻟﻨﮉ ﮐﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ اور ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ۔ ﯾہ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ اس ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ زﯾﺎدﮦ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ اس ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎب اور ﭨّﯽ ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮں ۔ اس ﮐﮯ ﺷﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ دوں ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں; ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ، اس ﺑﺎر ﺟﺐ ﺑﮭﺌﯿﺎ ﺗﯿﺮے ﮔﮭﺮ آﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، اور ﺟﯿﺠﻮ ﮐﺎم ﮐﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺗﻮ دﮐﮭﺎ دﯾﻨﺎ اﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﺟﻠﻮﮦ ۔‬ ‫دﮐﮭﺎ دے ﮐہ ﺗﻮ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮍی ﭼﻨﺎل رﻧﮉی ﮨﮯ ۔‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ِﻠﭙﺎ ۔ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ اب اﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﺮوں ﮔﯽ ۔ ﺷﮑﺮﯾہ ﺗﯿﺮی ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ۔‬ ‫ﺷ‬ ‫ﻣﺎں: ارے ﺷﮑﺮﯾہ ﮐﺲ ﺑﺎت ﮐﺎ ۔ ﺧﺎﻟہ زاد ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ، ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﮕﯽ ﺑﮩﻦ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﯽ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮں ۔ ﺑﮭﻮل ﮔﺌﯽ وﮦ دن‬ ‫ﺟﺐ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮐﺎﻟﺞ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍی رﻧﮉﯾﺎں ﺗﮭﯿﮟ ۔ اﯾﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ اﺳﺘﺎد ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮨﻢ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ اور ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻧہ‬ ‫ﻟﯿﺎ ﮨﻮ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ، اور اس ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸہ ﭘﻮرے ﻧﻤﺒﺮ ﻣﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ۔ ﭼﻞ آ ﻣﯿﮟ ﻓﻮن رﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ، اﺳﮯ ﺷﺎﻧﺖ ﮐﺮاﻧﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ۔ اﮔﻠﯽ ﺑﺎر ﻓﻮن ﮐﺮوں ﮔﯽ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮش ﺧﺒﺮی ﺿﺮور ﺳﻨﺎؤں ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺿﺮور ۔ ﻣﯿﮟ اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮوں ﮔﯽ ۔ ﻧﻤﺴﺘﮯ‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﻧﻤﺴﺘﮯ ۔ ﯾہ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮨﻮا ﻣﯿﮟ اڑﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐہ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﻦ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ وﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ اور ﺳﯿﺪھﯽ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ آپ ﺳﻤﺠﮫ ﮨﯽ ﮔﺌﮯ‬ ‫ﮨﻮں ﮔﮯ آﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ۔‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/6147254117681732752/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/3_3777.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/6147254117681732752'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/6147254117681732752'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/3_3777.html' title='ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 3 ‬'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-1630629555697550878</id><published>2012-01-16T13:43:00.002-08:00</published><updated>2012-01-16T13:43:40.093-08:00</updated><title type='text'>ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 2 ‬</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﺣﺼہ ٢‬&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ﭘﯿﺎرے دوﺳﺘﻮ ، اﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐہ آپ ﮐﻮ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﭘﺴﻨﺪ آﺋﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ اب ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮں ۔ ﺟﻦ‬ ‫ﻟﻮﮔﻮں ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍھﯽ ، اﻧﮩﯿﮟ ﯾہ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺿﺮوری ﮨﮯ ﮐہ ﯾہ ﺧﺎﻟﺼﺘً ﻓﺮﺿﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں‬ ‫ﺎ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮔﻮ ، ﻣﻮت اور دﯾﮕﺮ ﻏﻼﻇﺘﻮں ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اﮔﺮ آپ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﭘﺴﻨﺪ واﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ‬ ‫ﭘﮍھﻨﮯ ﮐﯽ زﺣﻤﺖ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ۔ دﯾﮕﺮ ﺧﻮاﺗﯿﻦ و ﺣﻀﺮات ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ آﮔﮯ ﺑﮍھﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ آﻧﮑﮫ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺗﻮ‬ ‫دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﻧﻨﮕﯽ ﺳﻮﺋﯽ ﭘﮍی ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﮐﺘﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮح رات ﮐﻮ‬ ‫ﭼﻮدا ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻨﮕﺎ ﮨﯽ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺎ اور ﮨﮕﻨﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﮨﻤﺎرے ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ دروازﮦ ﮐﮭﻼ‬ ‫رﮐﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺪاس ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ، ﺟﻮ ﭘﻮری ﻧﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ، اﻧﺪر آ ﮔﺌﯽ ۔ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮی ﭨّﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐہ وﮦ اﺳﮯ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮ دے ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮم ﮔﯿﺎ اور اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﭼﮭﯿﺪ ﭘﺮ ﺟﯿﺒﮫ‬ ‫رﮐﮫ ﮐﺮ ﭘﻮری ﮔﺎﻧﮉ ﺻﺎف ﮐﺮ دی ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺌﮯ ۔ وﮨﺎں ِﺘﺎ ﺟﯽ اور دﯾﺪی ﻧﻨﮕﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺧﺎﻧﺪان ﮐﯽ ﺗﮭﻮڑی اور ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﺘﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ، ﭘﻮﻧﺎ ﮐﮯ‬ ‫اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﺎ ِﮑﮭﺎ‬ ‫ﺳ‬ ‫دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮرت ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﺗﻘﺮﯾﺒً ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﻮا‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا‬ ‫ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اور ﻣﺎں ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮی دﯾﺪی ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫رﮨﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ اﺳﮯ زور زور ﺳﮯ ﭼﻮس رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ﺗﻮ دﯾﺪی ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻟﻨﮉ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻣﻨہ ﻧﮑﺎﻻ اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺌﮯ اور اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ڈال دﯾﺎ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻣﺎر رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ دﯾﺪی ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ اﻧﺪر-ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺗﮏ ﯾﮩﯽ ﭼﻠﺘﺎ رﮨﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ وﮨﺎں ﻣﯿﺮی ﻣﺎں آﺋﯽ ، اور ﺑﻮﻟﯽ ، “ﮐﯿﺎ ﺳﺐ اﺳﯽ ﭼﻨﺎل ﮐﻮ ﭼﻮدﯾﮟ ﮔﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻮدو” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دﯾﺪی ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ اور ﺑﻮﻻ ، ﻣﯿﮟ: “ آ ﻣﯿﺮی رﻧﮉی ﻣﺎں ، ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﭘﮭﺎڑﺗﺎ ﮨﻮں” ﻣﺎں: “ اﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﭘﮩﻠﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﮔﯿﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ” ﯾہ ﺑﻮل ﮐﺮ ﻣﺎں ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ‬ ‫ﭘﯿﺮ اوﭘﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ-اﯾﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ دوﻧﻮں ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﺎﭨﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ اور ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ڈال دﯾﺎ ۔ اس ﻃﺮح ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭘﮭﺎڑ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾہ ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﻼ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ادﻻ ﺑﺪﻟﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دﯾﺎ ۔ ﻣﺎں اﺳﮯ زور زور ﺳﮯ ﭼﻮس رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ دﯾﺪی‬ ‫ﮨﻤﯿﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯿﺎں ڈال رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﯾہ ﺳﺐ ﭼﻞ ﮨﯽ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ دروازے ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﺑﺠﯽ ۔ دﯾﺪی ﻧﮯ ﭼﺎﺑﯽ‬ ‫ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘہ ﭼﻼ ﮐہ دودھ واﻻ آﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ ، “ ﭼﻠﻮ ، آج اﺳﮯ ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮ‬ ‫ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ”‬&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دﯾﺪی: “ ﮨﺎں ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ” ﺳﺐ ﻧﮯ ﮐﭙﮍے ﭘﮩﻦ ﻟﯿﮯ اور دﯾﺪی ﻧﮯ دروازﮦ ﮐﮭﻮﻻ ۔ دودھ واﻻ دﯾﺪی‬ ‫ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﯿﺎ ۔ دﯾﺪی ﻧﮯ اﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮔﮭﺎﮔﮭﺮا اور اوﭘﺮ ﺻﺮف ﭼﻮﻟﯽ ﭘﮩﻦ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ۔ دﯾﺪی ﻧﮯ اﺳﮯ اﻧﺪر‬ ‫ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ۔ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼ ّا اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻟﻨﮕﯽ ﭘﮩﻦ ﻟﯽ ۔ اور ﻣﺎں ﻧﮯ ﺻﺮف ﭼﻮﻏہ اور اﻧﺪر ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮉ‬ ‫دﯾﺪی ﻧﮯ دودھ واﻟﮯ ﮐﻮ اﻧﺪر ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ۔ اس ﻧﮯ دودھ واﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐہ وﮦ ﺑﺮﺗﻦ ﻟﮯ آﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺗﺐ ﺗﮏ اﺳﮯ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ‬ ‫دﯾﺎ ۔ ﻣﺎں اس ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ واﻟﮯ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﭘﯿﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔ اﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﺻﺎف دﮐﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ دودھ واﻻ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﻮ دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺎں ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، “ﮐﯿﺎ دﯾﮑﮫ رﮨﮯ ﮨﻮ ﺑﮭﺌﯿﺎ”. دودھ واﻻ ﺑﻮﻻ “ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ”. ﻣﺎں اﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ‬ ‫، “ ﮐﭽﮫ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﻮ ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮد ﺑﺘﺎ دوں ﮔﯽ”. ﺗﺒﮭﯽ دﯾﺪی دودھ ﮐﺎ ﺑﺮﺗﻦ ﻟﮯ ﮐﺮ آﺋﯽ ۔ دﯾﺪی دودھ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﻟﺌﮯ ﺟﮭﮑﯽ اور دودھ واﻟﮯ ﮐﻮ دﯾﺪی ﮐﮯ ﭘﻮرے ﻣ ّﮯ دﮐﮫ ﮔﺌﮯ ۔ اب ﺗﮏ دودھ واﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭘﻮری ﻃﺮح ﺗﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ اور اس‬ ‫ﻤ‬ ‫ﮐﯽ ﭘﺘﻠﻮن ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ آﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎر ﺗﮭﺎ ۔ آﮔﮯ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ اﮔﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ۔ ۔‬ ‫اﮔﺮ آپ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ۔‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/1630629555697550878/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/2_5140.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/1630629555697550878'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/1630629555697550878'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/2_5140.html' title='ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 2 ‬'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-8874246820603890091</id><published>2012-01-16T13:43:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:43:03.880-08:00</updated><title type='text'>ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 1 ‬</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﺼﻨﻒ : راﮨﻮل‬&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;‫دوﺳﺘﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎں ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﮍھﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﮑﮫ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﯾہ اﯾﮏ ﻋﺎم ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﯾہ اﯾﮏ‬ ‫ﻏﻼﻇﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮر داﺳﺘﺎن ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻣﺎت ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻄﺮی اور ﻏﯿﺮ ﻓﻄﺮی ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻋﺪم دﻟﭽﺴﭙﯽ رﮐﮭﻨﮯ واﻟﻮں ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ اﭘﻨﺎ ﻗﯿﻤﺘﯽ وﻗﺖ ﺿﺎﺋﻊ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺧﯿﺎل ﻗﺎرﺋﯿﻦ ﺳﮯ اﻟﺘﻤﺎس ﮨﮯ ﮐہ‬ ‫اس ﻃﻮﯾﻞ ﺳﻠﺴﮯ ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ راﺋﮯ ﺳﮯ ﻧﻮازﯾﮟ ۔ اب ﺷﮑﺮﯾﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ آﻏﺎز ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ﻣﯿﺮا ﻧﺎم‬ ‫راﮨﻮل ﮨﮯ اور ﻣﯿﮟ ٩١ ﺳﺎل ﮐﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﻋﻼوﮦ ، ﻣﯿﺮی ﺑﮍی ﺑﮩﻦ راد ِﮑﺎ ، ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ِﻠﭙﺎ اور ﻣﯿﺮے‬ ‫ﺷ‬ ‫ھ‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ راﺟﯿﺶ ﺑﮭﯽ رﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮨﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺑﮯﺗﮑّﻒ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ،‬ ‫ﻠ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ، ﭼﻮد ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ اﮐﺜﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ اﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ اور ﮐﭙﮍے ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺘﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺟﻨﺲ ﻣﻮاﻓﻖ اور ﺟﻨﺲ‬ ‫ﻣﺨﺎﻟﻒ دوﻧﻮں ﮐﮯ رﺳﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻢ ﺑﺎپ۔ﺑﯿﭩﮯ اور ﻣﺎں۔ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ اﯾﮏ-دوﺳﺮے ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮج ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ‬ ‫۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﺎ ﺗﻌﺎرف دے دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ، ﭘﻮﻧﺎ‬ ‫ﮐﮯ اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﺎ‬ ‫ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮرت ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﺗﻘﺮﯾﺒً ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﻮا‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا‬ ‫ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻨﮕﯽ ﮐﮭﮍی‬ ‫ﺗﮭﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﺎ رﮨﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﻮل رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ، “اﭨﮭﻮ ﺑﯿﭩﺎ ، دﯾﺪی ﮐﺐ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎرا اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮ رﮨﯽ ﮨﮯ.” ﻣﯿﮟ اﭨﮭﺎ ۔‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻧﯿﻨﺪ ﭘﻮری ﮐﮭﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﺟﮩﺎں ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﻤﻮڈ ﭘﺮ ﭨﺎﻧﮓ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ‬ ‫ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐہ اس ﮐﯽ ﭨّﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ اور وﮦ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐہ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮوں ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﻨﻮں‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﻞ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ وﮦ اﭨﮭﯽ ، ﭘﻠﭩﯽ اور اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﭘﺎس ﻟﮯ ﮐﺮ آﺋﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ اور اس ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﭨّﯽ ﺻﺎف ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﭨّﯽ ﻣﯿﮟ رات ﮐﻮ ﺑﻨﯽ ﭘﯿﺎز ﮐﯽ ﺳﺒﺰی ﮐﺎ ﺳﻮاد ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭘﻮرا ﺻﺎف ﮐﺮ دﯾﺎ ۔ وﮦ ﺑﻮﻟﯽ ، “واﮦ ، ﻣﯿﺮے ﭘﯿﺎرے ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ”. اور ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭨّﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ،‬ ‫ﭩ‬ ‫داﻧﺖ ﻣﺎﻧﺠﮭﮯ اور ﻧﯿﭽﮯ داﻻن ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ۔ وﮨﺎں دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ اﺧﺒﺎر ﭘﮍھ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ دﯾﺪی ﺗﯿﺎر‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﺘہ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور ﻣﺎں اﺳﮯ ﻧﺎﺷﺘہ دے رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﺠﮭﮯ دﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ ،‬ ‫“اﭨﮫ ﮔﯿﺎ رﻧﮉی ﮐﯽ اوﻻد”.‬ ‫ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﻮا ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ، “ ﮨﺎں ﭼﻨﺎل ، اب ﺟﻠﺪی ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺎﺷﺘہ دے”. ﮐﮩہ ﮐﺮ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﭨﯿﻠﯿﻮژن ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی دﯾﺪی ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ وﮦ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮔﺌﯽ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ اس ﮐﮯ ﻣ ّﮯ دﺑﺎﻧﮯ ﺷﺮوع ﮐﯿﮯ ۔ دوﻧﻮں اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﻮ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﮯ ۔ راد ِﮑﺎ ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ھ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘﺎﺟﺎﻣﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ڈال دﯾﺎ اور ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ دﯾﮑﮭﺎ ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺮداﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺆا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ﻣﯿﮟ ﺟﺎ‬ ‫ﮐﺮ ﺗﺮﻧﺖ اﺳﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ۔ اور زور زور ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ راد ِﮑﺎ ﻧﮯ ﺧﻮد ﮨﯽ اﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍے ﻧﮑﺎل ﻟﯿﮯ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ‬ ‫ﭘ‬ ‫ھ‬ ‫ﺑﮭﯽ اب ﭘﻮرے ﻧﻨﮕﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ دﯾﺪی ﮐﮯ ﻣ ّﮯ ﭼﻮس رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺟﺐ ﯾہ ﺳﺐ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭼﻞ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ وﮨﺎں آ ﮔﺌﯽ ، ﺟﻮ ﭘﻮری ﻧﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ دوﺳﺮے ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ اور اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ اس‬ ‫ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دے دﯾﺎ ۔ وﮦ زور زور ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب آﯾﺎ ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ‬ ‫ﭘﯿﺸﺎب ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮوع ﮐﺮ دﯾﺎ ۔ وﮦ ﺳﺎرا ﭘﯿﺸﺎب ﭘﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮا ﭘﯿﺸﺎب ﺧﺘﻢ ﮨﺆا ، اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ‬ ‫اور ﮐﮭﮍی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ دﯾﺎ ۔ وﮦ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﭘﺎس ﻻ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ،‬ ‫“ﭼﺎٹ اﺳﮯ ﺑﮭﮍوے ﻣﺎدر ﭼﻮد.”‬ ‫ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ۔ اس ﮐﯽ ﭨّﯽ ﮐﺎ ﺳﻮاد ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ‬ ‫ﭩ‬ ‫۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ اﯾﮏ زور ﮐﺎ ﭘﺎد اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﭼﮭﻮڑا ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﮔﻨﺪی اور ﺑﺪﺑﻮ دار ﮨﻮا ﺗﮭﯽ‬ ‫۔ ﭘﺎد ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ اور ﻧﺎک ﮐﮯ اﻧﺪر ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ ۔ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ اس ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻄﻒ اﻧﺪوز ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ دوﺳﺮی ﻃﺮف راد ِﮑﺎ ﻣﯿﺮے‬ ‫ھ‬ ‫ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﭼﺎروں ﺧﻮب ﻣﻮج ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮔﺌﯽ‬ ‫اور ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس آﺋﯽ اور ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺳﮯ‬ ‫ﮐﮩﺎ ،‬ ‫“اﭨﮫ رﻧﮉی ۔ ﮐﺘﻨﯽ دﯾﺮ اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﮯ ﮔﯽ ۔ اب ﻣﯿﺮی ﺑﺎری ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﺘﯽ ﺳﮯ ﭼﺪوا.”‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اﭨﮭﯽ اور ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﭘﺎس ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﺟﺎ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﻮ ﺳﻼﯾﺎ اور اس ﮐﮯ اوﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔‬ ‫ﺑﯿﭩﮭﮯ وﻗﺖ اس ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ڈال دﯾﺎ ۔ اور اوﭘﺮ-ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﭘﺮ اﭘﻨﺎ‬ ‫ﺗﮭﻮک ﻟﮕﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اس ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﺗﮭﻮک ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﻧﮩﻼ دﯾﺎ ۔ ﭘﮭﺮ وﮦ اﭨﮭﯽ اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈال دﯾﺎ ۔‬ ‫ﺑﮩﺖ ﺑﺎر اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﮯ ﮐﯽ وﺟہ ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﭼﮭﯿﺪ ﺑﮩﺖ ﺑﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اس ﻟﺌﮯ اﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ۔ اﯾﮏ ﻃﺮف ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﺳﮯ اور دوﺳﺮی ﻃﺮف ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ‬ ‫ﭼﺪوا ﮐﮯ ﻟﻄﻒ اﻧﺪوز ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﯾہ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﭼﻼ ۔ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل‬ ‫ﻟﯿﺎ اور ﺑﻮﻟﯽ ﮐہ اﺳﮯ ﭨّﯽ آﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺟﻮش ﻣﯿﮟ آ ﮔﺌﮯ ۔ ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﭨّﯽ ، ﭘﯿﺸﺎب ، ﺗﮭﻮک ،‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭩ‬ ‫اﻟﭩﯽ)ﻗﮯ( اور اﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰوں ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮨﮯ ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ ﮐہ اﺳﮯ ﭨّﯽ آﺋﯽ ﮨﮯ ، ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﺑﺎورﭼﯽ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ اﯾﮏ رﮐﺎﺑﯽ ﻟﮯ آﺋﯽ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ وﮦ رﮐﺎﺑﯽ زﻣﯿﻦ ﭘﺮ رﮐﮭﯽ اور اس‬ ‫ﭘﺮ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ اﯾﮏ ﭘﯿﻠﮯ رﻧﮓ ﮐﺎ ﮔﻮ ﮐﺎ ﭨﮑﮍا ﻧﮑﻞ ﮐﺮ رﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮا۔ ﮨﻢ ﺳﺐ‬ ‫ﺑﮩﺖ ﺟﻮش ﻣﯿﮟ آ ﮔﺌﮯ ۔ اﯾﮏ اﯾﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮری رﮐﺎﺑﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻮ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﺎں ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ،‬ ‫“اب ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮن ﺻﺎف ﮐﺮے گ؟”‬ ‫ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﭼّﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ،‬ ‫ﻠ‬ ‫“ﻣﯿﮟ ﭼﺎﭨﻮں ﮔﯽ اﭘﻨﯽ رﻧﮉی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ”‬ ‫ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﻮ ﺳﮯ ﺑﮭﺮی رﮐﺎﺑﯽ اﭨﮭﺎﺋﯽ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺗﮭﻮڑی ﺗﮭﻮڑی ﮐﺮ ﮐﮯ رﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭨّﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻟﺬﯾﺬ ﺗﮭﯽ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘﻮری رﮐﺎﺑﯽ ﺻﺎف ﮐﺮ دی ۔ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺎﭨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ادﻻ ﺑﺪﻟﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ۔ ﻣﺎں ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭘﺎس آ ﮔﺌﯽ اور راد ِﮑﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﭘﺎس ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﻣﺎں ﻣﻨہ ﮐﮯ ﺑﻞ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺳﻮ ﮔﺌﯽ اور اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫ھ‬ ‫اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﭘﺮ رﮐﮭﺎ اور زور ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ دﯾﺎ ۔ اﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ‬ ‫زور زور ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ اور ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻣﯿﺮی دﯾﺪی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﺑﻌﺪ راد ِﮑﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ‬ ‫ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮐﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﭘﻮری ﺗﮭﻮک ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﺳﺮدی ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اس ﻟﺌﮯ اس ﮐﯽ ﻧﺎک ﺑﮭﯽ‬ ‫ﺑﮩہ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اس ﻧﮯ زور ﺳﮯ ﭼﮭﯿﻨﮑﺎ اور ﺳﺎرا ﻧﺎک ﮐﺎ ﻣﺴﺎﻟہ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﯾہ ﺳﺐ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﺟﻮش آ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ اور اﺳﮯ ﺳﯿﺪھﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎ ۔ ﺟﺐ وﮦ ﺳﯿﺪھﯽ ﮨﻮﺋﯽ ، ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ اس ﮐﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮﻻ اور اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎرا ﺗﮭﻮﮐﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ وﮦ ﺳﺎری ﺗﮭﻮک ﮐﮭﺎ ﮔﺌﯽ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ‬ ‫ﺳﻮﮐﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دے دﯾﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ ۔ وﮦ ﭘﻮرا‬ ‫ﻧﮕﻞ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎڑ دﯾﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻤﺎرا اس دن ﮐﺎ ﻣﺰا ﺧﺘﻢ‬ ‫ﮨﺆا اور ﺳﺐ اﭘﻨﮯ اﭘﻨﮯ ﮐﺎم ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ۔‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/8874246820603890091/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/1_5616.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8874246820603890091'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8874246820603890091'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/1_5616.html' title='ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 1 ‬'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-8227513519329818609</id><published>2012-01-16T13:42:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:42:17.201-08:00</updated><title type='text'>میتا کی چُوت</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;میری کہانی پِچھلی مِس مونِکا کا مُجھے کاپھی اَچّھا ریسپوںس مِلا اِسلِئے میں آپکے لِئے ایک اؤر آپ بیتی بتانے جا رہا ہُوں آشا کرتا ہُوں یہ کہانی بھی آپ لوگوں کو اَچّھی لگیگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جیسا کِ آپ لوگوں کو مالُوم ہے اَب مُجھے جب بھی مؤکا مِلتا، میں مونِکا کو چود لِیا کرتا تھا۔ لیکِن ہمیں یہ نہیں مالُوم تھا کِ ہمیں کوئی چھُپ کر بھی دیکھتا ہے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ بات ہم کریب 3-4 مہینے کے باد مالُوم پڑی ! اؤر دیکھنے والی تھی مونِکا میں چھوٹی بہن میتا۔ مونِکا کی ترہ میتا بھی بہُت سُںدر تھی ایک دم گوری، بھرے بھرے گال، گُلابی ہوںٹھ،کالی بڑی بڑی آںکھے، لمبے بال اؤر پھِگر 36-30-34 اِسلِئے اَبھی اُسکی گاںڈ نہی ماری تھی کِسی نے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب مُدّے کی بات کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک دِن میں اؤر مونِکا مستی کر رہے تھے، اُس دِن اُنکے گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اَںکل آںٹی مارکیٹ گیے تھے اؤر میتا سکُول گئی تھی۔ ہم دونوں تو اَپنے کام میں مست تھے، ہمیں نہیں مالُوم کِ کب میتا آ چُکی اؤر ہمیں کھِڑکی سے دیکھ رہی ہے۔ اَکیلے ہونے کی وجہ سے گھر میں کوئی روک ٹوک تو تھی نہیں اِسلِئے میں باتھرُوم جانے کے لِئے نِکل آیا اؤر سیدھا باتھرُوم میں چلا گیا۔ لؤٹ کر آیا تو دیکھا میتا کھِڑکی کی ترپھ چیہرا کرے ہُئے ہے اؤر شاید اُسکی آںکھے بںد تھی کیوںکِ بہُت جور جور سے میتا اَپنی چُوت میں اُوںگلی کر رہی تھی سلوار اُتار کر۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے بھی اُسے نہی ٹوکا اؤر چلا گیا۔ آتے ہی میںنے مونِکا کو اِسکے بارے میں بتایا تو وو بولنے لگی- بیچاری کو اَکیلے ہی تڑپھنے کے لِئے چھوڑ آیے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے کہا- میں کرتا بھی کیا ؟ تُمہاری بہن ہے، اَبھی بُرا مان گئی تو؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وو بولی- مادرچود لڑکی آدھی نںگی کھڑی ہے اؤر تُجھے لگتا ہے وو ناراز ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایسا ہو ہی نہی سکتا ! چل میں جاتی ہُوں اؤر اُسّے تیّار کرتی ہُوں۔ تُم 15 مِنٹ کے باد آ جانا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں بھی مان گیا اؤر بیڈ پر لیٹ گیا اؤر اَپنے لںڈ کو اُوپر نیچے کرنے لگا اؤر سوچ رہا تھا کِ میتا کی چُوت کیسی ہوگی۔ کہیں مونِکا کی ہی ترہ میتا کی بھی تو چُوت پہلے سے ہی چُد چُکی ہے کیا ؟ اؤر نا جانے کیا کیا سوچتے سوچتے 15 مِنٹ کب نِکل گیے مالُوم ہی نہیں چلا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر میں میتا کے کمرے میں جانے لگا اؤر گیٹ پر آکر رُک گیا کیوںکِ سامنے کا نزارا دیکھنے لایک تھا۔ مونِکا میتا کی چُوت کو 2-3 اُوںگلِیوں سے چود رہی ہے اؤر چاٹ رہی ہے۔ مونِکا کبھی میتا کی چُوت چُوستی تو کبھی ستن ! اَب کب تک آںکھیں چار نہیں ہوگی، میتا نے اَب مُجھے دیکھ لِیا اؤر وو ایک دم اُٹھ کر بیڈ کے پیچھے چلی گئی تو مونِکا نے کہا- ویسے تو اَرمان کو بولنے کے لِئے چِلّا رہی تھی اَب کیا ہو گیا ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میتا بہُت ہی پیار سے تھوڑا شرماتے ہُئے بولی،“مُجھے شرم آتی ہے !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو مونِکا بولی- اَرمان ! اَب تُم ہی اِسکی شرم دُور کرو !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا کیا تھا میں تو رُکا ہی اِسلِئے تھا کِ مونِکا یا میتا کھُد مُجھ سے بولے چودنے کے لِئے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں اَب دھیرے دھیرے بیڈ کے پاس گیا اؤر میتا کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کِس کرنے لگا، ہوٹھوں کو کِس کرنے لگا۔ لیکِن میتا اَبھی بھی شرما رہی تھی اؤر اَپنا چیہرا پیچھے کر رہی تھی۔ میںنے بھی سوچ لِیا تھا آج اِسے اِتنے پیار سے چودُوںگا کِ پُوری شرم بھاگ جایّگی۔ میں اَبھی بھی میتا کو کِس کر رہا تھا اؤر اَپنی جیبھ اَندر باہر کر رہا تھا۔ اَب میتا تھوڑا تھوڑا کھُلنے لگی تھی اؤر میرا ساتھ دے رہی تھی۔ اَب کِس کرنے میں مزا آ رہا تھا کیُوںکِ میتا میری جیبھ کو چُوس رہی تھی اؤر میں اُسکی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب میرا ہاتھ اُسکے نںگے وکش پر تھا اؤر دبا رہا تھا- ہمّمّمّمّمّمم کِتنے نرم تھے میتا کے ستن !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب میرے ہاتھ بہُت تیجی سے چل رہے تھے- کبھی داںیا ستن دبتا تو کو کبھی باںیاں ! اؤر اَب چُوچُک بھی چُوس رہا تھا، کاٹ رہا تھا۔ میتا کے مُںہ سے سِسکاری نِکل رہی تھی جوکِ ماہؤل کو اؤر بھی گرم کر رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِسی ترہ کریب 20-25 مِنٹ نِکل گیے۔ مُجھے تب یاد آیا جب مونِکا پاس میں آکر میرا لںڈ ہاتھ میں پکڑ کر بولی- مُجھے کیوں اَکیلا چھوڑ دِیا ہے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر مونِکا میرا لںڈ چُوسنے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مُجھے اَب پریشانی ہو رہی تھی شاید اِسلِئے کِ بیڈ کے پیچھے جگہ کم تھی اؤر دو دو ہسیناّیں میرے ساتھ کام-کرِیا کر رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے کہا- بیڈ پر چلتے ہیں اؤر میتا کو گود میں اُٹھاکر بیڈ پر لے آیا اؤر اُسکو اَپنے اُوپر کر لِیا تاکِ میں آرام سے اُسکے ستنوں کو پی سکُوں، دبا سکُوں، کِس کر سکُوں اؤر مونِکا میرا لںڈ آسانی سے چُوس سکے۔ میں دونوں ترپھ سے مجے لے رہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب یار ایک بات بتاّو ایک لؤڑا ہو اؤر اُسکے پاس دو دو سُںدر چُوتیں ہوں، وو کب تک اَپنا پانی روک سکتا ہے، میںنے بھی اَپنا پُورا پانی مونِکا کے مُںہ میں چھوڑ دِیا جِسے وو پُورا پی گیی اؤر اَپنے ہوںٹھ پوںچھتے ہُئے ہٹ گئی۔ اَب باری میتا کی جو تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لیکِن وو منا کرنے لگی۔ اِس پر مونِکا نے اُسکی گاںڈ میں لات مارتے ہُئے گالی دی،“ماں کی لؤڑی ! کیُوں نکھرے کر رہی ہے، چُپچاپ چُوس ! نہیں تو تیری چُوت میں پیٹرول ڈال دُوںگی پھِر اُوںگلی ڈالتے رہنا رات بھر !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِسّے ایک پھایدا یہ ہُآ کِ میتا لںڈ چُوسنے لگی۔ وہ تو مونِکا سے اَچّھا چُوس رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب میرے مُںہ میں مونِکا نے اَپنی چُوت سٹا دی اؤر ہِلنے لگی۔ میںنے بھی اُسکی چُوت کو جیبھ سے کھُوب چاٹا اؤر چُوسا۔ کریب 15 مِنٹ میں میرا پھِر سے پانی نِکل گیا اؤر اِس بار پانی میتا نے پیّا تھا اؤر مونِکا میرے مُںہ میں جھڑ گئی، مونِکا کا پانی میںنے پی لِیا اؤر مونِکا کو ہٹا دِیا تاکِ وو میرا لںڈ پھِر سے کھڑا کر سکے۔ پتا نہیں لیکِن مونِکا کے ہاتھوں میں جادُو تھا وو مُردے کے لںڈ کو بھی کھڑا کر سکتی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا لںڈ کھڑا کرکے مونِکا نے میتا سے کہا- اَب تُو بیڈ پر لیٹ جا ! اَب اَرمان تیری چُوت میں اَپنا لںڈ ڈالیگا جو کِ تُجھے بہُت آرام سے لینا ہے کیوںکِ تُو آج پہلی بار چُوت میں لںڈ لے رہی ہے تو تیری جھِلّی پھٹیگی جِسّے تیرے کو درد بھی ہوگا !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو میتا بولی- دیدی، تُم ٹیںشن مت لو ! میں آرام سے لے لُوںگی ! بس تُم کریم میری چُوت میں اؤر اَرمان کے لںڈ سے لگا دو اَچّھی ترہ سے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مونِکا نے پُوری پؤںڈس کریم میرے لںڈ اؤر میتا کی چُوت پر لگا دی اؤر میتا کو کِس کرنے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں سمجھ گیا کِ اَب سہی سمے ہے چُوت سے لںڈ کا مِلن کرنے کا !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے میتا کی چُوت کو پہلے کِس کِیا اؤر اُس پر لںڈ رگڑنے لگا جِسّے میتا کی اُتّیجنا بڑھتی جا تھی، وو سِسک رہی تھی ہمّمّمّم۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ آہّنانّنّنّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ ییّیّیے اِ،ّ،ّ،ّ،ّ،ّ،ّ،اؤر نا جانے کیا کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میتا کے لِئے اَب برداشت کرنا مُشکِل ہو رہا تھا لیکِن مُجھے اُسے تڑپھانے میں مزا آ رہا تھا۔ آکھِر میتا کا سبر کا باںدھ ٹُوٹ گیا اؤر بولی،“مادرچود چودنا ہو تو اَبھی چود دے، نہیں تو تیرے لںڈ کو کھا جاُّںگی !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں بھی یہی چاہتا تھا کِ میتا مُجھ سے مِنّتیں کرے بھیکھ ماںگے ۔۔ّ۔ّ۔ لیکِن پھِر بھی اُسّے بھیکھ نا مِلے۔ اِسکے پیچھے بھی ایک کارن تھا وو میں پھِر کبھی بتاُّوںگا |&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر میںنے دھیرے سے اُسکی چُوت پر لںڈ ٹِکایا اؤر ایک ہی بار میں پُورا لںڈ اُسکی چُوت میں ڈال دِیا، جِسّے وو تڑپ اُٹھی اؤر جور جور سے چِلّانے لگی۔ مؤکے کی نجاکت کو سمجھتے ہُئے مونِکا نے پھِر سے اُسکا مُںہ اَپنے مُںہ سے بںد کر لِیا اؤر آواج وہیں دب گئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں بھی نہیں رُکا اؤر شاٹ پر شاٹ مارتا گیا- 1،2،3،4،۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔24،25، تب میں کہیں رُکا اؤر میتا کی چُوت کو دیکھنے لگا۔ اُسکی چُوت میں سے کھُون نِکل رہا تھا اؤر میتا کی آںکھوں سے پانی۔ لیکِن وو کُچھ بول نہیں پا رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب میرا بدلا پُورا ہو گیا تھا اِسلِئے میں 10 مِنٹ کے لِئے رُک گیا اؤر میتا کا اِںتجار کرنے لگا کِ وو کب اَپنی گاںڈ ہِلاتی ہے۔ لیکِن اِسکے لِئے مُجھے جیادا اِںتجار نہیں کرنا پڑا 5 مِنٹ میں ہی وو اَپنے چُوتڑ ہِلانے لگی۔ میں بھی اَب بڑے پیار سے لںڈ آگے پیچھے کرنے لگا تھا۔ جِسّے اُسکی چیکھیں سِسکاری میں بدل گئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب نزارا دیکھنے اؤر سُنّے لایک تھا- میرا لںڈ میتا کی چُوت کو چود رہا ہے اؤر میتا مونِکا کی چُوت کو چاٹ رہی ہے اؤر مونِکا میرے ہوںٹھ چُوس رہی ہے کِس کر رہی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میتا کی چُوت اَب کاپھی گیلی ہو گئی تھی اِسلِئے پُورے کمرے میں پھچ پھچ ۔۔ّ۔ّ۔ّپھچ کی آواجیں آ رہی تھی اؤر میرا لںڈ بار بار پھِسل رہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے تؤلِیے سے اُسکی چُوت کو ساف کِیا اؤر لںڈ پھِر اَندر ڈال دِیا۔ اَب مزا آ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے لںڈ چُوت میں جاتا اؤر باہر نِکل آتا ! میتا بھی سِسکاری لے رہی تھی اؤر گالی دے رہی تھی،“پھاڑ ! پھاڑ دے میرے بالم ! میری چُوت کو پھاڑ دے ! بہُت پریشان کِیا ہے اِسنے 4 مہینے سے ! آج اِسکی گرمی ہو شانت کر دے میرے راجاآآ………… ہمّمّمّم ۔۔ّ۔۔ آآہہ ہہّہنّنّنّن پھکک می پھکک یا۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ یاآّآآ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔گُڈ ،،ّ،ّ،ّ،” اؤر نا جانے کیا کیا “مدرچود اَب کِتنی دیر تک چُوت ہی چودیگا گاںڈ بھی مار لے لگے ہاتھ !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے کہا،“اَبھی نہیں ! پہلے چُوت کا اؤر لںڈ کا مِلن تو ہونے دو سہی سے !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر میں پھِر سے چودنے لگا۔ بس اَب دِلّی دُور نہیں تھی اؤر میتا کا پانی دُوسری بار نِکل گیا اؤر ساتھ ہی میرا بھی۔ میں میتا کے ستنوں پر ہی مُںہ رکھ کر لیٹ گیا اؤر چُوسنے لگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کریب 10 مِنٹ باد میں اُٹھا اؤر کپڑے پہنّے لگا تو مونِکا نے کپڑے چھینتے ہُئے کہا،“کہاں جا رہے ہیں؟ آگ لگا کر میری چُوت کؤن، تُمہارا باپ آکر ماریگا یا میرا باپ !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو میںنے کِس کرتے ہُئے کہا،“کہاں جانیمن ! 10 مِنٹ میں آ رہا ہُوں۔”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کیوںکِ اَب مُجھے ڈرِںک کرنے کی جرُرت تھی، اِسکے بِنا اَب اؤر نہیں چود سکتا تھا اِسلِئے مونِکا کے ہیںڈبیگ میں سے 500 رُ۔ نِکال کر میں وِسکی لینے چلا گیا اؤر آکر دیکھا تو وو دونوں اَبھی بھی بِنا کپڑوں کے ہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے جھٹ سے اَپنے کپڑے اُتار دِئے۔ میتا مُجھسے لِپٹ گئی اؤر مُجھے کِس کرنے لگی۔ لیکِن مُجھے اَبھی کُچھ اَچّھا نہی لگ رہا تھا اِسلِئے اُسکی گاںڈ پر لات مار کر ایک ترپھ کر دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِتنے میں مونِکا 3 گلاس لے کر آ چُکی تھی۔ میں مونِکا اؤر میتا کے لِئے بیّر لایا تھا جو اُن لوگوں نے اَپنے گلاس میں ڈال لی اؤر میرا بھی پیگ بنا دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم تینوں نںگے ہی ڈرِںک کرنے لگے۔ میںنے جلدی جلدی 3-4 پیگ ڈالے اؤر میتا کو زمین پر ہی پٹک دِیا اؤر ٹاںگیں چؤڑی کرکے ایک بار میں ہی پُورا لںڈ اَںدر کر دِیا۔ اِسّے پہلے کِ وو چِلّانا شُرُو کرے، میں اُسے کِس کرنے لگا اؤر چودنے لگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کریب 10 مِنٹ تک میں میتا کو ایسے ہی چودتا رہا۔ اُسکے باد اُسکو زمین پر ہی کُتِیا بنایا اؤر پیچھے سے چودنے لگا۔ 5-7 مِنٹ چود کر دیکھا تو میتا کی چُوت ڈبل روٹی کی ترہ پھُول گئی تھی۔ لیکِن مُجھے اُس پر بِلکُل بھی رہم نہیں تھا۔ اَب تک وو 3 بار جھڑ چُکی تھی اؤر میرا بھی سمے آ گیا۔ میںنے اَپنا لںڈ نِکال کر اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر اُسکا مُںہ چودنے لگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ سب چل ہی رہا تھا کِ مونِکا اُٹھی اؤر میتا کی ٹاںگے چؤڑی کر اُسکی گاںڈ کا چھید کھولنے میں لگ گئی۔ 3-4 لمبے شاٹ کے باد میں بھی میتا کے مُںہ میں جھڑ گیا اؤر ہٹ گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کریب 30 مِنٹ کے باد میتا کے مُںہ سے آواج نِکلی، اُسنے مُجھ سے کہا،“جب میں پُوری ترہ سے تُمہاری ہو چُکی ہُوں تو اِتنی بیرہمی سے کیُوں چود رہے ہو ؟؟ّ؟؟”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میںنے پُوری دم سے کھیںچ کر اُسکے گال پر چاںٹا مارا اؤر کہا- میتا ڈارلِںگ ! اَب کُچھ یاد آیا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وو سمجھ چُکی تھی آکھِر کیُوں میں کُتّے ترہ اُسے چود رہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر اُٹھ کر میرا لںڈ مُںہ میں لِیا اؤر چاٹتے ہُئے بولی،“ساری جو ہُآ اُسے بھُول جاّو !”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اُسکے باد میںنے میتا کی گاںڈ بھی ماری اؤر مونِکا کو بھی چودا۔ لیکِن یے سب اَگلی کہانی میں ! پہلے آپ اِسکو پڑھو، مزے لو اؤر بتاّو کیسی لگی کہانی ! یانی میری آپ- بیتی !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھائیّو اؤر چُوتو ! اِسے کوری بکواس مت سمجھنا ! یہ بِلکُل سچّی کہانی ہے !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر اَبھی تو مُجھے یہ بھی بتانا بھی ہے کِ آکھِر میتا نے کِیا کیا تھا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اُسکے لِئے اَںترواسنا میں آتے رہِیے ! بہُت جلد آگے کا بھاگ بھی آپکے سامنے آایگا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/8227513519329818609/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_17.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8227513519329818609'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8227513519329818609'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_17.html' title='میتا کی چُوت'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-4062690977045485519</id><published>2012-01-16T13:41:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:41:19.395-08:00</updated><title type='text'>سلگتی جوانی کو چودا</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میری شادی کے باد ایک مہینا تو روج 4 سے 5 بار چُدائی کرتے ہُئے نِکل گیا، اؤر کیسے نِکلا کُچھ پتا ہی نہیں چلا۔ اُسکے باد بھی سیکس کے پرتِ دیواناپن بنا ہی رہا۔ اَکسر اؤرتوں کی آدت ہوتی ہے کِ وو پتِ کو تانے مارتی رہتی ہیں کِ آپکو تو بس سیکس کے اَلاوا کُچھ سُوجھتا ہی نہیں ہے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو میںنے اُسّے پُوچھا کِ شاید تُمہارے مایکے میں تُمکو کھِلانے کے لِئے کم پڑنے لگا ہوگا اِسلِئے تُمہاری شادی کرنی پڑی !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو پتنی بولی- ہو او او او او، کوئی نہیں، کھُوب تھا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو میں بولا- پھِر لِکھائی پڑھائی لایک دھن نہیں ہوگا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو بولی- اؤر کِتنا پڑھنا تھا، کھُوب تو پڑھ لِیا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے پھِر پُوچھا- تو اوڑھنے پہنانے میں اَسمرتھ ہونے لگے ہوںگے ؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو پتنی بولی- آپ بھی نا کیسی باتیں کر رہے ہو، رُپیے پیسوں کی کمی تو کوئی نہیں تھی !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو میں بولا- میری پیاری پرانیشوری ! اَرے تو جِس چیج کی کمی تھی وو تھا لںڈ، اؤر سیکس ! سمجھی نا ! اؤر اِسی کے لِئے اَپنی شادی کی گئی ہے اؤر جِسکے لِئے شادی کی گئی ہے، اُسکا اَنادر کیوں کریں !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;یہ تو من کی کھیتی ہے، جب بھی من کرے کھُوب چُدائی کرو۔ اِسّے بھی کبھی من بھرنا چاہِئے کیا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَرے یار لوگوں میں کئی ترہ کی گلت دھارناّیں ہوتی ہیں، کئی تو اُن دھارناّوں کے چلتے سیکس کا مجا نہیں لے پاتے ہیں، اؤر کئی لوگ اَسمرتھ ہوتے ہیں، جلدی ہی سکھلِت ہو جاتے ہیں یا کِسی کارنوش اُنکا من ہی نہیں کرتا، وو بیچارے ویسے مجا نہیں لے پاتے ہیں، اِسلِئے جب تک اِس مشینری کو چالُو رکھیںگے یے سہی تریکے سے کام کریگی، ورنا کھراب ہو جایّگی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اؤر میری دیوانگی پر تو تُجھکو پھکھر ہونا چاہِئے، کِ اِس کارن ہی سہی میں تُمہارے آگے پیچھے تو گھُومُوںگا نا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اؤر مجے کی بات کِ میری پتنی کو یہ بات ٹھیک سے سمجھ آ گئی، اُسکے باد اُسنے کبھی مُجھے اِس بات کا اُلاہنا نہیں دِیا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;لگبھگ بیس سال شادی کو ہو چُکے ہیں، اَب کُچھ سمے سے میری پتنی میں کُچھ بدلاو آئے ہیں، وو سیکس کے لِئے منا تو نہیں کرتی ہے، لیکِن وو سیکس میں سکرِے بھاگ بھی نہیں لیتی ہے، مُجھے سیکس کرنا ہو تو پھورپلے مُجھے اَکیلے کو کرنا ہوتا ہے، وو نہیں کرتی، سیکس کے لِئے کھُد پہل نہیں کرتی، ہاں سیکس میں اورگاسم لینے کے لِئے جرُور سکرِے ہوتی ہے ! بس، ہو گیی چُدائی اُسکی ترپھ سے ! چُمبن لینے کو منا کرتی ہے، بولتی ہے میرا دم گھُٹتا ہے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اُسکو سمجھایا کِ تُم کِس کے سمے مُںہ سے ساںس کیوں لیتی ہو، ناک سے لو،&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو بھی وو منا کرنے لگی ہے، بولتی ہے کِس مت کرو۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَب بتائیّے جو چیج مُجھکو سبسے اَچّھی لگتی ہے، جِس کرِیا میں میں 10-20 مِنٹ آرام سے نِکال سکتا ہُوں، وو ہی نہیں کرنے کو مِلے ۔۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;کھیر۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کئی جگہ پڑھا ہے کِ لوگ اَپنے لنڈ کو تین اِںچ چؤڑا اؤر 9 اِںچ لمبا بتاتے ہیں۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ایک آم اِںسان کے لِئے یہ سوچ کر اَپنا دِماگ کھراب کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں ایک بہُت سادھارن سا اُداہرن دے رہا ہُوں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;آپ ایک بِسلری کی پانی کی بوتل لے لیجِیے، یہ بوتل تین اِںچ چؤڑی ہوتی ہے اؤر اِسکے اُوپر کا مُںہ جہاں سے بوتل گھُومنا شُرُو ہو جاتی ہے وہاں تک نؤ اِںچ لمبائی ہوتی ہے، میںنے 9 اِںچ لمبائی کا تو سُنا ہے اؤر بندے کو دیکھا ہے لیکِن تین اِںچ چؤڑا۔ّ۔۔ میںنے کبھی بھی نہیں دیکھا۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میری سیکس پاور میں کوئی کمی نہیں آئی، اَب مُجھے روج ہی اَدھِکتر مُٹھ مار مار کر کام نِکالنا پڑتا ہے۔ جہاں سیکس روج کرتے تھے اَب 20 دِن سے ایک مہینا تک نِکل جاتا ہے، من بھٹکنے لگا، کِ کوئی ساتھی مِل جائے جو میری سمسیا کو سمجھے اؤر میرا ساتھ دے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میری کںپیُوٹر رِپیّرِںگ شاپ کے باجُو میں موبائیل کمیُنِکیشن کی دُکان کھُلی، کُچھ دِن تو بندا لگاتار بیٹھا پھِر اُسنے ایک لڑکی کو وہاں اَپوئیںٹ کِیا اؤر کھُد نے کِسی اؤر ملٹیپلیکس میں ایک اؤر دُوکان کھول لی اؤر وہاں بیٹھنے لگ گیا۔ ایکدم سلِم لڑکی جوانی کی گود میں سر رکھا ہی تھا اؤر جوانی میں لڑکی کو جیسے کھُوبسُورتی اؤر اَرمانوں کے پںکھ لگ جاتے ہیں، وو تھوڑا بولنے میں بولڈ ہو جاتی ہے، وو بھی شُرُو میں تو کم بولتی تھی، پھِر بولڈ ہو گئی، کِسی بات کو لیکر پریشانی ہوتی تو مُجھے بولتی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ہم لوگ آپس میں کھُلنے لگے، ایک دِن بہُت ہی اَجیب سا واکیا ہُآ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکو سُو سُو جانا تھا وو مُجھسے بول گئی کِ میں اَبھی آئی ! زرا اِدھر دُکان میں دھیان رکھنا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;وو گئی اؤر واپس آئی اؤر بہُت پریشان سی لگی، کُچھ دیر بیت گئی۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر ہِچکتی سی باہر آکر مُجھے بولی- سر، پلیج ! ایک مِنٹ اِدھر آیّںگے۔ّ۔ّ۔ّ؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے لڑکوں کو بولا- تُم لوگ کام کرو، میں آیا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اؤر اُسکے پیچھے اُسکی دُکان میں گیا، وو اَندر کیبِن میں چلی گئی تھی، میں کیبِن کے درواجے پر جاکر بولا- ہاں کیا ہُآ۔ّ۔؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسکا مُںہ لال ہو گیا، بولی- مُجھے شرم بھی آ رہی ہے اؤر اِمرجیںسی اِتنی ہے کِ میں بِنا کہے رہ بھی نہیں سکتی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- تو کہ دے نا، پھِر شرم کی کیا بات ہے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو ہِچکتے ہُئے رُک رُک کر بولی- سر میں سُ سُ گئی تھی۔ّ۔ّ۔ میری سلوار۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ ، کیا بولُوں،&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- اَرے بول نا۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو بولی- ناڑے میں گاںٹھ لگ گئی ہے۔ّ۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- اوہّہ، ہے تو سمسیا ہی ! لیکِن جو کرنا ہے وو تو کرنا ہی پڑیگا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں کیبِن کے اَندر ہو گیا، اُسکو ایک سائیڈ میں کِیا اؤر کُرتے کو اُوپر کر کے ناڑے میں پڑی گاںٹھ کو سہی کِیا، اؤر اُسکو سُ سُ کرنے بھیج دِیا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میری کیا ہالت ہُئی ہوگی آپ بھی اِس ہالت میں ہوتے تو ۔۔ّ۔ّ، سہج ہی اَںداجا لگا لو۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے چھوٹے کو چڈّی میں ہاتھ ڈال کر اُوپر کی اور کِیا اؤر اَپنی دھڑکن پر کابُو کرنے کا یتن کرنے لگا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سپنا کا کیا ہال ہُآ ہوگا، جِس ترہ سے بیچاری کے ہاو بھاو لگ رہے تھے، دھڑکن تو اُسکی بھی بڑھ ہی گئی ہوگی۔ّ۔، اُسکا مُںہ ایکدم لال ہو گیا تھا۔ اِسکا متلب پہلی بار کِسی مرد کا ہاتھ اِس ترہ سے اُسکو لگا تھا۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے سوچا کِ میںنے تو کیا گلت کِیا، اُسنے کہا تو مدد کر دی ! اِمرجیںسی تھی ہی اِتنی ! کھیر اَب ہوگا جو دیکھا جایّگا۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَب میرے من میں ایک اَرمان جاگا کِ سپنا یدِ تیّار ہو جائے تو۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;جو گھُٹن میرے من میں مُجھے مہسُوس ہوتی ہے وو ختم ہو جایّگی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;کھیر۔ّ۔ّ، میںنے اَپنا سر جھٹکا، سوچا تھیوری میں اؤر ہکیکت میں بہُت پھرک ہوتا ہے۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;وو جیسے ہی اَپنی دُکان میں آئی میں اَپنی دُکان میں چلا آیا، لیکِن آتے آتے اُسکے مُںہ سے تھیںک یُو سر۔ّ۔۔ نِکلا، میںنے اُسکی اؤر دیکھا اؤر مُسکُرا کر چلا آیا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَب ہم تھوڑا اؤر کھُل گئے، کبھی کبھی جب وو بِلکُل اَکیلی ہوتی تو مُجھسے کہ دیتی- سر لںچ کر لو !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو ہم ساتھ ساتھ لںچ کر لیتے تھے۔ّ۔ّ۔، کُچھ ہںسی مجاک، جوکس بھی چلتا رہنے لگا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;لیکِن دِلّی اَبھی کِتنی دُور تھی کُچھ پتا نہیں۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;وو کھالی ٹائیم میں کںپیُوٹر پر گیمس کھیلتی تھی، جیاداتر تاش والے گیمس !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ایک بار لںچ میں بُلایا تو وہی گیم لگا پڑا تھا تو میںنے کہا- بور نہیں ہوتی اِن گیمس سے؟ روج روج یہی گیم، بچّوں والے ۔۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسکے مُںہ سے اَچانک ہی نِکل گیا- تو سر آپ ہی بتا دو کُچھ !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے مؤکا دیکھ کر کہا- تُو بُرا تو نہیں مانے تو بتا دُوںگا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو سپنا بولی- آپ بھی کیا بات کرتے ہو، بُرا کاہے کا مانّا؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو لںچ کے باد میں اُسکے کںپیُوٹر پر اَنترواسنا سائیٹ لگا کر بولا- یہ دیکھ، ایک ایک ٹوپِک پر کلِک کر، یدِ پسںد نا آیے تو بُرا مت مانّا ! بںد کر دینا میں اؤر کُچھ گیمس میں کںپیُوٹر پر ڈال دُوںگا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکے باد 3-4 دِن تک اُسنے ن تو مُجھسے بات ہی کی اؤر نا ہی مُجھے لںچ کے لِئے آواج ہی دی۔ میں یدِ باہر نِکلتا بھی تو وو میری ترپھ نہیں دیکھ کر نجر نیچے کر لیتی۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے سمجھا کِ گلت ہی ہو گیا لگتا ہے۔ّ۔ شاید یہ لڑکی اِس ترہ کی چیجوں میں رُچِ نہیں لیتی ہوگی۔ّ۔ّ۔، میرے من میں پچھتاوا ہونے لگا، کِ کیوں میںنے اُسکو بِنا اُسکا من جانے اِس ترہ کی سائیٹ اُسکو دِکھائی۔ّ۔۔ بیچاری اَچّھی دوست تھی۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;کھیر۔۔ اَب جو ہونا تھا وو تو ہو چُکا۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ہمارے مال میں دُکانیں لگبھگ 11 تک پُوری ترہ سے کھُلتی تھی، لیکِن میں ہمیشا 9:30 پر دُکان کھول لیتا ہُوں۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اِس گھٹنا کو لگبھگ 5 دِن نِکل گیے ہوںگے کِ ایک دِن وو بھی 9:30 پر آئی اؤر سپھائی پُوجا کے باد اُسنے میری دُکان کے باہر سے مُجھے آواج لگائی- سر ایک مِنٹ پلیج !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے سوچا- جانے آج کیا ہوگا، یہ کیا کہنا چاہتی ہے؟ میںنے سوچا کِ اَبھی یہاں کوئی آس پاس ہے بھی نہیں۔ّ۔ جو گلت ہو گیا اُسکو سُدھرنے کا مؤکا بھی ہے، یہ سوچ کر دھڑکتے دِل سے اُسکی دُکان میں چلا گیا۔ وو مِٹھائی کا ڈِبّا ہاتھ میں لیکر کھڑی تھی، بولی- مِٹھائی کھاّو سر۔ّ۔ّ۔!&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے مِٹھائی کا پیس ہاتھ میں لیکر پُوچھا- کِس کھُشی کی مِٹھائی ہے۔ّ۔ّ۔؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو بولی- میں آج بی ئے کی پریکشا میں پاس ہو گئی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میرے مُںہ سے نِکلا اَرے واہ۔ّ۔ّ۔! بدھائی ہو !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اؤر آدھا ٹُکڑا اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر باکی کا اَپنے مُںہ میں اؤر اُس پیس کو ختم کرکے ایک اؤر پیس اُٹھایا۔ پھِر مِٹھائی ختم کرکے میںنے اُسکو بولا- سپنا میں تُجھسے کُچھ کہنا چاہتا ہُوں۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میرے دِل کی دھڑکن بڑھ گئی اؤر مُںہ سے شاید لالِما بھی پھُوٹنے لگی ہو۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سپنا کا مُںہ بھی سکپکاہٹ سے لبریج ہو گیا، اُسکو بھی بھان ہوگا کِ میں کیا کہنا چاہتا ہُوں۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے ہِمّت کرکے کہا- سپنا اُس دِن جو میںنے تُجھکو سائیٹ کھول کر دی، یدِ تُجھے بُرا لگا ہو تو میں سچّے من سے مافی ماںگتا ہُوں، سچ میں تیری مںشا جانے بِنا میںنے تُجھکو وو سب پڑھنے کو دِیا جو ورجِت مانا جاتا ہے، اؤر یہ جانتے ہُئے بھی کِ یدِ تُجھکو سیکس چڑھا تو تیرے پاس اُسکو سںبھالنے کا کوئی سادھن نہیں ہے۔ تُو کِسکو کہیگی کِ تُجھکو کیا ہُآ ہے۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سپنا کا مُںہ نیچا ہو گیا، چیہرا لال ہو گیا، اؤر بولی جیسے جم گئی ہو۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اُسکی ٹھُڈّی کے نیچے اَپنی اُوںگلی رکھ کر اُسکا چیہرا اُٹھایا اؤر میری ترپھ دیکھنے کو بولا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکی نجریں دھیرے دھیرے میری اور اُٹھی تو میں بولا- سپنا تُو میری اَچّھی دوست ہے، اَب تُو کیا مانتی ہے یہ تو تُو جانے، لیکِن میں تیری دوستی کم سے کم تیری شادی تک تو نہیں کھونا چاہتا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسکی آںکھوں سے دو بُوںد آںسُو ٹپک آیے۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میرا دِل بھاری ہو گیا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسنے دھیرے دھیرے رُک رُک کر کہا- سر میں بھی آپکو اَپنا اَچّھا دوست مانتی ہُوں، میں ناراج نہیں ہُوں۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ، نہیں تو آج اِس سمے کیوں آتی۔ّ۔، مُجھے آپسے بات کرنا اَچّھا لگتا ہے۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میرے من کو کِتنا چین آیا، جیسے سر پر سے پہاڑ ایکدم سے ہٹا دِیا گیا ہو۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- ٹھیک ہے تُو تھوڑی دیر میرے پاس میری دُکان پر بیٹھ۔ّ۔، آ جا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسنے شٹر اُٹھے رہنے دِئے اؤر اَلُمِنِیم کا درواجا لگا کر میرے پاس میری دُکان میں آ گئی اؤر میں رِپیّرِںگ کے ساتھ ساتھ اُسّے بات بھی کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے ہم دونوں ہی سامانے ہونے لگے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;لگبھگ 45 مِنٹ باتچیت ہُئی جِسمیں ہمنے ایک دُوسرے کے گھر میں کؤن کؤن ہے، گھر کیسا ہے، ایک دُوسرے کی رُچِیاں کیا ہیں یہ سب جانا، پھِر وو کریب 10:30 - 10:45 پر اَپنی دُکان میں چلی گئی۔ اَچّھا بھی نہیں لگتا تھا کِ کوئی اُسکو اؤر میرے کو اِس ترہ سے آپس میں گھُٹ کر باتیں کرتا دیکھے، لڑکی جات جلدی بدنام ہو جاتی ہے۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر وو اَکسر جلدی ہی آنے لگی، ہم دونوں میں بہُت سی باتیں ہونے لگی، دھیرے دھیرے وو مُجھسے مجاک بھی بہُت کرنے لگی، اُسکے چیہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کِ اُسکو میرا ساتھ اَچّھا لگتا ہے، وو جیادا سے جیادا ٹائیم میرے ساتھ نِکالنا چاہتی ہے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;لیکِن میںنے اُسکو چیتا دِیا تھا کِ دیکھ سپنا اَپنی دوستی کی بات اَپنے دونوں تک ہی سیمِت ہونی چاہِئے ! پگلی، نہیں تو لڑکی جات کو بدنام ہوتے دیر نہیں لگتی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;یہ بات اُسکو بھی اَچّھے سے سمجھ میں آ گئی اؤر جو بھی ہںسی مجاک ہمیں کرنا ہوتا تھا وو سب ہم اؤر دُکانوں کے کھُلنے سے پہلے کر لیتے تھے۔ وو اَکیلے میں مُجھے نِک نیم سونُو پُکارنے لگی، مُجھے بہُت اَچّھا لگتا تھا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ایک دِن جب میں 9:30 پر دُکان پںہُچا تو سپنا دُکان کھول چُکی تھی اؤر مُجھسے بولی- سونُو پلیج آج تُم تھوڑی دیر میرے ساتھ میرے پاس بیٹھو نا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- ٹھیک ہے آدھا گھںٹا کے کریب تُمہارے ساتھ بِتا لُوںگا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو بولی- ہاں ہاں ٹھیک ہے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں اُسکے پاس بیٹھ گیا۔ میںنے تھوڑا سا مُوڈ ہلکا کرتے ہُئے سپنا سے کہا- آج کیا بات ہے گُنُّو، تُم آج بہُت روماںٹِک مُوڈ میں لگ رہی ہو، بِجلی گِرانے کا اِرادا تو نہیں ہے نا ؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکا مُںہ لال ہو گیا، اؤر میرے ہاتھ کو اَپنے ہاتھو میں لے لِیا اؤر باجُ کے سائیڈ میں اَپنا سر ہؤلے سے ٹِکا دِیا۔ّ۔ّ، میں چؤںکا اؤر سپنا کی اور دیکھنے لگا، وو نیچے دیکھنے لگی۔ میںنے اَپنی باںہ اُس سے چھُڈائی اور اُسکے کںدھے پر اَپنا ہاتھ رکھ دِیا اور دُوسرے ہاتھ سے اُسکی ٹھُڈّی اُٹھائی، اُسکا چیہرا شرم سے لبریج تھا۔ّ۔ ہوںٹ پر ایک گیلاپن آ گیا تھا، جو کِسی لڑکی کے گرم ہونے پر آ جاتا ہے، اور آںکھوں میں ایک کُںواری لڑکی کی شرم بھری لالِما آ گئی تھی۔ مُجھے ڈر تھا کِ کوئی آ ن جائے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;لیکِن ویسے اَبھی باجار کھُلنے میں تھوڑا سمے تھا، میںنے سپنا سے کہا- گُنُّو میری رانُو، ہم آپس میں اَچّھے دوست ہیں نا۔ّ۔؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسنے ہاں میں سر ہِلا دِیا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے پھِر کہا- گُنُّو ! اَپنی نجریں مُجھسے مِلاّو اؤر بتاّو کِ کیا بات ہے۔ّ۔؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسنے نیچے دیکھتے ہُئے نا میں سر ہِلا دِیا اؤر اُسکی پلکیں بںد ہو گئی، میں بُری ستھِتِ میں پھںس گیا تھا، اُسکو واستو میں سیکس کی گرمی چڑھ گئی تھی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَب یدِ میں اُسّے اِس ستھِتِ کا پھایدا اُٹھتا ہُوں تو میرے دِل کو گوارا نا تھا اؤجر یدِ چھوڑتا ہُوں تو اُسکا کیا ہال ہوگا، میں سمجھ سکتا تھا۔ میںنے بھگوان کو یاد کِیا اؤر ٹیبل پر سے باہر کے گیٹ کی چابھی اُٹھائی اؤر اَندر سے ایلیُومِنِیم کا درواجا لاک کر دِیا اَندر سپنا کے پاس آیا اؤر اُسکو اَندر کیبِن میں لے گیا اؤر ہم دونوں دو سٹُول پر سٹ کر بیٹھ گئے۔ میںنے اُسکے کںدھے پر ہاتھ رکھا اؤر اُسکی ٹھُڈّی اُٹھا کر بولا- گُنُّو میری اور دیکھ ۔۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;بہُت مُشکِل سے اُسکی آںکھیں میری آںکھوں سے مِلی، میںنے کہا - سیکس کے بارے میں جانّا ہے؟ّ؟ّ؟۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسنے ہاں میں سر ہِلا دِیا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اُسکو سیکس کے بارے میں بتانا شُرُو کِیا کِ کیسے ہوتا ہے، بچّے کیسے ہوتے ہیں اور کرتے میں کیا کیا مہسُوس ہوتا ہے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسنے کہا- سونُو، رات کو میںنے۔ّ۔۔ اَپنے ممّی پاپا کو۔ّ۔ّ۔ دیکھا ہے ! تُم بھی کرو۔ّ۔ّ۔۔ میرے ساتھ۔ّ۔ّ۔ّ۔ سب کُچھ ۔۔ّ۔۔ وو ۔۔۔ ہی۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اوہ تو یہ بات ہے ! میںنے سوچا۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسنے میرا دُوسرا ہاتھ اَپنے دونوں ہاتھو سے پکڑ لِیا اؤر اُسکا سارا شریر کاںپنے لگا، اُسکے پُورے شریر میں تھِرکن ہو رہی تھی۔ او ماے گوڈ۔ّ۔ّ۔ّ۔ میںنے سوچا اؤر مُجھے بس ایک ہی اُپچار نجر آیا، میں اُسکے ایکدم سامنے ہُآ اؤر میںنے اُسکو اَپنے سے چِپٹا لِیا اور اُسکے ہوںٹو پر اَپنے ہوںٹ رکھ دِئے۔ّ۔ ہم دونوں سمُوچ (ہوںٹ اور جیبھ کو چُوستے ہُئے کِس) کی ستھِتِ میں ہو گئے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اَپنی پیںٹ کی ہُک اؤر جِپ کھول دِئے، اُسکِ سلوار کے ناڑے کو کھول دِیا اور اُسکا ہاتھ اُٹھا کر اَپنے لنڈ پر رکھ دِیا اؤر اُسکی پیںٹی میں ہاتھ ڈال کر اُسکی چُوت پر سہلانے لگا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکی چُوت سے پانی ٹپک رہا تھا اؤر سلوار کا کُچھ ہِسّا تک گیلا ہو گیا تھا۔ میںنے بیٹھے بیٹھے ہی اُسکو تھوڑا اُوپر کرکے اُسکی سلوار اؤر پیںٹی کو ٹاںگو سے اَلگ کِیا اؤر ایک اَنے سٹُول پر سُکھانے کی ستھِتِ میں ڈال دی جیسے تیسے سوِچ بورڈ پر پںکھا چالُو کر دِیا اؤر اُسکی ٹاںگوں کو تھوڑا سا اُوپر کرکے اُسکو اَپنی جاںگھو پر کھیںچ لِیا، اُسکی چُوت کو تھوڑا سا کھول کر اَپنا لںڈ اُسکی چُوت کی درار میں لمبائی میں رکھ دِیا اؤر اُسکے ہِپس کے نیچے میرے ہاتھ رکھکر اُسکو اَپنے ہاتھوں میں تھوڑا سا اُٹھا کر اُسکی چُوت میں میرے لںڈ کی رگڑ دینے لگا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سپنا نے کسمسا کر اَپنے ہوںٹ میرے ہوںٹو سے اَلگ کر کے کھولے اؤر بولی- سونُو اَندر گھُسا دو، پلیج ! میںنے کہا- گُنُّو نہیں ! آج نہیں !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سونُو۔ّ۔ّ۔ پلیج۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اُسکو باںہوں میں کس کر اؤر بھی جور سے بھیںچ لِیا، ہوںٹ سے ہوںٹ مِلا کر جور سے کِس کرنے لگا، اؤر اُسکو میرے لںڈ سے رگڑ دینے لگا۔ّ۔ّ، اَب اُسکو مجے آنے لگے تھے۔ّ۔ سو وو بھی دھیرے دھیرے ہِلنے لگی اؤر 3-4 مِنٹ میں ہی ہم ایک دُوسرے سے جکڑے نِڈھال ہو گئے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اؤر تین چار مِنٹ اِس ستھِتِ میں نِکل گئے پھِر اُسکو دھیرے دھیرے ہوش آنے لگا، آںکھیں کھول کر اُسنے اَپنی ستھِتِ دیکھی، میری گود میں بیٹھی ہے۔ّ۔، کیبِن میں ہے۔ّ۔ّ، نیچے کُچھ نہیں پہنا ہُآ ہے۔ّ۔ّ۔، اؤر میرے نیچے کے کپڈے بھی نیچے ہُئے پڑے ہیں اؤر ہم دونوں ایک دُوسرے کی باںہوں میں بںدھے ہُئے ہیں۔ّ۔، ایکاّیک اُسکی آںکھوں میں لالِما آئی لیکِن اُسنے اَپنے ہاتھ میری پیٹھ سے ہٹا کر میرے مُںہ کو اَپنے ہاتھوں میں پکڑا اؤر اؤر ایک کِس کر دِیا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سچ میں اِس کِس کا کوئی مُکابلا ن تھا یہ اَب تک کے مجے میں سبسے اُوپر تھا۔۔ آکھِر یہ کِس اُسنے اَپنے پُورے ہوشوہواس میں کِیا تھا۔اَب ہم جلدی سے اَلگ ہُئے، میںنے اَپنے کپڑے دُرُست کِیے اؤر اُسکی سلوار کو پںکھے کے ایکدم سامنے کر کے 5 مِنٹ میں جِتنا سُوکھ سکتا تھا اُتنا سُکھایا اؤر اُسکو بھی اُسکے کپڑے پہنائے۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ہمنے پھِر ایک بار اؤر کِس کِیا پھِر جلدی سے باہر کا درواجا کھولا، گنیمت کِ اَبھی تک چہل پہل ن تھی۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر میںنے اؤر اُسنے ایک دُوسرے کو دیکھکر مُسکان دی۔ پھِر میں دُکان کھول کر اَپنے کام میں ویست ہو گیا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;لںچ کرتے میں سپنا نے اَگلے دِن 9 بجے آنے کو بولا۔ میںنے اُسکی آںکھوں میں دیکھا تو اُسنے آںکھ مار دی۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- شیتان کہیں کی۔ّ۔۔ ٹھہر تو ۔۔ّ۔۔ کل دیکھُوںگا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَگلے دِن میں جب نؤ بجے پہُںچا تو سپنا دُکان میں سپھائی کر رہی تھی۔ جلدی سے پھری ہُئی اؤر مُجھے اَندر لیکر درواجا بںد کِیا اؤر میرے ساتھ کیبِن میں گھُس گئی اؤر مُجھے سٹُول پر بِٹھا کر میری گود میں بیٹھ گئی اؤر بولی- ہاں اُستاد اَب پھِر سے سِکھاّو کل تو میں ہوش میں تھی نہیں۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو میںنے اُسکو سیکس کے بارے میں پھِر سے بتانا شُرُو کِیا۔ّ۔ّ۔ آج ن تو اُسمے کل جِتنی شرم تھی اؤر نا ہی مدہوشی۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;وو بڑی تنمیتا سے سُن رہی تھی، سمجھ رہی تھی۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر اُسنے میرے ہاتھ اَپنے بوبوں پر لگا دِئے اؤر کھُد میرے ہوںٹو کو چُوسنے لگی پھِر میری پیںٹ کے ہُک کھولنے لگی۔ّ۔، میںنے اُسکو سہیوگ کِیا تو اُسنے میرے ہاتھ پھِر سے اَپنے بوبوں پر رکھ دِئے اؤر میری پیںٹ کو کھول دِیا پھِر کھُد کی سلوار کو بھی ! پھِر کھُد کھڑی ہونے کی ہالت میں ہو گئی تو مُجھے بھی کھڑے ہونا پڈا تو اُسنے نیچے کے کپڑے سرکاکر اُتر جانے دِئے۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر اُسنے میرے لںڈ کو اَپنی چُوت کے درار میں سیٹ کِیا اؤر مُجھسے ایکدم سے چِپک گئی، پھِر اَپنے ہاتھ میری پیٹھ پر باںدھ کر اَپنے پیر ہوا میں لیکر میرے کُولہوں پر کس لِئے اؤر ہِل کر چُوت کو میرے لںڈ سے رگڑنے لگی، تو میںنے اَپنے ہاتھ اُسکے بوبوں سے ہٹا کر اُسکے کُولہوں کے نیچے کِیے اؤر رگڑ میں ہِلانے میں سہایتا کرنے لگا۔ ہمارا چُمبن اؤر بھی پرگاڑھ ہو گیا اؤر دھیرے دھیرے وو اَکڑتی گیی پھِر میں بھی۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اَب میں اُسکو اِسی ہالت میں لِیے دِیے سٹُول پر بیٹھ گیا اؤر ہم اَپنی ساںسوں میں کابُو پانے لگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;زرا دیر میں ہی سپنا پھِر چالُو ہو گئی۔ّ۔۔ چُوما-چاٹی، بوبے دبانا چُوسنا، چُوت کو رگڑنا۔ّ۔ّ۔ّ۔!&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر وو بولی- سونُو اَندر ڈالو۔ّ۔۔ چلو۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو میںنے پُوچھا- تیری ایمسی کب ہُئی تھی؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو بولی- سترہ دِن ہو گئے !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو میںنے کہا- دیوی اؤر 2-3 دِن رُک جا ! نہیں تو پھالتُو میں بچّے کا رِسک ہو جایّگا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو بولی- پھِر اَندر ڈال کر کروگے ۔۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- ہاں بابا ہاں !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;وو بولی- پرومِس؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- ہاں بِلکُل پکّا۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو بولی- لاّو ہاتھ اؤر کسم کھاّو !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اُسکے ہاتھ میں اَپنا ہاتھ لیکر کسم کھائی۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر ہمارا دُوسرا راُّںڈ پُورا ہُآ اؤر اُسکے باد ہم ہمارے کام میں لگ گئے۔ دو اؤر دِن اِسی ترہ سے نِکل گئے۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اِس بیچ میں میںنے ویسلین کی ایک چھوٹی ڈِبّی لاکر اُسکے کیبِن میں رکھ دی۔ اُسنے پُوچھا تو میںنے کہا- اَندر والے دِن کام آایگی ! پھِر اُسکو بتایا کِ جیادا درد ن ہو اِسکے لِئے جُگاڑ بِٹھا رہا ہُوں۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو مچل کر بولی- سونُو یار تُمہارے جیسا آدمی تو بس۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ یے دھیان رکھتے ہو کِ نادان سے نہیں کرنا۔ّ۔ اُسکو سیکس کا جنان دیتے ہو، اُسے بچّا ن ہو جایے یے دھیان رکھتے ہو۔ّ، اُسے درد ن ہو یے بھی دھیان رکھتے ہو آکھِر کیوں۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- میری جان ہو تُم ! میںنے ماتر سیکس کے لِئے نہیں، پیار کے لِئے تُمکو پایا ہے گُنُّو۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسکی آںکھوں میں جوش اؤر وِشواس دیکھنے کے کابِل تھا۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;آکھِر ایمسی کے بیسویں دِن سُبہ نؤ بجے سپنا بہُت اُتساہ میں تھی، جیسے وو کوئی تیر مارنے جا رہی ہو۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اُسکو کہا تو بولی- ہاں ! تیر ہی تو مار رہی ہُوں۔ّ۔ّ، آکھِر جِسکے تُم جیسے گُرُ ہو وو کوئی کم تیرںداج ہوگا بھلا۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ہم دونوں کیبِن میں بںد ہو گئے، اؤر آج ہمنے ایک دُوسرے کو پُورا نںگا کِیا اؤر میںنے اُسکے ہوںٹ، بوبے اؤر گردن چُوسی، بوبے دبایے اؤر کھُوب جور سے چِپٹا کر کِس کرنا چالُو کِیا اؤر سپنا کو کہا- لںڈ سے کھیل۔ّ۔ّ۔!&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;وو لںڈ ہاتھ میں لیکر سہلانے لگی۔ّ۔۔! اُسکی آںکھوں میں کھُماری اُتر آئی اؤر چُوت میں سے پانی ٹپکنے لگا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں اِسی اِنتجار میں تھا۔ّ۔ میںنے اَپنی ایک اُوںگلی میں کھُوب ساری ویسلین لگا کر اُسکی ٹاںگوں کو پھیلا کر اُوںگلی اُسکی چُوت میں اَندر ڈالتا چلا گیا، اُسکا مُںہ کھُل گیا اؤر ایک آہ اُسکے مُںہ سے نِکلی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے پُوچھا تو بولی- کُچھ نہیں ۔۔ّ۔! آپ تو کرو۔ّ۔۔ !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے کہا- درد ہو تو مُجھے بتانا !&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو بولی- سونُو درد تو ایک بار ہونا ہی ہے چاہے اَبھی یا باد میں۔ّ۔ّ۔ ! باد کا تو پتا نہیں لیکِن تُم جیسا ساتھی ہو تو اِس سالے درد کی ایسی کی تیسی، ہونے دو ایک بار ہی تو ہوگا۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں دںگ رہ گیا مُجھے سپنا پر بہُت پیار آیا، اُسکو کِتنا وِشواس تھا مُجھپر۔ّ۔ّ، جانے کیوں۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میںنے اَپنی اُوںگلی اُسکی چُوت میں دِئے ہُئے او کے آکار میں گھُمانے لگا ۔۔ّ۔ اَندر اُسکا ہایمن دھیرے دھیرے کھُلنے لگا، پھِر 2-3 مِنٹ باد میں اَںگُوٹھے پر ویسلین لگا کر چُوت میں ڈالا اؤر اُسکے چیہرے کو دیکھا تو پھِر اُسکا مُںہ کِس کرتے کرتے رُک گیا، اؤر پھِر وو کِس کرنے لگی میںنے اَںگُوٹھے کو آگے پیچھے کرنا شُرُو کِیا تو وو سِسکاری لینے لگی۔ دھیرے دھیرے کُچھ دیر باد میں اَںگُوٹھے کو او کے آکار میں گھُمانے لگا۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;2-3 مِنٹ میں اُسکا ہایمن کاپھی کھُل گیا تو میںنے کہا- گُنُّو، اَب تیّار ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو وو چہک کر بولی- اَرے واہ سونُو ! میں تو کب سے راہ دیکھ رہی ہُوں ۔۔ّ۔۔ چلو۔ّ۔ّ۔ ڈالو۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں اُسکی اُتسُکتا دیکھ کر دںگ رہ گیا۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر میںنے اُسکو اَپنی گود میں بِٹھایا اؤر کھُوب ساری ویسلِن اُسکی چُوت پر ملی اور میرے لںڈ پر بھی، پھِر ہاتھ بیچ میں رکھکر اَپنا لںڈ اُسکی چُوت کے چھید پر سیٹ کِیا ۔۔۔ پھِر سپنا کو بولا- گُنُّو اَپنی ٹاںگو کو بِلکُل ڈھیلا چھوڑ۔ّ۔ اُسکے کُولہوں پر میرے ہاتھو کا دباو بناتے ہُئے دھیرے دھیرے اَپنی اور بھیںچنے لگا۔ّ۔ّ۔ ، لںڈ کا سُپاڈا اَندر ہو گیا۔ میںنے کہا- گُنُّو سںبھالو۔ّ۔۔ درد ہوگا تھوڑا۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;تو اُسنے اَپنی ٹاںگوں کو میرے شریر کی ترپھ ایک جھٹکا دِیا اؤر لںڈ سرسراتا ہُآ اُسکی چُوت میں آدھا چلا گیا، اُسکے ہوںٹ بھِںچ گئے اؤر وو اؤر اؤر آنے دو … کی مُدرا میں گردن ہِلانے لگی۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میں دھیرے دھیرے ہِلتے ہُئے دھکّے لگاتے لںڈ اَندر ڈالتا گیا ۔۔۔ اؤر پھِر ایک بار ہم دونوں کے ہوںٹ آپس میں کِس کرنے لگے۔ ہاتھ ایک دُوسرے کے بدن پر پھِرنے لگے۔ّ۔۔ لںڈ کے اَندر جانے کا سواد دھیرے دھیرے سپنا کو آنے لگا اؤر اُسکے مُںہ سے سِسکاری اؤر آہ نِکلنے لگی۔ پھِر جو گھماسان ہونا تھا وو ہُآ اؤر اَب تک کی چُدائی کا سبسے شاندار اورگاسم آیا ہم دونوں کو۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکے باد ہم دونوں لگبھگ 3 سال تک ایک دُوسرے کے ہُئے رہے۔ّ۔، اُسکی کھانے پینے، پِکچر دیکھنے، گھُومنے کی ہر کھواہِش میںنے پُوری کی۔ پھِر اُسکی شادی ہو گئی۔ّ۔ّ۔، جِس دِن اُسکی شادی پکّی ہُئی وو میرے کںدھے پر سر رکھکر۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اُسکی جُبانی کُچھ باتیں -&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;سونُو نا جانے کیوں میں تُم پر مر مِٹی، تُمہارا بولنے چلنے کا ڈھںگ، تُمہارا سلیکا دیکھکر تُمکو من ہی من چاہنے لگی، پھِر جب تُمہارے یہاں تُمکو دیکھنے تُمہارے پاس چلی آتی تھی، جانے دِل اَپنے کابُو میں رکھنا مُشکِل ہو جاتا تھا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر جیسے جیسے سمے نِکلنے لگا میری دیوانگی تُم پر بڑھنے لگی۔ میں چاہتی تھی کِ تُمہارے پاس بیٹھ کر تُمکو دیکھتی رہُوں اؤر تُمسے باتیں کرتی رہُوں، تُمہاری ساری باتیں مُجھے اَچّھی لگنے لگی۔ّ۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;مُجھے سمجھ آنے لگا کِ شاید یہی پیار ہے۔ پھِر تو تُم پر وِشواس بڑھنے لگا، میں کھُد نہیں سمجھ پاتی تھی کِ مُجھے کیا ہو رہا ہے۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;پھِر جب تُمنے میری ہالت کا ناجایج پھایدا نہیں اُٹھایا تو میرا وِشواس تُم پر اؤر بھی درڑھ ہو گیا۔ّ۔۔ اؤر سچ میں تُمہارا پیار پاکر میں نِہال ہو گئی۔ّ۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اؤر یے تین سال تو تین پلوں کی ترہ سے یُوں نِکل گئے۔ّ۔۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/4062690977045485519/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_8395.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4062690977045485519'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4062690977045485519'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_8395.html' title='سلگتی جوانی کو چودا'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-213003024708015408</id><published>2012-01-16T13:40:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:40:04.129-08:00</updated><title type='text'>موٹے لنڈ سے چدائی</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold; text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ہیلّو دوستوں میں آپ سب کے لِئے ایک ہِںدی کہانی لیکر ہاجِر ہُوں کہانی پڑھنے کے باد کمینٹ دینا ن بھُولیں دوستوں ہو سکتا ہے کُچھ دوستوں نے اِس کہانی کو پڑھا ہو پھِر بھی آشا کرتا ہُوں یے کہانی آپ سب کو پسںد آایگی.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں سمرتِ ہُوں۔ 26 سال کی ایک شادیشُدا مہِلا۔ گورا رںگ اؤر کھُوبسُورت ناک نکش۔ کوئی بھی ایک بار مُجھے دیکھ لیتا تو بس مُجھے پانے کے لِئے تڑپ اُٹھتا تھا۔ میری پھِگر اَبھی 34-28-38۔ میرا پھِگر بہُت سیکسی ہے۔ میری شادی پںکج سے 6 سال پہلے ہُئی تھی۔ پںکج ایک آیِل ریپھائینری مے کافی اَچّچی پوزِشن پر کم کرتا ہے۔ پںکج نِہایت ہی ہیںڈسم اؤر کافی اَچّھے سوابھاو کا آدمی ہے۔ وو مُجھے بہُت ہی پیار کرتا ہے۔ مگر میری کِسمیت مے سِرف ایک آدمی کا پیار نہی لِکھا ہُآ تھا۔ میں آج دو بچّو کی ما ہُوں مگر اُنمے سے کِسکا باپ ہے مُجھے نہی مالُوم۔ کھُون تو شاید اُنہی کی پھیمِلی کا ہے مگر اُنکے ویرے سے پیدا ہُآ یا نہی اِسمے سںدیہ ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپکو زیادا بور نہی کرکے میں آپکو پُوری کہانی سُناتی ہُوں۔ کیسے ایک سیدھی سادھی لڑکی جو اَپنی پڑھائی ختم کرکے کِسی کںپنی مے سیکریٹری کے پد پر کام کرنے لگی تھی، ایک سیکس مشین مے تبدیل ہو گیّ۔ شادی سے پہلے مینے کِسی سے جِسمانی تالُّقات نہی رکھے تھے۔ مینے اَپنے سیکسی بدن کو بڑی مُشکِل سے مردوں کی بھُوکھی نِگاہوں سے بچاکر رکھا تھا۔ ایک اَکیلی لڑکی کا اؤر وو بھی اِس پد پر اَپنا کومارے سُرکشِت رکھ پانا اَپنے آپ مے بڑا ہی مُشکِل کا کام تھا۔ لیکِن مینے اِسے سںبھو کر دِکھایا تھا۔ مینے اَپنا کؤماریا اَپنے پتِ کو ہی سمرپِت کِیا تھا۔ لیکِن ایک بار میری یونِ کا بںد دوار پتِ کے لِںگ سے کھُل جانے کے باد تو پتا نہی کِتنے ہی لِںگ دھڑادھڑ گھُستے چلے گیے۔ میں کئی مردوں کے ساتھ ہُمبئیستر ہو چُکی تھی۔ کئی لوگوں نے ترہ ترہ سے مُجھسے سںبھوگ کِیا……………&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں ایک کھُوبسُورت لڑکی تھی جو ایک میڈِیم کلاس پھیمِلی کو بِلاںگ کرتی تھی۔ پڑھائی ختم ہونے کے باد مینے شارٹ ہیںڈ پھیس سیکریٹری کا کورس کِیا۔ کںپلیٹ ہونے پر مینے کئی جگہ اَپلائی کِیا۔ ایک کںپنی سُدرشن اِںڈسٹریس سے پی ئے کے لِئے کال آیا۔ اِںٹرویُو مے سیلیکشن ہو گیا۔ مُجھے اُس کںپنی کے مالِک مِسٹر۔ کھُشی رام کی پیئے کے پوسٹ کے لِئے سیلیکٹ کِیا گیا۔ میں بہُت کھُش ہُئی۔ گھر کی ہالت تھوڑی نازُک تھی۔ میری تنخواہ گرہستھی مے کافی مدد کرنے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں کام من لگا کر کرنے لگی مگر کھُشی رام جی کی نِیت اَچّھِ نہی تھی۔ کھُشِرامجی دیکھنے مے کِسی بھیںسے کی ترہ موٹے اؤر کالے تھے۔ اُنکے پُورے چیہرے پر چیچک کے نِشان اُنکے ویکتِتو کو اؤر بُرا بناتے تھے۔ جب وو بولتے تو اُنکے ہوںٹھوں کے دونو کِناروں سے لار نِکلتی تھی۔ مُجھے اُسکی شکل سے ہی نفرت تھی۔ مگر کیا کرتی مجبُوری مے اُنہے جھیلنا پڑ رہا تھا۔ پھیس مے سلوار کمیز پہن کر جانے لگی جو اُسے ناگوار گُجرنے لگا۔ لںبی آستینو والے ڈھیلے ڈھلے کمیز سے اُنہے میرے بدن کی جھلک نہی مِلتی تھی اؤر نا ہی میرے بدن کے تیکھے کٹاو ڈھںگ سے اُبھرتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;یہاں تُمہے سکرٹ اؤر بلاُّس پہنّا ہوگا۔ یے یہاں کے پیئے کا ڈریس کوڈ ہے۔&quot; اُنہوں نے مُجھے دُوسرے دِن ہی کہا۔ مینے اُنہے کوئی جواب نہی دِیا۔ اُنہوں نے شام تک ایک ٹیلر کو وہی آپھیس مے بُلا کر میرے ڈریس کا آرڈر دے دِیا۔ بلاُّس کا گلا کافی ڈیپ رکھوایا اؤر سکرٹ بس اِتنی لںبی کی میری آدھی جاںگھ ہی ڈھک پائے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دو دِن مے میرا ڈریس تیّار ہو کر آگیّا۔ مُجھے شُرُو مے کُچّھ دِن تک تو اُس ڈریس کو پہن کر لوگوں کے سامنے آنے مے بہُت شرم آتی تھی۔ مگر دھیرے دھیرے مُجھے لوگوں کی نزروں کو سہنے کی ہِمّت بنانی پڑی۔ ڈریس تو اِتنی چھہوٹی تھی کِ اَگر میں کِسی کارن جھُکتی تو سامنے والے کو میرے برا مے قید بُوبس اؤر پیچھے والے کو اَپنی پیںٹی کے نزارے کے درشن کرواتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں گھر سے سلوار کمیز مے آتی اؤر آپھیس آکر اَپنا ڈریس چیںج کرکے اَپھیشِیل سکرٹ بلاُّس پہن لیتی۔ گھر کے لوگ یا موہلّے والے اَگر مُجھے اُس ڈریس مے دیکھ لیتے تو میرا اُسی مُہُورت سے گھر سے نِکلنا ہی بںد کر دِیا جاتا۔ لیکِن میرے پیریںٹس بیکورڈ خیالو کے بھی نہی تھے۔ اُنہوں نے کبھی مُجھسے میرے پرسنل لائیپھ کے بارے مے کُچّھ بھی پُوچھ تاچھ نہی کی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک دِن کھُشی رام نے اَپنے کیبِن مے مُجھے بُلا کر اِدھر اُدھر کی کافی باتیں کی اؤر دھیرے سے مُجھے اَپنی اور کھیںچا۔ میں کُچّھ ڈِسبیلینس ہُئی تو اُسنے مُجھے اَپنے سینے سے لگا لِیا۔ اُسنے میرے ہوںٹھوں کو اَپنے ہوںٹھوں سے چچھُو لِئے۔ اُسکے مُںہ سے اَجیب ترہ کی بدبُو آ رہی تھی۔ میں ایک دم گھبرا گیّ۔ سمجھ مے ہی نہی آیا کِ ایسے ہالت کا سامنا کِس ترہ سے کرُوں۔ اُنکے ہاتھ میرے دونو چُوچِیو کو بلاُّس کے اُپر سے مسلنے کے باد سکرٹ کے نیچے پیںٹی کے اُپر پھِرنے لگے۔ مئی اُنسے اَلگ ہونے کے لِئے کسمسا رہی تھی۔ مگر اُنہونے نے مُجھے اَپنی باہوں مے بُری ترہ سے جاکڑ رکھا تھا۔ اُنکا ایک ہاتھ ایک جھٹکے سے میری پیںٹی کے اَںدر گھُس کر میری ٹاںگوں کے جوڑ تک پہُںچ گیا۔ مینے اَپنے دونو ٹاںگوں کو سکھتی سے ایک دُوسرے کے ساتھ بھیںچ دِیا لیکِن تب تک تو اُنکی اُںگلِیاں میری یونِ کے دوار تک پہُںچ چُکی تھی۔ دونو اُںگلِیاں ایک میری یونِ مے گھُسنے کے لِئے کسمسا رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے پُوری تاقت لگا کر ایک دھکّا دیکر اُنسے اَپنے کو اَلگ کِیا۔ اؤر وہاں سے بھاگتے ہُئے نِکل گیّ۔ جاتے جاتے اُنکے شبد میرے کانو پر پڑے۔ &quot;تُمہے اِس کںپنی مے کام کرنے کے لِئے میری ہر اِچّچھا کا دھیان رکھنا پڑیگا۔&quot; میں اَپنی ڈیسک پر لگبھگ دؤڑتے ہُئے پہُںچی۔ میری ساںسے تیج تیج چل رہی تھی۔ مینے ایک گلاس ٹھںڈا پانی پِیا۔ بیبسی سے میری آںکھوں مے آںسُو آ گیے۔ نم آںکھوں سے مینے اَپنا ریسِگنیشن لیٹر ٹائیپ کِیا اؤر اُسے وہی پٹک کر آپھیس سے باہر نِکل گیّ۔ پھِر دوبارا کبھی اُس راستے کی اور مینے پاوں نہی رکھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر سے مینے کئی جگہ اَپلائی کِیا۔ آخِر ایک جگہ سے اِںٹرویُو کال آیا۔ سیلیکٹ ہونے کے باد مُجھے سیئیاو سے مِلنے کے لِئے لے جایا گیا۔ مُجھے اُنہی کی پیئے کے پوسٹ پر اَپایںٹمیںٹ مِلی تھی۔ میں ایک بار چوٹ کھا چُکی تھی اِس لِئے دِل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ مینے سوچ رکھا تھا کِ اَگر میں کہیں کو جاب کرُوںگی تو اَپنی اِچّچھا سے۔ کِسی مجبُوری یا کِسی کی رکھیل بن کر نہی۔ مینے سکُچتے ہُئے اُنکے کمرے مے ناک کِیا اؤر اَںدر گیّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;یُو آر ویلکم ٹُو دِس پھیمِلی&quot; سامنے سے آواز آئی۔ مینے دیکھا سامنے ایک37 سال کا بہُت ہی کھُوبسُورت آدمی کھڑا تھا۔ میں سیئیاو مِسٹر۔ راج شرما کو دیکھتی ہی رہ گیّ۔ وو اُٹھے اؤر میرے پاس آکر ہاتھ بڑھایا لیکِن میں بُت کی ترہ کھڑی رہی۔ یے سبھیتا کے کھِلاپھ تھا میں اَپنے باس کا اِس ترہ سے اَپمان کر رہی تھی۔ لیکِن اُنہوں نے بِنا کُچّھ کہے مُسکُراتے ہُئے میری ہتھیلی کو تھام لِیا۔ میں ہوش مے آئی۔ مینے تپاک سے اُنسے ہاتھ مِلایا۔ وو میرے ہاتھ کو پکڑے ہُئے مُجھے اَپنے سامنے کی چیر تک لے گیے اؤر چیر کو کھیںچ کر مُجھے بیٹھنے کے لِئے کہا۔ جب تک وو گھُوم کر اَپنی سیٹ پر پہُںچے میں تو اُن کے ڈیسینسی پر مر مِٹی۔ اِتنا بڑا آدمی اؤر اِتنا سومے ویکتِتو۔ میں تو کِسی ایسے ہی ایںپلایر کے پاس کام کرنے کا سپنا اِتنے دینو سے سںجوئے تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کھیر اَگلے دِن سے میں اَپنے کام مے جُٹ گیّ۔ دھیرے دھیرے اُنکی اَچّچھائیّوں سے اَوگت ہوتی گیّ۔ سارے آپھیس کے سٹاپھ اُنہے دِل سے چاہتے تھے۔ میں بھلا اُنسے اَلگ کیسے رہتی۔ مینے اِس کںپنی مے اَپنے باس کے بارے مے اُنسے مِلنے کے پہلے جو دھارنا بنائی تھی اُسکا اُلٹا ہی ہُآ۔ یہاں پر تو میں کھُد اَپنے باس پر مر مِٹی، اُنکے ایک ایک کام کو پُورے من سے کںپلیٹ کرنا اَپنا دھرم مان لِیا۔ مگر باس تھا کِ گھاس ہی نہی ڈالتا تھا۔ یہا میں سلوار کمیز پہن کر ہی آنے لگی۔ مینے اَپنے کمیز کے گلے بڑے کاروالِئے جِسّے اُنہے میرے دُودھِیا رںگ کے بُوبس دیکھیں۔ باکی سارے آپھیس والوں کے سامنے تو اَپنے بدن کو چُنری سے ڈھکے رکھتی تھی۔ مگر اُنکے سامنے جانے سے پہلے اَپنی چھاتِیو پر سے چُنری ہٹا کر اُسے جان بُوجھ کر ٹیبل پر چھچوڑ جاتی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں جان بُوجھ کر اُنکے سامنے جھُک کر کام کرتی تھی جِسّے میرے برا مے کسے ہُئے بُوبس اُنکی آںکھوں کے سامنے جھُولتے رہیں۔ دھیرے دھیرے مینے مہسُوس کِیا کِ اُنکی نزروں مے بھی پرِورتن آنے لگا ہے۔ آخِر وو کوئی سادھُ مہاتما تو تھے نہی ( دوستو آپ تو جانتے ہے میں یانی آپکا دوست راج شرما کیسا بںدا ہُوں یے سب تو چِڑِیا کو جال مے پھاںسنے کے لِئے ایک چارا تھا ) اؤر میں تھی بھی اِتنی سُںدر کی مُجھ سے دُور رہنا ایک نامُمکِن کام تھا۔ میں اَکسر اُنسے سٹنے کی کوشِش کرنے لگی۔ کبھی کبھی مؤکا دیکھ کر اَپنے بُوبس اُنکے بدن سے چچھُآ دیتی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے آپھیس کا کام اِتنی نِپُنتا سے سمہال لِیا تھا کِ اَب راجکُمار جی نے کام کی کافی زِمّیدارِیاں مُجھے سونپ دی تھی۔ میرے بِنا وو بہُت اَسہاے پھیل کرتے تھے۔ اِسلِئے میں کبھی چھُٹّی نہی لیتی تھی۔ دھیرے دھیرے ہم کافی اوپن ہو گیے۔ پھری ٹائیم مے میں اُنکے کیبِن مے جاکر اُنسے باتیں کرتی رہتی۔ اُنکی نزر باتیں کرتے ہُئے کبھی میرے چیہرے سے پھِسل کر نیچے جاتی تو میرے نِپلس بُلیٹس کی ترہ تن کر کھڑے ہو جاتے۔ میں اَپنے اُبھاروں کو تھوڈا اؤر تان لیتی تھی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اُنمے گُرُور بِلکُل بھی نہی تھا۔ میں روج گھر سے اُنکے لِئے کُچّھ نا کُچّھ ناشتے مے بناکر لاتی تھی ہم دونو ساتھ بیٹھ کر ناشتا کرتے تھے۔ میں یہاں بھی کُچّھ مہینے باد سکرٹ بلاُّس مے آنے لگی۔ جِس دِن پہلی بار سکرٹ بلاُّس مے آئی، مینے اُنکی آںکھو مے میرے لِئے ایک پرشںسا کی چمک دیکھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے بات کو آگے بڑھانے کی سوچ لی۔ کئی بار کام کا بوجھ زیادا ہوتا تو میں اُنہے باتوں باتوں مے کہتی، &quot;سر اَگر آپ کہیں تو پھائیل آپکے گھر لے آتی ہُوں چھُٹّی کے دِن یا آپھیس ٹائیم کے باد رُک جاتی ہُوں۔ مگر اُنکا جواب دُوسروں سے بِلکُل اُلٹا رہتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وو کہتے &quot;سمرتِ میں اَپنی ٹینشن گھر لیجانا پسںد نہی کرتا اؤر چاہتا ہُوں کی تُم بھی چھُٹّی کے باد اَپنی لائیپھ ایںجاے کرو۔ اَپنے گھر والو کے ساتھ اَپنے بایپھریںڈس کے ساتھ شام ایںجاے کرو۔ کیوں کوئی ہے کیا؟&quot; اُنہوں نے مُجھے چھیڑا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آپ جیسا ہیںڈسم اؤر شریپھ لڑکا جِس دِن مُجھے مِل جاّیگا اُسے اَپنا باے پھریںڈ بنا لُوںگی۔ آپ تو کبھی میرے ساتھ گھُومنے جاتے نہیں ہیں۔&quot; اُنہوں نے تُرںت بات کا ٹاپِک بدل دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب میں اَکسر اُنہے چھُونے لگی۔ ایک بار اُنہوں نے سِردرد کی شِکایت کی۔ مُجھے کوئی ٹیبلیٹ لے کر آنے کو کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; سر، میں سِر دبا دیتی ہُوں۔ دوائی مت لیجِئے۔&quot; کہکر میں اُنکی چیر کے پیچھے آئی اؤر اُنکے سِر کو اَپنے ہاتھوں مے لیکر دبانے لگی۔ میری اُںگلِیا اُنکے بلوں مے گھُوم رہی تھی۔ میں اَپنی اُںگلِیوں سے اُنکے سِر کو دبانے لگی۔ کُچّھ ہی دیر مے آرام مِلا تو اُنکی آںکھیں اَپنے آپ مُوںڈنے لگی۔ مینے اُنکے سِر کو اَپنے بدن سے سٹا دِیا۔ اَپنے دونو چُچِیو کے بیچ اُنکے سِر کو داب کر اُنکے سِر کو دبانے لگی۔ میرے دونو اُروج اُنکے سِر کے بھار سے دب رہے تھے۔ اُنہوں نے بھی شاید اِسے مہسُوس کِیا ہوگا مگر کُچّھ کہا نہی۔ میرے دونو اُروج سخت ہو گیے اؤر نِپلس تن گیے۔ میرے گال شرم سے لال ہو گیے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;بس اَب کاکی آرام ہے کہ کر جب اُنہوں نے اَپنے سِر میری چھاتِیو سے اُٹھایا تو مُجھے اِتنا بُرا لگا کی کُچّھ بیان نہی کر سکتی۔ میں اَپنی نزرے زمین پر گڑائے اُنکے سامنے کُرسی پر آ بیٹھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دھیرے دھیرے ہم بیتاکلُّوپھ ہونے لگے۔ اَبھی سِکس مونتھس ہی ہُئے تھے کِ ایک دِن مُجھے اَپنے کیبِن مے بُلا کر اُنہونے ایک لِفافا دِیا۔ اُسمے سے لیٹر نِکال کر مینے پڑھا تو کھُشی سے بھر اُٹھی۔ مُجھے پرمنیںٹ کر دِیا گیا تھا اؤر میری تنخواہ ڈبل کر دی گیی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے اُنکو تھیںکس کہا تو وو کہ اُٹھے۔ &quot;سُوکھے سُوکھے تھیںکس سے کام نہی چلیگا۔ بیبی اِسکے لِئے تو مُجھے تُمسے کوئی ٹریٹ مِلنی چاہِئے&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;زرُور سر اَبھی دیتی ہُوں&quot; مینے کہا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا؟&quot; وو چؤںک گیے۔ مینے مؤکے کو ہاتھ سے نہی جانے دینا چاہتی تھی۔ میں جھٹ سے اُنکی گود مے بیٹھ گیی اؤر اُنہے اَپنی باہوں مے بھرتے ہُئے اُنکے لِپس چُوم لِئے۔ وو اِس اَچانک ہُئے ہملے سے گھبرا گیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;سمرتِ کیا کر رہی ہو۔ کںٹرول یُورسیلپھ۔ اِس ترہ بھاوناّوں مے مت بہو۔ &quot; اُنہوں نے مُجھے اُٹھاتے ہُئے کہا &quot;یے اُچِت نہی ہے۔ میں ایک شادی شُدا بال بچّیدار آدمی ہُوں&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا کرُوں سر آپ ہو ہی اِتنے ہیںڈسم کی کںٹرول نہی ہو پایا۔&quot; اؤر وہاں سے شرما کر بھاگ گیّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب اِتنا ہونے کے باد بھی اُنہوں نے کُچّھ نہی کہا تو میں اُنسے اؤر کھُلنے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;راج جی ایک دِن مُجھے گھر لے چلو نا اَپنے&quot; ایک دِن مینے اُنہے باتوں باتوں مے کہا۔ اَب ہمارا سںبںدھ باس اؤر پیئے کا کم دوستوں جیسا اَدھِک ہو گیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیوں گھر مے آگ لگانا چاہتی ہو؟&quot; اُنہوں نے مُسکُراتے ہُئے پُوچّھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیسے؟&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَب تُم جیسی ہسین پیئے کو دیکھ کر کؤن بھلا مُجھ پر شق نہی کریگا۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;چلو ایک بات تو آپنے مان ہی لِیا آخِر۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا؟&quot; اُنہوں نے پُوچھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کِ میں ہسین ہُوں اؤر آپ میرے ہُشن سے ڈرتے ہیں۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;وو تو ہے ہی۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;میں آپکی وائیپھ سے آپکے بچّوں سے ایک بار مِلنا چاہتی ہُوں۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیوں؟ کیا اِرادا ہے؟&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; ہم*مم کُچّھ خترناک بھی ہو سکتا ہے۔&quot; مینے اَپنے نِچلے ہوںٹھ کو داںت سے کاٹتے ہُئے اُٹھ کر اُنکی گود مے بیٹھ گیّ۔ میں جب بھی بولڈ ہو جاتی تھی وو گھبرا اُٹھتے تھے۔ مُجھے اُنہے اِس ترہ ستانے مے بڑا مزا آتا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; دیکھو تُم میرے لڑکے سے مِلو۔ اُسے اَپنا باے فریںڈ بنا لو۔ بہُت ہیںڈسم ہے وو۔ میرا تو اَب سمے چلا گیا ہے تُم جیسی لڑکِیوں سے پھلرٹ کرنے کا۔&quot; اُنہوں نے مُجھے اَپنے گود سے اُٹھاتے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;دیکھو یے آپھیس ہے۔ کُچّھ تو اِسکی مریادا کا کھیال رکھا کر۔ میں یہا تیرا باس ہُوں۔ کِسی نے دیکھ لِیا تو پتا نہی کیا سوچیگا کِ بُڈّھے کی متِ ماری گیی ہے۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِس ترہ اَکسر میں اُنسے چِپکنے کی کوشِش کرتی تھی مگر وو کِسی مچّلی کی ترہ ہر بار پھِسل جاتے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِس گھٹنا کے باد تو ہم کافی کھُل گیے۔ میں اُنکے ساتھ اُلٹے سیدھے مزاک بھی کرنے لگی۔ لیکِن میں تو اُنکی بنائی ہُئی لکشمن ریکھا کراس کرنا چاہتی تھی۔ مؤکا مِلا ہولی کو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہولی کے دِن ہُمارے آپھیس مے چھُٹّی تھی۔ لیکِن پھیکٹری بںد نہی رکھا جاتا تھا کُچّھ آپھیس سٹاپھ کو اُس دِن بھی آنا پڑتا تھا۔ مِسٹر۔ راج ہر ہولی کو اَپنے سٹاپھ سے سُبہ-سُبہ ہولی کھیلنے آتے تھے۔ مینے بھی ہولی کو اُنکے ساتھ ہُڑدںگ کرنے کے پلان بنا لِیا۔ اُس دِن سُبہ میں آپھیس پہُںچ گیّ۔ آپھیس مے کوئی نہی تھا۔ سب باہر ایک دُوسرے کو گُلال لگاتے تھے۔ میں لوگوں کی نزر بچاکر آپھیس کے اَںدر گھُس گیّ۔ اَںدر ہولی کھیلنا اَلوڈ نہی تھا۔ میں آپھیس مے اَںدر سے درواجا بںد کر کے اُنکا اِںتیزار کرنے لگی۔ کُچّھ ہی دیر مے راج کی کار اَںدر آئی۔ وو کُرتے پایجامے مے تھے۔ لوگ اُنسے گلے مِلنے لگے اؤر گُلال لگانے لگے۔ مینے گُلال نِکال کر ایک پلیٹ مے رکھ لِیا باتھرُوم مے جاکر اَپنے بالوں کو کھول دِیا۔ریشمی جُلپھ کھُل کر پیٹھ پر بِکھر گیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں ایک پُرانی شرٹ اؤر سکرٹ پہن رکھی تھی۔ سکرٹ کافی چھہوٹی تھی۔ مینے شرٹ کے بٹنس کھول کر اَںدر کی برا اُتار دی اؤر شرٹ کو واپس پہن لی۔ شرٹ کے اُپر کے دو بٹن کھُلے رہنے دِئے جِسّے میرے آدھے بُوبس جھلک رہے تھے۔ شرٹ چُوچِیو کے اُپر سے کُچّھ گھِسی ہُئی تھی اِسلِئے میرے نِپلس اؤر اُنکے بیچ کا کالا گھیرا ساپھ نزر آ رہا تھا۔ اُتّیجنا اؤر ڈر سے میں مارچ کے مؤسم مے بھی پسینے پسینے ہو رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں کھِڑکی سے جھاںک رہی تھی اؤر اُنکے پھری ہونے کا اِںتیزار کرنے لگی۔ اُنہے کیا مالُوم تھا میں آپھیس مے اُنکا اِںتیزار کر رہی ہُوں۔ وو پھری ہو کر واپس کار کی ترپھ بڑھ رہے تھے۔ تو مینے اُنکے موبائیل پر رِںگ کِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;سر، مُجھسے ہولی نہی کھیلیںگے۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کہاں ہو تُم؟ سِم۔ّ۔ اَجاّو میں بھی تُمسے ہولی کھیلنے کے لِئے بیتاب ہُوں&quot; اُنہوں نے چاروں ترپھ دیکھتے ہُئے پُوچّھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; آپھیس مے آپکا اِںتیزار کر رہی ہُوں&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تو باہر آجا نا۔ آپھیس گںدا ہو جایگا&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نہی سبکے سامنے مُجھے شرم آایگی۔ ہو جانے دو گںدا۔ کل رںدھن ساپھ کر دیگا&quot; مینے کہا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَچّچھا تو وو والی ہولی کھیلنے کا پروگرام ہے؟&quot; اُنہوں نے مُسکُراتے ہُئے موبائیل بںد کِیا اؤر آپھیس کی ترپھ بڑھے۔ مینے لاک کھول کر درواجے کے پیچھے چھُپ گیّ۔ جیسے ہی وو اَںدر آئے میں پیچھے سے اُنسے لِپٹ گیی اؤر اَپنے ہاتھوں سے گُلال اُنکے چہرے پر مل دِیا۔ جب تک وو گُلال جھاڑ کر آںکھ کھولتے مینے واپس اَپنی مُتٹھِیوں مے گُلال بھرا اؤر اُنکے کُرتے کے اَںدر ہاتھ ڈال کر اُنکے سینے مے لگا کر اُنکے سینے کو مسل دِیا۔ مینے اُنکے دونو سینے اَپنی مُٹّھی مے بھر کر کِسی اؤرت کی چھاتِیو کی ترہ مسلنے لگی۔ &quot;ئے۔ّئے۔ّ۔کیا کر رہی ہے؟&quot; وو ہڑبڑا اُٹھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;بُرا نا مانو ہولی ہے۔&quot; کہتے ہُئے مینے ایک مُٹّھی گُلال پایجامے کے اَںدر بھی ڈال دی۔ اَںدر ہاتھ ڈالنے مے ایک بار جھِجھک لگی لیکِن پھِر سبکُچّھ سوچنا بںد کرکے اَںدر ہٹ ڈال کر اُنکے لِںگ کو مسل دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ٹھہر بتاتا ہُوں۔&quot; وو جب تک سںبھالتے تب تک میں کھِل کھِلاتے ہُئے وہاں سے بھاگ کر ٹیبل کے پیچھے ہو گیّ۔ اُنہوں نے مُجھے پکڑنے کے لِئے ٹیبل کے اِدھر اُدھر دؤر لگائی۔ لیکِن میں اُنسے بچ گیّ۔ لیکِن میرا ایم تو پکڑے جانے کا تھا بچنے کا تھوڑی۔ اِسلِئے میں ٹیبل کے پیچھے سے نِکل کر درواجے کی ترپھ دؤڑی۔ اِس بار اُنہوں نے مُجھے پیچّے سے پکڑ کر میرے کمیز کے اَںدر ہاتھ ڈال دِئے۔ میں کھِل کھِلا کر ہںس رہی تھی اؤر کسمسا رہی تھی۔ وو کافی دیر تک میرے بُوبس پر رںگ لگاتے رہے۔ میرے نِپلس کو مسلتے رہے کھیںچتے رہے۔ مئی اُنسے لِپٹ گیّ۔ اؤر پہلی بار اُنہوں نے اَپنے ہوںٹھ میرے ہوںٹھوں پر رکھ دِئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے ہوںٹھ تھوڈا کھُلے اؤر اُنکی جیبھ کو اَںدر جانے کا راستا دے دِیا۔ کئی مِنِٹس ہم اِسی ترہ ایک دُوسرے کو چُومتے رہے۔ میرا ایک ہاتھ سرکتے ہُئے اُنکے پایجامے تک پہُںچا پھِر دھیرے سے پایجامے کے اَںدر سرک گیا۔ میں اُنکے لِںگ کی تپِش اَپنے ہاتھوں پر مہسُوس کر رہی تھی۔ مینے اَپنے ہاتھ آگے بڑھا کر اُنکے لِںگ کو تھام لِیا۔ میری اِس ہرکت سے جیسے اُنکے پُورے جِسم مے ایک جھُرجُری سی دؤڑ گیّ۔ اُنہونے نے مُجھ ایک دھکّا دیکر اَپنے سے اَلگ کِیا۔ میں گرمی سے تپ رہی تھی۔ لیکِن اُنہوں نے کہا &quot;نہی سمرتِ …۔۔نہی یے ٹھیک نہی ہے۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں سِر جھُکا کر وہی کھڑی رہی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تُم مُجھسے بہُت چھہوٹی ہو۔&quot; اُنہوں نے اَپنے ہاتھوں سے میرے چیہرے کو اُٹھایا &quot; تُم بہُت اَچّچھو لڑکی ہو اؤر ہم دونو ایک دُوسرے کے بہُت اَچّھے دوست ہیں۔ &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے دھیرے سے سِر ہِلایا۔ میں اَپنے آپ کو کوس رہی تھی۔ مُجھے اَپنی ہرکت پر بہُت گلانِ ہو رہی تھی۔ مگر اُنہوں نے میری کسمکس کو سمجھ کر مُجھے واپس اَپنی باہوں مے بھر لِیا اؤر میرے گالّوں پر دو کِس کِئے۔ اِسّے میں واپس نارمل ہو گیّ۔ جب تک میں سمہلتی وو جا چُکے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دھیرے دھیرے سمے بیتّا گیا۔ لیکِن اُس دِن کے باد اُنہوں نے ہُمارے اؤر اُنکے بیچ مے ایک دیوار بنا دی۔ میں شاید واپس اُنہے سِڈیُوس کرنے کا پلان بنانے لگتی لیکِن اَچانک میری جِںدگی مے ایک آںدھی سی آئی اؤر سب کُچّھ چیںج ہو گیا۔ میرے سپنو کا سؤداگر مُجھے اِس ترہ مِل جاّیگا مینے کبھی سوچا نا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں ایک دِن اَپنے کام مے بِزی تھی کِ لگا کوئی میری ڈیسک کے پاس آکر رُکا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آئی واںٹ ٹُو میٹ مِسٹر۔ راج شرما&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اینی اَپایںٹمیںٹ؟ &quot; مینے سِر جھُکائے ہُئے ہی پُوچّھا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;نو&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ساری ہی اِیز بِزی&quot; مینے ٹالتے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ٹیل ہِم پںکج ہِز سن واںٹس ٹُو میٹ ہِم۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;مینے ایک جھٹکے سے اَپنا سِر اُٹھایا اؤر اُس کھُوبسُورت اؤر ہیںڈسم آدمی کو دیکھتی رہ گیّ۔ وو بھی میری کھُوبسُورتی مے کھو گیا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اوہ مائی گود۔ کیا چیز ہو تُم۔ تبھی ڈیڈ آجکل اِتنا آپھیس مے بِزی رہنے لگے ہیں۔&quot; اُنہوں نے کہا &quot;بائی دا وے آپکا نام جان سکتا ہُوں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سمرتِ…۔اَب یے نام میری سمرتِ سے کبھی دُور نہی جاّیگا۔&quot; مینے شرما کر اَپنی آںکھے جھُکا لی۔ وو اَںدر چلے گیے۔ واپسی مے اُنہوں نے مُجھسے شام کی ڈیٹ پھِکس کر لی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِسکے باد تو ہم ڈیلی مِلنے لگے۔ ہم دونو پُوری شام ایک دُوسرے کی باہوں مے بِتانے لگے۔ پںکج بہُت اوپن مائیںڈ کے آدمی تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک دِن راج نے مُجھے اَپنے کیبِن مے بُلایا اؤر ایک لیٹر مُجھے دیتے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;یے ہے تُمہارا ٹرمِنیشن لیٹر۔ یُو آر بیِّںگ سیکڈ&quot; اُنہوں نے تیج آواز کے ساتھ کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ل۔ّلیکِن میری غلتی کیا ہے؟&quot; مینے رُآںسی آواز مے پُوچھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تُمنے میرے لڑکے کو اَپنے جال مے پھںسا ہے&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;لیکِن سر…&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کوئی لیکِن ویکین نہی&quot; اُنہوں نے مُجھے بُری ترہ جھِڑکتے ہُئے کہا &quot;ناُّ گیٹ لاسٹ&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری آںکھوں مے آںسُو آ گیے۔ میں روتی ہُئی وہاں سے جانے لگی۔ جیسے ہی میں درواجے تک پہُںچی اُنکی آواز سُنائی دی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;شام کو ہم تُمہارے پیریںٹس سے مِلنے آ رہے ہے۔ پںکج جلدی شادی کرنا چاہتا ہے&quot; میرے کدم ٹھِٹھک گیے۔ میں گھُومی مینے دیکھا مِسٹر۔ راج شرما اَپنی باہیں پھیلائے مُسکُرا رہے ہیں۔ میں آںسُو پوںچھ کر کھِل کھِلا اُٹھی۔ اؤر دؤڑ کر اُنسے لِپٹ گیّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آخِر میں راجکُمار جی کے پرِوار کا ایک ہِسّا بنّے جا رہی تھی۔ پںکج مُجھے بہُت چاہتا تھا۔ شادی سے پہلے ہم ہر شام ساتھ ساتھ گھُومتے پھِرتے۔ کافی باتیں کرتے۔ پںکج نے مُجھسے میرے باے پھریںڈس کے بارے مے پُوچّھا۔ اؤر اُنسے مِلنے سے پہلے کی میری سیکشُیل لائیپھ کے بارے مے پُوچّھا جب مینے کہا اَبھی تک کُںواری ہُوں تو ہںسنے لگے اؤر کہا، کیا کہا دوستو یے تو آپ پارٹ -2 مے ہی جان پاّیںگے تب تک کے لِئے آپکا دوست راج شرما آپسے وِدا چاہتا ہے اَگلیپارٹ مے پھِر میلیںگے سمرتِ کی جوانی سے کھیلنے کے لِئے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا یار تُمہاری جِںدگی تو بہُت بورِںگ ہے۔ یہاں یے سب نہی چلیگا۔ ایک دو تو بھںوروں کو رکھنا ہی چاہِئے۔ تبھی تو تُمہاری مارکیٹ ویلیُو کا پتا چلتا ہے۔ میں اُنکی باتوں سے ہںس پڑی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شادی سے پہلے ہی میں پںکج کے ساتھ ہُمبئیستر ہو گیّ۔ ہم دونو نے شادی سے پہلے کھُوب سیکس کِیا۔ آلموسٹ روج ہی کِسی ہوٹیل مے جاکر سیکس ایںجاے کرتے تھے۔ ایک بار میرے پیریںٹس نے شادی سے پہلے رات رات بھر باہر رہنے پر ایتراج جتایا تھا۔ لیکِن جتایا بھی تو کِسے میرے ہونے والے سسُر جی سے جو کھُد اِتنے رںگین مِزاج تھے۔ اُنہوں نے اُنکی چِںتاّوں کو بھاپ بنا کر اُڑا دِیا۔ راجکُمار جی مُجھے پھری چھچوڑ رکھے تھے لیکِن مینے کبھی اَپنے کام سے من نہی چُرایا۔ اَب میں واپس سلوار کمیز مے آپھیس جانے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پںکج اؤر اُنکی پھیمِلی کافی کھُلے وِچاروں کی تھی۔ پںکج مُجھے ایکسپوشر کے لِئے زور دیتے تھے۔ وو میرے بدن پر رِویلِںگ کپڑے پسںد کرتے تھے۔ میرا پُورا وارڈروب اُنہوں نے چیںج کروا دِیا تھا۔ اُنہے مِنی سکرٹ اؤر لُوس ٹاپر مُجھ پر پسںد تھے۔ سِرف میرے کپڑے ہی نہی میرے اَںڈرگارمیںٹس تک اُنہوں نے اَپنے پسںد کے کھریدویے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وو مُجھے مائیکرو سکرٹ اؤر لُوس سلیولے ٹاپر پہنا کر ڈِسکوز مے لے جاتے جہاں ہم کھُوب پھری ہوکر ناچتے اؤر مستی کرتے تھے۔ اَکسر لوپھر لڑکے میرے بدن سے اَپنا بدن رگڑنے لگتے۔ کئی بار میرے بُوبس مسل دیتے۔ وو تو بس مؤکے کی تلاش مے رہتے تھے کِ کوئی مُجھ جیسی سیکسی ہسینا مِل جائے تو ہاتھ سیںک لیں۔ میں کئی بار ناراز ہو جاتی لیکِن پںکج مُجھے چُپ کرا دیتے۔ کئی بار کُچّھ منچلے مُجھسے ڈینس کرنا چاہتے تو پںکج کھُشی کھُشی مُجھے آگے کر دیتے۔ مُجھ سںگ تو ڈینس کا بہانا ہوتا۔ لڑکے میرے بدن سے جوںک کی ترہ چِپک جاتے۔ میرے پُورے بدن کو مسلنے لگتے۔ بُوبس کا تو سبسے بُرا ہال کر دیتے۔ میں اَگر نارازگی جاہِر کرتی تو پںکج اَپنی ٹیبل سے آںکھ مار کر مُجھے شاںت کر دیتے۔ شُرُو شُرُو مے تو اِس ترہ کا اوپنّیس مے میں گھبرا جاتی تھی۔ مُجھے بہُت بُرا لگتا تھا لیکِن دھیرے دھیرے مُجھے اِن سب مے مزا آنے لگا۔ میں پںکج کو اُتّیجِت کرنے کے لِئے کبھی کبھی دُوسرے کِسی مرد کو سِڈیُوس کرنے لگتی۔ اُس شام پںکج مے کُچّھ زیادا ہی جوش آ جاتا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کھیر ہُماری شادی جلدی ہی بڑے دھُوم دھام سے ہو گیّ۔ شادی کے باد جب مینے راجکُمار جی کے چرن چھُیے تو اُنہوں نے مُجھے اَپنے سینے سے لگا لِیا۔ اِتنے مے ہی میں گیلی ہو گیّ۔ تب مینے مہسُوس کِیا کی ہُمارا رِشتا آج سے بدل گیا لیکِن میرے من مے اَبھی ایک چھُپِ سی چِںگاری باکی ہے اَپنے سسُر جی کے لِئے جِسے ہوا لگتے ہی بھڑک اُٹھنے کی سںبھاونا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے سسُرال والے بہُت اَچّچے کافی اَڈوینسڈ وِچار کے تھے۔ پںکج کے ایک بڑے بھائی ساہِب ہیں کمل اؤر ایک بڑی بہن ہے نیتُو۔ دونو کیتب تک شادی ہو چُکی تھی۔ میرے نںدوئی کا نام ہے وِشال۔ وِشال جی بہُت رںگین مِزاج اِںسان تھے۔ اُنکی نزروں سے ہی کامُکتا ٹپکتی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شادی کے باد مینے پایا وِشال مُجھے کامُک نزروں سے گھُورتے رہتے ہیں۔ نیی نیی شادی ہُئی تھی اِسلِئے کِسی سے شِکایت بھی نہی کر سکتی تھی۔ اُنکی پھیمِلی اِتنی اَڈوانس تھی کِ میری اِس ترہکی شِکایت کو ہںسی مے اُڑا دیتے اؤر مُجھے ہی اُلٹا اُنکی ترپھ دھکیل دیتے۔ وِشلجی کی میرے سسُرال مے بہُت اَچّھِ اِمیج بنی ہُئی تھی اِسلِئے میری کِسی بھی کو کوئی توجّو نہی دیتا۔ اَکسر وِشلجی مُجھے چچھُو کر بات کرتے تھے۔ ویسے اِسمے کُچّھ بھی غلت نہی تھا۔ لیکِن نا جانے کیوں مُجھے اُس آدمی سے چِڑھ ہوتی تھی۔ اُنکی آںکھیں ہمیشا میری چھاتِیو پر ریںگتے مہسُوس کرتی تھی۔ کئی بار مُجھسے سٹنے کے بھی کوشِش کرتے تھے۔ کبھی سبکی آںکھ بچا کر میری کمر مے چِکوٹی کاٹتے تو کبھی مُجھے دیکھ کر اَپنی جیبھ کو اَپنے ہوںٹھوں پر پھیرتے۔ میں نزریں گھُما لیتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے جب نیتُو سے تھوڑا گھُما کر کہا تو وو ہںستے ہُئے بولی، &quot;دیدو بیچارے کو کُچّھ لِپھٹ۔ آجکل میں تو روج اُنکا پہلُو گرم کر پاتی نہی ہُوں اِسلِئے کھُلا ساںڈ ہو رہے ہیں۔ دیکھنا بہُت بڑا ہے اُنکا۔ اؤر تُم تو بس اَبھی کچّی کلی سے پھُول بنی ہو اُنکا ہتھِیار جھیل پانا اَبھی تیرے بس کا نہی۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;دیدی آپ بھی بس۔ّ۔ّآپکو شرم نہی آتی اَپنے بھائی کی نیی دُلہن سے اِس ترہ باتیں کر رہی ہو؟&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اِسمے بُرائی کیا ہے۔ ہر مرد کا کِسی شادیسُوڈا کی ترپھ اَٹریکشن کا متلب بس ایک ہی ہوتا ہے۔ کِ وو اُسکے شہد کو چکھنا چاہتا ہے۔ اِسّے کوئی گھِس تو جاتی نہی ہے۔&quot; نیتُو دیدی نے ہںسی مے بات کو اُڑا دِیا۔ اُس دِن شام کو جب میں اؤر پںکج اَکیلے تھے نیتُو دیدی نے اَپنے بھائی سے بھی مزاک مے میری شِکایت کی بات کہ دی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پںکج ہںسنے لگے، &quot;اَچّچھا لگتا ہے جیجا جی کا آپ سے من بھر گیا ہے اِسلِئے میری بیوی پر نزریں گڑائے رکھے ہُئے ہیں۔&quot; میں تو شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔ سمجھ ہی نہی آ رہا تھا وہاں بیٹھے رہنا چاہِئے یا وہاں سے اُٹھ کر بھاگ جانا چاہِئے۔ میرا چیہرا شرم سے لال ہو گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَبھی نیی ہے دھیرے دھیرے اِس گھر کی رںگت مے ڈھل جاّیگی۔&quot; پھِر مُجھے کہا، &quot; شِمرِتِ ہمارے گھر مے کِسیسے کوئی لُکاو چچِپاو نہی ہے۔ کِسی ترہ کا کوئی پردا نہی۔ سب ایک دُوسرے سے ہر ترہ کا مزاک چھیڑ چھاڈ کر سکتے ہیں۔ تُم کِسی کی کِسی ہرکت کا بُرا متمانّا&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَگلے دِن کی ہی بات ہے میں ڈائینِںگ ٹیبل پر بیٹھی سبجی کاٹ رہی تھی۔ وِشلجی اؤر نیتا دیدی سوپھے پر بیٹھے ہُئے تھے۔ مُجھے خیال نا رہا کب میرے ایک ستن سے ساری کا آںچل ہٹ گیا۔ مُجھے کام نِبٹا کر نہانے جانا تھا اِسلِئے بلاُّس کا سِرف ایک بٹن بںد تھا۔ آدھے سے اَدھِک چھاتی باہر نِکلی ہُئی تھی۔ میں اَپنے کام مے تلّین تھی۔ مُجھے نہی مالُوم تھا کِ وِشال جی سوپھے بیٹھ کر نیُوز پیپر کی آڑ مے میرے ستن کو نِہار رہے ہے۔ مُجھے پتا تب چلا جب نیتُو دیدی نے مُجھے بُلا سمرتِ یہاں سوپھے پر آ جاّو۔ اِتنی دُور سے وِشال کو تُمہارا بدن ٹھیک سے دِکھائی نہی دے رہا ہے۔ بہُت دیر سے کوشِش کر رہاہے کِ کاش اُسکی نزروں کے گرمی سے تُمہارے بلاُّس کا اِکلؤتا بٹن پِگھل جائے اؤر بلاُّس سے تُمہاری چھاتِیا نِکل جائے لیکِن اُسے کوئی سپھلتا نہی مِل رہی ہے۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے جھٹ سے اَپنی چُوچِیو کو دیکھا تو ساری بات سمجھ کر مینے آںچل سہی کر دِیا۔ مئی شرما کر وہاں سے اُٹھنے کو ہُئی۔ تو نیتا دیدی نے آکر مُجھے روک دِیا۔ اؤر ہاتھ پکڑ کر سوپھے تک لے گیّ۔ وِشال جی کے پاس لے جا کر۔ اُنہوں نے میرے آںچل کو چُوچِیو کے اُپر سے ہٹا دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;لو دیکھ لو…۔۔ 38 سائیز کے ہیں۔ ناپنے ہیں کیا؟&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں اُنکی ہرکت سے شرم سے لال ہو گیّ۔ مینے جلدی واپس آںچل سہی کِیا اؤر وہاں سے کھِسک لی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہنِمُون مے ہمنے مسُری جانے کا پروگرام بنایا۔ شام کو بائی کار دیلہی سے نِکل پڑے۔ ہُمارے ساتھ نیتُو اؤر وِشلجی بھی تھے۔ٹھںڈ کے دِن تھے۔ اِسلِئے شام جلدی ہو جاتی تھی۔ سامنے کی سیٹ پر نیتُو دیدی بیٹھی ہُئی تھی۔ وِشال جی کار چلا رہے تھے۔ ہم دونو پیچھے بیٹھے ہُئے تھے۔ دو گھںٹے کںٹِنیُوس ڈرائیو کرنے ک باد ایک ڈھابے پر چائی پی۔ اَب پںکج ڈرائیوِںگ سیٹ پر چلا گیا اؤر وِشلجی پیچھے کی سیٹ پر آ گیے۔ میں سامنے کی سیٹ پر جانے کے لِئے درواجاکھولی کی وِشال نے مُجھے روک دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَرے کبھی ہُمارے ساتھ بھی بیٹھ لو کھا تو نہی جؤںگا تُمہے۔&quot; وِشال نے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ہاں بیٹھ جاّو اُنکے ساتھ سردی بہُت ہے باہر۔ آج اَبھی تک گلے کے اَںدر ایک بھی گھُوںٹ نہی گیی ہے اِسلِئے ٹھںڈ سے کاںپ رہے ہیں۔تُمسے سیٹ کر بیٹھیںگے تو اُنکا بدن بھی گرم ہو جاّیگا۔&quot; دیدی نے ہںستے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَچّچھا؟ لگتا ہے دیدی اَب تُم اُنہے اؤر گرم نہی کر پاتی ہو۔&quot; پںکج نے نیتُو دیدی کو چھیڑتے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم لوگ باتیں کرتے مزاک کرتے چلے جا رہے تھے۔ تبھی بات کرتے کرتے وِشال نے اَپنا ہاتھ میری جاںگھ پر رکھ دِیا۔ جِسے مینے دھیرے سے پکڑ کر نیچے کر دِیا۔ ٹھںڈ بڑھ گیی تھی۔ پںکج نے ایک شال لے لِیا۔ نیتُو ایک کںبل لے لی تھی۔ ہم دونو پیچھے بیٹھ ٹھںڈ سے کاںپنے لگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;وِشال دیکھو سمرتِ کا ٹھںڈ کے مارے بُرا ہال ہو رہا ہے۔ پیچھے ایک کںبل رکھا ہے اُسّے تُم دونو ڈھک لو۔&quot; نیتُو دیدی نے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب ایک ہی کںبل باکی تھا جِس سے وِشال نے ہم دونو کو ڈھک دِیا۔ ایک کںبل مے ہونے کے کارن مُجھے وِشال سے سیٹ کر بیٹھنا پڑا۔ پہلے توتھوڑی جھِجھک ہُئی مگر باد مے میں اُنسے ایکدُوم سیٹ کر بیٹھ گیّ۔ وِشالکا ایک ہاتھ اَب میری جاںگھوں پر گھُوم رہا تھا اؤر ساری کے اُوپر سے میریجاںگھوں کو سہلا رہا تھا۔ اَب اُنہوں نے اَپنے ہاتھ کو میرے کںدھے کے اُپر رکھ کر مُجھے اؤر اَپنے سینے پر کھیںچ لِیا۔ میں اَپنے ہاتھوں سے اُنہے روکنے کی ہلکی سی کوشِش کر رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا بات ہے تُم دونو چُپ کیوں ہو گیے۔ کہیں تُمہارا نںدوئی تُمہے مسل تو نہی رہا ہے؟ سمہل کے رکھنا اَپنے اُن کھُوبسُورت جیوروں کو مرد پیدائیشی بھُوکھے ہوتے ہیں اِنکے۔&#39; کہ کر نیتُو ہںس پڑی۔ میں شرما گیّ۔ مینے وِشال کے بدن سے دُور ہونے کی کوشِش کی تواُنہوں نے میرے کمر کو پکڑ کر اؤر اَپنی ترپھ کھیںچ لِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَب تُم اِتنی دُور بیٹھی ہو تو کِسی کو تو تُمہاری پراکسی دینی پڑیگی نا۔ اؤر نںدوئی کے ساتھ رِشتا تو ویسے ہی جیجا سالی جیسا ہوتا ہے۔ّ۔ّ۔آدھی گھر والی۔ّ۔ّ۔&quot; وِشال نے کہا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;دیکھا۔ّ۔ّ۔دیکھا۔ ۔۔ّ۔ّکیسے اُچّھل رہے ہیں۔ سمرتِ اَب مُجھے مت کہنا کِ مینے تُمہے چیتایا نہی۔ دیکھنا اِنسے دُور ہی رہنا۔ اِنکا سائیز بہُت بڑا ہے۔&quot; نیتُو نے پھِر کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا دیدی آپ بھی بس…۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا ہُآ؟ خٹمل کاٹ گیا؟&quot; نیتا نے پُوچّھا۔ اؤر مُجھے چِڑھاتے ہُئے ہںسنے لگی۔ میں شرم سے مُںہ بھیںچ کر بیٹھی ہُئی تھی۔ کیا بتاتی، ایک نیی دُلہن کے لِئے اِس ترہ کی باتیں کھُلے آم کرنا بڑامُشکِل ہوتا ہے۔ اؤر سپیشلی تب جب کی میرے اَلاوا باکی سب اِس مہال کا مزا لے رہے تھے۔ &quot;کُچّھ نہی میرا پیر پھںس گیا تھا سیٹ کے نیچے۔&quot; مینے بات کو سمہلتے ہُایکہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب اُنکے ہاتھ میرے نگن ستن کو سہلانے لگے۔ اُنکے ہاتھ برا کے اَںدر گھُسکر میرے ستنو پر پھِر رہے تھے۔ اُنہوں نے میرے نِپلس کو اَپنی اُںگلِیوں سے چھُتے ہُئے میرے کان مے کہا، &quot;بائی گاڈ بہُت سیکسی ہو۔ اَگر تُمہارا ایک اَںگ ہی اِتنا لاجواب ہے تو جب پُوری نںگی ہوگی تو کیامت آ جاّیگی۔ پںکج کھُوب رگڑتا ہوگا تیری جوانی۔ سالا بہُت کِسمیت والا ہے۔ تُمہے میں اَپنی ٹاںگوں کے بیچ لِٹا کر رہُوںگا۔ &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اُنکے اِس ترہ کھُلی بات کرنے سے میں گھبرا گیّ۔ مینے سامنے دیکھا دونو بھائی بہن اَپنی دھُن مے تھے۔ میں اَپنا نِچلا ہوںٹھ کاٹ کر رہ گیّ۔ مینے چُپ رہنا ہی اُچِت سمجھا جِتنی شِکایت کرتی دونو بھائی بہن مُجھے اؤر زیادا کھیںچتے۔ اُنکی ہرکتوں سے اَب مُجھے بھی مزا آنے لگا۔ میری یونِ گیلی ہونے لگی۔ لیکِن مئی چُپ چاپ اَپنی نزریں جھُکائے بیٹھی رہی۔ سب ہںسی مزاک مے ویست تھے۔ دونو کو اِسکی بِلکُل بھی اُمّید نہی تھی کی اُنکے پیٹھ کے ٹھیک پیچھے کِس ترہ کا کھیل چل رہا تھا۔ میں نئی نویلیدُلہن کُچّھ تو شرم کے مارے اؤر کُچّھ پرِوار والوں کے کھُلے وِچاروں کو دیکھتے ہُئے چُپ تھی۔ ویسے میں بھی اَب کوئی دُودھ کی دھُولِتو تھی نہی۔ سسُر جی کے ساتھ ہُمبئیستر ہوتے ہوتے رہ گیی تھی۔ اِسلِئے مینے مامُولی وِرودھ کے اؤر کسمسنے کے اَلاوا کوئی ہرکت نہی کی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اُسنے مُجھے آگے کو جھُکا دِیا اؤر ہاتھ میری پیٹھ پر لے جاکر میری برا کے سٹریپ کھول دِئے۔ بلاُّس مے میرے بُوبس ڈھیلے ہو گیے۔ اَب وو آرام سے بلاُّس کے اَںدر میرے بُوبس کو مسلنے لگے۔ اُسنے میرے بلاُّس کے بٹنس کھول کر میرے بُوبس کو بِلکُل نگن کر دِئے۔ وِشال نے اَپنا سِر کںبل کے اَںدر کرکے میرے نگن ستنو کو چُوم لِیا۔ اُسنے اَپنے ہوںٹھوں کے بیچ ایک ایک کرکے میرے نِپلس لیکر کُچّھ دیر چُوسا۔ میں ڈر کے مارے ایک دم ستبدھ رہ گیّ۔ مئی ساںس بھی روک کر بیٹھی ہُئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا مانو میری ساںسو سے بھی ہماری ہرکتوں کا پتا چل جاّیگا۔ کُچّھ دیر تک میرے نِپلس چُوسنے کے باد واپس اَپنا سِر باہر نِکالا۔ اَب وو اَپنے ہاتھوں سے میریہاتھ کو پکڑ لِیا۔ میری پتلی پتلی اُںگلِیوں کو کُچّھ دیر تک چُاُستے اؤر چُومتے رہے۔ پھِر دھیرے سے اُسے پکڑ کر پیںٹ کے اُپر اَپنے لِںگ پر رکھا۔ کُچّھ دیر تک وہیں پر دبائے رکھنے کے باد مینے اَپنے ہاتھوں سے اُنکے لِںگ کو ایک بار مُٹّھی مے لیکر دبا دِیا۔ وو تب میری گردن پر ہلکے ہلکے سے اَپنے داںت گڑھا رہے تھے۔ میرے کانو کی ایک لؤ اَپنے مُںہ مے لیکر چُوسنے لگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پتا نہی کب اُنہونے اَپنے پیںٹ کی زِپ کھول کر اَپنا لِںگ باہر نِکال لِیا۔ مُجھے تو پتا تب لگا جب میرے ہاتھ اُنکے نگن لِںگ کو چھُو لِئے۔ میں اَپنے ہاتھ کو کھیںچ رہی تھی مگر اُنکی پکڑ سے چچھُدا نہی پا رہی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جیسے ہی میرے ہاتھ نے اُسکے لِںگ کے چںدے کو سپرش کِیا پُورے بدن مے ایک سِہرن سی دؤڑ گیّ۔ اُنکا لِںگ پُوری ترہ تنا ہُآ تھا۔ لِںگ تو کیا مانو مینے اَپنے ہاتھوں مے کو گرم سلاکھ پکڑ لی ہو۔ میری زُبان تالُو سے چِپک گیّ۔ اؤر مُںہ سُوکھنے لگا۔ میرے ہزبیںڈ اؤر نند سامنے بیٹھے تھے اؤر میں نیی دُلہن ایک گیر مرد کا لِںگ اَپنے ہاتھو مے تھام رکھی تھی۔ میں شرم اؤر ڈر سے گڑھی جا رہی تھی۔ مگر میری زُبان کو تو مانو لکوا مار گیا تھا۔ اَگر کُچّھ بولتی تو پتا نہی سب کیا سوچتے۔ میری چُپّی کو اُسنے میری رزامںدی سمجھا۔ اُسنے میرے ہاتھ کو مجبُوتی سے اَپنے لِںگ پر تھام رکھا تھا۔ مینے دھیرے دھیرے اُسکے لِںگ کو اَپنی مُٹّھی مے لے لِیا۔ اُسنے اَپنے ہاتھ سے میرے ہاتھ کو اُپر نیچے کرکے مُجھے اُسکے لِںگ کو سہلانے کا اِشارا کِیا۔ میں اُسکے لِںگ کو سہلانے لگی۔ جب وو اَسوست ہو گیے تو اُنہونے میرے ہاتھ کو چھچوڑ دِیا اؤر میرے چیہرے کو پکڑ کر اَپنی اور موڑا۔ میرے ہوںٹھوں پر اُنکے ہوںٹھ چِپک گیے۔ میرے ہوںٹھوں کو اَپنی جیبھ سے کھُلوا کر میرے مُںہ مے اَپنی جیبھ گھُسا دی۔ میں ڈر کے مارے کاںپنے لگی۔ جلدی ہی اُنہے دھکّا دیکر اَپنے سے اَلگ کِیا۔ اُنہونے اَپنے ہاتھوں سے میری ساری اُںچی کرنی شُرُو کی اُنکے ہاتھ میری نگن جاںگھوں پر پھِر رہے تھے۔ مینے اَپنی ٹاںگوں کو کس کر دبا رکھا تھا اِسلِئے اُنہے میری یونِ تک پہُںچنے مے سپھلتا نہی مِل رہی تھی۔ میں اُنکے لِںگ پر زور زور سے ہاتھ چلا رہی تھی۔ کُچّھ دیر باد اُنکے مُںہ سے ہلکی ہلکی &quot;آ اُو&quot; جیسی آوازیں نِکلنے لگی جو کِ کار کی آواز مے دب گیی تھی۔ اُنکے لِںگ سے ڈھیر سارا گڑھا گڑھا ویرے نِکل کر میرے ہاتھوں پر پھیل گیا۔ مینے اَپنا ہاتھ باہر نِکل لِیا۔ اُنہونے واپس میرے ہاتھ کو پکڑ کر مُجھے زبردستی اُنکے ویرے کو چاٹ کر ساپھ کرنے لِئے بادھیا کرنے لگے مگر مینے اُنکی چلنے نہی دی۔ مُجھے اِس ترہ کی ہرکت بہُت گںدی اؤر واہِیات لگتی تھی۔ اِسلِئے مینے اُنکی پکڑ سے اَپنا ہاتھ کھیںچ کر اَپنے رُمال سے پوںچّھ دِیا۔ کُچّھ دیر باد میرے ہزبیںڈ کار روک کر پیچھے آ گیے تو مینے راہت کی ساںس لی ہم ہوٹیل مے پہُںچے۔ دو ڈبل رُوم بُک کر رکھے تھے۔ اُس دِن زیاداگھُوم نہی سکے۔ شام کو ہم سب اُنکے کمرے مے بیٹھ کر ہی باتیں کرنے لگے۔ پھِر دیر رات تک تاش کھیلتے رہے۔ جب ہم اُٹھنے لگے تو وِشال جی نے ہُومے روک لِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَرے یہیں سو جاّو&quot; اُنہوں نے گہری نزروں سے مُجھے دیکھتے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پںکج نے ساری بات مُجھ پر چھچوڑ دی، &quot;مُجھے کیا ہے اِسّے پُوچّھ لو۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وِشال میری ترپھ مُسکُراتے ہُئے دیکھ کر کہے &quot;لائیٹ بںد کر دیںگے تو کُچّھ بھی نہی دِکھیگا۔ اؤر ویسے بھی ٹھںڈ کے مارے رزائی تو لینا ہی پڑیگا۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اؤر کیا کوئی کِسی کو پریشان نہی کریگا۔ جِسے اَپنے پارٹنر سے جِتنی مرزی کھیلو&quot; نیتُو دیدی نے کہا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پںکج نے جھِجھکتے ہُئے اُنکی بات مان لی۔ میں چُپ ہی رہی۔ لائیٹ آپھ کرکے ہم چار ایک ہی ڈبل بیڈ پر لیٹ گیے۔ میں اؤر نیتُو بیچ مے سوئے اؤر دونو مرد کِنارے پر۔ جگہ کم تھی اِسلِئے ایک دُوسرے سے سیٹ کر سو رہے تھے۔ ہم چاروں کے وستر بہُت جلدی بدن سے ہٹ گیے۔ ہلکی ہالِک روشنی مے مینے دیکھا کِ وِشال جی نیتُو کو سیدھا کر کے دونو پیر اَپنے کںدھوں پر رکھ دِئے اؤر دھکّے مارنے لگے۔ کںبل، رزائی سب اُنکے بدن سے ہٹے ہُئے تھے۔ مینے ہلکی روشنی مے اُنکے موٹے تگڑے لِںگ کو دیکھا۔ نیتُو لِںگ گھُستے سمے &quot;آہ&quot; کر اُٹھی۔ کںپیرٹِولی پںکج کا لںڈ اُسّے چھہوٹا تھا۔ میں سوچ رہی تھی نیتُو کو کیسا مزا آ رہا ہوگا۔ وِشال نیتُو کو دھکّے مار رہا تھا۔ پںکج مُجھے گھوڑی بنا کر میرے پیچھے سے ٹھوکنے لگا۔ پُورا بِستر ہم دونو کپلس کے دھکّوں سے بُری ترہ ہِل رہا تھا۔ کُچّھ دیر باد وِشال لیٹ گیا اؤر نیتُو کو اَپنے اُپر لے لِیا۔ اَب نیتُو اُنہے چود رہی تھی۔ میرے بُوبس پںکج کے دھکّوں سے بُری ترہ ہِل رہے تھے۔ تھوڑی دیر مے مینے مہسُوس کِیا کِ کوئی ہاتھ میرے ہِلتے ہُئے بُوبس کو مسلنے لگا ہے۔ میں سمجھ گیی کِ وو ہاتھ پںکج کا نہی بلکِ وِشال کا ہے۔ وِشال میرے نِپل کو اَپنی چُٹکِیوں مے بھر کر مسل رہا تھا۔ میں درد سے کراہ اُٹھی۔ پںکج کھُش ہو گیا کِ اُسکے دھکّوں نے میری چیکھ نِکال دی۔ کافی دیر تک یُوںہی اَپنی اَپنی بیوی کو ٹھوک کر دونو نِڈھال ہو گیے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;میری یونِ تپ رہی ہے اِسمے اَپنے ہتھِیار سے رگڑ کر شاںت کرو۔&quot; مینے بھُوکھی شیرنی کی ترہ اُسے کھیںچ کر اَپنے اُوپر لِٹا لِیا اؤر اُسکے لِںگ کو پکڑ کر سہلانے لگی۔ اُسے سوپھے پر دھکّا دے کر اُسکے لِںگ کو اَپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اَپنے مُںہ مے لے لِیا۔ مینے کبھی کِسی مرد کے لِںگ کو مُںہ مے لینا تو دُور کبھی ہوںٹھوں سے بھی نہی چھُآ تھا۔ پںکج بہُت زِد کرتے تھے کی میں اُنکے لِںگ کو مُںہ مے ڈال کر چُوسُوں لکِن میں ہر بار اُنکو منا کر دیتی تھی۔ میں اِسے ایک گںدا کام سمجھتی تھی۔ لیکِن آج نا جانے کیا ہُآ کِ میں اِتنی گرم ہو گیی کی کھُد ہی وِشلجی کے لِںگ کو اَپنے ہاتھوں سے پکڑ کر کُچّھ دیر تک کِس کِیا۔ اؤر جب وِشال جی نے مُجھے اُنکے لِںگ کو اَپنے مُںہ مے لینے کا اِشارا کرتے ہُئے میرے سِر کو اَپنے لِںگ پر ہلکے سے دبایا تو مینے کِسی ترہ کا وِرودھ نا کرتے ہُئے اَپنے ہوںٹھوں کو کھول کر اَپنے سِر کو نیچے کی اور جھُکا دِیا۔ اُنکے لِںگ سے ایک اَجیب ترہ کی سمیل آ رہی تھی۔ کُچّھ دیر یُوں ہی مُںہ مے رکھنے کے باد میں اُنکے لِںگ کو چُوسنے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب سارے ڈر ساری شرم سے میں پرے تھی۔ جِںدگی مے مُجھے اَب کِسی کی چِںتا نہی تھی۔ بس ایک جُنُون تھا ایک گرمی تھی جو مُجھے جھُلسائے دے رہی تھی۔ میں اُنکے لِںگ کو مُںہ مے لیکر چُوس رہی تھی۔ اَب مُجھے کوئی چِںتا نہی تھی کِ وِشال میری ہرکتوں کے بارے مے کیا سوچیگا۔ بس مُجھے ایک بھُوکھ پریشان کر رہی تھی جو ہر ہالت مے مُجھے مِٹانی تھی۔ وو میرے سِر کو اَپنے لِںگ پر داب کر اَپنی کمر کو اُںچا کرنے لگا۔ کُچّھ دیر باد اُسنے میرے سِر کو پُوری تاقت سے اَپنے لِںگ پر دبا دِیا۔ میرا دم گھُٹ رہا تھا۔ اُسکے لِںگ سے اُنکے ویرے کی ایک تیج دھار سیدھے گلے کے بھیتر گِرنے لگی۔ اُنکے لِںگ کے آسپاس کے بال میرے ناک مے گھُس رہے تھے۔ پُورا رس میرے پیٹ مے چلے جانے کے باد ہی اُنہونے مُجھے چھچوڑا۔ میں وہیں زمین پر بھر بھرا کر گِر گیی اؤر تیج تیج ساںسے لینے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وو سوپھے پر اَب بھی پیروں کو پھیلا کر بیٹھے ہُئے تھے۔ اُنکے سامنے میں اَپنے گلے کو سہلاتے ہُئے زور زور سے ساںسیں لے رہی تھی۔ اُنہونے اَپنے پیر کو آگے بڑھا کر اَپنے اَںگُوٹھے کو میری یونِ مے ڈال دِیا۔ پھِر اَپنے پیر کو آگے پیچھے چلا کر میری یونِ مے اَپنے اَںگُوٹھے کو اَںدر باہر کرنے لگا۔ بہُت جلدی اُنکے لِںگ مے واپس ہرکت ہونے لگی۔ وو آگے کی اور جھُک کر میرے نِپلس پکڑ کر اَپنی اور کھیںچے میں درد سے بچنے کے لِئے اُٹھ کر اُنکے پاس آ گیّ۔ اَب اُنہونے مُجھے سوپھے پر ہاتھوں کیبل جھُکا دِیا۔ پیر کارپیٹ پر ہی تھے۔ اَب میری ٹاںگوں کو چؤڑا کرکے پیچھے سے میری یونِ پر اَپنا لِںگ سٹا کر ایک جوردار دھکّا مارا۔ اُنکا موٹا لِںگ میری یونِ کے اَںدر راستا بناتا ہُآ گھُس گیا۔ یونِ بُری ترہ گیلی ہونے کے کارن زیادا پریشانی نہی ہُئی۔ بس مُںہ سے ایک دبی دبی کراہ نِکلی &quot;آآّہہ&quot; اُنکے لِںگ کا سائیز اِتنا بڑا تھا کِ مُجھے لگا کی میرے بدن کو چیرتا ہُآ گلے تک پہُںچ جاّیگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اَب وو پیچھے سے میری یونِ مے اَپنے لِںگ سے دھکّے مارنے لگے۔ اُسںکے ہر دھکّے سے میرے موٹے موٹے بُوبس اُچّھل اُچّھل جاتے۔ میری گردین کو ٹیڑھا کر کے میرے ہوںٹھوں کو چُومنے لگے اؤر اَپنے ہاتھوں سے میرے دونو ستنو کو مسلنے لگے۔ کافی دیر تک اِس ترہ مُجھے چودنے کے باد مُجھے سوپھے پر لِٹا کر اُوپر سے ٹھوکنے لگے۔ میری یونِ مے سِہرن ہونے لگی اؤر دوبارا میرا ویرے نِکل کر اُنکے لِںگ کو بھِگونے لگا۔ کُچّھ ہی دیر مے اُنکا بھی ویرے میری یونِ مے پھیل گیا۔ ہم دونو زور زور سے ساںسے لے رہ تھے۔ وو میرے بدن پر پسر گیا۔ ہم دونو ایک دُوسرے کو چُومنے لگے۔ تبھی گجب ہو گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پںکج کی نیںد کھُل گیّ۔ وو پیشاب کرنے اُٹھا تھا۔ ہم دونو کی ہالت تو ایسی ہو گیی مانو سامنے شیر دِکھ گیا ہو۔ وِشال سوپھے کے پیچھے چھِپ گیا۔ میں کہیں اؤر چھِپنے کی جگہ نا پا کر بیڈ کی ترپھ بڑھی۔ کِسمیٹ اَچّھِ تھی کِ پںکج کو پتا نہی چل پایا۔ نیںد مے ہونے کی وجہ سے اُسکا دِماغ زیادا کام نہی کر پایا ہوگا۔ اُسنے سوچا کِ میں باتھرُوم سے ہوکر آ رہی ہُوں۔ جیسے ہی وو باتھرُوم مے گھُسا وِشال جلدی سے آکر بِستر مے گھُس گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کل سُبہ کوئی بہانا بنا کر ہوٹیل مے ہی پڑے رہنا&quot; اُسنے میری کان مے دھیرے سے کہا اؤر نیتُو کی دُوسری اور جا کر لیٹ گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کُچّھ دیر باد پںکج آیا اؤر میرے سے لِپٹ کر سو گیا۔ میری یونِ سے اَبھی بھی وِشال کا رس ٹپک رہا تھا۔ میرے ستنو کا مسل مسل کر تو اؤر بھی بُرا ہال کر رکھا تھا۔ مُجھے اَب بہُت پاسچتاپ ہو رہی تھی۔ &quot;کیوں مئی شریر کی گرمی کے آگے جھُک گیّ؟ کیوں کِسی گیر مرد سے مینے سںبںدھ بنا لِئے۔ اَب میں ایک گرت مے گِرتی جا رہی تھی جِسکا کوئی اَںت نہی تھا۔مینے اَپنی بھاوناّوں کو کںٹرول کرنے کی ٹھن لی۔ اَگلے دِن مینے وِشال کو کوئی مؤکا ہی نہی دِیا۔ میں پُورے سمے سبکے ساتھ ہی رہی جِسّے وِشال کو مؤکا نا مِل سکے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اُنہوں نے کئی بار مُجھ سے اَکیلے مے مِلنے کی کوشِش کی مگر میں چُپ چاپ وہاں سے کھِسک جاتی۔ ویسے اُنہے زیادا مؤکا بھی نہی مِلپایا تھا۔ ہم تین دِن وہاں ایںجاے کرکے واپس لؤٹ آئے۔ ہنِمُون مے مینے اؤر کوئی مؤکا اُنہے نہی دِیا۔ کئی بار میرے بدن کو مسل زرُور دِیا تھا اُنہوں نے لیکِن جہاں تک سںبھوگ کی بات ہے مینے اُنکی کوئی پلینِںگ نہی چلنے دی نِمُون کے دؤران ہم مسُوری مے کھُوب مزے کِئے۔ پںکج تو بس ہر سمے اَپنا ہتھِیار کھڑا ہی رکھتا تھا۔ وِشال جی اَکسر مُجھسے مِلنے کے لِئے ایکاںت کی کھوج مے رہتے تھے جِسّے میرے ساتھ بیڈماسی کر سکے لیکِن میں اَکسر اُنکی چالوں کو سمجھ کے اَپنا پہلے سے ہی بچاو کر لیتی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِتنا پرِکاشن رکھنے کے باد بھی کئی بار مُجھے اَکیلے مے پکڑ کر چُوم لیتے یا میرے کانو مے پھُسپھُسا کر اَگلے پروگرام کے بارے مے پُوچھتے۔ اُنہے شاید میرے بُوبس سبسے زیادا پسںد تھے۔ اَکسر مُجھے پیچھے سے پکڑ کر میری چُوچِیو کو اَپنے ہاتھوں سے مسلتے رہتے تھے جب تک نا میں درد کے مارے اُنسے چھِتک کر اَلگ نا ہو جاُّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پںکج تو اِتنا شیتانی کرتا تھا کی پُوچّھو مت کافی سارے سنیپس بھی لِئے۔ اَپنے اؤر میرے کُچّھ اَںترںگ سنیپس بھی کھِںچوائے۔ کھیںچنے والیوِشال جی ہی رہتے تھے۔ اُنکے سامنے ہی پںکج مُجھے چُومتے ہُئے۔ بِستر پر لِٹا کر میرے بُوبس کو بلاُّس کے اُپر سے داںتوں سے کاٹتے ہُئے اؤر مُجھے اَپنے سامنے بِٹھا کر میرے بلاُّس کے اَںدر ہاتھ ڈال کرمیرے ستانو کو مسلتے ہُئے کئی پھوٹو کھیںچے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک بار پتا نہی کیا مُوڈ آیا میں جب نہا رہی تھی تو باتھرُوم مے گھُس آئے۔ میں تب سِرف ایک چھہوٹی سی پیںٹی مے تھی۔ وو کھُد بھی ایک پیںٹیپہن رکھے تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اِس پوز مے ایک پھوٹو لیتے ہیں۔&quot; اُنہوں نے میرے نگن بُوبس کو مسلتے ہُئے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;نن میں وِشلجی کے سامنے اِس ہالت مے؟…۔۔بِلکُل نہیں…۔۔پاگل ہو رہے ہو کیا؟&quot; مینے اُسے ساپھ منا کر دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَرے اِسمے شرم کی کیا بات ہے۔ وِشال بھیّا تو گھر کے ہی آدمی ہیں۔ کِسی کو بتاّیںگے تھوڑے ہی۔ ایک بار دیکھ لیںگے تو کیا ہو جاّیگا۔ تُمہے کھا تھوڑی جاّیںگے۔&quot;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/213003024708015408/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_3595.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/213003024708015408'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/213003024708015408'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_3595.html' title='موٹے لنڈ سے چدائی'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-7329245495242356425</id><published>2012-01-16T13:38:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:38:44.740-08:00</updated><title type='text'>گانڈ مارو لڑکیوں اور عورتوں کی</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;میری گذشتہ کہانی &quot;بیوی کی مدد سے شازیہ کا ریپ&quot; میں میری بیوی عروج نے آپ کو یہ تو بتایا تھا کہ میں نے اس کے ساتھ مل کر کیسے شازیہ کو چودا لیکن ساتھ ہی ساتھ عروج نے یہ بھی امیدرہ دیا تھا کہ میں نے بعد میں اس بچی کی گانڈ بھی پھاڑ ڈالی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جی دوستو! بات تو واقعتاً ایسے ہی ہے لیکن شازیہ کی گانڈ &quot;پھاڑنے&quot; کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ اسے زبردستی اور وحشیانہ انداز میں چدنے میں ہی مزا آتا ہے اور جب میں نے اور میری بیوی عروج نے مل کر اس کا ریپ کیا تھا تب بھی وہ بظاہر رو دھو رہی تھی لیکن دراصل مزے لے رہی تھی اور یہی وجہ تھی کہ جب میں نے پہلی بار اس کی گانڈ ماری تو بے حد وحشیانہ طریقے سے اور درد دے دے کر تا کہ وہ خوب مزے لے سکے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شازیہ کی حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن میں نے اپنی بیوی عروج کو جب پہلی بار گانڈ میں چودا تھا تو اس سے پہلے وہ اینل سیکس سے متنفر تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ شادی سے کافی عرصہ پہلے جب وہ ابھی بچی تھی یعنی 11 یا 12 سال کی کم سنی میں اس کے ایک رشتہ دار نے زبردستی اس کی گانڈ مار دی تھی اور وہ اس قدر درد کی شدت سے گزری تھی کہ بے ہوش تو خیر وہ ہو ہی گئی تھی لیکن نا صرف چدائی کے دوران بلکہ بعد میں بھی کئی دن تک پاخانے کے ساتھ اس کی گانڈ سے ہلکا ہلکا خون آتا تھا اور وہ چل پھر بھی نہیں سکتی تھی جسے اس نے ٹانگ میں چوٹ لگنے کے باعث پاؤں میں آنے والی موچ کا بہانہ کر کے گھر والوں سے چھپایا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لیکن میں تو ہمیشہ سے لڑکیوں کو بہت پیار سے اور گانڈ مروانے پر آمادہ کر کے سیکس کرنے کا قائل ہوں اور یہی میرا تجربہ ہے کہ اگر درست طریقے سے اور لڑکی کی رضامندی سے اس کی گانڈ ماری جائے تو اسے نہ صرف درد نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی اسے اسی طرح انجوائے کرتی ہے جیسے لڑکا یا مرد گانڈ مارتے ہوئے کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح میں نے عروج کو آہستہ آہستہ اینل سیکس پر آمادہ کر کے پہلی دفعہ اس کی گانڈ ماری اور یقین کریں کہ اس کے بعد وہ ہمیشہ خود اپنی مرضی اور خواہش سے تقریباً ہر تیسرے دن گانڈ مرواتی ہے اور اسے چوت کے ساتھ ساتھ گانڈ مروانے میں بھی بے حد لطف آتا ہے۔ میں آپ کو آج یہ بتاتا ہوں کہ میں نے کیسے عروج کی گانڈ ماری تھی کہ وہ فی الواقعہ گانڈ مروانے کی دیوانی ہو گئی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ سب نے بھی گانڈ مارنے اور مروانے پر بہت سی کہانیاں تو پڑھی ہی ہوں گی جن میں سے کچھ اچھی بھی ہوتی ہیں لیکن اکثر غلط اور جھوٹ ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ کہانی نہیں بلکہ کہانی نویس کی خواہش اور ہوس ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکی۔ گانڈ مارنے یا مروانے کی کہانیوں میں اس لطف انگیز سیکس یعنی (اینل سیکس) کا درست طریقہ کسی نے نہیں لکھا ہوتا جو پڑھنے والے لڑکے لڑکیوں کو اس گانڈ مارنے اور مروانے سے اصل زندگی میں عمل کر کے درست طور پر لطف اندوز ہونے کا ذریعہ بن سکے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر ان کہانیوں کو سچ سمجھا جائے تو گانڈ مارنا بہت آسان لگتا ہے۔ بس، لنڈ کے ٹوپے کو گانڈ کے منہ پر رکھو اور زور سے دھکّا لگاؤ- ہو گیا۔۔۔ لڑکی زور سے چلّائے گی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ &quot;اُو اُو اُو اُوئی مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری گانڈ پھاڑ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور تھوڑی دیر بعد اُسے مزا آنے لگے گا! لیکن در اصل ایسا نہیں ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے تقریباً ہر عمر کی بہت سی لڑکیوں اور عورتوں کی گانڈ ماری ہے اور میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ایسے گانڈ مارنا کہ دونوں فریق لطف اندوز ہوں، اتنا آسان نہیں ہے بلکہ میری نظر میں تو ایسے چوت لینا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا یہ لوگ گانڈ مارنا سمجھتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر آپ سچ مچ میں گانڈ مارنا چاہتے ہو اور آپ چاہتے ہو کہ لڑکی کو بھی اتنا ہی مزا آئے جتنا آپ کو آتا ہے اور وہ بار بار آپ سے گانڈ مروانے کی چاہت رکھے تو آپ کو میں صحیح طریقہ بتاتا ہوں۔ دھیان سے پڑھیے آپ کی خواہش پوری ہوگی۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِس طریقہ میں لڑکی کی گانڈ کی بات کی گئی ہے لیکن اگر آپ لڑکے کی گانڈ مارنا چاہتے ہیں تو بھی یہی کلیہ لاگو ہوگا کیونکہ گانڈ دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ضروری باتیں :&lt;br /&gt;گانڈ مارنے سے پہلے کچھ ضروری باتوں کا دھیان رکھنا ہوگا۔ اگر اِن باتوں کا دھیان رکھا گیا تو لڑکی کو بھی اتنا ہی مزا آئے گا جتنا آپ کو اور وہ آپ سے بار بار گانڈ مروانے کی کوشش کرے گی۔ اگر اِن ضروری باتوں کو نظر انداز کر دِیا تو ہو سکتا ہے آپ گانڈ کبھی مار ہی نہ پائیں !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لڑکی کی منظوری&lt;br /&gt;سب سے پہلے یہ بہت ضروری ہے کہ لڑکی گانڈ مروانے کے لیے راضی ہو۔ اس کے لیے آپ کو اُسے یہ بھروسا دِلانا ہوگا کہ آپ زبردستی نہیں کریں گے اور اگر کسی بھی وقت وہ منع کرتی ہے تو آپ رُک جائیں گے۔ لڑکی کو زیادہ درد نہیں ہونا چاہیے۔ درد کو کم کرنے کا طریقہ اِس کہانی میں آگے بتایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ کی بناوٹ&lt;br /&gt;گانڈ چدائی کے لیے نہیں بنی لہٰذا اس کی بناوٹ، پوزیشن اور ساخت ایسی ہے کہ مرد کا لوڑا آسانی سے اُس میں داخل نہیں ہو سکتا (جیسا کہ چوت میں ہو سکتا ہے)۔ اس لیے آپ کو گانڈ کی بناوٹ کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ کا کام جسم سے فضلہ باہر نکالنا ہے۔ گانڈ کے منہ کی طرف دو چھلے دار عضلات (رِنگ مسَلز) ہوتے ہیں جو کہ اپنی اِچّھا سے کھولے یا بند کِئے جا سکتے ہیں۔ ایک چھلّا بالکل منہ پر ہوتا ہے اور دوسرا تقریباً پون انچ اندر کی طرف ہوتا ہے۔ اِن عضلات کو آپ اپنی گانڈ میں محسوس کر سکتے ہیں۔ اپنی بیچ کی انگلی پر تیل یا کریم لگا کر اپنی گانڈ میں ڈالنے کی کوشش کریں۔ جو باہر کا مسل ہے وہ اپنے آپ سِمٹ کر سکڑ جائے گا کیونکہ اُس کا کام ہے باہر کی چیز کو اندر جانے سے روکنا ! اپنے آپ کو تھوڑا ریلکس کرو اور گانڈ کے مسل کو ڈھیلا کرو تو آپ کی انگلی تھوڑا اندر چلی جائے گی۔ اب آپ دوسرے مسل کو محسوس کر سکیں گے جو کہ آپ کی انگلی کو اور اندر نہیں جانے دے گا۔ اِس مسل کو بھی آپ ڈھیلا کر سکتے ہیں اور تھوڑی کوشش کے بعد آپ کی انگلی اس کے بھی پار ہو جائے گی۔ جب دوسرا مسل پار کر لیا تو پھر کوئی اور رُکاوٹ نہیں ہوگی اور آپ کی انگلی آسانی سے اندر جا سکتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ کے یہ مسلز کافی مظبوط ہوتے ہیں اور ان کو آسانی سے پار نہیں کِیا جا سکتا۔ خاص طور سے اگر لڑکی کی مرضی نا ہو تو۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ انگلی کے مُقابلے میں لنڈ کا گھیرا (سائیز) زیادہ ہوتا ہے، اِس باعث بھی گانڈ کے اندر ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;گانڈ کی ایک خاصیت ہے کہ چوت کی طرح اس میں کوئی مائع (لِکوِڈ) چیز کا اثر نہیں ہوتا۔ جب لڑکی سیکس کی لیے تیار ہوتی ہے تو اُس کی چوت میں اپنے آپ گیلاپن ہوتا ہے جس سے لنڈ کا دخول آسان ہو جاتا ہے۔ یہ اس عمل کا حصہ ہے کیونکہ چوت بنی ہی اِس کام کے لیے ہے۔ گانڈ میں کوئی ایسی چکناہٹ نہیں ہوتی اس لیے وہ ہمیشہ سوکھی ہی رہتی ہے۔ ایسی حالت میں لنڈ کے دخول سے نا کیول لڑکی کو درد ہوگا بلکہ پُرُش کو بھی مزا نہیں آئے گا۔ کچھ دیر کے بعد لنڈ میں بھی درد ہو سکتا ہے تو چُدائی کا مزا کِرکِرا ہو سکتا ہے۔&lt;br /&gt;گانڈ کے اِن عضلات کے اِرد گرد بہت سی نسیں ہوتی ہیں جن میں حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اِسی لیے گانڈ مروانے کے دوران لڑکی کو بھی بہت مزا آتا ہے، شرط یہ ہے کہ اُسے درد نا ہو۔ گانڈ ٹھیک سے نہ ماری جائے تو لڑکی کو بہت درد ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ کی بناوٹ سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ:&lt;br /&gt;1۔ گانڈ میں کوئی باہر کی چیز آسانی سے اندر نہیں جا سکتی۔&lt;br /&gt;2۔ گانڈ کے اندر کچھ بھی ڈالنے کے لیے گانڈ کے عضلات کو ڈھیلا کرنا ضروری ہے۔&lt;br /&gt;3۔ گانڈ کے مسلز کو لڑکی اپنی مرضی سے ڈھیلا یا ٹائٹ کر سکتی ہے۔&lt;br /&gt;4۔ گانڈ کو بیرونی چکناہٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;5۔ گانڈ میں نرو اینڈنگس ہوتی ہیں جس سے لڑکی کو گانڈ مروانے میں مزا آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بے شمار لڑکے اور لڑکیاں خوشی خوشی گانڈ مرواتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ کی تیاری&lt;br /&gt;کیونکہ گانڈ چدائی کے لیے نہیں بنی لہٰذا تو یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ اُسے اِس کام کے لیے تیار کریں۔ یہ تیاری فوراً نہیں ہو سکتی۔ اس میں 2-3 دِن سے لیکر 6-7 دِن تک لگ سکتے ہیں۔ جِتنی آرام سے تیاری کریں گے، لڑکی کو آپ پر اتنا ہی بھروسا بڑھے گا اور آپ کو بھی اتنا ہی سُکھ گانڈ مارنے میں مِلے گا۔ اس لیے جلدبازی مت کریں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ کی صفائی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر لڑکی نے منظوری دے دی ہے اور وہ گانڈ مروانے کا تجربہ کرنا چاہتی ہے تو اپنے آپ وہ اپنی گانڈ کو اچھی طرح سے صاف کرکے آئے گی۔ گانڈ اگر گندی ہوگی تو سارا مزا خراب ہو جائے گا۔ سب سے مزیدار طریقہ ہے جب آپ دونوں ایک ساتھ غسل کرو اور اِس دوران ایک دوسرے کے جنسی اعضاء کو سہلاؤ اور صاف کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ضروری سامان&lt;br /&gt;صاف بِستر&lt;br /&gt;1-2 سخت تکیے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;1-2 چھوٹے تولیے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;1 موٹی موم بتی (1۔5 – 2۔0 انچ چوڑی، 6-8 انچ لمبی)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;1 ٹیوب کے وائی جیلی / سرسوں کا تیل (تیل سے جیلی بہتر ہے)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ٹاڈالفل ٹیبلیٹ (گانڈ مارنے کے لیے لنڈ سخت ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کا لنڈ نرم ہے یا پوری طرح کھڑا نہیں ہے تو ایک ٹاڈالفل یا سِلڈنفل ٹیبلیٹ سِیلِس/وِیاگرا لے سکتے ہیں جیسے فورزیسٹ 10 یا فورزیسٹ 20۔ یہ گولیاں ڈاکٹر سے پوچھ کر ہی لینی چاہییں۔ اِس گولی کا اثر 24 سے 36 گھنٹے تک رہتا ہے۔ گانڈ مارنے سے 15-20 منٹ پہلے لے سکتے ہیں۔ کبھی بھی ایک گولی سے زیادہ نہ لیں!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کے وائی جیلی کی ٹیوب 90/ اور فورزیسٹ (20/ 10) کسی بھی کیمسٹ کی دُکان پر مِل جائے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آغاز&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دھیان رکھو کہ آپ کی انگلی کے ناخن بڑھے ہوئے نہیں ہیں اور ٹھیک طرح سے کٹے ہوئے ہیں۔ ناخن کے کِنارے تیز نہیں ہونے چاہیے، اُنہیں ٹھیک سے فائیل کر لو۔ اگر ناخن بڑھے ہوں گے تو جب انگلی لڑکی کی گانڈ میں ڈالوگے تو اُسے لگ سکتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لڑکی کو گانڈ کی بناوٹ کے بارے میں اور رِنگ مسَلز کو کِس طرح سے ڈھیلا یا ٹائٹ کر سکتے ہیں، کے بارے میں بتاؤ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب پیار سے لڑکی کے کپڑے اُتارو اور ایک صاف بِستر پر پیٹھ کے بل لِٹا دو۔ اُس کی ٹانگوں کو موڑ دو اور تھوڑا کھول دو۔ اب اُس کے چوتڑوں کے نیچے 1-2 سخت تکیے رکھ کر اُس کے چوتڑ اوپر کی طرف اُٹھا دو جس سے اُس کی چوت اور گانڈ صاف دِکھائی دے۔ خود بھی پوری طرح ننگے ہو جاؤ۔ اب اُس سے پیار بھاری باتیں کرو اور پُورے جسم کو سہلاؤ، خاص طور سے اُس کے گال، گردن، پستان، چُوچُک، پیٹ، رانیں اور ٹانگیں !