<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<?xml-stylesheet type="text/xsl" media="screen" href="/~d/styles/rss2full.xsl"?><?xml-stylesheet type="text/css" media="screen" href="http://feeds.feedburner.com/~d/styles/itemcontent.css"?><rss xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/" xmlns:creativeCommons="http://backend.userland.com/creativeCommonsRssModule" version="2.0">

<channel>
	<title>نعمان کی ڈائری</title>
	
	<link>http://noumaan.sabza.org</link>
	<description>ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 25 Oct 2009 19:37:28 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.5</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<creativeCommons:license>http://creativecommons.org/licenses/by/2.0/</creativeCommons:license><image><link>http://creativecommons.org/licenses/by/2.0/</link><url>http://creativecommons.org/images/public/somerights20.gif</url><title>Some Rights Reserved</title></image><atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="self" href="http://feeds.feedburner.com/noumaan" type="application/rss+xml" /><feedburner:emailServiceId xmlns:feedburner="http://rssnamespace.org/feedburner/ext/1.0">noumaan</feedburner:emailServiceId><feedburner:feedburnerHostname xmlns:feedburner="http://rssnamespace.org/feedburner/ext/1.0">http://feedburner.google.com</feedburner:feedburnerHostname><atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="hub" href="http://pubsubhubbub.appspot.com" /><item>
		<title>ابنٹو کارمک کوآلا پر ایک نظر</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/529</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/529#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2009 19:37:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[ابنٹو]]></category>
		<category><![CDATA[لینکس]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=529</guid>
		<description><![CDATA[ابنٹو کا اگلا نسخہ، ابنٹو نو اعشاریہ دس المعروف کارمک کوآلا اگلے چند دن میں جاری ہونے والا ہے۔ میں نے اس کا بیٹا نسخہ اتارا اور آزمایا ہے۔ یک سطری رائے دوں تو  کارمک کوآلا، نہ صرف ابنٹو بلکہ آج تک میں نے جتنی بھی لینکس ڈسٹروز آزمائی ہیں ان سب میں بہترین [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="www.ubuntu.com">ابنٹو</a> کا اگلا نسخہ، ابنٹو نو اعشاریہ دس المعروف کارمک کوآلا اگلے چند دن میں جاری ہونے والا ہے۔ میں نے اس کا <a href="http://www.ubuntu.com/testing/karmic/beta">بیٹا نسخہ</a> اتارا اور آزمایا ہے۔ یک سطری رائے دوں تو  کارمک کوآلا، نہ صرف ابنٹو بلکہ آج تک میں نے جتنی بھی لینکس ڈسٹروز آزمائی ہیں ان سب میں بہترین ہے۔ </p>
<p>اب ذرا تفصیل۔ سب سے پہلی بہتری جو کہ پچھلے نسخے میں بھی موجود تھی وہ ہے برق رفتار بوٹ اپ۔ ابنٹو نے اپ اسٹارٹ کے ذریعے جن تبدیلیوں کا آغاز کیا تھا کارمک میں ان تبدیلیوں کو بہتر کیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ کارمک تیزی سے بوٹ ہوتا ہے بلکہ لاگ آن اسکرین سے ڈیسکٹاپ کی ٹرانسیشن کو بھی خوبصورتی سے تراشا گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جسے آپ کا ڈیسکٹاپ فوری لوڈ ہوگیا ہو۔ رفتار کے ساتھ خوبصورت انیمیشن کے ذریعے ڈیسکٹاپ کو منتقلی آپ کو فوری طور پر ایک استعمال کے لئے تیار ماحول فراہم کرتی ہے۔ </p>
<p><a href="http://noumaan.sabza.org/wp-content/ubuntu-910-karmic.png"><img src="http://noumaan.sabza.org/wp-content/ubuntu-910-karmic-300x187.png" alt="ubuntu-910-karmic" title="ubuntu-910-karmic" width="300" height="187" class="aligncenter size-medium wp-image-530" /></a></p>
<p> اس نسخے میں ڈیسکٹاپ بیک گراؤنڈ، آئیکونز، اور یوزر انٹرفیس میں بھی چند دلچسپ اور خوبصورت تبدلیاں کی گئی ہیں۔ گنوم کا ابنٹو تھیم اس نسخے کے لئے موڈیفائی کیا گیا ہے۔ تھیم کی دو نمایاں خوبیاں ایک تو نئے آئیکون جو آنکھوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں اور ڈیسکٹاپ ماحول میں زیادہ بہتر فٹ ہوتے ہیں۔ دوسری کنٹرولز اور ونڈوز کی کلر اسکیم اور بٹنوں کے سائز کی ہے۔ پچھلے نسخے کے تھیم کی خامی یہ تھی کہ وہ ڈیسکٹاپ ماحول کو عجب گولا گنڈا سا رنگین بنادیتا تھا اسے دور کیا گیا ہے۔ آنکھوں کو چبھتے نارنگی رنگ کے بجائے چاکلیٹی کلر کا استعمال کیا گیا ہے۔ گنوم کے نئے نسخے میں مینو بٹنز جیسے یس نو اور کینسل وغیرہ پر آئیکون بنے نظر نہیں آتے جس سو وہ کافی  بھلے دکھائی دے رہے ہیں۔ </p>
