<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<?xml-stylesheet type="text/xsl" media="screen" href="/~d/styles/rss2full.xsl"?><?xml-stylesheet type="text/css" media="screen" href="http://feeds.feedburner.com/~d/styles/itemcontent.css"?><rss xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/" xmlns:feedburner="http://rssnamespace.org/feedburner/ext/1.0" version="2.0">

<channel>
	<title>روشنی (BETA)</title>
	
	<link>http://roshnipk.com/blog</link>
	<description>ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے</description>
	<lastBuildDate>Mon, 17 Jan 2011 16:11:14 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="self" type="application/rss+xml" href="http://feeds.feedburner.com/roshnipk" /><feedburner:info uri="roshnipk" /><atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="hub" href="http://pubsubhubbub.appspot.com/" /><feedburner:emailServiceId>roshnipk</feedburner:emailServiceId><feedburner:feedburnerHostname>http://feedburner.google.com</feedburner:feedburnerHostname><item>
		<title>ایران جاگ رہا ہے – شیریں عبادی کی سوانح عمری</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/IjbBYm2dg5w/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=842#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 17 Jan 2011 16:11:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست اور حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[شخصیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی جمہوریہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[شیریں عبادی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=842</guid>
		<description><![CDATA[. اگریہ کرنے کے لئے مجھے اسلامی قوانین کی بھاری بھرکم کتب کو کھنگالنا پڑتا ہے، یا ایسے مذھبی ذریعوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اسلام کے درس اخلاقیات اور عقیدہ مساوات انسانی پر زور دیتے ہیں، تو میں ایسا ہی کروں گی. کیا یہ راستہ مشکل ہے؟ بے شک ہے. مگر کیا کوئی متبادل میدان جنگ موجود ہے ؟ ہزار خواہش کے باوجود، مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آتا. ' ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D842"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D842&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<blockquote>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #ff0000;">شیریں عبادی کا مختصر تعارف</span></strong>  </p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;"><em>شیریں عبادی</em> ایران کی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی ترجمان ہیں جنہیں نوبل انعام حاصل کرنے والی مسلم دنیا کی پہلی خاتون بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ 21 جون 1947ء کو ایران<a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/Shirin-Ebadi-Iran1.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-853" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/Shirin-Ebadi-Iran1-300x219.jpg" alt="" width="300" height="219" /></a> کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد علی عبادی شہر کے مصدق الاسناد اور کمرشل لاء کے پروفیسر تھے۔ 1948ء میں ان کا خاندان تہران چلا گیا۔ 1965ء میں شیریںنے تہران یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں داخلہ لیا۔ 1969ء میں گریجویشن کی اور پھر چھ ماہ تک انٹرن شپ کرنے کے بعد انہوں نے مارچ 1970ء میں بطور جج کیریئر شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے تہران یونیورسٹی میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1971ء میں انہوں نے قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے لیجسلیٹو کورٹ کی سربراہی کی۔</p>
