<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Jahazi Media – Latest News, Articles &amp; Insights</title>
	<atom:link href="https://jahazimedia.com/?feed=rss2" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://jahazimedia.com</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 07:12:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9.4</generator>

<image>
	<url>https://jahazimedia.com/wp-content/uploads/2025/10/favicon-75x75.png</url>
	<title>Jahazi Media – Latest News, Articles &amp; Insights</title>
	<link>https://jahazimedia.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1343</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1343#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 12 Jun 2026 07:12:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامیات]]></category>
		<category><![CDATA[ﷺ]]></category>
		<category><![CDATA[صلی اللہ علیہ وسلم]]></category>
		<category><![CDATA[محمد ﷺ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد یاسین جہازی]]></category>
		<category><![CDATA[مدینہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1343</guid>

					<description><![CDATA[رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ محمد یاسین جہازی رحلت نبوی ﷺ کے اشاراتجب&#160;سورۂ فتح نازل ہوئی،&#160;تو اس میں فتح و نصرت کے ساتھ ایک لطیف اشارہ بھی مضمر تھا کہ اب دین کی تکمیل کا مرحلہ آیا ہی چاہتا&#160;&#160;ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک یہی وہ زمانہ تھا جب حضور اکرم ﷺ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ</u></strong></p>



<p>محمد یاسین جہازی</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ کے اشارات</u></strong><br>جب&nbsp;سورۂ فتح نازل ہوئی،&nbsp;تو اس میں فتح و نصرت کے ساتھ ایک لطیف اشارہ بھی مضمر تھا کہ اب دین کی تکمیل کا مرحلہ آیا ہی چاہتا&nbsp;&nbsp;ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک یہی وہ زمانہ تھا جب حضور اکرم ﷺ نے محسوس فرمایا کہ آپ کی بعثت کا مقصد پایۂ تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور اب رحلت کا وقت قریب ہے۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سے 107 دن پہلے: 22؍فروری632ء، سنیچر</u></strong></p>



<h3 class="wp-block-heading">یہی وجہ ہے کہ سن 10 ہجری ، مطابق 632 ء میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کا اراد فرمایا۔&nbsp;&nbsp;حجۃ الوداع کایہ مبارک سفر&nbsp;&nbsp;27؍ دن میں مکمل ہوا۔آپ ﷺ 25؍ ذی قعدہ 10 ھ، مطابق 22؍فروری632ء&nbsp;&nbsp;سنیچر کے دن مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔اور آٹھویں دن4؍ ذی الحجہ10ھ، مطابق&nbsp;&nbsp;یکم مارچ 632ء&nbsp;&nbsp;بروز اتوار مکہ مکرمہ پہنچے۔ اور اسی دن عمرہ ادا فرمایا۔ پھر یکم تا11؍مارچ 632ء حج و عمرہ کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ فراغت کے بعد،14؍ ذی الحجہ 10 ھ، مطابق&nbsp;&nbsp;11؍مارچ 632ء بروز بدھ ، مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے اور دسویں دن23؍ ذی الحجہ 10 ھ، مطابق 20؍مارچ 632ء، بروز جمعہ علی الصباح مدینہ منورہواپس تشریف لائے۔&nbsp;</h3>



<p>آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر&nbsp;&nbsp;9 ؍ذوالحجہ 10 ہجری، مطابق &nbsp;6؍مارچ 632ء&nbsp;بروز جمعہ میدانِ عرفات کے تاریخی خطبہ میں حمد و صلاۃ کے بعد سب سے پہلے نہایت درد بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا:<br>&quot;اے لوگو! غالب گمان ہے کہ اس سال کے بعد میں تم سے اس مقام پر دوبارہ نہ مل سکوں گا۔&#8221;<br>یہ الفاظ دراصل امت کے لیے الوداعی پیغام تھے۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سے 80 دن پہلے:&nbsp;</u></strong><strong><u>23</u></strong><strong><u>؍ذی الحجہ 10ھ، مطابق 20؍مارچ 632ء&nbsp;&nbsp;، جمعہ</u></strong></p>



<p>جب سرور کائنات ﷺ حج و عمرہ سے فراغت کے بعد&nbsp;23؍ذی الحجہ 10ھ، مطابق 20؍مارچ 632ء&nbsp;&nbsp;جمعہ کے دن مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے، تو اس کے بعد آپ ﷺ میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق روز بروز بڑھتا گیا۔ عبادت، تسبیح، تحمید اور ذکر و اذکار میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔<br>ایک موقع پر آپ ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:<br>&quot;بیٹی! مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اب میری رحلت کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔&#8221;<br>انھی ایام میں آپ ﷺ کو شہدائے اُحد کی یاد آئی، چنانچہ آپ ان کی قبور پر تشریف لے گئے&nbsp;&nbsp;اور نہایت رقت آمیز انداز میں ان کے لیے دعا فرمائی، گویا یہ آخری ملاقات ہو۔<br>اسی طرح ایک رات آپ ﷺ جنت البقیع (مدینہ منورہ کا قبرستان) تشریف لے گئے اور وہاں مدفون اہلِ قبور کے لیے دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا:<br>&quot;إِنَّا بِكُمْ لَلَاحِقُونَ&#8221;(ہم بھی جلد تم سے آ ملنے والے ہیں)<br>یہ تمام واقعات دراصل آپ ﷺ کی طرف سے اپنی رحلت کے واضح اشارات تھے۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سے 12 دن پہلے:مرض الوفات کی ابتدا: یکم ربیع الال سن 11 ہجری مطابق 27؍مئی632ء&nbsp;&nbsp;بدھ</u></strong></p>



<p>رسول اکرم ﷺ کی آخری بیماری کا آغاز&nbsp;&nbsp;یکم ربیع الال سن 11 ہجری مطابق 27؍مئی632ء&nbsp;&nbsp;بدھ کے دن ہوا۔ اس دن آپ ﷺ ایک جنازہ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستے ہی میں سر درد کی شدت محسوس ہوئی، جو آگے چل کر مرضِ وفات ثابت ہوا۔<br>حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک پر کپڑا بندھا ہوا تھا اور بخار اس قدر شدید تھا کہ ہاتھ رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔<br>مرض بڑھتا گیا تو ازواجِ مطہراتؓ نے آپ ﷺ کی اجازت سے آپ کا قیام مستقل طور پر حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں کر دیا۔<br>کمزوری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ آپ ﷺ خود چل کر حجرہ تک نہ جا سکے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فضل بن عباسؓ نے آپ کے بازو تھام کر سہارا دیا اور بڑی مشقت سے حجرہ تک پہنچایا۔<br>حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے دعا پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ نے خود دعا پڑھنے کو ترجیح دی اور فرمایا:<br>&quot;اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى&#8221;(اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیقِ اعلیٰ کے ساتھ ملا دے)</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سے چار روز پہلے: 4؍جون 632ء، مطابق 9؍ ربیع الاول 11 ھ، جمعرات</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>وفات اقدس ﷺکے چار روز پہلے، 4؍جون 632ء، مطابق 9؍ ربیع الاول 11 ھ، جمعرات کے دن پتھر کے ایک ٹب میں بیٹھ گئے اور سر اقدس پر پانی کی سات مشکیں ڈالوائیں ۔ جس سے مزاج اقدس میں تھوڑی خنکی اور تسکین ہوئی تو مسجد نبوی تشریف لے گئے اور ایک مختصر تقریر فرمائی، جس میں آپ نے یہود و نصاریٰ کی طرح انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا و ما فیہا کو قبول کرے یا آخرت کو ترجیح دے، مگر اس نے آخرت کو قبول کیا۔ یہ سن کر رمز شناس نبوت حضرت ابو بکر صدیق ؓ زاروقطار رونے لگے، جس پر حاضرین نے انھیں تعجب سے دیکھتے ہوئے کہا کہ سرکار ایک شخص کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ حضرت ابوبکر کی یہ حالت دیکھ کرخیال اشرف سے ارشاد ہوا کہ میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں کسی شخص کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کرتا تو وہ ابوبکر ہوتے، لیکن اب رشتہ اسلام میرے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مسجد کے رخ پر سوائے دریچہ ابوبکر کے سب کو بند کرنے کا حکم دیا۔علالت نبوی پر انصار کو روتے ہوئے دیکھا تو انصار کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرنے کی وصیت فرمائی۔پھر حضرت اسامہ بن زید کو شام پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ حلال وحرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا میں نے وہی چیز حلال یا حرام کیا ہے جسے قرآن اور خدا نے حلال یا حرام قرار دیا ہے۔پھر اپنے اہل بیت کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ائے رسول کی بیٹی فاطمہ اور ائے پیغمبر خدا کی پھوپھی صفیہ ! خدا کے ہاں کے لیے کچھ کرلو میں تمھیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتا ۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سے تین روز پہلے: 10؍ ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، بروز جمعہ</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>10؍ ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، بروز جمعہ حضرت عائشہؓ سے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد ابوبکر اور بھائی عبدالرحمان کو بلا لیجیے اور دوات کاغذ لے آئیے میں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوں گے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے سرور کائنات کی شدت مرض کو دیکھ کر یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی حالت میں تکلیف دینا مناسب نہیں ہے ،اب تکمیل دین کا کوئی ایسا نکتہ باقی نہیں رہا جس میں قرآن کافی نہ ہو۔ بعض دوسرے صحابہ نے اس رائے سے اتفاق نہ کیا اور شور شرابہ ہونے لگا جس پرحضور نے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو ، میں جس مقام میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو۔پھر تین وصیتیں فرمائیں کہ کوئی مشرک عرب میں نہ رہے،سفیروں اور وفود کی بدستور عزت و مہمانی کی جائے اور تیسری قرآن کے بارے میں کچھ تھا جو راوی کو یاد نہ رہا۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سے تین روز پہلے: 10؍ ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، جمعہ بعد نماز مغرب</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>10؍ ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5؍جون 632ء ، جمعہ کے دن مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر غنودگی طاری ہوگئی ۔ عشا کے وقت آنکھ کھلی تو دریافت فرمایا کہ کیا نماز ہوچکی؟صحابہ نے عرض کیا کہ سب لوگ حضور ﷺ کے منتظر ہیں۔ لگن میں پانی بھرواکر غسل فرمایا اور ہمت کرکے اٹھے مگر غش آگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آنکھ کھلی تو ارشاد فرمایا کہ کیا نماز ہوچکی ہے ؟ صحابہ نے وہی جواب دیا کہ لوگ سرور کونین کی امامت کے منتظر ہیں۔اس مرتبہ اٹھنے کی کوشش کی مگر بے ہوش ہوگئے۔ جب تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا گیا اور اٹھنے پر غشی آگئی ، تو افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا کہ ابوبکر نماز پڑھادیں۔حضرت ابوبکر بہت رقیق القلب تھے، اس لیے انھوں نے حضرت عمرؓ کو آگے بڑھادیا ۔ مگر حضور نے تین مرتبہ منع فرمایا اور فرمایا کہ نماز ابوبکر ہی پڑھائیں۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حیات نبوی میں سترہ نمازیں پڑھائیں۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سےدوروز پہلے: 11؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 6؍جون 632ء،بروز سنیچر</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>11؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 6؍جون 632ء،بروز سنیچر حضرت صدیقؓ ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ سرور کائنات حضرات علی وعباسؓ کے سہارے مسجد تشریف لائے ۔ نمازی نہایت بے قراری سے حضور ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت صدیق بھی مصلیٰ سے پیچھے ہٹے ، مگر حضور نے دست اقدس سے اشارہ کیا کہ پیچھے مت ہٹو ، پھر حضور ، حضرت صدیق کے برابر بیٹھ گئے ، اب حضرت صدیق سرکار کی اقتدا کررہے تھے اور مسلمان صدیق اکبر کی اقتدا میں تھے۔ یہ پاک نماز اسی طرح مکمل ہوئی ۔ بعد ازاں حضور حجرہ حضرت عائشہ میں تشریف لے آئے۔</p>