<p>گنوم کے نئے نسخے کے استعمال کے ساتھ، اب ابنٹو نے پڈجن انسٹنٹ مسینجر کی جگہ <a href="http://live.gnome.org/Empathy">ایمپیتھی</a> شامل کیا ہے۔ یہ پڈجن سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس سے آپ گوگل ٹاک پر آڈیو ویڈیو چیٹ بھی کرسکتے ہیں تاہم میں نے یہ فیچرز آزمائے نہیں ہیں۔</p>
<p><a href="http://noumaan.sabza.org/wp-content/ubuntu-910-screenshot.png"><img src="http://noumaan.sabza.org/wp-content/ubuntu-910-screenshot-300x176.png" alt="ubuntu-910-screenshot" title="ubuntu-910-screenshot" width="300" height="176" class="aligncenter size-medium wp-image-531" /></a></p>
<p>ایک اہم خاصیت اس نسخے کی یہ ہے کہ یہ ای ایکس ٹی تھری فائل سسٹم کی جگہ ای ایکس ٹی فور فائل سسٹم بائی ڈیفالٹ استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک فریش انسٹال کرتے ہیں اور ایک پارٹیشن یا ڈسک منتخب کرتے ہیں تو یہ اسے بائی ڈیفالٹ ای ایکس ٹی فور کے طور پر فارمیٹ کرے گا۔  آپ چاہیں تو ای ایکس ٹی تھری ہی استعمال کرسکتے ہیں۔ </p>
<p>اس نسخٔے میں <a href="http://www.mozilla.com/en-US/firefox/3.5.3/releasenotes/">فائر فوکس کا نیا نسخہ 3.5</a> استعمال ہوریا ہے جو کافی تیز ہے۔ اور اب کی بار فائر فوکس کی گنوم انٹگریشن میں کافی بہتری نظر آرہی ہے۔ فلیش اور دیگر پلگ انز کی انسٹالیشن کا طریقہ کار وہی پرانا ہے یعنی آپ کو <a href="https://help.ubuntu.com/community/RestrictedFormats">ابنٹو ریسٹرکٹڈ ایکسٹراز</a> نامی ایک پیکیج انسٹال کرنا ہوگا۔ </p>
<p>جن لوگوں کو انٹیل کے ڈرائیورز استعمال کرتے ہوئے ابنٹو کے پچھلے ورژن میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کی مشکلات اب کی بار نئے انٹل ڈرائیورز کی بدولت حل ہوجائیگی۔ </p>
<p>چونکہ یہ بیٹا نسخہ ہے اس لئے اس میں کئی خامیاں ابھی بھی موجود ہیں مگر جس رفتار سے اپڈیٹ آرہے ہیں اور بگ فکسنگ جاری ہے اس سے لگتا ہے کہ ریلیز سے قبل ان میں سے اکثر غائب ہوچکی ہونگی۔ فی الحال اس میں ٹوٹم میڈیا پلئر میں ویڈیو پلے کرتے وقت اگر آپ فارورڈ کرتے ہیں اور ویڈیو xvid کوڈک میں ہے تو آڈیو آگے پیچھے ہوجاتی ہے۔ ٹوٹم کا یو ٹیوب پلگ ان بہت عمدہ ہے اور اب اس میں بی بی سی پلگ ان بھی ڈال دیا گیا ہے جس سے آپ <a href="http://www.bbc.co.uk/podcasts/">بی بی سی کی پوڈکاسٹس</a> سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ </p>
<p>حسب روایت ابنٹو ابھی بھی اردو لکھنے والوں کے لئے بہترین آپریٹنگ سسٹم ہے۔ اس نسخے میں ابنٹو پر اردو کی تنصیب کو مزید آسان بنادیا گیا ہے۔ آپ لینگویجز پر جاکر صرف ایک کلک کے ذریعے اردو سپورٹ انسٹال کرسکتے ہیں۔ ابنٹو کی اردو سپورٹ میں گنوم، اوپن آفس، نفیس ویب نسخ بطور فونٹ، اور کئی دیگر پیکجز شامل ہیں۔ کی بورڈ لے آؤٹس میں بھی ابنٹو آپ کو ایک نہیں بلکہ چار اردو کی بورڈ لے آؤٹ میں سے انتخاب کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان میں اردو ویب پر نصب کی بورڈ لے آؤٹ اور کرلپ کا فونٹک کی بورڈ لے آؤٹ دونوں شامل ہیں۔ </p>
<p><a href="http://noumaan.sabza.org/wp-content/ubuntu-910-urdu.png"><img src="http://noumaan.sabza.org/wp-content/ubuntu-910-urdu-300x187.png" alt="ubuntu-910-urdu" title="ubuntu-910-urdu" width="300" height="187" class="aligncenter size-medium wp-image-532" /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/529/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وزیرستان کی لڑائی</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/526</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/526#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2009 19:26:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=526</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کی افواج نے تیس ہزار جوانوں کے ساتھ پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقہ جات میں آپریشن شروع کردیا ہے۔ اس آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر، لڑاکا طیارے، بھاری توپخانے اور دیگر اسلحہ استعمال کیا جارہا ہے۔ 
پاکستان آرمی کے مد مقابل اندزا دس ہزار کے قریب طالبان اور القاعدہ جنگجو ہونگے۔ پاکستانی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کی افواج نے <a href="http://www.guardian.co.uk/world/2009/oct/17/pakistan-sends-troops-against-taliban">تیس ہزار جوانوں</a> کے ساتھ پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقہ جات میں آپریشن شروع کردیا ہے۔ اس آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر، لڑاکا طیارے، بھاری توپخانے اور دیگر اسلحہ استعمال کیا جارہا ہے۔ </p>