<p style="text-align: justify;">1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد قدامت پسندوں نے اعلان کر دیا کہ اسلام میں خاتون جج نہیں بن سکتی ۔ اس بنا پر شیریں عبادی کو جج کے منصب سے ہٹا کر سیکرٹری لیول کی ایک جگہ پر فائز کر دیا گیا۔ اس جگہ پر وہ پہلے بھی کام کر چکی تھی۔ انہوں نے دیگر خاتون ججز کے ساتھ مل کر احتجاج کیا ۔ اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر شیریں عبادی نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کی کوشش کی لیکن ان کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہیں۔ 1993ء تک وہ بطور وکیل پریکٹس بھی جاری نہ رکھ سکیں۔ اس اثناء میں وہ کتب اور مختلف جرائد میں مضامین لکھتی رہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">شیریں عبادی کی تصانیف سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت اور انسانی مساوات کی قائل ہیں۔ وہ مغرب کی دلدادہ نہیں ہیں ان کے اندر ایرانی قوم پسندی زیادہ نظرآتی ہے۔ وہ مغرب نواز شاہ کی شدید مخالف رہی۔ انہوں نے ایرانی انقلاب کی حمایت کی تھی ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایران کو چھوڑ کر مغربی ممالک میں جابستے ہیں میں سمجھتی ہوں وہ میرے لیے مرگئے۔ انہوں نے ایران کے اندر غیر ملکی مداخلت کے ارادوں کی شدید مذمت کی ۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا کھلم کھلا دفاع کرتی ہیں۔</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #ff0000;"><strong>ایران جاگ رہا ہے</strong></span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><em> </em> 1978 میں جب انقلاب کا بخار بڑھ چکا تو عراق میں جلاوطنی کاٹنے والے آیت اللہ خمینی وزرا کو انکے دفتروں سے نکال باہر کرنے کی غرض سے واپس ایران آئے. شیریں عبادی، جنکی عمر اس وقت 31 برس تھی، اور جو ایران کی پہلی خاتون جج تھیں، بھی وزیر عدل کے دفتر پر دھاوا بولنے والے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تھیں. وزیر وہاں موجود نہ تھا. نوجوان سیاسی کارکنوں نے دفتر میں ایک بوڑھے جج کو ایک میز کے پیچھے بیٹھا پایا جو انکو حیرت سے گھور رہا تھا. </p>
<blockquote style="text-align: right;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><span style="color: #008000;"> &#8216;تم&#8217; ،شیریں عبادی کو دھاوا بولنے والوں کے ہمراہ دیکھ کر وہ چلایا. &#8216;اتنے لوگوں میں آخر تم ہی کیوں. کیا تم نہیں جانتی کہ تم ان لوگوں کا ساتھ دے رہی ہو جو اقتدار میں آتے ہی تمہاری نوکری تم سے چھین لیں گے ؟&#8217;  شیریں اپنی کتاب Iran Awakening میں لکھتی ہیں کہ انکا جواب &#8216;میں ایک غلامانہ جج سے آزاد ایرانی ہونا بہتر سمجھوں گی&#8217; خود پارسائی سے بھرپور تھا. </span> </p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> ایک خاتون جج کی حمایت اور تصدیق انقلابیوں کے لئے بڑی کارآمد تھی، جو ایرانی خواتین کو یقین دلوانا چاہتے تھے کہ عورتوں کے لئےانکی نیتیں اور ارادے مہربان ہیں. مگر اگلے ہی سال، جب ملا -مفتی- اقتدار پر اپنی گرفت مظبوط کر چکے اور شاہ کا تختہ الاٹ چکے، تو انہوں نے ایران کی پہلی خاتون جج شیریں کو ترقی دینے کے بجائے انکا عھدہ گھٹا دیا، صرف اس لئے کہ وہ عورت تھیں. اسی کورٹ روم میں جہاں وہ بطور جج بیٹھتی تھیں، پہلے انکو کلرک بنایا گیا اور پھر ایک سیکریٹری. انکے انقلابی ساتھیوں کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامی انقلاب اور حکومت کو بچانا ضروری ہے، اور انھیں خواتین کے حقوق کے بارے میں سوچنے کی آسائش آنے والے وقت میں میسر ہو گی. مگر وہ وقت کبھی نہ آیا. </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> 1980  میں ایک دن اسلامی ضابطہ تعزیرات جسکو بغیر بحس و مباحثے کے رات و رات اپنایا گیا تھا، صبح  کے اخبار میں نمودار ہوا. شیریں لکھتی ہیں کہ ان قوانین نے انکو جھنجھلا کر رکھ دیا. اس قانون میں ایک عورت کی جان، مرد کی جان کے برابر نہیں، بلکہ اسکی حیثیت اس سے آدھی تھی. مجرموں کو دی جانے والی سزائیں اور مرد عورت کے تعلق کو 1400 پیچھے لے جایا جا رہا تھا. </p>