<p><strong><u>رحلت نبوی ﷺ سےایک روز پہلے: 12؍ربیع الاول 11 ھ، مطابق 7؍جون 632ء،اتوار</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>12؍ربیع الاول 11 ھ، مطابق 7؍جون 632ء،اتوار کے دن صبح بیدار ہوئے، تو پہلا کام یہ کیا کہ سب غلاموں کو آزاد کردیا جو 40 کی تعداد میں تھے۔ پھر اثاث البیت کا جائزہ لیا تو صرف 7 دینار تھے، جنھیں غریبوں میں تقسیم کرادیایہاں تک کہ آخری رات کو کاشانہ نبوی میں چراغ جلانے کے لیے تیل تک موجود نہیں تھا۔ گھر میں کچھ ہتھیار تھے ، انھیں مسلمانوں کو ہبہ کردیا گیا ۔کمزوری لمحہ لمحہ بڑھ رہی تھی، حتی کہ غشی آگئی جس پر دردمندوں نے آپ کو دوا پلادی، افاقہ کے بعد جب احساس ہوا تو فرمایا اب یہی دوا ان پلانے والوں کو پلائی جائے، کیوں کہ دیدار خداوندی کا اشتیاق اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اب اس میں نہ دعا کی گنجائش تھی اور نہ ہی دوا کی۔</p>



<p><strong><u>یوم رحلت: 13؍ ربیع الاول11 ھ، مطابق 8؍جون 632ء، بروز سوموار</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>13؍ ربیع الاول11 ھ، مطابق 8؍جون 632ء، بروز سوموار مزاج اقدس میں کسی قدر سکون تھا ۔نماز فجر ادا کی جارہی تھی کہ سرورکائنات ﷺ&nbsp;&nbsp;نے مسجد اور کمرہ کا درمیانی پردہ سرکادیا، چشم اقدس نے دیکھا کہ لوگ رکوع و سجود میں مصروف ہیں، اس پاک منظر کو دیکھ کر جوش مسرت سے ہنس پڑے۔ لوگوں کو خیال ہوا کہ آں حضور مسجد میں تشریف لارہے ہیں ، نمازی بے اختیار ہونے لگے اور نمازیں ٹوٹنے لگیں۔ حضرت صدیق امامت کررہے تھے وہ پیچھے ہٹنے لگے، مگر حضورﷺ نے اشارہ اقدس سے سب کو تسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھلاکر پھر کمرے کا پردہ ڈال دیا۔ طبیعت کا حال یہ تھا کہ غشی کے ایک بادل آتے تھے اور جاتے تھے ۔ ان تکلیفوں کو دیکھ حضرت فاطمہ رونے لگیں ۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ بیٹی مت رو۔میں دنیا سے رخصت ہوجاوں تو انا للہ و انا الیہ راجعون کہنا ۔ پھر آپ نے ان کے کان میں کہا کہ بیٹی میں اس دنیا کو چھوڑ کر جارہا ہوں ، جس پر حضرت فاطمہ بے اختیار رونے لگیں۔ پھر فرمایا کہ فاطمہ!میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگی، جس پر فاطمہؓ بے اختیار ہنس دیں۔حضرت حسن و حسین بہت غمگین ہورہے تھے انھیں پاس بلایا ، دونوں کو چوما اور ان کے احترام کی وصیت فرمائی ۔ پھر ازواج مطہرات کو طلب فرمایا اور انھیں بھی نصیحتیں کیں۔ پھر حضرت علی کو بلوایا اور انھیں بھی نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ الصلاۃ الصلاۃ و ما ملکت ایمانکم، نماز، نماز اور غلام باندی۔رفتہ رفتہ حالت نازک ہوتی جارہی تھی کہ زبان اقدس سے ارشاد ہوا کہ لاالٰہ الا اللہ ان للموت سکرات۔کبھی ارشاد ہو تا کہ اللھم بالرفیق الاعلیٰ۔ آپ کبھی چادر اقدس چہرے پر ڈالتے تھے اور کبھی ہٹا دیتے تھے کہ دفعۃ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہود نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، ان لوگوں نے اپنے انبیاء اور ولیوں کی قبروں کو سجد گاہ بنالیا ۔ اسی دوران حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر ایک تازہ مسواک لے کر آئے ، جسے دیکھ کر حضور نے مسواک پر نظر جمادی ، جس سے حضرت صدیقہ نے اشارہ سمجھ لیا اور دانتوں میں نرم کرکے مسواک پیش کی ۔ آپ نے بالکل تندرست کی طرح مسواک فرمایا ۔ پھریک لخت ہاتھ اونچا کیا گویا کہ کہیں تشریف لے جائیں گے اور زبان اقدس سے نکلا کہ بل الرفیق الاعلیٰ ۔ اب اور کوئی نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلیٰ ۔ بل الرفیق الاعلیٰ ۔ تیسری آواز پر ہاتھ لٹک آئے ، پتلی اوپر کو اٹھ گئی اور روح شریف عالم قدس کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون</p>



<p>یہ ربیع الاول کی 13؍ تاریخ سوموار کا دن اور چاشت کا وقت تھا عمر مبارک قمری تاریخ کے اعتبار سے 63؍ سال ہوئی ۔</p>



<p><strong><u>تجہیز و تکفین: 14؍ربیع الاول 11 ھ، مطابق 9؍جون 632ء منگل</u></strong><strong><u></u></strong></p>



<p>14؍ربیع الاول 11 ھ، مطابق 9؍جون 632ء منگل کے دن&nbsp;&nbsp;تجہیز و تکفین کا کام شروع ہوا۔فضل بن عباس اور اسامہ بن زید&nbsp;&nbsp;رضی اللہ عنہما پردہ تان کر کھڑے ہوئے۔ اوس بن خولی انصاریؓ پانی کا گھڑا بھر کر لائے ۔ حضرت عباس اور ان کے صاحب زدے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اورحضرت اسامہ ؓ اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور حضرت علیؓ غسل دے رہے تھے۔تین سوتی کپڑوں کا کفن دیا گیا ۔ حضرت صدیق اکبر کی رائے کے مطابق حجرہ عائشہ میں قبر کھودی گئی۔ حضرت طلحہ نے لحدی قبر کھودی ۔ زمین میں نمی تھی اس لیے بستر نبوی کو قبر میں بچھا دیا گیا ۔ جب جنازہ تیار ہوگیا تو اہل ایمان نماز کے لیے ٹوٹ پڑے اور سب نے الگ الگ نماز پڑھی۔ جنازہ چوں کہ کمرے میں تھا اس لیے نماز کا سلسلہ تقریبا 23؍ گھنٹہ جاری رہا۔</p>



<p><strong><u>تدفین: 15؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 10؍جون 632ء&nbsp;&nbsp;بروز بدھ رات</u></strong></p>



<p>&nbsp;اس لیے تدفین15؍ربیع الاول 11ھ، مطابق 10؍جون 632ء&nbsp;&nbsp;بروز بدھ رات کو عمل میں آئی ۔ جسم اطہر کو حضرات علی، فضل بن عباس، اسامہ بن زید اور عبدالرحمان بن عوف&nbsp;&nbsp;رضی اللہ عنھم نے قبر میں اتارا اور اس باعث کون و مکاں ہستی کو ہمیشہ کے لیے اہل دنیا کی نگاہ سے اوجھل کردیا گیا ۔</p>



<p><strong><u>بارہ وفات کی حقیقت</u></strong></p>



<p><strong>12</strong>؍ربیع الاول عوام میں ’’بارہ وفات‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن قمری کلینڈر سے ثابت ہوتا ہے کہ 12 ؍ربیع الاول کو نبی اکرم ﷺ کی وفات کی تاریخ قرار دینا تاریخی غلطی ہے۔ کیوں کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے&nbsp;&nbsp;کہ وفات کا دن سوموار کا تھا۔ (صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945)۔ اور یہ بھی قطعی الثبوت ہے کہ وفات سےتقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔</p>



<p>&nbsp;9؍ذی الحجہ 10ھ روز جمعہ سے 12؍ربیع الاول تک&nbsp;&nbsp;کا حساب لگا یاجائے، تو ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30، یا کچھ کو 29 اور کچھ کو&nbsp;&nbsp;30 تسلیم کریں، توکسی بھی شکل میں ؍12ربیع الاول کو سوموار کا دن نہیں پڑتا۔ تینوں مہینوں کو 29 یا 30 مان کر کلینڈر بنایا جائے، تو اس کی 8 شکلیں بنتی ہیں۔</p>



<p><strong>1.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 30 کے ہوں۔اس شکل میں 12؍ ربیع الاول اتوار کے دن پڑتا ہے۔</strong><strong></strong></p>



<p><strong>2.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 29 کے ہوں۔اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعرات کے دن پڑتا ہے۔</strong></p>



<p>3.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;<strong>ذی الحجہ 30 ، محرم اور صفر 29 کے ہوں۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعہ کو پڑتا ہے۔</strong></p>



<p><strong>4.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ 29 کا اور محرم و صفر 30کے ہوں۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول سنیچر کو پڑتا ہے۔</strong><strong></strong></p>



<p><strong>5.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ 29 کا ، محرم 30 کا اور صفر 29 کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعہ کو پڑتا ہے۔</strong></p>



<p><strong>6.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ 30 کا ، محرم 29 کا، اور صفر30 کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول سنیچر کو پڑتا ہے۔</strong></p>



<p><strong>7.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ 30، محرم 30 اور صفر 29 کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول سنیچر کو پڑتا ہے۔</strong></p>



<p><strong>8.&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</strong><strong>ذی الحجہ 29 کا، محرم 29 کا اور صفر 30 کا ہو۔ اس شکل میں 12؍ ربیع الاول جمعہ کو پڑتا ہے۔</strong></p>