<p>پاکستان آرمی کے مد مقابل اندزا دس ہزار کے قریب طالبان اور القاعدہ جنگجو ہونگے۔ پاکستانی طالبان کی کمان حکیم اللہ محسود نے سنبھالی ہوئی ہے۔ </p>
<p>اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی نے ایک مخصوص علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ یہ علاقہ دشوار ہے اور بھاری اسلحے کی نقل و حمل یہاں بہت مشکل ہے۔ مگر پاکستان آرمی، صوبہ سرحد کی حکومت اور قبائلیوں کے درمیان مذاکرات کے سبب یہ توقع کی جارہی ہے کہ آپریشن میں دیگر قبائل محسود قبیلے اور محسود طالبان کی مدد کو نہ آئیں گے۔ اس سے آپریشن کے سرعت اور کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کی توقع ہے۔ </p>
<p><a href="http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=72600">آئی ایس پی آر کے مطابق</a> علاقے میں مقامی قبائلی طالبان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ازبک اور عرب باشندے بھی لڑائی میں شامل ہیں۔ اب تک چھ جوانوں کی شہادت کی اطلاع ہے۔ </p>
<p>یہ لڑائی پاکستان کی حالیہ دہشت گرد مخالف جنگ کی سب سے <a href="http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/asia/pakistan/6359467/Pakistan-fights-mother-of-all-battles-with-the-Taliban.html">اہم لڑائی ہے</a>۔ گرچہ اس کا فوری مقصد تو محسود طالبان کی کمر توڑنا ہے۔ مگر آپریشن کے بعد بھی تحریک طالبان پاکستان کا صفایا ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ ان کے ترجمان بتا چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے شہروں میں گوریلا وار لڑیں گے۔ </p>
<p>گزشتہ دنوں ہونے والے حملے جن میں جی ایچ کیو پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی اتنی شاندار نہیں ہے۔ پاکستان کے گنجان آباد شہروں کو نشانہ بنانا طالبان اور القاعدہ کے لئے بہت آسان ہے۔ </p>
<p>اگر آپ اس جنگ کی خبروں کو فالو کررہے ہیں تو غیر ملکی اخبارات لڑائی کی پاکستانی میڈیا سے زیادہ بہتر کوریج کررہے ہیں۔ یہ لڑائی پاکستان کی سلامتی کے لئے بے حد اہم ہے۔ تاہم اس لڑائی کا بہت زیادہ <a href="http://www.nytimes.com/2009/10/18/world/asia/18pstan.html">فائدہ نیٹو افواج کو نہیں ہوگا</a>۔ تاہم پاکستان کی داخلی صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔ </p>
<p>ٹیلی گراف پر پاکستان کے طالبان امور کے ماہر احمد راشد کا تجزیہ شائع ہوا ہے۔ احمد راشد کا خیال ہے <a href="http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/asia/pakistan/6359588/Analysis-no-end-in-sight-for-Pakistans-struggle-against-the-Taliban.html">پاکستان کی جدوجہد کا اختتام قریب نظر نہیں آتا</a>۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/526/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کمرشل بریک</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/523</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/523#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2009 16:26:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[ٹیلیوژن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=523</guid>
		<description><![CDATA[عدلیہ کی آزادی
 اور
 مشرف کی مفروری
جیسی شاندار فلموں کے خالق ۔ ۔ ۔
دی گریٹ ڈیبیٹ  ۔ ۔ ۔
میرے مطابق۔ ۔ ۔
کیپیٹل ٹاک ۔ ۔ ۔
اور آج کامران کے ساتھ ۔ ۔ ۔ 
کے مصنف 
آسکر ایوارڈ یافتہ ٹی وی چینل ۔۔۔ 
اب پیش کرتا ہے:
 کیری لوگر پریمئر لیگ۔
 جس میں نیوز چینلز [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>عدلیہ کی آزادی<br />
 اور<br />
 مشرف کی مفروری</p>
<p>جیسی شاندار فلموں کے خالق ۔ ۔ ۔</p>
<p>دی گریٹ ڈیبیٹ  ۔ ۔ ۔<br />
میرے مطابق۔ ۔ ۔<br />
کیپیٹل ٹاک ۔ ۔ ۔<br />
اور آج کامران کے ساتھ ۔ ۔ ۔ </p>
<p>کے مصنف </p>
<p>آسکر ایوارڈ یافتہ ٹی وی چینل ۔۔۔ </p>
<p>اب پیش کرتا ہے:</p>
<p> کیری لوگر پریمئر لیگ۔</p>
<p> جس میں نیوز چینلز پر  مباحثوں کے چیتے۔۔  امریکی امداد کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونگے۔</p>
<p> آٹھ پہلوان،<br />
 ایک اسٹوڈیو،<br />
چار کیمرے،<br />
 اور فیصلہ کرنے والے ہونگے آپ۔ ابھی چار چار چار سو بیس پر ایس ایم ایس کریں اور اپنے پسندیدہ کاغذی شیر کو ووٹ کریں۔ </p>
<p>کس کو ملے یہ امریکی امداد؟<br />
 فوج کو، اسٹیبلیشمنٹ کو، یا پاکستان کے جمہوری اداروں کو؟ </p>
<p>فیصلہ ہوگا لائیو اور جج ہونگے آپ۔ </p>
<p>ایس ایم ایس کرنے والے ایک خوش نصیب کو بیس ڈالر کے نوٹ کی شکل دکھائی جائیگی۔ اور دس خوش نصیبوں کو ڈالروں کی خوشبو سنگھائی جائے گی۔ </p>
<p>۔۔۔۔۔۔</p>
<p>کیری لوگر پریمئر لیگ ۔</p>
<p>ہر پیر سے جمعرات۔۔۔ شام سات بج کر دس منٹ اور رات گیارہ بج کر چھیاسٹھ منٹ پر </p>
<p>صرف اور صرف جیو نیوز پر</p>
<p>۔ ۔ ۔ </p>