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ دیر تک اُس کی چوت اور گانڈ کو ہاتھ نا لگائیں۔ تھوڑی دیر میں لڑکی کی چُوچی سخت ہو جائے گی اور وہ اپنی ٹانگیں اور کھول دے گی۔ اب اُس کی چوت کو پیار سے سہلانا شروع کرو جس سے وہ اُتّیجِت ہو جائے اور چوت میں سے پانی کا رِساو ہونے لگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب لڑکی چُدائی کے لیے تیار ہے پر ہمارا ارادہ اُس کی گانڈ مارنے کا ہے۔ اپنی ایک انگلی پر اچھی طرح سے کے وائی جیلی (یا سرسوں کا تیل) لگا کر لڑکی کی گانڈ کے منہ پر سہلاؤ۔ ابھی انگلی اندر ڈالنے کی کوشش نا کرو۔ اُسے اپنے عضلات باری باری ڈھیلے اور ٹائٹ کرنے کو کہو۔ آپ اپنی انگلی پر اُس کے رِنگ مسَلز کو محسوس کر سکوگے۔ لڑکی سے پیاری پیاری باتیں کرو اور اُس کو ریلکس ہونے کو کہو۔ تھوڑی دیر میں جب لڑکی ریلکس ہونے لگے گی تو اُس کی گانڈ بھی تھوڑی ڈھیلی ہو جائے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب اپنی انگلی پر تھوڑی اور جیلی لگا کر دھیرے دھیرے اُس کی گانڈ کے اندر دھکیلو۔ اگر لڑکی گانڈ کو ٹائٹ کر لے تو پھر اُسے یقین دِلاؤ کہ اُسے درد نہیں ہونے دوگے۔ ضرورت ہو تو انگلی باہر نکال لو اور اُس کی چوت، رانیں اور مموں کو پیار سے سہلاؤ۔ جب لڑکی دوبارہ ریلکس ہو جائے تو انگلی پر جیلی لگا کر ایک بار اور گانڈ میں ڈالنے کی کوشش کرو، جلدبازی نہیں کرنا۔ گانڈ کی بیرونی رِنگ مَسَل کو دھیرے دھیرے ڈھیلا کر کے انگلی کو تقریباً آدھا انچ اندر ڈال دو۔ اب دھیرے دھیرے انگلی کو آدھا انچ تک اندر باہر کرو۔ دیکھو کہ لڑکی کو درد نہیں ہو رہا ہے۔ اگر لڑکی خوش نہیں ہے تو انگلی اندر رکھ کر رُک جاؤ اور تھوڑی دیر بعد پھر شروع کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر لڑکی خوش ہے تو دھیرے دھیرے انگلی کو اور اندر کرو۔ کچھ دور تک تو انگلی اندر چلی جائے گی پر پھر ایسا لگے گا جیسے آگے کوئی رُکاوٹ ہے۔ یہ اُس کی گانڈ کی دوسری رِنگ مَسَل ہے۔ اس کو پار کرنے کی لیے ایک بار پھر لڑکی کو رِنگ مَسَل ڈھیلا کرنے کے لیے بولو۔ (اِس وقت لڑکی کو اپنی گانڈ پر نیچے کے طرف زور لگانا چاہیے جیسا کہ پاٹی کرتے وقت لگاتے ہیں، ایسا کرنے سے رِنگ مَسَل کھُل جائے گی اور آپ اپنی انگلی اُس کے پار لے جا سکتے ہیں)۔ اگر لڑکی ریلکس نہیں کرتی ہے تو آپ کو صبر کرتے ہوئے دھیرے دھیرے انگلی سے اُس کے رِنگ مَسَل کو کھولنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ یاد رہے۔۔۔ کوئی کام جلدبازی میں نہ کرو۔ دیکھا جائے تو اِس کام میں بھی آپ کافی مزا لے سکتے ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کسی بھی وقت اگر لڑکی کو تکلیف ہونے لگے تو انگلی فوراً باہر نکال لو اور اُس کو پیار کرو۔ اُسے یہ پُورا یقین ہونا چاہیے کہ گانڈ مارتے ہوئے آپ اُسے تکلیف نہیں دوگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب انگلی دوسری رِنگ مَسَل کو پار کر جائے تو آپ کی انگلی نے منزل پا لی ہے۔ اب آپ آرام سے انگلی کو جتنا اندر ڈالنا چاہو ڈال سکتے ہو۔ دھیان رہے کہ انگلی پر جیلی یا تیل اچھی طرح لگا ہو۔ اگر سوکھ گیا ہے تو انگلی باہر نِکل کر دوبارہ لگا لو اور پھر سے دھیرے دھیرے اندر ڈالو۔ اگر ایک بار انگلی اندر چلی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب ہمیشہ آسانی سے چلی جائے گی۔ گانڈ کے مسلز تو پھر سے بند ہو گئے ہوں گے، اس لیے ہر بار گانڈ میں دھیرے دھیرے اور پیار کے ساتھ ہی دخول کرنا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب آپ کی ایک انگلی گانڈ کے اندر باہر جانے لگے اور لڑکی کو تکلیف نہیں ہو رہی ہو تو آپ یہی عمل دو انگلیوں پر جیلی لگا کر کوشش کرو۔ اس میں شروع میں تھوڑی مشکل ہوگی کیونکہ گانڈ کا چھید چھوٹا ہوتا ہے۔ ایک انگلی تو چلی جاتی ہے پر دو انگلیاں موٹی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ کام بھی پیار سے اور آہستگی سے ہو جائے گا۔ آپ محسوس کروگے کہ جیسے جیسے لڑکی کو آپ پر بھروسا بڑھے گا وہ اِس کام میں آپ کو سہولت دے گی اور تھوڑا بہت درد بھی برداشت کرنے لگے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب آپ کی دو انگلیاں پوری طرح اندر چلی جائیں تو دھیرے دھیرے انگلیوں کو دونوں طرف گھُمانا شروع کرو، اس سے گانڈ کا پُورا چھید ڈھیلا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ انگلیوں کو اندر باہر بھی کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہو سکتا ہے اتنا سب کچھ کرنے کے بعد آپ دونوں تھک گئے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو انگلیاں باہر نکال لو اور آپ دونوں کچھ اور کاروائی کر سکتے ہو۔ اگر لڑکی خوش ہے تو وہ آپ کے لنڈ کو منہ میں لے کر چُوس سکتی ہے جس سے آپ کے تنے ہوئے لنڈ کو آرام مِلے گا۔ یہ میں اِس لیے کہن رہا ہوں کیونکہ انگلی کرنے کے چکّر میں آپ کا لنڈ ضرور تیار ہو گیا ہوگا۔ پر ابھی منزل بہت دور ہے اور آپ کو آہستگی سے کام کرنا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو لڑکی گانڈ مروانے کے لیے تیار ہوگی وہ لنڈ تو چُوس ہی لیتی ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چلیے، آپ دونوں نے آرام کر لِیا۔ اب آگے بڑھتے ہیں !&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب ایک موٹی موم بتی لو جسکا گھیرا آپ کے تنے ہوئے لنڈ کے برابر ہو۔ اس کی لمبائی 6 انچ سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ موم بتی کو اچھی طرح چکنا کر لو۔ موم بتی کا سِرا تیز (شارپ) نہیں ہونا چاہیے۔ اُسے چاقو سے چھیل کرکے لنڈ نُما شیپ دے دو۔ اب آگے کے 3-4 انچ پر اچھی طرح سے جیلی لگا لو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک بار پھر لڑکی کو ریلکس ہونے کے لیے بولو اور اُس کی گانڈ کے اندر اور باہر بھی اچھی طرح سے جیلی لگا دو۔ کبھی بھی جیلی لگانے میں کنجوسی نا کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب موم بتی کا سِرا گانڈ کے منہ پر رکھ کر دھیرے دھیرے اندر ڈالنے کی کوشش کرو۔ شروع میں مشکل ہوگی۔ اگر ضرورت ہو تو گانڈ میں ایک انگلی ڈال کر اُس کی دونوں رِنگ مسَلز کو ڈھیلا کر لو۔ لڑکی کو بھی گانڈ ڈھیلی کرنے کو کہو۔ جب موم بتی تقریباً آدھا انچ اندر چلی جائے تو ایک دو بار اتنا ہی اندر باہر کرو۔ لڑکی کے امیدروں کا دھیان رکھو کہ اُسے کوئی تکلیف تو نہیں ہو رہی۔ اُس سے باتیں کرتے رہو۔ جب لڑکی آدھا انچ تک اندر باہر کو برداشت کرنے لگے تو آپ موم بتی کو گھُماتے ہوئے اور اندر ڈالنے کی کوشش کرو۔ (دیکھ لو کہیں جیلی سوکھ نہ گئی ہو۔ اگر ضرورت ہو تو مزید لگا لو)۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;موم بتی تھوڑا اور اندر جائے گی اور پھر رُک جائے گی۔ اب تو آپ کو معلوم ہے یہ کیوں رُکی ہے، دوسری رِنگ مَسَل سامنے ہے۔ لڑکی کے پستانوں کو چُومو اور اُس کی چوت کو سہلاؤ۔ ساتھ ہی اُسے ریلکس کرنے اور گانڈ کو ڈھیلا کرنے کو کہو۔ جیسے ہی وہ گانڈ کو ریلکس کرے گی، موم بتی آرام سے اندر چلی جائے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب تھوڑا انتظار کرو جس سے لڑکی موم بتی کی موٹائی کو اپنی گانڈ میں محسوس کر سکے اور اُس کا جسم اِس نئے احساس کو سمجھ سکے۔ تھوڑی دیر کے بعد موم بتی کو دھیرے دھیرے اندر باہر کرنا شروع کرو۔ باہر کرتے وقت لڑکی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی پر اندر کرتے وقت آپ کو دھیان رکھنا ہوگا کہ جلدبازی نہ ہو۔ اگر جیلی کم ہو گئی ہو یا سوکھ گئی ہو تو اور لگا لو۔ اِس طرح موم بتی سے آپ اُس کی گانڈ کو چودنا شروع کرو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دھیرے دھیرے لڑکی کی تکلیف کم ہو کر ختم ہو جائے گی اور وہ مزا محسوس کرنے لگے گی۔ اب آپ 4-5 انچ تک موم بتی اندر باہر کر سکتے ہو۔ جب تک لڑکی چاہے اُسے موم بتی سے چودتے رہو اور پھر دھیرے دھیرے موم بتی کو باہر نکال لو۔ یہ کام بھی دھیرے دھیرے ہی کرنا چاہیے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری رائے میں آپ کو یہ انگلی اور موم بتی والا عمل دو تین دِن تک کرنا چاہیے۔ ویسے بھی اب تک آپ دونوں تھک گئے ہوں گے اور صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;امید ہے آپ نے دو تین دِن تک بتایا ہوا عمل کر لیا ہے اور اب لڑکی اپنی گانڈ کے مسلز کو ڈھیلا اور ٹائٹ کرنا سیکھ گئی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ مارنا&lt;br /&gt;مُبارک ہو! اب آپ کی ساتھی لڑکی گانڈ مروانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ جس دن کا انتظار تھا وہ آخر آ ہی گیا۔ امید ہے آپ بھی تیار ہوں گے۔ گانڈ مارنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا لنڈ مظبوطی سے کھڑا ہو۔ ویسے تو پہلی بار گانڈ مارنے کے تصور سے آپ کا لنڈ اپنے آپ ہی تنا ہوا ہوگا لیکن اگر ایسا نہیں ہے (اور آپ کے ڈاکٹر کی طرف سے آپ کو اجازت ہے) تو آپ فورزیسٹ 10 یا 20 کی ایک گولی تقریباً 30 منٹ پہلے لے سکتے ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر لڑکی بھروسے والی نہیں ہے تو کنڈوم کا استعمال ضرور کرو کیونکہ ایچ آئی وی کا خطرہ گانڈ مارنے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک دوسرے کو جانتے ہو اور ایک دوسرے پر بھروسا ہے تو کنڈوم کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک ضروری بات اور ہے- کبھی بھی گانڈ مارنے کے دوران یا اُس کے ایکدم بعد، آپ نے لنڈ کو لڑکی کی چوت میں نہیں ڈالو۔ ایسا کرنے سے لڑکی کو چوت میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اگر چوت مارنی ہے تو پہلے لنڈ کو اچھی طرح سے دھو لو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ مارنے کی پوزیشنز&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ مارنے کی دو پوزیشن ہیں۔ اِن دو بنیادی پوزیشنز کے کئی انداز ہو سکتے ہیں جو آپ اپنے آپ بنا سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آسن 1&lt;br /&gt;اس میں لڑکی پیٹھ کے بل لیٹی ہوتی ہے جیسا اِس کہانی کے شروع میں بتایا گیا ہے اور اُس کے چوتڑ کے نیچے تکیے رکھے جاتے ہیں جس سے اُس کی گانڈ اوپر اُٹھ جائے۔ اس کو مِشنری پوزیشن یا مین سُپیریئر پوزیشن بھی کہتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آسن 2&lt;br /&gt;اس میں لڑکی اپنے گھُٹنے اور ہاتھوں پر ہوتی ہے اور اُس کی گانڈ کی اونچائی آپ اپنےحساب سے اوپر نیچے کر سکتے ہو۔ کچھ لڑکیاں اپنا سر نیچے بِستر پر ٹِکا دیتی ہیں اور گانڈ اوپر کی طرف اُٹھا دیتی ہیں۔ اس کو ریئر ایٹرآی یا ڈوگی سٹائل بھی کہتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دونوں ہی پوزیشنز ٹھیک ہیں اور آپ کو جو اچھی لگے اُسے استعمال کرو۔ پہلی پوزیشن میں لڑکی آرام سے ہوتی ہے اور آپ اُس کے پستان اور چوت کو دیکھ اور سہلا سکتے ہو۔ لڑکی بھی آپ کو دیکھ سکتی ہے۔ آپ ایک دوسرے کو کِس کر سکتے ہو لیکن لنڈ پُورا اندر نہیں جا پاتا۔ دوسری پوزیشن میں لڑکی جلدی تھک جاتی ہے اور آپ کو دیکھ نہیں سکتی۔ آپ بھی اُس کی چوت اور مموں کو نہیں دیکھ سکتے نا ہی ٹھیک سے سہلا سکتے ہو۔ لیکن اِس پوزیشن میں لنڈ زیادہ اندر تک جا سکتا ہے۔ اس میں لڑکی بھی پیچھے کی طرف دھکّا دے کر لنڈ کو دخول میں مدد کر سکتی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چلیے، اب گانڈ مارتے ہیں!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لڑکی کو پہلے کی طرح آرام دہ پوزیشن میں بِستر پر لِٹا دو۔ اُس کے پُورے بدن کو اچھی طرح سے پیار کرو اور اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرو۔ اُس کے پُورے جسم کو سہلاؤ اور چُومو۔ اُس کی چوت جب گیلی ہو جائے تو اُسے انگلی سے تھوڑی دیر تک چودو اور اُس کے دانے کے اِرد گرد سہلاؤ۔ کچھ دیر میں لڑکی چُدائی کے لیے تیار ہو جائے گی۔ اب پہلے کی طرح جیلی لگا کر شروع میں ایک اور پھر دو انگلیوں سے اُس کی گانڈ کو تیار کرو۔ لڑکی اب تیار ہے، امید ہے آپ کا لنڈ بھی تیار ہوگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب پہلی بار گانڈ مارنی ہو تو میری رائے میں دوسری والی پوزیشن استعمال کرنی چاہیے (ڈوگی سٹائل) جس سے لڑکی آپ کی مدد کر سکے اور لنڈ کے دخول کو کنٹرول کر سکے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو لڑکی کو ڈوگی سٹائل میں آنے کو کہو اور اُس کے چوتڑ کی اونچائی کو آپ نے لنڈ کی اونچائی کے حساب سے اُوپر نیچے کرو۔ اُس کا سر آرام سے بِستر پر رہ سکتا ہے۔ آپ نے پُورے لنڈ پر خوب اچھی طرح سے جیلی لگا لو اور لڑکی کی گانڈ کے اندر باہر بھی جیلی اچھے سے لگا لو۔ ایک بار پھر دو انگلیوں سے اُس کی گانڈ کو ڈھیلا کر لو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب آپ نے لنڈ کے ٹوپے کو گانڈ کے چھید پر رکھو اور دھیرے سے اندر کے طرف دھکیلو۔ اگر آپ کا لنڈ موم بتی سے بڑا ہے تو آہستگی سے کام لو۔ دھیرے دھیرے، پیاری پیاری باتیں کرتے ہوئے اور ایک ہاتھ سے اُس کی چوت کو سہلاتے ہوئے آپ نے لنڈ کو گانڈ میں دھکیلتے رہو۔ لڑکی کو اپنی گانڈ ڈھیلی کرنے کے لیے یاد دِلاتے رہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک بات اور ہے، جب ہم گانڈ کے مسل کو ڈھیلا کرتے ہیں تو وہ صرف ایک لمحے (سیکنڈ) کے لیے ہوتی ہے اور پھر ٹائٹ ہو جاتی ہے۔ اُس کو اپنی مرضی سے ہم زیادہ دیر تک ڈھیلا نہیں رکھ سکتے۔ آپ اِس بات کو اپنی گانڈ میں خود انگلی ڈال کر محسوس کر سکتے ہو۔ اس لیے آپ اور لڑکی کے بیچ ملاپ کی ضرورت ہے۔ جب آپ اندر کو دھکیلو، تبھی لڑکی گانڈ ڈھیلی کرے نہیں تو فائدہ نہیں ہوگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر گانڈ کا چھید نا کھلے تو انگلی یا موم بتی کا استعمال پھر کرو اور لڑکی کو ریلکس کرنے کو کہو۔ اِس بات کا دھیان رکھو کہ لنڈ کا گھیرا کافی زیادہ ہوتا ہے اور پہلی بار آسانی سے گانڈ میں نہیں جاتا ہے۔ جیلی لگی ہونے کے باعث لنڈ پھسلتا بھی رہتا ہے اور گانڈ میں نہیں جا پاتا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تھوڑی کوشش کے بعد آپ کا لنڈ تقریباً 1/4 انچ اندر چلا جائے گا۔ یہاں پر رُک جاؤ اور لڑکی سے پُوچھو اُسے کیسا لگ رہا ہے۔ اگر اُسے درد ہو رہا ہو تو لنڈ باہر نکال لو، ہو سکتا ہے آپ کا لنڈ کافی بڑا ہو۔ یہ تو آپ کے لیے خوش خبری ہے! یا پھر لڑکی کو ڈر لگ رہا ہو گا!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لڑکی سے دوبارہ پُوچھو کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ زیادہ تر لڑکیاں آپ کو دوبارہ کوشش کرنے کو کہیں گی۔ اگر نا بھی کہے تو بھی آپ دھیرج رکھو اور کچھ دیر اور موم بتی والا عمل کرو۔ میں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ میرے طریقے پر چلوگے تو کوئی بھی لڑکی آپ سے گانڈ مروانے کے لیے منع نہیں کرے گی۔ میرے تجربے میں اچھی طرح سے ماری ہوئی گانڈ میں لڑکیوں کو چوت مروانے سے بھی زیادہ مزا آتا ہے۔ گانڈ کی بیرونی اور اندر کی رِنگ مسَلز کے ارد گرد بہت نرو اینڈنگس ہوتی ہیں جن میں بے حد حساسیت ہوتی ہے جس سے گانڈ مروانے کے دوران لڑکی کو بہت مزا آتا ہے۔ آپ آہستگی سے کام لو۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تھوڑی دیر رُکنے کے بعد ایک بار پھر لنڈ کو گانڈ کے چھید پر رکھ کر اندر ڈالنے کی کوشش کرو۔ جیلی لگانا نہیں بھُولنا اور جلدبازی نہیں کرنا۔ (مجھے معلوم ہے آپ کے لنڈ کا صبر ختم ہو رہا ہوگا۔ اگر آپ سے اور نا رُکا جائے تو چوت میں ڈال کے ڈسچارج کر لو۔ فکر مت کرو آپ کا لنڈ پھر تیار ہو جائے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب لنڈ پہلی رِنگ مَسَل کو پار کر لے تو تھوڑی دیر رُک جاؤ اور لڑکی کو ریلکس کرنے کو کہو۔ اُس کو بتاؤ کہ اب آپ لنڈ کو اور اندر نہیں کروگے۔ لڑکی خود پیچھے کی طرف دھکّا لگا کے لنڈ کو جتنا چاہے اندر کرے گی۔ اب کنٹرول لڑکی کے پاس ہے اور آپ کو اُسے تکلیف پہنچنے کی فکر نہیں کرنی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب کنٹرول لڑکی کے پاس آ جاتا ہے تو آپ کو حیرت ہوگی کہ وہ کتنی آسانی سے وہ آپ کے لنڈ کو اندر لے لیتی ہے۔ آپ کو بھی لڑکی کی ٹائٹ گانڈ کا پہلی بار تجربہ ہوگا۔ آپ کا لنڈ بالکل ٹائٹ شکنجے میں جکڑا جائے گا اور آپ کو لطف محسوس ہوگا۔ زیادہ تر لوگ اس سے زیادہ روک نہیں پاتے اور کلائمکس کر جاتے ہیں۔ اگر آپ اصل لطف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کچھ دیر تک لنڈ کو پوری طرح اندر رہنے کا مزا اُٹھانے دو، پھر دھیرے دھیرے لنڈ کو باہر کی طرف نکالنے کی کوشش کرو۔ لڑکی کی گانڈ آپ کے لنڈ کو کس کے پکڑ لے گی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ کا لنڈ آسانی سے باہر نہیں آئے گا۔ تقریباً آدھا انچ باہر نکال کر پھر دھیرے دھیرے اندر کرو۔ یہ عمل 3-4 بار کرو۔ ہر بار اندر دھیرے دھیرے ہی کرنا ہے۔ لڑکی کو پُوچھو کہ اُسے کیسا لگ رہا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہے تو اب تقریباً ایک انچ تک اندر باہر کرنا شروع کرو۔ ابھی بھی دھیرے دھیرے ہی! پھر لڑکی سے پُوچھو اُس کا حال کیسا ہے۔۔۔ اگر وہ خوش ہے تو اور زیادہ اندر باہر کرنا شروع کرو۔ کوشش کرو کہ لنڈ اندر کی رِنگ مَسَل کے باہر نہ نےلا پائے۔ اگر اُس سے باہر نِکل جائے گا تو آپ کو پھر سے دھیرے دھیرے اندر ڈالنا پڑے گا اور لڑکی کو بھی مدد کرنی ہوگی۔ (پر اِس میں آپ کو مزا بھی بہت آئے گا) اِس طرح دھیرے دھیرے آپ 3-4 انچ اندر باہر کر پاؤگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر اب تک بھی آپ کا کلائمکس نہیں ہوا ہے اور لڑکی کو بھی تکلیف نہیں ہو رہی ہے تو دھیرے دھیرے اپنا سٹروک بڑا کرتے رہو، دھیان رکھو کہ جیلی سوکھ نا گئی ہو۔ ضرورت ہو تو اور لگا لو اور پھر سے شروع ہو جاؤ۔ ایک وقت آئے گا جب لڑکی پوری طرح سے ریلکس ہو جائے گی اور آپ کا لنڈ بِنا مشکل کے پُورا اندر باہر ہونے لگے گا۔ لڑکی کو درد نہیں ہوگا اور وہ آپ کے ساتھ مزا لینے لگے گی۔ وہ اپنے آپ اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کرنے لگے گی اور چاہے گی کہ یہ چُدائی ختم نا ہو۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب آپ کا کلائمکس ہو جائے تو آرام سے لنڈ باہر نکال لو اور لڑکی کو اچھی طرح سے پیار کرو۔ اس نے درد سہہ کر بھی آپ کو اِتنی خوشی دی ہے۔ اگر لڑکی کا کلائمکس نہیں ہوا ہے تو اُس کی چوت اور دانے کو سہلا کر اُس ڈسچارج کرواؤ۔ پھر ایک دوسرے کی بانہوں میں جِتنی دیر تک لیٹ سکتے ہو لیٹے رہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب اگلی بار اُسی لڑکی کی گانڈ مارنی ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ اب تو اُس کی گانڈ ہمیشہ کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ جب تک 7-8 بار اُس کی گانڈ نہیں مار لوگے، آپ کو احتیاط سے ہی کام لینا پڑے گا۔ یہ ضرور ہے کہ پہلی بار گانڈ مارنے کے مُقابلے میں بعد کے مارنے میں تھوڑا فرق تو آ جاتا ہے، پر اتنا نہیں آتا کہ لڑکی کو تکلیف نہ ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگر آپ کچھ عرصے (1-2 مہینے) کے بعد دوبارہ گانڈ مارنے لگتے ہو تو آپ کو پورا طریقِ کار از سرِ نو اختیار کرنا پڑے گا جو یہاں بتایا گیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور مزید مزا دینے کے لیے لڑکی اپنے مسلز کے ذریعے آپ کے لنڈ کو جکڑ سکتی ہے اور ڈھیل دے سکتی ہے۔ اس سے آپ کا لنڈ زیادہ دیر تک تنا رہ سکتا ہے اور آپ کو مزا بھی زیادہ آئے گا۔ جب آپ کا لنڈ پوری طرح اندر ہو تو لڑکی کو گانڈ کے عضلات کسنے اور ڈھیلا کرنے کو کہو اور اندر باہر کرو۔ یہ کام چوت سے بھی ہو سکتا ہے پر گانڈ کی بات ہی اور ہے!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گانڈ مارنے کے فائدے&lt;br /&gt;گانڈ مارنے کے بہت فائدے ہیں:&lt;br /&gt;1۔ دونوں کو زیادہ مزا آتا ہے کیونکہ گانڈ چوت کے مُقابلے زیادہ ٹائٹ ہوتی ہے اور اس کو زیادہ تر لوگ نہیں کر پاتے ہیں۔&lt;br /&gt;2۔ بچّے ہونے کا ڈر نہیں ہوتا۔&lt;br /&gt;3۔ ماہواری کے ایام کے دوران بھی اس کا مزا لے سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پتا نہیں زیادہ تر لڑکیاں گانڈ کیوں نہیں مرواتیں! زیادہ تر لڑکیاں اِس مزے کو برداشت نہیں کر پاتی ہیں کیونکہ ہم مرد صحیح طریقہ نہیں جانتے اور شروع میں ہی اُنہیں بہت زیادہ درد کا احساس کرا دیتے ہیں۔ اُن بیچاری لڑکیوں کو پتا ہی نہیں کہ وہ کیا کھو رہی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;امید ہے آپ کو میری یہ کہانی پسند آئی ہوگی۔ آپ ان طریقوں کا استعمال کرو اور بتاؤ کہ آپ کو مزا ملا یا نہیں اور لڑکی کو کیسا لگا۔ اگر کوئی لڑکی گانڈ مروانے کو بالکل راضی نہیں ہو تو اُسے یہ کہانی پڑھنے کو کہو۔ مجھے پُورا بھروسا ہے کہ اگر وہ آپ سے پیار کرتی ہے تو ضرور راضی ہو جائے گی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/7329245495242356425/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_4898.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/7329245495242356425'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/7329245495242356425'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_4898.html' title='گانڈ مارو لڑکیوں اور عورتوں کی'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-8240039175168544450</id><published>2012-01-16T13:37:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:37:43.494-08:00</updated><title type='text'>بھابھی کی چُوت کی پُوجا</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: georgia; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;میرا نام اَمِت ہے۔ میری کںپیُوٹر سافٹویر اور ہارڈویّر کا پھیس ہے گُجرات میں۔ میں اؤر میرے گھر والے بہُت ہی سِمپل ہیں۔ اِس لِئے میرا سوبھاو ایک اَچّھے لڑکے کی ترہ ہے۔ پر کیا پتا ایک دِن میری زِںدگی ہی بدلنے والی تھی۔ وو زِںدگی ایک بھابھی نے اؤر اُسکی سہیلی نے بدل دی۔ اُس بھابھی کا نام پُشپا بھابھی تھا۔ میںنے کبھی اُسے نہیں دیکھا تھا پر پُشپا بھابھی سب کُچھ میرے بارے میں جانتی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک دِن میرے پھیس مے اُسکا پھون آیا اؤر کہنے لگی یُو آر اَمِت، میںنے کہا یس ہاں بولِئے کیا کام ہے؟ اُسنے کہا کے میرے گھر کا کںپیُوٹر کھراب ہو گیا ہے، پہلے میں نے بھابھی سے کہا کِ میرا نںبر کیسے مِلا تُمہیں، تب بھابھی نے کہا کبھی کبھار میں تُمہارے پھیس کے راستے سے جاتی ہُوں، تب تُمہارے پھیس کا نںبر مُجھے تُمہارے پھیس کے بورڈ پر سے مِلا، اؤر میںنے کانٹیکٹ کِیا تُمسے، میںنے کہا اَچّھا کل میں آ جاتا ہُوں، بھابھی بولی نہیں اَبھی آنا ہوگا، میںنے کہا جی اَبھی نہیں اَبھی رات کے 8 بجے ہے تو میں کل آ جاُّوںگا۔ اؤر کہنے لگی کے مُجھے آج کںپیُوٹر میں کُچھ زرُوری کام ہے۔ اِس لِئے تُمہیں اَبھی ہی آنا ہوگا، میںنے کہا جی اَبھی نہیں اَبھی رات کے 8 بجے ہے تو میں کل آ جاُّوگا، پر وو بھابھی نہیں مانی، کہنے لگی کے مُجھے آج کںپیُوٹر میں کُچھ زرُوری کام ہے۔ پھِر مُجھے بھی اُس کی بات مانّی پڑی۔ اؤر کہا اوکے ایڈریس بتاّو، پھِر اُسنے اَپنا پتا بتایا تو وو ٹھیک میری بِلڈِںگ کے پاس والی بِلڈِںگ تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں وو پتے پر گیا پھِر مینے کںپیُوٹر کو دیکھا تو اُسکا پیچھے کا وایر لُوج تھا۔ پھِر میںنے اُسے ٹھیک کر دِیا۔ وو کںپیُوٹر چالُو ہو گیا۔ باد میں میںنے کہا اَب میں چلتا ہُوں مُجھے گھر جانا ہے۔ کافی دیر ہو گیی ہے۔ پر بھابھی نے مُجھے کہا کِ اَب گھر نہیں جاّو۔ یہاں آج سو جاّو، اؤر میں بھی اَکیلی ہُوں تو آج مُجھے سونے میں اَچّھا لگے، تب میںنے ن کہ دِیا کِ نہیں میں یہاں نہیں سواُوںگا، پر اُسنے مُجھسے زیادا رِکویسٹ کِیا اؤر کہنے لگی کِ میرے پتِ 15 دِن کے لِئے آاُٹ پھ سٹیٹ گیے ہیں، اؤر مُجھے بھی اَکیلا مہسُوس ن ہو، اؤر مُجھے سونے کے لِئے بہُت منایا، پھِر میںنے کہا نہیں میرے گھر والے بھی میرا اِںتجار کرتے ہوںگے، باد میں بھابھی کہنے لگی کِ تُم گھر پر پھون کر کے کہ دو کِ آج پھیس میں کام ہونے کے کارن میں آج نہیں آ پاُّںگا۔ اؤر میںنے گھر پر پھون کر دِیا۔ اؤر باد میں میںنے بھابھی سے کہا اَرے میرے پاس تو نائیٹ ڈریس بھی نہیں ہے اؤر بھابھی اُسکے رُوم میں جاکے پیزاما لے کے آئی اؤر کہنے لگی کِ یہ پہن لو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں باتھرُوم میں جاکے پھریش ہوکے پیزاما پہن کے باہر آیا۔ باد میں میں کہنے لگا کِ کںپیُوٹر چالُو ہے اُسے بںد کر دو اَب اِتنی دیر کیوں چالُو رکھا ہے، بھابھی کہنے لگی کِ مُجھے اُس پر اَبھی کام ہے۔ میںنے کہا کِ کیا کام ہے، اُسنے کہا کِ میں روز رات کو بلُو پھِلم دیکھتی ہُوں اؤر بھابھی مُجھے سے کہنے لگی کِ کیا تُمہیں پسںد ہے بلُو پھِلم۔ میںنے کہا نہیں مُجھے بِلکُل نہیں پسںد ہے بلُو پھِلم۔ میں نیںد کا بہانا کر کے کہا مُجھے نیںد آنے لگی ہے مُجھے سونا ہے۔ تُم دیکھو۔ بھابھی مُجھے سونے کا بیڈ دِکھایا اؤر کہا یہاں سو جاّو اؤر میں بیڈ پر لیٹ گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;باد میں زرا اُٹھ کر دیکھا کِ آخِر بھابھی کیا کر رہی ہے تو، سچ میں بھابھی ایک ایڈلٹ بلُو سیکسی پھِلم دیکھ رہی تھی۔ مُجھے اُسمیں اِںٹریسٹ نہیں تھا اِس لِئے میں واپس بیڈ پر آکے لیٹ گیا۔ تھوڑے ٹائیم کے باد میں دیکھا کے میرے پیزاما پر کُچھ کوئی میرے لںڈ کو سہلا رہا ہے۔ میںنے آںکھے کھول کر دیکھا تو بھابھی میرے پاس آکر سوئی ہُئی تھی۔ میں گھبرا گیا۔ میں سونے کی ایکٹِںگ کر رہا تھا۔ تب تھوڑی دیر دیکھتا رہا تو وو اؤر بھی جوش میں آکے میرا لںڈ کو زور زور سے سہلانے لگی۔ تھوڑی دیر باد وو دھیرے دھیرے میرے پیزامے میں ہاتھ ڈالنے لگی۔ جیسے میںنے اُٹھنے کی کوشِش کی اؤر میں بھابھی کو کہنے لگا کِ یہ کیا کر رہی ہو تو، بھابھی کہنے لگی کِ مُجھے بہُت سیکس چڑھ گیا ہے، مُجھے تُمسے چُدوانا ہے، میںنے کہا نہیں میں یہ کام نہیں کرُوںگا، میںنے کِسی کو یہ ن کرنے کا وادا کِیا ہے، اُس پر بھابھی کہنے لگی اوکے مُجھے مت چودنا پر مُجھسے کھیل تو سکتے ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تب بھی میں کہا پلیز مُجھے یہ سب بھی پسںد نہیں ہے، تب بھابھی تھوڑا گُسّا کر کے کہا اَگر یہ بھی مُجھسے نہیں کِیا تو میں پُورے بلڈِںگ والے کو جگا دُوںگی کِ تُم میرے گھر جبرجستی آئے ہو، اؤر مُجھے پریشان کرتے ہو، تب میں اؤر گھبرا گیا۔ پر بھابھی سیکسی پھِلم دیکھ کر بہُت ہی گرم ہو گیی تھی۔ اِسلِئے وو نہیں مان رہی تھی اؤر میںنے بھابھی کو کہا کِ اَگر تُمنے مُجھے اَب چھُآ تو میں یںہا سے چلے جاُّوںگا۔ باد میں بھابھی بھی کہنے لگی کے اوکے تب میںنے کہا اوکے سِرف تُم میرے ساتھ کھیل سکتی ہو پر میں تُمہیں نہیں چود سکتا۔ اُسنے کہا ٹھیک ہے۔ بھابھی اَپنے کپڑے پُوری ترہ سے نِکال دِیا اؤر میرا وائیٹ ٹی - شرٹ اُتار لِیا۔ وو مُجھسے کہنے لگی کِ اَب میرے یے بُوبس کے نِپّل کو تھوڑا اَپنے ہاتھ کے اُںگلی سے مسل اؤر میں مچلنے لگا۔ اؤر باد میں کہا اَپنا مُںہ زرا میرے مُںہ کے پاس لاّو، جب میں میرا مُںہ اُسکے کریب لے گیا تو اُسنے اَپنے ہاتھ سے میرا سر پکڑکے اُسکا مُںہ میرے مُںہ سے کِس کرنے لگا، اؤر وو زور زور سے سمُوچ کرنے لگی، میںنے کہا اَب بس کرو میرا دم گھُٹ رہا ہے، تب وو اؤر بھی جوش میں آکے اُسنے کریبن 18-20 مِنِٹ تک سمُوچ کِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تب بھابھی اَپنے ہاتھ سے میرا ہاتھ لیکے وو اَپنے بُوبس پر رکھ دِیا اؤر کہنے لگی کِ اَب تُم اَپنے ہاتھ سے میرے بُوبس اؤر اُسکے نِپّل کو تھوڑا دباّو اؤر پھِر وو اَپنے ہاتھو سے میرے پیزامے میں دھیرے دھیرے ہاتھ ڈال دِیا اؤر پھِر تھوڑا میرے لںڈ کو ہِلانے لگی، اؤر کہنے لگی کِ یہ کیا تُمہارا لںڈ کِتنا چھوٹا ہے، پر میں سچ یہ کبھی نہیں کِیا تھا اِسلِئے میں گھبرا رہا تھا اِسلِئے میرا لںڈ کھڑا نہیں ہو رہا تھا پر بھابھی نے کہا اَچّھا اِسے میں اَبھی ٹھیک کر دیتی ہُوں، پھِر وو میرا پاّیجاما اُتار لِیا، اؤر زور زور سے دبانے لگی پھِر بھابھی مُجھسے کہنے لگی کِ تُم اَب میرے چُچِیاں کو مُںہ میں لو اؤر ایک ہاتھ سے میرے چُت کے اُوپر تُمہاری اُںگلی پھِراّو اؤر بس تھوڑی اُںگلی پھِرانے کے باد وو اؤر بھی گرم ہو گیّ، اؤر وو پھِر مُجھے بِستر پر لیٹا دِیا اؤر وو کہنے لگی کِ تھوڑا تُم کرو اَبھی میںنے کہا نہیں میںنے کِسی کو وادا کِیا ہے تُمہیں تو میںنے بتایا ہے، میں نہیں کرُوںگا تُمہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر بھابھی سوچنے لگی کِ اَب کیا کرُوں، پھِر وو اَچانک میرے سر پر اَپنی چُت رگڑنے لگی، اؤر کہا اَب میں اَپنا ہوش ایسے ہی پُورا کرُوںگی، بس پھِر وو زور زور سے میرے مُںہ کو رگڑ رہی تھی اؤر میںنے کہا اِسمیں سے تو پانی آ رہا ہے، بھابھی نے کہا یہ میرے چُت کا پانی ہے، تب میرا مُوہ پُورا اُسکے چُت کے پانی سے بھر گیا تھا،پھِر بھابھی نے میرے لںڈ کو چُوسنے لگی اؤر کہے رہی تھی کِ تُم میرے چُوت کو زور زور سے چُوسو نہیں تو میں تُمہارے لںڈ کو کھا جاُّںگی۔ پھِر میں مجبُور ہو کے تھوڑا تھوڑا چُوستا رہا اؤر بھابھی میرا لںڈ زور زور سے مُںہ میں ہِلا رہی تھی اؤر کیا پتا میرے لںڈ میں ایک گرمی مہسُوس ہُئی اؤر میرے لںڈ سے گرم پانی نِکلا اؤر پُشپا بھابھی ہںسنے لگی اؤر کہنے لگی کِ تُمہارا اِتنا گاڑھا پانی اؤر پھِر میںنے کہا کِ اَب مُجھے نیںد آ رہی ہے میں سو جاتا ہُوں۔ پر بھابھی میرے اُوپر پُورے رات تک پڑی رہی اؤر مُجھے کِس دینے لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ ہونے کے باد 8 دِن کے باد پھِر بھابھی کا پھون آیا اؤر کہا کِ مُجھے آج پھِر وہی کرنا ہے، مینے اِس بار ن کہ دِیا پر وو مُجھسے کہنے لگی کِ اَگر تُم آج رات نہیں آئے تو، میں یہ سب سے اؤر میرے پتِ سے کہ دُوںگی اؤر پھِر مُجھے اُسکی بات مانّی پڑی۔ 9۔00 بجے میں اُسکے گھر گیا، وہاں جاکے دیکھا تو اُسکے ساتھ اؤر ایک اُسکی سہیلی تھی، مینے بھابھی سے کہا یہ کؤن ہے، بھابھی کہنے لگی کِ یہ میری سہیلی پُوجا ہے، اؤر اُس دِن کی ساری باتیں میںنے پُوجا کو بتائی تو وو اَب مُجھسے زِد کرنے لگی اؤر کہنے لگی کِ اَب پھِر سے اَمِت کو بُلا اؤر ہم ساتھ میں ہی ایسا کریںگے اؤر مے پُشپا بھابھی کو کہنے لگا کِ یہ ساری باتیں تُم اَپنی سہیلی پُوجا کو نہیں بتانا چاہِئے تھا۔ اؤر پھِر دونو کہنے لگے جانے دو اَب کیا اَب یہ سب بات بھُول جاّو، اؤر پُوری رات ایںجاے (مزے) کرتے ہیں۔ پر میںنے کہا پر ہاں میں سِرپھ اؤر سِرپھ اؤر ہست میتھُن اؤر مُکھ میتھُن کرُوںگا۔ تب دونو نے کہ دِیا کوئی بات نہیں یہی کریںگے۔ پھِر دونو اَپنے اَپنے کپڑے نِکال دِیے، اؤر مُجھے بھی نںگا کر کے وو کہنے لگے کِ نہیں اَمِت آج تو ہم تُجھسے چُدوایّںگے ہی، اُسکے بِنا تُجھے آج نہیں جانے دیںگے۔ میںنے کہا یہ غلت بات ہے مینے کِسی کو وادا کِیا ہے اؤر تُمہیں تو یہ میںنے ہر بار کہا ہے، اؤر مُجھے یہ سب پسںد بھی نہیں ہے پر وو لوگ پُوری تیّاری کِیے رکھی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پُوجا نے مُجھے ایک گولی دی اؤر کھا اِسے پِلو میںنے کہا یہ کیا ہے، کہنے لگی کِ یہ وِایگرا کی گولی ہے اِسّے سب لوگو کو مزا آیّگا۔ پھِر مُجھے وو گولی کھِلا دی ، پھِر بھابھی نے مُجھے بِستر پر لِٹا کے کہا کِ اَمِت میں تُمسے چُودوانا چاہتی ہُوں، اُس دِن میں پیاسی کی پیاسی رہ گیی پر آج میں تُمہیں نہیں چھوڑنے والی۔ پھِر پُوجا نے میرے لںڈ کو اَپنے ہاتھ میں لیکر چُوسنے لگی اؤر بھابھی کو کہا اَب تُم اَمِت کے مُںہ پر اَپنی چُوت رکھ دو اؤر پھِر بھابھی نے زور زور سے اَپنی چُوت گھِسنے لگی پھِر اَپنے بُوبس کو میرے ہاتھ میں دے دِیے اؤر کہا اِسے زور زور سے دباّو، اؤر میں مجبُوری کے کارن میں سب کرنے لگا، اؤر پُوجا نے تو میرا لیںڈ کھڑا ہوتے ہی مُجھے زور سے کاٹ لِیا، اؤر کہنے لگی اَب میں اَمِت کے لںڈ کو میرا مزا چکھاُّوںگی۔ پھِر وو اُسکی چُوت میں میرا لںڈ ڈالنے لگی، تب میرا تھوڑا لُوج تھا اؤر نہیں جا رہا تھا، تب پھِر سے وو میرے لںڈ کو مُںہ میں لِیا اؤر زور زور سے چُوسنے، اؤر ہِلانے لگی اور کہ رہی تھی، کم اون، کم اون، پھِر تھوڑی دیر کے باد تھوڑا کھڑا ہو گیا تب چُوت میں لںڈ ڈالنے لگی اؤر تھوڑا گیا اؤر کہنے لگی اَب جا رہا ہے اَمِت کا لںڈ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر پھِر اُسنے میرے اُوپر پُورا کا پُورا میرا لںڈ اُسکی چُوت میں ڈال دِیا۔ پھِر پُوجا نے مُجھ پر زور زور سے اُوپر نیچے کرنے لگی اؤر اَچانک بھابھی کہنے لگی اَب مُجھے کرنے دے تب پُوجا نیچے اُتر گیی اؤر بھابھی نے میرا لںڈ اَپنی چُوت میں دھکیل دِیا اؤر کہنے لگی کِ واہ کیا لںڈ ہے، اؤر واکئی میں میں مہسُوس کرتا تھا کِ اُسکی چُوت واکئی میں بھابھی کی چُوت بہُت ہی گرم تھی۔ اؤر زور زور سے اَںدر باہر کرنے لگی اؤر میرے گوٹے کو درد ہونے لگا کیوںکِ بھابھی کی گاںڈ بہُت بھاری تھی اؤر پُوجا مُجھے اُسکے بُوبس چُسوانے لگی اؤر باد میں بھابھی لگبھگ 20 مِنٹ تک میرے لںڈ سے کھیلی۔ اُسکے باد پھِر سے پُوجا کی باری آیّ، اؤر وو تب بہُت گرم ہو گئی تھی مُجھ پے چڑھی اؤر بس تب میرا لںڈ جواب دینے لگا تھا اؤر آخِر وو 4 یا 5 شاٹ اُچھالنے کے باد میرا پانی چھُوٹ گیا، تب وو مُجھسے چِڑھ گیی اؤر کہنے لگی کِ یہ کیا مُجھے تو مزا بھی نہیں آیا، اؤر مُجھے گالی دینے لگی، تب بھابھی بولی کوئی بات نہیں اَب تھوڑے ٹائیم کے باد پھِر سے کرتے ہیں، کیا پتا گولی کا اَسر اِتنی جلدی اُتر گیا کیسے؟ پُوجا بولی کِ گولی کا اَسر شاید اَب ہو تو ، تب بھابھی نے کہا تب مزا لے لینا۔ میں نے کہا نہیں اَبھی نہیں پلیز مُجھے جانے دو پر وو نہیں مانی کِ نہیں اَبھی رات بھر ہم تُجھے پریشان کریںگے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر میںنے کہا مُجھے پیشاب کرنی ہے تب پُوجا نے کہا ہاں مُجھے بھی لگی ہے چل ساتھ میں کرتے ہیں، ہم دونو ساتھ گیے پیشاب کرنے ، پہلے میںنے پیشاب کِیا باد میں پُوجا پیشاب کرنے لگی تب میں تھوڑا دُور ہو گیا تھا، تب کہا اَمِت زرا اِدھر آنا میں پُوجا کے پاس گیا تو اُسنے میرا سر پکڑ کر اُس پر پیشاب کرنے لگی، میںنے کہا یہ کیا کر رہی ہو، اُسنے بولا مُجھے ایسا کرنے میں مزا آتا ہے، پھِر وو جبر جستی مُجھے اَپنی پیشاب چٹوائی، اؤر کہا اَمِت کیا تُمہیں اؤر پیشاب لگی ہے، میںنے کہا نہیں میںنے اَبھی تُمہارے سامنے کی ہے، وو بولی نہیں دیکھو میں کیا کرتی ہُوں تُم پیشاب کرنے کا زور کرو میں تُمہارا لںڈ چُوستی ہُوں کبھی آ جائے تو، میںنے زور لگایا اؤر اُسنے اِتنی زور سے میرے لںڈ کو چُوسا کِ میرے لںڈ میں سے تھوڑا پیشاب آ گیا اؤر کہنے لگی کِ واہ کیا پیشاب پینے کا مزا آیا، اؤر پھِر میں اَپنے لںڈ کو دھوکے باہر آ گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بھابھی نے اؤر پُوجا نے میرے کو پھِر سے بیڈ پر لیٹا دِیا۔ اؤر ایک ترپھ بھابھی اؤر ایک ترپھ پُوجا تھی اؤر بھابھی نے کہا اَمِت آج ہم لوگ چاہ رہے ہے کِ تیرا ریپ کر دیں، پر تُو اِتنا اَچّھا ہے کِ ہم کو یہ نہیں کرنا چاہِئے، اؤر پھِر وو دونو مُجھسے کِس کرنے لگے اؤر پُوجا میرا لںڈ چُوسنے لگی، اؤر بھابھی نے تھوڑا اؤر اُوپر آکے اُسکے بُوبس کو چُسوانے لگی، اؤر پُورا کا پُورا وجن مُجھ پر ڈال دِیا، یہ کام بھابھی کا چالُو تھا اؤر ،پُوجا پُوری گرم ہو کِ وو پھِر سے میرے لںڈ پر چڑھ بیٹھی اؤر زور زور سے میرے لںڈ اؤر پُورے شریر کو ہِلانے لگی ، اؤر اُسنے لگ بھگ 35 مِنٹ تک کرتی رہی اؤر وو بھابھی کو کہنے لگی کِ میری چُوت 4 بار پانی چھوڑ دِیا ہے، اؤر پھِر میںنے کہا اَرے اَب بس کرو میرا لںڈ درد کر رہا ہے، پر وو لوگ اِتنے جوش میں آ گیے تھے کِ میری بات نہیں سُن رہے تھے، تب پھِر بھابھی نے کہا مُجھے کرنے دو، پر پُوجا نہیں مان رہی تھی اؤر کہنے لگی نہیں جب تک اَمِت دُوسری بار پانی نہیں چھوڑیگا، تب تک میں کرتی رہُوںگی، اؤر وو پُوری ہوش کے باہر چلی گیی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اؤر آخِر تھوڑی دیر باد وو میرے لںڈ کو باہر نِکالا اؤر پھِر چُوسنے لگی اؤر کہنے لگی اَمِت اَپنا لںڈ کو مت بیٹھاّو مُجھے مزے لینے دو، پھِر زور زور سے لںڈ کو کھڑا کِیا اؤر پھِر اَپنی چُوت میں ڈال دِیا جب وو میرا لںڈ اَںدر ڈالا تو میرے لںڈ کو درد دینے لگا اَرے پُوجا میرے لںڈ کو نِکال دو، مُجھے بہُت درد ہو رہا ہے، پر پُوجا نے یہ بھی بات نہیں مانی اؤر زور زور سے مزے لینے لگی، اؤر کافی دیر باد میرا لںڈ پانی چھوڑ دِیا پُوجا کی چُوت میں، میں اؤر پُوجا تھوڑی دیر تب ایک دُوسرے کو لِپٹ کر پڑے رہے، میرے تو ہوش ہی اُڑ گیے تھے تب، مُجھے تب نیںد آ گیی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر تھوڑی دیر کے باد دونو کو اؤر کرنے کی اِچّھا ہُئی ، تب اُن دونو سوچا کِ اَب اَمِت اَپنے کو نہیں کرنے دیگا اؤر میں تب سو گیا تھا، جب میری نیںد کھُولی تب وو لوگ میرے ہاتھ اؤر پاو باںدھ دِیے تھے ، اؤر پھِر وو لوگ کہنے لگے اَمِت ایک بار اؤر ہمیں کرنا ہے، اؤر اِس ٹائیم ہم اَپنی گاںڈ مروانا چاہتے ہے، میںنے اُنکو رِکویسٹ کِیا کِ نہیں پلیز اَبھی نہیں میرا لںڈ بہُت درد کر رہا ہے، اؤر تُمہاری گاںڈ تو کِتنی بڑی ہے اُسے میں نہیں جھیل سکتا، پر پُوجا کہنے لگی نہیں، ہمکو تُجھے کرنا ہی ہوگا نہیں تو ہم جبر جستی میں آ جاّیگے، میںنے کہا میرے ہاتھ پاںو تو کھول دو، پر کہنے لگے کِ اِس ٹائیم ہم گاںڈ والے ہے، اِسلِئے تُجھے درد کُچھ زیادا ہی ہوگا، اؤر ہمیں بھی درد ہوگا اِسلِئے تُم نہیں کرنے دیگا ہمیں ، اِسلِئے تُجھے باںدھے ہُئے ہے، اؤر اُسنے کہا اَب تُم چِںتا مت کرو تھوڑا میرے پاس جیلی کریم ہے وو لگا کے کریںگے تب کُچھ نہیں ہوگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر سے دونو جن مُجھ پر سوار ہو گیے، اؤر پُوجا نے کہا پُشپا بھابھی پہلے تُم چالُو ہو جاّو، باد میں میں کرُوںگی، اؤر باد میں میرے لںڈ کے اُوپر کریم ڈالی اؤر میرے لںڈ کو ایسا جھٹکا لگا کِ میری ہوا ہی نِکل گیّ، کیوںکِ وو کریم میں ایلکوہل ہوتا ہے اِسے پہلے تھوڑا درد ہُآ میرے لںڈ کو، پھِر پُوجا نے پُشپا بھابھی کی گاںڈ میں کریم لگایا، اؤر کرنے کی پوجِشن میں آ گئی، پر لںڈ اَںدر نہیں جا رہا ہے۔ تب پُشپا بھابھی نے کہا پُوجا لںڈ اَںدر نہیں جا رہا ہے، تب پُوجا نے میرا لںڈ پکڑا اؤر بھابھی کی گاںڈ میں ڈالا تب بھی بہُت ٹائیٹ جا رہا تھا، تب پُوجا نے بھابھی کی گاںڈ کو اَپنی اُںگلی سے تھوڑا اَںدر باہر کرنے لگی، پھِر دو اُںگلی ڈالی پھِر تین اُںگلی ڈالی تب دیکھا کِ پُشپا بھابھی کی گاںڈ کا چھید تھوڑا کھُل گیا تھا۔ تب پھِر میرا لںڈ لیکر پُشپا بھابھی کی گاںڈ میں ڈالا تب میرا لںڈ بس 2 اِںچ ہی جا رہا تھا، اؤر میں چِلّا رہا تھا- بھابھی بس اَب بس، تب پُوجا نے میرے مُںہ پر اُسکا مُںہ رکھ دِیا اؤر اُسکی ساںس میرے مُںہ کے اَںدر آ رہی تھی اؤر میری آواز کم سُنائی دینے لگی، پر اُسے تو اؤر جوش آ رہا تھا، وو اؤر بھی زور زور سے مُجھسے اَپنی گاںڈ مروانے لگی، اؤر میرے ہوش اُڑنے لگے تھے، پھِر بھابھی تھوڑی دیر باد تھکنے لگی، تب پُوجا بولی اَرے پُشپا تُجھمیں تو کُچھ دم ہی نہیں ہے، ہٹ اَبھی مُجھے گاںڈ مروانے دے، بھابھی تھک گیی تھی اِس لِئے وو ہٹ گیّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر پُوجا نے کہا اَب پُشپا تُو لیٹ جا پُشپا لیٹ گیّ، پھِر اُسکے اُوپر مُجھے لیٹایا، میں پُشپا کے اُوپر تھا۔ پھِر میرے اُوپر پُوجا چڑھ گیی اؤر میرا لںڈ پکڑ کر اَپنی گاںڈ میں ڈالنے لگی پر پُوجا نے کریم نہیں لگائی تھی، اِسلِئے پھِر اُتر کر کریم لیکے اَپنی گاںڈ میں لگائی، پھِر چڑھی اؤر میرے لںڈ کو اَپنے ہاتھ سے اَپنی گاںڈ میں ڈالنے لگی پر نہیں جا رہا تھا میںنے کہا نہیں جا رہا ہے تو اَب اُتر جاّو بس ہو گیا، تب پُوجا نے کہا یہ میں کرکے رہُوںگی، تب پُوجا نے کہا پُشپا نیچے سے ہاتھ ڈال اؤر اَمِت کا لںڈ میری گاںڈ میں ڈال، تب پُشپا نے نیچے سے ہاتھ ڈال کر میرے لںڈ کو پکڑ کے پُوجا کی گاںڈ میں ڈالنا چاہا پر ٹائیٹ ہو رہا ہے، تب پُوجا نے کہا اَمِت کے لںڈ کو میرے گاںڈ کے ہول کے سامنے کر میں زور سے جھٹکا دیتی ہُوں، اؤر جب پُوجا نے ایسا جھٹکا دِیا کِ پُورا لںڈ پُوجا کی گاںڈ میں چلا گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;باد میں کہنے لگی اَمِت اَب تُو تو گیا، میں تو اِسکی بات سُن کر گھبرا گیا، میںنے کہا پُوجا ایسا مت کرو میںنے میرا لںڈ چھِل جاّیگا، پر وو کہا اَمِت ہم دونو کو تیرا یہ لںڈ اَچّھا لگا ہے اِسلِئے اِسکو ہم اِتنی آسانی کے ساتھ کیسے چھوڑ سکتے ہے، پھِر پُشپا بھابھی نیچے سے میری گاںڈ کے ہول میں اَپنی اُںگلی ڈال رہی تھی اُسنے میری گاںڈ میں اُسکی بیچ کی اُںگلی پُوری کی پُوری ڈال دی، پھِر پُوجا بھی گاںڈ مرواتے مرواتے تھک گیّ، پھِر اُسنے نیپکِن پیپر لِیا اؤر میرے لںڈ کو ساپھ کِیا، پھِر اُسنے مُںہ سے میں میرے سُپارے کو چاٹنے لگی اؤر نیچے سے پُشپا بھی اُوپر آ گیّ، اؤر مُجھے لِٹا کے پُشپا نے میرے سر پر اُسکی چُوت رکھ دی اؤر زور زور سے میرے مُںہ سے رگڑنے لگی، اؤر کہنے لگی اِسکو چُوسو اَمِت، اؤر پُشپا کی چُوت کا پانی میرے مُںہ اؤر گال سے بھر گیا میںنے کہا پُشپا تُمہارے چُوت کا پانی بہُت ہی باہر آ رہا ہے، پر اُسنے بولا کِ بس تھوڑی دیر اؤر میں جھڑنے والی ہُوں، پھِر میرے ہاتھ کی اُںگلی کو لیکے پُشپا اَپنی گاںڈ میں ڈالنے لگی اؤر نیچے میرے لںڈ چُوسنے کا پُوجا مزا لے رہی تھی، وو تھُوک لگا کے میرے لںڈ کو چُوس رہی تھی، اؤر بس اَچانک میرے لںڈ کا پانی پُوجا کے مُوہ میں چھُوٹ گیا، اؤر میں ٹھںڈا پڑنے لگا پر پُشپا اَبھی تک نہیں جھڑی تھی، اؤر میرے 3 مِنٹ کے باد وو جھڑ گیی اؤر میرا مُںہ کو پُورا بھر دِیا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھِر میںنے کہا بس اَب نہیں، پر وو لوگ کہا اَب تُمہیں اِسی ترہ کبھی کبھار آنا پڑیگا، میںنے ن کہ دِیا اَب اَپنا سیکس اِتنے ہی تک ہے پر وو دونو نہیں مانے کہنے لگے کِ اَگر ہم بُلائے اؤر تُم نہیں آئے تو، تُمہارے اؤر ہمارے بیچ جو ہُآ ہے وو سب کو بتا دیںگے، میںنے کہا یہ تو بلیک میل ہے، تب پُوجا نے کہا یہ بلیک میل نہیں یہ تو ہماری چُوت کا نشا ہے تُمہارے کُںوارے لںڈ کا مزا لینے کے لِئے اؤر وو دونو ہںسنے لگی اؤر اِس ترہ جب دونو مُجھے بُلاتی ہے تب مُجھے جانا پڑتا ہے اؤر بھابھی اؤر پُوجا اَپنی مزے لینے لگتی ہے۔ تو میرے اِںڈِیا کے بھابھی اؤر آںٹی تُمہاری کیا راے ہے مُجھے کیسے اِنسے چھُڑا سکتے ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/8240039175168544450/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_6695.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8240039175168544450'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8240039175168544450'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_6695.html' title='بھابھی کی چُوت کی پُوجا'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-6304680803389679730</id><published>2012-01-16T13:36:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:36:40.220-08:00</updated><title type='text'>شوقین چوت کی چدائی</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;اُس دِن میں نائیٹ ڈیُوٹی کرکے سُبہ ساڑھے سات بجے گھر پہُںچا میری وائیپھ ایک ٹیچر ہے اؤر سکُول جانے کے لِئے تیّار ہو رہی تھی۔آٹھ بجے وو گھر سے نِکل گیّ۔ میں نہا کر پھریش ہو گیا اؤر روج کی ترہ سونے کی تیّاری کرنے لگا۔اَچانک درواجے پر دستک ہُئی تو میں چؤںک گیا۔ بڑی گہری نیںد آ رہی تھی اؤر میں بہُت پریشان تھا کی اِس وقت کؤن آ گیا۔مینے درواجا کھولا تو سامنے ایک اؤرت کھڑی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کریب پچّیس سال کی اُمر کی ایک دیہاتی اؤرت کو دیکھکر مینے سوچا شاید کوئی ماںگنے والی ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا چاہِئے&quot; مینے پُوچھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;میرا بھائی کام پر آیا بابُوجی ؟&quot; وو بولی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کؤن بھائی ؟&quot; مُجھے گُسّا آ رہا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;میرا بھائی راجُو بابُوجی&quot; میٹھی سی آواز میں وو بولی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;راجُو بیلدار ؟&quot; مینے اُسے اُپر سے نیچے تک دیکھتے ہُئے پُوچھا۔ اُن دِنوں ہمارے گھر میں کنسٹرکشن کا کام چل رہا تھا اؤر راجُو ایک بیلدار کا نام تھا راجُو ہمارے بِلڈِںگ ٹھیکیدار للّن کا سالا تھا۔یانی میرے سامنے کھڑی اؤرت للّن کی بیبی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;جی بابُوجی راجُو بیلدار میرا بھائی ہے کل رات سے گھر نہی آیا تو مینے سوچا کی آپکے یہاں دیکھ لُوں&quot; وو بڑی پیاری مُسکُراہٹ کے ساتھ بولی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مُجھے اُسکی مُسکُراہٹ بڑی سُوںدر لگی۔ مینے اُسے اَںدر آنے کے لِئے کہا تو وو اَںدر آکر نیچے زمین پر بیٹھنے لگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَرے نیچے نہی سوپھے پر بیٹھو&quot; وو شرماتی ہُئی سوپھے پر بیٹھ گیی ۔میں سامنے کے بیڈ پر بیٹھ گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;راجُو تو کل شام کو پاںچ بجے چلا گیا تھا اؤر سُبہ سے آیا نہی&quot; مینے کہا۔ وو گرمِیاں کے دِن تھے کُولر کی سیدھی ہوا بیڈ پر آ رہی تھی۔ وو سوپھے پر بیٹھی تو شاید اُسے گرمی لگ رہی ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کوئی بات نہی بابُوجی ، شاید کِسی دوست کے یہاں رُک گیا ہوگا راجُو۔میں کہیں اؤر دیکھ لُوںگی&quot; وو بولی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے پُوچھا &quot; کیا تُم للّن کی گھروالی ہو ؟&quot; اُسنے ہاں میں گردن ہِلا دی ،بِلکُل بچّوں کی ترہ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا نام ہے تُمہارا ؟&quot; مینے باتوں کا سِلسِلا آگے بڑھایا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آرتی&quot; کہکر وو شرما سی گیّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;بہُت سُوںدر نام ہے&quot; مینے کہا &quot;چاے پِیوگی آرتی ؟&#39;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے مُوہ سے اَپنا نام سُنکر اُسنے اَچانک میری دیکھا &quot;آپ تکلیف کیوں کرتے ہو بابُوجی ؟&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَرے تکلیف کیسی آرتی ، میں اَپنے لِئے تو بنا ہی رہا ہُوں تُم بھی پی لینا&quot; مُجھے بار بار اُسکا نام لیکر بُلانے میں مزا آ رہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ٹھیک ہے بابُوجی ، بنا لیجِئے&quot; وو پھِر مُسکُرائی ۔ اَب مُجھے اُسکی مُسکُراہٹ اؤر اَچّھی لگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں کِچن میں چاے بنا رہا تھا اؤر من میں اُلٹے سیدھے وِچار آنے لگے۔چاے بنانے میں دھیان کہاں لگتا۔آںکھو کے سامنے آرتی کی کھُوبسُورت مُسکُراہٹ گھُوم رہی تھی۔چاے اُبل کر باہر نِکل گیّ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا ہُآ بابُوجی ؟&quot; آرتی نے آواز لگاکر پُوچھا۔ایسا لگا مانو میری گھروالی کُچھ پُوچھ رہی ہو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کُچھ نہی &quot;کہتے ہُئے میں چاے دو کپو میں لیکر رُوم میں آ گیا ۔ سامنے بیٹھی آرتی کو پسینا آ رہا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;گرمی لگ رہی ہو تو اِدھر بیڈ پر آ جاّو آرتی&quot; مینے کہا تو وو آکر میرے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیّ۔ مینے دیکھا کی اُسکی ہائیٹ بہُت کم تھی لیکِن شریر بھرا ہُآ تھا تھوڈا پیٹ بھی نِکلا ہُآ تھا رںگ ساںولا لیکِن نین نکش تیکھے تھے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم دونو چاے پینے لگے ۔ مینے پُوچھا &quot;اؤر گھر میں کؤن کؤن ہے آرتی&quot; میں جان بُوجھکر اُسکا نام لے رہا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ہم دونو مِیاں بیبی اؤر ایک بچّا ہے بابُوجی۔ اَبھی چھوٹا ہے ایک سال کا اؤر ساتھ میں راجُو بھی رہتا ہے&quot; وو آںکھوں میں آںکھیں ڈالکر بات کر رہی تھی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;دُوسرا بچّا ہونے والا ہے کیا ، آرتی ؟&quot; پُوچھتے ہُئے میرا من جوروں سے دھڑکنے لگا۔ کہیں آرتی بُرا مان گیی تو ؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;دھتت بابُوجی آپ بھی کیا پُوچھتے ہیں &quot; وو شرما کر مُسکُرا دی &quot;آپنے ایسا کیوں پُوچھا ؟&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تُمہارا پیٹ دیکھکر&quot; مینے ہِمّت کرکے کہ دِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;دھت بابُوجی اَبھی نہی ، اَبھی تو پہلا ہی چھوٹا ہے &quot; اُسنے چاے ختم کرتے ہُئے کہا۔&quot;اَچّھا اَب میں چلُوں بابُوجی ؟&quot; وو اُٹھنے لگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تھوڑی دیر اؤر بیٹھو نا آرتی پلیز&quot; کہتے ہُئے مینے اُسکا ہاتھ پکڑ لِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;یے کیا کرتے ہو بابُوجی ؟ کہیں کِسی نے دیکھ لِیا تو ؟ &quot; اُسنے ہاتھ چھُڑانے کی کوشِش نہی کی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری ہِمّت اؤر بڑھ گیّ۔ مینے اُسے اَپنے پاس کھیںچ لِیا &quot;ہم دونو کے اَلاوا یہاں ہے کؤن جو ہمے دیکھیگا آرتی ؟&quot; مینے اُسکا ایک چُمّا لے لِیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;نہی بابُوجی ہمے جانے دو ،ہمے کھراب نا کرو&quot; وو درواجے کی ترپھ جانے لگی۔ مینے اُسکا پلُّو پکڑ لِیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ایسے نہی آرتی ، ایسے مت جاّو پلیز ۔ میں تُمہارے ساتھ کُچھ اؤر دیر رہنا چاہتا ہُوں&quot; میرے سور میں وِنتی تھی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;نہی بابُوجی میں اؤر نہی رُک سکتی۔ آپ اِتنے لںبے اؤر میں اِتنی چھوٹی ، ہمارا مِلن کیسے ہوگا &quot;وو بولی اؤر اِسی چھینا جھپٹی میں اُسکی ساڑی کھُل گیّ۔اُسنے اَپنی باہے اَپنے سینے پر رکھ لی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;یے کیا چھُپا رہی ہو ہمسے آرتی رانی ،دِکھاّو نا&quot; مینے اُسکی باہے ہٹانے لگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آپ بڑے گںدے ہو بابُوجی ،کیسی گںدی باتے کرتے ہو ۔ یے تو میرا بچّا چُوستا ہے اِنمے آپ کیا لوگے ؟&quot; آرتی بولی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تو ہمے بھی دِکھاّو نا ہم بھی چُوس لیںگے تھوڑی سی&quot; کہتے ہُئے مینے اُںسکی دونو چُچِیاں پکڑ لی ۔ کیا پتّھر کی ترہ سخت چُچِیاں تھی آرتی کی چُچِیاں پکڑتے ہی آرتی بُری ترہ سے کاںپنے لگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; کیا بات ہے آرتی رانی ؟ کاںپ کیوں رہی ہو &quot; میں گھبرا گیا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا بتاُّن بابُوجی ، بہُت ڈر لگ رہا ہے ۔ پتا نہیں آپ میرے ساتھ کیا کرنے والے ہو ۔ مُجھے چھوڑ دو بابُوجی، جانے دو، میں آپکے ہاتھ جوڑتی ہُوں۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مُجھے لگا کہیں آرتی شور نا مچا دے ، آخِر اَڈوس پڑوس میں اؤر بھی لوگ رہتے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اِسمے ڈرنے قی کیا بات ہے آرتی رانی ؟ میں تُمہارے ساتھ زبردستی نہیں کرُوںگا۔ جو بھی ہوگا تُمہاری رزامںدی سے ہوگا ۔ آاو بیڈ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔ ٹھیک ہے آرتی رانی ؟&quot; مینے پُوچھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; ٹھیک ہے بابُوجی&quot; اُسکے ہاں کہتے ہی میری جان میں جان آئی ۔ مینے آرتی کو اَپنی باہوں میں اُٹھا لِیا اؤر لا کر بیڈ پر لِٹا دِیا۔ بِلکُل پھُول قی ترہ کومل تھی آرتی۔ ہلکی سی، چھوٹی سی اؤر پیاری سی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; اَب بتاّو آرتی رانی، کِسّے ڈر لگتا ہے تُمہے &quot; میں اُسکے پاس بیٹھ گیا اؤر سِر پر ہاتھ پھیرنے لگا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; بابُوجی آپ مُجھے بار بار آرتی رانی کہکر کیوں پُکارتے ہو ؟ میں کہیں قی رانی تھوڑے نا ہُوں ۔ میرا نام تو سِرف آرتی ہے ۔&quot; وو بولی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;رانی تو تُم بن گیی ہو آرتی ، آج سے میرے اِس دِل قی &quot; کہکر مینے جھُکّر اُسکے ہوںٹھ چُوم لِئے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; ہاے رام بابُوجی ، آپ تو بڑے بیشرم ہو &quot; اُسنے اَپنا چیہرا اَپنے ہاتھوں سے چھُپا لِیا ۔ آرتی قی اِس اَدا پر تو میں جیسے پھِدا ہی ہو گیا۔ مینے اُسکے چیہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہُئے کہا &quot;آرتی رانی میرا دِل کرتا ہے کِ تُمہارے اِن ہوںٹھو قی ساری لِپسٹِک چاٹ لُوں۔ تُم بُرا تو نہیں مان جاّوگی&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اِسمے بُرا مانّے والی کیا بات ہے بابُوجی ؟ بس ایک بات کا خیال رکھنا کِ اَگر آپ میری لِپسٹِک چاٹنا چاہتے ہو تو نیی لِپسٹِک بھی مُجھے دِلانی پڑیگی ، بولو مںزُور ہے ؟&quot; میرا کلیزا اُچھال مارنے لگا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ایک نہی دس لِپسٹِک لے لینا میری جان &quot; میری کِسمت زور مار رہی تھی شاید ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تو پھِر آپکو کِسنے روکا ہے لیکِن اَپنا وادا یاد رکھنا &quot; آرتی مُسکُراتے ہُئے بولی۔ وہی کاتِلانا مُسکُراہٹ جِسنے مُجھے پاگل کِیا تھا۔ میں پاگلوں قی ترہ اُسکے ہوںٹھو کو چُومنے لگا ۔ تھوڑی دیر باد آرتی بھی میرا ساتھ دینے لگی ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آرتی نے اَپنا ایک ہاتھ میرے سِر کے پیچھے رکھ لِیا اؤر میرا چیہرا اَپنے ہوںٹھوں پر دبانے لگی۔ میرے ہوںٹھ اَپنے ہوںٹھوں میں لیکر چُوسنے لگی، میرے ہوںٹھ اَپنے داںتوں سے کاٹنے لگی۔ پتا نہی کِتنی دیر تک ہم دونو ایک دُوسرے کو چُستے رہے۔ کِتنے رسیلے ہوںٹھ تھے آرتی کے ،ایسا لگا مانو میں شہد پی رہا تھا، اِتنے میٹھے ہوںٹھ مینے آج تک نہیں چکھے تھے۔ جب ہم اَلگ ہُئے تو مینے کہا &quot;آرتی رانی ، میرا من کر رہا ہے کِ میں تُمہارے یے کومل کومل گال بھی چُوسُو &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;پھِر تو آپکو ایک پاُّڈر کا ڈِبّا بھی دِلانا پڑیگا بابُوجی &quot; کہکر آرتی کھِلکھِلاکر ہںس پڑی۔ کیا نزارا تھا وو۔ آرتی کے ہںستے ہی مانو سارے کمرے میں موتی بِکھر گیے ۔ میرا روم روم کھِل گیا ۔ کیا کِسی اؤرت قی ہںسی اِتنی سُںدر بھی ہو سکتی ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;میں تو تُمہے سارا میکپ کا سامان ہی دِلا دُوںگا میری جان اؤر اَپنے ہاتھوں سے تُمہے دُلہن قی ترہ سجاُّوںگا &quot;کہکر میں اُسکے گالو کو چُومنے لگا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;سچ بابُوجی ؟&quot; اُسنے مُجھے زور سے بھیںچ لِیا اَپنی باہوں میں، &quot;اوہ بابُوجی آپ کِتنی پیاری باتے کرتے ہو ۔ آج آپنے مُجھے جیت لِیا بابُوجی۔ میں آج سے سچمُچ آپکی آرتی رانی بن گیی ہُوں &quot; اؤر وو بھی مُجھے بیتہاشا چُومنے لگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مینے اَپنا ایک ہاتھ اُسکے سینے قی ایک گولائی پر رکھ دِیا ۔ آرتی نے کوئی پرتِرودھ نہی کِیا ۔میں سمجھ گیا کِ آرتی اَب کوئی پرتِرودھ نہیں کریگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وہی ہاتھ مینے دُوسری گولائی پر رکھ دِیا ۔ &quot;کُچھ ڈھُوںڈھ رہے ہو کیا بابُوجی ؟&quot; آرتی دھیرے سے میرے کان میں بولی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;ہاں آرتی رانی &quot;مینے اُسکے کان میں کہا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا ڈھُوںڈھ رہے ہو بابُوجی ؟ کیا میں آپکی مدد کرُوں؟&quot; آرتی میرا کان داںتوں سے کاٹنے لگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; ہاں آرتی رانی میری مدد کرو نا ۔ میرا دِل تُمہاری چولی میں کہیں کھو گیا ہے اُسے ڈھُوںڈھنے میں میری مدد کرو &quot; میرا دِل بیکابُو ہو رہا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اَگر آپکا دِل میری چولی میں کھو گیا ہے تو ایسے اُپر سے ٹٹولنے سے تھوڑے ہی مِلیگا بابُوجی ، زرا اَںدر کوشِش کرو &quot; پھِر وہی شرارتی مُسکُراہٹ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; واہ آرتی رانی تُمنے تو میرے دِل کِ بات کہ دی ،&quot; ٹھیک ہے میں اَپنا دِل تُمہاری چولی کے اَںدر ڈھُوںڈھتا ہُوں &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اِتنا کہکر مینے اَپنا ہاتھ اُسکے بلاُّس میں ڈال دِیا ۔اُسکی ایک گولائی کو پکڑ لِیا ۔ کِتنی سخت چُچِ تھی آرتی قی۔ پھِر دُوسری گولائی کو پکڑ کر بہُت دیر تک دباتا رہا ۔ اِتنا دبانے پر بھی چُچِیاں نرم نہی ہُئی ۔ اَب میرا من آرتی قی گولائیّاں چُوسنے کے لِئے بیتاب ہو رہا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; کیا ہُآ بابُوجی دِل مِلا یا نہی &quot; آرتی آںکھے بںد کِئے ہُئے بولی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;نہیں مِلا میری جان ۔ اَب کیا کرُوں آرتی رانی&quot; مینے اُسکا ستن زور سے دبا دِیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;اُپھپھ بابُوجی ، یے کیا کرتے ہو ؟اَگر نہیں مِلا تو ایسے دبانے سے تھوڑے ہی مِل جاّیگا ، چولی اُتار کر ڈھُوںڈھ لو نا &quot;آرتی گرم ہو چُکی تھی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں بھی تو یہی چاہتا تھا۔ مینے اُسکے بلاُّس کے سارے ہُک کھول دِئے ۔آرتی نے اَںدر برا نہی پہنی تھی ہُک کھولتے ہی دونو مست کبُوتر باہر جھاںکنے لگے۔ مینے آرتی کو بیٹھا لِیا اؤر اُسکا بلاُّس اُسکے سینے سے اَلگ کر دِیا ۔ دونو سپھید کبُوتر اَب آزاد تھے اؤر تنے ہُئے تھے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آرتی رانی یے بتاّو تُمہاری یے سُںدر چُچِیاں اِتنی سخت اؤر تنی ہُئی کیوں ہیں&quot; مینے چُچِیوں کو سہلاتے ہُئے پُوچھا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; بابُوجی یے تنی ہُئی نہی بھری ہُئی ہیں ۔ اِنمے دُودھ بھرا ہے میرے بیٹے کے لِئے ، جب وو اِنکو چُوس لیتا ہے تو اُسکی بھُوکھ مِٹ جاتی ہے اؤر مُجھے بھی بڑا چین مِلتا ہے ۔جب تک وو نہی چُوستا اِنمے درد ہوتا رہتا ہے جیسا قی اَب بھی ہو رہا ہے &quot; آرتی بولی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آرتی رانی تُمہاری چُچِیوں میں درد ہو رہا ہے اؤر مُجھے بھی بھُوکھ لگی ہے ، کیا کوئی ایسا راستا نہی ہے قی میری بھُوکھ مِٹ جائے اؤر تُمہاری چھاتِیوں کا درد کم ہو جائے میری جان &quot; مینے اَپنے دِل قی بات کہ دی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;میں سمجھ گیی بابُوجی آپ کیا چاہتے ہو ۔ مُجھے مالُوم تھا قی آپ کا دِل میری چُچِیوں پر آ چُکا ہے اؤر آپ اِنہے چُوسے بِنا نہی چھوڑوگے ۔آاو بابُوجی میری گود میں لیٹ جاّو آج میں آپکو اَپنے بچّے قی ترہ چُچِ پِلاُّوںگی ۔ جی بھر کر پِیو بابُوجی لیکِن کاٹنا مت &quot; آرتی نے کہا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں آرتی قی گود میں لیٹ گیا اؤر آرتی نے دو اُںگلِیوں سے پکڑ کر چُچِ ویسے ہی میرے مُوہ میں دی جیسے کوئی ماں اَپنے بچّے کو دیتی ہے۔ میں چُوسنے لگا تو سچمُچ آرتی قی چُچِ میں سے دُودھ آنے لگا ۔ کِتنا گرم اؤر میٹھا دُودھ تھا آرتی قی چُچِیوں کا۔ میں ایک ایک بُوںد چُوس لینا چاہتا تھا اؤر شاید آرتی بھی یہی چاہتی تھی اِسلِئے ایک چُچِ کھالی ہوتے ہی اُسنے میرے مُوہ میں جھٹ دُوسری چُوچی ڈال دی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; چُوسو بابُوجی اؤر زور سے چُوسو ، جی بھر کر پِیو آج اَپنی آرتی رانی قی چھاتِیاں ، چُوس چُوس کر کھالی کر دو بابُوجی ، اِنکو تھوڑی نرم بنا دو ، اِنکا درد مِٹا دو &quot; آرتی مستی میں بڑبڑا رہی تھی &quot;ہاں بابُوجی ایسے ہی پیار سے چُوسو ، ہائے بابُوجی آپ کِتنی اَچّھی ترہ چُوستے ہو اِتنا مزا تو پہلے کبھی نہی آیا ۔ للّن تو کبھی اِنہے چُوستا ہی نہی &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کیا کہتی ہو آرتی رانی للّن اِن چُچِیوں کو نہی چُوستا ۔ بھلا ایسا کؤن سا مرد ہوگا جو تُمہاری اِن مدبھری چُوچِیوں کو چھوڑ دیگا &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; سچ کہا بابُوجی آپنے کوئی مرد نہی چھوڑیگا لیکِن للّن مرد کہاں وو تو نامرد ہے ، ہِزڑا ہے ہرامی &quot;آرتی قی آںکھے بھر آئی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تو پھِر یے بچّا کِسکا ہے آرتی رانی &quot;میں چوںک گیا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;یے بچّا بھی آپ جیسے کِسی بابُو کا ہے بابُوجی دو سال پہلے اُنسے ایسے ہی مِلی تھی جیسے آج آپ مِل گیے بابُوجی اؤر اُنہونے اَپنے پیار قی نِشانی یے بچّا میرے پیٹ میں ڈال دِیا &quot; مینے آرتی کو اَپنے پاس کھیںچ لِیا اؤر جی بھر کر چُوما&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;تو کیا تُم میرے بچّے کو بھی جنم دوگی آرتی رانی &quot; دھیرے دھیرے واسنا قی جگہ پیار نے لے لی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; ہاں بابُوجی میں آپکے بچّے کو جنم دُوںگی ، آج آپ اَپنا بچّا میرے پیٹ میں ڈال دو ، بابُوجی آپ کا بچّا آپ ہی قی ترہ ہونا چاہِئے لںبا اؤر تگڑا بابُوجی ۔ ایسے ہی پیار سے میری چھاتِیاں چُوسے جیسے آج آپنے چُوسی ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;سچ آرتی رانی مُجھے تو وِشواس ہی نہی ہو رہا قی تُم میرا بچّا جنوگی &quot; میرا دِل میرے مُوہ کو آ رہا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; اِسمے وِشواس نا کرنے والی کؤن سی بات ہے بابُوجی ۔ میں آپکے ساتھ ایک بِستر پر لیٹی ہُوں ، نںگی پڑی ہُوں ، آپنے چُوس چُوس کر میری چھاتِیاں کھالی کر دی میرِچُچِیاں نِچوڑ ڈالی اؤر اَب میں آپسے ایک بچّے قی بھیکھ ماںگ رہی ہُوں ۔ پلیز بابُوجی مُجھے آپکا بچّا پیدا کرنا ہے &quot; آرتی گِڑگِدنے لگی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;آرتی رانی اِسمے بھیکھ ماںگنے والی کوئی بات نہی ۔ میں تو کھُد چاہتا ہُوں قی تُم میرا بچّا پیدا کرو میری جان &quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; تو پھِر دو نا بابُوجی دیر کِس بات قی ، ڈال دو نا اَپنا بچّا میرے پیٹ میں ، میں تیّار کھڑی ہُوں بابُوجی آاو &quot;آرتی کو کافی جلدی تھی چُدونے قی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; اَبھی تُم پُوری ترہ تیّار کہاں ہو آرتی رانی ، یے گھاگھرا بھی تو کھولنا ہے ، تبھی تو میں تُمہارے پیٹ میں بچّا ڈال سکتا ہُوں &quot; میں مزے لے رہا تھا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;کھول دو گھاگھرا بابُوجی آپکو کِسنے روکا ہے اؤر نہی تو یے لو میں کھُد ہی کھول دیتی ہُوں &quot; کہتے ہُئے آرتی نے ایک جھٹکے سے اَپنے گھاگھرے کا ناڈا کھیںچ دِیا ۔ اَب اُسکا گھاگھرا زمین پر تھا اؤر میری آرتی میرے سامنے بِلکُل نںگی کھڑی تھی ۔ کِتنی سُںدر دِکھ رہی تھی۔ مینے بھی اَپنے سارے کپڑے اُتار دِئے اؤر پُورا نںگا ہوکر آرتی کو باہوں میں اُٹھا لِیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot; آاو آرتی رانی آج میں تُمہاری منوکامنا پُوری کرُوںگا ۔ تُمہارے پیٹ میں اَپنا بچّا ڈالُوںگا اؤر تُمہاری یونِ قی ساری پیاس بُجھا دُوںگا &quot; کہتے ہُئے مینے آرتی کو بِستر پر لِٹا دِیا اؤر کھُد اُسکے اُپر چڑھ گیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;باکی اَگلے بھاگ میں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/6304680803389679730/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_2390.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/6304680803389679730'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/6304680803389679730'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_2390.html' title='شوقین چوت کی چدائی'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-3519149941488211549</id><published>2012-01-16T13:35:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:35:41.028-08:00</updated><title type='text'>چھوٹی بہن کو چودا</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;
&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ہیلو دوستو آج میں اپ کو اپنی کہانی سناتا ہوں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;میرا نام ارسلان ہے اور میں کراچی میں رہتا ہوں میری فمیلی ٦ افراد پر مشتمل ہے جن میں میری تین بہنیں میں امی اور ابو شامل ہیں مجھے سے بری بہن کا نام شہناز ہے عمر ستائیس سال پھر میں عمر پچیس سال پھر مجھ سے چھوٹی بہن گل ناز عمر چوبیس سال آخر میں سب سے چھوٹی آسیہ انیس سال کی ہے ابو کا اپنا بزنس تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ساتویں کلاس میں تھا اور میری بہن آٹھویں کلاس میں تھی مجھ پر نئی نئی جوانی آئی تھی سیکس کا بہت دل کرتا تھا پر گزارا صرف مٹھ پر ہی چلتا تھا ایک دیں میں اسکول سے واپس آ کر کپڑے تبدیل کر رہا تھا کے مجھے برابر سے آواز آئی میں کھڑکی کی طرف گیا اور دیکھا کے میری بڑی بہن اپنے کپڑے تبدیل کر رہی تھی اسکی قمیض اُتری ہوئی تھی اور وو اپنا بریزر اتار رہی تھی اسکا بریزر اترا تو اسکے سفید سفید گول ممے دیکھ کر میرا لنڈ کھڑا ہو گیا اس نے دوسری قمیض پہنی اور اپنی شلوار اتار دی پر میں یہ نہ دیکھ سکا کے شلوار کے نیچے کیا تھا کیونکے اس کی قمیض آگے تھی میرے لئے اتنا ہی کافی تھا کیونکے میں نے پہلی دفعہ کسی کے ممے دیکھے تھے میں نے مٹھ مارنی شروع کی اور فارغ ہو گیا پر آج فارغ ہونے کا مزہ الگ تھا تو دوستو اس کے بعد میں اکثرمٹھ مارتے وقت اپنی بہن کا خیال دل میں رکھتا تھا پر کچھ کرنے کی ہمت نہ تھی جب میں نویں کلاس میں پہنچا تو اس وقت ایک فلم نینا آئی تھی وو میں نے دیکھی اور اور اس کے بعد اپنی بڑی بہن کو چودنے کا پلان بنانے لگا پر یہ ہی تو مشکل تھی کے کیسے ایک دیں ہم دونو اسکول سے واپس آے تو میری بہن کپڑے تبدیل کرکے سونے چلی گئی ایک گھنٹے کے بعد میں اس کے کمرے میں گیا تو سو رہی تھی امی اور دوسری بہنیں دوسرے کمرے میں تھیں میں نے اپنی بڑی بہن کے ایک ممے پر ہاتھ رکھا اور اس کو دبانے لگا مجھے مزہ آ رہا تھا مزے مزے میں میں نے زور سے دبا دیا اور وو جاگ گئی مجھے اتنا قریب دیکھ کر ڈر گئی اور بولی کیا کر رہے ہو میری تو آواز ہی بند تھی بڑی مشکل سے جواب دیا کے میری بک نہیں مل رہی تپ کے چلائی امی ...امی آئیں تو میری بہن بولی اس سے پوچھیں یہ کیا کر رہا تھا امی بولیں کیا مسلہ ہے تو میں نے جواب دیا کے میری بک نہیں مل رہی امی مجھے باھر لے آئیں اور بولیں کے جہاں جوان بہن سو رہی ہو وہاں نہیں جاتے میں بولا ٹھیک ہے اس کے بعد کبھی کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی پر اپنی بہن کو چودنے کا بہت دل کرتا تھا وقت گزرتا رہا اسی دوران ہم دونوں نے انٹر پاس کر لیا اسی دوران میرے ابو کا انتقال ہو گیا اور میں کاروبار میں مصروف ہوگیا وقت گزرتا رہا چونکے اب کاروبار میرے ہاتھ میں تھا پیسہ تھا پاس دو تین دفعہ چودائی بھی کر چکا تھا پر اپنی بہن کو چودنے کا خیال دل سے نہیں نکال پا رہا تھا بلکے اب تو ضد سی ہو گئی تھی یہ جون ٢٠٠٣ کی بات ہے میں اپنے کمرے سے باہر آیا تو دیکھا کے میری بڑی بہن کپڑے دھو رہی تھی اس نے لان کا سوٹ پہنا ہوا تھا جو گیلا ہو کے اس کے جسم سے چپکا ہوا تھا اس کی ایک ایک چیز نظر آ رہی تھی میرا لنڈ کھڑا ہو گیا میں باتھ روم گیا اور مٹھ ماری تو تھوڑا سکون ملا اس دن میں نے سوچ لیا کے ایک دفعہ تو اپنی بڑی بہن کو چودوں گا اس کے بعد جو ہو گا دیکھا جاۓ گا ایک دن میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کے ایک آئیڈیا آیا میں جلدی آفس سے نکلا راستے سے میں نے نیند کی گولیاں خرید لیں گھر آ کے امی کو بولا چلو آج کھانا باہر کھائیں گے امی بولیں ہاں جب سے تیرے ابو فوت ہوے ہیں بچیاں باہر نہیں گیں سب خوش ہو گے اور تیار ہو کر گاڑی میں بیٹھ کر سی ویو کی طرف چلے راستے سے میں نے تکے لئے پر پانی جان کے نہیں لیا پھر میں نے گاڑی مرینا کلب والے روڈ پر موڑ دی وو راستہ ویران رہتا ہے وہاں بیٹھ کے ہم لوگوں نے کھانا کھایا سب کو پیاس لگی تو میں بولا ارے پانی تو لیا ہی نہیں آپ کھاؤ میں دو منٹ میں آیا میں جلدی سے کے ایف سی آیا اور وہاں سے کولڈرنک لی باہر آ کر میں نے ایک کے سوا سب میں نیند کی گولیاں ملا دیں میں امی لوگوں کے پاس آیا سب کا پیاس سے برا حال تھا میں نے سب کو کولڈرنک دی جو انہوں نے پی لی پھر میں بولا چلو اب مین سی ویو چلتے ہیں وہاں جا کر میری بہنیں پانی مین جانے کی ضد کرنے لگیں پر امی نے اجازت نہ دی مجھے معلوم تھا کے یہ پانی مین تھک جایں گی اور گولی بھی جلد اثر دکھاۓ گی مین نے امی کو بولا مین ان کے ساتھ جاتا ہوں امی بولیں جلدی آنا وو سب خوشی خوشی پانی میں گیں اور ایک دوسرے پر پانی ڈالنے لگیں میں نے بھی اپنی بڑی بہن کو ٹارگٹ کیا اور اس کو پورا گیلا کر دیا اس کا جسم نظر آنے لگا میرا لنڈ پھر کھڑا ہونے لگا پر میں نے صبر کیا ایک گھنٹے کے بعد میں نے دیکھا کے سب اب برے طریقے سے تھک گیں ہیں ہم لوگ پانی سے باہر آے امی کی بھی نیند سے بری حالت تھی وو بولیں چلو گھر چلیں ہم لوگ رات ١١ بجے گھر آے سب کا نیند سے برا حال تھا سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گۓ میں اب لیٹ کے انتظار کرنے لگا رات دو بجے میں اپنی بہنوں کے کمرے میں گیا وو سب سو رہی تھیں پھر میں امی کے کمرے میں گیا وو بھی گہری نیند میں تھیں میں واپس اپنی بہنوں کے کمرے میں آیا اور اپنی بڑی بہیں کے پاس لیٹ گیا اور اس کو دیکھنے لگا کیا چیز تھی وو پھر میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور سہلانے لگا پھر میں نے اپنا ہاتھ اس کی چھاتی پر رکھا مجھے ایک دم کرنٹ لگا اسنے بریزر نہیں پہنا تھا شاید آ کے اتار دی تھی میں نے اس کی قمیض اوپر کی اور اسکے ممے چوسنے لگا پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ان کو چوسنے لگا میں نے اپنی بہن کی شلوار اتارنی چاہی تو دیکھا کے اس نے آزاربند باندھ ہوا ہے میں نے وو نہیں کھولا پھر میں نے اپنے کپڑے اتار دیے اور اپنی بہن کی سائیڈ پی بیٹھ کر اس کے ممے چوسنے لگا میری منزل میرے سامنے تھی پر میں اندر نہیں کرسکتا تھا کیونکے اس کو پتا چل جاتا اور ہنگامہ ہو جاتا میں نے سوچا کیوں نہ بہن کی چوت چاتی جائے شلوار تو اتاری نہیں تھی میں نے اپنی بہن کی ٹانگیں کھول کر اس کی چوت پر اپنا منہ رکھا مجھے عجیب سی بو محسوس ہوئی اور میرا دل خراب ہو گیا دوبارہ ہمت نہ ہوئی پھر میں اٹھا اور اپنی بہن کے گال گال دبا کر جگہ بنائی اور اس میں اپنا لنڈ ڈالنے لگا پر نہیں دل سکا پھر میں اپنی بہن کے اوپر آیا اور اس کے مموں میں اپنا لنڈ رگڑنے لگا مجھے بہت مزہ آ رہا تھا پھر میں فارغ ہوگیا میری منی میری بہن کے سینے اور گردن پر گری تھی میں نے وو صاف کی اور اس کے کپڑے سہی کر کے اپنے کمرے میں آ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں پھر ان کے کمرے میں گیا اب میرے دماغ میں کچھ نیا تھا اب میں اپنی چھوٹی بہن گلناز کے بس گیا اور اس کی قمیض اوپر کرکے اس کے ممے چوسنے لگا اس نے پینٹ پہنی تھی میں نے آرام سے اس کی پینٹ اتار دی اور اس کو اٹھا کر بڑی بہن کے پاس لے آیا اور بڑی بہن کی قمیض اوپر کر دی اور اس کے ممے چوسنے لگا اب میں اپنی چھوٹی بہن کے اوپر لیت گیا اور اپنا لنڈ اس کی چوت پر رگڑنے لگا اور ساتھ ساتھ بڑی بہن کے ممے چوسنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا میرا دل چوت چاٹنے کو کر رہا تھا پر اس بو سے ڈر تھا میں فریج کے پاس آیا اور اس میں سے سرکے کی بوتل نکال کر ایک کپڑے پر سرکا لگایا اور اس سے اپنی چھوٹی بہن کی چوت صاف کرنے لگا سرکا ہر قسم کی بو ختم کر دیتا ہے اور ہو گئی پھر میں نے اپنی چھوٹی بہن کی چوت چاٹنے لگا پھر میں نے اپنا لنڈ اپنی چھوٹی بہن کی چوت پر رگڑنے لگا پر اندر نہیں کیا اور بڑی بہن کے ممے چوسنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں فارغ ہو گیا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;br style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot; /&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;جی دوستو ابھی کہانی بہت ہے پر پتا نہیں اپ کو پسند آئی یا نہیں اگر پسند ہے تو مجھے رپلائی کرنا میں اور اپ کی خدمت میں پیش کروں گا ورنہ یہیں ختم کر دوں گا مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;