<p><strong><u>پھر حقیقی تاریخ کیا ہے؟</u></strong></p>



<p>ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن لکھتے ہیں کہ:</p>



<p>26؍&nbsp;جنوری 632ءکی شام کو مکہ مکرمہ کے افق پر پونے سات ڈگری (6:44) ڈگری چاند اونچا تھا ، عام حالات میں ؍9 ڈگری پر چاند نظر آتا ہے ،لیکن پونے سات ڈگری پر دور بین سے نظر آنا ممکن ہے اہل فلکیات ایسا کہتے ہیں ، اس لیے جب9؍ذی الحجہ10ھ&nbsp;&nbsp;کو جمعہ کا دن مانیں، تو یہ کہنا پڑے گا کہ26؍ جنوری632ء&nbsp;&nbsp;کی شام کو حضوراکرم ﷺ نے چاند دیکھا اور 27؍ جنوری 632ء کو ذی الحجہ10 ھ کی پہلی تاریخ ہوئی ۔ اور جمعہ کے دن 9؍ ذی الحجہ 10ھ ہوئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص؍337)</p>



<p>حضرت ماہر فلکیات اسی کلینڈر میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:</p>



<p>حضور ﷺ کے وصال کی تاریخ:<br>عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا &#8230;&#8230; وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : يَوْمَ الاثنين ( بخاری شریف ، باب موت یوم الاثنین ، نمبر 1387)<br>اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی وفات پیر کے دن ہوئی ہے۔<br>سیرت ابن اسحاق ، یا سیرہ ابن ہشام میں 12؍ربیع الاول کا تعین نہیں ہے، البتہ دلائل النبوہ ،بیہقی وغیرہ میں ہے۔<br>&nbsp;عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وَسَلَّم لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرٍ ربيع الأول (دلائل النبوة للبیہقی ، باب ماجاء فی الوقت واليوم والشهر ، جلد7ص؍235)<br>لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَت ، کا ترجمہ 12؍&nbsp;&nbsp;رات اور 12؍دن دونوں گزر گئے، تو13؍ ربیع الاول کو وفات ہوئی ہے، اور اس دن پیر کا دن ہے، کیوں کہ 12؍ربیع الاول کو ہر حال میں اتوار کا دن ہے، جو حدیث کے خلاف ہوگا۔<br>حضور ﷺکا وصال 13؍ ربیع الاول 11ھ، مطابق8؍ جون 632ء بروز پیر کو ہونی چاہیے۔ (341)</p>



<p>اور یہ شکل نمبر (1) پر منطبق ہوتا ہے، جس میں&nbsp;<strong>ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 30 کے&nbsp;&nbsp;فرض کیا گیا ہے۔ ماہر فلکیات نے چاند کی ڈگریوں کے حوالے سے ، اسی شکل کی رویت کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ دیکھیے: ثمیری کلینڈرازصفحات 337تا 341 )</strong></p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1343</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1340</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1340#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2026 13:48:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1340</guid>

					<description><![CDATA[جمنی کولہ، 10 جون (نمائندہ):جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں بیداری پروگرام‘‘ کے سلسلے میں بدھ کے روز جمنی کولہ میں ایک اہم مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں مقامی ذمہ داران اور معززینِ علاقہ نے شرکت کی۔اس موقع پر جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے صدر مفتی محمد نظام [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p></p>



<p> جمنی کولہ، 10 جون (نمائندہ):جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں بیداری پروگرام‘‘ کے سلسلے میں بدھ کے روز جمنی کولہ میں ایک اہم مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں مقامی ذمہ داران اور معززینِ علاقہ نے شرکت کی۔اس موقع پر جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے صدر مفتی محمد نظام الدین قاسمی اور ناظمِ اعلیٰ مفتی زاہد امان قاسمی جمنی کولہ پہنچے اور جامع مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے مختصر خطاب کرتے ہوئے نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایمان و عقائد کی حفاظت اور دینی شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی مقصد کے تحت علماء کرام مختلف بستیوں کا دورہ کرکے عوام تک دینی تعلیمات اور رہنمائی پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کا مقصد دین کی صحیح بات کو ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچانا ہے۔بعد ازاں مقامی ذمہ داران کے ساتھ گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے انعقاد کے سلسلے میں تفصیلی مشاورت ہوئی، جس میں متفقہ طور پر 16 جون 2026 بروز منگل کو جمنی کولہ میں پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر پروگرام کے اغراض و مقاصد اور طریقۂ کار پر بھی گفتگو کی گئی۔نشست کے بعد وفد نے مقامی مکتب کا جائزہ لیا، جہاں مولانا مشتاق صاحب قاسمی بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ مفتی محمد نظام الدین قاسمی اور مفتی زاہد امان قاسمی نے طلبہ و طالبات سے مختلف اسباق سنے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ مفتی زاہد امان قاسمی نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ اساتذہ کی رہنمائی پر عمل کرنے کی تلقین کی۔بعد ازاں مقامی ذمہ داران کے ساتھ آئندہ پروگراموں کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ماسٹر طارق صاحب، ماسٹر محمد مظفر صاحب، ماسٹر سجاد حیدر صاحب، جناب نظام الدین صاحب اور دیگر معززینِ علاقہ موجود تھے۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کی جانب سے مختلف دیہات میں ’’گاؤں گاؤں بیداری پروگرام‘‘ کے تحت دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور تحفظِ ایمان و عقائد کے موضوعات پر عوامی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1340</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1336</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1336#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Jun 2026 04:39:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1336</guid>

					<description><![CDATA[جنود ربانی یعنی لشکر نجات مسلم سالویشن آرمی یا مکتی فوج انڈیا آفس لندن کے ریکارڈ سے ماخوذ ریشمی رومال تحریک کو زمین پر اتارنے کے لیے جنود ربانیہ بنائی گئی تھی۔ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مکتوب میں اس کا مقصد اور عہدے داران کی تفصیلات تحریر فرمائی تھی، جو [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><em>جنود ربانی یعنی لشکر نجات مسلم سالویشن آرمی یا مکتی فوج</em></p>



<p><em>انڈیا آفس لندن کے ریکارڈ سے ماخوذ</em></p>



<p>ریشمی رومال تحریک کو زمین پر اتارنے کے لیے جنود ربانیہ بنائی گئی تھی۔ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مکتوب میں اس کا مقصد اور عہدے داران کی تفصیلات تحریر فرمائی تھی، جو انڈیا آفس لندن میں موجود ہے، اس کا مضمون درج ذیل ہے:</p>



<p>مقصد: اتحاد دول اسلامی<br>مرکزِ اصلی صدر: مدینہ طیبہ</p>



<p>مقامِ جنرل:…….<br>مرکزِ ثانوی صدر: قسطنطنیہ</p>



<p>مقامِ قائم مقامِ جنرل: تہران. کابل.<br>مرکز درجہ سوم صدر: جو دولِ اسلامیہ کفر کے زیرِ اثر ہوں<br>مقامِ لیفٹیننٹ جنرل۔۔۔۔</p>



<p>مناصب 10 قسم کے ہیں:</p>



<p>(1) مربی (پیٹرن)<br>(2) مردِ میدان (فیلڈ مارشل)<br>(3) سالار (جنرل) مہتہ: جو نائب سالار کسی مرکزِ ثانوی میں ہو اس کو قائم مقام سالار کہیں گے۔<br>یہ سرپرستان الجنود الربانیہ ہیں<br>(4) قائم مقام سالار۔ و نائب سالار (لیفٹنٹ جنرل)<br>(5) معین سالار۔ (میجر جنرل)<br>(6) ضابطہ (کرنل)<br>(7) نائب ضابطہ (لیفٹنٹ کرنل)<br>(8) در شہر صد باشی (میجر)<br>(9) صد باشی (کپتان)<br>(10) پنجاہ باشی (لیفٹیننٹ)</p>



<p>تعداد ماتحتان مشاہرہ<br>افسرِ کل الربانیہ:<br>100 پونڈ<br>12 ہزار : 50 پونڈ، 40 پونڈ۔<br>3 ہزار : 40 پونڈ<br>ایک ہزار: 10 پونڈ<br>500: 5 پونڈ<br>250 : 4 پونڈ<br>100: 3 پونڈ<br>50: 2 پونڈ۔<br>اختیاراتِ خرچِ ماہواری</p>



<p>افسران کل الربانیہ: ایک ہزار پونڈ<br>12 ہزاری: 500 پونڈ، 240 پونڈ</p>



<p>3 ہزاری: 60 پونڈ<br>ایک ہزاری: 20 پونڈ<br>پانچ سو: 10 پونڈ<br>دو سو پچاسی: 5 پونڈ<br>صد باشی: 2 پونڈ<br>پنجاہ باشی: 1 پونڈ<br>نوٹ۔ آج کے ریٹ سے ایک پونڈ 128روپے کے برابر ہے ۔<br>محمد یاسین جہازی</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1336</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1332</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1332#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Jun 2026 14:19:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1332</guid>

					<description><![CDATA[ریشمی رومال تحریک کے حوالے سےانڈیا افس لندن میں محفوظ ریکارڈ کے قلم کا اردو ترجمہ تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست اس فہرست میں ان لوگوں کے نام دیے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے یا تو مولانا محمود حسن نور اللہ مرقدہ کے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>ریشمی رومال تحریک کے حوالے سےانڈیا افس لندن میں محفوظ ریکارڈ کے قلم کا اردو ترجمہ</p>



<p></p>



<p>تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست</p>



<p>اس فہرست میں ان لوگوں کے نام دیے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے یا تو مولانا محمود حسن نور اللہ مرقدہ کے جہاد کے پروپیگنڈے کی تائید کی یا اس میں مدد دی۔ اس فہرست کو مکمل نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فہرست میں شامل بعض افراد اس سازش سے بالکل بے خبر بھی ہو سکتے ہیں اور ان کا نام صرف مولانا محمود حسن سے عقیدت کی وجہ سے اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہوگا۔</p>