<p>نہا دھو کر جیو<br />
ٹی وی دیکھ کر جیو</p>
<p>۔۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/523/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آج کے اخبار سے</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/520</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/520#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 30 Sep 2009 10:15:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[کڑیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=520</guid>
		<description><![CDATA[روزنامہ جنگ پر کالم نویس انور غازی نے آج لاعلمی اور بے تکی معلومات پر مبنی صحافت کی انتہا کردی ہے۔ موصوف نے  بلیک واٹر کو فری مینسنز سے جا ملایا ہے اور یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ فری میسنز ایک یہودی تنظیم ہے۔ جسے پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>روزنامہ جنگ پر کالم نویس انور غازی نے آج لاعلمی اور بے تکی معلومات پر مبنی صحافت کی انتہا کردی ہے۔ موصوف نے  <a href="http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=376915">بلیک واٹر کو فری مینسنز</a> سے جا ملایا ہے اور یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ فری میسنز ایک یہودی تنظیم ہے۔ جسے پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں بین کردیا گیا تھا۔ موصوف کے تمام کالم کا دورامدار اس <a href="http://www.youtube.com/watch?v=gUZ3hk-TTas">ویڈیو</a> پر ہے جو ابھی چند دن پہلے ڈاکٹر علوی نے اپنے بلاگ پر<a href="http://teeth.com.pk/blog/2009/09/18/blackwater-watch-by-citizens-of-pakistan"> شائع</a> کی تھی۔ </p>
<p>اس ویڈیو اور ڈاکٹر علوی کی پوسٹ پر میری رائے میرے <a href="http://diary.sabza.org/2009/09/27/secret-missions-of-black-water/">انگریزی بلاگ</a> پر ملاحظہ فرمائیں۔ </p>
<p>اور جب آپ جنگ کے ویب سائٹ پر انور غازی کا بے تکا مضمون پڑھ چکیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کالم&#8221;<a href="http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=376911">خوشگوار یادیں</a>&#8221; بھی ملاحظہ فرمائیے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان  نہایت سادگی کے ساتھ بہت ہی شستہ زبان میں بڑی نفاست سے لکھتے ہیں۔ ان کے لہجے کی مٹھاس، بیان کی خوبصورتی اور اخلاص ان کی تحریر کی نمایاں  خوبیاں ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/520/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>افسانوی کالم نگاری پر کچھ مزید</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/515</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/515#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 25 Sep 2009 11:15:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[پاپولر کلچر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=515</guid>
		<description><![CDATA[نئے جہادی لٹریچر کے جواب میں اردو بلاگستان کے متنازعہ تبصرہ نگار عبداللہ نے ایک تبصرہ شامل کیا ہے۔ یہ تبصرہ انصار عباسی کے کالم کی صنف یعنی افسانوی، تخلیقی، پروپگینڈہ کی طرز پر ہی لکھا گیا ہے۔ عبداللہ کے تبصرے میں بھی شوق شہادت سے سرشار ایک نوجوان اور ایک ماں کے کردار ہیں۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://noumaan.sabza.org/archives/504">نئے جہادی لٹریچر</a> کے جواب میں اردو بلاگستان کے متنازعہ تبصرہ نگار عبداللہ نے <a href="http://noumaan.sabza.org/archives/504#comment-23010">ایک تبصرہ</a> شامل کیا ہے۔ یہ تبصرہ انصار عباسی کے کالم کی صنف یعنی افسانوی، تخلیقی، پروپگینڈہ کی طرز پر ہی لکھا گیا ہے۔ عبداللہ کے تبصرے میں بھی شوق شہادت سے سرشار ایک نوجوان اور ایک ماں کے کردار ہیں۔ احادیث اور قرآن کا ذکر ہے۔ اگر نعمان کی ڈائری ایک بلاگ نہ ہوتا بلکہ تخلیقی ادب کی تدریس کا حلقہ ہوتا تو میں آپ سب کو ایک مشق دیتا کہ اسی صنف میں ایک پوسٹ لکھیں۔ موضوع کوئی بھی متنازعہ رکھ لیں اور کردار بھی اپنی پسند کے منتخب کریں۔</p>
<p>ایک اخباری مضمون کا کینوس ایک باقاعدہ افسانے کے کینوس سے بہت چھوٹا ہوتا ہے آپ کے پاس محدود تعداد میں اخباری جگہ ہوتی ہے آپ کے ایڈیٹر کو وہ کالم اس میں فٹ کرنا ہوتا ہے۔ لحاظہ یہاں آپ کو بہت ہی احتیاط سے کردار و واقعات چننا ہوتے ہیں۔ ایک اچھے افسانے کی طرح آپ کے افسانے نما کالم کو ایک انجام تک پہنچنا ہوتا ہے جس کی منطق قاری کو سوچنے پر مجبور کرنا ہوتی ہے اور آپ کے کرداروں سے ہمدردی اور ان کی جدوجہد پر اپنی ایک رائے قائم کرنا ہوتی ہے۔ کامیاب افسانوی کالم کا معیار یہ ہے کہ قاری افسانوی کالم نگار کے موقف سے تقریبا متفق ہوجائے۔ چونکہ جگہ محدود ہوتی ہے اور کردار تخلیق کرنے اور واقعات بیان کرنے کے بعد دلائل کے لئے جگہ نہیں بچتی تو احادیث و قرآن کا سہارا لیا جائے تاکہ اگر کوئی اختلاف بھی کرنا چاہے تو آپ اسے یہ کہہ سکیں کہ تم خود کو قرآن و حدیث سے بالاتر سمجھتے ہو۔ اگر وہ ہاں کہے تو واجب القتل۔ نہ کہے تو پھر اسے قائل ہونا ہی پڑے گا۔  </p>