&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/3519149941488211549/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_6302.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/3519149941488211549'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/3519149941488211549'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_6302.html' title='چھوٹی بہن کو چودا'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-4086972600201553390</id><published>2012-01-16T13:34:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:34:25.507-08:00</updated><title type='text'>زبردست چدائی مالِش کیساتھ</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;میری اِس کہانی کو پڑھنے والی سبھی چُوتوں اؤر لؤڑوں کو میرا بار بار سلام !&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوستو ! اِس کہانی کو پڑھکر چُوتیں اؤر لنڈ پانی چھوڑ دیںگے، یہ میرا آپسے وادا ہے اؤر آپکا بھی من چُدائی کے لِئے بیکرار ہو جاّیگا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوستوں میرا نام سُنیل ہے، اُمر 28 اؤر لمبائی 6 فُٹ ہے ۔ ہمارا پرِوار ایک سںیُکت پرِوار ہے۔ میں آج آپکو اَپنے جیون کی ایک سچّی گھٹنا کے بارے میں بتانے جا رہا ہُوں۔ اِسکے باد سے تو میری جِندگی ہی ایک سیکسی فِلم جیسی ہو گئی۔ ہمارے پرِوار کے سدسے کِسی کی شادی میں گئے ہُئے تھے اؤر ہمارے گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اِس لِیے میں شام کو گھر واپِس آ گیا اؤر پڑوس والی چاچی کے گھر چلا گیا۔ میرے چاچا فؤج میں تھے اؤر کُچھ دِن پہلے ہی چھُٹّی بِتاکر واپِس گئے تھے اِسلِیے میری چاچی گھر پے اَکیلی رہتی تھی۔ گھر میں ویسے تو اُنکے ساس سسُر بھی تھے پر وو بات کہاں تھی کِ جو اُنکے سُکھ دُہکھ باںٹ سکیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میری چاچی کی اُمر 26 سال اؤر لمبائی 5&#39;8&quot; ہے اؤر اُنکی فیگر 36-32-36 کی ہے اُنکی شادی کو سات سال بیت چُکے تھے۔ پر اُنہیں اؤلاد کا سُکھ نسیب نہیں ہُآ تھا۔ آج بھی وو بڑی سیکسی نزر آتی ہیں۔ جب پہلے بھی کبھی میں اؤر چاچی گھر میں اَکیلے ہوتے تھے تو میںنے کئی بار جھُک کر کام کرتے سمے اُنکی گوری-گوری چھاتی دیکھی تھی۔ اُنکے وو بڑے بڑے ستن ہمیشا ہی میری آںکھوں کے سامنے گھُومتے رہتے تھے۔ میری ماں نے چاچی کو کہ رکھا تھا کِ رات کو ہمارے گھر پر سو جانا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شام کو میں چاچی کے گھر چلا گیا۔ جب چاچی گھر کا کام کر رہی تھی، اُنہوںنے کالے رںگ کا سُوٹ اؤر سپھید سلوار پہنا ہُآ تھا۔ گرمی کا مؤسم ہونے کے کارن اُنکے کپڑے پتلے تھے اؤر اُسمیں سے اُنکے اَںدرُونی کپڑے برا اؤر چڈّی ساف نزر آ رہے تھے۔ میں اُس وکت ٹیوی دیکھ رہا تھا لیکِن میرا پُورا دھیان چاچی کی گاںڈ اؤر بڑے بڑے ستنوں پر تھا۔ رات کو کھانا کھاکر میں اَپنے گھر آ گیا۔ چاچی نے کہا کِ وو کام نِپٹا کر تھوڈی دیر میں آ رہی ہے۔ مُجھے دیر تک ٹیوی دیکھنے کی آدت ہے اِسلِیے میں کریب رات 9:30 تک ٹیوی دیکھتا رہا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تبھی چاچی آ گئی۔ اُسکے باد میںنے گھر کے سبھی درواجے چیک کرکے بںد کر دِئے۔ میںنے چاچی کا بِستر بھی اَپنے کمرے میں لگا دِیا تھا۔ تھوڑی دیر تک ہمنے ٹیوی دیکھا، پھِر چاچی مُجھسے کہنے لگی کِ اُسے نیںد آ رہی ہے اؤر وو سو رہی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میںنے کہا- ٹھیک ہے، تُم سو جاّو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اُسکے باد میں کریب ایک گھںٹا اؤر ٹیوی دیکھتا رہا۔ سونے سے پہلے جب میں پیشاب کرنے کے لِیے جانے لگا تو میںنے دیکھا کِ چاچی اَبھی تک جاگ رہی ہے۔ میںنے پیشاب کرکے واپِس آ کر چاچی سے پُوچھا- کیا بات ہے، آپکو نیںد کیوں نہیں آ رہی؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو چاچی نے بتایا کے اُسکے پیٹ میں بڑا درد ہو رہا ہے۔ تو میںنے اُنسے پُوچھا کِ کیا میں اُنکی کوئی مدد کر سکتا ہُوں تو اُنہوںنے کہا- پلیز ! سرسوں کے تیل سے میرے پیٹ کی تھوڑی مالِش کر دوگے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو میںنے کہا- ٹھیک ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں سرسوں کا تیل لیکر آ گیا۔ اُنہوںنے اَپنے پیٹ پر سے کمیج اُوپر کر دِیا، میںنے اُنکے پیٹ کی مالِش کرنی شُرُ کر دی۔ میں کریب 30 مِنٹ تک اُنکی مالِش کرتا رہا۔ اُسکے باد اُنکے پیٹ کا درد کُچھ ٹھیک ہو گیا پر اَبھی بھی تھوڑا سا تیل بچ گیا تھا تو اُنہوںنے کہا کِ اِسے اُنکی پیٹھ پر لگا دو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چاچی کی پیٹھ سے اُنکا کمیج ٹھیک سے اُوپر نہیں ہو رہا تھا تو چاچی بولی- چلو میں کمیج ہی اُتار دیتی ہُوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چاچی کمیج اُتار کر لیٹ گئی اؤر میں اُنکی لاتوں پر بیٹھ کر اُنکی پیٹھ کی مالِش کرنے لگ گیا۔ ایسا کرتے سمے میںنے کئی بار اَپنا ہاتھ اُنکے ستنوں پے لگایا پر وو کُچھ ن بولی۔ پھِر مالِش کرنے کے باد اَپنے بِستر میں چلا گیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اَبھی مُجھے لیٹے ہُئے تھوڑا وکت ہی ہُآ تھا کِ چاچی میری چارپائی کے پاس آ گئی اؤر میرے اُوپر بیٹھ گئی۔ مُجھے پتا نہیں چل رہا تھا کِ میں کیا کرُوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میںنے چاچی سے پُوچھا- آپ یہ کیا کر رہی ہو؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو وو بولی- آج تُونے میرے ستنوں کو ہاتھ لگا کر کئی سالوں سے میرے اَںدر کی سوئی ہُئی اؤرت کو جگا دِیا ہے اؤر اَب اِسکی گرمی کو ٹھںڈا بھی تُمہیں ہی کرنا پڑیگا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وو چاچی جِسکے ساتھ نںگا سونے کے میں سِرف سپنے ہی دیکھتا تھا وو آج میرے اُوپر بِنا کمیج کے بیٹھی ہُئی تھی۔ میرا سپنا سچ ہونے جا رہا تھا اِس لِیے میں بہُت کھُش تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھِر میںنے اؤر چاچی نے اَپنا کام شُرُ کر دِیا۔ اُسنے اَپنے ہوںٹھ میرے ہوںٹھوں میں ڈال لِیے اؤر 10 مِنٹ تک مُجھے چُومتی رہی۔ پہلے مینے اَپنی جیبھ چاچی کے مُںہ میں ڈال دی اؤر پھِر اُسنے میرے۔ پھِر چاچی نے اَپنی سلوار اُتار دی اؤر اَب اُسنے سِرف برا اؤر چڈّی ہی پہنی ہُئی تھی۔ پھِر وو بِستر پر لیٹ گئی اؤر میں اُسکے اُوپر۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھِر ہم دونوں کافی وکت تک ایک دُوجے کو چُومتے رہے، کبھی میں اُسکی چھاتی کو چُومتا، کبھی اُسکے پیٹ کو، تو کبھی لاتوں کو۔ پھِر چاچی نے اَپنی برا اُتار دی اؤر میںنے اُنکے بڑے بڑے بُوبس چُوسنے شُرُ کر دِیا۔ اُسکے چُوچُک سکھت ہو گئے تھے اؤر چُوچی سکھت کٹھور ہوتی جا رہی تھی۔ میں اُنہیں مست ہوکر چُوسے جا رہا تھا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھِر چاچی نے اَپنی چڈّی بھی اُتار دی اؤر میرے ساتھ لیٹ گئی۔ چاچی کی چُوت بہُت بڑی تھی۔ میںنے اُسکو چاٹنا شُرُ کر دِیا۔ پھِر 5-6 مِنٹ میں چاچی پہلی بار جھڑ گئی۔ اُسکے باد چاچی نے میرا بڑا سا لںڈ اَپنے مُںہ میں ڈال لِیا اؤر چُوسنے لگ گئی میںنے بھی اُنکے مُںہ میں ہی پِچکاری مار دی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھِر چاچی نے کہا- چلو اَب اَسلی کام کرتے ہیں !&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چاچی ٹاںگوں کو تھوڑا کھول کر سیدھی لیٹ گئی۔ میںنے اُوپر سے اَپنا لںڈ چاچی کی چُوت میں ڈال دِیا، وو بہُت کھُش تھی کیوںکِ آج بہُت وکت باد اُسکی چُوت میں لںڈ گھُسا تھا۔ میںنے لںڈ کو آگے پیچھے کرنا شُرُ کر دِیا۔ چاچی نے بھی آآاَ اِیئے اُواُوہ ماآ ہاآ ہاَّ کی آوازیں نِکالنی شُرُ کر دی۔ میں کریب تیس مِنٹ تک چاچی کی چُوت چودتا رہا، اِسمیں چاچی دو بار جھڑ چُکی تھی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھِر میںنے چاچی کو کہا- میں اَب تُمہیں گھوڑی کی ترہ چودنا چاہتا ہُوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چاچی گھوڑی بن گئی، میںنے لںڈ کو پیچھے سے اُسکی چُوت میں گھُسیڑ دِیا۔ چاچی کی چُوت پیچھے سے بڑی تںگ مہسُوس ہو رہی تھی۔ اُنہیں درد ہُآ اؤر وو چِلّا دی- آایئیئیئیئیئیئیئیئے ماآّآّاَ !&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میںنے جور جور سے لںڈ آگے پیچھے کرنے شُرُ کر دِیا اؤر 15 مِنٹ تک چاچی کو چودتا رہا۔ میںنے چاچی جیسی گرم اؤرت کی کبھی نہیں لی تھی۔ پھِر میرا چھُوٹ گیا اؤر میں چاچی کو چُومنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر میں ہی لںڈ پھِر سے سلامی دینے لگا۔ پھِر چاچی نے بولا کِ میں ایک بار پھِر اُنکی چُوت مارُوں !&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اِس بار وو میرے اُوپر بیٹھ گئی اؤر اَپنے آپ ہِل ہِل کر دھکّے دینے لگی۔ مُجھے بڑا مزا آ رہا تھا۔ پھِر میںنے اُس ساری رات چاچی کی چار بار چُوت ماری۔ چاچی نے مُجھسے سُبہ کہا کِ اَب اُنکی تمنّا جرُور پُوری ہو جایّگی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اِسکے باد جب بھی ہمیں مؤکا مِلتا، ہم یہ کھیل کھیلتے رہے۔ کُچھ مہینے باد چاچی نے ایک دِن مُجھے بتایا- میں ماں بنّے والی ہُوں اؤر یہ سب تُمہاری ہی بدؤلت ہے کِ مُجھے ماں بنّے کا سُکھ مِلا ہے پر مُجھے ڈر ہے کِ تُم کہیں یے سب کِسی کو کہ ن دو۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میںنے چاچی کو وِشواس دِلایا کِ ایسا کبھی نہیں ہوگا اؤر یہ بات ہمارے بیچ ہی رہیگی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اُس دِن سے آج تک پتا نہیں میں کِتنی ہی ایسے چاچِیوں اؤر بھابھِیوں کو یے سُکھ دے چُکا ہُوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو دوستوں مُجھے میل کرنا ن بھُولیں، آپکے میل کا اِںتجار رہیگا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/4086972600201553390/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_9885.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4086972600201553390'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4086972600201553390'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_9885.html' title='زبردست چدائی مالِش کیساتھ'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-4161627261424164144</id><published>2012-01-16T13:33:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:33:30.888-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ ایٹھ لاسٹ</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﯿﮟ ﺳﻮچ ﮨﯽ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں اﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ڈال ﻟﯿﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫آ ﻣّﺎ, ُﻮ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﭼﻮس ﻟﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ اب ﻧﺨﺮے ﮐﺮے ﮔﯽ. ﺳﺎﻟﯽ ڈرﺗﯽ ﮨﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﮯ ﺳﮯ. ﻣﺎں ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ دور ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻠﭩﯽ اور اس ﮐﺎ ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ڈاﻟﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ .‬ ‫ﭨ‬ ‫ُﻮ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﭼﻮس اور ﭘﮭﺮ ﺑﺎزو ﮨﭧ. ﻣﯿﮟ ﻣّﺎ ﺳﮯ ﭼﺪواؤں ﮔﯽ آج, ﭘﮭﺮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮد ڈاﻟﻨﺎ. ﺑﮍا آﯾﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ واﻻ!‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻓﺎﻟ ُﻮ ڈرﺗﯽ ﮨﻮ آپ ﻣﺎﻟﮑﻦ. ِّﺎ ﺳﺎ ﯾہ ﻧﺎزک ﺑﯿﭩﺎ آپ ﮐﺎ, اس ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ﻣﺮوا ﻟﯽ, اور ﺗﻮ اور ﮐﻞ رات ﺑﮭﺮ ﻣﺮواﺗﺎ رﮨﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اﺗ‬ ‫ﺘ‬ ‫دﯾﮑﮭﻮ ذرا ﺑﮭﯽ ڈرﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ, ﮐﯿﺴﺎ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ دﯾﮑﮭﻮ ذرا. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ﻣﺎں ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧﺨﺮے ﮐﺮﺗﯽ رﮨﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﺳﮯ ﭘﺮارﺗﮭﻨﺎ ﮐﯽ.‬ ‫ﻣﺎں, ﻣﺮوا ﻟﻮ ﻧﺎ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ, ﺑﺎﻟﮑﻞ دھﯿﺮے دھﯿﺮے, زﯾﺎدﮦ ﻧﮩﯿﮟ ُﮐﮭﮯ ﮔﺎ.‬ ‫د‬ ‫ﭨ‬ ‫واﮦ رے ﺑﮍا آﯾﺎ ِﻔﺎرش ﮐﺮﻧﮯ واﻻ. ُﻮ ﻣﺮوا ﮐﺮ ِﮐﮭﺎ اﯾﮏ ﺑﺎر. ذرا ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ دﯾﮑﮭﻮں ﮐﺘﻨﺎ دم ﮨﮯ ﺗﺠﮫ ﻣﯿﮟ? ﻣﺠﮭﮯ ُﻻﮨﻨﺎ‬ ‫ا‬ ‫د‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺳ‬ ‫دﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اب ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮس رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ُﺮﻧﺖ اﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣّﺎ آ ﺟﺎ ﻣﯿﺮے راﺟہ, ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻟﻮں. ارے ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺗﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﮨﮯ رے ﻣﯿﺮے ﭘﯿﺎرے. ﭘﮭﺮ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺑﮭﯽ ﻣﺮوا ﻟﮯ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮔﯽ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﯾہ ﮔﻮری ﭘﮩﺎڑ ﺳﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺮا ﺟﺎ رﮨﺎ ﮨﻮں.‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اس ﮐﺎ ﯾہ ورﻧﺎن ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ. ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں وﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﭘﯿﮯ ﻣﺎﻧﺴﻞ ﺑﺪن ﮐﯽ ﺗﮭﯽ. ﭘﺮ اس ﮐﮯ ﮐﻮﻟﮩﮯ اﭼﮭﮯ‬ ‫ﭼﻮڑے ﺗﮭﮯ اور ﭼﻮﺗﮍ ﺑﮭﯽ ﺗﺮ ُﻮز ﺟﯿﺴﮯ ﺗﮭﮯ. ﭘﮩﺎڑ ﺳﯽ ﮔﺎﻧﮉ! ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﯾہ ﺷﺒﺪ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ اور دﯾﮑﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮواﻧﮯ ﮐﻮ ﺗّﺎر ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ اس ﻣﺘﻮاﻟﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ اﭘﻨﮯ ُﻮدا ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔ ُﺴﻨﮯ ﮐﮯ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ِﮩﺮ اﭨﮭﺎ ﺗﮭﺎ, روﻣﺎﻧﭻ ﺳﮯ اور ﮐﭽﮫ ڈر ﺳﮯ. ﺑﮩﺖ ُﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ.‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮے ﻣﻦ ﮐﯽ ﺑﺎت ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ. ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﮑﺎر ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺮوا ﻟﮯ ﻣّﺎ. آج ﻧﮩﯿﮟ ُﮐﮭﮯ ﮔﺎ. ِﮐﮭﺎ دے ﺗﯿﺮی ِﻨﺎل ﻣﺎں ﮐﻮ, ﻣﺮواﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ. اور ُﻮ اﺗﻨﺎ ﺑﮩﺎدر ﮨﮯ, ﭼﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭼ‬ ‫د‬ ‫د‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ُﺪوا دﯾﺘﯽ ﮨﻮں. ُﻮ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﭼﻮد اور ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﻮدے ﮔﺎ. ﮐﯿﻮں ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﮨﮯ ﻣﻨﻈﻮر?‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﺎں ﺑﮍے ﻧﺨﺮے ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮاﺋﯽ اور ﮨﺎں ﮐﺮ دی. ﺷﺎﯾﺪ اس ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﻮ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺒﺮا ﺟﺎؤں اور ﻣﻨﻊ ﮐﺮ دوں. ﭘﺮ ﯾہ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ‬ ‫ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐہ ﻣﺎں ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮاﻧﮯ ﮐﻮ ﺗّﺎر ﺗﮭﯽ, ﺑﺲ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ُﺪﺗﮯ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ اس ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺎﻧہ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ, ﻣﯿﮟ ﺗّﺎر ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮا ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﮩﺎں ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻼ ﺗﮭﺎ وﮨﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﮔﮭﺴﯿﮍﻧﺎ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﮨﻮﺋﯽ. ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺎں ﺗﮏ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺗﮑﯿہ رﮐﮫ ﮐﺮ اس ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﻤﺮ اﭨﮭﺎﺋﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭼﮍھ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﭘﺮ. ﭼﻮد ڈال ﺣﺮاﻣﻦ ﮐﻮ. ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮯ آ ﺑﯿﭩﮯ. ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭙﺘﺎ ﮨﺆا ﻣﺎں ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﻮں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭩﮭﺎ اور‬ ‫ﭨ ﮑ‬ ‫ﺟﮭﮏ ﮐﺮ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭘﺮ رﮐﮫ ﮐﺮ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮔﯿﻠﯽ ِﭙ ِﭙﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﺳﭧ ﺳﮯ ﺳﻤﺎ ﮔﯿﺎ. ﻣﺎں ﻧﮯ ﮨﻠﮑﯽ‬ ‫ﭼﭽ‬ ‫ﺳﺴﮑﺎری ﺑﮭﺮی اور ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ اوﭘﺮ ُﻼ ﻟﯿﺎ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮨﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮯ, ﮐﺘﻨﺎ ﮐﮍا ﮨﮯ رے ﺗﯿﺮا ﻟﻨﮉ, اور ﮐﯿﺴﺎ اﭼﮭﻞ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺟﯿﺴﺎ. ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ اس ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮐﻤﺮ ﮐﮯ دوﻧﻮں اور ﺟﮑﮍﯾﮟ اور ﭼﻮﺗﮍ اﭼﮭﺎل ﮐﺮ ﺧﻮد ﮨﯽ ُﺪواﻧﮯ ﻟﮕﮯ. ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ڈھﯿﻠﯽ ﭼﻮت ﺗﮭﯽ‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آﺧﺮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﺗﮭﯽ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﻨﭽﺎ اور ﮨﭽﮏ ﮨﭽﮏ ﮐﺮ‬ ‫ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫اب ﺑﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﺎدر ﭼﻮد! ﭼﻮد ڈال اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ, ﺳﺎﻟﯽ ﻣﮩﺎ رﻧﮉی ُﺘﯿﺎ ﮨﮯ. دس دس ﻟﻨﮉوں ﺳﮯ ُﺪوا ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮے ﮔﺎ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐ‬ ‫اس ﮐﺎ. اﺳﮯ ﺗﻮ ﮔﮭﻮڑے ﮐﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ, ﺳﭻ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮں, اﯾﺴﯽ ِﻨﺎل ﭼﮍﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اور ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﮑﮭﯽ. دھﻨﺪا ﮐﺮے ﺗﻮ ﺑﮩﺖ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭘﯿﺴہ ﮐﻤﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﯾہ رﻧﮉی! ُﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ ُﻮرﮐﮫ? ﺟﻠﺪی ﻣ ّﮭﻦ ﻻ!‬ ‫ﮑ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭘﺮ ﺟﮭّﺎﺋﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮯ ﮐﺮ واﭘﺲ آﯾﺎ اور ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮨﻤﺎرے ﭘﺎس ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ُﭙﮍﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ ﮑ‬ ‫ﻠ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ آ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ اور ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ﻟﻮڑے ﻣﯿﮟ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺑﺮی ﻃﺮح اﭼﮭﻞ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. آدﻣﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ, ﮔﮭﻮڑے ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺎں ِﮩﺮ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﯾہ ڈاﻟﻮ ﮔﮯ ﻣﯿﺮے ﭘﮭﻮل ﺟﯿﺴﮯ ﺑ ّﮯ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ? ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺑﯿﭽﺎرﮦ! ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, ﺗﻮ ﻧﮯ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﺮاﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻞ ﻟﮯ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻟﮯ ﮔﺎ ُﻮ ﯾہ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ُﻤﮏ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﮨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮨﺎں ﻣﺎں, ﻟﮯ ﻟﻮں ﮔﺎ. ُﮐﮭﺘﺎ ﺿﺮور ﮨﮯ ﻣﺎں ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ اﻧﮕﻠﯿﺎں ﭼﺎﭨﯿﮟ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎﻣﺐ اﯾﮏ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﺑﺎر ﭼﻮم ﮐﺮ ﻣﯿﺮے اوﭘﺮ ﭼﮍھ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے ُﻮدا ﭘﺮ ﺟﻤﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ اور ﺳﭧ ﺳﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔ‬ ‫اس ﮐﺎ ﺳﭙﺎڑا ﻣﯿﺮے ُﻮدا ﻣﯿﮟ اﺗﺮ ﮔﯿﺎ. ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﭨﯿﺲ اﭨﮭﯽ اور ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ اﯾﮏ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ. ﻣﺎں‬ ‫ﮔ‬ ‫ﻧﮯ ِﻨ ِﺖ ُ َر ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﭼ ﺘ ﺳﻮ‬ ‫ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﻧﺎ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ُﻨﮉی ﮨﻼ ﮐﺮ ﺣﺎﻣﯽ ﺑﮭﺮی.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﯾﮩﯽ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﮯ, اﭘﻨﯽ ﭼﻮﭼﯽ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دے دو. اس ﮐﺎ ﻣﻨہ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪ رﮨﮯ ﮔﺎ اور اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ دودھ ﺑﮭﯽ ﭘﯽ ﻟﮯ‬ ‫ﮔﺎ. ﮔﮭﺒﺮاؤ ﻣﺖ, اﺳﮯ اﮔﺮ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﯾہ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ. ﭘﺮ دﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﺴﮯ آرام ﺳﮯ ﭘﮍا ﮨﮯ ﺗﻤﮩﺎری‬ ‫ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈاﻟﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﭘﺮ دﺑﺎ ﮐﺮ اﯾﮏ ُﻮﭼﮏ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دے دﯾﺎ. دھﮍﮐﺘﮯ ِل ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں‬ ‫د‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﺎ دودھ? ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮭﺎﮔﯿہ وان ﺗﮭﺎ! ﺟﺐ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮔﺮم دودھ ﮐﯽ ﭘﮭﺆار ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭘ َﺗﯽ ﭘﯿﺎر اور وا َﻨﺎ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﺳﮯ ﻣﯿﮟ روﻧﮯ ﮐﻮ آ ﮔﯿﺎ. آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﻮﭼﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻧّﮭﮯ ﺑ ّﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ُﻤﮏ‬ ‫ﮨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭘﮍی.‬ ‫ﮨﺎﺋﮯ, ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ آج ﻣﯿﺮا دودھ ﭘﯽ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﺗﮯ ﭼﻮدﺗﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﮭﺎﺗﯽ ﮐﺎ رس ﭘﯽ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﮟ ﺗﻮ دھﻨﯿہ ﮨﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﺌﯽ. ﮐﮩہ ﮐﺮ وﮦ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﺳﭙﺎڑا ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﺗﺎر ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ اب ﺗﮏ ﺷﺎﻧﺖ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ. اب اس ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﻨﺎ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ. ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ اﻧﭻ اﻧﭻ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮯ اس ﻧﮯ اﭘﻨﺎ آﭨﮫ اﻧﭽﯽ ﻟﻮڑا آﺧﺮ ﺟﮍ ﺗﮏ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ اﺗﺎر دﯾﺎ. آج ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﻮڑا ﮐﻢ ُﮐﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﺲ‬ ‫د‬ ‫اﭨﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﻤﺴﺎ ُﭨﮭﺘﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﻮُﻮ ﭘﯿﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺘﺎ. ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺳﺮ ﮐﻮ اور زور ﺳﮯ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﯽ اور اﭘﻨﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ا‬ ‫ﭼﻮﭼﯽ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺗﮏ ﭨﮭﻮﻧﺲ دﯾﺘﯽ.‬ ‫ﻣﺎں ﺑﺎر ﺑﺎر ﺳﺮ اوﭘﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﻮری ﻧﺎزک ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ُﻮﺳﻞ ﮔ ُﺴﺘﺎ دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﯾہ ﻧﻈﺎرﮦ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ اس‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﮯ ﻧہ رﮨﺎ ﮔﯿﺎ اور ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮐﯿﺎ ﮐﻤﺎل ﮨﮯ, اﺗﻨﯽ ﻧﺎزک ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎ رﮨﺎ ﮨﮯ ﯾہ ﮔﮭﻮڑے ﺟﯿﺴﺎ ﻟﻨﮉ? اور ﻣّﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ. اس ﮐﺎ اور ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﮯ! ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﭩﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ اس ﮐﯽ ﺑﮍا آﺳﭽﺮﯾہ ﮨﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﮍ ﺗﮏ ﻟﻨﮉ اﺗﺎر ﮐﺮ ﺷﺎﻧﺖ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا ّﺎں ﺟﯽ, ﯾہ ﺧﻮﺑﺼﻮرت ﮔﺎﻧﮉ ﺑﻨﯽ ﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ, ﭘﮭﭩﮯ ﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ? اب ﺗﻮ آپ ﮐﻮ ِﺷﻮاس ﮨﻮ ﮔﯿﺎ? ﭼﻠﯿﮯ اب ﻣﯿﮟ‬ ‫و‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﻮں. رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ. اس ﻣّﺎ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺆرگ ﮐﯽ ﺳﯿﺮ ﮨﮯ. ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻻ&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﭼﭗ ﭼﺎپ ﭘﮍا رﮦ راﺟہ, اور ﻣﺎں ﮐﺎ دودھ ﭘﯽ. ﺗﺠﮭﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮورت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ﺟﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ.‬ ‫ﺗ‬ ‫اس ﮐﮯ دھ ّﻮں ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﮯ آپ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫دھ ّﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ. اﻧﺖ ﻣﯿﮟ وﮦ ﭘﻮرے زور ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﻮرا ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ اﻧﺪر‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﮭﭽﺎ ﭘﮭﭻ آواز آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﮨﺎﻧﭙﺘﺎ ﮨﺆا ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫دﯾﮑﮭﯿﮯ ﻣﺎﻟﮑﻦ, اﯾﺴﮯ ﻣﺎری ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮔﺎﻧﮉ, ﻣّﮯ ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ﮐﮯ آﻧﻨﺪ ﮐﻮ دﯾﮑﮭﯿﮯ, اﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺆرگ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ دﯾﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﮯ. اب آپ ﺑﮭﯽ آج رات ﻣﺮوا ﻟﯿﺠﯿﮯ اور ﻣﺠﮫ ﭘﺮ َﯾﺎ ﮐﯿﺠﯿﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮔﺮدن ﻟﻤﺒﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﮯ اس‬ ‫د‬ ‫ُﻮﺳﻞ ﮐﻮ دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ُﺪﺗﯽ دﯾﮑﮫ وﮦ اﯾﺴﮯ ﮔﺮﻣﺎﺋﯽ ﮐہ اﭼﺎﻧﮏ ﺟﮭﮍ ﮔﺌﯽ اور ﺳﺴﮑﺎری ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮد ڈاﻻ ﺟ ُﻤﺮی, ﺳﺎﻟﮯ ﻣﺎدر ﭼﻮد ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﮭﮍاﯾﺎ ﮨﮯ ری اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﺎر ﻟﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ُﮐﮭﮯ ﮔﺎ رے راﺟہ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ اور ﮔﮭﻮ ُﻮ, ذرا ﭼﻮدﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮو اور ﻣﯿﺮی ﺑﺎت ُﻨﻮ. ﭘﮭﺮ ُﮍ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ, اﯾﺴﺎ ﮐﺮو, اب ﻣّﺎ ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮوا ﻟﻮ, وﮦ اﺑﮭﯽ ﺟﮭﮍا ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ, آپ آرام ﺳﮯ ﻣﺮوا ﻟﻮ ﮔﯽ.‬ ‫ﻨ‬ ‫اس ﮐﮯ ﺟﮭﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ُﺮﻧﺖ ﮔﮭﻮُﻮ ﺳﮯ ﻣﺮوا ﻟﯿﻨﺎ. ﻣﺎں اور ﮔﮭﻮ ُﻮ دوﻧﻮں ﮐﻮ ﺑﺎت ﺟﭻ ﮔﺌﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎں‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﮯ اوﭘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺎﯾﺎ. اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮍا ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ارے ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎل ُﻮرﮐﮫ, ﻣّﮯ ﮐﻮ آرام ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﻣﺎرﻧﮯ دے. ﮔﮭﻮُﻮ ِﭽﮏ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ ﺑ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﺎں, ﻧﮑﺎﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﭘﻮرا ﭼﻮد دوں ﻣّﮯ ﮐﻮ ‬ ‫ﻨ‬ ‫ارے ﮐﻞ رات ﺑﮭﺮ ﻣﺎری اس ﮐﯽ, اﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﻣﺎر رﮨﺎ ﮨﮯ, ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ روز ﻣﺎرﻧﺎ ﮨﮯ, آج ﻧﮑﺎل ﻟﮯ, ﺗﯿﺮا‬ ‫ﻟﻨﮉ ﻣﺴﺖ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﮯ اﺑﮭﯽ, ﺟﮭﮍ ﮐﺮ دوﺳﺮی ﺑﺎر ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ اﺗﻨﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ. ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮں ُﻮ اس رﻧﮉی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺳﻨﺴﻨﺎﺗﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﺎرے, ﺗﺐ ﺗﻮ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ ﺣﺮاﻣﻦ ﮐﻮ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺴﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮٹ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب ﯾہ ﺣﻼﺑﯽ ﺳﺎﻧﮉ ﺳﺎ ﻟﻮڑا‬ ‫ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﮔﮍے ﮔﺎ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﮐﯿﺴﮯ ِﻠ ِﻼﺋﮯ ﮔﯽ ﺳﺎﻟﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ﻣﺎں ﻧﺎ ُ ُﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﻧﮑ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﺒ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﭘﮭﮍواﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﯿﺎ? ﺟﮭﺎڑ ﻟﮯ رے ﮔﮭﻮُﻮ ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ, ﭘﮭﺮ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﮭﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی ﻣﺎرﻧﺎ. اب ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ آ ﮔﯿﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﭩﮏ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﺳﭩﺎک ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﻧﮑﺎﻻ. اﺗﻨﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺳﻤﮯ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮩﺖ درد ﮨﺆا. ﺧﺎص ﮐﺮ ﺟﺐ ﺳﭙﺎڑا ﺑﺎﮨﺮ آﯾﺎ. ﭘﺮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ِﻠﮯ ﮔﯽ اس ﺑﺎت ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﺗﮭﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫اس ﻟﺌﮯ ﺑﺲ ذرا ﺳﺎ ِﻠ ِﻼ ﮐﺮ رﮦ ﮔﯿﺎ, ِّﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ.‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﺗﻤ‬ ‫اب ﺗﻮ زﺑﺮدﺳﺘﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍے ﮔﯽ ﻣﺎں ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭘﮑﮍﺗﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺑﮭﯽ اس ﮐﯽ ﮨﺎں ﻣﯿﮟ ﮨﺎں‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ِﻼﺋﯽ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮨﺎں ﺑﯿﭩﮯ, ﯾہ ِﻨﺎل ﻋﻮرت ﺑﮩﺖ ﻧﺨﺮا ﮐﺮ رﮨﯽ ﮨﮯ. ﭼﻞ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﭘﮑﮍﺗﯽ ﮨﻮں, ﻣّﺎ ﭼﻞ ﭼﮍھ ﺟﺎ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﭘﺮ. ﻣﺎں ﮨﻨﺲ ﮐﺮ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ارے ﻣﯿﺮے ُﻻرے ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺮوا ﻟﻮں ﮔﯽ, ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮاؤں ﮔﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ. اس ﮐﯽ آواز ﻣﯿﮟ ﻋﺠﺐ ُﻤﺎر ﺗﮭﺎ. ﻣﻌﻠﻮم‬ ‫ﺧ‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ وﮦ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ُﱠ ِﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ اﯾﺴﺎ ﺑﻮل رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ اس ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮاﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اﺳﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫ﭨ‬ ‫اوﻧﺪھﺎ ُﻼ دﯾﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮍھ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ. ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻮﭨﮯ ِﺷﺎل ِﺘﺎﻣﺒﻮں ﮐﻮ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ اب ﺟ ُﻤﺮی اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧ‬ ‫و‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺟﻠﺪی ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻞ ﻟﯿﻨﺎ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﺳﮯ, اﺑﮭﯽ ﻣﺎر ﻓﭩﺎ ﻓﭧ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ِّﺎﺋﯽ .‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﭨﮭﯿﺮ ﻣّﺎ, ﻣﯿﮟ ﮔﯿﻼ ﮐﺮ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﭘﺮ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ُﻮدا ﻣﯿﮟ ﻣﻨہ ڈال ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮔ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺎں ﮔﺪﮔﺪی ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ارے ﭼﮭﻮڑ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﯿﺒﮫ ڈاﻟﺘﺎ ﮨﮯ رے? اﯾﺴﮯ ﭼﻮس رﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ وﮨﺎں ﺗﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺎل ِﻠﮯ ﮔﺎ? ارے ﯾہ ﭼﻮت ﺗﮭﻮڑے‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮨﯽ ﮨﮯ ﮐہ اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ رس ﻧﮑﻠﮯ! ﮔﮭﻮ ُﻮ اﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں ﺟﯽ آپ ﮐﮯ ﺑﺪن ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺟﮕہ ﻣﺎل ِﻠﮯ ﮔﺎ. ﭼﻞ ﻣّﺎ, ﻣﺎر اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻮرے ﮔﻮرے ﭼﻮﺗﮍوں‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﯿﭻ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﮔﺎڑ دﯾﺎ. دو دھ ّﻮں ﻣﯿﮟ ﻟﻮڑا ﭘﻮرا ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ اﻧﺪر ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. وﮦ ﺗﮭﻮڑا ﮐﺮاﮦ اﭨﮭﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‬ ‫ﮑ‬ ‫اﺗﻨﺎ ﺳﺎ ﺑ ّہ ﮨﮯ ﻣﯿﺮا ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ دﯾﮑﮫ ﻟﻨﮉ ﮐﯿﺴﺎ ﺳﺨﺖ ﮨﮯ, ﻣﺠﮭﮯ اس ﻧّﮭﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﮨﯽ ُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﺗﯿﺮا ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﻮں‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮔﯽ?‬ ‫ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻟﯿﮟ ﮔﯽ ﻣﺎں ﺟﯽ, ﺑﮩﺖ آرام ﺳﮯ دوں ﮔﺎ. اب ﻣﺎر ﻣّﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮورت ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ, ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ُﺪاز ﮔﺎﻧﮉ ﮐﯽ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﮐﯽ ﻣﺘﻮاﻟﯽ ﺟﮑﮍ ﺳﮯ اﺗﻨﺎ ﻣﺴﺖ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﭘﺴﺘﺎن ﭘﮑﮍ ﮐﺮ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﭘﻮرے زور ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣﺎں, ﻣﯿﺮی ﭘﯿﺎری ﻣﺎں, ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﺎں, ﺗﻤﮩﺎری ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﺎﺗﺎ ﺟﯽ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ زوروں‬ ‫ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫&#39;ﻣﺎر ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﺰا ﮐﺮ ﻟﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ُﻮ ﺳﭻ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ, ﯾہ ﺑ ّﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﮐﺮ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮش ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ! اور ﺗﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﮍا ﮨﮯ. ُﻮ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﻣﺮوا ﻟﻮں? ﻣﺎں ﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ اس ﮐﺎ ُﻤﺒﻦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﻣﺮا ﻟﻮ ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﺗﮭﻮڑا درد ﮨﻮ ﮔﺎ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ. اور اﺻﻞ ﻣﺰا ﺗﺐ آﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ اﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ُﺪو ﮔﯽ,‬ ‫ﭼ‬ ‫اﯾﮏ ﻟﻨﮉ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اور اﯾﮏ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ. دوﻧﻮں اب ﺑﺎری ﺑﺎری ﺳﮯ ان دوﻧﻮں ﺑ ّﻮں ﺳﮯ اﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺮاﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ُﱠ ِﺖ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﯾہ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ اﭼﺎﻧﮏ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫ارے اﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﯿﺮا? اﺑﮭﯽ اﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣّﺎ, ﺟﻠﺪی ﺟﮭﮍے ﮔﺎ ﮨﯽ. ُﻮ ﻓﮑﺮ ﻣﺖ ﮐﺮ ﻣّﺎ, اﮔﻠﯽ ﺑﺎر اﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ رات ﺑﮭﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗﯿﺮی ِﻨﺎل ﻣﺎں ﮐﯽ, ﺗﺐ اﺳﮯ ﺷﺎﻧﺘﯽ ِﻠﮯ ﮔﯽ. اب ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ُﻮ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎ. ﺑ ّﮯ ﺳﮯ ﻣﺮوا ﮐﺮ ﯾہ ﭼﮍﯾﻞ ﺧﻮش ﮨﻮ رﮨﯽ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮨﮯ. ذرا ﺗﯿﺮے ُﻮﺳﻞ ﺳﮯ ﻣﺮواﺋﮯ, ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻧﻮں.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮨﺎں ﮨﺎں, ڈال دے ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﻣﯿﮟ ڈرﺗﯽ ﮨﻮں ﮐﯿﺎ, ﭼﻞ آ ﺟﺎ ﻣﯿﺪان ﻣﯿﮟ. ﻣﺎں اب ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ. اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮ رﮨﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﯽ. ﻣﺠﮭﮯ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮﺳﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اب ﺗﻮ ﻣﺎل ﮨﮯ ﻣﺎﻟﮑﻦ آپ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ, ﻣّﮯ ﮐﯽ ﻣﻼﺋﯽ ﮨﮯ, اﺳﮯ ﺗﻮ ﭼﮑﮫ ﮨﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮں. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﮯ ُﻮدا ﮐﻮ ﭼﺎﭨﻨﮯ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﻌﺪ اس ﻧﮯ ﻣ ّﮭﻦ ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﮑﻨﯽ ﮐﯽ. دو ﺗﯿﻦ ﻟﻮﻧﮉے ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈال دﯾﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﺧﻮب ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎ دﯾﺎ اور ﭘﮭﺮ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﭘﺴﺎر ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ, اب آپ ﻣﯿﺮے ﭼﻮت ﭼﻮﺳﻮ آرام ﺳﮯ, رس ﮐﺎ ﻣﺰا ﻟﻮ. اس ﺳﮯ درد ﮐﻢ ﮨﻮ ﮔﺎ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﺎ ﺳﺮ اﭘﻨﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ڈال ﻟﯿﺎ اور اﺳﮯ ِﭙﭩﺎ ﮐﺮ آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﭘﺮ ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﮯ ِﺘﺎﻣﺐ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ اور اﭘﻨﺎ ﺳﭙﺎڑا زور ﻟﮕﺎ ﮐﺮ اﻧﺪر ڈال دﯾﺎ. ﻣﺎں ﮐﺎ ﺷﺮﯾﺮ ِﮩﺮ اﭨﮭﺎ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﺳﮯ ﮨﯽ دﺑﯽ آواز ﻣﯿﮟ وﮦ ِّﺎﺋﯽ.‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫اوﺋﯽ ! ﻣﺎں !, ﻣﺎر ڈاﻟﮯ ﮔﺎ رے ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ? ﻟﻨﮉ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺳﻮﻧﭩﺎ? ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﻮ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﺳﮩﻼﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ﺑﺲ ﻣﺎﻟﮑﻦ, اب درد ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ. ‪ آب نے ‬ﺧﻮد دﯾﮑﮭﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﻣّﺎ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ آﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ. اب آپ آرام ﺳﮯ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮﺳﻮ, ﻣﯿﮟ ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ آپ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ﻟﻮڑا دﯾﺘﺎ ﮨﻮں.‬ ‫دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻮرے ﮔﻮرے ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﮔﺎڑ دﯾﺎ. وﮦ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر اور ﺳﺎؤدھﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﯾہ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﺮی ﻣﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ اس ﻧﮯ اﺗﻨﯽ ﺳﺎؤدھﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺘﻨﯽ وﮦ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﮔ ُﺴﺎﺗﮯ ﺳﻤﮯ ﺑﺮت‬ ‫ﮭ‬ ‫رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ذرا ﺑﮭﯽ ﮐﺴﻤﺴﺎﺗﯽ ﺗﻮ وﮦ رک ﺟﺎﺗﺎ. ﭘﻮرا ﻟﻮڑا ﮔ ُﺴﺎ ﮐﺮ وﮦ رﮐﺎ اور ﭘﮭﺮ اﺳﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﻣﭩﮭﯿﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫درد ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ رﮨﺎ ﻣﺎﻟﮑﻦ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺎں ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ, ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮﺳﺘﯽ رﮨﯽ. اب وﮦ اﭘﻨﮯ آپ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ اﭼﮭﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺴﮑﺮا ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ارے دﯾﮑﮭﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﯾہ رﻧﮉی? اب ﻣﺎر آرام ﺳﮯ, ﺳﺎﻟﯽ ﺧﻮب ﻣﺮاﺋﮯ ﮔﯽ اب دﯾﮑﮭﻨﺎ. ﻓﺎﻟ ُﻮ ﻧﺨﺮا ﮐﺮ‬ ‫ﺘ‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. اﯾﮏ ﺑﺎر ﭼﺴﮑﺎ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ, ﻣّﺎ, ُﻮ دﯾﮑﮭﻨﺎ اب ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮاﻧﺎ زﯾﺎدﮦ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮے ﮔﯽ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ُﺮﻧﺖ ﻣﺎں ﭘﺮ ﭼﮍھ‬ ‫ﭨ ﺗ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﮔﯿﺎ اور اس ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﻏﭽﺎﻏﭻ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﮐﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﺗﮕﮍے ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ُﻮدا ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺎں ﭘﮭﺮ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﮐﺴﻤﺴﺎ اﭨﮭﯽ. ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اس ﮐﺎ ﻣﻨہ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﭘﺮ دﺑﺎ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﮐہ وﮦ ﮐﭽﮫ ﺑﻮل ﻧہ ﭘﺎﺋﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣّﺎ, ذرا اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ. اس ﮐﺎ داﻧہ رﮔﮍ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ِﮑﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ. اﺑﮭﯽ اور ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮔﮭﺴﯿﮍ ﮐﺮ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﭼﻮت ﮔﯿﻠﯽ ﺗﮭﯽ. اب ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﺎں ﮐﺎ داﻧہ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺴﻼ ﺗﻮ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﮐﺎ دﺑﮯ ﻣﻨہ ﮐﺮاﮨﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور وﮦ اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ ﮨﻼ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی اﻧﮕﻠﯽ اور‬ ‫اﻧﺪر ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اب ﺗﮏ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ آ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻠﻮ ﮨﭩﻮ ﺗﻢ دوﻧﻮں. اب ﻣﯿﺪان ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮨﮯ. اب ِﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮں ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ! ﮨﺎﺋﮯ ﮨﺎﺋﮯ ﮐﯿﺎ ُﺪاز ﻧﺮم‬ ‫ﮔ‬ ‫د‬ ‫ﻧﺮم ﮔﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻣّﺎ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ, ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﻼﺋﻢ اﺳﻔﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮڑا ﭘﯿﻞ رﮨﺎ ﮨﻮں. ﺟ ُﻤﺮی اﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ِﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﭼﻮﭼﯽ دے ﮐﺮ وﮦ ﺧﻮد ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣّﺎ ﻣﯿﺮی ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮس اور ﺗﻤﺎﺷہ دﯾﮑﮫ اب. ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮں, ُﻮ ﻣﯿﺮا داﻧہ ﭘﮑﮍ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﺳﮍﮐﺎ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪد ﮐﺮﺗﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﺆا ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎری ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷہ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫اﮔﻠﮯ آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﯾﺴﮯ ﭼﻮدی ﺟﯿﺴﮯ ﭘﮭﺎڑ ڈاﻟﮯ ﮔﺎ. ﻣﺎں ﮐﻮ دﺑﻮچ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﻣ ّﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺴﻠﺘﺎ ﮨﺆا وﮦ ﭘﻮرے زور ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ آدھ ﻣﻨﭧ رک ﺟﺎﺗﺎ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ اب‬ ‫آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ِﻠ ِﻼ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور اﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﭘﺮ وﯾﺪﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ اور اﺗﻨﯽ ﮨﯽ‬ ‫ﺑﺒ‬ ‫واﺳﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﭘﮭﺎڑ دی راﺟہ. ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﮨﮯ رے, رک ﻣﺖ, ﻟﮕﺎ زور ﺳﮯ دھ ّﺎ, ﭘﮭﺎڑ دے‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ اور ﮔ ُﺲ ﺟﺎ اس ﻣﯿﮟ. ﮨﺎﺋﮯ رے !, اور ﯾہ ﭼﻮﭼﯿﺎں ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻞ رﮨﺎ ﮨﮯ, ِﻠ ِﻼ ﮐﺮ دے ﮔﺎ اﻧﮩﯿﮟ, ﭼ ّﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺲ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭘﭙ‬ ‫ﮭ‬ ‫رﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ, ذرا دھﯿﺮے راﺟہ! آﺧﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﺐ ﺟﮭﮍا ﺗﻮ زور ﺳﮯ ِّﺎﯾﺎ. ﭘﮭﺮ ﭘﺴﺖ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎں ﭘﺮ ڈھﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﺎں ﻃﯿﺶ‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ. اب ﺑﮭﯽ ﮔﺎﻧﮉ ُﺪاﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺑﯿﭽﺎری ﮐﯽ ﯾہ ﺣﺎﻟﺖ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﭘﻠﭧ ﺟﺎ اور ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ اوﭘﺮ ﻟﮯ ﻟﮯ. ﻣّﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮں ﮐہ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮد ڈاﻟﮯ اور ﺟﮭﮍا دے. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮے ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﭘﺮ ﭼﮍھ ﮐﺮ اﺳﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﻟﯿﺎ اور‬ ‫ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ﭼﻮت ﺧﻮب ﺗﻨﮓ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ُﺪﺗﯽ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ اﯾﺴﺎ ُﱠ ِﺖ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ زور زور ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺧﻮب ﭼﻮدا. اب ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭼﻮدﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫اﺳﺘﺎد ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ِﻨﺎ ﺟﮭﮍے ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدا ﺟﺐ ﺗﮏ وﮦ دو ﺑﺎر ﺟﮭﮍ ﮐﺮ ﭘﺴﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ.‬ ‫&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣّﺎ ﺟﮭﮍ ﻣﺖ ﯾﺎر, آ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻟﮯ اب. ﻣﯿﺮا ﭘﮭﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ, ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﻮں. ﻣﺎں, آج اب‬ ‫ﻨ‬ ‫رات ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮨﯽ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ! ﺗﻢ ذرا ﻣّﮯ ﮐﻮ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ دے دو. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈاﻻ اور ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ اﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ اور ﻣﺎں ﮐﻮ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ِﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣ ّﮯ دﺑﺎﺗﺎ ﮨﺆا وﮦ ﻣﺎں ﮐﻮ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﭘﺴﺖ اس ﮐﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺒﮫ‬ ‫ﭨ‬ ‫ڈال ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﮑﮫ رس ﭼﺎٹ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﻣﯿﮟ دھﻨﺴﺎ اس ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﻟﻨﮉ ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﯽ‬ ‫د‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺟﮭﮍی ﭼﻮت ﺑﮭﯽ اﯾﮏ دم ﮐ ُﻠﯽ ﺗﮭﯽ اور اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮی اور دﯾﮑﮭﺎ اور ﻣﺴﮑﺮا ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺧﺰاﻧہ دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﮨﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﮭﯽ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ آ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﭼﻞ ﭼﺎﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﮨﻢ دوﻧﻮں ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ زﻣﯿﻦ ﭘﺮ‬ ‫ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ اور ﺑﺎری ﺑﺎری ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮی ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اﺳﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے اﭼﮏ ﮐﺮ ﭼﻮدﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮت ﮐﮯ رس ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺻﺎف ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﯽ‬ ‫ﭼﻮت ﭼﺎٹ ﮐﺮ اﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﺪاﺋﯽ آﮔﮯ ﺷﺮوع ﮨﻮﺋﯽ. اب ﮨﻢ اﯾﮏ ﮨﯽ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﭘﺎس ﭘﺎس ﻟﯿﭧ ﮐﺮ اﯾﮏ دوﺳﺮے‬ ‫ﮐﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮨﺎﻧﭙﺘﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯾہ ﮐﭽﮫ ﺑﺎت ﮨﻮﺋﯽ, اﯾﺴﮯ ﻣﺎؤں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎری ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻣّﺎ, ﯾہ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﻨﯽ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐہ ﺳﺎﻻ ﺧﻮب ﭼﻮدو, ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرو اور‬ ‫ﻨ‬ ‫ان ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮس ﻟﻮ. ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﭘﯿﺎر ﮐﺎ ﯾﮩﯽ روپ ﮨﮯ ﻣّﺎ! ﺟﮭﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ اﯾﮏ ﺑﺎر ُﻮﺗﻨﮯ اﭨﮭﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫آﮔﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫رک ﻣّﺎ, اﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺟﺎﻧﮯ دے. ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی, ﺑﮍی زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﮨﮯ. ﭼﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻟﮯ ﭼﻞ. ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. اﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﭙﺘﯽ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺳﻼخ ڈال دی ﮨﮯ اﻧﺪر. وﮦ اﭨﮭﯽ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﺎ ﺳﮩﺎرا ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﻨﮕﮍاﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫اور ﻧﮑﻞ ﭘﮍی. اﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﺳﮯ واﭘﺲ آ ﮔﯿﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﺴﻤﺴﺎ رﮨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﺑﻮﻻ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, زور ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ, ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﺐ آﺋﯿﮟ ﮔﯽ? ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ آؤں? وﮦ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ارے اﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ ﻓﭩﺎ ﻓﭧ ُﻮت ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ. ﺑﮍے آرام ﺳﮯ ﻣﺰا‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻟﮯ ﮐﺮ ُﻮت رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ. ﺗﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ راﺟہ? آ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس, ﻣﯿﮟ ﮐﺮا دوں.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮐہ وﮦ ﻣﺠﮭﮯ وﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮاﺋﮯ ﮔﺎ. ﭘﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ دﯾﻮار ﺳﮯ ﺷﭩﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﮐﯿﺎ اور ﺧﻮد ﻣﯿﺮے‬ ‫ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ُﺮﺟﮭﺎﺋﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ اس ﻧﮯ ﭼﻮﻣﺎ اور ﭘﮭﺮ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﻣ‬ ‫اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ِﻠ ِﻼ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﺳﺮ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﻤ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, ﭼﮭﻮڑو. ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﺗﻨﺎ ﮨﮯ. اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ آﻧﮑﮫ ﻣﺎری اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﯽ رﮨﺎ. آﺧﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ اس ﮐﮯ ﺑﺎل‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ارے ُﻮت ﻧﺎ ﻣﯿﺮے راﺟہ. ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮت. ﻣﯿﮟ اس ﮐﯽ اور دﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﯽ رﮦ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ﮐﺎ ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ وﮦ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺴﮑﺮا دﯾﺎ.‬ ‫ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﻣّﺎ. ﮐﺐ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮا ﭘﯿﺎرا ﮐﻤﺴﻦ ُﻮت ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ. ارے ﮔﮭﺒﺮا ﻣﺖ, ﻣﯿﮟ ﻏﭩﺎ ﻏﭧ ﭘﯽ ﺟﺎؤں ﮔﺎ. ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺷﺮﻣﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ارے ﺑﯿﭩﮯ, ُدھﺮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮت رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ. ﭼﻞ اب ﻧﺨﺮا ﻧہ ﮐﺮ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﭘﮭﺮ ﺳﺐ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮں. ﮐﮩہ ﮐﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ا‬ ‫وﮦ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ اب اﺗﻨﯽ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮﺗﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﭘﺮ اﯾﮏ ﺗ ِﭘﺘﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﺎؤ ُﻣﮉ آﯾﺎ. ﻣﯿﺮی ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﮩﯿﮟ ڈال ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ا‬ ‫ﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ِﭙﭩﺎ ﻟﯿﺎ اور اﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﯿﺮی راﻧﻮں ﻣﯿﮟ دﺑﺎ ﮐﺮ وﮦ ﻣﯿﺮا ُﻮت ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﻮﺗﻨﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ُﱠ ِﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﺟﺲ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﺳﻮاد ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ُﻮت ﭘﯽ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ, ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫ُدھﺮ ﯾہ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐہ ﻣﺎں ﮐﯿﺴﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ُﻮت ِﻼ رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ, ﻣﺠﮭﮯ اور ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﺮا ﻣﻮﺗﻨﺎ‬ ‫ﻣ ﭘ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻣﻨہ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﭘﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺎ. ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﺎﻟﮏ, ﭘ َﺳﺎد ِﻞ ﮔﯿﺎ. ﻟﻨﮉ اب ﮐﮭﮍا رﮐﮭﻮ. ﺳﺎﻟﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮐﺲ ﮐﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرو رات ﺑﮭﺮ. آج رات ﺑﮭﺮ ان‬ ‫ﺮ ﻣ‬ ‫دوﻧﻮں ﻋﻮرﺗﻮں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻣﺎر ﮐﺮ ﭘ ُ ُﻼ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﮭﮑ‬ ‫ﺑﺘﺎؤ ﻧﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ, اﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮں ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ?‬ ‫ﭨ‬ ‫ارے ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ. اﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت ﭘﯿﺘﯽ ﮨﮯ. اس ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ. ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘ َﺳﺎد ِﻠﺘﺎ ﮨﮯ. آﺧﺮ ﺗﻢ ﻟﻮگ ﮨﻤﺎرے ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮ. ﺗﻤﮩﺎرا ﻧﻤﮏ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﭘﺮ اس ﻃﺮح ﺳﮯ ﻧﻤﮏ ﭘﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ اور ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ.‬ ‫ﺮ ﻣ‬ ‫ﺗﻮ ﮐﯿﺎ روز ﭘﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ آﺳﭽﺮﯾہ ﭼ ِﺖ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‬ ‫ﮑ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺎں ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ روز, ﺧﺎص ﮐﺮ ﺟﺐ ﻣﺴﺖ ﭼﺪاﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺑﮍے ﻣﺰے ﺳﮯ ُﻮﺗﺘﯽ ﮨﮯ. رک رک ﮐﺮ ﺑﮩﺖ‬ ‫ﻣ‬ ‫دﯾﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﻼﺗﯽ ﮨﮯ. اور اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎ ﮨﮯ. اﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ دے‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯽ, ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺻﺮف اس ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﯽ ﻟﯿﺎ. ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ. ﺟﺐ ﻓﺮش ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ِﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﺳﺮ‬ ‫ﻟ‬ ‫ﮐﮯ اوﭘﺮ ُﮐﮍوں ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮﺗﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ دﯾﻮی ﻣﺎں ﮐﺎ ﭘ َﺳﺎد ﭘﺎ رﮨﺎ ﮨﻮں.‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ا‬ ‫ﭘﺮ ﯾہ وردان ﺑﺲ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ِﻠﺘﺎ ﮨﮯ. ﮨﺎں اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت ﻣﯿﮟ روز ﭘﯿﺘﺎ ﮨﻮں. ﭘﺮ ﻣﯿﺮے ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸہ ﺗﯿﺮا ُﻮت ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ِ ّﮭﺎ ﺗﮭﯽ. ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺎرا ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﭘﺮ ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ, ﭼﺪاﺋﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ دے, ﭘﮭﺮ‬ ‫ﺗ‬ ‫اﭼ‬ ‫ﭘﯿﺎ ﮐﺮ. اب ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﺎ, ﺗﯿﺮا ُﻮت ﭘﯿﻮں ﮔﺎ اور ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﺎ ُﻮت ﭘﯿﮯ ﮔﯽ. ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ُﭩﮭﯿﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﺮم ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت ﭘﯿﻮں?‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﺮ اﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ. آج ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﺧﻮب ﺧﻮش ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ, وﮦ ﻣﺎن ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ. وﯾﺴﮯ ِﺲ ﻣﺎں ﮐﻮ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ُﻮت ِﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺰا ﻧﮩﯿﮟ آﺋﮯ ﮔﺎ! ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ اس ﺗﺎک ﻣﯿﮟ ﮨﯽ رﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐہ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ اﮐﯿﻼ ِﻠﻮں اور‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ ﭘ‬ ‫ﮐﺐ وﮦ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮت دے! اب ﭼﭗ ﮨﻮ ﺟﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوﻧﻮں آ رﮨﯽ ﮨﯿﮟ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی واﭘﺲ آﺋﮯ, ﺟ ُﻤﺮی ﻣﻨہ ﭘﻮﻧﭽﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور ﺧﻮش ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺑﮍی ﺗ ِﭘﺖ ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور‬ ‫ﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ڈال ﮐﺮ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﭘﺎس ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﭼﻮم رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮے اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﮐﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ دوﻧﻮں ﮨﻤﺎری اور دﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ آﻧﮑﮫ ﻣﺎر ﮐﺮ ﮐﮩﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﮯ, ﮐﯿﺎ ﺑﺎت ﮨﮯ? ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭼﭗ رﮨﺎ اور ﮨﻨﺴﺘﺎ رﮨﺎ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮍے ﻣﺪراﺳﯽ ﮐﯿﻠﮯ ﻟﮯ آﯾﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں, اب ﺗﻢ ذرا اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﺳﯿﻮا ﮐﺮ ﻟﻮ, ﻣﯿﮟ ﻣّﮯ ﮐﻮ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﺎ ِﮑﮭﺎ دوں. ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ اﭼﮭﻞ ﭘﮍا اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫ِﭙﭧ ﮔﯿﺎ. وﮦ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ُدھﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫ﻟ‬ ‫ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﺧﻮب ﭼﻮﻣﺎ ﭼﺎﭨﯽ ﮐﯽ, ﭘﮭﺮ وﮦ دوﻧﻮں اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﯽ ﭼﻮﺗﻮں ﻣﯿﮟ ﻣﻨہ ڈال ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯿﮟ. ان ﮐﺎ دھﯿﺎن‬ ‫ﮨﻤﺎرے ﺑﮭﯽ اور ﺗﮭﺎ, وﮦ ﺑﮍے ﻏﻮر ﺳﮯ دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﺎ ِﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯿﻼ ﭼﮭﯿﻠﺘﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﺑﯿﭩﮯ, اس ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮍی ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ, اﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ڈھﯿﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﻮ ﺑﺲ. اب دﯾﮑﮫ, ﯾہ دس اﻧﭽﯽ ﻣﺪراﺳﯽ ﮐﯿﻼ ﮨﮯ,‬ ‫اﺳﮯ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﻖ ﮐﺮ ﻟﮯ, ِﻨﺎ داﻧﺖ ﻟﮕﺎﺋﮯ, ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮا ﮐﯿﺎ, ﮔﮭﻮڑے ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﻧﮕﻞ ﻟﮯ ﮔﺎ ُﻮ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﺎں ﻧﮯ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ِﮑﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﯾﺎد ﮨﮯ ﻧﺎ ا ّﺎں? ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺮ اﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮨﺎں ﺑﯿﭩﮯ, ﯾہ رﻧﮉی ﺗﻮ آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ, ﻣّﺎ ﺑﮭﯽ اﺳﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ, وﮦ ﺑﮭﯽ ﻓﭩﺎ ﻓﭧ ﺳﯿﮑﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫دﯾﮑﮭﻨﺎ.‬ ‫ﭼﻞ ﻣّﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل, ﻣﯿﮟ ﯾہ ﮐﯿﻼ ﺗﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں, ﻣﻨہ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ. ﻧﮕﻠﺘﮯ ﺟﺎﻧﺎ, ﺟﺘﻨﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ. ﺑﺲ داﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﺎ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮے ﮐ ُﻠﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻼ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺗﯿﻦ اﻧﭻ ﻣﻮﭨﺎ وﮦ ﭼﮑﻨﺎ ﮐﯿﻼ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺐ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﯾﮏ ِﮩﺎﺋﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ اور ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﻼ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ دے ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭘﮭﺮ ﭼﺎﻟﻮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻟﮯ ﻟﮯ ﻣّﺎ, ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻟﮯ رﮨﺎ ﮨﮯ, ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ, ُﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﮭﺒﺮاﺋﮯ ﮔﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ آدھﮯ ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﮐﯿﻼ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧﮕﻞ ﻟﯿﺎ. ﺳﺎت آﭨﮫ اﻧﭻ ﮐﯿﻼ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ اور آدھﺎ ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮا ﮔﻼ ﺑﺮاﺑﺮ ﺗﮭﻮک ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ‬ ‫ﮐﺮﺗﺎ اور اس ﺳﮯ وﮦ ﮐﯿﻼ اور اﻧﺪر ﮔ ُﺴﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ. آﺧﺮ ﭘﻮرا ﮐﯿﻼ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ, ﺻﺮف اﯾﮏ ﭼﮭﻮر ﺑﭽﺎ ﺟﻮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‬ ‫ﺷﺎﺑﺎش ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ, ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﻣﺎں, ﯾہ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺧﻮش ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮے ﮔﺎل ﭼﻮم ﮐﺮ ﮐﯿﻠﮯ ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮڑا اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.‬ ‫دﯾﮑﮫ ﻣّﺎ, ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﭼﻮدوں ﮔﺎ ﺗﻮ اﯾﺴﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ. ﮔﮭﺒﺮاﻧﺎ ﻣﺖ. اور وﮦ ﮐﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﻮ اب اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻧّﮭﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﭼﻮ ُو ﻧﻮﮐﺮ ﮐﺎ ﺗﮕﮍا ﻟﻮڑا ﮔ ُﺴﺘﮯ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪی ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, اب ﻧﮕﻞ ﻟﮯ رے ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻮڑا, آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ دﯾﮑﮭﻮں ﮐہ اس ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﺎﻧ ُو ﺑﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ دم ﮨﮯ!‬ ‫ﮉ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺗﮏ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﺲ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ, آدھﺎ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ, ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ اﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اﯾﮏ دم ﺻﺤﯿﺢ ﮐﮭﮍا ﮨﮯ ﺑﯿﭩﮯ, ﻧﺮم ﺑﮭﯽ ﮨﮯ اور ﺗﮭﻮڑا ﮐﮭﮍا ﺑﮭﯽ ﮨﮯ, ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ. آ ﺟﺎ, ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﺳﺎﻣﻨﮯ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﻼ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ اﯾﮏ رﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ رﮐﮫ دﯾﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﮐﺎ ﺳﭙﺎڑا ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺎر ﭼﻮﺳﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ اس ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ. اب ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﺳﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ اﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ رﮐﮫ ﮐﺮ اﺳﮯ ﺳﮩﺎرا دﯾﺎ اور دوﺳﺮے ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﻨﮉ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻟﻨﮉ آرام ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ دھﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮐﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ اور ﮔﻼ ﺑﮭﯽ ﭼﮑﻨﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ اس ﻟﺌﮯ آرام ﺳﮯ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﺗﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﻠﺪ ﮨﯽ آدھﮯ ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﺳﭙﺎڑا اب ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﭼﻮڑا ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮا‬ ‫دم اب ﮐﭽﮫ ﮔ ُﭧ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﺳﮏ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﻟﻨﮉ اب اﻧﺪر ﺳﺮﮐﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺎ. ﻣﯿﺮے ﺑﺎل ﺳﮩﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﻣّﺎ, آج ﮐﺎﻓﯽ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ, اب ﺑﺲ ﮐﭽﮫ دﯾﺮ اﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ رﮦ, ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎل ﻟﻮں ﮔﺎ, ُﻮ ﺑﺲ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ڈھﯿﻼ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭼﮭﻮڑ اور ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ رﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﻖ ﮐﺮ. ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ رﮨﺎ. اب ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﮯ اس ﻣﺎﻧﺴﻞ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮍے ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﺟﯽ ﮔﮭﺒﺮا رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﺰا ﺑﮭﯽ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ رﺳﯿﻼ ﮔّﺎ ﮨﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧﮑﺎل ﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ, اب آ اور اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻟﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ.‬ ‫آﺗﺎ ﮨﻮں ﻣﺎں, ﻣّﮯ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮑﺎل ﻟﻮں. ﻣّﺎ, ُﻮ ﮔﻼ ڈھﯿﻼ ﭼﮭﻮڑ ﺑﯿﭩﮯ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮑﺎﻟﻮں ﮔﺎ ﮐﯿﺴﮯ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﻼ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﮭﺮﺳﮏ ڈھﯿﻼ ﮐﯿﺎ اور ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﮩﺎﺳہ ﮐﺲ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ دﺑﺎﺗﮯ‬ ‫&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;ﮨﻮﺋﮯ اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ اﯾﮏ زور دار دھ ّﮯ ﺳﮯ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﺟﮍ ﺗﮏ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﺗﺎر دﯾﺎ. ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭧ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭘﺮ آ ِﮑﮯ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮا دم ﮔ ُﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﺎ دوﺑﮭﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور ﮔﻼ اﭘﻨﮯ آپ ﮐﮭﻞ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﺮے ﭼﮭﭩﭙﭩﺎﻧﮯ ﮐﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﻈﺮ اﻧﺪاز ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﮐﺲ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ دﺑﺎﺋﮯ رﮐﮭﺎ اور آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﺑﯿﺠﯿﻨﯽ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﯿﺴﺎ ُﱡﻮ ﺑﻨﺎﯾﺎ اﺳﮯ. ﻣّﺎ ﺳﻮچ رﮨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐہ ُﻮ ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎل رﮨﺎ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫اﻟ‬ ‫ارے دﯾﮑﮫ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ! اﺳﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﻮ ﻟﯿﻨﮯ دے. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫آپ ِﻨﺘﺎ ﻧہ ﮐﺮو ﻣﺎں ﺟﯽ. ﯾﺎد ﻧﮩﯿﮟ آپ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺟﺎ ﮐﺮ آپ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ. اﺑﮭﯽ دﯾﮑﮭﻮ‬ ‫ﭼ‬ ‫دو ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﻣّﺎ ﺷﺎﻧﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ اور ﭘﮭﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﭼﻮﺳﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮا ﻟﻮڑا.‬ ‫ﻨ‬ ‫اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﮐﺲ ﮐﺮ دﺑﺎﺋﮯ رﮐﮭﺎ اور ِﻨﺎ ِﺴﯽ َﯾﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮدﺗﺎ رﮨﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ اﭘﻨﮯ آپ ﭘﮭﯿﻞ ﮐﺮ اس ﮐﮯ‬ ‫ﺑ ﮐ د‬ ‫ﻣﻮﭨﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ارد ﮔﺮد ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﺗﮭﻮک ﮐﯽ وﺟہ ﺳﮯ ﮔﻼ اﯾﮏ دم ﭼﮑﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭘﮭﺴﻞ رﮨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﺳﭙﺎڑا ِﺴﯽ ﭨ ُﺴﻨﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﺮی ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮩﺮا ﮔ ُﺲ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﻠﯽ ﮐﻮ ﭼﻮڑا ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐ‬ ‫اس ﻣﻮﭨﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻣﯿﮟ اب ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ اﺑﮭﯽ اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ِرﯾہ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﭘﯽ‬ ‫و‬ ‫ﺟﺎؤں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ ﮐﭽﮫ اور ﭼﻮدا اور ﭘﮭﺮ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﺟﮭّﺎﯾﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ دﯾﻮاﻧہ ﮨﻮ ُﮑﺎ ﺗﮭﺎ,‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻠ‬ ‫ﭨ‬ ‫اس ﮐﺎ رس ﭘﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اب ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﯽ ﮨﮯ راﺟہ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آج ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘ َن ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐہ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ رات ﺑﮭﺮ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﻟﻨﮉ ﮐﮩﺎں ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ رے,‬ ‫ﺮ‬ ‫ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮭﺮ ُﺴﺎ دوں ﮔﺎ. اب ﺗﻮ ُﻮ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ. اﯾﮏ اور ﻃﺮﯾﻘہ ﮨﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ, ﺑﮍا ﻣﺰے دار اور ﮨﻮﻟﮯ ﮨﻮﻟﮯ, اس ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭼ‬ ‫زﯾﺎدﮦ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ, وﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ڈھﯿﺮ ﺳﺎ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎﯾﺎ اور ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﺮ ُﻮٹ ﭘﮍا. اس رات ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﯾﺎ. ﺑﺲ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﺑﯿﭩﮯ ان ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺎﺗﺎؤں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮدﺗﮯ رﮨﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺗﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺧﺮاب ﮐﺮ دی. رات ﺑﮭﺮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻻ. ﻣﺎں ﮐﻮ دﺑﻮچ ﮐﺮ اس ﭘﺮ ﺷﮑﺎری ﺟﯿﺴﺎ ﭼﮍھﺎ رﮨﺎ.‬ ‫ﮨﭽﮏ ﮨﭽﮏ ﮐﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﺎ, ﺟﮭﮍﺗﺎ اور آرام ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ, ِﻨﺎ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻟﮯ. ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﭘﮭﺮ ُﺖ ﺟﺎﺗﺎ.‬ ‫ﺟ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﺎں اب ادھ ﻣﺮی ﺳﯽ ﭘﺴﺖ ﭘﮍی ﮨﻮﺋﯽ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﻣﺮا رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﺎری ﭘﺮ اس ﮐﮯ ﺑﻌﺪ وﮦ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ اور رات ﺑﮭﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ُﺴﻮاﺗﯽ رﮨﯽ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺗﯿﺮا ﯾہ ﮐﻤﺴﻦ ﻣﻨہ ﮨﮯ ﮨﯽ اﺗﻨﺎ ﮐﻮﻣﻞ اور ﭘﯿﺎرا ﮨﮯ ﮐہ ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ راﺟہ. ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ اﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸہ ﭼﻮدا ﮐﺮﯾﮟ‬ ‫ﮔﮯ ﻣّﺎ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﻤﺎرا .‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺻﺒﺢ اﯾﮏ ﺑﺎر ﭘﮭﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮدﻧﮯ دی. ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺟﯿﺒﮫ ﺳﮯ ﺻﺎف ﮐﯽ اور‬ ‫اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ِرﯾہ ﭼﻮﺳﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺎل ِﻼ, ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ آدھﯽ ﮐﭩﻮری ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ِرﯾہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫و‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫و‬ ‫ﭼﻮﺳﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ.‬&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px;&quot;&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;‫&lt;span style=&quot;color: red; font-size: 30px;&quot;&gt;ختم&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/4161627261424164144/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_4446.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4161627261424164144'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4161627261424164144'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_4446.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ ایٹھ لاسٹ'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-9202404309501887439</id><published>2012-01-16T13:32:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:32:07.418-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ سیون</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px;&quot;&gt;&lt;div&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻣﺠﮭﮯ آج‬ ‫ﭼﻤ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻟﮍﮐﯿﻮں ﮐﻮ ُﺪاﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ! ﻣﯿﮟ اﺳﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﭼﮍﯾﻞ رﻧﮉی‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺑﻦ ﮐﺮ رﮨﻮں.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﺟﯿﺒﮫ ﭼﻮﺳﯽ اور اﭘﻨﯽ ُﺴﻮاﺋﯽ. ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻮڑا ﻣٰﭩﮭﯿﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ اس ﻧﮯ ﮨﻮﻟﮯ ﮨﻮﻟﮯ ﻣﯿﺮے ُﻮﭼﮏ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺴﻠﻨﮯ ﺷﺮوع ﮐﯿﮯ. ﻣﯿﮟ ُﮑﮫ ﺳﮯ ِﺴﮏ اﭨﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ اﻧﺪازﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮے ُﻮﭼﮑﻮں ﻣﯿﮟ اﺗﻨﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ا ُﺒ ُﻮﺗﯽ ﮨﻮ‬ ‫ﻧﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮے آﻧﻨﺪ ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮے ُﻮﭼﮑﻮں ﮐﻮ اﻧﮕﻠﯽ اور اﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ اﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺖ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫ﻣﺎں دﯾﮑﮫ, ﻟﮍﮐﯿﻮں ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮭﮍے ﮨﯿﮟ ﻣّﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺮ! ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺑﮍی ُﺗ ُﮑﺘﺎ ﺳﮯ ﭘﺎس آ ﮐﺮ اﻧﮩﯿﮟ دﯾﮑﮭﺎ اور ﭘﮭﺮ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ‬ ‫اﺴ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﺮے ُﻮﭼﮏ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ اس ﻧﮯ داﻧﺘﻮں ﺳﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﺳﮯ اﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎٹ ﮐﮭﺎﯾﺎ. ﻣﯿﮟ درد اور ﻣﯿﭩﮭﯽ ﮐﺴﮏ ﺳﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﺮاﮦ اﭨﮭﺎ.‬ ‫اس ﮐﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺖ ُﻮﭼﮏ ﮨﯿﮟ, ﯾہ ﻣﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﺟﺎﻣﻦ ﺟﯿﺴﮯ. ﻣﺎں ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ. ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﭼﻮﭼﯿﺎں ﺑﮭﯽ ﻣﺎں‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺟﯿﺴﯽ ﺑﮍی ﺑﮍی ﮨﻮﺗﯿﮟ اس ﮐﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺬاق ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ. ﭘﮭﺮ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﺳﮯ رﮔﮍﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﭽﮫ ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺗﻦ ﮔﯿﺎ اور ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ِﻞ ُﻞ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ُﺪواﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮨ ﺟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ اب ﺗﮏ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ اوﻧﺪھﺎ ِﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍھ ﺑﯿﭩﮭﺎ اور ﻣﯿﺮے ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﺲ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اب وﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯرﺣﻤﯽ ﺳﮯ ﺳﭩﺎ ﺳﭧ ﭼﻮد رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ اور ﭘﮭﺮ‬ ‫اﻧﺪر ﮔ ُﺴﯿﮍ دﯾﺘﺎ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ اب وﮦ ﮔﻨﺪی ﮔﻨﺪی ﮔﺎﻟﯿﺎں دے رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدوں ﺑﮭﻮﻧﺴﮍی واﻟﮯ, ﺗﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﭼﻮدوں, ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎروں ﺳﺎﻟﮯ ﺣﺮاﻣﯽ ﻣﺎدر ﭼﻮد! ﻣّﺎ ﻣﺰا آ رﮨﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﮯ? ُﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﻮل ﻧﺎ! ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫وﯾﺴﮯ اﺑﮭﯽ ﯾہ ﻣﺎدر ﭼﻮد ﮨﺆا ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺳﺎﻻ ﺑﺪﻣﻌﺎش. اب ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﺆا ﮐہ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮاﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻮﮨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ َﻮڑی ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. &#39;ﭘﮭﭻ ﭘﮭﭻ ﭘﮭﭽﺎک ﭘﮭﭻ ﭘﮭﭻ ﭘﮭﭽﺎک&#39; اﯾﺴﯽ آواز آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺑﮩﺖ درد‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ, اﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮔﺎﻧﮉ اب ﭘﮭﭩﯽ, ﭘﺮ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺴﺘﯽ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﮐﺮ ِّﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﭼﻮد ڈال ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮد ڈال, ﻣﺎر ﻟﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﭘﮭﺎڑ دے, ﭘ ُ ُﻼ ﮐﺮ دے. ﺟ ُﻤﺮی اس دھﺆاں دھﺎر‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ رک ﻧہ ﺳﮑﯽ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ُﭩﮫ ﻣﺎرﺗﯽ رﮨﯽ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪی ﺳﮯ ﮐﻤﺮے ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ. واﭘﺲ‬ ‫ﻣ‬ ‫آﺋﯽ ﺗﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﺑﮍا ﮐﯿﻼ ﺗﮭﺎ. ﺳﺎﻣﻨﮯ اﯾﮏ ﮐﺮﺳﯽ ﻣﯿﮟ وﮦ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ اور ﭼﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﯿﻼ اﭘﻨﮯ ﺑﮭﻮﻧﺴﮍے ﻣﯿﮟ ﮔ ُﺴﯿﮍ دﯾﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫اس ﻣﻮﭨﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﮐﯿﻠﮯ ﺳﮯ ُﭩﮫ ﻣﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ وﮦ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺷﮩہ دﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﺑ ّﮯ ﮐﯽ ﭘﮭﺎڑ ڈال آج, دو ﭨﮑﮍے ﮐﺮ دے اس ﺣﺮاﻣﯽ ﮐﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﻗﺴﻢ, ﺑﮭﻮﻧﺴﮍا ﺑﻨﺎ دے اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ!‬ ‫ﭨ ﭽ‬ ‫ﻣﺴﺘﯽ ﺳﮯ ِّﺎ ﮐﺮ آﺧﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﮭﮍا اور ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ِﭙﭩﺎ ﮐﺮ ﮨﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﺮﻣﺎ ﮔﺮم ِرﯾﮯ ﮐﯽ ﭘﮭﺆار ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﯽ ﮔﮩﺮاﺋﯽ‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ِﺴﯽ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﻃﺮح ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﮑﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ. َﺮو ﺑﮭﯽ ﮨﺆا ﮐہ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﭨ‬ ‫اس ﺳﺠﯿﻠﮯ ﻧﻮﺟﻮان ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺗﻨﺎ ُﮑﮫ دﯾﺎ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ دو ﺑﺎر ﺟﮭﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ. ﭼﻮت ﺳﮯ ﮐﯿﻼ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮐﻮ ﮐﮭﻼﯾﺎ. ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭼﻮت ﮐﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫رس ﺳﮯ ِﭙ ِﭙﺎ ﮐﯿﻼ ﺻﺤﯿﺢ ﻧﺎﺷﺘہ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎری اس ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎن ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﭽ‬ ‫ﭘﺎﯾﺎ ﮐہ ﯾہ وﮨﯽ ﻟﻮڑا ﮨﮯ. ﻣﺮﺟﮭﺎ ﮐﺮ اﯾﮏ دم ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮔﺎﺟﺮ ﺳﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫ﺗﻮ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﻤﺎل ﮐﺮ دﯾﺎ راﺟہ. اب آرام ﮐﺮ, ﻣﯿﮟ اﺑﮭﯽ آﯾﺎ. ُﻮت ﮐﺮ آﺗﺎ ﮨﻮں! ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨﮭﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ آﺗﯽ ﮨﻮں. ﻣﯿﮟ ِّﺎﯾﺎ.‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫رﮐﻮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﮨﮯ. ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﯽ اور دﯾﮑﮭﺎ اور ﻣﺴﮑﺮا دﯾﮯ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻞ, آ ﺟﺎ. ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﭘﻠﻨﮓ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ اﺗﺮا ﺗﻮ ﭼﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ. ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮩﺖ ُﮐﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﮐﺮاﮦ ﮐﺮ اﯾﮏ ﻗﺪم ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ‬ ‫د‬ ‫ﮔﯿﺎ. اﭨﮭﺎ ﻟﮯ ﻣّﮯ ﮐﻮ. آج وﮦ ﭼﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ. ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮭﻮل دی ﺗﻮ ﻧﮯ اس ﮐﯽ. ﮐﻞ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮕﮍا ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﺑﯿﭽﺎرﮦ. ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺗﺮس ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ. ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ُﻮ ﻓﮑﺮ ﻧہ ﮐﺮ ﻣّﺎ, دو دن ﻣﯿﮟ ﻋﺎدت ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﺠﮭﮯ. آج ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر ُﺪا ﮨﮯ ﻧﺎ, اس ﻟﺌﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮ رﮨﯽ ﮨﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ اور ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻣّﺎ, ﺗﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮا دھﯿﺎن ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ. دﯾﮑﮫ ﮐﺘﻨﺎ ِرﯾہ اور ﻣﺎں ﮐﺎ رس ﻟﮕﺎ ﮨﮯ. اور ﺟﮭﮏ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ‬ ‫و‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ. ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ اﺗﺎر ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮس ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﮍا ڈاﻻ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺟﮭﮍا ﮐﺮ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﺟﺐ وﮦ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﯽ رﮨﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ِّﺎﯾﺎ .‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, اب ﭼﮭﻮڑو, ﺑﮩﺖ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﮨﮯ. وﮦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮڑﻧﮯ ﮐﻮ ﺗّﺎر ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. آﺧﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ڈاﻧﭧ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﺑﺎل ﭘﮑﮍ ﮐﺮ اس ﮐﺎ ﺳﺮ ﻣﯿﺮے ﭘﯿﭧ ﺳﮯ اﻟﮓ ﮐﯿﺎ. ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ُﻮت ﻟﮯ ﻣّﺎ, ﯾہ ﺗﻮ ﭘﮕﻼ ﮨﮯ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﮐﯿﺎ. ﺑﮍے زور ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﺗﯿﺰ دھﺎر ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮭﮍے ﮐﮭﮍے‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣ‬ ‫دﯾﮑﮫ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﮍے ﻋﺠﯿﺐ ﺑﮭﺎؤ ﺗﮭﮯ دوﻧﻮں ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺳﮯ آﻧﮑﮭﻮں آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺳﺮ ﮨﻼ ﮐﺮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮ دﯾﺎ. ﻣﯿﺮا ﻣﻮﺗﻨﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﭼﺎﻧﮏ دھﺎر ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ڈاﻻ اور ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺴﺖ ﺗﯿﺰ دھﺎر ﮨﮯ ﺗﯿﺮی ﻣّﺎ. آﺧﺮ ﺟﻮان ﺑ ّہ ﮨﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ اور ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﺗﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻨ‬ ‫ارے ُﻮت ﻧﺎ, ﯾہ ﺗﻮ دﯾﻮاﻧہ ﮨﮯ ﺗﯿﺮا. اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ. ﻣﯿﺮا ﻣﻮﺗﻨﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫اب ﺟﺎ اور آرام ﮐﺮ. ﮨﻢ اﺑﮭﯽ آﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ اس ﻧﮯ دروازﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ اﻧﺪر ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﭨﺎ ﭘﭩﺎ ﻟﮕﺎ ﭘﺮ اﭼﺎﻧﮏ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐہ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﻮ اﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫دﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﺎﻧﮯ دوﻧﻮں اﻧﺪر ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﮐ ُﻠﮯ ﻋﺎم ﭼﻮدﻧﮯ ﻣﯿﮟ وﯾﺴﮯ اﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ روﮐﻨﮯ واﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮭ‬ ‫ِﺴﯽ ﻃﺮح ﭼﻞ ﮐﺮ واﭘﺲ آﯾﺎ اور ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮ ُﻮ دس ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ آﺋﮯ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐ‬ ‫دوﻧﻮں ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﻟﮓ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﮐﻞ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ُﻮﺗﻨﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍے ﮔﺎ ﻣّﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻻ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اﺳﮯ آﻧﮑﮭﯿﮟ ِﮐﮭﺎ ﮐﺮ‬ ‫د‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼﭗ ﮐﺮ دﯾﺎ. ﮐﻨﮑﮭﯿﻮں ﺳﮯ ﻣﯿﺮی اور دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﯾہ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﻣّﺎ, ُﻮ ﻓﮑﺮ ﻣﺖ ﮐﺮ. ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮا ﮐﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﺎ? اس ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐہ ﮨﻢ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﯾﮩﯿﮟ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ اﻧﺘﻈﺎم ﮐﺮ دﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﻞ ﺳﮯ ﺗﯿﺮے ُﻮﺗﻨﮯ ﮐﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮨﻤﺎری ﭼﺪاﺋﯽ ﭘﮭﺮ آﮔﮯ ﺷﺮوع ﮨﻮﺋﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ِﭩﺎ ﮐﺮ اس ﻧﮯ اﺳﮯ آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﭼﻮدا.‬ ‫ﻟ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺳﯿﻮا ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮی اور دھﯿﺎن دﯾﺎ. ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﺳﮯ آﺗﮯ ﺳﻤﮯ وﮦ اور ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮯ آﯾﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﮑﻨﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﮔﮭﺴﯿﮍا اور ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. اس ﺑﺎر ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ُﮐﮭﺎ ﭘﺮ ﭘﮩﻠﮯ‬ ‫د‬ ‫ﺳﮯ ﮐﻢ. ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻦ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮت ﭼﭩﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮی رات ﺑﮭﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎری.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻣﺠﮭﮯ اوﻧﺪھﺎ ِﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے اوﭘﺮ ﺳﻮﯾﺎ رﮨﺎ. ﺟﺐ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﺗﺎ, ﺗﻮ ﺟﺎگ ﮐﺮ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ.‬ ‫ﻟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﺎر ﺑﺎر وﮦ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍا. ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻨﭩﮯ دو ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻮﻧﮯ ِﻼ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ وزن ﻣﯿﺮے ﺷﺮﯾﺮ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ اس‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻟﺌﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﺮ وﮦ ﮨﭩﻨﮯ ﮐﻮ ﺗّﺎر ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ دﺑﻮچ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے اوﭘﺮ ﭼﮍھﺎ رﮨﺎ.‬ ‫ﯿ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ رات ﺑﮭﺮ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ, ﺟﮭﮍﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ اﻧﺪر ﮨﯽ رﮨﻨﮯ دﯾﺘﺎ. ﺟﺐ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ اس ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺗﯽ اور وﮦ ﻣﯿﺮی ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ. آﺧﺮی ﺑﺎر ﺻﺒﺢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ اس ﻧﮯ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﯿﺮی اور ﻣﺎری اور ﭘﮭﺮ اﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﺟﮭﮍ ﺟﮭﮍ ﮐﺮ وﮦ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ, ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺗ ِﭘﺖ ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ُ ّﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭼﻤ‬ ‫ﺮ د‬ ‫ﻣﺮا ﻣﺮا ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮩﺖ ُﮐﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اس ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ اس دن اﺳﮑﻮل ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫آج آرام ﮐﺮو ﻣّﺎ. ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮨﻢ ﻟﮕﺎ دﯾﺘﯽ ﮨﻮں ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ. ﭨﮭﻨﮉک ﭘﮩﻨﭽﺎؤں ﮔﯽ. ﺑﮯرﺣﻢ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺎری ﮨﮯ ﺗﯿﺮی. ﭘﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫وﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮے? ﮨﮯ ﮨﯽ ُﻮ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺎرا. وﯾﺴﮯ اب ﻣﺠﮭﮯ ذرا آرام ِﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑہ وﮦ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرے ﮔﺎ ﺗﻮ ﺻﺮف ﺗﯿﺮی. ﺗﯿﺮی‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﻤﺴﻦ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ آﮔﮯ ﻣﯿﺮی ﭘ ُ ُﻼ ﮔﺎﻧﮉ اﺳﮯ ﮐﯿﺎ اﭼﮭﯽ ﻟﮕﮯ ﮔﯽ ﮨﺎں ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﺿﺮور ﻣﺎرے ﮔﺎ اب. ﮐﺐ ﮐﺎ دﯾﺪی ﮐﯽ‬ ‫ﮭﮑ‬ ‫رﺟﺎ ﺗﺎزی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﺮ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮا ﻻل.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ آج ﮨﯽ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ, اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ُﺪاﻧﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﯽ ﺟﻠﺪی ﭘﮍی ﮨﻮ ﮔﯽ اس ﻣﻤﺘﺎ ﮐﯽ ﻣﻮرت ﮐﻮ. اﺳﯽ ﻟﺌﮯ آج ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ دن ﺑﮭﺮ آرام ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ. رات ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫اس ﮐﮯ ﻟﻮڑے ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺸ ّﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ!‬ ‫ﻘ‬ ‫ﻣﯿﮟ دوﭘﮩﺮ ﺑﮭﺮ ﺳﻮﯾﺎ. اﭨﮭﺎ ﺗﻮ رات ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ آﺋﯽ ﺗﮭﯽ. ﺑﺎﮨﺮ آﯾﺎ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﻧﮩﺎ دھﻮ ﮐﺮ ِدھﺮ ُدھﺮ ﮔﮭﻮم رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ا‬ ‫ا‬ ‫اﯾﮏ دم ﺗﺮ و ﺗﺎزﮦ ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ اﭼﺮج دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫آ ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﯿﺮے ﭘﺎس آ. ارے ﻣﯿﮟ دو دن ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. ُﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ? ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﺧﯿﺎل رﮐﮭﺎ ﻧﺎ ﺗﯿﺮا? اس‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ اور ﻣﯿﺮا ﻣﺎﺗﮭﺎ ﭼﻮم ﻟﯿﺎ. ﻣﺎں ﮐﯽ ﺑﮭﺮی ﭘﻮری ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ اس ﺳﮯ ِﭙﭩﺎ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﮯ ﺑﺪن ﺳﮯ ﺑﮍی ﺑﮭﯿﻨﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮا ُﺮﻧﺖ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﮯ دﺑﺎؤ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮس ﮐﯿﺎ اور‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﮔﺎل ﭘﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﭼﭙﺖ ﻣﺎر ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺷﯿﻄﺎن ﮐﮩﯿﮟ ﮐﺎ! اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮨﮯﺗﯿﺮی اب? ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ دو دن ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اوﭘﺮ دﯾﮑﮭﺎ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ُﻻر ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ اﯾﮏ ﺑﮍی ﺗﯿﮑﮭﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ﮐﯽ آس دﯾﮑﮫ ﮐﺮ وﮦ ﮐﭽﮫ ﮐ َﻦ‬ ‫ﺸ‬ ‫د‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ دﯾﮑﮭﺘﯽ رﮨﯽ اور ﭘﮭﺮ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭩﻮں ﭘﺮ اﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭧ رﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ُﻤﺒﻦ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﻣﯿﮟ اس ﺳﮯ اﯾﺴﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼﭙﮑﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ, اور اس ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮨﻤﺎرا ﯾہ ُﻤﺒﻦ ﺷﺎﯾﺪ آﮔﮯ اور ﮐﭽﮫ روپ دھﺎرن‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﺮﺗﺎ ﭘﺮ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﺟ ُﻤﺮی آ ﮔﺌﯽ. ﻣﺠﮭﮯ زﺑﺮدﺳﺘﯽ اﻟﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐ ِﻠﮑ ِﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﺎﻟﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ! ﮐﯿﺴﮯ ِﻨﺎل ﮨﻮ رے? ﭼﻠﻮ ﻣﺎﻟﮑﻦ, اﻟﮓ ﮨﻮ. ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﭘﯿﺎر اﯾﺴﮯ ﺗﮭﻮڑے ﭼﺎﻟﻮ ﮨﻮﻧﮯ دوں ﮔﯽ!‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ دﮐ ِﻨﺎ دﯾﻨﯽ ﭘﮍے ﮔﯽ. ﻣﺎں ﺗﮭﻮڑی ﺷﺮﻣﺎ ﮔﺌﯽ اور ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺸ‬ ‫ﻟﮯ ﻟﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ, ﮐﺘﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ? ﺟ ُﻤﺮی ﻧﺨﺮے ِﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮں ﮔﯽ. آج رات ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ آپ ﮐﮯ اور ﻣّﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ آپ ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﯿﮟ ﮔﮯ. ﻣﺰا ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ‬ ‫ﻨ‬ ‫اور ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ اﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺎر ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ دﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;دو ﺟﻮڑی ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ اﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ! ﺗﺐ آﺋﮯ ﮔﺎ ﻣﺰا. ﻣﺎں‬ ‫ﺷﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭼﻞ ﭘﮕﻠﯽ, ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ. ﮨﺎں ﻣّﮯ ﮐﻮ آج ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻼؤں ﮔﯽ! ﺑﯿﭽﺎرﮦ اﻟﮓ اﮐﯿﻼ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ. اور ﻣﯿﺮی اور‬ ‫ﻨ‬ ‫دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮاﻧﮯ ﻟﮕﯽ. اس ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﮭﯽ.‬ ‫آج ﺳﮯ ﺗﻮ آپ ﮐﻮ اﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺎر ِﻠﮯ ﮔﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ. اور وﮦ ﺑﮭﯽ اﯾﺴﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮرت ﮐﻤﺴﻦ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ. ﺑﮭﺎﮔﯿہ وان ﮨﻮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ. ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺗﻮ اور ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻮ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﭘﺮ آج ﺗﻮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺿﺮور‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﯿﮟ ﮔﮯ. ﮐﻞ ﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻮﻗﻊ ِﻠﮯ ﯾﺎ آپ ﮐﺎ ﻣﻦ ﮨﻮ. ﻣّﺎ ﻏﻀﺐ ﮐﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺑﺎﺋﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺗﻮ اﯾﮏ رات ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣ‬ ‫دﯾﻮاﻧہ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ اس ﮐﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮے ِﺘﺎﻣﺒﻮں ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﺮاﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ. ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﻧ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﯿﺎر ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﯿﭩﮯ? ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ دی? اس ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ِﻨﺘﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ اﯾﮏ ُﱠﯿﺠﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫اﺗ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﺎ? ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﺎ ُﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ اس ﮐﮯ ﮐﺎرن ﮐﮩﻨﮯ واﻻ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﺎں ﺑﮩﺖ ُﮐﮭﺎ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫د‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮭﺎڑ ﮨﯽ دی. ﭘﺮ ﯾہ ﺑﮭﯽ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐہ ﮐﯿﺎ ﻣﺰا آﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ﻣﺮوا ﮐﺮ اور اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس ﮐﺮ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﮐﺮ ﺟﻮ آﻧﻨﺪ ِﻼ ﺗﮭﺎ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے دﻣﺎغ ﻣﯿﮟ ﺗﺎزﮦ ﺗﮭﺎ. اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﯾہ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﯾﺎ ﻣﺎں, ﮔﮭﻮ ُﻮ اور ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ ِﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺴﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ. ﺗﮭﻮڑا ﺑﺪن ُﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ اس‬ ‫د‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﺌﮯ اﺳﮑﻮل ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ آج . اﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﻧﮯ دو ﻣﺎں اﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ, ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ.‬ ‫ﻣﺎں آﺷ َﺳﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﭘﺮ اس ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﭘ َﮨﻨﺴﺎ ﮐﯽ ﺑﮭﺎوﻧﺎ ﺗﮭﯽ. اﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻮ‬ ‫ﮔﺎ! ﺳﻮچ رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﮐہ اس ﮐﮯ ِّﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑ ّﮯ ﻧﮯ آﺧﺮ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﺟﮭﯿﻼ ﮨﻮ ﮔﺎ?‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺑﭩ‬ ‫رات ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﻠﺪی ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آﻧﮯ ﮐﯽ ﺗّﺎری ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ُﺮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮍا‬ ‫ﮐ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﺗﻤﺒﻮ ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی اﺳﮯ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ. دن ﺑﮭﺮ ﮐﮯ آرام ﺳﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺴﺘﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ُدھﺮ ﻣﺎں‬ ‫ا‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫اور ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ ﺑﺎر ﺑﺎر اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﻮ ِﭙﭩﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ. ان ﺳﮯ ﺑﮭﯽ رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. دو دن ﮐﮯ آرام ﺳﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ,‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺎں ﺑﮭﯽ اﯾﮏ دم ﮔﺮﻣﺎ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻮﻣﺘﺎ ﮨﺆا ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ. اﻧﺪر آﺗﮯ ﮨﯽ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﮐﭙﮍے اﺗﺎرﻧﮯ ﺷﺮوع ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫دﯾﮯ. ُدھﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ ﻓﭩﺎ ﻓﭧ ﻧﻨﮕﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. ﻣﯿﺮے ﺗﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﭼﻮﻣﺎ اور اﭘﻨﯽ دھﻮﺗﯽ ُﺮﺗﺎ اﺗﺎر ﮐﺮ ﻧﻨﮕﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﮐ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫اس ﮐﺎ ﻣﮩﺎ ﻟﻨﮉ اﯾﮏ دم ﺗﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻣﺎں ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. وﮦ ﺑﮭﯽ اﺗﻨﯽ ﮔﺮﻣﺎ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ اﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﯿﮟ رﮔﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻤﯿﮟ دﯾﮑﮫ‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ وﮦ ﺑﮍی ﺑﮭﻮﮐﯽ ﻧﻈﺮوں ﺳﮯ دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﺎ آدھﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﻮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎرے ﺑ ّﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫ﭽ‬ ‫ﻣﺎں, ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﭙﮍے ﻧﮑﺎﻟﻮ ﻧﺎ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﭽﻞ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ.‬ ‫ﮐﯿﻮں ﻧﺎﻻﺋﻖ, اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯿﺎں اور ﭼﻮت دﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﺮا ﺟﺎ رﮨﺎ ﮨﮯ ارے ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﻧﻨﮕﺎ ﮐﺮوں ﮔﯽ ﺗﯿﺮے‬ ‫ﺳﺎﻣﻨﮯ. ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﻣّﮯ ﮐﻮ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﮯ اور ﭘﮑﮍ ﮐﺮ رﮐﮫ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﺟﻮاﻧﯽ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺷﯿﻄﺎن. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ اس ﮐﯽ ﺳﺎڑھﯽ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺎں اﺗﺮا ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ رﮦ ﮔﺌﯽ ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اس ﮐﯽ ﺳﺎڑھﯽ اور ﭼﻮﻟﯽ ﮐﮭﻮل ڈاﻟﯽ. اﻧﺪر ﻣﺎں ﻧﮯ آج ﺳﻔﯿﺪ اﻧﮕﯿﺎ اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ ّی ﭘﮩﻨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺗﻨﮓ اﻧﮕﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ اس ﮐﮯ ﯾہ ﻣﻮﭨﮯ ﻣ ّﮯ ﭼﮭﻠﮏ آﺋﮯ ﺗﮭﮯ. رﺟﺎ رﺟﺎ ﮔﻮری ﺟﺎﻧﮕﮭﯿﮟ اور ﭼ ّی ﻣﯿﮟ ﺳﮯ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﮉ‬ ‫ِﮐﮭﺘﮯ ﭼﻮت ﮐﮯ اﺑﮭﺎر ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﭽﻞ اﭨﮭﺎ. اﭘﻨﮯ آپ ﻣﯿﺮا ﮨﺎﺗﮫ اﭘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-weight: bold;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﮯ اور ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﺳﭩﺎ ﺗﮭﺎ. اﺳﮯ ﻣﯿﺮی ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ‬ ‫رﮔﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ وﮦ ﻣﯿﺮے ﮔﺎل ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ُدھﺮ ﺟ ُﻤﺮی اب ﻣﺎں ﮐﯽ اﻧﮕﯿﺎ اﺗﺎر رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﺑﮭﺎری ﺑﮭﺮﮐﻢ ﭘﺴﺘﺎن اﻧﮕﯿﺎ ﺳﮯ ﭼﮭﻮٹ ﮐﺮ ﻟﭩﮑﻨﮯ ﻟﮕﮯ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﮑﮯ ﭘﭙﯿﺘﮯ ﮨﻮں. اور ﻣﺎں ﮐﮯ ُﻮﭼﮏ! ﻣﯿﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﺴﻤﺴﺎ اﭨﮭﺎ. اﺗﻨﮯ ﺑﮍے ُﻮﭼﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﯾہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﺑﮍے ﺟﺎﻣﻨﻮں ﮐﮯ آﮐﺎر ﮐﮯ ﮔﮩﺮے ﺑﮭﻮرے رﻧﮓ ﮐﮯ ُﻮﭼﮏ اور ان ﮐﮯ ﭼﺎروں‬ ‫ﭼ‬ ‫اور ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻃﺸﺘﺮی ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮍے ﺑﮍے ﮔﻮل ﭼﮑﺘﮯ!‬ ‫دﯾﮑﮫ ﻣّﺎ, ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺖ ﻣﺎل ﮨﮯ, اور ﺑﮩﺖ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣ ّﻮں ﮐﻮ ﮔﮭﻮرﺗﺎ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﻨ‬ ‫اور ﻣﺎں ﮐﯽ اﯾﮏ ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ اس ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼ ّی ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ اﺗﺎر دی.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﮐﺎﻟﮯ ﺑﺎﻟﻮں ﺳﮯ ﺑﮭﺮی اس ﮐﯽ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﮔﻮری ﭼﻮت دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﻨہ اﻟﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﭩﺨﺎرے ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﮩﺖ ﻣﯿﭩﮭﺎ دودھ ﮨﮯ ﻣّﺎ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﺎ, اﯾﮏ دم ُدھﺎ ُو ﮨﮯ ﺳﺎﻟﯽ. اس ﮐﮯ ُﻮﭼﮏ دﯾﮑﮭﮯ ﻧﺎ? ﮔﺎﺋﮯ ﮨﮯ ﮔﺎﺋﮯ! ﻣﯿﮟ ﺗﮍپ ﮐﺮ‬ ‫ﭼ‬ ‫د ر‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﻣﺎں, ﻣﺠﮭﮯ دودھ ِﻼ ﻧﺎ. اب ﺗﮏ ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﭼﺪاﺳﯽ ﺳﮯ ﺳﺴﮑﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺿﺮور ِﻼؤں ﮔﯽ ﻣﯿﺮے ﻻل, ﻣﯿﺮے ﭘﺎس ﻻ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ ﮐﻮ.‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮨﺎں ﮨﺎں ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ, ﭘﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮاؤں ﮔﯽ. ﺧﺎص ﮐﺮ ﭼﻮت ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﻣّﮯ ﮐﻮ ِدھﺮ ﻻ. آﺧﺮ‬ ‫ا‬ ‫ﭨ ﻨ‬ ‫اﺳﮯ ﭘﺎس ﺳﮯ دﯾﮑﮭﻨﮯ دے ﮐہ اس ﮐﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﯿﺴﯽ ﮨﮯ, ﺟﮩﺎں ﺳﮯ وﮦ ﺟﻨﻤﺎ ﮨﮯ, اس ﭼﮭﯿﺪ ﮐﻮ ذرا ﭼﻮﻣﮯ اور‬ ‫ُﻮﺳﮯ, ﭘﮭﺮ دودھ ﺑﮭﯽ ِﻼ دﯾﮟ ﮔﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣ ّﮯ دﺑﺎﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﺗﺎر ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭘﺎس ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻮڑا ﭼﻮﺳﻮ ﻣﺎں ﺟﯽ. آپ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ آپ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ دوں ﮔﺎ. اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ‬ ‫ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮا ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اب ذرا ﯾہ ﺑﮭﯽ دﯾﮑﮭﮯ ﮐہ اس ﮐﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺎں ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺎﮨﺮ ﮨﮯ.‬ ‫ﭘﮭﺮ اﺳﮯ ﺑﮭﯽ ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ. ﮐﮩہ ﮐﮯ وﮦ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯿﻮں ﭘﺮ رﮔﮍﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻨﺪھﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ اﺳﮯ زﻣﯿﻦ ﭘﺮ ِﭩﮭﺎ دﯾﺎ. اس ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ اس ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯿﺎں ﻣﺴﻠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﻇﻠﻔﯿﮟ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺮدن ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﻣﺎں اﯾﮏ دم ﻣﺴﺖ ﺗﮭﯽ. ِﮩﺮ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮐﺘﻨﺎ اﭼﮭﺎ ﭼﻮﻣﺘﯽ ﮨﮯ ُﻮ ﺟ ُﻤﺮی, ذرا ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﮐﮭﻮد ﻧﺎ. ُدھﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺟﻠﺪی ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. اس ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﺎل دﺑﺎ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ا‬ ‫ﺗ ﮭ‬ ‫اس ﮐﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮﻻ اور دوﺳﺮے ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻟﻮڑا ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻞ دﯾﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﺎں ﮐﺎ دم ﮔ ُﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ اس‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺣﻼﺑﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺮ اس ﻧﮯ ﺗﻮ دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮫ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ڈال ﮐﺮ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﭘﺎس ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺎ اور اﯾﮏ ﮨﯽ دم ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻧﮕﻞ ﮐﺮ اﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ دﺑﺎ ﮐﺮ ﻟﻮڑا ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﭘﺎس ﺳﮯ دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﺎ ﻣﻨہ ﺑﺎﯾﺎ ﮨﺆا ﺗﮭﺎ اور اس ﮐﮯ ﻻل ﻻل ﮨﻮﻧﭧ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ ﺟﮍ ﮐﮯ ﭼﺎروں اور ِﻤﭩﮯ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﻏﻀﺐ ﮐﮯ ﮐﺎ ُﮑﺘﺎ ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﺎ ﺳﺮ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮑﮍا اور ﮐﮭﮍا ﮐﮭﮍا آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﯾہ ﻧﻈﺎرﮦ اﯾﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﺳﮩہ ﻧہ ﺳﮑﺎ اور ﭘﺎس ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎزو ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ِﭙﭩﺎ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﮔﺎل‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﭘﺮ ﮔ ِﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ دور ﮐﯿﺎ اور ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ارے ﺟﮭﮍ ﺟﺎؤ ﮔﮯ ﻣّﺎ, ﯾہ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ. دﯾﮑﮭﺎ اﭘﻨﯽ ِﻨﺎل رﻧﮉی ﻣﺎں ﮐﻮ ﮐﯿﺴﯽ ﻣﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ? ﮐﯿﺴﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻏﭗ ﺳﮯ ﻧﮕﻞ ﻟﯿﺎ آﭨﮫ اﻧﭽﯽ ﻟﻨﮉ دﯾﮑﮭﺎ ﻧﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ? . ﻣﯿﮟ ﻣﭽﻞ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ اﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﻟﻮں ﮔﺎ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ِﮑﮭﺎ ﻧﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-weight: bold;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اﮔﻠﯽ ﺑﺎر ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ ﻣّﺎ, ﺳﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ اﯾﺴﺎ ِﮑﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ. ﭘﺮ اﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﺎ ﻣﻨہ ﭼﻮد ﻟﻮں, ﺳﺎﻟﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﺴﺖ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭼﻮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﻟﮑﻦ. اﯾﺴﮯ ﻧﮕﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻨﻢ ﺟﻨﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﻮ. ﺟ ُﻤﺮی ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫اب رک ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮯ, ﺟﮭﮍ ﻣﺖ. آﮔﮯ ﮐﺎ ﮐﺎم ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗّﺎری ﮐﺮ. ذرا اس ﻧّﮭﮯ ﮔﺎﻧ ُو ﮐﻮ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﯽ ﺳﯿﻮا ﮐﺮﻧﮯ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﯿ‬ ‫دے. اور ﻟﻨﮉ ﺑﮭﯽ آج ﮨﯽ ﭼﺴﻮا دے, ﺑﯿﭽﺎرے ﮐﻮ اﯾﺴﮯ ﺗﮍﭘﺎ ﻣﺖ. ُﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﺎر ﺑﺎر ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐہ ﻣﺎں, ﻣّﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﻮﻣﻞ ﮐﻤﺴﻦ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﮔﮭﺴﯿﮍ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺗﮏ ﻧہ اﺗﺎر دوں ﺗﺐ ﺗﮏ ﭼﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ِﻠﮯ ﮔﺎ ﻣﺠﮭﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮔﮩﺮی‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﺑﺎت ﻣﺎن ﮐﺮ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ. اب وﮦ اور ﺳﻮج ﮐﺮ ﻻل ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺎں ﻣﺎں, آج ﮨﯽ ِﮑﮭﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں, ﭘﺮ اﯾﮏ آدھ ﺑﺎر ﺟﮭﮍ ﮐﺮ ﺗﮭﻮڑا ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ, ﯾہ ُﻮﺳﻞ ﺗﻮ اس ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮕﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫ﻣ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣﺎں ﻣﻨہ ﭘﻮﻧﭽﮭﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮭﮍی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ِﭩﮭﺎﯾﺎ اور اس ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺑ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﯿﭩﮫ ﻧﯿﭽﮯ اور ﮔ ُﺲ ﺟﺎ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ, ﭼﺎٹ ﻟﮯ, اﯾﮏ دم ﮔﺎڑھﺎ ﮔﮭﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﺎل ﮨﮯ ﺗﯿﺮی ﻣﺎﺗﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ. ﻣﺎں ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر ﭘﺎس ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت دﯾﮑﮭﯽ. رﺟﺎ ﭘﮭﻮﻟﯽ, ﮐﺎﻟﮯ ﮐﺎﻟﮯ ﮔﮭﻨﮕﮭﺮاﻟﮯ ﺑﺎﻟﻮں ﺳﮯ‬ ‫ﺑﮭﺮی ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﺴﺖ ﻣﮩﮏ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ دو اﻧﮕﻠﯿﻮں ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﮭﻮﻟﯽ اور ﻻل ﻻل ﭼﮭﯿﺪ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫دﮐﮭﺎﯾﺎ. اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﮭﯽ ﺟﯿﺴﺎ ِﭙ ِﭙﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اوﭘﺮ ﻻل ﻻل اﻧﮕﻮر ﺟﯿﺴﺎ داﻧہ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭼﭽ‬ ‫دﯾﮑﮭﺎ راﺟہ, ُﻮ ﮐﮩﺎں ﺳﮯ ﺟﻨﻤﺎ ﺗﮭﺎ اور ﯾہ ﺷﮩﺪ دﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮩﺎ رﮨﯽ ﮨﮯ? ﭘ َﺳﺎد ﮨﮯ ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, ﭼﺎٹ ﻟﮯ. ﻣﺠﮫ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﺗ‬ ‫ادھﯿﮍ ﻋﻮرت ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﺠﮭﮯ اﺗﻨﺎ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ, ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﺟﻮان ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﻮ اﻣ ِت ﺑﮩﺘﺎ ﮨﮯ راﺟہ. ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭘﺮ دﺑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﯿﺒﮫ ﻧﮑﺎﻟﯽ اور ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮐﯿﺎ ﺳﻮا ِﺷﭧ ﻣﮩﮑﺘﺎ ﺷﮩﺪ ﺗﮭﺎ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎؤ ِﺑﮭﻮر ﮨﻮ ﮐﺮ ﻟﭙﺎ ﻟﭗ اﺳﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ‬ ‫و‬ ‫د‬ ‫ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﻧﮯ ِﮩﺮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ اور ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﺑﺎﻟﻮں ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﯿﺮے ﻻل, ﺳﭻ ﺑﺘﺎ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﮐﺎ رس? ﻣﯿﮟ ﭼﺎﭨﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﻣﺎں, ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺎں, ﺑﮯﺟﻮڑ ﮨﮯ. روز ﭼﺎﭨﻨﮯ دو ﮔﯽ ﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ اﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ‫ﺟﺐ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﭼﺎٹ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ دن ﺑﮭﺮ ﭼﺴﻮاؤں اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ, ﻣﯿﺮے ﻻل. ﻣﺎں ﺑﮭﺎؤ ِﺑﮭﻮر‬ ‫و‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اب ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﮯ ﭘﭙﻮﭨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ اور آم ﮐﯽ ﻃﺮح ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﭘﮭﺮ ﺟﯿﺒﮫ اﻧﺪر ڈال دی ﻣﺎں‬ ‫ﻧﮯ ﮐﺴﻤﺴﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ دﺑﺎ ﻟﯿﺎ اور اﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﺳﺮ ﮐﮯ ارد ﮔﺮد ﺟﮑﮍ ﮐﺮ آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ‬ ‫ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺟ ُﻤﺮی, ﺗﻮ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺟﺎدو ﮐﺮ دﯾﺎ. ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺖ ﺗﺮﺑﯿﺖ دی ﮨﮯ ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ ﮐﻮ! ﮐﯿﺴﺎ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﮯ دﯾﮑﮫ! ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ ﮐﮭﮍی ﮐﮭﮍی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ُﺴﻮاﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﭨﺎﻧﮕﻮں ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍ ﮐﺮ دھ ّﮯ ﻣﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯿﺎ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ اﭘﻨﮯ ﺑ ّﻮں ﮐﻮ اﭘﻨﺎ رس ِﻼ ﮐﺮ, ﮨﯿﮟ ﻧﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ اﯾﮏ ﺑﮍی ذ ّﮯ داری ﭘﻮری ﮐﺮ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ, ان ﭘﺮ ﮐﺘﻨﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺑﮍا اﺣﺴﺎن ﮐﺮ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ. دﯾﮑﮭﻮ ﺑﺪﻣﻌﺎش ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻮس رﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮ! ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﮯ دﯾﻮاﻧﮯ ﮨﯿﮟ دوﻧﻮں.‬ ‫ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ اﻧﮕﻮر ﺳﮯ ﻻل ﻻل ُﻮﺟﮯ داﻧﮯ ﮐﻮ ﺟﯿﺒﮫ ﺳﮯ رﮔﮍﻧﺎ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺎں دو ﺗﯿﻦ دھ ّﮯ دے ﮐﺮ اﯾﮏ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭼﯿﺦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮍ ﮔﺌﯽ. ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ رس ﮐﺎ ﺟﮭﺮﻧﺎ ُﺑﻞ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ آ ﮔﯿﺎ.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮﺳﯽ. ﻣﯿﮟ‬ ‫ا‬ ‫ﺷﺎﯾﺪ ُﭨﮭﺘﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ اﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ اﺳﮯ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ اوﻧﺪھﺎ ﭘﭩﮏ دﯾﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫اور ﮔﮍﮔﮍا ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-weight: bold;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اب آج ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮوا ﮨﯽ ﻟﻮ ﻣﺎﻟﮑﻦ. اﭘﻨﮯ ﻏﻼم ﭘﺮ ﻣﮩﺮﺑﺎن ﮨﻮ ﺟﺎؤ. اور ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﭘﺮ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ اﻧﮩﯿﮟ دﺑﺎﺗﺎ ﮨﺆا ﺑﯿﺘﺤﺎﺷہ‬ ‫ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﺎ ﺗّﺎﯾﺎ ﻟﻮڑا ﻣﺎں ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﻮ رﮔﮍ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻮل ﻣﭩﻮل ﮔﻮرے ِﺘﺎﻣﺐ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ اور ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ آ ﮔﯿﺎ. ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ اﺑﮭﯽ ﭼﮍھ ﺟﺎؤں اور ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﻣﺎر ﻟﻮں.&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-family: arial; font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;color: red; font-family: arial; font-size: 23px; font-weight: bold;&quot;&gt;باقی کل&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/9202404309501887439/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_8824.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/9202404309501887439'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/9202404309501887439'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_8824.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ سیون'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-3519921522851420994</id><published>2012-01-16T13:30:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:30:57.544-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ سکس</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial;&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-size: large;&quot;&gt;ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍ ﮐﺮ ﭘﺴﺖ ﭘﮍا ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اﭨﮫ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺗﻦ ﮐﺮ ﺟﮭﻨﮉے ﮐﯽ ﻃﺮح ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻟﮯ ﻣّﺎ, ﭼﻮﺳﮯ ﮔﺎ ﮐﮩہ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﻮڑا دے دﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺎڑا ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ارے ﻣّﮯ ﮐﻮ ﭘﻮرا ﻟﻮڑا ﻧﮩﯿﮟ ُﺴﻮاﯾﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ ِﮑﮭﺎ دے ﺑﯿﭩﺎ. ﭘﻮرا ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺰا ﮨﯽ اور ﮨﮯ. ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮨﺘﮭﯿﻠﯿﻮں ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ ﻣﺎں, آج ﮐﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ. اب ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ دے. آج ﮐﺎ اﻧﺘﻈﺎر ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺑﺎل ﺳﮩﻼﺗﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ. ﻣﯿﮟ ﻣﭽﻞ ﮔﯿﺎ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ, ﺗﻢ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس ﮐﺮ دﮐﮭﺎؤ ﻧﺎ! ﺗﻢ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮ ﭘﻮرا? ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮں ﻣﯿﺮے ﻻل. ﮔﮭﻮ ُﻮ آ ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﯿﮟ ﭼﻮس ﻟﻮں, دو ﺗﯿﻦ دن ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﺮا ﻟﻨﮉ ُﻮﺳﮯ. اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﭘﻠﻨﮓ ﮐﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﻨﺎرے ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﺧﻮد اس ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﭼﻮس ﻟﮯ ﻣﺎں, ﭘﺮ ﺟﮭﮍﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ, ﺗﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﺠﮭﮯ. آج ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪھﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ دﺑﺎﺗﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮﻻ اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﺳﭙﺎڑا ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﭘﮭﺮ ﺑﮍی آﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ وﮦ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﮕﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮔّﺎ ﭼﻮس رﮨﯽ ﮨﻮ. اﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﮐﮯ اﻧﺪر اس ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻟﮕﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﮔﺎل‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭘﮭﻮل ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ اور ﮔﻠﮯ ﮐﺎ آﮐﺎر ﺑﮭﯽ ﺑﮍھ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺎ اور‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫دھﯿﺮے دھﯿﺮے اوﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﺎ ﮔﻼ ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺰا ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫دﯾﮑﮫ ﻣّﺎ, ﮐﯿﺴﺎ ﭘﻮرا ﻧﮕﻼ ﮨﮯ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ. اب ُﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ. ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ اﺳﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ رﮨﯽ ﮨﮯ. ﭘﺮ وﮦ ﭼﮍﯾﻞ ﻋﻮرت آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺰا ُﻮٹ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﭼﮩﺮے ﭘﺮ‬ ‫ﻟ‬ ‫اﯾﺴﮯ ﺑﮭﺎؤ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﮔّﺎ ﭼﻮس رﮨﯽ ﮨﻮ. دو ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺎں, اب ﭼﮭﻮڑ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﮭﮍا دے ﮔﯽ ﻣﺠﮭﮯ. اب ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﺳﮩﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﯾہ ﭼﺪاﺳﯽ اب. وﮦ ﺗﮍپ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ, ُﻮ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎ ﻟﮯ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ذرا ﻣّﮯ ﮐﻮ ﭼﻮت ﭼﺴﻮا دوں. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﭘﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﺟﻤﺎﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺑﻮﻟﯽ. دس ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮا ﻣﺴﺖ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﯽ ُﮕﻨﺪھ اور رس ﮐﮯ ﺳﻮاد ﮐﺎ ﺟﺎدو ﮨﯽ اﯾﺴﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫آ ﺑﯿﭩﮯ, اب ﭼﻮد ﻟﮯ ﻣﺠﮭﮯ, ﭘﺮ آرام ﺳﮯ. ﺟﮭﮍﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﺳﮯ اوﭘﺮ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ اوﭘﺮ ِﭩﺎ ﻟﯿﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ِﭙﭩﺎ ﮐﺮ وﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دو ﭼﺎر دھ ّﮯ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻟ‬ ‫ﮭ‬ ‫اس ﮐﯽ ﮔﯿﻠﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ.‬ ‫اب رک ﻣّﺎ, اﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﭘﮍا رﮦ. ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﭼﻞ اﭘﻨﺎ ﮐﺎم ﺷﺮوع ﮐﺮ. ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺳﻤﺠﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺟ ُﻤﺮی اﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ُﺪاﻧﺎ اور ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮاﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ اس ﻟﺌﮯ ﺷﺎﯾﺪ اب ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫اوﻧﺪھﯽ ﺳﻮﺋﮯ ﮔﯽ. اس ﻟﺌﮯ ﺟﺐ وﮦ وﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ِﺖ ﭘﮍی رﮨﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐہ ﮔﮭﻮُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﯿﺴﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﮐہ وﮦ ﻣﯿﺮے ﻧﯿﭽﮯ دﺑﯽ ﭘﮍی ﮨﮯ! ﭘﺮ ﺟﺐ اﮔﻠﮯ ﮨﯽ ﮐ َﻦ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ اﻧﮕﻠﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺸ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔ ُﺲ ﮐﺮ ﻣ ّﮭﻦ ُﭙﮍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ِﭽﮏ ﮔﯿﺎ. ﯾہ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﯽ ﺗّﺎری ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ! ڈر ﺳﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﮑ ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫ِّﺎ اﭨﮭﺎ.‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﺑﺎﺋﯽ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ!‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨﮭﯿﮏ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣّﺎ, ِﻨﺎ ﻣ ّﮭﻦ ﮐﮯ ﺗﯿﺮی ﻣﺎرے ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﯿﺮی ﻧّﮭﯽ ﻧﺮم ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻨ ﺑ ﮑ‬ ‫ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﮐﻞ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎت ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﺿﺮور ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﺮ اﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪی وﮦ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﭘﺮ ُﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﺗ‬ ‫ُدھﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻣ ّﮭﻦ ﮐﮯ ﻟﻮﻧﮉے ﭘﺮ ﻟﻮﻧﮉے ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﭼﮑﻨﮯ ﭨﮭﻨﮉے ﺳﭙﺮش ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا ﺑﮭﯽ آ رﮨﺎ‬ ‫ﭨ ﮑ‬ ‫ا‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ اﺗﻨﺎ ﻣ ّﮭﻦ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮے ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐہ اﺗﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮورت ﮨﮯ! ﭘﮭﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭼﮭﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﮐہ ﯾہ ُﻮﺳﻞ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﮔﺎﻧﮉ ﻟﺒﺎﻟﺐ ﻣ ّﮭﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﺮی ﺟﺎﻧﯽ ﺿﺮوری ﮨﮯ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﮟ ُوﮨﺎﻧﺴﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ر‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, رک ﺟﺎؤ ﻧﺎ! ﮐﺘﻨﺎ ﻣ ّﮭﻦ ﺑﮭﺮو ﮔﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ. ﺑﺎﺋﯽ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﻧﺎ آج ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻧہ ﻣﺎرے. ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺎر‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﮯ! ﻣﺠﮭﮯ ڈر ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﮯ.‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣّﺎ, ﮐﺒﮭﯽ ﻧہ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﺮاﻧﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﮔﮭﻮُﻮ ﺳﮯ. آج ﮨﯽ ﻣﺮا ﻟﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺗﻮ ﮐﻞ ﺳﮯ ﺑﯿﭽﯿﻦ ﮨﮯ. ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ اس ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﻞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدا? ﺗﻮ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﺎ, ﭘﻮری ﮐﭩﻮری ﻣ ّﮭﻦ ﺑﮭﺮ دے ﻣّﺎ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ. ﺗﯿﺮا ﻟﻮڑا ﮔﮩﺮا‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﯿﭧ ﺗﮏ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ اس ﮐﻨﻮاری ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اس ﻟﺌﮯ اﻧﺪر ﺗﮏ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺿﺮوری ﮨﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﻣ ّﮭﻦ ُﭙﮍﺗﺎ ﮨﺆا‬ ‫ﮑ ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﮔﮭﺒﺮا ﻣﺖ ﻣّﺎ, ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﺎروں ﮔﺎ, دھﯿﺮے دھﯿﺮے آرام ﺳﮯ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ دوں ﮔﺎ. آﺧﺮ اب روز ﻣﺎرﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی,‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭘﮭﺎڑ دوں ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﯽ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﮔﯽ, ﻣﺰا ﺗﮭﻮڑے ﮨﯽ آﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﭩﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ. ﭼﻞ اب ﺗّﺎر ﮨﻮ ﺟﺎ. ﻣﺎں‬ ‫ﯿ‬ ‫ﻣّﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﻮ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍا اور ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﮭﺎﺗﯿﻮں ﭘﺮ دﺑﺎ دﯾﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﭼﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫دﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮﺳﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ِّﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ. ُﮐﮭﮯ ﮔﺎ ﭘﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ. اور ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ اور ﮔﮭﻮُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﮐﯽ ﺑﺎت ﻣﺎﻧﻨﺎ. ﻧﺨﺮا ﮐﺮے ﮔﺎ ﺗﻮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮ دوں ﮔﯽ. ﭘﮭﺮ ﻣﺎر ﭘﮍے ﺗﻮ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮﺳﺘﺎ دھﮍﮐﺘﮯ ِل ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻮڑا ﮔ ُﺴﻨﮯ ﮐﺎ اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اﯾﺴﺎ ڈر ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟﯿﺴﮯ ِﻨﺎ ﺑﮯﮨﻮش ﮐﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮا آﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮ! ﻣﯿﺮا ڈر ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮍی َ ُﺮاﺋﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت‬ ‫ﭼﺘ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ دوﮦ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. وﯾﺴﮯ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻟﮕﺎ ﮐہ اﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﮭﺎگ ﺟﺎؤں ﭘﺮ ان دوﻧﻮں ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ‬ ‫ﮐﯽ ُﱠﯿﺠﻨﺎ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐہ آج وﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮڑﯾﮟ ﮔﮯ, ﺿﺮورت ﭘﮍے ﺗﻮ زﺑﺮدﺳﺘﯽ ﭼﻮد ڈاﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﺠﮭﮯ.‬ ‫اﺗ‬ ‫اور ﺑﮭﺎگ ﮐﺮ ﺟﺎؤں ﮔﺎ ﮐﮩﺎں, ﻣﺎں ﻧﮯ ﺗﻮ ﺧﻮد ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ان ﮐﮯ ﺣﻮاﻟﮯ ﮐﺮ دﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ُﻮدا ﭘﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﮔﯿﻨﺪ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﺟﯿﺴﺎ ﺳﭙﺎڑا ﻣﺤﺴﻮس ﮨﺆا.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں, ﻣّﮯ ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍ ﭘﮭﯿﻼ ذرا. ﻣّﺎ ُﻮ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮭﻮل. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ اور ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻧﺲ روک‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﺮ زور ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ُﻮدا ﮐﮭﻮﻻ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﭘﮭﮏ ﺳﮯ اﯾﮏ ﮨﯽ دھ ّﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮرا ﺳﭙﺎڑا ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﺗﺎر دﯾﺎ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﻣﯿﮟ درد ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗّﺎر ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ِﻠ ِﻼ اﭨﮭﺎ. ﻣﯿﺮا ﭘﻮرا ﺷﺮﯾﺮ ﺗﮭﺮﺗﮭﺮاﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﺨﺎر ﭼﮍھ آﯾﺎ ﮨﻮ. ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ‬ ‫ﺑﺒ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮔﮭﻮﻧﺴﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈال ﮐﺮ ﭼﯿﺮ دﯾﺎ ﮨﻮ! ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﯿﺦ دﺑﯽ رﮦ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﺌﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ُﺮﻧﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﻣﻨﺎ اور ﭘﯿﺎر ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮوع ﮐﺮ دﯾﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎﻣﺐ ﺳﮩﻼﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻧ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﺲ ﺑﺲ ﻣّﺎ, ﮨﻮ ﮔﯿﺎ راﺟہ, ﺳﭙﺎڑا ﻟﮯ ﻟﯿﺎ اب ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ. ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭩﭙﭩﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. آﻧﮑﮫ ﺳﮯ آﻧﺴﻮ ﺑﮩہ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﭘﺮ‬ ‫ﻨ‬ ‫اﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐہ آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮرت ﻟﻮڑے ﮐﻮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎب ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ!‬ ‫ﭨ‬ ‫دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﻣﯿﺮا درد ﮐﻢ ﮨﺆا. ﺟﺐ ﻣﯿﺮا ﭼﮭﭩﭙﭩﺎﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮی ﭘﯿﭩﮫ ﭼﻮم ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اب دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﻟﻨﮉ اﺗﺎرﺗﺎ ﮨﻮں ﻣّﺎ. آرام ﺳﮯ ﭘﮍا رﮦ. ﺑﺲ ﮔﺎﻧﮉ ڈھﯿﻠﯽ ﭼﮭﻮڑ. اﻧﭻ اﻧﭻ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ڈاﻻ. ﺟﺐ ﺑﮩﺖ درد ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ُﻤﮏ ُﭨﮭﺘﺎ اور ﭼﮭﭩﭙﭩﺎﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ. ﺗﺐ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺘﺎ. آﺧﺮ دس ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﮔﮭﻮ ُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ا‬ ‫ﮨ‬ ‫ﮐﺎ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍوں ﭘﺮ ﻟﮕﺎ اور وﮦ ﻣﯿﺮے اوﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﺎں. ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎرا ﮔﺎﻧ ُو ﺑ ّہ ﮨﮯ. ﮐﺘﻨﯽ آﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ! ُﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺨﺮے ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ, اس ﻧﮯ ذرا ﺑﮭﯽ ﻧﺨﺮا‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮉ ﭽ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ. اور ﮐﯿﺎ ﺗﻨﮓ ﮔﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻣﺎں, اﯾﺴﮯ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﻨﭽﮯ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﮯ ﺷﮑﻨﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ دﯾﺎ ﮨﻮ! ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫اﯾﺴﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﻮرا ﮨﺎﺗﮫ اﻧﺪر ڈال دﯾﺎ ﮨﻮ. ﭘﯿﭧ ﺗﮏ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻮڑا ﮔ ُﺲ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﮍی ِﯿﮍا ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﺴﮑﺘﺎ ﮨﺆا ﭘﮍا رﮨﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﺑﺪن ﮐﻮ ﺳﮩﻼ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ درد ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﮨﺆا اور ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮫ ﻣﺰا آﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﮐﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اس ﻟﻮﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﺎ دﺑﺎؤ ﺑﮩﺖ‬ ‫ﻣﺎدک ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ اب ﺗﮏ ﭼﭗ ﭼﺎپ روﺗﺎ ﮨﺆا ﭘﮍا ﺗﮭﺎ, اب ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ آ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ اور اس ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﻣﭩﮭﯿﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣّﺎ ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻧﺎ? دﯾﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ڈر ﻣﺖ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﺗﻮا ﮔﺮم ﮨﻮ ﮔﯿﺎ, اب ﭘﺮاﭨﮭﺎ ﺳﯿﻨﮑﻮ. ﻣّﺎ ﺗّﺎر ﮨﮯ ﻣﺮاﻧﮯ ﮐﻮ,‬ ‫ﻨ ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﯿﮟ ﻧﺎ راﺟہ? ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ. ﻣﯿﮟ اب ُﮑﮫ ﻣﯿﮟ ڈوﺑﺎ ﮨﺆا ﺗﮭﺎ. درد اب ﺑﮭﯽ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ اﺗﻨﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﮐﺴﮏ ﮨﻮ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮭ‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ .‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﺎ ﻣّﺎ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ! ارے ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮاﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺰا ﮨﮯ وﮦ ِﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﻟﮯ اﺗﻨﮯ ﭼﻮ ُو ﻣﺮد‬ ‫د‬ ‫ﮐ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺮاﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ. اب ُﻮ آرام ﺳﮯ ﻟﯿﭩﺎ رﮦ اور ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮس. ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮے ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﻮں. ﻣﺎں اﭘﻨﮯ آپ ُﺪے ﮔﯽ ﺗﺠﮫ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺳﮯ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ دھﯿﺮے دھﯿﺮے اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. درد ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ِﻠ ِﻼ اﭨﮭﺎ ﭘﺮ ِﺴﯽ ﻃﺮح‬ ‫ﮐ‬ ‫ﺑﺒ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﯿﺦ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دﺑﺎﺋﮯ رﮐﮭﯽ. ﺳﭻ ﺑﺎت ﺗﻮ ﯾہ ﺗﮭﯽ ﮐہ اب ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺮاﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ, ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ درد ﮐﯿﻮں ﻧہ ﮨﻮ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﻟﻮڑا ﭘﯿﻠﺘﺎ رﮨﺎ. ﺟﻠﺪ ﮨﯽ وﮦ اﭘﻨﮯ دھ ّﻮں ﮐﺎ زور ﺑﮍھﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اب وﮦ ﭘﺎﻧﭻ ﭼﮫ اﻧﭻ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ اور ﭘﮭﺮ اﻧﺪر ﮔ ُﺴﯿﮍ دﯾﺘﺎ. ﻣ ّﮭﻦ ﺳﮯ ﭼﮑﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ آﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭘﮭﺴﻞ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ُﭽﮏ ُﭽﮏ اﯾﺴﯽ ﻣﺴﺖ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﮭ‬ ‫آواز ﺑﮭﯽ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ﻣّﺎ! ﺗﯿﺮے ﭘﮯ ﻗﺮﺑﺎن ﺟﺎؤں ﻣﯿﺮی ﺟﺎن. ﮐﯿﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی! ﻣﺨﻤﻠﯽ ﮐﺴﯽ ﭼﻮت ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﺑ ّہ ﭼﻮت ﮨﮯ, ﮨﺎﺋﮯ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﺎﺋﮯ راﺟہ, ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﯿﺮا ﻏﻼم ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮐﮩﺘﺎ ﮨﺆا ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮨﭽﮏ ﮨﭽﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﮯ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﺑﯿﭻ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ِﺴﺎ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ دھ ّﻮں ﺳﮯ اﭘﻨﮯ آپ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘ‬ ‫رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﮨﭽﮑﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺲ ﮐﺮ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ. ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ِﯿﻮر ُﮑﮫ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻏﺶ ﺳﺎ آ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﺗ ﺳ‬ ‫ﻣّﺎ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ. اب ُﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺎر ﻟﮯ اس ﮐﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎں, اﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ, ﯾہ اﻧﻤﻮل ﭼﯿﺰ ِﻠﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ اﺑﮭﯽ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﮭﺮ اور ﻣﺎروں ﮔﺎ. آج رات ﺑﮭﺮ ﻣّﺎ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ رﮨﮯ ﮔﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﺮا. ُﻮ ﭘﮍی رﮦ. ﻣّﺎ ﭘﻮرا ﺟﮭﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ. اس ﮐﯽ ﻣﻼﺋﯽ ﮐﮭﺎؤں ﮔﺎ ﺗﯿﺮی ﭼﻮت ﺳﮯ. ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻤﺎرے‬ ‫ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ اور ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﮐﯽ ُﺪی ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ِرﯾہ ﺑﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺟﯿﺒﮫ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ اﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫و‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼﺎﭨﺎ اور ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻠﻨﮓ ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ِﮏ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﮔﺎل اور ﮐﺎن ﺑﮍے ﻻڈ ﺳﮯ ﭼﻮﻣﺘﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ رﮐﺘﺎ ﮨﻮں, ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎروں ﮔﺎ ﻣّﺎ. اب اﯾﮏ دم ﻣﺴﺖ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﺗﺠﮭﮯ ﺧﻮش ﮐﺮ دوں ﮔﺎ. ُﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﮐہ ﮐﯿﺎ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺎری ﮨﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮐﻨﻮاری ﮔﺎﻧﮉ! ﭼﻞ ﻣﯿﭩﮭﺎ ُ ّﺎ دے اب ﻣﺠﮭﮯ. اور ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ اور ﻣﻮڑ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻤ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﺎ ﻟﻮﮨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﮔﮍا ﺗﮭﺎ اور ﻣﯿﺮے ﭘﯿﭧ ﺗﮏ ﮔ ُﺴﺎ ﮨﺆا ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮے ﭘﯿﭧ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﮯ اوﭘﺮ ﺳﮯ اس ﮐﮯ ﺳﭙﺎڑے ﮐﺎ آﮐﺎر ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی اس ﭘﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫ﺑﮩﺖ ﻧﺎزک ﻟﻮﻧﮉا ﮨﮯ, دﯾﮑﮫ ﺗﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﺑﮭﯽ ِﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯاس ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﮐﯽ ﮔﻮری ﭼﻤﮍی ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ. اب ﺟﮭﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﺘﯽ‬ ‫د‬ ‫اﺗﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎرن ﻣﺠﮭﮯ زﯾﺎدﮦ درد ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﺳﮩﺘﺎ ﮨﺆا ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ُ ّﻮں ﮐﺎ ﺟﻮاب دے رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;باقی کل&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/3519921522851420994/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_5753.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/3519921522851420994'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/3519921522851420994'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_5753.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ سکس'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-7279662159415630944</id><published>2012-01-16T13:29:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:29:36.783-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ فائیو</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﯿﮟ ﭘﮍا ﭘﮍا رات ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ. رات ﮐﻮ ﺳﺐ ﺻﺎف ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﻨﮕﺎ ﭘﮍا ﭘﮍا ﻟﻨﮉ ُﭩﮭﯿﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ُﭩﮫ ﻣﺎر رﮨﺎ ﮨﮯ ﺷﯿﻄﺎن? اب اس ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ُﭩﮫ ﻣﺎری ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺎروں ﮔﯽ. ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ, ﻣﯿﺮے ﭘﺎس ﭼﻠﮯ آﻧﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﮐﭙﮍے اﺗﺎرے اور ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫اب ﭘﮩﻠﮯ ﭼﻮس ﻟﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت, ُﻮ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﮯ. آج ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﭼﺴﻮاؤں ﮔﯽ. دو ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﭘﺘہ ﮨﯽ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻼ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺗﺎر ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﻮت ﭼﺴﻮاﺋﯽ, ﻣ ّﮯ دﺑﻮاﺋﮯ اور ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اﭘﻨﮯ ُﻮﭼﮏ ﭼﺴﻮاﺋﮯ. اس رات اس‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﮯ ﮐﭩﻮری ﺑﮭﺮ ﭼﻮت ﮐﺎ رس ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻼﯾﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻟﻨﮉ اب اﯾﺴﺎ اﭼﮭﻞ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﺆا ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻣﯿﺮی ﺣﺎﻟﺖ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ وﮦ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭼﻞ اب ﺗﺠﮭﮯ اﻧﻌﺎم دﯾﺘﯽ ﮨﻮں. ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرے ﮔﺎ ﻣﯿﺮی ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ اﭼﮭﻞ ﭘﮍا.‬ ‫ﺑﺎﺋﯽ, ﻣ ّﮭﻦ ﻻؤں? ﺗﻤﮩﺎری ﮔﺎﻧﮉ ﭼﮑﻨﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ? ﺟ ُﻤﺮی ﺟﮭّﺎﺋﯽ.‬ ‫ﻠ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮑ‬ ‫ُﻮ ِدھﺮ آ, ﺑﮍا آﯾﺎ ﮨﮯ ﻣ ّﮭﻦ واﻻ. ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﮐﻞ ﺟﺐ ﮔﮭﻮُﻮ آﺋﮯ ﮔﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮں ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ, ﺗﯿﺮی ﭘﯿﺎری‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺗ ا‬ ‫ﻣﺮﭼﯽ ﺗﻮ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ. اب آ اور ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮں وﯾﺴﮯ ﮐﺮ. ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﭼﮍھ اور ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈال. ﭼﻮد دو‬ ‫ﻣﻨﭧ. ﺟﮭﮍﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﮨ ﱡﻮ ﻣﺎر ﻣﺎروں ﮔﯽ.‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﭘﺮ ﭼﮍھﺎ اور اس ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈال دﯾﺎ. ﺗﭙﺘﮯ ﮔﯿﻠﮯ اس ﮐﻮﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ وﮦ اﯾﺴﺎ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐہ ﭘﺘہ ﮨﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻼ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ِﭙﭩﺎ ﻟﯿﺎ اور ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﭼﯽ ﭨﮭﻮﻧﺲ دی. ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮﺳﺘﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺆا ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﭼﻮت ڈھﯿﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اﯾﮏ اﻧﮕﻠﯽ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮔﯿﻠﯽ ﮐﯽ اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈال دی ﻣﯿﮟ ِ ُﻨﮏ اﭨﮭﺎ.‬ ‫ﭼﮩ‬ ‫ﮐﯿﺎ ﮐﺮ رﮨﯽ ﮨﻮ ﺑﺎﺋﯽ? ُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ!‬ ‫د‬ ‫ارے اﯾﮏ اﻧﮕﻠﯽ ﻣﯿﮟ ُﻮ ﮐﺴﻤﺴﺎ ﮔﯿﺎ? ﭘﮭﺮ ﮐﻞ ﺗﯿﺮا ﮐﯿﺎ ﺣﺎل ﮨﻮ ﮔﺎ ﻻﻻ اس ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ اﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮔ ُﺴﻨﮯ واﻻ ﮨﮯ ﺗﺠﮭﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻣﻌﻠﻮم ﻧﮩﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ُﻻﮨﻨﺎ دﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ڈر ﺳﮯ ﺳﮑﭙﮑﺎ ﮔﯿﺎ. دو ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ. ﻣﯿﮟ اﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﯿﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﭘﻠﭧ ﮐﺮ اوﻧﺪھﯽ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ. اﭘﻨﯽ اﻧﮕﻠﯽ ﭘﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ وﮦ اﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ُﭙﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫دﯾﮑﮫ ﮐﯿﺎ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮔﯿﻠﯽ ﮐﺮ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ اﻧﮕﻠﯿﻮں ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﺎ رس ﻟﮯ ﮐﺮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﮟ ُﭙﮍﻧﺎ ﭼﺎﻟﻮ ﮐﺮ دﯾﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺴﺖ ﺗﮭﯽ, ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﭼﮭّﺎ ﻣﯿﺮی اﻧﮕﻠﯽ ﮐﻮ ُﮏ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻠ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ُﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮑﮍ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭘ‬ ‫اب ﭼﮍھ ﺟﺎ اس ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐہ رس ﺳﻮﮐﮫ ﺟﺎﺋﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ اس ﭘﺮ ﭼﮍھ ﮐﺮ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻠﻨﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻟﮕﺎ. ﺳﭧ ﺳﮯ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ اﻧﺪر ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍ ﻟﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫اب ﻣﺎر راﺟہ, ﺟﺘﻨﺎ ﻣﻦ ﭼﺎﮨﮯ ﻣﺎر. ﺟ ُﻤﺮی ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮے ﻧﯿﭽﮯ ڈال اور ﻣﯿﺮی ﭼﻮﭼﯿﺎں دﺑﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ. اس ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯿﺎں دﺑﺎﺗﮯ دﺑﺎﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﺮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮدﻧﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻟﮕﺎ. آرام ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﺟﮑﮍ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ُﮑﮫ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮭ‬ ‫ُﮔﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ُﮑﮫ ﺳﮯ ِﺴﮏ اﭨﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﺰا آﯾﺎ ﻧﺎ ﻣّﺎ? ارے اب ﻣﺮوا ﻣﺮوا ﮐﺮ ڈھﯿﻠﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ اﯾﺴﯽ ﺗﻨﮓ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﻟﻨﮉ ﮔ ُﺴﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. اب‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗﺠﮭﮯ اﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮐﻨﻮاری ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﭼﺎر دن رک ﺟﺎ, ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮی‬ ‫ﻣﺎں ﭘﺮ ﭼﮍھﻮا دﯾﺘﯽ ﮨﻮں ﻣﯿﮟ.‬ ‫آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍا اور ﺳﺴﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ِﭩﺎﯾﺎ اور ﻣﯿﺮے اوﭘﺮ ﭼﮍھ ﮐﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﭘﺮ‬ ‫ﻟ‬ ‫ﮭ‬ ‫دے ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ.‬ ‫اب ﭼﻮس راﺟہ. ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺮا ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﭼﻮت ﭘﺴﯿﺞ رﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮی. رات ﺑﮭﺮ ﭼﻮس. ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮش ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ اﯾﮏ ﺑﺎر اور‬ ‫ﻣﺎرﻧﮯ دوں ﮔﯽ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ. رات ﺑﮭﺮ ﮨﻤﺎری رﺗﯽ ﭼﻠﺘﯽ رﮨﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺧﻮب ﭼﻮت ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮواﺋﯽ. ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ رات ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮕﺎﯾﺎ اور ﭼﻮت ﭼﺴﻮاﺋﯽ. آﺧﺮی ﺑﺎر ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫اس ﻧﮯ ﭼﻮت ﭼﺴﻮا ﻟﯽ اور ﭘﮭﺮ اﻧﻌﺎم ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﺎرﻧﮯ دی. اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﻮﯾﺎ ﺗﻮ‬ ‫اﺳﮑﻮل ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻤﮯ ﮨﯽ اﭨﮭﺎ.‬ ‫ﺟﻠﺪی ﺟﻠﺪی ﺗّﺎر ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮑﻼ. اﺳﮑﻮل ﮐﺎ ﺳﻤﮯ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. آج ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ رﮐﺎ, ﺳﯿﺪھﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﺳﮑﻮل ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ وﯾﺴﮯ زور ﺳﮯ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ڈﻧﮉے ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ اﭘﻨﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ اس‬ ‫ﮐﺎ دﺑﺎؤ ﻣﺤﺴﻮس ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻻﻻ ِﺖ ﮨﻮ اﭨﮭﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ذرا ِﺮاش ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﯾ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, آج ﻧﮩﯿﮟ رﮐﻮ ﮔﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ? ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮم ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﭨ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣّﺎ, دﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ, اور وﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ آج ﻣﯿﮟ اب ﺳﯿﺪھﺎ رات ﮐﻮ ِﻠﻮں ﮔﺎ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ, اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ. ﺗﺐ ﻣﺰا ﮐﺮﯾﮟ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮔﮯ. ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ, ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮭﮍا ﮨﻮں. ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدا. ﺗﯿﺮے ﻟﺌﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﺑﭽﺎ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﮨﮯ. ﺷﺎم ﮐﻮ ﺟﺐ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﺳﮯ ﻣﻨہ ﭘﻮﻧﭽﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﮑﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺷﺎﯾﺪ ﻣﺎں ﮐﺎ دودھ ﭘﯽ ﮐﺮ آﺋﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻣّﺎ, ﺑﮩﺖ دودھ دﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں, اب ﺗﯿﻦ ﭼﺎر دن ﺻﺮف ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﭘﯿﺘﯽ ﮨﻮں, ﻣﯿﺮا ﭘﯿﭧ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ, ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺿﺮورت ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ. ﺟﺐ ُﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻃﯿہ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮں, ﮨﻢ ﺗﯿﻨﻮں ﮐﮯ ﻻﺋﻖ دودھ دے ﮔﯽ ﯾہ ُدھﺎ ُو ﮔّﺎ. ﺑﯿﭻ‬ ‫د ر ﯿ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ, اﺗﻨﺎ دودھ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ دﯾﮑﮭﻨﺎ. اور ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍا ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ِﭙﭩﺎ ﮐﺮ اس ﮐﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﯿﭧ ﭘﺮ ﻟﻨﮉ رﮔﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﺑﺎﺋﯽ, ﭼﻠﻮ, ﭼﻮدﯾﮟ ﮔﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫آج اب رات ﮐﻮ ﻣﯿﺮے راﺟہ. ﺟﻠﺪی ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﻮں. آج ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﮭﯽ رﮨﮯ ﮔﺎ. ﺗﺐ ﺗﮏ ﺻﺒﺮ ﮐﺮ. ﺑﮍی ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﯾہ ﺗﯿﻦ ﭼﺎر‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﭩﮯ. ﻣﯿﮟ ُﭩﮫ ﻧہ ﻣﺎروں اس ﻟﺌﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ رﺳﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ِﭩﮭﺎ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ اور ﺑﻮﻟﯽ ﮐہ وﮨﯿﮟ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘﮍھﺎﺋﯽ ﮐﺮوں.‬&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;‫آﺧﺮ رات ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺳﻤﺎﭘﺖ ﮨﺆا اور ﮨﻢ ﻣﯿﺮے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣ ّﮭﻦ ﮐﺎ ڈّﺎ ﻟﮯ ﮐﺮ آﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﻓﭩﺎ ﻓﭧ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧﻨﮕﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﭙﮍے اﺗﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫دﯾﮑﮭﺎ ﺑﯿﭩﮯ, ﻣّﺎ ﮐﯿﺴﺎ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ! دو دن ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﺎ ﭼﻮ ُو ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ دﯾﮑﮫ. ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ اب ﺗﮏ اﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍے اﺗﺎر دﯾﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗﮭﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ.‬ ‫آج اﺳﮯ ﭼﻮ ُو ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺎﻧ ُو ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺎ دﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺎں. اس ﮐﮯ ﺳﺠﯿﻠﮯ ﮔﭩﮭﯿﻠﮯ ﺷﺮﯾﺮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮے اوﭘﺮ ﺟﺎدو ﺳﺎ ﮐﺮ دﯾﺎ. اﯾﮏ‬ ‫ﮉ‬ ‫د‬ ‫دم ﮔﭩﮭﺎ ﮨﺆا ﮐﺴﺮت ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ﺷﺮﯾﺮ ﺗﮭﺎ, اﯾﮏ دم ﭼﮑﻨﺎ. ﭼﮭﺎﺗﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﺎل ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ. ُﻮﭼﮏ ﺟ ُﻤﺮی ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﭨﮯ‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ. ﺟﺎﻧﮕﮭﯿﮟ ﭘﮩﻠﻮان ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﺟﯿﺴﯽ ﮐﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ. اور ﭼﻮﺗﮍ, اﯾﮏ دم ﮔﻮل, ﮐﺴﮯ ﮨﻮﺋﮯ. ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ‬ ‫ﺧﻮﺷﯽ اس ﮐﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ِﻞ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎری ﺑﺎری ﺳﮯ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ. ﮐﺒﮭﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮا ُ ّﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﻮُﻮ. ﺑﯿﭻ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻤ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﮟ وﮦ آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻣﺎ ﭼﺎﭨﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﻣ ّﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻞ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت اور ﮔﮭﻮ ُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭨ ﮭ‬ ‫ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﻮﻗﻊ ِﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮﺗﺎ اور ﭘﮭﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ِﻼﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ. آج‬ ‫ﮨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫وﮦ زﯾﺎدﮦ ﮨﯽ ﻣﻮﭨﺎ اور ﮐﮍا ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ﯾہ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ وﮦ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﺎں ﻣّﺎ, اﯾﮏ دن ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺟﮭﮍے ﮨﻮﺋﮯ. ﮐﻞ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﺴﻮاﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍا ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮں. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﮨﮯ,‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺴﺖ ﮐﮭﮍا ﮨﮯ ﺳﺎﻻ. ﺟﺎن ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ اﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ, آج ﮐﮯ ﺧﺎص ﻣﻮﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﭘﻮرا ﻣﺰا ﺗﺒﮭﯽ آﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﻟﻨﮉ ﮐﺲ ﮐﺮ‬ ‫ﺗّﺎﯾﺎ ﮨﺆا ﮨﻮ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اب ﺗﮏ اﺗﻨﺎ ﺳﻨﺴﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ اور ﻧہ ﺳﮩہ ﺳﮑﺎ. ﯾہ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐہ وﮦ ِﺲ ﺧﺎص ﻣﻮﻗﻌﮯ ﮐﯽ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﺎت ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ, وﯾﺴﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮫ اﻧﺪازﮦ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ, ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ دو ﻧﺎ. ﮐﻞ ﮐﯽ ﻃﺮح. ﻣﯿﮟ ﻣﭽﻞ اﭨﮭﺎ. ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ِﻠﯿﮟ اور آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ اﺷﺎرے ﮨﻮﺋﮯ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﮭﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﺗﻮ ﺗﻮ ﻧﮯ دو ﺑﺎر ﻣﺎری ﮐﻞ. اور ﺑﮭﯽ ﻣﺎر ﻟﯿﻨﺎ. آج اﯾﮏ اور ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻟﮯ, ﻣﺴﺖ رﺟﺎ ﺗﺎزی اور ﺟﺎﻧﺪار ﮨﮯ. ﺗﻨﮓ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﮨﮯ.‬ ‫ﮐﺲ ﮐﯽ ا ّﺎں? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ُﺗ ُﮑﺘﺎ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫اﺴ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ?‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ رے راﺟہ, ﺗﯿﺮی ﻣﺎں اﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﮯ دے ﮔﯽ. ﻣﯿﮟ ﺑﺎت ﮐﺮ رﮨﯽ ﮨﻮں ﻣﯿﺮے اس ﺟﻮان ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اﺳﮯ ﺑﮭﯽ ُﺪﻧﮯ ﮐﯽ ِ ّﮭﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. ﭘﺮ اور ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮد ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﯾﺎ ﮔﺎﺟﺮ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ اس ﮐﯽ‬ ‫اﭼ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮد دﯾﺘﯽ ﮨﻮں. ﭘﺮ اب ﺗﯿﺮا ﻣﺴﺖ ﻟﻨﮉ ﮨﮯ, ﻣﺎر ﻟﮯ اس ﮐﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ اوﻧﺪھﺎ ﻟﯿﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﺎں ﻣّﺎ, ﻣﺎر ﻟﮯ ﻣﯿﺮی آج. ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ. اور اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ ِدھﺮ ُدھﺮ ِﻼﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ رﻧﮉﯾﺎں ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﭼﭗ‬ ‫ﮨ‬ ‫ا‬ ‫ا‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﺴﻞ ُﺸﭧ ﭼﻮﺗﮍ ﭘﺎس ﺳﮯ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ اﭼﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺑﮍے ﺑﮍے ﺗﺮ ُﻮز ﺟﯿﺴﮯ ﭼﻮﺗﮍ اﯾﮏ دم‬ ‫ﺑ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﮑﻨﮯ ﺗﮭﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ان ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﺮاﻧﺎ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ. اﯾﮏ دم ﭨﮭﻮس ِﺘﺎﻣﺐ ﺗﮭﮯ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﺴﻨﺪ آﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ . ﻟﮯ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎ ﻟﮯ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﻣﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮے ﻟﻨﮉ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭘﺮ ُﭙﮍ دﯾﺘﯽ ﮨﻮں. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﻧﮕﻠﯽ ﭘﺮ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﻣﯿﮟ ُﭙﮍا. اﻧﮕﻠﯽ اﻧﺪر ڈاﻟﯽ ﺗﻮ ﭘﺘہ ﭼﻼ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺖ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﺴﺎ ﭼﮭﯿﺪ ﮨﮯ. ﻣﯿﺮی اﻧﮕﻠﯽ ﮐﻮ اس ﮐﺎ ﭼﮭّﺎ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮑﮍے ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻠ‬ ‫آ ! ﮨﺎں ! ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ﻣّﺎ, دو اﻧﮕﻠﯽ ڈال دے ﻣﯿﺮی ﺟﺎن. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دو اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﺧﻮب دﯾﺮ ﻣ ّﮭﻦ ُﭙﮍا.‬ ‫ﮑ ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻧہ رﮨﺎ ﮔﯿﺎ اور ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ اﻧﮕﻠﯿﺎں ﭼﺎٹ ڈاﻟﯿﮟ. اﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍ ﭼﻮم ﻟﯿﮯ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐ ِﻠﮑ ِﻼ ﭘﮍی‬ ‫ﮭ ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﯾہ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎت, ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﭼﻮ ُو ﮨﮯ ﻣﯿﺮا ﻣّﺎ. ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﺳﻮاد ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﮭﺒﺮاﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎن, ﮐﻞ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻧﮩﯿﮟ‬ ‫ﻨ‬ ‫د‬ ‫ﭼﻮﺳﯽ. اب ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﭘﮍے ﮔﯽ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﺮواؤں ﮔﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ُﺗﺎؤﻻ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ ا‬ ‫اب ﭼﮍھ ﺟﺎ ﻣّﺎ. ڈال ﻟﮯ ﺟﻠﺪی ﺳﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭘﺮ ﭼﮍھ ﮐﺮ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻞ دﯾﺎ. ﺳﭩﺎک ﺳﮯ ﺳﭙﺎڑا اﻧﺪر ﮨﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮔﯿﺎ. ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﭼﮭﯿﺪ ﺗﮭﺎ. ِﺴﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮرا زور ﻟﮕﺎﯾﺎ اور ﭘﮭﮏ ﺳﮯ ﺟﮍ ﺗﮏ ﻟﻨﮉ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ اﺗﺎر دﯾﺎ.‬ ‫&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;واﮦ ﻣّﺎ, ﻣﯿﺮے ﺷﯿﺮ, ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ راﺟہ! ﻣﺴﺖ ﮐﮍک ﮨﮯ ﺗﯿﺮا ﻟﻮڑا. اب ﻟﯿﭧ ﺟﺎ اور ﻣﺎر. ﻣﺎں, ُﻮ ﮐﯿﻮں ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ُﭩﮫ ﻣﺎر‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫رﮨﯽ ﮨﮯ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮت ُﺴﺎ دے. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ آﮔﺮﮦ ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﭘﯿﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ اور اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼﻮت ُﺴﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ُدھﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ اﭼﮏ اﭼﮏ ﮐﺮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ا‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﺟﮭﮍ ﺟﺎؤں ﮔﺎ. ِﻠ ِﻼ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﭼﮭّﺎ ﺑﺎر ﺑﺎر ﺳﮑﻮڑ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ, ﻣﯿﺮے‬ ‫ﻠ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﻤ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ اس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺴﺘﯽ ﺑﮭﺮی ﺳﻨﺴﻨﺎﮨﭧ دوڑ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ, وﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮩﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫اﯾﺴﺎ ﻇﻠﻢ ﻧہ ﮐﺮ ﻣّﺎ, اور دﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﺎر راﺟہ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺰا ﻟﯿﻨﮯ دے. ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر ﺗﯿﺮے ﺟﯿﺴﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮرت ﻟﻨﮉ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ‬ ‫ﻨ‬ ‫رے ﻣﯿﮟ ﻧﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻨہ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ ﮭ‬ ‫ﻣّﺎ, اس ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮔ ُﻨﮉﯾﺎں دﺑﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮی ﮐﻞ دﺑﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ان ﮐﻮ اﻧﮕﻮﭨﮭﮯ اور اﻧﮕﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮوڑ اور ﮐﮭﯿﻨﭻ,‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﯾہ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ِﺴﯽ ﻃﺮح اﭘﻨﮯ آپ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ُﻮﭼﮏ ﻣﺴﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ دس ﭘﻨﺪرﮦ ﻣﻨﭧ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﮨﻤﺎرا ﺳﻤﺒﮭﻮگ ﭼﻼ. ُﻮﭼﮏ ﻣﯿﺮی اﻧﮕﻠﯿﻮں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ آﺗﮯ ﮨﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﯽ ﺳﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫اس ﻟﺌﮯ ﺑﺎر ﺑﺎر ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮم ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ اور ﮐﺒﮭﯽ اﭘﻨﯽ ﭼﻮﭼﯽ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﺲ دﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ﻣﺎں, ﺑﮩﺖ ﻣﺴﺖ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎری ﻣﯿﺮی ﻣّﺎ ﻧﮯ. ﻣﯿﺮے ﺟﮭﮍﻧﮯ ﭘﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 30px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;باقی کل&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/7279662159415630944/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1735.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/7279662159415630944'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/7279662159415630944'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1735.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ فائیو'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-702569708832011255</id><published>2012-01-16T13:28:00.003-08:00</published><updated>2012-01-16T13:28:57.759-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ فور</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﮨﻢ ﮔﮭﺮ آﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺎں اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﭘﺮ ﭘّﯽ ﺑﺎﻧﺪھ ﮐﺮ ﻟﯿﭩﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی اس ﮐﺎ ﺳﺮ دﺑﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ﻣﺎں. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ارے ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﺎ, ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﻣﺎﮨﻮاری ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ, اﺳﮯ ﺑﮍی ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ان دﻧﻮں ﻣﯿﮟ. ُﻮ ﺑﺘﺎ, ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ اﺳﮑﻮل ﭼﮭﻮڑا ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ? ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ. اس ﮐﯽ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﻧﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﮭﯽ ُﺗ ُﮑﺘﺎ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫اﺴ‬ ‫ﮨﺎں ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ. اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ ﺗﺠﮭﮯ? ﺗﯿﺮا ﺧﯿﺎل رﮐﮭﺎ ﻧﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ? ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﺎ, ﺷﺮﻣﺎ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﭼﭗ ﭼﺎپ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ اور دﯾﮑﮭﻨﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ اور ﻟ ّﺎ ﺳﮯ دوﻧﻮں ﻋﻮرﺗﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯿﮟ اور ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺠ‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﻣّﮯ ﮐﻮ ﻣﺴﺖ ﻣﻼﺋﯽ ﮐﮭﻼﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﺋﯽ. ﺑﮍا ﻣﺰا آﯾﺎ. ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎرا ﺑ ّہ ﮨﮯ ﻣﺎں, اﯾﮏ دم ﺻﺤﯿﺢ! ﮐﮩہ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﺮ اس ﻧﮯ اﻧﮕﻠﯽ اور اﻧﮕﻮﭨﮭﺎ ِﻼ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی داد دی.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼﻠﻮ, اﭼﮭﺎ ﮨﺆا. اب ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎر ﮨﻮں, اﯾﺴﺎ ﮐﺮو ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ, ﺗﻢ اور ﮔﮭﻮُﻮ دو ﺗﯿﻦ دن ﯾﮩﯿﮟ ﻣّﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺟﺎؤ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫اس ﮐﺎ ﻣﻦ ﺑﮩﻼؤ. ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, ﺟﺎ اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﻮ اﺑﮭﯽ ﺑﮭﯿﺠﺘﯽ ﮨﻮں. اور دﯾﮑﮫ, ان ﮐﯽ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﺎ. ﺟﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﮩﯿﮟ وﮦ ﮐﺮﻧﺎ. ﮐﭽﮫ ﮔﮍﺑﮍ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﯿﺮ ﺑﺎﻧﺪھ ﮐﺮ ﭼﺎ ُﮏ ﺳﮯ ﻣﺎروں ﮔﯽ. ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ دھﻤﮑﯽ دی.‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎں, ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮوں ﮔﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮩﺎ اور وﮨﺎں ﺳﮯ ﺑﮭﺎگ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﯿﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ رﺳﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺷﺘہ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﯾﺎ اور ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ. ﻣﻦ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ دوڑ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻟﻨﮉ ﮐﺲ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ. ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ُﭩﮫ ﻣﺎر ﻟﻮں ﭘﺮ اﭘﻨﮯ آپ ﭘﺮ ِﯿﻨﺘﺮن ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮍا رﮨﺎ.‬ ‫ﻧ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﻤﺮے ﮐﮯ اﻧﺪر آﺋﯽ. دروازﮦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس آ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﻮ ﻣﺰا آﯾﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس ﮐﺮ ﻣّﺎ? آﻧﮑﮫ ﻣﺎر ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮاﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ اس ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﺎں ﺑﺎﺋﯽ, ﺑﮩﺖ ﺳﻮاد آﯾﺎ. اﭘﻨﯽ ﭼﻮﻟﯽ اﺗﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫‬&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ُﻮ ﺟﻨﻢ زاد ﮔﺎﻧ ُو اور ُﺪ ّﮍ ﮨﮯ , اﺗﻨﺎ ﻣﺴﺖ ﭼﻮﺳﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ اس ﮐﺎ ﻟﻮڑا ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﮐہ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﻣﺮ ِﭩﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼﮐ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﮯ وﮦ. ﮐﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺳﺪھﯽ ﮨﻮﺋﯽ رﻧﮉﯾﺎں ﺑﮭﯽ اﺗﻨﺎ ﻣﺴﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﺳﺘﯿﮟ . اﭘﻨﯽ ﭘ َﮨﻨﺴﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ اور ﺷﺮﻣﺎ ﮔﯿﺎ. ﭘﺮ اب‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫اب ﺗﮏ اس ﮐﮯ ﻣ ّﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ آ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ. ﻣﺴﺖ ﻣﺎﻧﺴﻞ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭘﺮ اﯾﮏ دم ﮐﮍک ﭼﻮﭼﯿﺎں ﺗﮭﯿﮟ اس ﮐﯽ,‬ ‫ﻤ‬ ‫ﻧﺎﺷﭙﺎﺗﯽ ﺟﯿﺴﯽ. ُﻮﭼﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮭﻮرے رﻧﮓ ﮐﮯ ﺑﯿﺮوں ﺟﯿﺴﮯ ﺗﮭﮯ. ﺑﮍی ﺳﮩﺠﺘﺎ ﺳﮯ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎس‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮐﮭﯿﻨﭽﺎ اور اﯾﮏ ﭼﻮﭼﯽ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دے دی.‬ ‫ﭼﻮس ﻟﮯ, وﯾﺴﮯ اس ﻣﯿﮟ اب دودھ ﻧﮩﯿﮟ آﺗﺎ. ﭘﺮ ﺗﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺿﺮور ﭼﮑﮭﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮں. دودھ ﭘﯿﻨﺎ ُﻮ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﺎ, اﯾﮏ اﭼﮭﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺟﯿﺴﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﮐﮍے ُﻮﭼﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﻮس رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﻣﺎں ﮐﮯ دودھ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﯽ ﺑﺎت ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﮑﺮا ﮔﯿﺎ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﭘﺴﺘﺎﻧﻮں ﻣﯿﮟ دودھ آﺗﺎ ﮨﮯ? ﻟﻨﮉ اﭼﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮی ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ارے اﭼﺮج ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺎت ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دو ﺳﺎل ﭘﮩﻠﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﭼﻮد ﮐﺮ اﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﺎں ﺑﻨﺎ دﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑ ّہ ﺟﻨﻨﮯ وﮦ ﻣﯿﺮے ﮔﺎؤں ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ. وﮨﺎں ﮐﮯ زﻣﯿﻨﺪار ﮐﻮ ﺑ ّہ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. اس ﻧﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ. اب ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ اﯾﺴﺎ دودھ ﭼﮭﻮﭨﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ُدھﺎ ُو‬ ‫د ر‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮔﺎﺋﮯ ﮨﻮ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﮐﺴﮯ ﭘﻼﺗﯽ ﮨﮯ ا ّﺎں? ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮐﻮ ﭘﻼﺗﯽ ﮨﮯ. اب ﺗﺠﮭﮯ ﭘﻼﺋﮯ ﮔﯽ. اس رات ُﻮ ﺟﻠﺪی ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻣ‬ ‫اس ﮐﺎ دودھ ﭘﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ. ﺗﺎزﮦ ﮐﺮ دﯾﺘﺎ ﮨﮯ اس ﮐﺎ ﮔﺮم ﻣﯿﭩﮭﺎ دودھ. ﭘﮭﺮ ﭼﺪاﺋﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ آ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ. دن ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺑﮭﯽ دو ﺗﯿﻦ ﺑﺎر ِﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﺳﺎڑھﯽ ﺑﮭﯽ اﺗﺎر دی. وﮦ اﻧﺪر ﮐﭽﮫ اور ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺘﯽ ﺗﮭﯽ اس ﻟﺌﮯ اب‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎدر زاد ﻧﻨﮕﯽ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ, اﯾﮏ دم ﮔﮭﻨﯽ ﺟﮭﺎﻧﭩﯿﮟ ﺗﮭﯽ اس ﮐﯽ. ان ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﭼﻮت‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﯽ ﻻل ﻟﮑﯿﺮ ِﮐﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫د‬ ‫ﻣّﺎ, ﭼﻮت دﯾﮑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﮑﮭﯽ. ﻣﯿﺮی ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ اب زور ﺳﮯ ﭼﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﮑﻨﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺳﺎﻧﻮﻟﯽ ُﺸﭧ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﯽ ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻟﮕﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ. ﺗﯿﺲ ﺳﺎل ﮐﯽ ﺟﻮان ﻋﻮرت‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺳﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ اﺑﮭﺮ آﺋﮯ ﮐﺎﻣﻨﺎ ﮐﮯ ﺑﮭﺎؤ ﺳﮯ وﮦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﮨﻮﺋﯽ.‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ آﺋﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣّﺎ! ﯾﻌﻨﯽ اﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی اﺗﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮐہ ﺗﺠﮫ ﺟﯿﺴﮯ ﺑ ّﮯ ﮐﻮ ﻧہ ِﺟﮭﺎ ﺳﮑﻮں. ارے‬ ‫ر‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮت ﭼﺎٹ ﮐﺮ دﯾﮑﮫ, ﻧﮩﺎل ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺗﻮ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ, ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ اس ﭼﻮت ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ. ﻟﮯ ﺳﻮاد دﯾﮑﮫ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮩہ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﭼﻮت ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ڈال دی‬ ‫اﻧﮕﻠﯽ ﭘﺮ ِﭙ ِﭙﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﺷﮩﺪ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﮭﯿﻨﯽ ﻣﺎدک ﺧﻮﺷﺒﻮ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﻧﮕﻠﯽ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ‬ ‫ﭼﭽ‬ ‫ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﮐﮯ ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮا ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﺴﻨﺪ آﺋﮯ ﮔﺎ. ﻟﮯ ﭼﺎٹ ﻟﮯ ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﻨہ ﻣﺎر ﻟﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﻣﯿﮟ. ﻣﻨہ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ اس ﻻل ِﺳﺘﯽ‬ ‫ر‬ ‫ﭼﻮت ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﯿﺮا ﻣﻦ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ڈال دی ﺗﭙﺘﯽ ﮔﯿﻠﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﭧ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دو اﻧﮕﻠﯿﺎں ڈاﻟﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ارے ﺑﯿﭩﮯ, ﮔﮭﺒﺮا ﻣﺖ, ﭼﻞ ﺳﺐ اﻧﮕﻠﯿﺎں ڈال دے, ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﯿﺮا, ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮨﮯ ﺗﯿﺮے ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺘﻨﺎ. ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻧﮯ ﭼﺎر اﻧﮕﻠﯿﺎں ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ڈال دﯾﮟ. ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﭼﻮت ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ, ﺑﮭﻮﻧﺴﮍا ﺗﮭﺎ!‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺎﺗﮫ ڈال ﻧﺎ ﭘﮕﻠﮯ. ﮐﮭﯿﻞ ﻟﮯ ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ, ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮓ ﺟﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﭼﻮت ﭼﺴﻮاﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪی ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫اﻧﮕﻠﯿﺎں آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺷﭩﺎ ﮐﺮ دھﯿﺮے ﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ اﻧﺪر ڈاﻟﻨﺎ ﺷﺮوع ﮐﯽ. اس ﮐﯽ ﭼﻮت رﺑﮍ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ اور‬ ‫ﺳﭧ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﮨﺎﺗﮫ اﻧﺪر ﭼﻼ ﮔﯿﺎ. ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺨﻤﻞ ﮐﯽ ﮔﯿﻠﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ڈاﻻ ﮨﮯ.‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ, ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﮔﺮم ﮔﺮم ﮨﮯ ﺗﻤﮩﺎری ﭼﻮت.‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;اور اﻧﺪر ڈال! دﯾﮑﮫ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﯽ ﮔﮩﺮاﺋﯽ! ارے ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﻮرا اﻧﺪر ﻟﮯ ﻟﻮں, ﺗﯿﺮا ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ!‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ آ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ اور اﻧﺪر ﮔﮭﺴﯿﮍا. آدھﯽ ُﮩﻨﯽ ﺗﮏ ﻣﯿﺮا ﮨﺎﺗﮫ ﮔ ُﺲ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﮐﭽﮫ ﮔﻮل‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﻮل ﮔﯿﻨﺪ ﺟﯿﺴﺎ آﯾﺎ. اﺳﮯ ﭘﮑﮍا ﺗﻮ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﯾہ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ. ﺳﺴﮑﺎرﯾﺎں ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﺑ ّﮯ داﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻨہ ﮨﮯ راﺟہ. ﮨﺎﺋﮯ ﻣّﺎ, آج ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ. ﺑﮩﺖ دن ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ڈاﻻ اﻧﺪر. ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ڈاﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ. اب‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻟﻨﮉ ڈاﻟﺘﺎ ﮨﮯ, ﺑ ّﮯ داﻧﯽ ﺗﮏ . ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ اﯾﺴﮯ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ. اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﻧﺎ اﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ! ذرا دﺑﺎ ﻣﯿﺮی ﺑ ّﮯ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﭽ‬ ‫داﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻨہ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯿﻮں ﺳﮯ اس ﮔﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﻣﺴﻞ دﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ اﺗﻨﺎ ﻣﺰا‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮭ‬ ‫آﯾﺎ ﮐہ وﮦ ﮐﺴﻤﺴﺎ ﮐﺮ ﺟﮭﮍ ﮔﺌﯽ. ﮨﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ دو ﻣﻨﭧ رﮐﯽ اور ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻧﮩﺎل ﮐﺮ دﯾﺎ رے ﻟﮍﮐﮯ ﺗﻮ ﻧﮯ, ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ. اﮔﻠﯽ ﺑﺎر ﮐﻨﺪھﮯ ﺗﮏ ﺗﯿﺮا ﮨﺎﺗﮫ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻮں ﮔﯽ. ﻣﯿﺮا ﺑﺲ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﻮرا‬ ‫اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﯿﮍ ﮐﺮ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﻮں! ﭘﺮ اب ﭼﻮس ﻟﮯ رے ﻣﯿﺮے راﺟہ. آج ﺗﻮ اﺗﻨﺎ ﺷﮩﺪ ﻧﮑﺎﻻ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮯ, ﺗﯿﺮا ﺣﻖ ﮨﮯ اس‬ ‫ﭘﺮ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ. اس ﭘﺮ ﮔﺎڑھﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﮔﮭﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮی اور دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ اﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﯿﺎ ﺗﻮ آﻧﻨﺪ ﺳﮯ اس ﮐﯽ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﭼﻤﮑﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ. ﮨﺎﺗﮫ ﭘﻮرا ﭼﺎٹ ﮐﺮ‬ ‫ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﭘﺮ دﺑﺎ ﻟﯿﺎ اور ﮐﻤﺮ ﮨﻼ ﮨﻼ ﮐﺮ ﭼﻮت‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﺴﻮاﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺧﻮب دﯾﺮ ﺗﮏ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﭩﻮاﺋﯽ. اﻟﮓ اﻟﮓ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮑﮭﺎﺋﮯ. ﮐّﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﻮری ﺟﯿﺒﮫ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ‬ ‫ﺘ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮت ﮐﻮ اوﭘﺮ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺗﮏ ﭼﺎﭨﻨﺎ, ﭼﮭﯿﺪ ﮐﮯ اﻧﺪر ﺟﯿﺒﮫ ڈاﻟﻨﺎ, ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﮕﻮﺷﭩﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ آم ﺟﯿﺴﺎ ﭼﻮﺳﻨﺎ, داﻧﮯ ﮐﻮ ﺟﯿﺒﮫ ﺳﮯ‬ ‫رﮔﮍﻧﺎ, ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﯽ دن ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﺎ. وﮦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﺗﮭﯽ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻣﺴﺖ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﮯ ُﻮ ﻣّﺎ. اﯾﮏ دن ﻣﯿﮟ ا ُﻮﺑﮭﺎوی ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺑﺪﻣﻌﺎش! ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﮨﻮ ﮔﯽ. دن رات اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﭼﻮت‬ ‫ﻧ‬ ‫ﺗ ﻨ‬ ‫ﭼﺴﻮاﺋﮯ ﮔﯽ وﮦ ﺣﺮاﻣﻦ. ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﮔﺎﻟﯽ دﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ وﮦ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫اب ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﮯ دو ﻧﺎ ﺑﺎﺋﯽ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ آﮔﺮﮦ ﮐﯿﺎ. ﻟﻨﮉ ﮐﺲ ﮐﺮ ﺗّﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ اور ﻣﺠﮫ ﺳﮯ رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻨ‬ ‫آج ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮯ, اﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻮس ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮں. ﭼﺪواؤں ﮔﯽ ﮐﻞ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ. ﭘﺮ آج رات ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮے ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻮؤں ﮔﯽ. رات‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﮭﺮ ﻣﺰا ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ آج ﻧﮩﯿﮟ آﺋﮯ ﮔﺎ ﺑﺎﺋﯽ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ِﺮاﺷہ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ اب ﮐﻞ ﮨﯽ ِﻠﮯ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﺎ. ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ اﮐﯿﻠﮯ ﻣﺰے ﮐﺮوں ﮔﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ آج ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﭻ ﮔﯿﺎ اس ﺳﮯ ﺑﮭﯽ اﯾﮏ راﺣﺖ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳﯽ ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ وﮦ ﺿﺮور ﻣﯿﺮی ﻣﺎر ﻟﯿﺘﺎ.‬ ‫آج اﺳﮯ ﮐﺎم ﮨﮯ ﻣّﺎ. ﮐﻞ ﺳﮯ وﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎرے ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻮﺋﮯ ﮔﺎ, ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ. اب آ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻨﮉ دے‬ ‫ﻨ‬ ‫اﭘﻨﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ. ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎس ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ اور دو ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﭼﻮس ﮐﺮ ﺟﮭﮍا دﯾﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا‬ ‫ﮭ‬ ‫آﯾﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﺎ ڈھﻨﮓ اﻟﮓ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﺎ ﺟﺎدو ﮐﭽﮫ اور ﮨﯽ ﺗﮭﺎ. ﺟﮭﮍ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﻮﻧﭩﻮں ﭘﺮ ﺟﯿﺒﮫ ﭘﮭﺮاﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫اب آرام ﮐﺮ. ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﻮں. ﭘﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﺎ دودھ ﭘﯽ آؤں. ان ﮐﯽ ﭼﻮﭼﯿﺎں ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺳﻨﺴﻨﺎ رﮨﯽ ﮨﻮں ﮔﯽ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ آؤں ﻣﺎں ﮐﺎ دودھ ﭘﯿﻨﮯ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ُﺗﺴﺎﮦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ا‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;ﻧﮩﯿﮟ, ان ﻣﺎﮨﻮاری ﮐﮯ دﻧﻮں ﻣﯿﮟ وﮦ ﭼﮍﭼﮍی ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮڑ ﮐﺮ ِﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺎس ﻧﮩﯿﮟ آﻧﮯ دﯾﺘﯽ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 30px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;باقی کل&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/702569708832011255/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1806.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/702569708832011255'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/702569708832011255'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1806.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ فور'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-1592827067221363705</id><published>2012-01-16T13:28:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:28:10.600-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ تھری</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﻮﻧﺪھﯽ ﺳﻮﻧﺪھﯽ ﻣّﯽ ﺟﯿﺴﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﺧﻮﺷﺒﻮ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل اور ﻟﮯ ﺳﭙﺎڑا ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟ ﱡو ﺟﯿﺴﮯ. اس ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﺎ ﺳﭙﺎڑا ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ اور ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻮرا ﻣﻨہ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﭘﮍا ﺗﺐ ﺟﺎ ﮐﺮ وﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﯿﺐ ﺟﯿﺴﺎ ﺳﭙﺎڑا ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ. ﻣﻨہ اﯾﺴﺎ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮍا ﻣﻐﺰ ﮐﺎ ﻟ ﱡو‬ ‫ﮉ‬ ‫اﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﻮ. ﻣﯿﺮا ﺳﺎرا ڈر ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ اس ﻧﺮم ﭼﻤﮍی ﭘﺮ ﺟﯿﺒﮫ ﭘﮭﺮاﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ‬ ‫ﻣﺰا ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻮڑا ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮے ﺑﺎﻟﻮں ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯿﺎں ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﺎﺋﮯ ﻣّﺎ, ﻣﺴﺖ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﮯ رے ُﻮ راﺟہ. ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﻮرا ﻟﻮڑا ﺟﮍ ﺗﮏ ﻧﮕﻠﻨﺎ ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ. ُﻮ ﻣﯿﺮا‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻟﻮڑا ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﻨﺎ. ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ دوں ﮔﺎ ﺗﺠﮭﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻟﻮڑا دﯾﻨﮯ اور ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ روز ﻣﯿﺮا‬ ‫ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ, آﮔﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ اور ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ. ﻣﺎﻟﮑﻦ ﻧﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ دروازے ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ اب ﺗﮏ . ڈرﺗﯽ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ. ُﻮ ﻟﮯ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻟﮯ اﯾﮏ ﺑﺎر ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮں ﮔﺎ ﮐہ ﻟﻮ, آپ ﮐﮯ ﮐﻤﺴﻦ ﭼﮭﻮﮐﺮے ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮا ﻟﮯ ﻟﯿﺎ, اب ﮐﯿﻮں ڈرﺗﯽ ﮨﯿﮟ? ﯾﺎ ﭘﮩﻠﮯ وﮦ ﺗﯿﺮا‬ ‫ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻟﻮڑا ﻟﮯ ﻟﯿﮟ, ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ اﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﺑﮍا دے دوں ﮔﺎ ﭘﭽﮭﻮاڑے ﺳﮯ.‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻮڑا دﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎت ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮڑا ﮔﮭﺒﺮاﯾﺎ. اس ﮐﺎ اﺷﺎرﮦ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ دﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﯾہ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ. ﭘﺮ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻣﯿﮟ اﺗﻨﺎ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﭼﻮﺳﺘﺎ رﮨﺎ. آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﻮب ﻣﺰا ﮐﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺧﻮب ﭼﻮﻣﺎ. ﻣﯿﺮی ﺟﯿﺒﮫ ﭼﻮﺳﯽ اور اﭘﻨﯽ ﭼﺴﻮاﺋﯽ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﮍا‬ ‫ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ اور ﮔﮭﻮ ُﻮ اﺳﮯ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﺳﮩﻼ ﺳﮩﻼ ﮐﺮ ﻣﺴﺖ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﭼﮑﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺗﻮ ِﮐﮭﺎ ﻣّﺎ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﻣﯿﺮا ﭼ ّا اﺗﺎر دﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺒﺮا ﮔﯿﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺷﺎﯾﺪ وﮦ وﮨﯿﮟ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫د‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرے ﮔﺎ. ﻣﯿﺮی ﮐﺎﺗﺮ آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ اﺗﺮ آﺋﮯ ڈر ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.‬ ‫ڈر ﻣﺖ راﺟہ. اﯾﺴﮯ ﺗﮭﻮڑے ﻣﺎروں ﮔﺎ ﺗﯿﺮی ﺟﻠﺪی ﻣﯿﮟ. ﻣﺰے ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﻣ ّﮭﻦ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍے ﮔﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺳﭧ ﺳﮯ ﮔ ُﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ. ﮐﻨﻮاری ﻧﺎزک ﮔﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی, ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻟﯿﻨﯽ ﭘﮍے ﮔﯽ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺎروں ﮔﺎ. وﮦ رﮨﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎل ﻟﮯ ﮔﯽ. اﺳﮯ ﺑﮍی آس ﮨﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﮯ ﭼﮭﻮرے ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;&amp;nbsp;ﺳﮯ ُﺪﺗﮯ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ. اﺑﮭﯽ ﺑﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ دﯾﮑﮭﻨﯽ ﮨﮯ رے راﺟہ. ﻣﯿﺮا ﭼ ّا اﺗﺎر ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺗﮍوں ﭘﺮ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮا اور اﻧﮩﯿﮟ اﯾﺴﮯ دﺑﺎﯾﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﯿﻨﺪﯾﮟ ﮨﻮں.‬ ‫آﮨﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﮨﮯ رے ﺗﯿﺮی ﮐﻨﻮل راﺟہ! اﯾﮏ دم ﻣ ّﮭﻦ. ﺳﺎﻟﯽ ﭼﮭﻮﮐﺮﯾﻮں ﮐﯽ ﺑﮭﯽ اﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎری ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ. ﮐﮩہ ﮐﺮ وﮦ ﺟﮭﮏ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎﻣﺐ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﭘﮭﺮ آوﯾﺶ ﻣﯿﮟ آ ﮐﺮ وﮦ اﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﺘﺤﺎﺷہ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ اور ﺳﯿﺪھﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﺎک‬ ‫ﻧ‬ ‫ڈال ﮐﺮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ اس ﻣﯿﮟ ﻋﻄﺮ ﺑﮭﺮا ﮨﻮ. ﺳﻮﻧﮕﮫ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اس ﻧﮯ ﺟﯿﺒﮫ ڈال دی ﻣﺠﮭﮯ ﮔﺪﮔﺪی‬ ‫ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭼﮭﻮڑ ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﮔﺪﮔﺪی ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﺎ ﺳﺮ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﭘﺮ اس ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ آﮔﮯ ﻣﯿﺮی ﮐﯿﺎ ﭼﻠﻨﮯ واﻟﯽ‬ ‫ﭨ‬ ‫د ؤ‬ ‫ﺗﮭﯽ. زور زور ﺳﮯ وﮦ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮﺳﺘﺎ رﮨﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﻟﺌﮯ ذرا ﺳﺎ ﻧﺨﺮا ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﯽ ِﮐﮭﺎ ُ‬ ‫ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺴﻮاﺗﺎ رﮨﺎ. ﮔﯿﻠﯽ ﺟﯿﺒﮫ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﮯ اﻧﺪر ِدھﺮ ُدھﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ. آﺧﺮ اﭘﻨﮯ‬ ‫ا‬ ‫ا‬ ‫آپ ﭘﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ِﺴﯽ ﻃﺮح ﻗﺎﺑﻮ ﮐﯿﺎ اور اﭨﮫ ﺑﯿﭩﮭﺎ.