<p>1. مولوی انیس احمد — علی گڑھ</p>



<p>2. مولوی احمد میاں — تکالی، دیوریا</p>



<p>3. خواجہ عبدالحئی — میرٹھ</p>



<p>4. مولوی حافظ کفایت اللہ — میرٹھ</p>



<p>5. مولانا عاشق الہی — میرٹھ </p>



<p>6. مولانا احمد علی — میرٹھ</p>



<p>7. مولانا عبدالمومن — میرٹھ</p>



<p>8. حافظ فصیح الدین — میرٹھ</p>



<p>9. حاجی وجیہ الدین — میرٹھ</p>



<p>10. شیخ رشید احمد — میرٹھ</p>



<p>11. مولوی محمد ابراہیم — میرٹھ</p>



<p>12. ایک قصائی — لال کرتی (میرٹھ)</p>



<p>13. مولانا غلام محمد — سورت</p>



<p>14. مولانا محمد حسین — سورت</p>



<p>15. مولانا محمد احمد — سورت</p>



<p>16. مولانا محمد اعظم — سورت</p>



<p>17. قاری محمد شفیع اف — کیرانہ، سورت</p>



<p>18. مولانا مرتضیٰ حسن — کلکتہ</p>



<p>19. حافظ محمد اسماعیل مرچنٹ — کلکتہ</p>



<p>20. نواب عبدالستار — کلکتہ</p>



<p>21. حاجی اللہ بخش — کلکتہ</p>



<p>22. حبیب بخش — کلکتہ</p>



<p>23. ہاشم مصطفی — کلکتہ</p>



<p>24. مولانا نذیر حسین — کلکتہ</p>



<p>25. ابو الکلام — کلکتہ</p>



<p>26. عبدالرحیم — کلکتہ</p>



<p>27. مولوی ولایت علی — گیا</p>



<p>28. مولوی رحمت اللہ — گیا</p>



<p>29. ولایت حسین — گیا</p>



<p>30. مولوی محمد ابراہیم — رنگون</p>



<p>31. حکیم محمد اسحاق — کٹیہار</p>



<p>32. سید نور الحسن — مظفر نگر</p>



<p>33. مولوی حافظ عبدالحئی — مظفر نگر</p>



<p>34. مولوی مشتاق — کنجپورہ</p>



<p>35. ملازم نواب صاحب — ضلع کرنال</p>



<p>36. مولانا کفایت اللہ — دہلی</p>



<p>37. مولانا محمد امین الدین — دہلی</p>



<p>38. حافظ نسیم الدین — دہلی</p>



<p>39. مولوی احمد علی — دہلی</p>



<p>40. حاجی احمد الدین — دہلی</p>



<p>41. ڈاکٹر انصاری — دہلی</p>



<p>42. حسن نظامی — دہلی</p>



<p>43. حکیم عبدالرزاق — دہلی</p>



<p>44. مولوی امیر الدین — دہلی</p>



<p>45. مولوی محمد یعقوب — پرتاب گڑھ</p>



<p>46. مولوی محمد علی — لکھنؤ</p>



<p>47. مولوی صغیر — لکھنؤ</p>



<p>48. مولوی مطلوب الرحمن کے دوست — لکھنؤ</p>



<p>49. مولوی وارث حسن پیر — لکھنؤ</p>



<p>50. عبدالحفیظ — دربھنگہ</p>



<p>51. عبدالوہاب — دربھنگہ</p>



<p>52. مولوی پہلوان — دربھنگہ</p>



<p>53. مولوی بشیر احمد — نگینہ، بجنور</p>



<p>54. مولانا شوکت علی — بجنور</p>



<p>55. مولانا انوار الحق — بجنور</p>



<p>56. حافظ محمد الدین — بجنور</p>



<p>57. حکیم جمیل الدین — بجنور</p>



<p>58. مولوی محمد یاسین — بجنور</p>



<p>59. حکیم رحیم اللہ — بجنور</p>



<p>60. حافظ مشیت اللہ — بجنور</p>



<p>61. حاجی عبدالرحیم — پٹنہ</p>



<p>62. مولوی احمد حسن — شملہ</p>



<p>63. مولوی عزیز احمد — اجمیر</p>



<p>64. قاسم جی محمد جمال مرچنٹ — اجمیر</p>



<p>65. ملا کریم اللہ — اجمیر</p>



<p>66. مولوی قمر الدین — اجمیر</p>



<p>67. حاجی شمس الدین — بیاور</p>



<p>68. قاضی عبدالحی — بیاور</p>



<p>69. مولوی حامد حسن — بجنور</p>



<p>70. رحمت اللہ — نہٹور، بجنور</p>



<p>71. مولوی برکت علی — قصور</p>



<p>72. حافظ علی حسن — کرتپور</p>



<p>73. مولوی بسم اللہ — بمبئی</p>



<p>74. مولوی محمد عیسی — بمبئی</p>



<p>75. مولوی ظہور — بمبئی</p>



<p>76. حکیم اجمیری — بمبئی</p>



<p>77. حافظ محمد یعقوب — نگینہ، سہارنپور</p>



<p>78. حاجی احمد جان مرچنٹ — سہارنپور</p>



<p>79. مولانا عبدالرحیم — رائے پور</p>



<p>80. ملا جی — رائے پور</p>



<p>81. شاہ زائد حسن — رائے پور</p>



<p>82. پیر جی ظہور احمد — امبیٹھا</p>



<p>83. حافظ مشیت اللہ — امبیٹھا</p>



<p>84. مولوی احمد رئیس — امبیٹھا</p>



<p>85. ماسٹر غلام نبی — سیالکوٹ</p>



<p>86. غلام حبیب کنٹریکٹر — سیالکوٹ</p>



<p>87. قاضی محی الدین — مراد آباد</p>



<p>88. حافظ محمد صدیق — امبالہ</p>



<p>89. حاجی محمد اکبر مرچنٹ — مراد آباد</p>



<p>90. مولوی عبدالرحیم — پشاور</p>



<p>91. صاحبزادہ صاحب — پشاور</p>



<p>92. مولوی غلام رسول — پشاور</p>



<p>93. مولوی سہول — بھاگلپور</p>



<p>94. مولوی شائق — بھاگلپور</p>



<p>95. مولوی عبدالحق — لاہور</p>



<p>96. مولوی احمد اللہ — لاہور</p>



<p>97. مولوی محمد ابراہیم — حیدرآباد سندھ</p>



<p>98. پیر جھنڈا صاحب — حیدرآباد سندھ</p>



<p>99. مولوی محمد ابراہیم — براول</p>



<p>100. عبداللہ خان — خورجہ</p>



<p>101. عبدالرحمن خان — خورجہ</p>



<p>102. حافظ مشیت اللہ — خورجہ</p>



<p>103. عبداللہ — خورجہ</p>



<p>104. حکیم اللہ خان — خورجہ</p>



<p>105. مولوی احمد — چکوال، جہلم</p>



<p>106. مولوی عبدالحی — جودھپور</p>



<p>107. نامعلوم شخص — جودھپور</p>



<p>108. مولوی عبدالغنی — جودھپور</p>



<p>109. مولوی محمد ابراہیم — جودھپور</p>



<p>110. مولوی سعید الدین — بھوپال</p>



<p>111. مولوی سعید احمد — بھوپال</p>



<p>112. مرزا عبدالصمد — بھوپال</p>



<p>113. حافظ امداد حسین — روڑکی</p>



<p>114. مولوی حافظ اسماعیل — روڑکی</p>



<p>115. نامعلوم شخص (نائب مدرس تحصیلی) — روڑکی</p>



<p>116. مولوی مہر علی — سرونج، ٹونک</p>



<p>117. عبدالکریم — سرونج، ٹونک</p>



<p>118. مرزا صاحب — سرونج، ٹونک</p>



<p>119. صاحبزادہ عبدالرحیم — سرونج، ٹونک</p>



<p>120. مفتیان ریاست — ٹونک</p>



<p>121. مولوی ظہور احمد — جودھپور</p>



<p>122. حافظ محمد یعقوب — گنگوہ</p>



<p>123. مولانا حکیم مسعود احمد شاہ — گنگوہ</p>



<p>حوالہ:ریشمی خطوط کے کیس میں کون کیا ہے، صفحہ 95-96</p>



<p>مرتب: مولانا محمد میاں صاحب، ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1332</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مردم شماری میں حصہ لینا قومی ومذهبی فریضه</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1330</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1330#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Jun 2026 03:15:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلامیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1330</guid>

					<description><![CDATA[بسم الله الرحمٰن الرحیم شمع فروزاں2026.06.05 مولانا خالد سیف الله رحمانی سیرت نبوی ﷺکے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عہد میں اسلام کی تائید و تقویت اور مسلمانوں کے ملی وجود کی حفاظت کے لئے تمام اسباب اختیار کرنے چاہئیں ، جو اس زمانہ میں مروج ہوں اور ان میں شریعت کے خلاف [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>بسم الله الرحمٰن الرحیم</p>