<p>واضح رہے کہ اس پوسٹ اور اس سے پچھلی پوسٹ کا مقصد جہاد یا دہشت گردی پر بحث کرنا نہیں بلکہ تخلیقی ادب کی یہ نئی صنف ہمارا موضوع سخن ہے۔ میرا خیال ہے اس صنف کو باقاعدہ ادب تسلیم کیا جانا چاہئے اور اس میں ہونے والے کام کو ایک نئے زمرے کے تحت جمع کیا جانا چاہئے۔ بعض کالم تو تخلیق و ہنر کی بہت ہی خوبصورت مثال ہوتے ہیں۔ افسوس اتنا عمدہ تخلیقی مواد بطور کالم فروخت ہورہا ہے اور اگلے دن اس میں چنے بک رہے ہوتے ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/515/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نیا جہادی لٹریچر</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/504#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Sep 2009 01:08:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[کڑیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے، اور پڑھے جانے والے روزنامہ جنگ کراچی، اور انٹرنیٹ ایڈیشنز پر انصار عباسی کا مضمون۔ بقول ان کے یہ مضمون ایک پمفلٹ کے مندرجات پر مبنی ہے جو انہیں کسی ذریعے سے ملا۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ پمفلٹ کسی جہادی کی ماں نے تحریر کیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے، اور پڑھے جانے والے روزنامہ جنگ کراچی، اور انٹرنیٹ ایڈیشنز پر<a href="http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=375478"> انصار عباسی کا مضمون</a>۔ بقول ان کے یہ مضمون ایک پمفلٹ کے مندرجات پر مبنی ہے جو انہیں کسی ذریعے سے ملا۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ پمفلٹ کسی جہادی کی ماں نے تحریر کیا ہے۔</p>
<p>بالکل ایسے ہی جیسے ڈین براون اپنے ناول میں سائنس اور تاریخ کے پروفیسرز تخلیق کرتا ہے اور ان کے منہ سے جھوٹی سائنس اور فرضی تاریخ سنواتا ہے۔ افسانہ نگاری ایک بہت دلچسپ فن ہے ہم سب کہاںیاں سناتے ہیں۔ بوڑھے اپنی جوانی کی داستانیں جن میں وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی عمر رائیگاں نہیں گئی، بچے تصوراتی دوستوں کے قصے اور نوجوان اپنے خیالی محبوبوں کے احوال۔</p>
<p> مگر کچھ چالاک لوگ ہی کہانیوں سے پیسے کما پاتے ہیں۔  </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/504/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ڈین براؤن: گمشدہ علامت بے تکے کوڈ اور گھسی پٹی تھیوریز</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/502</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/502#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 22 Sep 2009 16:37:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=502</guid>
		<description><![CDATA[ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شہر کے باہر چھوٹی سی بستی میں ایک بدصورت بڑھیا رہا کرتی تھی۔ بیچاری بڑھیا کی مصیبت یہ تھی کہ وہ لوگوں میں گھلنا ملنا چاہتی تھی مگر کوئی اسے پسند نہ کرتا تھا۔ اب وہ اس نئے شہر میں آئی تھی اور یہ سوچ کر کہ لوگ اس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شہر کے باہر چھوٹی سی بستی میں ایک بدصورت بڑھیا رہا کرتی تھی۔ بیچاری بڑھیا کی مصیبت یہ تھی کہ وہ لوگوں میں گھلنا ملنا چاہتی تھی مگر کوئی اسے پسند نہ کرتا تھا۔ اب وہ اس نئے شہر میں آئی تھی اور یہ سوچ کر کہ لوگ اس سے بات کریں گے وہ شہر میں داخل ہوتی ہے۔ مگر کوئی اس کی طرف دھیان بھی نہیں دیتا۔ وہ ایک دکان پر جاتی ہے تو دکاندار اسے نظرانداز کردیتا ہے، وہ ایک راہگیر سے تعارف چاہتی ہے تو وہ اسے دیکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ بڑھیا سارے دن کی کوشش کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہے۔ </p>
<p>اتنے میں شہر کے دروازے سے ایک خوبصورت بانکا سجیلا جوان داخل ہوتا ہے۔ ہر نگاہ اس خوش شکل، خوش لباس نوجوان پر جاٹہرتی ہے۔ دکاندار آگے بڑھ کر اسے خوش آمدید کہتے ہیں، راہگیر اس سے تعارف حاصل کرنے کو منتظر نظر آتے ہیں۔ وہ جہاں جاتا میلے کا سا سماں چھا جاتا۔ ہر کوئی اس کی خوش مزاجی اور خوش لباسی سے مرعوب ہوتا اس کی رفاقت کو بے چین نظر آتا۔ بڑھیا چپکے چپکے اس نوجوان کا پیچھا کرتی رہی۔ یہاں تک کہ شام ہونے کو آئی اور وہ نوجوان شہر سے باہر نکلا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔ </p>