<div class="mceTemp" style="text-align: right;">
<dl id="attachment_844" class="wp-caption alignright" style="width: 321px;">
<dt class="wp-caption-dt"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/Shirin_Ebadi.png"><img class="size-full wp-image-844" title=" شیریں عبادی" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/Shirin_Ebadi.png" alt=" شیریں عبادی" width="311" height="356" /></a></dt>
<dd class="wp-caption-dd">شیریں عبادی</dd>
</dl>
</div>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">ایرانی صحافی آزاده معاونى کے ساتھ شیریں عبادی کو 2003 میں نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا. یہ انعام جیتنے والی وہ پہلی ایرانی شہری اور پہلی مسلم خاتون تھیں. انکی کتاب نہ صرف انقلاب کے بعد کے ایران کی منجھی ہوئی تاریخ ہے بلکہ واقعات کی بے تکلفانہ یاد داشت بھی ہے. انھوں نے تفصیلات کو بڑی باریک بینی اور مہارت سے چنا ہے. یہ ایک ایسی پُر تذتذب کہانی  ہے جو آپکو ان تلخ حقائق اور چوئیسیز  -choices-  سے آگاہ کرتی ہے جنکا سامنا ان ایرانیوں کو کرنا پڑتا ہے جو اپنے ملک میں تبدیلی کے لئے لڑتے ہیں. شیریں نے ایران کے اسلامی قوانین سے یہ توقع نہ کی تھی کہ وہ انکی شادی پر بھی اثر ڈالیں گے. وہ لکھتی ہیں، &#8216;جب جاوید اور میں نے شادی کی، ہم ایک دوسرے کی زندگی کا بحیثیت برابر انسان حصہ بنے. مگر ان قوانین کے مطابق وہ تو ایک فرد ہی رہا مگر میں اسکی مال منقولہ یا کوئی شے بن کر رہ گی .وہ مجھے کسی بھی وقت من کی موج میں طلاق دے سکتا تھا، میرے ہونے والے بچوں کو مجھ سے چھین کر انکی نگرانی لے سکتا تھا، اور میری اجازت کے بنا تین بیویاں لا کر میرے ساتھ گھر میں بٹھا سکتا تھا.&#8217; </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> وہ جانتی تھیں کہ انکے شوہر کا ایسا کچھ بھی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں مگر ان غیر متوازن اختیارات نے انکو بے چین کئے رکھا. پھر انھوں نے ایک حل نکالا: وہ اپنے شوہر کو لے کر نوٹری کے دفتر گئیں جہاں جاوید خود کو بطور شوہر اسلامی جمہوریہ کے نئے دئیے گئے اختیارات سے دست بردار ہو گئے. کاغذات پر دستخط کرتے ہوے نوٹری نے حیران ہو کر پوچھا، &#8216;تم یہ کیوں کر رہے ہو؟&#8217;، جس پر جاوید نے جواب دیا، &#8216; میرا فیصلہ ناقابل تَنسيخ ہے. میں اپنی جان بچانا چاہتا ہوں.&#8217; </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> انقلاب کے بعد کی دہائی جنگ اور ظلم و جبر کی کٹھالی کی طرح تھی. شیریں کے لئے سیاسی نظر بندی اور انکے شوہر کے بھائی کی موت اس دہائی کے اہم واقعات تھے. وو اس قصے کو دَر احساسی اور غصے کے ملے جلے جذبے کے ساتھ بیان کرتی ہیں. یہی واقعات انکو 1990 میں قانونی پرکٹس میں واپس لاتے ہیں.  یہ وہ وقت تھا جب ایران کے لیڈر یہ جان چکے تھے کہ لاکھوں جانیں جنگ میں گنوانے کے بعد، انکو خواتین وکلا اور اساتذہ کی ضرورت تھی.   </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> عبادی نے ملک کے سب سے مشکل  اور سرکش انسانی حقوق کے کیسوں کو سہارا دیا. انکا کہنا تھا کہ اسلام کی ایسی تشریح و تعبیر کی جا سکتی ہے جو زیادہ منصفانہ اور کم تفریق کرے. اس مقصد کے لئے انھوں نے مذہبی کتب کھنگال ڈالیں تاکہ وہ قرآن کی  مخصوص تشریحات کے خلاف استدلال کر سکیں. نہ تو وہ اسلامی تعزیرات کے مجموعے کی حامی تھیں اور نہ وہ مذہب کو قانون کی بنیاد بنانے کے حق میں تھیں مگر وہ دانش وارانہ غرور کا شکار نہ تھیں.