‬ ‫ﮐ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﯿﺎ ﻣﺎل ﮨﮯ راﺟہ ُﻮ. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐ ّﺎ ﭼﺒﺎ ﺟﺎؤں ﺗﺠﮭﮯ! ﺗﯿﺮا ﻏﻼم ﮨﻮ ﮐﺮ رﮨﻮں. ﭘﺮ ﭼﻞ ﺑﮩﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اﺳﮑﻮل ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ. ﮐﮩہ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﺮ وﮦ ﭨﺎﻧﮓ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﮕﮫ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ اﭘﻨﺎ ﺗّﺎﯾﺎ ﻟﻮڑا ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭩﻮں اور‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮔﺎﻟﻮں ﭘﺮ ﭘﮭﯿﺮﺗﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ.‬ ‫اب ﭼﻮس ﻟﮯ ﻣّﺎ. اور دﯾﮑﮫ, ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍوں ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﮔﺮاﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ. ﺳﺐ ﻧﮕﻞ ﻟﯿﻨﺎ. ِرﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍی ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. ُﻮ ﮐﮭﺎ‬ ‫ﺗ‬ ‫و‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﮯ دﯾﮑﮫ . ﺳﻮاد ﺑﮭﯽ ﺟﮭﺎﻧﮑﺲ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺗﺠﮭﮯ, ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮے آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﮭﻮﻣﺎ ﮐﺮے ﮔﺎ ﮨﻤﯿﺸہ- ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ ﻟﻮڑا ُﺴﺎؤ ﮐﮩہ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﺮ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ ﭘﮭﺮ اس ﮐﺎ ﺳﭙﺎڑا ﻧﮕﻼ اور ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﺳﺮ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﺎ اور دوﺳﺮے‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﺎ ڈﻧﮉا ُّﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﮍﮐﺎ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ اب ﺗﯿﺰ ﭼﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ روﮐﮯ ﭼﻮس رﮨﺎ‬ ‫ﻣﭩ‬ ‫ﺗﮭﺎ اور ِرﯾﮯ ﮐﮯ ﻓ ّارے ﮐﺎ اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ڈر ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ? اﮔﺮ اﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ اور ﺗﮭﻮک دﯾﺎ ﺗﻮ‬ ‫ﺆ‬ ‫و‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ُﺮا ﻣﺎن ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. ﺳﭙﺎڑا اﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﯾﺴﮯ ﭘﮭﻮل ﮔﯿﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻏّﺎرﮦ ﮨﻮ.‬ ‫ﺒ‬ ‫ﭨ ﺑ‬ ‫دﯾﮑﮫ ﻣّﺎ, اب ﺟﮭﮍﺗﺎ ﮨﻮں, ﻣﯿﺮی ﺑﺎت ﯾﺎد رﮐﮭﻨﺎ. آﮦ.... ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ. ﮔﺮم ﮔﺮم ِﭙ ِﭙﮯ ِرﯾﮯ ﮐﯽ ﭘﭽﮑﺎری ﺳﯽ‬ ‫ﭼﭽ و‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮٹ ﭘﮍی. اس ﮐﯽ دھﺎر اﺗﻨﯽ ﺗﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﻧﺪﯾﮟ ﺗﻮ ﺳﯿﺪھﮯ ﻓ ّارے ﺟﯿﺴﯽ ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ‬ ‫ﺆ‬ ‫ﮔﺌﯿﮟ.‬ ‫اس ِﭙ ِﭙﮯ ِرﯾﮯ ﮐﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮭﻮڑی ُﺑﮑﺎﺋﯽ آﺋﯽ ﭘﺮ ﻣﻦ ﮐﮍا ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ِرﯾہ ﻧﮕﻠﻨﺎ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ. ﺟﺐ‬ ‫و‬ ‫ﭨ‬ ‫ا‬ ‫ﭼﭽ و‬ ‫ﺳﻮاد ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ; ﮐﮭﺎری ﮐﺴﯿﻠﯽ ﻣﻼﺋﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﺳﻮاد ﺗﮭﺎ. ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﯿﺰ اور ﺳﺮ ﮔﮭﻤﺎ دﯾﻨﮯ واﻟﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﮟ اور ﭼﻮس ﭼﻮس ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ِرﯾہ ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اب ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮐہ ان ﮔﻨﺪی‬ ‫و‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں ﻣﯿﮟ ﻋﻮرﺗﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺘﺎب رﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اب اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اﯾﺴﮯ ﭼﻮﺳﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻨﮉﯾﺮی ﮨﻮ. اﯾﮏ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻧﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮڑﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ .‬ ‫ﺟﺐ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭨﮭﻨﮉا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ اﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ. ﻟﻨﮉ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎف ﺗﮭﺎ, اﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻧﺪ ِرﯾﮯ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﯽ‬ ‫و‬ ‫ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺧﻮش ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺷﺎﺑﺎش ﻣّﺎ, ﺻﺤﯿﺢ ﭼﻮﺳﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ. ﻣﺰا آﯾﺎ? ﺳﻮاد ِﻼ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮭﻮں ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻠﮑﺘﯽ ﺗ ِﭘﺘﯽ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ وﮦ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻣﯿﺮا ِرﯾہ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮں, ارے ﮔﮭﺮ ﮐﯽ وﮦ دوﻧﻮں ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﺸہ اس ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ رﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ. اب دﯾﮑﮫ ﺗﯿﺮے‬ ‫و‬ ‫ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﻣﺰا ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں. ﭼﻞ ﮐﭙﮍے ﭘﮩﻦ ﻟﮯ اور اﺳﮑﻮل ﭼﻞ. ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ. ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﭽﻞ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, ُﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﺮ اﯾﮏ ﺑﺎر ﭼﻮس ﻟﮯ ﻧﺎ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ . اس ﻧﮯ اﭘﻨﯽ دھﻮﺗﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ ﭼ ّا ﭘﮩﻨﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;اب ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﻣّﺎ راﺟہ. اب ذرا ﺻﺒﺮ ﮐﺮ. اب ﺷﺎم ﮐﻮ اﺳﮑﻮل ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺰا ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﭽﮫ ﻣﺎل رﮐﮫ . اور دﯾﮑﮫ, اﺳﮑﻮل ﻣﯿﮟ ُﭩﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎرﻧﺎ. ﻣﺠﮭﮯ اﺳﮑﻮل ﭼﮭﻮڑ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﺗﮭﺎ. ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫اب ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ِرﯾﮯ ﮐﺎ ﺳﻮاد ﺗﮭﺎ. اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﯾﺎد ﮐﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮا اور ﮐﮭﮍا ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﻟﮕﺎ ﮐہ ﺑﯿﺖ‬ ‫و‬ ‫ﭨ‬ ‫اﻟﺨﻼ ﺟﺎ ﮐﺮ ُﭩﮫ ﻣﺎر آؤں ﭘﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ دﯾﮯ وﻋﺪے ﮐﻮ ﯾﺎد ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ رﮨﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫آﺧﺮ اﺳﮑﻮل ﭼ ُﻮﭨﺎ اور ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘہ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﯿﻨﮯ آﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ اور ﮨﻢ ﭼﻞ دﯾﮯ. ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫اﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ روک ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮم ﻟﯿﺎ. ﺻﺎف ﺗﮭﺎ ﮐہ اﺳﮯ ﻣﯿﺮے ُﻤﺒﻦ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﺗﮭﺎ. اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭧ ﻟﮯ ﮐﺮ وﮦ ﻣﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﻮس رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ دھ ّﮯ دے رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ دے ﻧﺎ. ُﻤﺒﻦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺿﺪ ﮐﯽ. اﯾﮏ ﮔﮩﺮی ﺳﺎﻧﺲ ﻟﮯ ﮐﺮ وﮦ ﭘﮭﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﻮﻻ.‬ ‫اب ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ آﮔﮯ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮔﮯ. ﻣﺎں اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮ رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ.‬&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 17px; font-weight: bold;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 30px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;باقی کل&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/1592827067221363705/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_562.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/1592827067221363705'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/1592827067221363705'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_562.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ تھری'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-8941776190642593540</id><published>2012-01-16T13:27:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:27:34.354-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ ٹو</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اب ﻧہ رﮨﺎ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ وﮨﺎں ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﺎ اور ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آ ﮐﺮ ﺳﭩﺎ ﺳﭧ ُﭩﮫ ﻣﺎری. ﺟﮭﮍا ﺗﻮ اﺗﻨﯽ زور ﺳﮯ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮐہ ِرﯾہ ﺳﯿﺪھﺎ ﭼﮫ ُﭧ دور ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯽ دﯾﻮار ﭘﺮ ﻟﮕﺎ. آج ﮐﺎ وﮦ ﮐﺎ ُﮏ ﻧﻈﺎرﮦ ﻣﯿﺮے ﻟﺌﮯ ﺳﺆرگ ﮐﺎ ﻧﻈﺎرﮦ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻓ‬ ‫و‬ ‫ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ آﮔﮯ ﮐﯽ ﭼﺪاﺋﯽ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ اﺗﻨﮯ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﺳﮑﮭﻠﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺐ ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮫ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘہ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ‬ ‫ﭼﻼ.‬ ‫دوﺳﺮے دن ﻣﺎں ﺑﮩﺖ ﺗ ِﭘﺖ ِﮐﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺗﮭﻮڑے ﭘﯿﺮ اﻟﮓ ﭘﮭﺘﺮا ﮐﺮ ﭼﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﮟ اﺳﮑﻮل ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗّﺎر‬ ‫ﯿ‬ ‫ﺮ د‬ ‫ﮨﺆا اور ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼﯾﺎ.‬ ‫ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, آج ﺳﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ دﯾﺎ ﮐﺮے ﮔﺎ. ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮڑا ڈرا ﮨﺆا ﺗﮭﺎ. ﮐﺎﻓﯽ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﻧﺪازﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ اﺗﻨﯽ دﻟﭽﺴﭙﯽ ﮐﯿﻮں ﺗﮭﯽ اور ان ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ِﻞ ﮐﺮ ﮐﯿﻮں ﻣﺎں ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﺑﺎت‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﻞ رات ﻣﻨﻮا ﻟﯽ ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﮐﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﯾﺎد ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ آﻧﺎ ﮐﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں, ﻣﯿﮟ ﺗﻮ روز ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮں اﭘﻨﯽ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﺿﺮورت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﻣﻦ ﮨﯽ ﻣﻦ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧہ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮے. وﯾﺴﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﺆا اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮍا ﭘﯿﺎرا ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. اﯾﮏ ﺑﺎر اﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ اﺳﮯ ﭼﻮم ﻟﻮں.‬ ‫ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﯿﺮی اﯾﮏ ﻧہ ﺳﻨﯽ. وﮦ ﮐﺎم- ُﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﺗﮭﯽ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ وﭼﻦ دے ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻧﺎراض ﮨﻮ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﺳﯿﺪھﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﯾﮏ ﻃﻤﺎﻧﭽہ ﻟﮕﺎ دﯾﺎ اور ڈاﻧﭧ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫اب ﻣﺎر ﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺑﺮی ﻃﺮح! ﭼﭗ ﭼﺎپ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎ اور وﮦ ﺟﻮ ﮐﮩﮯ وﯾﺴﺎ ﮐﺮ. ﺟﺐ ﮔﮭﻮُﻮ ﺧﻮد ﺗّﺎر ﮨﮯ ﺗﺠﮭﮯ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﮭﻮڑﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮے ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮورت ﮨﮯ? ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮨﻔﺘﮯ ﮔﺮ ﭘﮍا ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﮭﭩﻨﺎ ﭘﮭﻮٹ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ! اب‬ ‫ﺑﺎت ﺧﺘﻢ! ﻣﯿﮟ ُوﮨﺎﻧﺴﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﻟﯿﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﻣﯿﺮے ﮔﺎل ﺳﮩﻼ ﮐﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ر‬ ‫ﻣﺎں ﮐﮯ ﻃﻤﺎﻧﭽﮯ ﮐﺎ ُﺮا ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﻣّﺎ, ُﻮ ﮔﮭﺒﺮاﺗﺎ ﮐﯿﻮں ﮨﮯ? ﻣﯿﮟ دﺷﻤﻦ ﺗﮭﻮڑے ﮨﯽ ﮨﻮں ﺗﻤﮩﺎرا! ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ اﺳﮑﻮل‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻟﮯ ﺟﺎؤں ﮔﺎ. ﻣﺎں ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﺠﮭﮯ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ واﻻ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺗﻢ دوﻧﻮں ﻣﺠﮭﮯ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﭘﺮ ﭼﭗ رﮨﺎ. ڈر ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ُﺗ ُﮏ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﮐہ اب ﮐﯿﺎ‬ ‫اﺴ‬ ‫ﮨﻮ ﮔﺎ! آﺧﺮ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ رﻧﮉی ﻣﺎں ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ. اﺳﯽ ﮐﺎ ﮐﺎ ُﮏ ﺳﻮاﺑﮭﺎؤ ﻣﺠﮭﮯ وراﺛﺖ ﻣﯿﮟ ِﻼ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, اﺑﮭﯽ ﺗﻮ اﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩہ ﮨﮯ اﺳﮑﻮل ﺷﺮوع ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ! اﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪی ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں ﮔﺎ? وﮦ ﮨﻨﺲ دﯾﺎ.‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻠﻮ ﺗﻮ ﻣّﺎ, ﻣﺰا ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ, ﺗﮭﻮڑی ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺳﯿﺮ ﮐﺮاﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺑﺴﺘہ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ اور‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ آﮔﮯ ڈﻧﮉے ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻞ دﯾﺎ. آج وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮج ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ اور ﮔﻨﮕﻨﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﺎر ﺑﺎر ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﺑﺎﻟﻮں‬‫ ﮐﻮ ﭼﻮم ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
اﺳﮑﻮل ﺟﺎﺗﮯ ﺳﻤﮯ اﯾﮏ ﮔﮭﻨﺎ ﺟﻨﮕﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ. وﮨﺎں وﮦ اﯾﮏ ﺳﻨﺴﺎن ﺟﮕہ ﭘﺮ رک ﮔﯿﺎ اور ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺳﮯ اﺗﺮ‬ ‫ﮐﺮ دھﮑﯿﻠﺘﺎ ﮨﺆا ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ اﻧﺪر ﮔﮭﻨﯽ ﺟﮭﺎڑی ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ. ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮭﮍی ﮐﺮ ﮐﮯ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﺗﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ. ﭘﮭﺮ‬ ‫اس ﻧﮯ ﭼﺎدر ﺑﭽﮭﺎﺋﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ اس ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﺧﻮد ﻣﯿﺮے ﭘﺎس ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ.‬ ‫آؤ ﻣّﺎ ﺗﮭﻮڑے ﯾﮩﺎں ﭼﮭﺎؤں ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﭗ ﺷﭗ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ. آج وﮦ دھﻮﺗﯽ ﭘﮩﻨﮯ ﺗﮭﺎ. وﯾﺴﮯ اﮐﺜﺮ وﮦ ﭘﺘﻠﻮن ﮨﯽ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ اس ﮐﯽ دھﻮﺗﯽ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﺑﮍا ﺗﻤﺒﻮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮐﺲ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮی اور ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ دﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ اس ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ دھﻮﺗﯽ ﮐﮯ اوﭘﺮ ﺳﮯ ﮨﯽ اﭘﻨﮯ ﻟﻮڑے ﭘﺮ رﮐﮭﺎ اور اﺳﮯ ﺳﮩﻼﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣﯿﮟ اب ﮔﮭﺒﺮا ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ اﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ان ﮐﮩﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﮨﻢ ﯾﮩﺎں ﮐﯿﻮں رﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ? اور ﺗﻢ ﯾہ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ رﮨﮯ ﮨﻮ? اس ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮاب ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺎ اور اﭼﺎﻧﮏ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﮔﺎل ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﯾہ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ رﮨﮯ ﮨﻮ ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ? ﭼﮭﻮڑو ﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺒﺮا ﮐﺮ ِّﺎﯾﺎ ﭘﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﻮ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺎ اور ﭼ ّے‬ ‫ﮉ‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮯ اوﭘﺮ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮے ِﺸﻦ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﮐﯽ دﯾﮑﮭﯽ اور ﺳﻨﯽ ﺑﺎﺗﻮں ﮐﻮ‬ ‫ﺷ‬ ‫ﯾﺎد ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺒﺮا ﺑﮭﯽ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﮐﮯ ﭼﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﯿﺮ ﭘﮭﭩﮑﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺳﺸﮑﺖ ﺑﺎ ُﻮﭘﺎش ﮐﮯ‬ ‫ﮨ‬ ‫ﭨ‬ ‫آﮔﮯ ﻣﯿﺮی ﮐﯿﺎ ﭼﻠﻨﮯ واﻟﯽ ﺗﮭﯽ? ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭩﻮں ﮐﻮ اﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮں ﻣﯿﮟ دﺑﺎ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ وﮦ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺳﮩﻼﺗﺎ رﮨﺎ. اس ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮯ اﯾﺴﺎ ﺟﺎدو ﮐﯿﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آﻧﮯ ﻟﮕﺎ اور ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اس‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺮدرے ﮨﻮﻧﭧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ُﱠ ِﺖ ﮐﺮ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭼﺎﻧﮏ ﭘﻮرا ﺳﻤﭙﺮن ﮐﺮ دﯾﺎ اور آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ اس‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫ﮐﮯ ﭘﯿﺎر ﮐﺎ ﻣﺰا ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﺮے ڈھﯿﻠﮯ ﭘﮍے ﺑﺪن ﮐﻮ اور زوروں ﺳﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ وﮦ اب ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭩﻮں ﮐﻮ زور‬ ‫ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﭼ ّے ﮐﯽ زﻧﺠﯿﺮ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور اﺳﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻟﯿﺎ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣّﺎ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ُﻨﮉی ﮨﻼﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﻮش ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮐﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣّﺎ ﮔﮭﺒﺮا ﻣﺖ اﭘﻨﮯ راﺟہ ﻣّﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﺮوں ﮔﺎ, ﺧﻮب ُﮑﮫ دوں ﮔﺎ. اب دﯾﮑﮫ اور ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ,‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﺲ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﺑﯿﭩﮭﮯ رﮨﻮ. ﻣﺠﮭﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎدر ﭘﺮ ِﭩﺎ ﮐﺮ وﮦ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﭩﮭﯿﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﯽ آﻧﮑﮭﯿﮟ اﯾﺴﯽ‬ ‫ﻟ‬ ‫اس ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐہ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ, ﮐﻮﺋﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮ. اﭼﺎﻧﮏ وﮦ ﺟﮭﮑﺎ اور اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﺳﭙﺎڑے ﭘﺮ ﮐﯽ ﭼﻤﮍی ﻧﯿﭽﮯ‬ ‫ﮐﺮ دی.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‬ ‫ﮨﺎﺋﮯ ﻣّﺎ, ﺳﭙﺎڑا ﮨﮯ ﯾﺎ رﯾﺸﻤﯽ اﻧﮕﻮر ﮐﺎ داﻧہ ﮨﮯ رے? ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﺎﻟﮏ! ﮐﮩہ ﮐﺮ وﮦ اﺳﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮍا‬ ‫ﻨ‬ ‫اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ ﭘﺮ اس ﮐﯽ ﮐﮭﺮدری ﺟﯿﺒﮫ ﮐﺎ ﺳﭙﺮش ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﺳﭙﺎڑے ﭘﺮ ﺳﮩﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭼﮭﻮڑ, ﮐﯿﺴﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. اس ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺑﺎل ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﺆا ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺳﺮ اﭨﮭﺎﯾﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫اور ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫اب ﺗﻮ ﺗﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮس ﮐﺮ ﮨﯽ اﭨﮭﻮں ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﻣّﺎ راﺟہ. اﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﻮڑﺗﺎ ﮨﮯ? ﻣﻼﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﻼﺋﯽ. ﭘﮭﺮ اﭘﻨﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ‬ ‫ﻨ‬ ‫اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻧﮕﻞ ﻟﯿﺎ اور ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﮟ ِﮩﺮ اﭨﮭﺎ. اﺗﻨﺎ ُﮑﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ِﻼ ﺗﮭﺎ, ﻣﺎں ﮐﯽ اﻧﮕﯿﺎ ﻣﯿﮟ ُﭩﮫ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ.‬&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;‫اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﺑﺎل ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﺎ ﺳﺮ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ اور ﭘﮭﺮ آﺧﺮ اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ اﭼﮭﺎل ﮐﺮ اس ﮐﺎ ﻣﻨہ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;ﻣﯿﺮی ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﻮ ﺳﮩﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺟﺎری رﮐﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﺟﯿﺒﮫ ﺳﮯ وﮦ اﺗﻨﮯ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ِﺸﻦ رﮔﮍ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﻤﺴﺎ ﮐﺮ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﺷ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﯾﺴﮯ ﭼﻮﺳﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻗﻠﻔﯽ ﭼﻮس رﮨﺎ ﮨﻮ. آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ اس ﻧﮯ ﭼﭩﺨﺎرے ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ِرﯾہ ﻧﮕﻼ.‬ ‫و‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟﺐ آﺧﺮی ﺑﻮﻧﺪ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﻧﭽﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ وﮦ اﭨﮫ ﺑﯿﭩﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﭘﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﯾﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ ﻧﺎ ﻣّﺎ? ﺳﭻ ﺑﺘﺎ, ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ زﯾﺎدﮦ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﯿﺮے ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐہ اس ﮐﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ اﯾﺴﺎ ﻣﺰا آﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ آﯾﺎ. وﮦ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ‬ ‫ﮐﻮ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎرا ﻟﻨﮉ ﮨﮯ ﺗﯿﺮا ﻣّﺎ, اﯾﮏ دم ﮔﻮرا اور ﭼﮑﻨﺎ. ﺑﮩﺖ دن ﻣﯿﮟ اﯾﺴﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ِﻠﯽ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﺮا ﻟﻮڑا دﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ راﺟہ? ﺗﯿﺮے ﺟﯿﺴﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮرت ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﭘﺮ اﯾﮏ دم ﺟﺎﻧﺪار ﮨﮯ! ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺑﮍے ﻻڈ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ُﺗ ُﮑﺘﺎ ﺗﮭﯽ. ُﻨﮉی ﮨﻼ ﮐﺮ ﮨﺎں ﮐﺮ دی. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ دھﻮﺗﯽ اﯾﮏ ﻃﺮف ﺳﮯ اﭨﮭﺎﺋﯽ اور‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫اﺴ‬ ‫اﭘﻨﺎ ﻟﻮڑا ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ.‬ ‫ﻣّﺎ, ﻣﺴﺖ ﻣﻼﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﯿﺮی. اب روز ﮐﮭﻼﺋﮯ ﮔﺎ ﻧﺎ? ﻟﮯ, ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ اب ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺎڑھﯽ رﺑﮍی ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮨﻮں, اﯾﺴﺎ ﺳﻮاد ﺗﺠﮭﮯ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ِﻼ ﮨﻮ ﮔﺎ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ اس ﮐﯽ.&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﮟ اس ﺣﻼﺑﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﺎﻧﭗ اﭨﮭﺎ. ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﮯ اور ﮐﺎﻣﻨﺎ ﮐﯽ اﯾﮏ ِﻠﯽ ﺟﻠﯽ ﭨﯿﺲ اﭨﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮐﻞ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ آج ﭘﺎس ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ دﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺎﻧﻮ ﻟﻘﻮﮦ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎر ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎ. ﮔﻮرا ﮔﻮرا ﻟﻨﮉ اﯾﮏ دم ﻣﺎﻧﺴﻞ اور ﮐﮍا ﺗﮭﺎ. ﺑﮍی ﺑﮍی ﻧﺴﯿﮟ اﺑﮭﺮی ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﺳﭙﺎڑا ﻧﻨﮕﺎ ﺗﮭﺎ اور اس ﮐﯽ ﮔﻼﺑﯽ ﭼﻤﮍی ﺗﻦ ﮐﺮ رﯾﺸﻢ ﮐﯽ ﻃﺮح ﭘﺘﻠﯽ اور ﭼﮑﻨﯽ ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ ﺟﮍ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻨﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﺟﮭﺎﻧﭩﯿﮟ ﮨﻮں ﮔﯽ ﭘﺮ اس ﮐﺎ ﭘﯿﭧ اﯾﮏ دم ﭼﮑﻨﺎ اور ﺳﭙﺎٹ ﺗﮭﺎ. ﮔﻮﭨﯿﺎں ﺑﮭﯽ ﭼﮑﻨﯽ ﺗﮭﯿﮟ.‬ ‫ارے ﮐﺎﭨﮯ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ, ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻟﮯ! ذرا ﮐﮭﯿﻞ اس ﺳﮯ. ﺧﻮد ﮐﮯ ﻟﻮڑے ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐہ ﻧﮩﯿﮟ ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ?‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﮑﺎر ﮐﺮ ﮐﮩﺎ. اب ﺗﮏ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ڈر ﺑﮭﻮل ﮐﺮ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ آ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دھﯿﺮے ﺳﮯ اس ﺗﮭﺮﮐﺘﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍا اور ﮨﻼﯾﺎ. ﭘﮭﺮ دوﺳﺮے ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﺑﮭﯽ اس ﮐﮯ ڈﻧﮉے ﮐﮯ‬ ‫ارد ﮔﺮد ﺟﮑﮍ ﻟﯽ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﮐﯽ ﻣﭩﮭﯿﻮں ﺳﮯ ﺑﮭﯽ وﮦ آدھﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ڈھﮑﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﺑﺎپ رے ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, ﮐﺘﻨﺎ ﻣﻮﭨﺎ اور ﻟﻤﺒﺎ ﮨﮯ ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ اﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ? اور ﺟﮭﺎﻧﭩﯿﮟ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﺗﻮ ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ُﺪﺗﮯ? ﮔﮭﻮُﻮ ﺑﻮﻻ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ُﻣﮉ آﺋﮯ ﺷﺮم ﮐﮯ ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے‬ ‫ا‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮔﺎل دﺑﺎﺗﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ.‬&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;اﭼﮭﺎ ﮨﺆا ﺟﻮ دﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ. ﻣﺰا آﯾﺎ? ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺗﻤﮩﺎری ﻣﺎں, دوﻧﻮں ﻣﮩﺎ ﭼﮍﯾﻞ رﻧﮉﯾﺎں ﮨﯿﮟ ﻣّﺎ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ارے اﯾﺴﮯ ﻟﻨﮉ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺑﮭﻮﻧﺴﮍوں ﻣﯿﮟ ﮐہ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺎﻟﯽ ﺟﻨﻢ ﺟﻨﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﻮں. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮔﮭﻨﭩﻮں ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں دوﻧﻮں‬ ‫ِﻨﺎﻟﻮں ﮐﻮ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺳﺎﻟﯽ ﻣﯿﺮا ﮨﯽ ﮐﯿﺎ, ﮔﮭﻮڑے ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ, اﺗﻨﯽ ﮔﮩﺮی ﭼﻮت ﮨﮯ ان ﮐﯽ. ﻣﯿﮟ اب ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ دﺑﺎ اور ﮨﻼ رﮨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎرا اور ﭼﮑﻨﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﺮا ﻟﻨﮉ . اﯾﮏ دم ﺻﺎف ﺑﮭﯽ ﮨﮯ! ﮐﺘﻨﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﮯ ﺑﺘﺎ ﻧﺎ? ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧہ رﮦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﭼﻮم‬ ‫ﻟﯿﺎ. ﭘﮭﺮ ﺷﺮﻣﺎ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺧﻮش ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯾہ ﺑﺎت ﮨﻮﺋﯽ ﻣّﺎ, ارے ﺗﯿﺮے ﻟﺌﮯ ﯾہ ﻟﻨﮉ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮐﮭﮍا ﮨﮯ. آﭨﮫ اﻧﭻ ﮐﺎ ﮨﮯ ﭘﻮرا. ﻧﺎپ ﻟﮯ اﭘﻨﮯ ُّﮯ ﺳﮯ. اس ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ‬ ‫ﻓﭩ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺴﺘﮯ ﺳﮯ ﻓّﺎ ﻧﮑﺎﻻ اور ﻧﺎﭘﺎ. ﺳﭻ ﻣﯿﮟ آﭨﮫ ﺳﺎڑھﮯ-آﭨﮫ اﻧﭻ ﻟﻤﺒﺎ اور دو اﻧﭻ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﭙﺎڑا ﺗﻮ ڈھﺎﺋﯽ-ﺗﯿﻦ اﻧﭻ ﻣﻮﭨﺎ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﺗﮭﺎ! ﮔﮭﻮ ُﻮ آﮔﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﯿﺮا ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﯿﭧ ﭼﮑﻨﺎ ﮨﮯ ﻣّﺎ, ﺗﯿﺮی ﺟﮭﺎﻧﭩﯿﮟ ﮐﮩﺎں ُﮔﯽ ﮨﯿﮟ اﺑﮭﯽ. ﻣﯿﺮی ﺑﮩﺖ ﮔﮭﻨﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﻟﯽ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ روز ﺣﺠﺎﻣﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں.‬ ‫ا‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﻮ اﯾﺴﺎ ﭼﮑﻨﺎ ِﻨﺎ ﺑﺎل ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﭘﺮ اس ﮐﯽ ﺧﻮد ﮐﯽ ﯾہ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﮭﺎﻧﭩﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﺳﺎﻟﯽ ﺑﺪﻣﻌﺎش ﮨﮯ. ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐہ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﭼﻮت ﭼﻮﺳﺘﮯ ﺳﻤﮯ ﺟﮭﺎﻧﭩﯿﮟ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ زﯾﺎدﮦ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ. ﭘﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻮڑا ﭼﻮﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ اﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺑﺎل ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ,‬ ‫اﺳﮯ اﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ. ﭼﻞ, ُﻮ اب ﻧﺨﺮا ﻧہ ﮐﺮ. ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻮڑا ﭘﺴﻨﺪ آﯾﺎ ﯾہ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ. اب ﭼﻮس ڈال.‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﭘﺎس ﮐﮭﯿﻨﭽﺎ اور ﻣﯿﺮا ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ دﺑﺎ دﯾﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 30px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;باقی کل&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/8941776190642593540/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1959.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8941776190642593540'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/8941776190642593540'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1959.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ ٹو'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-2545960211425608556</id><published>2012-01-16T13:26:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:26:37.293-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ ون</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: arial; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;‫ﺟﺐ ﯾہ ﺳﺐ ﻣﺎدک ﮔﮭﭩﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﮭﭩﻨﺎ ﺷﺮوع ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ, اﺑﮭﯽ اﺑﮭﯽ ِﺸﻮرا وﺳﺘﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺪارﭘﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﺎؤں‬ ‫ﮐ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﮍے ُﺸﺘﯿﻨﯽ ﻣﮑﺎن ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ دن ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ رﮨﻨﮯ آﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﻧﻮ ﺳﺎل ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻣﺎ ﮐﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﯾﮩﺎں رﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ اور وﮨﯿﮟ اﺳﮑﻮل ﻣﯿﮟ ﭘﮍھﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺗﺐ ﮔﺎؤں ﻣﯿﮟ ﺻﺮف ﭘﺮاﺋﻤﺮی اﺳﮑﻮل ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮍھﻨﮯ‬ ‫ﺷﮩﺮ ﺑﮭﯿﺞ دﯾﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب ﮔﺎؤں ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺋﯽ اﺳﮑﻮل ﮐﮭﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮩﯿﮟ ﺑﻠﻮا ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ دﺳﻮﯾﮟ ﺗﮏ ﮐﯽ ﭘﻮری‬ ‫ﭘﮍھﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﻮں.‬ ‫ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں, ﻣﯿﮟ, ﮨﻤﺎرا ﺟﻮان ٢٢ ﺳﺎل ﮐﺎ ﻧﻮﮐﺮ ﮔﮭﻮُﻮ اور اس ﮐﯽ ﻣﺎں ﺟ ُﻤﺮی رﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻤﺎرے ﯾﮩﺎں ﮔﮭﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ ﺗﮭﯽ. ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮐﮯ آس ﭘﺎس ﻋﻤﺮ ﮨﻮ ﮔﯽ. ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﮭﯿﺖ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﮑﺎن رﮨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﺎں ﻧﮯ اﻧﮩﯿﮟ‬ ‫دے دﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﺐ ﻣﯿﮟ واﭘﺲ آﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﻮﺋﯽ. ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد ﮨﮯ ﮐہ ﺑﭽﭙﻦ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳﮯ ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﻣﯿﺮی ﺳﺎری دﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎل ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫واﭘﺲ آﻧﮯ ﮐﮯ دو دن ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﺎں ﮔﮭﻮُﻮ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وﮦ ﮨﻤﺎرے ﯾﮩﺎں ﺑﮩﺖ ﺳﺎﻟﻮں‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﮯ ﺗﮭﮯ, ﻣﯿﺮے ﺟﻨﻢ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ, اﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں اﻧﮩﯿﮟ ﺷﺎدی ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮑﮯ ﺳﮯ ﻟﮯ آﺋﯽ ﺗﮭﯽ. اب ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫ﻣﺤﺴﻮس ﮐﯿﺎ ﮐہ ﻣﺎں ﮐﯽ ان ﺳﮯ ﮔﮭ ِﺸﭩﺎ اور ﺑﮍھ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ. وﮦ ان ﺳﮯ ﻧﻮﮐﺮ ﺟﯿﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑہ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺪﺳﯿہ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﺮﺗﺎؤ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﺗﻮ ﻣﺎں ﺟﯽ ﻣﺎں ﺟﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻤﯿﺸہ اس ﮐﮯ آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ رﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺳﺎرا ﮐﺎم ﻣﺎں ﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﺳﭙﺮد ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﺳﮯ اﯾﺴﮯ ﭘﯿﺶ آﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ, ﺑﻠﮑہ ﻣﺎں ﮐﯽ ﺟﯿﭩﮭﺎﻧﯽ ﮨﻮ. ﮐﺌﯽ ﺑﺎر وﮦ ﻣﺎں ﭘﺮ ادھﯿﮑﺎر ﺟﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ اس ﺳﮯ ڈاﻧﭧ ڈﭘﭧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ. ﭘﺮ‬ ‫ﻣﺎں ﭼﭗ ﭼﺎپ ﻣﺴﮑﺮا ﮐﺮ ﺳﺐ ﺳﮩﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ. اس ﮐﺎ ﮐﺎرن ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻠﺪی ﮨﯽ ﭘﺘہ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ. ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺳﮯ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی اور ﮔﮭﻮُﻮ ﻣﯿﺮی اور ﺧﺎص دھﯿﺎن دﯾﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎر ﺑﺎر ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﯽ اور ﭼﻮم‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻟﯿﺘﯽ .‬ ‫ﻣّﺎ, ﺑﮍا ﭘﯿﺎرا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ُﻮ, ﺑﮍا ﮨﻮ ﮐﺮ اب اور ﺧﻮﺑﺼﻮرت ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ. ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭼﮭﻮﮐﺮﯾﻮں ﺟﯿﺴﺎ ﺳﻨﺪر ﮨﮯ, ﮔﻮرا ﭼﮑﻨﺎ.‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺎں ﯾہ ﺳﻦ ﮐﺮ اﮐﺜﺮ ﮐﮩﺘﯽ.‬ ‫ارے اﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺑ ّہ ﮨﮯ, ﺑﮍا ﮐﮩﺎں ﮨﺆا ﮨﮯ. ﺗﻮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮩﺘﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮨﻤﺎرے ﮐﺎم ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﮍا ﮨﮯ ﻣﺎﻟﮑﻦ. اور آﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ. ﻣﺎں ﭘﮭﺮ اﺳﮯ ڈاﻧﭧ ﮐﺮ ﭼﭗ ﮐﺮ دﯾﺘﯽ. ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮں ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ارﺗﮫ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی اور دﯾﮑﮭﺘﺎ اور اﻟﮓ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﺘﺎ. ﮐﮩﺘﺎ,‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣّﺎ, ﻧﮩﻼ دوں? ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﮩﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﺎراض ﮨﻮ ﮐﺮ اﺳﮯ ڈاﻧﭧ دﯾﺘﺎ. وﯾﺴﮯ ﺑﺎت ﺻﺤﯿﺢ ﺗﮭﯽ. ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﭽﮫ ﯾﺎد ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻨﮕﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻧﮩﻼﺗﺎ. ﺗﺐ وﮦ ٥١ ﺳﺎل ﮐﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺗﺐ وﮦ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﭼﻮم ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺘﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮے ِﺸﻦ اور ِﺘﺎﻣﺒﻮں ﮐﻮ وﮦ ﺧﻮب ﺻﺎﺑﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ رﮔﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ وﮦ ﺑﮍا اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ. اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮭﯿﻞ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﺷ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮا ِﺸﻦ ﯾﺎ ِﺘﺎﻣﺐ ﺑﮭﯽ ﭼﻮم ﻟﯿﺘﺎ اور ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﺳﮯ ﻧہ ﮐﮩﻮں. ﻣﺠﮭﮯ اﭨﺎ ﭘﭩﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﭘﺮ ﻣﺰا ﺑﮭﯽ آﺗﺎ. وﮦ‬ ‫ﻧ‬ ‫ﺷ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ اور دن ﺑﮭﺮ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻣﻦ ﺑﮩﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ رﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫وﯾﺴﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﯾہ ﺑﺎت ﺳﭻ ﺗﮭﯽ ﮐہ اب ﻣﯿﮟ ﺑﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮭﻠﮯ ﻧہ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﻮ ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﺮے ﺗﻨﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ِﺸﻦ ﮐﺎ اﺑﮭﺎر ﭘﺘﻠﻮن ﻣﯿﮟ ﺳﮯ دﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ. اس ﮐﻤﺴﻦ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ اور ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﺎل ﺳﮯ‬ ‫ﺷ‬ ‫ﻣﯿﺮا ﮨﺴﺖ َﯿﺘ ُﻦ ﺑﮭﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﺪی ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﭼﻮری ﺳﮯ ﭘﮍھﺘﺎ اور ان ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﻧﻨﮕﯽ ﻋﻮرﺗﻮں ﮐﯽ‬ ‫ﻣ ﮭ‬ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ُﭩﮫ ﻣﺎرﺗﺎ. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﻋﻮرﺗﻮں ﮐﮯ ﭘ َﺗﯽ ﻣﯿﺮی ُﭼﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍھ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ. ﺧﺎص ﮐﺮ ﺑﮍی ﮐﮭﺎﺋﮯ‬ ‫ر‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘﯿﮯ ﺑﺪن ﮐﯽ ﻋﻮرﺗﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ.‬ ‫ﮔﺎؤں آﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﻨﺪی ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ِﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﻟﺌﮯ اب ﻣﯿﮟ ﻣﻦ ﮐﮯ ﻟ ﱡو ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻃﺮح ﻃﺮح ﮐﯽ ﻋﻮرﺗﻮں ﮐﮯ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻧﻨﮕﮯ ﺑﺪن ﮐﯽ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ُﭩﮫ ﻣﺎرا ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ. آﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭘ َﺗﯽ ﻣﯿﺮا آﮐﺮﺷﻦ ﺑﮩﺖ ﺑﮍھ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﮩﺎﺳہ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮس ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اﯾﮏ ﺑﮍی ﻣﺘﻮاﻟﯽ ﻧﺎری ﺗﮭﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﮐﮯ اس روپ ﮐﺎ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﺎدو ﺳﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺷﺮوع‬ ‫ﻣﯿﮟ اﯾﮏ دن ﻣﺠﮭﮯ اﭘﺮادھﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﭨﯿﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﻦ ﮐﮯ ﺳﺎرے ﺑﻨﺪھﻦ ﺗﻮڑ دﯾﮯ ﺗﮭﮯ.‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ِﮐﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎدھﺎرن ﺳﻨﺪر ﺗﮭﯽ. ﺑﮭﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﮩﺖ روپ وﺗﯽ ﻧہ ﮨﻮ ﭘﺮ ﺑﮍی ﮐﺎ ُﮏ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ. ٥٣ ﺳﺎل ﮐﯽ ﻋﻤﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫د‬ ‫ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ اس ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﭘﮑﮯ ﭘﮭﻞ ﺳﯽ ﻣﭩﮭﺎس آ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ. ﺗﮭﻮڑا ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﭘﯿﺎ ﮔﻮرا ِّﺎ ﻣﺎﻧﺴﻞ ﺷﺮﯾﺮ, ﮔﺎؤں ﮐﮯ اﻧﺪاز ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭼﭩ‬ ‫ﺟﻠﺪی ﺟﻠﺪی ﭘﮩﻨﯽ ڈھﯿﻠﯽ ڈھﺎﻟﯽ ﺳﺎڑھﯽ ﭼﻮﻟﯽ اور ﭼﻮﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ِﮐﮭﺘﯽ ﺳﻔﯿﺪ اﻧﮕﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ رﺟﺎ رﺟﺎ ﭼﻮﭼﯿﺎں, ان ﺳﮯ وﮦ‬ ‫د‬ ‫ﺑﮍی ﭼﮍﯾﻞ ﺳﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ. ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﯿﺮی ﺧﺎص ﮐﺘﺎﺑﻮں ﻣﯿﮟ ِﮐﮭﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﭼﮍﯾﻞ رﻧﮉﯾﻮں ﺟﯿﺴﯽ!‬ ‫د‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ اب اس ﮐﮯ ﻧﺎم ﺳﮯ ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﺎ ﺷﺮوع ﮐﺮ دﯾﺎ ﺗﮭﺎ. اﮐﺜﺮ دھﻮﻧﮯ ﮐﻮ ڈاﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ اس ﮐﯽ اﻧﮕﯿﺎ ﯾﺎ ﭼ ّی ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎپ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﻟﮯ آﺗﺎ اور اس ﻣﯿﮟ ُﭩﮫ ﻣﺎرﺗﺎ. ان ﮐﭙﮍوں ﻣﯿﮟ ﺳﮯ آﺗﯽ اس ﮐﮯ ﺷﺮﯾﺮ ﮐﯽ ُﮕﻨﺪھ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺘﻮاﻻ ﮐﺮ دﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣ‬ ‫اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍے ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﭽﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮐﻮ اﭘﻨﯽ ﭼ ّی اور اﻧﮕﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ِﻠﮯ ﺗﻮ وﮦ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ڈاﻧﭩﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﺑﻮﻟﯽ ﮐہ ﻣﺎں ﻧﮯ دھﻮﻧﮯ ڈاﻟﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ. ِﺴﯽ ﻃﺮح ﺳﮯ ﻣﯿﮟ دوﺳﺮے دن اﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﺮ دھﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﭙﮍوں ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ آﯾﺎ.‬ ‫ﮐ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﭘﺘہ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﻣﺎں ﮐﯽ ڈاﻧﭧ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ وﮦ ﻣﯿﺮی اور دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺎﻧﺪ ﻣﺎﻧﺪ ﮨﻨﺲ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﻮﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ. ﺑﺲ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫آج ﮐﻞ آپ ﮐﮯ ﮐﭙﮍے زﯾﺎدﮦ ﻣﯿﻠﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ دھﻮﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﺮی ﺟﺎن ﻣﯿﮟ ﺟﺎن آﺋﯽ! ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫زﯾﺎدﮦ دن ﭘﯿﺎﺳﺎ ﻧﮩﯿﮟ رﮨﻨﺎ ﭘﮍا. ﻣﺎں واﺳﺘﺎؤ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﭼﮍﯾﻞ اور ِﻨﺎل ﺗﮭﯽ اور ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ُﻞ ﮐ ِﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ, ﯾہ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻠﺪ‬ ‫ﮔ ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﮨﯽ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ اﯾﮏ دن دﯾﺮ ﺳﮯ رات ﮐﻮ اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﻧﮑﻼ. اس دن ﻣﺠﮭﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﺳﮯ ﮐﺮاﮨﻨﮯ ﮐﯽ آوازﯾﮟ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ. ﻣﯿﮟ دروازے ﺳﮯ ﺳﭧ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور ﮐﺎن ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺳﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﺳﻮﭼﺎ ﻣﺎں ﺑﯿﻤﺎر ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!‬ ‫آ ! ﮨﺎﺋﮯ, ﻣﺮ ﮔﺌﯽ رے, ﺟ ُﻤﺮی ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎر ڈاﻟﮯ ﮔﯽ آج . اوﺋﯽ ! ﻣﺎں !ﻣﺎں ﮐﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﭼﯿﺦ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮐہ ﻧہ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟﺎﻧﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﯾﺎﺗﻨﺎ دے رﮨﯽ ﮨﮯ اس ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﮔ ُﺴﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ دروازﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﻧﮯ ﮨﯽ واﻻ ﺗﮭﺎ ﮐہ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ آواز آﺋﯽ.‬ ‫&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﻧﺨﺮے ﻣﺖ ﮐﺮو. اﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺻﺮف اﻧﮕﻠﯽ ﮨﯽ ڈاﻟﯽ ﮨﮯ آپ ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ! روز ﮐﯽ ﻃﺮح ﺟﯿﺒﮫ ڈاﻟﻮں ﮔﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮو‬ ‫ﮔﯽ ‬ ‫ارے ﭘﺮ آج ﮐﺘﻨﺎ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﻣﺴﻞ رﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮے داﻧﮯ ﮐﻮ ُﻮ ِﻨﺎل ﻇﺎﻟﻢ, ﮐﮩﺎں ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ اﯾﺴﺎ داﻧہ رﮔﮍﻧﺎ? ﻣﺎں ﮐﺮاﮨﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ‬ ‫ﺗ ﭼ‬ ‫ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﯿﮑﮫ ﮐﺮ آﯾﺎ ﮨﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ, ﺷﺎﯾﺪ وﮦ ﻧﻨﮕﯽ ﻓﻠﻢ ﻣﯿﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ آﯾﺎ ﮨﮯ. ﮐﻞ رات ﮐﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮩﺖ دﯾﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﺮا داﻧہ ﻣﺴﻠﺘﺎ رﮨﺎ ﺣﺮاﻣﯽ. اﺗﻨﺎ ﺟﮭﮍاﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﭘﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ! ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ آواز آﺋﯽ .‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﺒﮭﯽ ﮐﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ آﯾﺎ ﺑﺪﻣﻌﺎش, اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﮨﯽ ﭼﻮدﺗﺎ رﮨﺎ. ُﻮ ﺗﻮ دن رات ُﺪاﺗﯽ ﮨﮯ اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ, ﺗﯿﺮا ﻣﻦ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ? روز رات ﮐﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس ﻟﮯ آﯾﺎ ﮐﺮ اﺳﮯ. ﺗﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ اس ﮐﯽ رات ﮐﯽ ﻧﻮﮐﺮی ﻣﯿﺮے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮨﮯ. ُﻮ ﺑﮭﯽ روز آ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮ, ﺳﺐ ِﻞ ﮐﺮ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﺑﺎر ُﺪ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻣﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ. ﭼﻞ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗ‬ ‫اب ﭼﻮس ﻣﯿﺮی ﭼﻮت, زﯾﺎدﮦ ﻧہ ﺗﮍﭘﺎ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ روز آؤں ﺑﺎﺋﯽ ﭘﺮ اب ﻣّﺎ آ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ. ذرا ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ارے وﮦ ﺑ ّہ ﮨﮯ, ﺟﻠﺪی ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ. اب ﭼﻮس ﻟﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﮐﻮ, ﻣﺖ ﺗﮍﭘﺎ ﻣﯿﺮی راﻧﯽ اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ. ﻣﺎں ﮐﺮاﮨﺘﮯ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ. ﯾہ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮔﺮم ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. دروازے ﺳﮯ اﻧﺪر ﺟﮭﺎﻧﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﯿﺪ ﯾﺎ دراڑ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ. آﺧﺮ اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ دو ﺑﺎر ُﭩﮫ ﻣﺎری ﺗﺐ ﺷﺎﻧﺘﯽ ِﻠﯽ. اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﻮرﺗﻮں واﻟﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎں ﭘﮍھﯽ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺗﮭﯿﮟ ﭘﺮ ِﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ. اس ﻟﺌﮯ ﻣﻦ ﮨﯽ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ رﺗﯽ ﮐﯿﺴﯽ ِﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ!‬ ‫د‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫اب ﻣﯿﮟ اس ﺗﺎک ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐہ رات ﮐﻮ ﮐﻮن ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آﺗﺎ ﮨﮯ ﯾہ دﯾﮑﮭﻮں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧہ ﮐﺒﮭﯽ آﺋﮯ ﮔﺎ اور ﻣﺎں ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻮدے ﮔﺎ اس ﺑﺎت ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اﯾﺴﺎ ﮔﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐہ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں. ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ اب ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﻨﮕﮯ ﺑﺪن ﮐﯽ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎل ﻋﻤﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎ وﺟﻮد ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﭼﮭﺮﯾﺮا اور ﺗﻨﺪرﺳﺖ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﺳﺎﻧﻮﻟﯽ ﺿﺮور ﺗﮭﯽ ﭘﺮ ِﮐﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ. دوﭘﮩﺮ ﮐﻮ اس ﮐﮯ ﻧﺎم ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ُﭩﮫ ﻣﺎر ﻟﯽ.‬ ‫ﻣ‬ ‫د‬ ‫دوﺳﺮے دن ﺑﮭﯽ رات ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آﺋﯽ ﭘﺮ اﮐﯿﻠﮯ. اس رات ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﺗﮏ ﮔﯿﺎ اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﺎن ﻟﮕﺎ ﮐﺮ اﻧﺪر ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮐﻞ ﻟﮯ آؤں ﮔﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ اﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﻮ راﻧﯽ. وﮦ ذرا ﮐﺎم ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﮐﮭﯿﺘﻮں ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ! اب ﭼﭗ ﭼﺎپ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻮت ﭼﻮﺳﻮ. ﺧﻮد ﺗﻮ ﭼﺴﻮا ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮ, ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ُﭩﮫ ﻣﺎروں? ﮐﻞ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدا. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺎں, اﯾﺴﮯ ﭼﻮﺳﻮ ﻣﺎﻟﮑﻦ, اب آﯾﺎ ﻣﺰا. ذرا ﺟﯿﺒﮫ اﻧﺪر ﺗﻮ ڈاﻟﻮ, دﯾﮑﮭﻮ آپ ﮐﯽ ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﺎل ﮨﮯ ﺗﻤﮩﺎرے ﻟﺌﮯ.‬ ‫اور ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﯾہ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﺗﻮ ﭼﮑﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ! ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﺎ ﻻﻟﭻ دے ﮐﺮ آج‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﺳﮯ ﺧﻮب ﭼﻮت ﭼﺴﻮا رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﮐﭽﮫ ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﮐﺮاﮨﻨﮯ ﮐﯽ آواز آﻧﮯ ﻟﮕﯽ اور ﭘﮭﺮ وﮦ ﭼﭗ ﮨﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﺌﯽ. ﺳﺎﻟﯽ ﺟﮭﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺷﺎﯾﺪ.‬ ‫اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ? ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ روز ﭼﮑﮭﺎ ﮐﺮو. اب روز ﭼﺴﻮاؤں ﮔﯽ آپ ﺳﮯ. ﺑﻮل ﮐﺮ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﭘﮭﺮ ﺳﺴﮑﺎرﯾﺎں ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﮩﻮ راﻧﯽ, اب ﻣّﺎ ﺑﮭﯽ آ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ. اس ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ُﺪا ﮐﺮ دﯾﮑﮭﻮ, ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ, ﮐﺐ ﮐﺎم آﺋﮯ ﮔﺎ اب ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ ِﺴﯽ دن‬ ‫ﭨ ﮐ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧہ ﮨﻮں آپ ﮐﯽ ﺳﯿﻮا ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎﺳﺎ رﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮورت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ! ﻣﯿﺮے ﮐﺎن ﮐﮭﮍے ﮨﻮ ﮔﺌﮯ. ﻣﯿﺮی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﻮ‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ . ﻟﻨﮉ ﺑﮭﯽ اﭼﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﭼﭗ رﮨﯽ. ﭘﮭﺮ ﺗﮭﻮڑی ﺷﺮﻣﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ارے اﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﮐﻨﻮل. ﺑ ّہ ﮨﮯ. اور ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﺪاؤں?‬ ‫ﭽ‬ ‫واﮦ ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ُﺪاﺗﯽ ﮨﻮ, ﻣﯿﺮے اور ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﭼﺪاﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮍا رس ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮ اور ﺧﻮد ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺑﺎت‬ ‫ﭼ‬ ‫آﺋﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﻮ. ﻣﺠﮭﮯ دﯾﮑﮭﻮ, اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ُﺪا ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ُﮑﮫ ﭘﺎﺗﯽ ﮨﻮں! وﯾﺴﮯ ﺑﮍا ﭘﯿﺎرا ﭼﮭﻮﮐﺮا ﮨﮯ اﭘﻨﺎ ﻣّﺎ. اور‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼﮭﻮﭨﺎ ووﭨﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. روز ﺳﮍﮐﺎ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﺪﻣﻌﺎش. ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘہ ﮨﮯ, ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍے دھﻮﺗﯽ ﮨﻮں اس ﮐﮯ اور ﺗﻤﮩﺎرے ﺑﮭﯽ.‬ ‫ﺗﻤﮩﺎری اﻧﮕﯿﺎ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﮐﮍی رﮨﺘﯽ ﮨﮯ, اس ﻣﯿﮟ داغ ﺑﮭﯽ رﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﮐﻮن ُﭩﮫ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﮯ اس ﻣﯿﮟ? ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎرﺗﺎ ﯾہ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮں. اور اس دن ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﮭّﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎری اﻧﮕﯿﺎ اور ﭼ ّی ﻧﮩﯿﮟ ِﻠﮯ اس ﻟﺌﮯ! ﮐﻮن ﺑﺪﻣﻌﺎش اﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮉ‬ ‫ﻠ‬ ‫ﺗﮭﺎ, ﺑﺘﺎؤ ﺗﻮ? ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﮐﻤﺮے ﺳﮯ ﺻﺮف ﭼﻮﺳﻨﮯ اور ﭼﻮﻣﺎ ﭼﺎﭨﯽ ﮐﯽ آوازﯾﮟ آﺋﯿﮟ. ﭘﮭﺮ ﻣﺎں‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﯽ واﺳﻨﺎ ﺑﮭﺮی آواز آﺋﯽ.‬ ‫ﺑﺪﻣﻌﺎش ﮨﮯ ﺑﮍا, اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ اﻧﮕﯿﺎ ﻣﯿﮟ ُﭩﮫ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﮯ. اب ﺗﻮ اس ﺳﮯ ُﺪا ﮨﯽ ﻟﻮں ﺟ ُﻤﺮی! اﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ. ﭘﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺑﮍا رﺳﯿﻼ ری. ﻣﯿﺮا ﺗﻮ ﻣﻦ ﮨﻮ رﮨﺎ ﮨﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﺎ.‬ ‫اور اس ﺳﮯ ﭼﻮت ﭼﺴﻮاﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻣﺎﻟﮑﻦ اﯾﮏ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻟﺌﮯ اس ﺳﮯ ﻣﺴﺖ ﺑﺎت ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐہ وﮦ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ اﭘﻨﯽ اﺳﯽ ﭼﻮت ﮐﺎ رس ﭘﻼﺋﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ وﮦ ﺑﺎﮨﺮ آﯾﺎ ﮨﮯ!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﯾہ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﮍے ﺑﺪﻣﻌﺎش ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﻮ راﻧﯽ. اﭘﻨﯽ ﻣﺎں‬ ﭘﺮ ﻣﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ان ﺳﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﺮا ﻟﻮ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﻏﻼم ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾہ ﺑ ّﮯ. اور ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺑﮭﻠﮯ ﮨﻮ ﻣّﺎ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اﯾﮏ دم ﻟﻮﮨﮯ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮍک ﮨﻮ ﮔﺎ, آﺧﺮ اﺑﮭﯽ اﺑﮭﯽ ﺟﻮان ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﮨﮯ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺷﺮم آﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣّﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﺮے ﺣﻮاﻟﮯ ﮐﺮ دو. ﻣﯿﮟ اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ِﻞ ﮐﺮ اﺳﮯ ﺳﺐ ِﮑﮭﺎ دﯾﮟ ﮔﮯ. ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺳﺪھﺎ ﭼﻮ ُو‬ ‫د‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﺎرا ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ اﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﺳﯿﻮا ﻣﯿﮟ رﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ. ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺗﯿﺮی ﺑﺎت ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ آﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ اس ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮے ﮔﺎ? ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﮩﻮ راﻧﯽ, ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﮩﺎ ﺣﺮاﻣﯽ ﮨﮯ, ﺷﺎﯾﺪ اﺳﮯ ﻣّﺎ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ وﮨﯽ ﺗﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣّﮯ ﮐﻮ, ﻧﮩﻼﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ. ﺗﻢ ﺧﻮد‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎت ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯿﮟ ? ﮐﻞ ﺗﻮ آﺋﮯ ﮔﺎ ﮨﯽ وﮦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻮدﻧﮯ, ﺗﺐ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﻨﺎ. وﯾﺴﮯ ﺑﮍا را ِﮏ ﮨﮯ ﻣﯿﺮا ﻻل.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮭّﺎ ﻣﯿﭩﮭﺎ دوﻧﻮں ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ. اور ﻣّﺎ ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﻣﺴﺖ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺳﻮاد اﺳﮯ ﮐﮩﺎں ِﻠﮯ ﮔﺎ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب ﯾہ ﺑﺘﺎؤ ﺑﮩﻮ راﻧﯽ ﮐہ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭼﻮت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺴﻨﺪ آﯾﺎ ﮐہ ﻧﮩﯿﮟ. وﯾﺴﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺷﮩﺪ ﮨﮯ. ﺗﺠﮭﮯ ﭘ ّﺎ ﻣﺎل ﭼﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ آج ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭼﺪاﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ اور ُﭩﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎری. ﺳﯿﺪھﺎ آپ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍ رﮨﯽ ﮨﻮں ﮐﻞ رات ﮐﮯ ﺑﻌﺪ. ﻣﺎں ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼﻮﺳﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫اری ﯾہ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎت ﮨﮯ? ﺗﯿﺮی ﭼﻮت ﮐﺎ ﻣﺎل ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﻮﯾﺎ? ﮔﺎڑھﺎ ﮔﺎڑھﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﺳﻔﯿﺪ, ﻣﻼﺋﯽ دار ﮐﺘﻨﺎ ِﭙ ِﭙﺎ‬ ‫ﭼﭽ‬ ‫ﮨﮯ دﯾﮑﮫ! ﺗﺎر ﺗﺎر ﭼﮭﻮٹ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ! ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮍا ﻧﺼﯿﺐ واﻻ ﮨﮯ, ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﭼﮑﮭﺘﺎ آﯾﺎ ﮨﮯ ﯾہ ﻣﺎوا. اب ﻣﯿﺮے ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ رﮐﮭﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﺮ. اور ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﮑﮭﺎ دﯾﻨﺎ ﮐﺒﮭﯽ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻣﯿﮟ وﮨﺎں ﺳﮯ ﮐ ِﺴﮏ ﻟﯿﺎ. ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎت ﺳﻮچ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﺎ ﮨﺆا ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. اوﭘﺮ ﺳﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﺑﺎت ﺳﻮچ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ڈر ﺳﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺎں ﻣﺎن ﮔﺌﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ ان ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺣﻮاﻟﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﺮ دﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮا ﮐﯿﺎ ﺣﺎل ﮨﻮ ﮔﺎ? وﯾﺴﮯ ﻣﻦ ﮨﯽ ﻣﻦ ﭘﮭﻮل ﮐﺮ ُّﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭼﮭﺮﯾﺮے دﺑﻠﮯ ﭘﺘﻠﮯ ﮐﺴﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﭙ‬ ‫ﺷﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﯾﺎد ﮐﺮ ﮐﮯ اﺳﯽ ﮐﮯ ﻧﺎم ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس رات ﮨﺴﺖ َﯿﺘ ُﻦ ﮐﺮ ڈاﻻ.‬ ‫ﻣ ﮭ‬ ‫اب ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮچ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. وﮦ ﺑﮍے ﮔﭩﮭﯿﻠﮯ ﺑﺪن ﮐﺎ ﺳﻨﺪر ﺟﻮان ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﺳﺎﻧﻮﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﺮ ﮔﮭﻮُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﯾﮏ دم ﮔﯿﮩﻮﺋﯿﮟ رﻧﮓ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ. ﺗﻦ ﺳﺎزی ﮐﺎ ﻧﻤﻮﻧہ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﺗﮭﺎ. ﺳﻮﺗﮯ ﺳﻤﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ اﺳﯽ ﺑﺎت ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮچ رﮨﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﮭﺎ ﮐہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮا ﺳﻮاد ﻟﮯ ﮔﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮے ﮔﺎ?‬ ‫ﭨ‬ ‫دوﺳﺮے دن ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اس ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐہ ِﺴﯽ ﻃﺮح ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ِﻠﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺟﺐ ﻣﺎں ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮐ‬ ‫اور ﻣﯿﮟ اﮐﯿﻼ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﮭﻤﺎﻧﮯ واﻟﮯ ﺑﺮﻣﮯ ﺳﮯ دروازے ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﭼﮭﯿﺪ ﮐﺮ دﯾﺎ. اس ﮐﮯ اوﭘﺮ اﺳﯽ رﻧﮓ‬ ‫ﮐﺎ اﯾﮏ ﻟﮑﮍی ﮐﺎ ﭨﮑﮍا ﭘﮭﻨﺴﺎ دﯾﺎ. آج ﮔﮭﻮ ُﻮ آﻧﮯ واﻻ ﺗﮭﺎ. ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ, ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ اس ﺳﺠﯿﻠﮯ ﻧﻮﺟﻮان ﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ُﺪﺗﮯ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ .‬ ‫ﭼ‬ ‫رات ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪی اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ. اﻧﺪر ﺳﮯ ﺳﻨﺘﺎ رﮨﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اور ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﮯ آﻧﮯ ﮐﺎ ﭘﺘہ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺟﺐ ﻣﺎں ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﮐﺎ دروازﮦ ﮐﮭﻮﻻ. ﮐﭽﮫ دﯾﺮ رﮐﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ اور ﻣﺎں ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﮐﮯ‬ ‫دروازے ﮐﮯ ﭘﺎس آﯾﺎ. اﻧﺪر ﺳﮯ ﺳﺴﮑﻨﮯ اور ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮐﯽ آوازﯾﮟ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ.‬ ‫ﭼﻮد ڈال ﻣﺠﮭﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, اور زور ﺳﮯ ﭼﻮد اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﭼﻮت, ﺟ ُﻤﺮی اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﮩہ ﮐہ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ َﯾﺎ ﻧہ ﮐﺮے,‬ ‫د‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﭽﮏ ﮨﭽﮏ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮد ڈاﻟﮯ. ﮨﻔﺘہ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ آﯾﺎ ﯾہ ﺑﺪﻣﻌﺎش ﻏﺎﺋﺐ ﺗﮭﺎ, ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﺮس ﮐﺮ رﮦ ﮔﺌﯽ اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ. ﻣﺎں‬ ‫ﺳﺴﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩہ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﭘﮭﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ آواز آﺋﯽ.‬ ‫&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﺑﯿﭩﺎ, دﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ, ﻟﮕﺎ زور ﮐﺎ دھ ّﺎ, ﭼﻮد ڈال ﺳﺎﻟﯽ ﮐﻮ, دﯾﮑﮫ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﮍﮔﮍا رﮨﯽ ﮨﮯ? ﮐﻤﺮ ﺗﻮڑ دے اس ﺣﺮاﻣﻦ ﮐﯽ, ﭘﺮ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺟﮭﮍﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﻧہ ﮐﮩﻮں. ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ُﺪﻧﮯ دے, ﮐﺐ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺗﯿﺮے ﻟﻮڑے ﮐﮯ ﻟﺌﮯ!