<p>بڑھیا اس نوجوان سے جلن محسوس کررہی تھی۔ اسے ان لوگوں پر غصہ آرہا تھا جو اسے نظرانداز کرتے تھے اور خوبصورت، خوش لباس، جوان اور بظاہر خوشحال شخص کے آگے بچھے چلے جاتے تھے۔ اس نے سوچا کہ اسے اس نوجوان سے بات کرنی چاہئے۔ یہ سوچ کر اس نے نوجوان کو آواز دے کر روکا اور قریب پہنچ کر اس سے بولی &#8220;میں نے دیکھا کس طرح لوگ تم سے مرعوب اور متاثر ہوتے ہیں کیا وجہ ہے کہ لوگ تمہیں اتنا پسند کرتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ وہ مجھ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے؟&#8221; نوجوان مسکرایا اور بولا &#8221; بڑی بی سب سے پہلے تو یہ بتائیں آپ کون ہیں؟&#8221;</p>
<p>بڑھیا بولی۔ &#8220;میرا نام سچائی ہے اور میں جگت جگت دوستوں تلاش میں پھرتی ہوں مگر کوئی مجھے زیادہ پسند نہیں کرتا۔&#8221;<br />
نوجوان بولا۔&#8221; میرا نام افسانہ ہے، میں بھی بستی بستی گھومتا ہوں اور جہاں جاتا ہوں لوگ محھے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ بڑی بی معاف کرنا مگر تم بہت ڈراوّنی، بہت پرانی اور بہت غیردلچسپ دکھائی دیتی ہو اس لئے لوگ تمہیں جاننا نہیں چاہتے۔ تم ایسا کرو میری ساتھی بن جاوّ آج کے بعد میں جہاں بھی جاوّں تم میرے پیچھے چھپی رہنا اور لوگ میرے ساتھ ساتھ تمہیں بھی خوش آمدید کہیں گے۔&#8221; تب سے سچائی افسسانے کے پہلو میں چھپ کر انسانی شعور کی گلیوں میں گھوم رہی ہے۔ </p>
<p>یہ ایک یہودی لوک داستان ہے، ذرا تھوڑی دیر کے لئے اس کہانی کے ایک مرکزی کردار سچائی کا نام بدل کر جھوٹ کردیں۔ اور پھر کہانی پڑھیں تو بھی میرے خیال میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جھوٹ بھی افسانے کے لبادے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ یہی بات شاید ڈین براؤن نے سوچ رکھی ہے۔ اور بخدا ہمیں سچائی یا جھوٹ سے کوئی سروکار نہیں، ہمیں تو دلچسپ داستان سے مطلب ہے۔ مگر افسوس ڈین براؤن کا افسانہ اب کے اتنا دلچسپ نہیں تھا کہ وہ جھوٹ کو چھپا سکتا۔ یوں جھوٹ کی بدصورتی اور کہانی کی مکاری اس طرح عیاں ہوئی کہ پڑھنے والے سخت کوفت کا شکار ہوئے۔ </p>
<p>یہ ایک مایوس کن ناول تھا۔ بجائے اس کے کہ ڈین براؤن اپنے لکھے میں کوئی نیا پن لاتا۔ &#8220;<a href="http://www.amazon.com/Lost-Symbol-Dan-Brown/dp/0385504225/ref=sr_1_1/178-4823733-4935063?ie=UTF8&#038;s=books&#038;qid=1253636760&#038;sr=8-1">The lost symbol</a>&#8221; پڑھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم ڈین براؤن کا پرانا ناول صرف شہر کی تبدیلی کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ اس بار سائنسی اور تاریخی حقائق اس قدر بوگس تھے کہ ناول بدمزہ محسوس ہورہا تھا۔ فری میسنز کے گرد گھومتی روایتی سازشی نظریات کی کئی کہانیوں کو سائنس کی ایک نئی اور کافی حد تک متنازعہ شاخ نوئٹک سائنسز سے جوڑ کر عجیب و غریب چوں چوں کا مربہ تیار کیا گیا۔ </p>
<p>یہ ناول پڑھ کر مجھے اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز یاد آگئی۔ اشتیاق احمد یہ بتاتے تھے کہ سائنس کے وہ علوم جو اب دریافت ہورہے ہیں وہ پہلے ہی قرآن میں موجود ہیں، ایسا ہی کچھ ڈین براؤن کے ناول میں کہا گیا ہے کہ جدید سائنس کے اہم نظریات صدیوں پہلے کے تانترک، سنیاسی باوا اور پادری وغیرہ دریافت کرچکے تھے اور بائبل میں بھی کئی سائنسی رموز چھپے ہیں۔ اس کے علاوہ اشتیاق احمد کے ایک ناول میں بھی ایک ایسے تجربے کا ذکر تھا جس میں ایک قریب المرگ انسان کو ایک ٹیوب میں بند کردیا جاتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اس کی روح دوسری ٹیوب میں قید ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک تجربہ دی لاسٹ سمبل کی ہیروّن کیتھرین سولومن کرتی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اتنے سادہ تجربات سائنسدانوں کو پہلے کیوں نہ سوجھے؟ </p>
<p>ناول کا پلاٹ بے تکا تھا اور چند گھنٹوں میں ایک عظیم معمہ حل کرنے کی جدوجہد کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ جدوجہد دسیوں طویل فلیش بیکس پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ کیتھرین سولومون کی عجیب تھیوریز سمجھانے کے لئے دسیوں صفحات اور رابرٹ لینگڈن کے من گھڑت تاریخی فیکٹس کو سمجھانے پر اضافی صفحات ضائع کرے گئے ہیں۔ یہ بات تو سب کو ہی معلوم ہے کہ ڈین براؤن کی نام نہاد ریسرچ کس قدر بوگس ہوتی ہے۔ بالکل کنسپائریسی تھیوریسٹس کی طرح وہ من گھڑت حقائق گھڑتا ہے جو قابل گرفت بھی نہیں کیونکہ بہر حال وہ ایک ناول لکھ رہا ہے جو سراسر فکشن ہے۔ </p>