انھوں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ انکے شدید نوعیت کے کیسوں کواس سے مضبوطی ملی اور مذہب کو استمال کرنے والے اقتدار پر قابض انقلابیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے. </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> <span style="color: #008000;">ایران اور کینڈا کی شہریت رکھنے والی صحافی زہرہ کاظمی، جنکو 2003 میں پولیس حراست میں مار دیا گیا، کا کیس بھی شیریں نے لڑا. 1999 کے احتجاج میں نیم فوجی دستوں کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالبعلم کے کیس پر کام کرتے ہوے شیریں کو جیل جانا پڑا. جب 1990 کی دہائی میں مشکوک حالات میں بہت سے دانشوروں کو قتل کیا گیا، تو ان میں سے سب سے اہم کیس، پروانهی اسکندری فروهر اور داریوش فروهر، ایک دانشور جوڑا جنکو انکے گھر میں قتل کیا گیا، کا کیس بھی شیریں نے لڑا. کیس کی تیاری کے سلسلے میں سرکاری کاغذات کو کھنگالتے ہوے شیریں کو پتا چلا کہ انکے قتل کا سرکاری حکم نامہ پہلے سے جاری ہو چکا تھا.  </span></p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">  شیریں ایک ارفع  شخصیت کی مالک ہیں مگر وہ اپنی زندگی کے فیصلوں کو یوں بیان کرتی ہیں جیسے کہ وہ قدرتی اور یقینی تھے. ایسا نہیں ہے کہ انکے ارد گرد کے تمام افراد نے زندگی داؤ پر لگا کر آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی. وہ حَسرَت زَدگی اور غصے سے بھرپور یادیں بیان کرتی ہوئی لکھتی ہیں کہ انکے بہت سے دوست احباب ایران - عراق جنگ میں ملک چھوڑ کر چلے گئے. اسی طرح کچھ نے یا تو حکومت کا ساتھ دیا یا پھر ایسی قانونی فیلڈ - حلقہ - میں چلے گئے جہاں وہ سیاست سے دور رہ سکتے تھے. شیریں کے لئے حب الوطنی کے تقاضوں کے مطابق صرف ایک چوائس تھی، کہ وہ ایران میں رہیں، اور اخلاقیات کے تقاضوں کے مطابق یہ کہ وہ سسٹم میں موجود زیادتیوں اور نہ انصافیوں &#8211; جنکو قانون بنا دیا گیا تھا &#8211;  کا مقابلہ کریں. </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> یہ سب محنت اکثر اوقات مایوس کن ہوتی. شیریں کے بہت سے کیسوں کا اب تک فیصلہ نہیں ہوا اور بہت سے ایسے قوانین جنکو تبدیل کرنے کے لئے وہ جدوجہد کرتی رہیں، آج بھی موجود ہیں. اسکے باوجود اپنے کام کی بدولت انہوں کے اسلامی جمہوریہ کے سنگین قابل اعتراض معمولات کی نشاندہی کی ہے. ایسا کرنے میں ایسے بہت سے لوگوں کے لئے امید کی کرن بن گیئں ہیں جو حکومت کے کالے قوانین سے تنگ آ چکے ہیں اور مصلحتوں میں کام کرنے والے بے ڈھنگ عدالتی نظام کی الجھنوں سے پریشان ہیں.   </p>
<p style="text-align: center;">
<div id="attachment_850" class="wp-caption aligncenter" style="width: 584px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/Shirin-Ebadi-Iran-Nobel-Prize-Winner.jpg"><img class="size-large wp-image-850  " title="شیریں عبادی " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/Shirin-Ebadi-Iran-Nobel-Prize-Winner-1024x661.jpg" alt="شیریں عبادی " width="574" height="370" /></a><p class="wp-caption-text">شیریں عبادی </p></div>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> انکی کتاب پڑھتے ہوئے آپ خواھش کرتے ہیں کہ کاش وہ اپنے کیسوں کی مزید تفصیلات بتاتیں، کہ انہوں نے اپنے کلائنٹس کا دفاع کیسے کیا، ٹرائل کی پیچیدگیوں اور موشگافیوں میں انہوں نے کیا حربے اپنائے. کچھ جگہ تو یہ بھی نہیں بتایا گیا کے قانونی کیس کا فیصلہ کیا ہوا، یا وہ ختم بھی ہوا یا نہیں. شیریں لکھتی ہیں کہ وہ یہ تفصیلات اپنی آئندہ کتاب کے لئے محفوظ رکھ رہیں ہیں، مگر ان تفصیلات کی عدم موجودگی واضح ہے. </p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"> شیریں عبادی ان سمجھوتوں سے بخوبی واقف ہیں جو انکو نام نہاد اسلامی قوانین سے لڑتے وقت کرنے پڑتے ہیں. وہ ایران کی اصلاح پسند تحریک کا ذکر پر وقار طریقے سے کرتی ہیں حالانکہ اسکو مغرب اور اسلام پسندوں دونوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے. مغرب کا اسرار تھا کہ یہ اصلاح پسند تحریک اسلام پسندوں کا کھل کر مقابلہ نہیں کرتی. ایک ایسے وقت میں جب امریکا احمکانہ انداز میں بڑے زور و شور سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی بات کرتا ہے،  تو شیریں بڑی فصاحت سے ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایک غیر منصفانہ نظام میں انصاف کے لئے کام کرتے ہوئے ایک تسلی بخش اخلاقی رویہ قائم رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا. </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><em> </em>وہ لکھتی ہیں : </p>