<p>شمع فروزاں2026.06.05 </p>



<p>مولانا خالد سیف الله رحمانی</p>



<p>سیرت نبوی ﷺکے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عہد میں اسلام کی تائید و تقویت اور مسلمانوں کے ملی وجود کی حفاظت کے لئے تمام اسباب اختیار کرنے چاہئیں ، جو اس زمانہ میں مروج ہوں اور ان میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو، رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں بہ کثرت اس کی مثالیں موجود ہیں ، آپ ﷺ نے دعوتِ توحید کے لئے پہلی دفعہ صفا کی پہاڑی کا انتخاب کیا اور وہاں جا کر اہل مکہ کو اکٹھا کر کے اپنی بات کہی ، یہ کوئی اتفاقی انتخاب نہ تھا ؛ بلکہ پہلے سے اہل مکہ کا طریقہ چلا آرہا تھا کہ کسی اہم بات کی اطلاع دینے کے لئے اسی مقام پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلاتے تھے ، گویا یہ اس زمانے کا ذریعۂ ابلاغ تھا اور مکہ شہر کی حد تک اس سے زیادہ وسیع الاثر کوئی اور ذریعہ ابلاغ موجود نہیں تھا ، عرب میں دو ایسے اجتماعات ہوتے تھے ، جن میں پورا جزیرۃ العرب اُمڈ آتا تھا ، ایک حج اور دوسرے عکاظ کا تجارتی میلہ ، ان دونوں اجتماعات میں بہت سی منکرات اور فواحش کا ارتکاب کیا جاتا تھا ، حج میں تو بہر حال ایک پہلو عبادت کا بھی تھا ، گو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل اُسوہ میں بہت کچھ آمیزشیں کردی گئی تھیں ؛ لیکن عکاظ کے میلے کی نوعیت مذہبی نہیں تھی ، اس کے باوجود آپ ﷺ ’’ کُل عرب سطح‘‘ کے ان دونوں اجتماعات میں جاتے اور لوگوں پر دعوت اسلام پیش فرماتے ؛ کیوںکہ اس وقت اس سے زیادہ موثر ، زود رفتار اور وسیع الاثر کوئی اور میڈیا نہیں تھا ۔ عربوں کاایک قدیم قبائلی نظام تھا ، جس کے مطابق قبیلہ کے ایک شخص کو پورے قبیلہ کی پناہ حاصل ہوتی تھی اور اگر قبیلہ کے ایک شخص کے خلاف بھی کوئی زیادتی کی جاتی تو پورا قبیلہ اسے اپنے آپ پر حملہ تصور کرتا تھا ، آپ ﷺ بنو ہاشم میں تھے اور اس وقت اس قبیلے کی قیادت ابو طالب کے ہاتھ میں تھی ، جو آپ کے چچا تھے ؛ لیکن اولاد سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھتے تھے ؛ اس لئے باوجودیکہ بنو ہاشم کی اکثریت ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی اور ابو لہب جیسا بدترین دشمنِ اسلام اسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا ؛ لیکن اس کے باوجود ابوطالب کی وجہ سے آپ کو اس خاندان کی ایسی حمایت و حفاظت حاصل رہی کہ شعب ابی طالب جیسے دل گداز اورصبر آزما واقعہ میں بھی بنو ہاشم نے آپ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا اور عرب کے اس قبائلی پناہ دہی اور پناہ گیری کے نظام سے آپ ﷺنے بھرپور فائدہ اُٹھایا ، اسی طرح آپ ﷺکے سب سے جاں نثار رفیق حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ابن الدغنّہ کی پناہ حاصل کرنے میں کوئی تکلف نہیں برتا ۔ مدینہ جانے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں، یہودیوں اور مشرکین کے درمیان بقاء باہم اور مدینہ کے مشترکہ دفاع کا ایسا معاہدہ کرایا جو اسلام کے سیاسی تصورات کے لئے نشانِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے ؛ کیوںکہ اس معاہدہ کے مطابق مدینہ کے غیر مسلم قبائل کو عقیدہ و مذہب کی آزادی دی گئی ، ایک دوسرے کی جان و مال کے احترام کا سبق دیا گیا اور بوقت ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ مل کر کسی علاقہ کی حفاظت اور دفاع کو قبول کیا گیا ، اسی طرح فتح مکہ سے پہلے متعدد ایسے مشرک قبائل جو اس وقت تک اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے ، سے آپ ﷺ نے ناجنگ معاہدہ کیا ؛ بلکہ مشکل وقتوں میں بحیثیت حلیف ایک دوسرے کی مدد کرنے کے معاہدے بھی کئے ، بظاہر اسلام میں ’’ موالات ‘‘ وغیرہ کے سلسلہ میں جو احکام ہیں ، ہو سکتا ہے کہ بادیٔ النظر میں یہ معاہدات اس کے خلاف محسوس ہوں ؛ لیکن در اصل ان سب میں ایک ہی روح کار فرما ہے کہ ہر عہد کی ضرورت ، تقاضہ اور رسم و رواج کے مطابق اسلام کو سر بلند کرنے اور اُمت ِمسلمہ کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا کہ اعداء ِاسلام کے مقابلہ میں قوت بھر تیاری کرو : ’’وَأَعِدُّوْا لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ‘‘ ( الانفال : ۶۰) کیا اس کا مطلب صرف اسلحہ اورجنگی طاقت کا فراہم کرنا ہے ؟ غالباً ایسا نہیں ہے ؛ بلکہ ہر طرح کی طاقت اس میں داخل ہے ، کبھی علم کی طاقت ہتھیار کی طاقت پر فائق ہو تی ہے ، جس کی مثال آج جاپان ہے ، کبھی سیاسی طاقت کے ذریعہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہو تے ہیں ، ہندوستان میں برہمن اِزم اسی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے ، کبھی معاشی طاقت کی بنیاد پر انگلیوں پر گنی جانے والی قوم پوری دنیا کو اپنے چشم وابروکا متبع بنا کر رکھتی ہے ؛ جیسا کہ اس وقت صیہونی طاقت کا حال ہے ، غرض کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق اپنی طاقت کو بڑھانا اس طاقت کو مذہب وملت کی سربلندی کے لئے استعمال کرنا اور ظالموں کے تسلط سے بچنے کے لئے اس کو ڈھال اور نیام بنانا اُمت کا فریضہ اوررسول اللہ ﷺ کا اُسوہ ہے ۔ آج کی دنیا میں معیار کے ساتھ ساتھ تعداد و مقدار کی بھی بڑی اہمیت ہے ، اس سے کسی قوم کا سیاسی مقام متعین ہوتا ہے ، نظام مملکت کے نقشہ میں اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے ، جو زبان کسی علاقہ میں بولی جاتی ہو ، اس زبان کی قدر و قیمت بھی بولنے والوں کی تعداد پر منحصر ہے ، اسی پس منظر میں تمام ہی ممالک میں اور خاص کر جمہوری ملکوں میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے ، ہندوستان میں اس وقت ۹ ؍ فروری سے چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو چکا ہے ، جو ۲۸؍فروری تک جاری رہے گی اور یکم مارچ تک نظر ثانی اور تبدیلی کی مہلت ہوگی ، اس مردم شماری پر ایک ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے ، اس بار مردم شماری نسبتاً زیادہ تفصیل سے عمل میں آرہی ہے ، جس میں مذہب ، زبان اورمعاشی حالات کے علاوہ معذورین اور ان کے حالات بھی مرکز توجہ ہوں گے اور ان ہی اعداد و شمار کی روشنی میں ملک میں آئندہ سیاسی ، تعلیمی اورمعاشی منصوبہ بندی ہو سکے گی ۔اُردو ہماری مادری زبان ہے اور عربی زبان کے بعد کوئی زبان نہیں ، جس میں علوم اسلامی کا اتنا بڑا سرمایہ موجود ہو ؛ بلکہ بعض موضوعات پر اُردو میں ایسی کتابیں بھی آچکی ہیں ، کہ شاید عربی میں بھی اس جیسی کتاب نہ ہو ، فارسی حالاںکہ صدیوں سے مسلمانوں کی زبان ہے ، اور ایک بہت بڑا ذخیرہ فارسی زبان میں ہے ؛ لیکن اُردو نے صرف ڈیڑھ دو سو سال میں نہ صرف فارسی کی برابری حاصل کر لی ؛ بلکہ اسلامی فکر و عقیدہ ، علم و عمل اور تہذیب و ثقافت کی نمائندگی میں غالباً فارسی سے بہت آگے جا چکی ہے ، بد قسمتی سے آزادی کے بعد سے مسلسل اُردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اوراس لئے حکومت کوبھی اُردو کی طرف سے دانستہ تغافل کا بہانہ ہاتھ آرہا ہے ، مردم شماری میں اگر ہم اہتمام کے ساتھ مادری زبان کی حیثیت سے اُردو کا نام لکھائیں اور اعداد و شمار اس بات کو واضح کر دیں کہ اُردو بولنے ، سمجھنے ، لکھنے اورپڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، تو اس سے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت میں سہولت بہم پہنچے گی اور ہماری اگلی نسلوں کو اپنے سلف کے اتنے عظیم الشان علمی اور دینی سرمایہ سے محروم نہیں کیا جاسکے گا ۔ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں مردم شماری میں حصہ لینا مسلمانوں کا ایک اہم ترین فریضہ ہے اور یہ اپنے حقوق کی حفاظت اور حق تلفی کی مدافعت کی بے جا کوششوں کی ایک آئینی تدبیر ہے ، اگر ہم نے اس موقع پر غفلت کی اور کوتاہی سے کام لیا تو خاص کر موجودہ حالات میں یہ بہت ہی خسران کی بات ہوگی اور اپنی طاقت کے ضائع کرنے اور اپنی قیمت آپ گرانے کے مترادف ہوگا ۔ یوں مردم شماری کا تصور بہت قدیم ہے ؛ چوںکہ اس سے عوام کے مسائل کو سمجھنے اورخاص کر عوام کے مسائل کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے ، بائبل میں ہے کہ ’’ پہلی اسم نویسی سوریا کے حاکم رکوِرِنِیسُ کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے کے لئے اپنے اپنے شہر کو گئے‘‘ (نوما: ۲ ؍۲،۳) یہ واقعہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کا ہے ؛لیکن غالباً اس کا تعلق سلطنت روما یایہودا کی آبادی سے ہے ، مردم شماری تو اس سے پہلے بھی ہوئی ہوگی ؛ کیوںکہ بائبل کے عہد عتیق میں بھی مختلف موقعوں پر مختلف قوموں کے اعداد و شمار مذکور ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے بھی مدینہ میں مردم شماری کرائی تھی اور اس کا ذمہ دار حضرت حذیفہ ؓ کو بنایا تھا ، حضرت حذیفہ ؓ ہی راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے لئے ان تمام لوگوں کے نام لکھو ، جنھوںنے اسلام کا اقرار کیا ہے : ’’اکتبوا لی من تلفظ بالاسلام من الناس‘‘ حضرت حذیفہ ؓ نے شمار کیا تو اس وقت یہ تعداد پندرہ سو نکلی ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۳۰۶۰) بظاہر یہ تعداد صلح حدیبیہ کے کچھ آگے یا پیچھے کی ہوگی ، صحابہ ؓ نے فتح مکہ کے مجاہدین کی تعداد بھی بیان فرمائی ہے اور بعض روایتوں میں حجۃ الوداع کے موقع سے شرکاء کی تعداد جو ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی ، مذکور ہوئی ہے ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اعداد وشمار کے اکٹھا کرنے پر نظر رکھی جاتی تھی ، خلافت راشدہ میں خاص کر حضرت عمرؓ کے عہد میں بھی مختلف شہروں کے اعداد و شمار ملتے ہیں ، مدینہ میں آباد لوگوں کے لئے تو آپ نے مستقل رجسٹر ہی مرتب کرا رکھا تھا اور اسی رجسٹر کے مطابق حسب ِمراتب اور حسب ِخدمت مال غنیمت اورباہر سے آنے والی اِعانتیں تقسیم کی جاتی تھیں ، بعد کو بھی مسلمانوں کے دور میں مردم شماری کا سلسلہ رہا ہے ، اسی لئے تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے پس منظر میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس وقت اس بہار آفریں شہر کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی ۔ اپنی قوت کا اظہار اسلام کی نگاہ میں کوئی اچھی بات نہیں ہے ، کہ اس سے کبر کی بوآتی ہے ؛ لیکن بعض دفعہ قومی اور ملی مصالح کے تقاضہ کے تحت یہی ناپسندیدہ بات پسندیدہ اورناروابات روا قرار پاتی ہے ، غور کیجئے کہ جب رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے دوسرے سال عمرۃ القضاء کے لئے تشریف لے گئے اور مشرکین &#8212; جن کی نظر ایمانی اور روحانی قوت کے بجائے صرف جسمانی قوت پر ہوتی تھی &#8212; نے مسلمانوں کے تواضع اور انکسار کو دیکھتے ہوئے ان کے کمزور ہونے کا طعنہ دیا ، تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو کسی قدر اکٹرفوں کے ساتھ طواف کرنے کا حکم فرمایا ، جو آج تک ’’ رمل‘‘ کے نام سے حج کی ایک اہم ترین سنت ہے ، فتح مکہ کے موقع سے اہل مکہ کو مرعوب کرنے اور قائد مشرکین ابو سفیان کو متأثر کرنے کی غرض سے آپ نے ایک خاص ترتیب سے مختلف قبائل کے الگ الگ فوجی دستے مرتب فرمائے اور ایک تنگ وادی سے جوش ایمان سے معمور اور جذبہ جہاد سے بھرپور قافلہ کو گذارا ، نیز حضرت عباس ؓ کے ذریعہ ایسی تدبیرکرائی کہ ابو سفیان کو پھٹی آنکھوں اس لشکر ِجرار اور اس کے ہمت و حوصلہ اورجذبۂ وجوش کو دکھلایا ؛ تاکہ اہل مکہ کو مقابلہ کی ہمت نہ ہو اور وہ کسی مزاحمت کے بغیر اسلام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں ، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کی شب خاص طور پر آپ نے مسلمانوں کی فوج کو دُور دُور تک بکھر جانے ، زیادہ سے زیادہ چولھے سلگانے اور کھانے پکانے کا اشارہ بھی دیا ؛ تاکہ جب رات کی تاریکی میں مشرکین مکہ تاحد نگاہ اس لشکر کے چولہوں کو دیکھیں اور عربوں کے طریقہ کے مطابق چولہوں کی تعداد کے مطابق افراد کا اندازہ کریں تو ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور ان کی ہمتیں شکستہ ہو جائیں ، ان تدبیروں کا مقصد کبر اور اپنی برتری جتانا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یہ اس وقت کی مصلحت تھی اور اسے اسلام کی تائید و تقویت اورمسلمانوں کی حفاطت کے ایک مؤثروسیلہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ۔ پس ہر دور میں اپنی قوت بڑھانے ، اپنی طاقت کا اظہار کرنے اور اپنے حقوق کی حفاطت اور اپنے قومی وجود کا دفاع کرنے کے الگ الگ ذرائع ہوتے ہیں ، اس دور میں ان ہی ذرائع کو اختیار کرنا حکمت ، فراست ِایمانی اور اُسوۂ نبوی کا تقاضا ہے ۔= = =</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1330</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1328</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1328#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Jun 2026 03:10:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مضامین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1328</guid>