<p>شاید یہ ناول اتنا غیر دلچسپ نہ ہوتا اگر ڈین براؤن یہ طے کرلیتا کہ اسے افسانے کے لبادے میں سچ کو چھپانا ہے، جھوٹ کو یا دونوں کو اور کیا افسانے کا لبادہ اتنا دلچسپ ہے کہ ان دونوں بدصورت اور بدہئیت چیزوں کو پذیرائی دلواسکے۔ ناقدین تو پہلے ہی متفق تھے کہ ڈین براؤن اچھا ناول نگار نہیں ہے اب عوام ناقدین کی رائے سے کافی متفق نظر آرہے ہیں۔ نیویارکر پر<a href="http://www.newyorker.com/talk/comment/2009/09/28/090928taco_talk_gopnik"> ایڈم گوپنک</a> کا تبصرہ ڈین براؤن کے انداز کی درست منظر کشی کرتا ہے ان کا خیال ہے کہ رابرٹ لینگڈن ٹین ایجرز کے لئے لکھے جانے والے ایڈونچر ناولز کی سیریز کا کوئی معمولی کردار ہے جو ایک فارمولے کے تحت ہر ناول میں ایک ہی مہم مختلف اسٹیج پر پیش کرتا ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/502/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ڈان براؤن: گمشدہ علامت</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/498</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/498#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 15 Sep 2009 18:09:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[کڑیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=498</guid>
		<description><![CDATA[
آج دنیا بھر میں ڈان براؤن کی کتاب &#8220;The lost symbol&#8221; جاری ہوگئی ہے۔ پاکستان میں یہ کتاب لبرٹی بک اسٹور پر دستیاب ہے۔ میں آج ہی یہ ناول خرید لایا ہوں اور اب سحری تک مزے سے لیٹ کر پڑھوں گا۔ 
کتاب کی کہانی فری میسنری کے اردگرد گھومتی ہے۔ اگر آپ نے نکولس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:center;"><a href="http://noumaan.sabza.org/wp-content/Picture0007.jpg"><img src="http://noumaan.sabza.org/wp-content/Picture0007-300x225.jpg" alt="Picture0007" title="my copy of the lost symbol" width="300" height="225" class="aligncenter size-medium wp-image-499" style="padding:3px; border:3px solid #336699; " /></a></p>
<p>آج دنیا بھر میں ڈان براؤن کی کتاب &#8220;<a href="http://www.thelostsymbol.com/">The lost symbol</a>&#8221; جاری ہوگئی ہے۔ پاکستان میں یہ <a href="http://www.libertybooks.com/books/fiction/crime-thriller/the-lost-symbol.html">کتاب لبرٹی بک اسٹور پر دستیاب ہے</a>۔ میں آج ہی یہ ناول خرید لایا ہوں اور اب سحری تک مزے سے لیٹ کر پڑھوں گا۔ </p>
<p>کتاب کی کہانی فری میسنری کے اردگرد گھومتی ہے۔ اگر آپ نے نکولس کیج کی فلم نیشنل ٹریژر دیکھ رکھی ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے کنسپائری تھیورسٹس یہ سمجھتے ہیں کہ فری میسنز نے امریکہ بھر میں تعمیرات میں خفیہ پیغامات چھوڑ رکھے ہیں جو کسی عظیم خزانے تک رہنمائی کرتے ہیں۔ ڈان براؤن کی کہانی بھی انہیں خفیہ پیغامات اور فری میسنری کے گرد گھومتی ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/498/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بانٹنے کا کلچر بند کریں۔ مانگنے کا کلچر بند کریں</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/495</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/495#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 Sep 2009 21:47:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دکان سے گھر تک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=495</guid>
		<description><![CDATA[آج کراچی میں مفت آٹے کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے چودہ خواتین ہلاک ہوگئیں۔ یہ ایک بہت ہی غمناک سانحہ ہے۔ میرے بچپن کے دنوں میں جب ہم خبروں میں قحط زدہ افریقی ممالک کے عوام کو راشن کے لئے قطاروں میں کھڑے اور ٹوٹے پھوٹے برتنوں میں جانوروں کی طرح کھاتے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج کراچی میں مفت آٹے کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے چودہ خواتین ہلاک ہوگئیں۔ یہ ایک بہت ہی غمناک سانحہ ہے۔ میرے بچپن کے دنوں میں جب ہم خبروں میں قحط زدہ افریقی ممالک کے عوام کو راشن کے لئے قطاروں میں کھڑے اور ٹوٹے پھوٹے برتنوں میں جانوروں کی طرح کھاتے دیکھتے تھے تو ہمیں ان کے درد کا قطعا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے ملک میں تو کھیت لہلہارہے ہیں اور اس سرسبز و شاداب زمین پر تو کبھی ایسا قحط نہ آئے گا۔ </p>
<p>مگر آج ہمارے ملک کی عوام خوراک کے حصول کے لئے جان ہار رہی ہے۔ قطاروں سے ناآشنا اور تنظیم سے ناواقف یہ قوم ہجوم کی شکل میں خوراک حاصل کرنے جمع ہورہی ہے۔ سینکڑوں ٹی وی چینلز کے نمائندے ہر جگہ اس بھوکی ننگی عوام کو آٹا اور چینی حاصل کرنے کے لئے قطاریں لگاتے، دھکے، گھونسے اور لاتیں کھاتے براہ راست دکھا رہے ہیں۔ افریقی عوام کی طرح اس عوام کی ہڈیاں نہیں نکلی ہوئیں، انہیں ہولناک وبائی امراض اور جنگوں کا بھی سامنا نہیں۔ یہ مکمل لباس پہنے ہوتے ہیں، ان کے پیروں میں چپل بھی ہوتی ہے، یہ خیموں بھی نہیں رہتے۔ </p>