<blockquote style="text-align: right;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><span style="color: #0000ff;">&#8216; میں سیکولر نظریے کے مطابق مذہب اور حکومت کی علیحدگی پر یقین رکھتی ہوں، کیونکہ بنیادی طور پر کسی بھی مذہب کی طرح اسلام بھی تشریح اور مفہوم کے زیر اثر ہے. اسکی تشریح اس طرح بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ عورتوں پر ظلم کے لئے استمال ہو، اور اس طرح بھی کہ انکو آزادی دینے کیلئے استمال ہو&#8230;. میں پیشے اور ٹریننگ کے اعتبار سے وکیل ہوں&#8230;.لہٰذا ایسے قوانین جنکی بنیاد ایسے سورس یا ماخذ پر ہے جس میں شرائط اور تعریف مقرر کردہ نہیں ہیں انکو عزیز رکھنے سے پیدا ہونے والے مسائل سے اچھی طرح واقف ہوں .مگر میں اسلامی جمہوریہ کی شہری بھی ہوں اور جانتی ہوں کہ اس مسلے کو کسی اور طرح حل کرنے کی کوشش بے فائدہ ہوگی. میرا مقصد اپنے سیاسی عقائد کا پرچار نہیں بلکہ ایسے قانون کے لئے جدوجہد کرنا ہے جو لیلیٰ کے خاندان جیسے اور لوگوں کو تحفظ دے سکے، وہ لوگ جو اپنی بیٹی کے قاتلوں کو قانونی سزا دلوانے اور انصاف حاصل کرنے کے لئے بے گھر ہو گئے، جنکو قاتل کی پھانسی دلوانے تک کے لئے مالی ادائیگی کرنی پڑی. اگریہ کرنے کے لئے مجھے اسلامی قوانین کی بھاری بھرکم کتب کو کھنگالنا پڑتا ہے، یا ایسے مذھبی ذریعوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اسلام کے درس اخلاقیات اور عقیدہ مساوات انسانی پر زور دیتے ہیں، تو میں ایسا ہی کروں گی. کیا یہ راستہ مشکل ہے؟ بے شک ہے. مگر کیا کوئی متبادل میدان جنگ موجود ہے ؟ ہزار خواہش کے باوجود، مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آتا. &#8216;</span> </p>
</blockquote>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=IjbBYm2dg5w:E0gc88IyrjI:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/IjbBYm2dg5w" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=842</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=842</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>کالا قانون – حصہ اوّل – اہم تاریخی پہلو اور مقدمات</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/zFWQYVbKzHk/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=825#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 10 Jan 2011 15:43:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[featured]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست اور حالات حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[295-c]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[اقلیت]]></category>
		<category><![CDATA[اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[بلیسفیمی]]></category>
		<category><![CDATA[مقدمات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کالا قانون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=825</guid>
		<description><![CDATA[· ضیاء الحق کے 1980 کے دور سے لے کر اب تک ، اس قانون کے تحت حراست میں لئے گیے 32 ایسے افراد کو جیل یا کورٹ کے باہر غیر قانونی طور پر مار دیا گیا، حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہ ہوا تھا اور یا تو انکا مقدمہ ابھی زیر سنوائی تھا یا انکو عدالت بری کر چکی تھے.