					<description><![CDATA[از: عبدالحلیم منصور نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت کے زرخیز ہے ساقیکرناٹک کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض حکومت نہیں بدلی بلکہ ریاست کے سیاسی، سماجی اور نظریاتی مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی نئے سرے سے جنم [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p></p>



<p>از: عبدالحلیم منصور</p>



<p>نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت کے زرخیز ہے ساقیکرناٹک کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض حکومت نہیں بدلی بلکہ ریاست کے سیاسی، سماجی اور نظریاتی مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی نئے سرے سے جنم لے چکے ہیں۔ بظاہر یہ سدارامیا سے ڈی کے شیوکمار تک اقتدار کی منتقلی ہے، لیکن حقیقت میں یہ تبدیلی اس سے کہیں زیادہ گہری اور دور رس اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایک ایسے سیاسی دوراہے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں سماجی انصاف، اقلیتوں کی نمائندگی، پسماندہ طبقات کے حقوق، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، معاشی استحکام اور کانگریس کے مستقبل کی سیاست ایک دوسرے سے جڑ کر سامنے آ رہے ہیں۔تقریباً تین برس قبل جب کانگریس نے کرناٹک میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی تو اس کامیابی کو صرف ایک انتخابی جیت نہیں سمجھا گیا تھا۔ یہ دراصل اس سماجی اتحاد کی کامیابی تھی جسے سدارامیا نے اپنی &quot;اہندا&#8221; سیاست کے ذریعے برسوں میں مضبوط کیا اور جسے ڈی کے شیوکمار نے اپنی غیر معمولی تنظیمی صلاحیت، سیاسی حکمت عملی اور زمینی رابطوں کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی لیے آج جب اقتدار کی باگ ڈور باضابطہ طور پر ڈی کے شیوکمار کے ہاتھوں میں آ چکی ہے تو اصل سوال یہ نہیں کہ نیا وزیراعلیٰ کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اس سماجی اور سیاسی اتحاد کو برقرار رکھ سکیں گے جس نے کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا تھا؟سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار صرف دو افراد نہیں بلکہ کانگریس کے اندر دو مختلف سیاسی اسالیب اور دو مختلف عوامی امیجز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سدارامیا ایک ایسے سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں جو اپنے خیالات کے اظہار میں غیر معمولی بے باکی رکھتے ہیں۔ ان کی سیاست کا مرکز سماجی انصاف، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حقوق رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈی کے شیوکمار ایک ایسے رہنما ہیں جو سیاسی توازن، تنظیمی مہارت اور زمینی حقیقتوں کے مطابق حکمت عملی ترتیب دینے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ وہ نپی تلی گفتگو کرتے ہیں، سیاسی اشاروں اور پیغامات کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں اور غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اور نمایاں فرق مذہبی شناخت کے حوالے سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ سدارامیا کی شخصیت میں سیکولر ازم اور سماجی انصاف کا رنگ نمایاں تھا، جبکہ ڈی کے شیوکمار اپنی مذہبی وابستگیوں اور روحانی رجحانات کو کبھی چھپاتے نہیں۔ وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد ان کے اقدامات، مذہبی رسومات میں شرکت اور مختلف مذہبی شخصیات سے قربت اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ بی جے پی کے لیے ڈی کے شیوکمار کو &quot;ہندو مخالف&#8221; یا &quot;اقلیت نواز&#8221; قرار دے کر وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا جو ماضی میں بعض مواقع پر حاصل کیا جاتا رہا ہے۔یہ پہلو محض علامتی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ آنے والے برسوں کی سیاست پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین یہاں تک رائے رکھتے ہیں کہ اگر سدارامیا مزید دو برس اقتدار میں رہتے تو بی جے پی کے لیے سیاسی حملوں کی گنجائش نسبتاً زیادہ موجود رہتی، لیکن ڈی کے شیوکمار کی آمد نے سیاسی مقابلے کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے اندر بھی ریاستی سطح پر نئی حکمت عملی اور نئی قیادت کی ضرورت پر غور و فکر شروع ہو چکا ہے۔تاہم اقتدار کی منتقلی کے فوراً بعد سامنے آنے والے بعض واقعات نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ نئی حکومت کا راستہ اتنا ہموار نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ قلمدانوں کی تقسیم کے بعد سینئر رہنما رام لنگا ریڈی کی ناراضی اور استعفیٰ نے اس حقیقت کو نمایاں کر دیا کہ حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی بے چینی اور اندرونی اختلافات کے آثار بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ اگرچہ وزیراعلیٰ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ناراض قیادت کو منانے کی کوشش شروع کی، لیکن یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار حاصل کرنا اور اقتدار کو مستحکم رکھنا دو الگ مرحلے ہیں۔ کانگریس کے اندر مختلف سیاسی و مذہبی دھڑوں، علاقائی توقعات اور شخصی خواہشات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ڈی کے شیوکمار کے لیے ابتدائی اور اہم ترین امتحانات میں سے ایک ہوگا۔مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اقتدار کی یہ تبدیلی امید اور تشویش دونوں پہلو اپنے ساتھ لائی ہے۔ ایک طرف قانون ساز کونسل کے انتخابات میں مسلم امیدواروں کو نظر انداز کیے جانے، کابینہ کی ابتدائی تشکیل میں مناسب نمائندگی نہ ملنے اور داؤنگیرے ضمنی انتخاب کے بعد پیدا ہونے والی ناراضی نے بے چینی کو جنم دیا، تو دوسری طرف بعض فیصلوں کو مثبت اشارے کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔راجیہ سبھا کے لیے منصور علی خان کی نامزدگی، پریانک کھرگے کو اہم ذمہ داری دینا اور بی کے ہری پرساد جیسے تجربہ کار اور دوٹوک موقف رکھنے والے رہنما کو ریاستی کانگریس کی قیادت سونپنا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے سیکولر اور اقلیتی حلقوں میں ایک حد تک اعتماد پیدا کیا ہے۔ خصوصاً بی کے ہری پرساد کی تقرری محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں سمجھی جا رہی۔ وہ ان چند کانگریسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بھی سچ بولنے کی روایت رکھتے ہیں۔ کئی مواقع پر انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو آئینہ دکھایا، عوامی مسائل کی نشاندہی کی اور سیاسی مصلحتوں کے بجائے اصولی مؤقف اختیار کیا۔ اسی لیے ان کی تقرری کو کانگریس کے اندر نظریاتی توازن اور سیکولر شناخت کے استحکام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔اسی طرح وزارت میں بطور وزیر داخلہ پریانک کھرگے کی موجودگی بھی ایک اہم سیاسی پیغام رکھتی ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست، نفرت انگیز بیانیوں اور جمہوری اداروں پر دباؤ کے خلاف ان کا واضح مؤقف کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بحیثیت وزیر داخلہ ان کی تقرری نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دلتوں، پسماندہ طبقات اور سماجی انصاف کے حامی حلقوں میں بھی امید پیدا کی ہے کہ نئی حکومت آئینی اقدار اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گی۔مسلمانوں کی توقعات صرف سیاسی نمائندگی تک محدود نہیں ہیں۔ گزشتہ برسوں میں حجاب تنازعہ، نفرت انگیز تقاریر، معاشی بائیکاٹ کی مہمات، گاؤ رکھشا کے نام پر ہراسانی، نصابی تبدیلیاں اور مختلف فرقہ وارانہ تنازعات نے اقلیتوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو گہرا کیا ہے۔ اگرچہ کانگریس حکومت کے دوران مجموعی ماحول میں نسبتاً بہتری دیکھی گئی، لیکن اقلیتوں کا ایک بڑا طبقہ اب بھی محسوس کرتا ہے کہ محض بیانات اور علامتی فیصلوں سے آگے بڑھ کر مضبوط انتظامی اور قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔اسی دوران سدارامیا نے اقتدار سے رخصت ہونے سے قبل ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کی سماجی، معاشی اور تعلیمی سروے رپورٹ کو قبول کرکے ایک اہم بحث نئی حکومت کے سپرد کر دی۔ اس رپورٹ نے سماجی انصاف، نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور ریزرویشن کے نظام سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کو پورے سیاسی منظرنامے کا واحد محور قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن اس سے صرفِ نظر کرنا بھی ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رپورٹ نئی حکومت کے سامنے موجود کئی بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے، اور اس پر اختیار کیا جانے والا مؤقف آنے والے برسوں میں سیاسی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔تاہم ڈی کے شیوکمار کا اصل امتحان صرف سماجی انصاف کے سوال تک محدود نہیں۔ ان کے سامنے معاشی چیلنجز بھی کم سنگین نہیں ہیں۔ گارنٹی اسکیموں کو برقرار رکھنا، ریاستی مالیات کو متوازن رکھنا، بنگلورو کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، علاقائی عدم توازن کو کم کرنا اور مرکز کے ساتھ تعلقات میں سیاسی وقار اور عملی ضرورت کے درمیان توازن قائم رکھنا ، کارپوریشن اور بلدی اداروں کے علاوہ پنچایت انتخابات کا سامنا ، ایسے مسائل ہیں جن پر ان کی حکومت کا حقیقی جائزہ لیا جائے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور دیگر محروم حلقوں کی توقعات کسی خصوصی رعایت سے متعلق نہیں ہیں۔ وہ صرف آئینی مساوات، منصفانہ نمائندگی، معاشی مواقع، تعلیمی ترقی اور قانون کے یکساں نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی مطالبات دراصل آئین ہند کی روح اور جمہوری سیاست کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔اسی لیے آج کرناٹک کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، لیکن حکمرانی کا امتحان ابھی شروع ہوا ہے۔ ڈی کے شیوکمار کے سامنے ایک طرف سدارامیا کی سیاسی میراث ہے، دوسری طرف اپنی الگ شناخت قائم کرنے کا چیلنج۔ ایک طرف کانگریس کا روایتی سماجی اتحاد ہے، دوسری طرف بدلتے ہوئے سیاسی حالات۔ ایک طرف اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی امیدیں ہیں، تو دوسری طرف طاقتور سماجی اور سیاسی حلقوں کا دباؤ۔اگر وہ ان تمام متضاد قوتوں کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے سماجی انصاف، معاشی ترقی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے تحفظ کو اپنی حکمرانی کا مرکز بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نہ صرف کانگریس بلکہ کرناٹک کی سیاست میں بھی ایک نئے باب کے معمار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی مصلحتیں، وقتی مفادات اور طاقت کے روایتی مراکز ان کی ترجیحات پر غالب آ گئے تو سب سے پہلے وہی سماجی اتحاد متاثر ہوگا جس نے کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔آج ریاست کے مسلمان، دلت، پسماندہ طبقات، نوجوان اور دیگر محروم حلقے کسی رعایت کے نہیں بلکہ انصاف کے منتظر ہیں۔ اور تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اقتدار کی اصل طاقت اکثریت کے ووٹوں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی اعتماد ڈی کے شیوکمار حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا سب سے بڑا پیمانہ ثابت ہوگا</p>