<p>میں آج خود ایک جگہ مفت راشن کی تقسیم کا نظارہ کررہا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ راشن تقسیم کرنے والے مخلصی سے اپنے کام میں مگن تھے مگر ضرورت مندوں کا رویہ قطعا غیر ضرورت مندانہ تھا۔ وہ منتظمین کو گالیاں دے رہے تھے، پولیس سے الجھ رہے تھے، ایک دوسرے پر حملے کررہے تھے حتی کہ ایک آدمی نے ایک بچے سے آٹے کا تھیلا چھینتے ہوئے اسے پھاڑ ڈالا۔ </p>
<p>وہاں سے واپسی پر دیکھا کہ افطار کے لئے ہمارے گھر کی قریبی سڑک پر مفت افطار کے لئے میزیں لگی ہیں جن پر پھل، سموسے، پکوڑے، کھجوریں، شربت وغیرہ مل رہا ہے اور وہاں بھی لوگوں کی بڑی تعداد روزہ کھول رہی ہے۔ مسجد میں مفت افطار کا انتظام تو ہر جگہ ہی ہوتا ہے۔ مسجد کے اندر اور باہر مانگنے والوں کی قطاریں۔ نمازیوں کی آستینیں کھینچتیں برقع پوش خواتین اور ٹانگوں سے لپٹتے میلے اور گندے بچے۔ ہر جگہ مانگنے والوں کا تانتا بندھا ہے جو اس مال مفت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یقینا یہ لوگ مستحق بھی ہیں مگر کتنے؟ کیا ہم اپنے ملک میں ٹرکوں سے راشن لوٹنے کے کلچر کو خود ہی جنم دے رہے ہیں؟ کیا ہندوستان میں جہاں پاکستان سے جیسی ہی  مہنگائی، بیروزگاری، اور غربت ہے وہاں حکومت راشن بیچ رہی ہے اور مخیر حضرات ٹرک لٹا رہے ہیں؟</p>
<p>خدارا یہ مفت خوراک کے سلسلے بند کریں، سستی خوراک کے ڈرامے بند کریں، لوگوں کی عزت نفس کو قتل نہ کیجئے۔ انہیں بھکاری، غیر مہذب، وحشی نہ بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/495/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شریف میڈیا کی عجیب منطق</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/492</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/492#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 06 Sep 2009 14:58:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[ذرائع ابلاغ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=492</guid>
		<description><![CDATA[جبکہ جیو ٹیلیوژن کے چند صحافی شد و مد سے شریف برادران اور کمپنی کے آئی ایس آئی سے گٹھ جوڑ کے ذریعے سیاستدانوں کو خریدنے کے اسکینڈل کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے میں روّف کلاسرا اپنے کالم &#8220;دولت مندی اور جرم کا رشتہ&#8221; میں میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہمارے میڈیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جبکہ جیو ٹیلیوژن کے چند صحافی شد و مد سے شریف برادران اور کمپنی کے آئی ایس آئی سے گٹھ جوڑ کے ذریعے سیاستدانوں کو خریدنے کے اسکینڈل کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے میں روّف کلاسرا اپنے کالم &#8220;<a href="http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=372507">دولت مندی اور جرم کا رشتہ</a>&#8221; میں میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>
ہمارے میڈیا کو داد دینی چاہیے جس نے بریگیڈیئر امتیاز کو بات پوری نہیں کرنے دی۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں انکشافات کر رہا ہے جو زندہ ہیں۔ دنیا بھر میں سیکرٹ ایجنسیوں کے لوگ کتابیں لکھتے ہیں۔ رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی یہ بات کر رہا ہے تو اسے چپ کرایا جا رہا ہے۔ بریگیڈیئر امتیاز جھوٹا ہے یا سچا کم از کم ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ اسلام، جمہوریت اور آزاد عدلیہ کا نعرہ مارنے والوں نے کھل کر اپنی سیاسی روحوں اور ضمیر کا سودا کیا۔ جب ان سیاستدانوں کے ماضی کے راز باہر نکلنے کی باری آتی ہے تو ہمارا میڈیا اسے سازش قرار دے دیتا ہے۔ ان شریف سیاستدانوں کے دفاع میں میڈیا خود تحریک چلاتا ہے۔ ہمارا دنیا کا واحد میڈیا ہوگا جو سیاستدانوں کے کرتوت چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دے گا۔ ہمارا اس سے بڑا دیوالیہ پن کیا ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے سیکرٹ ایجنسیوں سے رقوم لیں انہیں ہم نے وزیراعظم بنایا، اپنے کندھوں پر بٹھایا، انہیں اپنی زندگی اور موت کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا۔ اب ہم ان کا دفاع بھی دل و جان سے کر رہے ہیں۔
</p></blockquote>
<p>مجھے پاکستان میں آزاد عدلیہ اور اینٹی زرداری صحافیوں کی منطق کا یہ حصہ سمجھ نہیں آتا۔ ان کی نظر میں ایک پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے قابل سزا اور دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے رہبر ہیں۔ ان کے تحت این آر او قابل تنقید اور کھلے عام ایجنسیوں سے پیسے لیکر حکومتیں گرانے اور بنانے والے سیاستدان قابل تقلید ہیں۔ جامعہ حفصہ اور قبائلی علاقہ جات میں آپریشنز قابل سزا جرم اور کراچی میں ایک دہائی تک کیا گیا نسلی قتل عام قابل فراموش داستان ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/492/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