‬ ‫&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫ﻣﺎں اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ اور ُﱠ ِﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺟ ُﻤﺮی ﮔﻨﺪے ﮔﻨﺪے ﺷﺒﺪوں اور ﮔﺎﻟﯿﻮں ﮐﺎ ﭘ َﯾﻮگ ﺟﺎن ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ‬ ‫ﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺷﺎﯾﺪ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دروازے ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﺳﮯ اﻧﺪر دﯾﮑﮭﺎ. اوﭘﺮ ﮐﯽ ﺑّﯽ ﺟﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اس ﻟﺌﮯ ﺳﺐ ﺻﺎف ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﻣﺎدر‬ ‫د‬ ‫ﺘ‬ ‫زاد ﻧﻨﮕﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﯽ ﺗﮭﯽ اور ﮔﮭﻮ ُﻮ اس ﭘﺮ ﭼﮍھﺎ ﮨﺆا اﺳﮯ ﻏﭽﺎﻏﭻ ﭼﻮد رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﺎزو ﺳﮯ دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ﻣﺎں‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﯽ ﭼﻮت ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ِﮐﮭﯽ ﭘﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﻟﻨﮉ ﺳﭙﺎﺳﭗ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﻮری ﮔﻮری ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﮯ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﺆا‬ ‫ﭨ‬ ‫د‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫د‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﺑﮭﯽ ﭘﻮری ﻧﻨﮕﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﭘﺴﺘﺎن دﺑﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﮐﯿﺎ رﺟﺎ ﭼﻮﭼﯿﺎں ﺗﮭﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﯽ. اور‬ ‫ﮭ‬ ‫ﯾہ ﺑﮍے ﮐﺎﻟﮯ ُﻮﭼﮏ! ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﭼﻮم ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼ‬ ‫اﯾﮏ دم ﭼﮭﺮﯾﺮا ﺳﺎﻧﻮﻻ ﺑﺪن اور ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻨﯽ ﭼﻮﭼﯿﺎں. ﮔﮭﻮ ُﻮ اﯾﺴﺎ ﮐﺲ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮد رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮭﺎٹ ﺗﻮڑ‬ ‫ﭨ‬ ‫دے ﮔﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮐﮭﺎٹ ﺑﮭﯽ ﭼﺮر ﻣﺮر ﭼﺮر ﻣﺮر ﭼﺮﻣﺮا رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ ﭼﻮدﺗﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں ﺟﯽ, ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮭﯽ ﻣﺮواﯾﮯ. ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ. ﻣﺎں ﺳﺴﮑﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮨﺎں رے ﭼﻮ ُو, ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﺮی ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ. آج ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮواﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ, اب ﺗﺠﮫ ﺳﮯ‬ ‫د‬ ‫ﻣﺮاؤں? ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮواﺗﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﺗﻨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﭩﮯ ﮔﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ. ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﺎرے ﮔﺎ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ. آﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﻠﮯ ﮔﺎ. ﻣﯿﺮی ﺑﮭﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﮯ ﯾہ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﺣﺮاﻣﯽ, ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ. اب ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ُﺪ ُﺪ ﮐﺮ ﭘ ُ ُﻼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ, ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ِﺴﯽ ﻧﺌﯽ ﺗﻨﮓ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﻣﺰا ﻟﯿﻨﮯ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﮭﮑ‬ ‫ﭼ ﭼ‬ ‫دو. ﻣﺎں اب ﮨﺎﺗﮫ ﭘﯿﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﭼﻮد ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﭼﻮد ڈال ﻣﺠﮭﮯ راﺟہ, ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ, ﻣﯿﺮی ﭼﻮﭼﯽ دﺑﺎ اور زور ﺳﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ُ ّﺎ دے دے ﻣﯿﺮی ﺟﺎن!‬ ‫ﭼﻤ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﮩﺖ ﭼﮩﭽﮩﺎ رﮨﯽ ﮨﮯ ﯾہ رﻧﮉی. اس ﮐﺎ ﻣﻨہ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍے ﮔﺎ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﭘﺮ ﭼﮍھ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ. اﭘﻨﯽ ﭼﻮت‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﭘﺮ رﮐﮫ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دی اور ﭘﮭﺮ ﺟﺎﻧﮕﮭﯿﮟ آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﺎ ﺳﺮ اﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﻣﯿﮟ‬ ‫دﺑﺎ ﻟﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﭘﮭﺮ اﭼﮏ اﭼﮏ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﯾہ ﻧﻈﺎرﮦ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ رﮨﺎ ﮔﯿﺎ. ﻣﻨہ ﺳﮯ آواز ﻧہ ﻧﮑﻠﮯ اﯾﺴﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﺆا اﭘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ رﮔﮍ رﮔﮍ ﮐﺮ اﻧﺪر‬ ‫ﭼﻞ رﮨﯽ دھﺆاں دھﺎر ﭼﺪاﺋﯽ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﺎ ﺳﺮ ﮐﺲ ﮐﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﭘﺮ دﺑﺎ ﮐﺮ اوﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ اﭼﮭﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫دوﻧﻮں ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ِﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﻣﺎں ﮐﻮ ﮔﻮﻧﺪھﺘﮯ رﮨﮯ. ﺟﺐ ﻣﺎں ﺟﮭﮍﻧﮯ ﮐﻮ آ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﺐ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ اﺷﺎرﮦ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫دﯾﺘﯽ.‬ ‫رک ﺑﯿﭩﮯ, ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﮭﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﯾہ ﺳﺎﻟﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﻋﻮرت. ﺑﮩﺖ دن ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩہ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮩﯿﮟ‬ ‫ﭨ‬ ‫آﯾﺎ ﭼﻮدﻧﮯ, ﺗﻮ آج اﯾﺴﺎ ﭼﻮد ﮐہ دو دن اﭨﮫ ﻧہ ﺳﮑﮯ. دس ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﺮی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. وﮦ رو ﭘﮍی. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮت ﻣﯿﮟ دﺑﮯ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﯽ دﺑﯽ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﻧﮑﻞ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ. اﺳﮯ ﯾہ ﭼﺪاﺳﯽ ﺳﮩﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ِﻨﺎ ﺟﮭﮍے اس‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﯿﭩﮭﯽ ﺳﻮﻟﯽ ﭘﺮ ﻟﭩﮑﮯ ﻟﭩﮑﮯ وﮦ اب ﺑﺮی ﻃﺮح ﺗﮍپ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﺧﻮد ﺷﺎﯾﺪ اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍ ﭼﮑﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺳﮯ اﺗﺮ ﮐﺮ وﮦ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ اور ﻣﺎں ﮐﮯ ُﻤﺒﻦ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ آﯾﺎ اﭘﻨﯽ ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﺎ رس ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ ُﺪﺗﮯ ُﺪﺗﮯ ﺗﻮ ﯾہ اور ﻣﺴﺎﻟﮯ دار ﻟﮕﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ آپ ﮐﻮ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﮐﭽﮫ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﺘ ِﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ. ﺑﺲ ﺳﺴﮑﺘﯽ ﺟﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﺮم ُﮑﮫ ﮐﯽ اس ﺳﺘ ِﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻗﻊ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﺑﺎت آﮔﮯ ﭼﮭﯿﮍی.‬ ‫ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﻣﯿﮟ ﮐﮩہ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﮐﻞ ﺳﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣّﮯ ﮐﻮ اﺳﮑﻮل ﭼﮭﻮڑ آﯾﺎ ﮐﺮے ﮔﺎ اور ﻟﮯ ﺑﮭﯽ آﺋﮯ ﮔﺎ. آﺗﮯ آﺗﮯ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس‬ ‫ﭨ ﻨ‬ ‫ﭼﮭﻮڑ دﯾﺎ ﮐﺮے ﮔﺎ. ﻣﺎں ﺳﺮ ِدھﺮ ُدھﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﯿﺮ ﭘﭩﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ا‬ ‫ا‬ ‫ﺗﻢ دوﻧﻮں ﮐﯿﺎ ﮐﺮو ﮔﮯ ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮم ﮨﮯ, ﮨﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮی ! , ﮔﮭﻮ ُﻮ َﯾﺎ ﮐﺮ, ﭼﻮد ڈال رے ﺑﯿﭩﮯ, ﻣﺖ‬ ‫ﭨ د‬ ‫ﭽ‬ ‫ﺗﮍﭘﺎ اب. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﺘﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ.‬ ‫&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﻣّﮯ ﮐﻮ ﻣﺎں ﺟﯽ, اﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﺎم ﮐﺮﯾﮉا ِﮑﮭﺎ ﮐﺮ آپ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮں ﻣﯿﮟ ﻻ ﮐﺮ ﭘﭩﮏ دﯾﮟ ﮔﮯ. ﭘﮭﺮ آپ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫دن ﺑﮭﺮ اس ﺑ ّﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮﻧﺎ. ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﺎت ﺷﺎﯾﺪ ﺟﭻ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اس ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭽ‬ ‫ُﻮﭼﮏ ﻣﺴﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ارے اﺑﮭﯽ ﺳﮯ اﺳﮯ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ دﯾﺎ ﺗﻮ دو ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﺑﮭﯽ ﺑﮍا ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ اس ﮐﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﻮ دﯾﮑﮭﻮ, ﺑﺎرﮦ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳﺎل ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺳﮯ ﭼﻮد رﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺪﻣﻌﺎش. اب دﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮔﮭﻮڑے ﺟﯿﺴﺎ ﻟﻮڑا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ اس ﮐﺎ. ﻣﺎں آﺧﺮ ﺗّﺎر ﮨﻮ‬ ‫ﯿ‬ ‫ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﮔﮭﻮُﻮ, ﮐﻞ ﺳﮯ ﺗﯿﺮے اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﮯ ﺳﭙﺮد ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣّﮯ ﮐﻮ, ﮨﺎﺋﮯ, ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺗﯽ ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ? ﭼﻮد ﭼﻮد ﮐﺮ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎر ڈال ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮے راﺟہ. ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﺧﻮش ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﻮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﮐﻞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎ. ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﺎ ﮐہ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﻣﺎن ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ! آﺧﺮ اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘ ّﺎ ﭼﻮ ُو ﺑﻨﺎﻧﺎ‬ ‫ﮑ د‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﮯ اﻧﮩﯿﮟ. ُﻮ اب ﭼﻮد ڈال ﺑﯿﭩﮯ. اﯾﺴﮯ ﭼﻮد اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﮐہ وﮦ ﺳﯿﺪھﮯ ِﻧﺪر ﻟﻮک ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮں ﭘﺮ اﭘﻨﺎ ﻣﻨہ‬ ‫ا‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺟﻤﺎ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﺎ ﻣﻨہ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ اور ﮔﮭﻮ ُﻮ اب ﻣﺎں ﮐﻮ اﯾﺴﯽ ﺑﮯرﺣﻤﯽ ﺳﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﮭﻮڑا ﮔﮭﻮڑی ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;span style=&quot;font-size: 30px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
باقی کل&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/2545960211425608556/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1298.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/2545960211425608556'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/2545960211425608556'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_1298.html' title='ﻣﺴﺘﯽ بھری چوت کی چدائی پارٹ ون'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-7782564288752732087</id><published>2012-01-16T13:25:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:25:55.694-08:00</updated><title type='text'>جوانی میں ہلکی سی ہلچل</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: georgia; font-size: 13px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;میں شمیم بہار کا رہنے والا ہوں ۔ میری عمر 35 سال ہے اور میں شادی شدہ ہوں میری بیوی سروت اک خوب صورت چوت کی مالک ہے اپنے مستانی چوت پر اسے بہت ناز ہے ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سہاگ کی وہ نا دان اور خوب صورت حسینہ آج اک مست رنڈی ہے جوانی کی اس پہلی یادگار رات کو جب میں اپنی اس مست جوانی کی شلوار اتاری تو جانھٹوں سے صاف چوت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں سے مستا نی مہک آری تھی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم دونوںاکثردن میں مست چودای کا حسین کھیل کھلتے ہیں ٹی وی پربیلوفلم چل رہی ہوتی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور دیکتھے ہی دیکتھے ہم دونوں اک دوسرے کی چوت اور میں کھوجاتے وہ اکثرمدہوشی میں اتراتی ہے سالے حرامی مادر چوت 70 سال کا بڈھا بھی میری چوت درشن کر لے تو اس کا بھی لنڈ رال ٹپکا دے ہم دونوں شراب تو نہیں پیتے لیکن جوان مہکتے جسم سے نکلتے شراب ضرورپیتے ہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میری بیوی اور میں اپنے اپنے پیشاب کو گلاس میں نکال کر اس کی چسکی کے سات&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مست چودای کا مزا لتے اس مست جوانی کا انداز بھی اتنا مست ہوتا ہے کہ وہ چو ت کےس ات سات وہ گانڈ بھی مرو اتی تھی اصل میں یہ کہانی میری بہن کی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میری اک پیاری سی چھوٹی بہن غزالہ ہے غزالہ مجھہ سے دو سال چھوٹی ہے ہم دونوں اک دوسرے کو بہت پیار کرتے ہے وہ کافی چنچل ہے اور حسین بھی میڑک تک آتے آتے ہم دونوں بھایی بہن نے جوانی کی دیلیز پر قدم رکھہ غزالہ کی نھنی نھنی چچیاں نکل آیی تھی اور میرے لنڈ کے اس پاس ہلکے ہلکے بال نکلنے تھے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اکثررات میں اماں کو ابا سے اپنی چوت مرواتے دیکھا تھا پتا نہی تھا کہ یہ کون سا کھیل ہے دونوں ننگے ہوتے اماں ابا کا لنڈ چوستی اور ابا اماں کی چوت اور پھر اماں کے حسین ننگے جسم کو پکڑ کر ابا اپنا موصل جیسا لنڈ اماں کی چوت میں پیل دیتے اک دبی سی چیخ سنایی دیتی ہاے بیٹی چوت مار ڈالا میری نازک چوت پھٹ جاےگی لیکن ابا اک بھوکے جانور کی طرح اماں کی مست چوت کا مزا لتے اماں کے منہ سے گالیوں کی بوچھاڑ ہوتی اور ابا مستی میں اماں کی مست چوت میں اور دکھے مارتے مارتے ٹنھڈے ہوجاتے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میڑک پاس کرکے مجھے آگے پڑھنے کےلیے شھر جانا پڑا اس بیچ میں چھٹیاں میں گھرآتا غزالہ کی جوانی میں دن بہ دن نھیکر تا جارہا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ کی جوانی مدمست ہوگیی گورے جسم رسیلے ہونٹ سڈول چھاتیاں جیسا کہ حیس گڑیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں بھی پورا جوان ہو چکا تھا گھر میں چنچل مدہوش حسن کو دیھک کر میرے لنڈ میں کسمسھاٹ ہونے لگتی کثر کام کے دوران اس کی چھاتیاں پر نظر پڑتی دل میں خیال آتا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیوںنا اس جوانی کا مزا لوٹو اور اپنی گڑیا کو بھی لنڈ کا مزا چھکاوں آخر میرے ساے میں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کی مدہوش جوانی پروان چڑی ہے اس طرح اسکی حسین چوت پر میرا بھی حق بنتا اخر کوی نہ کوی مرد اس کی چوتکو چودے گا پھر کیوںنا میں ہی اس کی مستانی جوانی کا مزا لو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گرمیوں کے دن تھے میں اپنے کمرے میں ‎غزالہ کے مدہموش حسن کے خیال میں ڈوبا اپنے لنڈ کو آ ھستہ آ ھستہ سہلارہا تھا کہ یکا یک کمرے کا دروازہ کھلا جلدی سے میں نے اپنا کھڑا لنڈ لنگی کے اندر ڈال لیا سامنے ‎‌غزالہ چاے لےکر کھڑی تھی ۔تھوڑا جھجکی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور چاے ٹیبل پر رکھہ کر چلی گی شاید لنگ کے اندر کھڑے لنڈ پر اس کی نظر نہیں پڑی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تھی خیال آیا کیوں نہ دوسرے دن بھی ایسا کیا جاے اگر اس مست جوانی نے تھوڑا بھی ریسپانس دیا تو بات بن جاےگی دوسرے دن ذیادہ ہمت کی اور میں نے اپنی لنگی اتار کر الگ کردی اور لنڈ کو اپنے ہاتھوںلیکر سہلانے لگا اور جب وہ چاے لیکر کمرے میں آیی تو میں نے جلدی ناھی کی بگل میں پڑیی لنگی سے اپنے ننگے بدن کو ڈھک لیا لیکنلنڈ کھلا ہی رہا اک بار غزالہ ٹھٹکی اک نطر میری طرف دیکھاپھرترچھی نطر سے کھڑے لنڈ کو دیکھا اور چپ چاپ ٹیبل پر چاے رھکہ کر واپس چلی گی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مجھے لگا کی اس کی مست جوانی میں ہلکی سی ہلچل تو ضرور ہویے نہی تو وہ شرماکے الٹے پیروں کمرے سے نکل جاتی اور پھراسے چودنے کی چاہت میںمیرا بدن میں آگ لگا دی اواواواواواو میری پیاری گڑیا غزالہ اور میں جھڑ گیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اتوار کا دن تھا اماں اورابا شادی میں گيے ہوے تھے اور دوسرے دن لوٹنے کا پروگرام&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تھا بھیا میںنے کھانا لگاری ہو آپ ڈاینیگ روم میں آجاو حنا ( نوکرانی) کہا ں ہے میں نے پوچھا وہ پڑوس میں گیی ہے غزالہ نے کہا میں نے موقع غنیمت سمجا ۔ اپنی پیاری بہن کے کورے بدن کا مزا لوٹنے کا اس سے اچھا موقع اور کہا ں ہوسکتا ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ تم نے کہانا کھا لیا ۔ ہا ں بھایی جان&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میری کھانے کی بھوک ختم ہوچکی تھی اور غزالہ کی جوانی کی بھوک سے لوڑے میں تناو آنے لگا تھا میں چپکے سے کیچن گیا اور پیچھے سے غزالہ کو دبوچ لیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بھایی جان یہ کیا کررہں میںری غزالہ بس تھوڑا سا میںنے اسے دبوچتے ہوے کہا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بھایی جان میں آپکی اپنی چھوٹی بہن ہوں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بہن ہو تو کیا ہوا اک مست جوانی بھی تو ہو یہ رسیلے ہونٹ کسیی کسی چھاتیاں۔اوریہ مستانی چوت اور میںنے شلوار کے اوپر سے چوت پر ہاتھہ رکھہ دیا ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ میں تیرے پیارے بھایی سے پہلے اک جوان مرد ہوں اور تیری اس حیسن جوان جسم پر میرا بھی حق ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حرام ذادے مجھے چھوڑدے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ چلایی تو بڑا کمینہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور بھایی تو اپنی بہنوں کی عزت بچاتے ہیں۔اورتو ہی اپنی ہی بہن کی عزت پر ہا تھہ ڈال رہا ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سالی رنڈی چپ تیرے جیسی مصوم کچی کلی پرہر رشتہ قربان ہے اور جوان لنڈ تو صرف چوت پہچانتا ہے ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ماں بھابی بہن کے رشتےکے کیا مطلب اسکےلیے معنہ نہں رکھتے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کتے اچانک غصے میں اسنے میرے منہ پر تھوک دیا اورمجھے تھپڑمارنے لگی غزالہ میری بانہوںمیں بری طرح جھٹپٹا ری تھی لیکن میری گرفت سے نکلنا آساں نہں تھا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میںحالت کو قابومیں کرنے کے لیے اسکے دونوں ہاتھہ کو جکڑکر گود میں اٹھا کر اماں کے کمرے میں بیڈ پر پٹک دیا یہ وہی بیڈ تھا جس پر میں نے اپنی اماں کو کیی بار چود واتے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دیھکا تھا اور آج میں اپنی بہن کی عزت اسی پر لوٹنے جارہا تھا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ کا جھٹپٹانا جاری تھا اک ہاتھہ سے میں اسکے رونوں ہاتھہ پکڑہوے تھا اور دوسرے ہاتھہ سے اسکی قمیص پھاڑنے لگا جسےجسے اس کے کپڑے پھٹتے گیے اسکا حسین گورا بدن دیھکہ کر میری چودایی کی پیاس اور بھی تیزہوگی اور اب شلوار کی باری تھی شلوار پھٹتے ہی غزالہ کی ننگی مست&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چوت میرے سامنے تھی اک ہاتھہ اسکے چوت پرلگایا اور تیزی سے رگڑنے لگا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بھیامجھے چھوڑدے میری عزت مت برباد کرو غزالہ پھر چلای۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لیکن میں کہاں مانے والا اس کو جکڑے ہوے میںنے پاجامہ کھولا اور موصل سا لنڈ باہرتھا مجھہ پر رحم کر بھیا میں تھمارے ہاتھہ جوڑتی ہوں غزالہ سیسکنے لگی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چپ بھوسڑی والی آج میں تیری چوت کامزالےکر رہیوں گا کویی مادر چوت تیری مدہوش جوانی کا مزالوٹ نہی سکا وہ نامرد ہے اور میںنے اسے دوچار تھپڑ لگا دیں تھپڑکچھہ زور سے لگ گے جسکی وجہ سے اس کے منھہ سے خون نکلنے لگا مجھے اسکی پروا نہی تھی غزالہ نے میرےتیوردیھکہ کرجھٹپٹانا کم کر دیا اور سسکنے لگی حرمزادی روتی کیوں ہے چپ چاپ چودنے دے تجھے بھی مزا آے گا میںنے کہا میں نے ہوشیار یی سے اپنےہونٹ اسکی چوت پر رکھہ دیے اور اسکی چوت چا نٹے تھوڑی دیر بعد غزالہ نے رونا بند کردیاشاید چوت چانٹے میں مزا آنے لگا میں سھمج گیا کے غزالہ پر بھی جوانی کا نشہ چڑھ رہا ہےمیںاپنےہونٹ اس کی چھاتیاں پر گاڑدیا اوراپنے لنڈ کا سپراچوت کے ہونٹ پرٹکا دیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بھیامیری عزت مت لوٹوں میں برباد ہو جاو گی غزالہ چلای یمیں نے دیکھا کے غزالہ آسانی سے چوت ناہی دے گی زبردستی چودناہوگا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسے دبوچے ہوے میں تیزی سے لنڈ گھیسڑ دیا پہلے تو نرڈ چوت کے ہونٹوں کو چیرتا ہوا گھستا گیا پھر چوت کی سیل نے اس کا راستہ روک لیا غزالہ درد سے چیحنح لگی لکین میں کہاں صبر کرنے والاتھا اپنے ہاتھہ اس کے منہ پہ رکھہ کر پورے جسم کا زورلنڈ پر دیےدیا لنڈ اک جھٹکے سے چوت کی جھلی پھاڑتا ہوا اندر چلا گیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہ ہ ہ ہ ہ ہاہاہا ای ای ای ایآآآآآآآآآ غزالہ چیخ آٹھی کوری چوت پھٹ چکی تھی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نکال کمینہ بہت درد ہورہے نہیں تو میری جان نکل جاے گی000000 ااااااااماںمجھے اس حرامی سے بچالے غزالہ سسکنے لگی اوی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پہلی بارچوادیی میں تو درد ہوتا ہے اور پھر کویی تو تیری چوت پھاڑتا ہی غزالہ خاموش رہی شاید سمجھہ تھی کہ وہ لوٹ چکی ہے تھوڑی دیر پہلے کی کلی پھول بن آگی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بھیاتھوڑی دیر روک جاوں درد ہو رہا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ سسکنے لگی اوہی اویی ااااا آآآآآآ اب مزا آرا ہے توڑا زور سے کرو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ کی چوت زورزور سے جھٹکے مارنا شروع کردیے غزالہ بھی چوت اٹھا کر میرا ساتھہ دینے لگی بھاییاور زور سے چود بڑا مزا ارا ہے آ ا ا ا اآواواواوا اویاویاوایاومیں جنت میں پہچ گی ہوں اااااااا بھیییییاااااااااااااااااااااچودمجھے چود اور زور سے خود غزالہ دیوانی ہوری تھی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غزالہ میری رانی اب میں جھڑرہا ہوں ہاہاہاہ میرالنڈ اندر ہی جھڑ گیا میری جان&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بھیا میں بھی اب جھڑی ہاے میری چوت اور ہم دونوںجڑ گیےتھوڑی دیر تک یونہی میں غزالہ کی چھا تیاں منہ میں دباے پڑا رہا اب چھوڑ بھی اپنی بہن کو سالے سب رس پی جاے گا یا بعد کلیےبھی کچھہ چوڑے گا میری گڑیا اک چودای میں بہن چود نبا دیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں نے جسے ہی دروازہ کی طرف نظر اٹھی حنا کھڑی مسکرای رہی تھی وہ مسکراتے ہوے ہمارے پاس آیی اور غزالہ کو پیار کرکے بولی آج تم بہن بھایی نے یہ ثابت کردیا کے دو جوان جسم کا اک ہی رشتہ ہوتا ہے چوت اور لنڈ کا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/7782564288752732087/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_5277.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/7782564288752732087'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/7782564288752732087'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_5277.html' title='جوانی میں ہلکی سی ہلچل'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-4062962357406542927</id><published>2012-01-16T13:23:00.001-08:00</published><updated>2012-01-16T13:23:58.271-08:00</updated><title type='text'>چودائی اک گرل فرینڈ کی</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: georgia; font-size: 13px;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;نیٹ کیفے میں چودائییہ میری سچی کہانی ہے میری اک گرل فرینڈ کی لیکن میں پہلے اپنا تعارف کرادو میرا رنام عامرخان ہے میری عمر 24 سال ہے اور میری گرل فرینڈ کی 22 سال ہے میں اب پنی اسٹوری شروع کرتا ہوں ہماری دوستی کو 5۔1 سال ہوچکا تھا پر میں نے اس کو ہاتھہ تک نہ لگایا تھا ہم ٹاون پارک گیے ہویں تھے تو میں نے اس کی کس کیا اور جب میں نے اس کے ممے پر ہاتھہ لگا یا تو وہ ‏غصہ کرنے لگی اور اس نے مجھہ سے ایک مہنہ بات نہں کی آخر کار میں نے اس کو منائی لیا اور اس کو کہا کے یہ سب تو چلتا رہتا ہے تو وہ بولی کہ میرے کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تو میں نے کہا کے اچھا اب نہیں کرونگا اس دن کے بعد ہم ملتے تو تھے پر کس تک ہئ قائم تھے پر اب میرے سے صبر نہیں ہوتا تھا اور میں اس کو چودنا چودنے کی پلانیگ بنانے لگا پھر اک دن میرے پاس اس کا فون آیا کے آج تم آفس سے چھٹی کرلو آج بہت باتیں کریں گے تو میں نے آفس فون کر کے بول دیا کہ آج میں نہیں آونگا اس کے بعد ہم دونوں کچھہ دیر اس کے کالج میں ہی بیھٹے رہےپھر میں نے اس سے کہا کے تو مان گئ اس ٹائم 12 بجے کا تھا نہ تو فلم کے ٹکٹ ملتے اور نہ ھئی ہم کسی گراونڈ میں بیھٹہ سکتے تھے تو میں نے اس سے کہا ناگن چورنگی پر نیٹ کیفے ہے وہاں چلتے ہیں اور اس میں کیبن بنے ہے وہاں جانے کو بولا تو وہ منع کرنے لگی بہر حال میں نے اس کو راضی کرلیا وہاں کیبن میں پہنچے تو میں دروازہ بند کرنے لگا تو وہ کہنے لگی کہ دروازہ کیوں بند کو رہے ہو تو میں نے کہا کہ کوئی دیکھہ لے گا تو کیا کہے گا اور میں نے دروازہ بند کو دیا اس کے بعد میں اس کے برابر میں بیٹھہ گیا اور باتیں کرتے کرتے میں نے اس کے کندھے پر ہاتھہ رکھہ دیا اور اس کے بازو کو سہلا نے گا اور دھیرے دھیرے اس کے ممےکو ٹچ کر نے گا اور اس نے کچھہ نہ کہا تو میںنے اس کو کس کرنا شروع کیا اور اس کے مموں کو قمیص کے اوپر سے دبانے لگا اور ایک ہاھہ سے اس کی چوت کو سہلانے لگا اوروہ مست ہونے لگی اوروہ بھی میرا ساتھہ دینے لگی اب میں نے دھیرے سے اس کی قمیض اوپر کردی ارو اس کی چوت کو سہلانے لگا وہ مزے سے آواز نکالنے لگی تو میں نے اس کے ہاتھہ میں اپنا لنڈ دےدیا جس کو وہ مزے سے سہلانے لگی میں نے اس کی شلوار نیچے کی اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا وہ سیسکیاں لنے لگی اس کی چوت پیٹ سے ہوتے ہوئےاس کے مموں تک پہچونچا اور اس کی چوچیاں چوسنے لگا پھر میں نے اپنا لنڈ اس کے منہ میں دےدیا جس کو وہ مزے چوس نے لگی تقریبا15 منٹ کے بعدمیں نے اسکی چوت میں انگلی ڈال دی اور اس کو انگلی سے چودنے لگا اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا پھر میں نے اس کو فرش پر گھوڑی کی طرح کیا اور اس کی چوت میں جسے ھئ لنڈ ڈالا تو وہ پھنسنے لگا اس کی چوت بہت ٹائٹ تھی پھر میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور اس کے اوپر خوب سارا تھوک لگایا اور پھرچوت میں آہستہ آہستہ ڈال نے لگا لیکن وہ پھر آگے نہیںجارہا تھا پھر میں نے تھوڑا زور لگا کے اندر کرنے لگا تو وہ چلانےلگی میرے کو درد ہورہا ہے تو میں روک گیا اور اس کے ہونٹوں کی کس کرنے لگا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں دبا کر ایک جھٹکے سے لنڈ اس کی چوت کے اندر کردیا اور وہ چلا بھی نہ سکی اور تھوڑی دیر کے بعد جب اس کا درد کم ہوگیا تو آھستہ آھستہ اندر باہر کرنے لگا تھوڑ ی دکر میں اس کو بھی مزا آنے لگا اور میں تیز تیز جھٹکے مارنے لگااور 15 منٹ کے بعد میں جھڑ گیا اور وہ بھی اب ہمیں جب بھی موقع ملتا ہے تو سیکس کر تے ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/4062962357406542927/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_6042.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4062962357406542927'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/4062962357406542927'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/blog-post_6042.html' title='چودائی اک گرل فرینڈ کی'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-879344751561120124.post-3246612502289358817</id><published>2012-01-16T13:19:00.000-08:00</published><updated>2012-01-16T13:19:06.398-08:00</updated><title type='text'>ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ اور ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ 5‬</title><content type='html'>&lt;div dir=&quot;ltr&quot; style=&quot;text-align: left;&quot; trbidi=&quot;on&quot;&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;text-align: right;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; font-weight: bold;&quot;&gt;‫&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻮرے ﮔﻮرے ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﮔﺎڑ دﯾﺎ. وﮦ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر اور ﺳﺎؤدھﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﯾہ ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎرﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ اس ﻧﮯ اﺗﻨﯽ ﺳﺎؤدھﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺘﻨﯽ وﮦ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﮔ ُﺴﺎﺗﮯ ﺳﻤﮯ ﺑﺮت‬ ‫ﮭ‬ ‫رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ذرا ﺑﮭﯽ ﮐﺴﻤﺴﺎﺗﯽ ﺗﻮ وﮦ رک ﺟﺎﺗﺎ. ﭘﻮرا ﻟﻮڑا ﮔ ُﺴﺎ ﮐﺮ وﮦ رﮐﺎ اور ﭘﮭﺮ اﺳﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﻣﭩﮭﯿﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫درد ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ رﮨﺎ ﻣﺎﻟﮑﻦ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺎں ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ, ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮﺳﺘﯽ رﮨﯽ. اب وﮦ اﭘﻨﮯ آپ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ اﭼﮭﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺴﮑﺮا ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ارے دﯾﮑﮭﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﯾہ رﻧﮉی? اب ﻣﺎر آرام ﺳﮯ, ﺳﺎﻟﯽ ﺧﻮب ﻣﺮاﺋﮯ ﮔﯽ اب دﯾﮑﮭﻨﺎ. ﻓﺎﻟ ُﻮ ﻧﺨﺮا ﮐﺮ‬ ‫ﺘ‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. اﯾﮏ ﺑﺎر ﭼﺴﮑﺎ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ, ﻣّﺎ, ُﻮ دﯾﮑﮭﻨﺎ اب ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮاﻧﺎ زﯾﺎدﮦ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮے ﮔﯽ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ُﺮﻧﺖ ﻣﺎں ﭘﺮ ﭼﮍھ‬ ‫ﭨ ﺗ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﮔﯿﺎ اور اس ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﻏﭽﺎﻏﭻ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ. اس ﮐﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﺗﮕﮍے ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ُﻮدا ﻣﯿﮟ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺎں ﭘﮭﺮ‬ ‫ﮔ‬ ‫ﮐﺴﻤﺴﺎ اﭨﮭﯽ. ﭘﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ اس ﮐﺎ ﻣﻨہ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﭘﺮ دﺑﺎ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﮐہ وﮦ ﮐﭽﮫ ﺑﻮل ﻧہ ﭘﺎﺋﮯ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣّﺎ, ذرا اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﮐﺎ داﻧہ رﮔﮍ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ِﮑﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ. اﺑﮭﯽ اور ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮔﮭﺴﯿﮍ ﮐﺮ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﭼﻮت ﮔﯿﻠﯽ ﺗﮭﯽ. اب ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﺎں ﮐﺎ داﻧہ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﺴﻼ ﺗﻮ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﮐﺎ دﺑﮯ ﻣﻨہ ﮐﺮاﮨﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور وﮦ اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍ ﮨﻼ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی اﻧﮕﻠﯽ اور‬ ‫اﻧﺪر ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ اب ﺗﮏ ﻃﯿﺶ ﻣﯿﮟ آ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻠﻮ ﮨﭩﻮ ﺗﻢ دوﻧﻮں. اب ﻣﯿﺪان ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮨﮯ. اب ِﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮں ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ! ﮨﺎﺋﮯ ﮨﺎﺋﮯ ﮐﯿﺎ ُﺪاز ﻧﺮم‬ ‫ﮔ‬ ‫د‬ ‫ﻧﺮم ﮔﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻣّﺎ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ, ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﻼﺋﻢ اﺳﻔﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮڑا ﭘﯿﻞ رﮨﺎ ﮨﻮں. ﺟ ُﻤﺮی اﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ِﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﭼﻮﭼﯽ دے ﮐﺮ وﮦ ﺧﻮد ُﭩﮫ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣّﺎ ﻣﯿﺮی ﭼﻮﭼﯽ ﭼﻮس اور ﺗﻤﺎﺷہ دﯾﮑﮫ اب. ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮں, ُﻮ ﻣﯿﺮا داﻧہ ﭘﮑﮍ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﺳﮍﮐﺎ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪد ﮐﺮﺗﺎ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮨﺆا ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎری ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷہ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫اﮔﻠﮯ آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﯾﺴﮯ ﭼﻮدی ﺟﯿﺴﮯ ﭘﮭﺎڑ ڈاﻟﮯ ﮔﺎ. ﻣﺎں ﮐﻮ دﺑﻮچ ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﻣ ّﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺴﻠﺘﺎ ﮨﺆا وﮦ ﭘﻮرے زور ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ آدھ ﻣﻨﭧ رک ﺟﺎﺗﺎ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ اب‬ ‫آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ِﻠ ِﻼ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور اﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯽ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. اس ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﭘﺮ وﯾﺪﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ اور اﺗﻨﯽ ﮨﯽ‬ ‫ﺑﺒ‬ ‫واﺳﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﭩﮯ, ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﭘﮭﺎڑ دی راﺟہ. ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﮨﮯ رے, رک ﻣﺖ, ﻟﮕﺎ زور ﺳﮯ دھ ّﺎ, ﭘﮭﺎڑ دے‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ اور ﮔ ُﺲ ﺟﺎ اس ﻣﯿﮟ. ﮨﺎﺋﮯ رے !, اور ﯾہ ﭼﻮﭼﯿﺎں ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻞ رﮨﺎ ﮨﮯ, ِﻠ ِﻼ ﮐﺮ دے ﮔﺎ اﻧﮩﯿﮟ, ﭼ ّﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺲ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭘﭙ‬ ‫ﮭ‬ ‫رﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ, ذرا دھﯿﺮے راﺟہ! آﺧﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﺐ ﺟﮭﮍا ﺗﻮ زور ﺳﮯ ِّﺎﯾﺎ. ﭘﮭﺮ ﭘﺴﺖ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎں ﭘﺮ ڈھﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﺎں ﻃﯿﺶ‬ ‫ﭼﻠ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ. اب ﺑﮭﯽ ﮔﺎﻧﮉ ُﺪاﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﺑﯿﭽﺎری ﮐﯽ ﯾہ ﺣﺎﻟﺖ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﭘﻠﭧ ﺟﺎ اور ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ اوﭘﺮ ﻟﮯ ﻟﮯ. ﻣّﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﻮں ﮐہ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮد ڈاﻟﮯ اور ﺟﮭﮍا دے. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮے ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﭘﺮ ﭼﮍھ ﮐﺮ اﺳﮯ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﻟﯿﺎ اور‬ ‫ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ﭼﻮت ﺧﻮب ﺗﻨﮓ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ُﺪﺗﯽ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ اﯾﺴﺎ ُﱠ ِﺖ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻦ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ زور زور ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺧﻮب ﭼﻮدا. اب ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭼﻮدﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫اﺳﺘﺎد ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ ِﻨﺎ ﺟﮭﮍے ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدا ﺟﺐ ﺗﮏ وﮦ دو ﺑﺎر ﺟﮭﮍ ﮐﺮ ﭘﺴﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﻣّﺎ ﺟﮭﮍ ﻣﺖ ﯾﺎر, آ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻟﮯ اب. ﻣﯿﺮا ﭘﮭﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ, ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﻮں. ﻣﺎں, آج اب‬ ‫ﻨ‬ ‫رات ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮨﯽ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ! ﺗﻢ ذرا ﻣّﮯ ﮐﻮ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ دے دو. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈاﻻ اور ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ اﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﺎﻧﮩﻮں ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ اور ﻣﺎں ﮐﻮ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ِﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ. ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣ ّﮯ دﺑﺎﺗﺎ ﮨﺆا وﮦ ﻣﺎں ﮐﻮ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں ﭘﺴﺖ اس ﮐﯽ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﺎں ﮐﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺒﮫ‬ ‫ﭨ‬ ‫ڈال ﮐﺮ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﮑﮫ رس ﭼﺎٹ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﻣﯿﮟ دھﻨﺴﺎ اس ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﻟﻨﮉ ِﮐﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﯽ‬ ‫د‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺟﮭﮍی ﭼﻮت ﺑﮭﯽ اﯾﮏ دم ﮐ ُﻠﯽ ﺗﮭﯽ اور اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩہ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ ﻣﯿﺮی اور دﯾﮑﮭﺎ اور ﻣﺴﮑﺮا ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺧﺰاﻧہ دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﮨﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ? ﻣﯿﺮے ﺑﮭﯽ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ آ رﮨﺎ ﮨﮯ. ﭼﻞ ﭼﺎﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮨﻢ دوﻧﻮں ﻣﺎں ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ زﻣﯿﻦ ﭘﺮ‬&lt;/span&gt;&amp;nbsp;‫&lt;span style=&quot;font-size: 17px;&quot;&gt;ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ اور ﺑﺎری ﺑﺎری ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﻣﯿﺮی ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺗﮭﺎ. اﺳﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے اﭼﮏ ﮐﺮ ﭼﻮدﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﻮت ﮐﮯ رس ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺻﺎف ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﺎں ﮐﯽ‬ ‫ﭼﻮت ﭼﺎٹ ﮐﺮ اﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﺪاﺋﯽ آﮔﮯ ﺷﺮوع ﮨﻮﺋﯽ. اب ﮨﻢ اﯾﮏ ﮨﯽ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﭘﺎس ﭘﺎس ﻟﯿﭧ ﮐﺮ اﯾﮏ دوﺳﺮے‬ ‫ﮐﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮨﺎﻧﭙﺘﺎ ﮨﺆا ﺑﻮﻻ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﯾہ ﮐﭽﮫ ﺑﺎت ﮨﻮﺋﯽ, اﯾﺴﮯ ﻣﺎؤں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎری ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻣّﺎ, ﯾہ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﻨﯽ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐہ ﺳﺎﻻ ﺧﻮب ﭼﻮدو, ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرو اور‬ ‫ﻨ‬ ‫ان ﮐﯽ ﭼﻮت ﭼﻮس ﻟﻮ. ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﭘﯿﺎر ﮐﺎ ﯾﮩﯽ روپ ﮨﮯ ﻣّﺎ! ﺟﮭﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ اﯾﮏ ﺑﺎر ُﻮﺗﻨﮯ اﭨﮭﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫آﮔﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫رک ﻣّﺎ, اﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺟﺎﻧﮯ دے. ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی, ﺑﮍی زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﮨﮯ. ﭼﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻟﮯ ﭼﻞ. ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. اﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺗﭙﺘﯽ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺳﻼخ ڈال دی ﮨﮯ اﻧﺪر. وﮦ اﭨﮭﯽ اور ﺟ ُﻤﺮی ﮐﺎ ﺳﮩﺎرا ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﻨﮕﮍاﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ دھﯿﺮے دھﯿﺮے ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﮐﯽ‬ ‫ﮭ‬ ‫اور ﻧﮑﻞ ﭘﮍی. اﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﺳﮯ واﭘﺲ آ ﮔﯿﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﺴﻤﺴﺎ رﮨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﺑﻮﻻ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, زور ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ, ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﺐ آﺋﯿﮟ ﮔﯽ? ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ آؤں? وﮦ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ارے اﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ. ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ ﻓﭩﺎ ﻓﭧ ُﻮت ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ. ﺑﮍے آرام ﺳﮯ ﻣﺰا‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻟﮯ ﮐﺮ ُﻮت رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ. ﺗﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ راﺟہ? آ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس, ﻣﯿﮟ ﮐﺮا دوں.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮐہ وﮦ ﻣﺠﮭﮯ وﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮاﺋﮯ ﮔﺎ. ﭘﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ دﯾﻮار ﺳﮯ ﺷﭩﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﮐﯿﺎ اور ﺧﻮد ﻣﯿﺮے‬ ‫ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ُﺮﺟﮭﺎﺋﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ اس ﻧﮯ ﭼﻮﻣﺎ اور ﭘﮭﺮ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﻣ‬ ‫اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ِﻠ ِﻼ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﺳﺮ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﻤ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮭﺌّﺎ, ﭼﮭﻮڑو. ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﺗﻨﺎ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ آﻧﮑﮫ ﻣﺎری اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﯽ رﮨﺎ. آﺧﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ اس ﮐﮯ ﺑﺎل‬ ‫ﯿ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ارے ُﻮت ﻧﺎ ﻣﯿﺮے راﺟہ. ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮت. ﻣﯿﮟ اس ﮐﯽ اور دﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﯽ رﮦ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﭼﮩﺮے ﭘﺮ ﮐﺎ ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ وﮦ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺴﮑﺮا دﯾﺎ.‬ ‫ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ﻣّﺎ. ﮐﺐ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮا ﭘﯿﺎرا ﮐﻤﺴﻦ ُﻮت ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ. ارے ﮔﮭﺒﺮا ﻣﺖ, ﻣﯿﮟ ﻏﭩﺎ ﻏﭧ ﭘﯽ ﺟﺎؤں ﮔﺎ. ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺷﺮﻣﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ارے ﺑﯿﭩﮯ, ُدھﺮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮت رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ. ﭼﻞ اب ﻧﺨﺮا ﻧہ ﮐﺮ. ﭘﮭﺮ ﺳﺐ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮں. ﮐﮩہ ﮐﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ا‬ ‫وﮦ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ اب اﺗﻨﯽ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ‬ ‫ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮﺗﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﭘﺮ اﯾﮏ ﺗ ِﭘﺘﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﺎؤ ُﻣﮉ آﯾﺎ. ﻣﯿﺮی ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﮩﯿﮟ ڈال ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ا‬ ‫ﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫ِﭙﭩﺎ ﻟﯿﺎ اور اﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻣﯿﺮی راﻧﻮں ﻣﯿﮟ دﺑﺎ ﮐﺮ وﮦ ﻣﯿﺮا ُﻮت ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭼ‬ ‫ﻣﻮﺗﻨﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﻣﯿﮟ ُﱠ ِﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﺟﺲ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﺳﻮاد ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ُﻮت ﭘﯽ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ, ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﺗﺠ‬ ‫ُدھﺮ ﯾہ ﮐﻠﭙﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐہ ﻣﺎں ﮐﯿﺴﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ُﻮت ِﻼ رﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ, ﻣﺠﮭﮯ اور ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﺮا ﻣﻮﺗﻨﺎ‬ ‫ﻣ ﭘ‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻣﻨہ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﭘﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺎ. ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﺎﻟﮏ, ﭘ َﺳﺎد ِﻞ ﮔﯿﺎ. ﻟﻨﮉ اب ﮐﮭﮍا رﮐﮭﻮ. ﺳﺎﻟﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮐﺲ ﮐﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرو رات ﺑﮭﺮ. آج رات ﺑﮭﺮ ان‬ ‫ﺮ ﻣ‬ ‫دوﻧﻮں ﻋﻮرﺗﻮں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻣﺎر ﮐﺮ ﭘ ُ ُﻼ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﮭﮑ‬ ‫ﺑﺘﺎؤ ﻧﺎ ﮔﮭﻮ ُﻮ, اﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮں ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ?‬ ‫ﭨ‬ ‫ارے ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ. اﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت ﭘﯿﺘﯽ ﮨﮯ. اس ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ. ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﺎ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘ َﺳﺎد ِﻠﺘﺎ ﮨﮯ. آﺧﺮ ﺗﻢ ﻟﻮگ ﮨﻤﺎرے ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮ. ﺗﻤﮩﺎرا ﻧﻤﮏ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﭘﺮ اس ﻃﺮح ﺳﮯ ﻧﻤﮏ ﭘﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ اور ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ.‬ ‫ﺮ ﻣ‬ ‫ﺗﻮ ﮐﯿﺎ روز ﭘﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﺎﺋﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ آﺳﭽﺮﯾہ ﭼ ِﺖ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ.‬ ‫ﮑ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮨﺎں ﻗﺮﯾﺐ ﻗﺮﯾﺐ روز, ﺧﺎص ﮐﺮ ﺟﺐ ﻣﺴﺖ ﭼﺪاﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺑﮍے ﻣﺰے ﺳﮯ ُﻮﺗﺘﯽ ﮨﮯ. رک رک ﮐﺮ ﺑﮩﺖ‬ ‫ﻣ‬ ‫دﯾﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﻼﺗﯽ ﮨﮯ. اور اﯾﮏ دو ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎ ﮨﮯ. اﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ دے‬ ‫رﮨﯽ ﺗﮭﯽ, ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺻﺮف اس ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﯽ ﻟﯿﺎ. ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ. ﺟﺐ ﻓﺮش ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ِﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﺳﺮ‬ ‫ﻟ‬ ‫ﮐﮯ اوﭘﺮ ُﮐﮍوں ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮﺗﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ دﯾﻮی ﻣﺎں ﮐﺎ ﭘ َﺳﺎد ﭘﺎ رﮨﺎ ﮨﻮں.‬ ‫ﺮ‬ ‫ﻣ‬ ‫ا‬ ‫ﭘﺮ ﯾہ وردان ﺑﺲ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ِﻠﺘﺎ ﮨﮯ. ﮨﺎں اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت ﻣﯿﮟ روز ﭘﯿﺘﺎ ﮨﻮں. ﭘﺮ ﻣﯿﺮے ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸہ ﺗﯿﺮا ُﻮت ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ِ ّﮭﺎ ﺗﮭﯽ. ُﻮ ﻣﺠﮭﮯ اﺗﻨﺎ ﭘﯿﺎرا ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﭘﺮ ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ, ﭼﺪاﺋﯽ ﺷﺮوع ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ دے, ﭘﮭﺮ‬ ‫ﺗ‬ ‫اﭼ‬ ‫ﭘﯿﺎ ﮐﺮ. اب ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ. ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﺎ, ﺗﯿﺮا ُﻮت ﭘﯿﻮں ﮔﺎ اور ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﺎ ُﻮت ﭘﯿﮯ ﮔﯽ. ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ُﭩﮭﯿﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﮔﺮم ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ, ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺎں ﮐﺎ ُﻮت ﭘﯿﻮں?‬ ‫ﻣ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﺮ اﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ. آج ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﺧﻮب ﺧﻮش ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ, وﮦ ﻣﺎن ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ. وﯾﺴﮯ ِﺲ ﻣﺎں ﮐﻮ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﮐ‬ ‫ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ اﭘﻨﺎ ُﻮت ِﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺰا ﻧﮩﯿﮟ آﺋﮯ ﮔﺎ! ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺗﻮ اس ﺗﺎک ﻣﯿﮟ ﮨﯽ رﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐہ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ اﮐﯿﻼ ِﻠﻮں اور‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣ ﭘ‬ ‫ﮐﺐ وﮦ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ُﻮت دے! اب ﭼﭗ ﮨﻮ ﺟﺎ. دوﻧﻮں آ رﮨﯽ ﮨﯿﮟ.‬ ‫ﻣ‬ ‫ﻣﺎں اور ﺟ ُﻤﺮی واﭘﺲ آﺋﮯ, ﺟ ُﻤﺮی ﻣﻨہ ﭘﻮﻧﭽﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور ﺧﻮش ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺑﮍی ﺗ ِﭘﺖ ﻟﮓ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور‬ ‫ﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ڈال ﮐﺮ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﭘﺎس ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﭼﻮم رﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻣﯿﺮے اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭼﮩﺮے ﮐﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﺑﮭﺎؤ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ دوﻧﻮں ﮨﻤﺎری اور دﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ. ﺟ ُﻤﺮی ﻧﮯ آﻧﮑﮫ ﻣﺎر ﮐﺮ ﮐﮩﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮش ﻟﮓ رﮨﺎ ﮨﮯ, ﮐﯿﺎ ﺑﺎت ﮨﮯ? ﮔﮭﻮ ُﻮ ﭼﭗ رﮨﺎ اور ﮨﻨﺴﺘﺎ رﮨﺎ. ﻣﺎں ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮍے ﻣﺪراﺳﯽ ﮐﯿﻠﮯ ﻟﮯ آﯾﺎ. ﺟ ُﻤﺮی ﮐﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں, اب ﺗﻢ ذرا اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﺳﯿﻮا ﮐﺮ ﻟﻮ, ﻣﯿﮟ ﻣّﮯ ﮐﻮ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﺎ ِﮑﮭﺎ دوں. ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ اﭼﮭﻞ ﭘﮍا اور ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺳﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻨ‬ ‫ِﭙﭧ ﮔﯿﺎ. وﮦ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮍے ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ُدھﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﻠﻨﮓ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ا‬ ‫ﻟ‬ ‫ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﺧﻮب ﭼﻮﻣﺎ ﭼﺎﭨﯽ ﮐﯽ, ﭘﮭﺮ وﮦ دوﻧﻮں اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﯽ ﭼﻮﺗﻮں ﻣﯿﮟ ﻣﻨہ ڈال ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯿﮟ. ان ﮐﺎ دھﯿﺎن‬ ‫ﮨﻤﺎرے ﺑﮭﯽ اور ﺗﮭﺎ, وﮦ ﺑﮍے ﻏﻮر ﺳﮯ دﯾﮑﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﺎ ِﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯿﻼ ﭼﮭﯿﻠﺘﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ﺑﯿﭩﮯ, اس ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮍی ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ, اﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ڈھﯿﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﻮ ﺑﺲ. اب دﯾﮑﮫ, ﯾہ دس اﻧﭽﯽ ﻣﺪراﺳﯽ ﮐﯿﻼ ﮨﮯ,‬ ‫اﺳﮯ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﻖ ﮐﺮ ﻟﮯ, ِﻨﺎ داﻧﺖ ﻟﮕﺎﺋﮯ, ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮا ﮐﯿﺎ, ﮔﮭﻮڑے ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﻧﮕﻞ ﻟﮯ ﮔﺎ ُﻮ. ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﺗ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﺎں ﻧﮯ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ِﮑﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﯾﺎد ﮨﮯ ﻧﺎ ا ّﺎں? ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺮ اﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮨﺎں ﺑﯿﭩﮯ, ﯾہ رﻧﮉی ﺗﻮ آدھﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ, ﻣّﺎ ﺑﮭﯽ اﺳﯽ ﭼﮍﯾﻞ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ, وﮦ ﺑﮭﯽ ﻓﭩﺎ ﻓﭧ ﺳﯿﮑﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‬ ‫ﻨ‬ ‫دﯾﮑﮭﻨﺎ.‬ ‫ﭼﻞ ﻣّﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل, ﻣﯿﮟ ﯾہ ﮐﯿﻼ ﺗﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں, ﻣﻨہ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ. ﻧﮕﻠﺘﮯ ﺟﺎﻧﺎ, ﺟﺘﻨﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ. ﺑﺲ داﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﺎ.‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮد ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻣﯿﺮے ﮐ ُﻠﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻼ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﺗﯿﻦ اﻧﭻ ﻣﻮﭨﺎ وﮦ ﭼﮑﻨﺎ ﮐﯿﻼ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺐ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭨ‬ ‫اﯾﮏ ِﮩﺎﺋﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ اور ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﻼ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ دے ﮐﺮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭘﮭﺮ ﭼﺎﻟﻮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.‬ ‫ﻟﮯ ﻟﮯ ﻣّﺎ, ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻟﮯ رﮨﺎ ﮨﮯ, ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﺰا آﺋﮯ ﮔﺎ, ُﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﮭﺒﺮاﺋﮯ ﮔﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ آدھﮯ ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﮐﯿﻼ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧﮕﻞ ﻟﯿﺎ. ﺳﺎت آﭨﮫ اﻧﭻ ﮐﯿﻼ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ اور آدھﺎ ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮا ﮔﻼ ﺑﺮاﺑﺮ ﺗﮭﻮک ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ‬ ‫ﮐﺮﺗﺎ اور اس ﺳﮯ وﮦ ﮐﯿﻼ اور اﻧﺪر ﮔ ُﺴﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ. آﺧﺮ ﭘﻮرا ﮐﯿﻼ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ, ﺻﺮف اﯾﮏ ﭼﮭﻮر ﺑﭽﺎ ﺟﻮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﭘﮑﮍ ﮐﺮ رﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﺷﺎﺑﺎش ﻣﯿﺮے ﺑ ّﮯ, ﻣﺎﻟﮑﻦ, ﻣﺎں, ﯾہ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺧﻮش ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮے ﮔﺎل ﭼﻮم ﮐﺮ ﮐﯿﻠﮯ ﮐﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭽ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮڑا اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.‬ ‫دﯾﮑﮫ ﻣّﺎ, ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﭼﻮدوں ﮔﺎ ﺗﻮ اﯾﺴﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ. ﮔﮭﺒﺮاﻧﺎ ﻣﺖ. اور وﮦ ﮐﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﺎں‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﻮ اب اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻧّﮭﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﭼﻮ ُو ﻧﻮﮐﺮ ﮐﺎ ﺗﮕﮍا ﻟﻮڑا ﮔ ُﺴﺘﮯ دﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪی ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫د‬ ‫ﻨ‬ ‫ﮐﻨﻮل ﺑﯿﭩﮯ, اب ﻧﮕﻞ ﻟﮯ رے ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻮڑا, آﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ دﯾﮑﮭﻮں ﮐہ اس ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﺎﻧ ُو ﺑﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ دم ﮨﮯ!‬ ‫ﮉ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ اب ﺗﮏ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﺲ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ, آدھﺎ ﮐﮭﮍا ﺗﮭﺎ, ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ اﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫‫اﯾﮏ دم ﺻﺤﯿﺢ ﮐﮭﮍا ﮨﮯ ﺑﯿﭩﮯ, ﻧﺮم ﺑﮭﯽ ﮨﮯ اور ﺗﮭﻮڑا ﮐﮭﮍا ﺑﮭﯽ ﮨﮯ, ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ. آ ﺟﺎ, ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎ ﻣﯿﺮے‬ ‫ﺳﺎﻣﻨﮯ. ﮐﮩہ ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮐﯿﻼ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ اﯾﮏ رﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ رﮐﮫ دﯾﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮕﮭﻮں ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. اس ﮐﺎ ﺳﭙﺎڑا ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺎر ﭼﻮﺳﺎ ﺗﮭﺎ اس ﻟﺌﮯ اس ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ. اب ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﺳﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ اﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ رﮐﮫ ﮐﺮ اﺳﮯ ﺳﮩﺎرا دﯾﺎ اور دوﺳﺮے ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻟﻨﮉ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﻟﻨﮉ آرام ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ دھﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ. ﮐﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ اور ﮔﻼ ﺑﮭﯽ ﭼﮑﻨﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ اس ﻟﺌﮯ آرام ﺳﮯ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﺗﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﻠﺪ ﮨﯽ آدھﮯ ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﺳﭙﺎڑا اب ﻣﯿﺮے ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﭼﻮڑا ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﺮا‬ ‫دم اب ﮐﭽﮫ ﮔ ُﭧ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﺳﮏ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﻟﻨﮉ اب اﻧﺪر ﺳﺮﮐﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﻟﻨﮉ ﭘﯿﻠﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ دﯾﺎ. ﻣﯿﺮے ﺑﺎل ﺳﮩﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﻣّﺎ, آج ﮐﺎﻓﯽ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ, اب ﺑﺲ ﮐﭽﮫ دﯾﺮ اﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ رﮦ, ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎل ﻟﻮں ﮔﺎ, ُﻮ ﺑﺲ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ڈھﯿﻼ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﭼﮭﻮڑ اور ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ رﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﻖ ﮐﺮ.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ رﮨﺎ. اب ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﮯ اس ﻣﺎﻧﺴﻞ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮐﮍے ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﺟﯽ ﮔﮭﺒﺮا رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﺰا ﺑﮭﯽ آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ رﺳﯿﻼ ﮔّﺎ ﮨﮯ. ﺟ ُﻤﺮی ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﻧﮑﺎل ﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ, اب آ اور اﭘﻨﯽ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر ﻟﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ.‬ ‫آﺗﺎ ﮨﻮں ﻣﺎں, ﻣّﮯ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﺗﻮ ﻧﮑﺎل ﻟﻮں. ﻣّﺎ, ُﻮ ﮔﻼ ڈھﯿﻼ ﭼﮭﻮڑ ﺑﯿﭩﮯ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮑﺎﻟﻮں ﮔﺎ ﮐﯿﺴﮯ? ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﻼ‬ ‫ﻨ ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺑﮭﺮﺳﮏ ڈھﯿﻼ ﮐﯿﺎ اور ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﮩﺎﺳہ ﮐﺲ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ دﺑﺎﺗﮯ‬ ‫ﮨﻮﺋﮯ اﭘﻨﮯ ﭼﻮﺗﮍوں ﮐﮯ اﯾﮏ زور دار دھ ّﮯ ﺳﮯ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﺟﮍ ﺗﮏ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﺗﺎر دﯾﺎ. ﻣﯿﺮے ﮨﻮﻧﭧ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭘﺮ آ ِﮑﮯ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮا دم ﮔ ُﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﺎ دوﺑﮭﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور ﮔﻼ اﭘﻨﮯ آپ ﮐﮭﻞ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﺮے ﭼﮭﭩﭙﭩﺎﻧﮯ ﮐﻮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻧﻈﺮ اﻧﺪاز ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﮐﺲ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﯿﭧ ﭘﺮ دﺑﺎﺋﮯ رﮐﮭﺎ اور آﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﺑﯿﺠﯿﻨﯽ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺟ ُﻤﺮی ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ.‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮐﯿﺴﺎ ُﱡﻮ ﺑﻨﺎﯾﺎ اﺳﮯ. ﻣّﺎ ﺳﻮچ رﮨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐہ ُﻮ ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎل رﮨﺎ ﮨﮯ. ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ.‬ ‫ﺗ‬ ‫ﻨ‬ ‫اﻟ‬ ‫ارے دﯾﮑﮫ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ! اﺳﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﻮ ﻟﯿﻨﮯ دے. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﺑﻮﻻ.‬ ‫ﭨ‬ ‫آپ ِﻨﺘﺎ ﻧہ ﮐﺮو ﻣﺎں ﺟﯽ. ﯾﺎد ﻧﮩﯿﮟ آپ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺟﺎ ﮐﺮ آپ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ. اﺑﮭﯽ دﯾﮑﮭﻮ‬ ‫ﭼ‬ ‫دو ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﻣّﺎ ﺷﺎﻧﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ اور ﭘﮭﺮ ﭘﯿﺎر ﺳﮯ ﭼﻮﺳﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮا ﻟﻮڑا.‬ ‫ﻨ‬ ‫اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﺳﺮ ﮐﺲ ﮐﺮ دﺑﺎﺋﮯ رﮐﮭﺎ اور ِﻨﺎ ِﺴﯽ َﯾﺎ ﮐﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮدﺗﺎ رﮨﺎ. آﺧﺮ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ اﭘﻨﮯ آپ ﭘﮭﯿﻞ ﮐﺮ اس ﮐﮯ‬ ‫ﺑ ﮐ د‬ ‫ﻣﻮﭨﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ارد ﮔﺮد ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﺮے ﺗﮭﻮک ﮐﯽ وﺟہ ﺳﮯ ﮔﻼ اﯾﮏ دم ﭼﮑﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ. اس ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭘﮭﺴﻞ رﮨﺎ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﺗﮭﺎ. ﺳﭙﺎڑا ِﺴﯽ ﭨ ُﺴﻨﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﺮی ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮩﺮا ﮔ ُﺲ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﻠﯽ ﮐﻮ ﭼﻮڑا ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ.‬ ‫&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
‫اس ﻣﻮﭨﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻣﯿﮟ اب ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ اﺑﮭﯽ اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ِرﯾہ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﭘﯽ‬ ‫و‬ ‫ﺟﺎؤں. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ ﮐﭽﮫ اور ﭼﻮدا اور ﭘﮭﺮ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﺟﮭّﺎﯾﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ دﯾﻮاﻧہ ﮨﻮ ُﮑﺎ ﺗﮭﺎ,‬ ‫ﭼ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻠ‬ ‫ﭨ‬ ‫اس ﮐﺎ رس ﭘﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﭘﺮ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.‬ ‫ﭨ‬ ‫اب ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﯽ ﮨﮯ راﺟہ. آج ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘ َن ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐہ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﯽ رات ﺑﮭﺮ ﻣﺎروں ﮔﺎ. ﻟﻨﮉ ﮐﮩﺎں ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ رے,‬ ‫ﺮ‬ ‫ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮭﺮ ُﺴﺎ دوں ﮔﺎ. اب ﺗﻮ ُﻮ ﻟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ. اﯾﮏ اور ﻃﺮﯾﻘہ ﮨﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ, ﺑﮍا ﻣﺰے دار اور ﮨﻮﻟﮯ ﮨﻮﻟﮯ, اس ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺗ‬ ‫ﭼ‬ ‫زﯾﺎدﮦ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ, وﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ِﮑﮭﺎ دوں ﮔﺎ.‬ ‫ﺳ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﮐﺮ ﮔﮭﻮُﻮ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ڈھﯿﺮ ﺳﺎ ﻣ ّﮭﻦ ﻟﮕﺎﯾﺎ اور ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟ ُﻤﺮی‬ ‫ﮭ‬ ‫ﮑ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭘﺮ ُﻮٹ ﭘﮍا. اس رات ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﯾﺎ. ﺑﺲ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﺑﯿﭩﮯ ان ﭼﮍﯾﻞ ﻣﺎﺗﺎؤں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮدﺗﮯ رﮨﮯ. ﮔﮭﻮ ُﻮ ﻧﮯ ﺗﻮ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺧﺮاب ﮐﺮ دی. رات ﺑﮭﺮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻻ. ﻣﺎں ﮐﻮ دﺑﻮچ ﮐﺮ اس ﭘﺮ ﺷﮑﺎری ﺟﯿﺴﺎ ﭼﮍھﺎ رﮨﺎ.‬ ‫ﮨﭽﮏ ﮨﭽﮏ ﮐﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﺎ, ﺟﮭﮍﺗﺎ اور آرام ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ, ِﻨﺎ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻟﮯ. ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﭘﮭﺮ ُﺖ ﺟﺎﺗﺎ.‬ ‫ﺟ‬ ‫ﺑ‬ ‫ﻣﺎں اب ادھ ﻣﺮی ﺳﯽ ﭘﺴﺖ ﭘﮍی ﮨﻮﺋﯽ ﭼﭗ ﭼﺎپ ﻣﺮا رﮨﯽ ﺗﮭﯽ.‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟ ُﻤﺮی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﺎری ﭘﺮ اس ﮐﮯ ﺑﻌﺪ وﮦ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﯽ اور رات ﺑﮭﺮ‬ ‫ﮭ‬ ‫ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ُﺴﻮاﺗﯽ رﮨﯽ.‬ ‫ﭼ‬ ‫ﺗﯿﺮا ﯾہ ﮐﻤﺴﻦ ﻣﻨہ ﮨﮯ ﮨﯽ اﺗﻨﺎ ﮐﻮﻣﻞ اور ﭘﯿﺎرا ﮨﮯ ﮐہ ﭼﻮدﻧﮯ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ راﺟہ. ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ اﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸہ ﭼﻮدا ﮐﺮﯾﮟ‬ ‫ﮔﮯ ﻣّﺎ, ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﮨﻤﺎرا .‬ ‫ﻨ‬ ‫ﺻﺒﺢ اﯾﮏ ﺑﺎر ﭘﮭﺮ اس ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﻮدﻧﮯ دی. ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺟﯿﺒﮫ ﺳﮯ ﺻﺎف ﮐﯽ اور‬ ‫اس ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ِرﯾہ ﭼﻮﺳﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺎل ِﻼ, ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ آدھﯽ ﮐﭩﻮری ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﮭﻮ ُﻮ ﮐﺎ ِرﯾہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫و‬ ‫ﭨ‬ ‫ﻣ‬ ‫و‬ ‫ﭼﻮﺳﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ.‬&lt;span style=&quot;color: #ff6666; font-size: 30px;&quot;&gt;&lt;br /&gt;
ختم شد&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style=&quot;background-color: white; color: #504945; font-family: Tahoma, &#39;century gothic&#39;, Arial, verdana, sans-serif; font-size: 13px; line-height: 20px; margin-bottom: 5px; margin-left: 5px; margin-right: 5px; margin-top: 5px; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; text-align: -webkit-auto;&quot;&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;EMail&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;PkMasti@aol.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt; &lt;br /&gt;
&lt;blockquote class=&quot;tr_bq&quot;&gt;&lt;b&gt;&lt;span style=&quot;font-family: Verdana, sans-serif; font-size: large;&quot;&gt;&lt;span style=&quot;color: red;&quot;&gt;Yahoo&lt;/span&gt;&lt;/span&gt; : &lt;span style=&quot;color: blue;&quot;&gt;Jan3y.J4na@yahoo.com&lt;/span&gt;&lt;/b&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://desi-urdu.blogspot.com/feeds/3246612502289358817/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/5.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/3246612502289358817'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/879344751561120124/posts/default/3246612502289358817'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://desi-urdu.blogspot.com/2012/01/5.html' title='ﻣﺎں ﺑﯿﭩﮯ اور ﻧﻮﮐﺮاﻧﯽ 5‬'/><author><name>Anonymous</name><uri>http://www.blogger.com/profile/00033835160322478955</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='https://img1.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry></feed>