<p>۔haleemmansoor@gmail.com</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1328</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1326</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1326#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Jun 2026 03:08:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1326</guid>

					<description><![CDATA[نئی دہلی: 2 جون 2026 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے سرکاری اسکولوں اور سرکار سے تسلیم شدہ دینی مدارس میں طلبا و طالبات کے لیے صبح کی اسمبلی میں وندے ماترم کے تمام بندوں کی قرأت کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تشویش [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> </p>



<p>نئی دہلی: 2 جون 2026</p>



<p>آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے سرکاری اسکولوں اور سرکار سے تسلیم شدہ دینی مدارس میں طلبا و طالبات کے لیے صبح کی اسمبلی میں وندے ماترم کے تمام بندوں کی قرأت کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جائے، یا کم از کم مسلم طلبا و طالبات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ کسی بھی طالب علم کو اس کے مذہبی عقائد کے خلاف کوئی کلمہ یا نغمہ پڑھنے پر مجبور کرنا نہ صرف دستور ہند کے بنیادی حقوق، بالخصوص آرٹیکل 19، 25 اور 28(3) کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے Bijoe Emmanuel v. State of Kerala کے بھی منافی ہے، جس میں عدالت عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی یا ضمیری عقائد کے خلاف کسی قومی یا مذہبی نوعیت کی تقریب میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ وندے ماترم کے بعض بند ایسے تصورات پر مشتمل ہیں جنہیں مسلمان اپنے عقیدۂ توحید کے منافی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کسی مسلمان طالب علم کو اسے پڑھنے پر مجبور کرنا اس کے مذہبی تشخص اور دستوری حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر ریاست کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی ایک مذہبی یا ثقافتی روایت کو دوسرے مذہبی گروہوں پر زبردستی مسلط نہ کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے بعد سے آج تک حکومت ہند نے بھی وندے ماترم کو ملک کے تعلیمی اداروں میں لازمی قرار نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو ہمیشہ شہریوں کے ضمیر، مذہبی آزادی اور شخصی انتخاب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ڈاکٹر الیاس نے دستور ہند کی دفعہ 28(3) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے زیر انتظام یا ریاستی امداد یافتہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی طالب علم کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی عبادت یا مذہبی نوعیت کی تقریب میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ اس کی آزادانہ رضامندی شامل نہ ہو۔ لہٰذا ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف آئینی روح کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سیکولر اور جمہوری روایات سے بھی متصادم ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال کے مسلم طلبا، والدین اور اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دستوری اور قانونی حقوق سے آگاہ رہیں اور اگر کسی بھی سطح پر انہیں جبر یا دباؤ کے ذریعے وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو وہ دستور ہند کے بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کریں۔بورڈ نے مغربی بنگال حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ریاست کے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق، ثقافتی شناخت اور دستوری آزادیوں کا احترام کرے۔ ہندوستان ایک سیکولر اور کثرت پسند جمہوریہ ہے جہاں ہر مذہبی گروہ کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ کسی بھی سرکاری اقدام کو اس بنیادی اصول کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جاری کردہ:ڈاکٹر وقار الدین لطیفیآفس سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8211;PRESS RELEASEMaking Vande Mataram Compulsory Violates Fundamental Rights and Supreme Court Precedent:All India Muslim Personal Law BoardNew Delhi, June 2, 2026The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has expressed deep concern over the decision of the Government of West Bengal to make the recitation of all stanzas of Vande Mataram compulsory during morning assemblies in government schools and government-recognized madrasas across the state. The Board has demanded that the notification be withdrawn immediately or, at the very least, that Muslim students be exempted from its application.In a press statement, the Board’s spokesperson, Dr. S. Q.  R.  Ilyas, said that compelling any student to recite a song or text that is contrary to his or her religious beliefs constitutes a clear violation of the Fundamental Rights guaranteed under the Constitution of India, particularly Articles 19, 25, and 28(3). He further stated that such a directive is inconsistent with the Supreme Court’s landmark judgment in Bijoe Emmanuel v. State of Kerala, wherein the Court categorically held that no citizen can be compelled to participate in a national or religious ceremony in violation of sincerely held religious or conscientious beliefs.Dr. Ilyas said that the Muslim Personal Law Board considers it necessary to clarify that certain stanzas of Vande Mataramcontain concepts that Muslims regard as inconsistent with the Islamic doctrine of monotheism (Tawhid). Therefore, forcing Muslim students to recite the song amounts to a direct infringement upon their religious identity and constitutional freedoms. He emphasized that a secular state must not impose the religious or cultural traditions of one community upon another.He further noted that since Independence, the Government of India has never made the recitation of Vande Mataramcompulsory in educational institutions. For this reason, the matter has historically been treated as one of individual conscience, religious liberty, and personal choice.Referring to Article 28(3) of the Constitution, Dr. Ilyas pointed out that no student attending an educational institution maintained by the State or receiving State aid can be compelled to participate in religious instruction, worship, or religious observances without his or her free consent. Consequently, the West Bengal Government’s decision is not only contrary to the spirit of the Constitution but also inconsistent with India’s secular and democratic traditions.The All India Muslim Personal Law Board has appealed to Muslim students, parents, and teachers in West Bengal to remain aware of their constitutional and legal rights. The Board has urged them to seek appropriate legal remedies if they are subjected to any form of coercion or pressure to recite Vande Mataram, relying upon the Fundamental Rights guaranteed by the Constitution and the Supreme Court’s ruling in Bijoe Emmanuel.The Board has also cautioned the Government of West Bengal to respect the religious rights, cultural identity, and constitutional freedoms of all citizens. India is a secular and pluralistic republic where every religious community enjoys the right to live in accordance with its faith and preserve its distinct religious identity. No governmental action should be permitted to undermine this foundational constitutional principle. Issued by: Dr. Vaquar Uddin Latifi Office Secretary All India Muslim Personal Law Board &#8211;ALL INDIA MUSLIM PERSONAL LAW BOARD76 A/1, Main Market, Okhla Village, Jamia NagarNew Delhi &#8211; 110025 (India)Mob.: +91-9910519871Ph: +91-11-26322991, 26314784E-mail: aimplboard@gmail.comWebsite: www.aimplboard.in</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1326</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1324</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1324#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 06 Jun 2026 05:27:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جمعیۃ علماء ہند]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1324</guid>

					<description><![CDATA[موکل چک (ضلع گڈا)، 5 جون 2026 جمعیت علمائے بسنترائے کے زیرِ اہتمام گاؤں موکل چک، ضلع گڈا میں ایک اہم اور بامقصد ’’بیداری پروگرام‘‘ منعقد کیا گیا، جس میں عوام الناس بالخصوص نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد ایمان، عقیدہ، اسلامی تعلیمات اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے عوام میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>موکل چک (ضلع گڈا)، 5 جون 2026 جمعیت علمائے بسنترائے کے زیرِ اہتمام گاؤں موکل چک، ضلع گڈا میں ایک اہم اور بامقصد ’’بیداری پروگرام‘‘ منعقد کیا گیا، جس میں عوام الناس بالخصوص نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد ایمان، عقیدہ، اسلامی تعلیمات اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنا تھا۔</p>



<p>پروگرام کا آغاز عزیزم ارسلان کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جب کہ نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت مفتی محمد نظام الدین قاسمی کو حاصل ہوئی۔</p>



<p>اس کے بعد باضابطہ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مولانا محمد یاسین جہازی نے ’’ایمان کا محاسبہ‘‘ کے عنوان پر نہایت فکر انگیز اور تحقیقی انداز میں خطاب کیا۔ انھوں نے مختلف بستیوں کے اعداد و شمار (Data) پیش کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ مسلمانوں کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں کتنے افراد واقعی ایمان کی فکر، مسجد، مکتب اور دعوتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے موکل چک کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ تقریباً 800 سے زائد آبادی میں سے صرف محدود افراد ہی دینی سرگرمیوں سے جڑے ہوئے پائے گئے، جب کہ بڑی تعداد ابھی بھی ایمان اور دینی فکر سے دور ہے۔ ان اعداد و شمار نے حاضرین کو سنجیدگی سے اپنے حالات کا جائزہ لینے پر مجبور کیا۔</p>



<p>پروگرام کی ایک منفرد خصوصیت یہ رہی کہ اسلامی تعلیمات کو عملی انداز میں سمجھانے کے لیے مختلف تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں اور گیمز بھی پیش کیے گئے۔ ان کے ذریعے شرکاء کو سلام کرنے، مصافحہ کرنے اور معانقہ کرنے کے مسنون طریقوں سے روشناس کرایا گیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔</p>



<p>بعد ازاں مفتی محمد زاہد امان قاسمی، سکریٹری جمعیت علمائے  بسنترائے، نے عقیدۂ اسلام کے موضوع پر مفصل پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے بنیادی سات عقائد کو نہایت آسان اور مؤثر انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی نجات کا دارومدار صحیح عقائد پر ہے، لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کی اصلاح اور مضبوطی کی فکر کرے۔</p>



<p>اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی، صدر جمعیۃ علمائے بسنترائے، نے ’’ریل سے ریئل تک‘‘ کے عنوان سے خصوصی پریزنٹیشن پیش کی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم صرف ریل (Reel) اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں کھوئے رہے تو حقیقی زندگی (Real Life) کی کامیابیوں سے بہت دور ہو جائیں گے۔ انھوں نے وقت کی قدر، مسلسل محنت، اعلیٰ مقاصد اور زندگی کے صحیح استعمال پر زور دیا۔ اس موقع پر پروجیکٹر کے ذریعے مختلف بصری مواد (Visual Presentation) بھی پیش کیا گیا جس نے حاضرین خصوصاً نوجوانوں پر گہرا اثر چھوڑا۔</p>



<p>پروگرام کے اختتامی تاثرات پیش کرتے ہوئے مفتی عبدالرحمن بسکاپوری نے کہا کہ اس نوعیت کا بیداری پروگرام دراصل کئی سال قبل شروع ہو جانا چاہیے تھا، تاہم اب جبکہ یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے تو اسے مزید منظم انداز میں آگے بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے مثبت اثرات پورے علاقے میں نمایاں ہوں۔</p>



<p>اسی طرح مولانا آصف قاسمی، امام مسجد مدنی چک، نے اپنے تاثرات میں اس پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ ان کے گاؤں میں بھی جلد اس نوعیت کا پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین تک دینی اور اصلاحی پیغام پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ عورتوں کے لیے بھی پروجیکٹر اور دیگر ذرائع کے ذریعے الگ یا مناسب انتظامات کیے جائیں تاکہ وہ بھی اس بیداری مہم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔</p>