· کم سے کم 2 ایسے ججوں کو بھی قتل کیا جا چکا ہے جنھوں نے اس قانون کے تحت حراست میں لئے گئے افراد کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کیا ہو.
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D825"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D825&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<p style="text-align: right;"><strong> </strong>تعزیرات پاکستان کی شق 295 ، جو بلیسفیمی قانون کے نام سے جانی جاتی  ہے، کو 1860 میں متحد ہندوستان کے آئین میں شامل کیا گیا.  تب  یہ قانون تمام مذاہب اور تمام افراد پر یکساں لاگو ہوتا تھا. زیادہ سے زیادہ سزا قابل ضمانت دو سال قید تھی. کسی مذہبی اجتماع میں افرا تفری پھیلانا بھی اس قانون کے مطابق جرم کے زمرے میں آتا تھا.  1986  سے 2010  تک لگ بھگ 1274 پر اس قانون کو لاگو کیا گیا.     </p>
<p style="text-align: center;" dir="rtl"><strong><span style="color: #ff0000;"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/blasphemy-law-illustrated-1.jpg"><img class="size-full wp-image-835 aligncenter" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/blasphemy-law-illustrated-1.jpg" alt="" width="482" height="361" /></a></span></strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong><span style="color: #ff0000;">پاکستان میں اقلیتوں کے متعلق کچھ اعداد و شمار</span></strong></p>
<p style="text-align: right;">پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے. مذہب کے لہٰذ سے اس آبادی کی تقسیم کچھ یوں ہے :</p>
<p style="text-align: right;">· اسلام : 97 فیصد &#8211; کل مسلم آبادی میں سے تقریباً 20 فیصد آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے جبکہ بقیہ سنی مسلم ہیں.</p>
<p style="text-align: right;">· ہندو: 32 لاکھ &#8211; 1.6 فیصد</p>
<p style="text-align: right;">· عیسائی &#8211; 28 لاکھ &#8211; 1.6 فیصد</p>
<p style="text-align: right;">· سکھ &#8211; 20 ہزار &#8211; 0.001 فیصد</p>
<p style="text-align: right;">بقیہ اقلیتوں میں پارسی، احمدی، بدھ مت، یہودی، بہائی اور چترال کے کالاشا شامل ہیں.</p>
<p style="text-align: right;"><strong><span style="color: #ff0000;">تحفظ ناموس رسالت کے کالے قانون سے متعلق کچھ چونکا دینے والے اعداد و شمار</span></strong></p>
<p style="text-align: right;">· 1980 اور 2009 کے درمیان پاکستان میں 960 سے زائد افراد کو اس قانون کے سہارے نشانہ بنایا گیا.</p>
<p style="text-align: right;">· ان میں سے 479 مسلمان، 340 احمدی ، 119 عیسائی، 14 ہندو اور 10 کسی اور مذہب کے ماننے والے تھے.</p>
<p style="text-align: right;">· ان کیسوں میں سے 70 فیصد پنجاب کے گنجان آباد علاقوں میں درج ہوے.</p>
<p style="text-align: right;">· ضیاء الحق کے 1980 کے دور سے لے کر اب تک ، اس قانون کے تحت حراست میں لئے گیے 32 ایسے افراد کو جیل یا کورٹ کے باہر غیر قانونی طور پر مار دیا گیا، حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہ ہوا تھا اور یا تو انکا مقدمہ ابھی زیر سنوائی تھا یا انکو عدالت بری کر چکی تھے.</p>
<p style="text-align: right;">· کم سے کم 2 ایسے ججوں کو بھی قتل کیا جا چکا ہے جنھوں نے اس قانون کے تحت حراست میں لئے گئے افراد کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کیا ہو.</p>
<p style="text-align: right;"><strong><span style="color: #ff0000;">اہم تاریخی پہلو اور اہم مقدمات</span></strong></p>
<p style="text-align: right;"> <strong>1927 : </strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> علم دین نامی ایک مسلمان نے &#8220;رنگیلا رسول&#8221; کتاب کی اشاعت کے بعد توہین رسالت کو بنیاد بنا کر قتل کیا. اس متنازہ کیس میں علم دین کا دفاع محمد علی جناح نے کیا اور انکو کیس میں شکست ہوئی. اسکے بعد اس قانون میں ترمیم کی گئی اور&#8221; توہین یا بیحرمتی کی کوشش&#8221;  کے ساتھ &#8220; بالا رادا&#8221; کے الفاظ شامل قانون میں شامل کئے گئے. </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong>1980 سے  1986 :</strong></p>