<p>پروگرام کے دوران مولانا شمس تبریز، امام مسجد کیتھ پورہ، کی نگرانی میں ذکرِ جہری کا اہتمام کیا گیا۔ انھوں نے حاضرین کو کلمۂ طیبہ کا صحیح تلفظ سکھایا، اجتماعی طور پر کلمہ دہرایا اور عقیدہ و ایمان کی بنیادی تعلیمات کو عملی انداز میں سمجھایا۔</p>



<p>آخر میں مولانا آصف قاسمی کی دعا پر یہ روح پرور اور فکری نشست اختتام پذیر ہوئی۔</p>



<p>مقامی عوام اور شرکاء نے اس پروگرام کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے بیداری پروگرام مستقبل میں بھی مسلسل منعقد ہوتے رہیں گے، تاکہ معاشرے میں دینی شعور، صحیح عقیدہ، اسلامی تعلیمات اور نوجوانوں کی مثبت تربیت کو فروغ مل سکے۔</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1324</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1321</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1321#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Jun 2026 13:48:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1321</guid>

					<description><![CDATA[بتاریخ: 4 جون 2026 جمعیت علمائے بسنت رائے نے 4 جون 2026 کو اپنے آفس کیمپس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں مجلس منتظمہ (منعقدہ 24 /مئی 2026) کے ایک اہم فیصلے کے مطابق “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت افراد سازی کے مقصد سے علاقے کے ذمہ دار علمائے کرام کے لیے ایک خصوصی ٹریننگ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p></p>



<p>بتاریخ: 4 جون 2026</p>



<p>جمعیت علمائے بسنت رائے نے 4 جون 2026 کو اپنے آفس کیمپس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں مجلس منتظمہ (منعقدہ 24 /مئی 2026) کے ایک اہم فیصلے کے مطابق “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت افراد سازی کے مقصد سے علاقے کے ذمہ دار علمائے کرام کے لیے ایک خصوصی ٹریننگ سیشن منعقد کیا۔اس تربیتی نشست میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے لیے مختلف بستیوں کا دورہ کرنے والے وفد نے اپنے عملی تجربات کی روشنی میں شرکاء کو رہنمائی فراہم کی۔ پروگرام کے تحت بلاک کی کل 83 بستیوں میں سے 55 مسلم بستیوں تک بیداری مہم کو مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے تین سطحی ٹریننگ دی گئی۔</p>



<p>پہلی سطح:</p>



<p>پروگرام میں پیش کیے جانے والے پی پی ٹی کے لیے لیول ون ایس او پی (Standard Operating Procedure) تیار کرنے کی غرض سے اجتماعی مباحثہ کیا گیا اور عملی مشق کے طور پر شیڈو پروگرام پیش کیا گیا۔ اس مرحلے میں تمام شرکاء کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی پیشکش پر فوری اور تعمیری نقد کریں، خامیوں کی نشاندہی کریں اور بہتر اندازِ پیشکش کے لیے ایک صحت مند مقابلہ بھی کریں۔ ساتھ ہی تمام انتقادات اور مشاہدات کو باقاعدہ نوٹ کیا گیا، جن پر آخر میں اجتماعی غور و خوض کے بعد ایک جامع اور مؤثر خلاصہ مرتب کیا گیا۔</p>



<p>دوسری سطح:</p>



<p>اجتماعی مباحثہ کے خلاصہ کو مرتب کر کے انہی منتخب اور مؤثر الفاظ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ غیر ضروری طوالت سے بچا جا سکے اور اصل مقصد واضح طور پر سامنے آئے۔</p>



<p>تیسری سطح:</p>



<p>حتمی مرحلے میں شیڈو پروگرام کو بطور عملی نمونہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ حقیقی پروگرام کی پیشکش کا مکمل عملی مظاہرہ ہو سکے۔</p>



<p>شرکاء نے اس ٹریننگ کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے اسے افراد سازی (رجال سازی) کے لیے ایک مثالی اور قابل تقلید نمونہ قرار دیا، ساتھ ہی اس میں مزید وسعت پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>



<p>ٹریننگ میں شرکت کرنے والے حضرات:- </p>



<p>مفتی سجاد صاحب، امام موکل چک-</p>



<p> مولانا شمس تبریز، امام کیتھ پورہ- </p>



<p>مولانا مشتاق، امام جمنی کولہ- </p>



<p>مولانا شاکر، امام رحمانڈیہ-</p>



<p> مولانا مظفر، امام لوابان- </p>



<p>مولانا بلال، مدرس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ</p>



<p>ٹرینرز حضرات:-</p>



<p> مولانا محمد یاسین جہازی- </p>



<p>مفتی محمد نظام الدین قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت رائے &#8211; </p>



<p>مفتی محمد زاہد امان قاسمی ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1321</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا &#034;گاؤں گاؤں بیداری پروگرام&#8221; سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد</title>
		<link>https://jahazimedia.com/?p=1319</link>
					<comments>https://jahazimedia.com/?p=1319#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Admin]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:22:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اہم خبریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://jahazimedia.com/?p=1319</guid>

					<description><![CDATA[بتاریخ: 3 جون 2026 جمعیت علمائے بسنترائے کے زیرِ اہتمام جاری &#34;گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام&#8221; کے سلسلے کی چھٹی کڑی 3 جون 2026 کو سانکھی میں نہایت مؤثر انداز میں منعقد ہوئی۔ پروگرام کا آغاز مولانا ضیاء الحق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ قاری کلیم الدین صاحب جہازی (استاد جامعۃ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>بتاریخ: 3 جون 2026</p>



<p>جمعیت علمائے بسنترائے کے زیرِ اہتمام جاری &quot;گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام&#8221; کے سلسلے کی چھٹی کڑی 3 جون 2026 کو سانکھی میں نہایت مؤثر انداز میں منعقد ہوئی۔</p>



<p>پروگرام کا آغاز مولانا ضیاء الحق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ قاری کلیم الدین صاحب جہازی (استاد جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے نعتِ رسول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانی فضا سے معطر کیا۔</p>



<p>اس پروگرام میں مقامی افراد کے علاوہ جوار کے اراکینِ منتظمہ جمعیت علماء بسنترائے نے بھی شرکت کی، جن میں مولانا مجیب الحق صاحب (امام جامع مسجد جھپنیا) اور مولانا شمس پرویز صاحب قاسمی (امام جامع مسجد کیتھ پورا) کے نام قابلِ ذکر ہیں۔</p>



<p>&quot;آئیے اپنے ایمان کا محاسبہ کیجئے&#8221; کے عنوان سے مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے ایک نہایت دل چسپ، فکر انگیز اور مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے سلام، مصافحہ اور معانقہ کے عملی طریقوں کے ذریعے حاضرین کے ایمان و عقیدے سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے بنیادی عقائد سے ناواقف ہے۔مولانا نے سانکھی بستی کا تفصیلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً ایک ہزار مسلم آبادی پر مشتمل اس بستی میں دینی ضروریات کے لیے صرف ایک مسجد اور مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 60 بچے زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد 30 سے 40 کے درمیان ہے۔ مزید یہ کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی تعداد صرف چھ ہے۔ مجموعی طور پر ایک ہزار مسلمانوں میں سے صرف 106 افراد ایسے ہیں جو براہِ راست اپنے ایمان و عقیدے کی فکر رکھتے ہیں، جبکہ باقی 894 افراد دینی شعور سے تقریباً محروم ہیں۔انہوں نے اس تشویشناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت نہیں کریں گے تو ان کا مذہبی وجود خطرے میں پڑ جائے گا، اور یہی غفلت مستقبل میں ان کے سیاسی وجود کو بھی مٹا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ آخرت کی دائمی زندگی کے لیے فکر مند نہیں ہوتے، وہ دنیاوی معاملات میں بھی درست فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور معمولی مفادات کے بدلے اپنا ووٹ تک بیچ سکتے ہیں۔</p>



<p>مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت علمائے بسنترائے و بانی و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ) نے ایک مسلمان کے لیے ضروری سات بنیادی عقائد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور غلط نظریات کی اصلاح کی۔ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحت انہوں نے واضح کیا کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں، اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا؛ لہٰذا نبوت کا دعویٰ کرنے والا شخص جھوٹا اور گمراہ ہے۔</p>



<p>بعد ازاں انہی ساتوں عقائد پر عملی مشق مولانا مجیب الحق صاحب (امام جامع مسجد جھپنیا) نے کرائی، جس سے حاضرین کو عقائد کو سمجھنے اور یاد رکھنے میں مزید آسانی ہوئی۔</p>



<p>مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علمائے بسنترائے و بانی و مہتمم جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے &quot;ریل سے ری یل تک&#8221; کے عنوان سے نوجوانوں کی تربیت پر مبنی ایک مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے زندگی کا واضح ہدف (مشن) متعین کرنا، وقت کی قدر کرنا، اور مسلسل محنت و جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی نوجوان کا ہدف استاد بننا ہے تو اسے تعلیم کو اپنا مشن بنا کر دلجمعی کے ساتھ محنت کرنی ہوگی۔انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ آج کے بہت سے نوجوان اسکول و کالج جا کر اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتے ہیں اور قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے یہ دکھایا کہ موجودہ دور کے بعض نوجوانوں کا مقصد صرف &quot;خالی چھوڑی پٹاتا ہے&#8221; جیسی بے مقصد سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جو ان کے مستقبل کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔انہوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وقت کی قدر نہ کی گئی تو وقت انسان کو روندتا ہوا آگے نکل جائے گا اور بعد میں پچھتاوا بے سود ہوگا۔</p>



<p>اس پروگرام میں جدید ٹیکنیکل انتظامات جیسے پروجیکٹر اور ویڈیو گرافی کی ذمہ داری جناب محمد اسماعیل نے بحسن و خوبی انجام دی، جس سے پروگرام کی افادیت اور تاثیر میں مزید اضافہ ہوا۔اس کے بعد &quot;تذکیرِ کلمہ&#8221; کے عنوان سے اجتماعی طور پر کلمہ طیبہ کا ورد کرایا گیا اور مختصر مراقبہ بھی کروایا گیا، جس سے حاضرین پر روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔</p>



<p>آخر میں مولانا  امین  اشرف صاحب نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے بسنترائے کی ٹیم نے ایمان و عقیدہ کی اصلاح اور نوجوانوں کی فکری بیداری کے لیے جدید وسائل (لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، کیمرہ) کے استعمال کے ساتھ جو منفرد اور مؤثر انداز اختیار کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تعریف بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا، جبکہ ایک مقامی صاحبِ ثروت کی جانب سے پرتکلف ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا۔یہ چھٹا بیداری پروگرام اپنی افادیت، نظم و ضبط اور اثر انگیزی کے اعتبار سے ایک کامیاب مرحلہ ثابت ہوا۔</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://jahazimedia.com/?feed=rss2&#038;p=1319</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