<p dir="rtl"><strong></strong><span style="color: #008000;">*</span> شق 295 میں 5 تبدیلیاں کی گیئں. یوں مقدس اقتباسات و رسائل کی توہین اور قرآن و رسول کی کی بیحرمتی کے متعلق قانون ضیاء  دور میں آئین کا حصہ بنے.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong> 1990 :</strong>  </p>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">*</span></strong> وفاقی شرعی عدالت پھر قانون میں ترمیم کی خواھش سے پارلیمنٹ کو صلاح دیتی ہے کہ اس جرم میں تا حیات قید کی سزا کے ساتھ ساتھ پھانسی کی سزا بھی شامل کی جائے.   وفاقی شرعی عدالت بیان کرتی ہے کہ اگر قومی اسمبلی نے 30 اپریل 1991  تک اس صلاح پر عمل نہ کیا تو تا حیات قید کی سزا اس قانون سے ختم سمجھی جائے گی.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>1991 :</strong>   </p>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">*</span></strong> قومی اسمبلی کوئی ایکشن نہیں لیتی، لہٰذا شق 295  کی خلاف ورزی کی لازمی - تَولّیتی  &#8211;  سزا پھانسی ٹھہرتی ہے. </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>1992</strong> <strong>:</strong></p>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">*</span></strong> سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون و عدل شق 295 سے &#8220;یا تا حیات قید&#8221; کے الفاظ نکالنے کی صلاح دیتی ہے مگر ممبران سمجھتے ہیں کہ  شق 295 غیر واضع ہے اور کسی ایکشن سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل کو اسے تفصیلی طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے. قانون سے تا حیات قید کی سزا کو ختم کرنے کے مطالبے کو پارلیمانی ممبران رد کرتے ہیں لہٰذا پھانسی کی ایک متبادل سزا کے طور پر - تا حیات قید &#8211; قانون میں باقی رہتی ہے.    </p>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">*</span></strong> نومبر 1992 کو گل مسیح نامی ایک عیسائی کو توہین رسالت کی بنا سزا موت سنائی گئی. اس پر الزام تھا کہ اسنے ایک مسلم پڑوسی محمد ساجد سے یہ کہا: &#8220;میں نے پڑھا ہے کہ نبی محمد کی 11 بیویاں تھیں جن میں ایک کم عمر بھی تھیں.&#8221;</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong>1993 : </strong></p>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">*</span></strong> 11سالہ سلامت مسیح، 38  سالہ منظور مسیح اور 44  سالہ رحمت مسیح پر مسجد کی دیوار پر توہین آمیز کلمات لکھنے کا الزام لگتا ہے. حالانکہ سلامت کی ماں کا کہنا تھا کہ اسکے بیٹے کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>1994 :</strong>  </p>
<p dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">*</span></strong> منظور مسیح اپریل میں ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹ سے اپنی سنوائی کے بعد باہر آ رہا تھا کہ اسکو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا. سلامت اور رحمت کو گہری چوٹیں آئیں.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>1995 :</strong></p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  14 سالہ سلامت مسیح اور 46  سالہ رحمت مسیح کو فروری میں سزائے موت سنائی گئی.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  23 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو اس بنا پر بری کر دیا کہ وہ عیسائی ہیں اور عربی زبان سے مکمل ناواقف ہیں لہٰذا وہ نازیبا الفاظ لکھنے سے قاصر تھے. بنچ میں جسٹس عارف اقبال حسین بھٹی اور جسٹس چودھری خورشید احمد شامل تھے.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> ملی یکجہتی کونسل کے نام سے بہت سی مذہبی جماعتیں مئی میں اکٹھی ہوتی ہیں اور اس فیصلے کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں اور احتجاجوں کا سلسلہ شروع کرتی ہیں.   </p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> 14  اکتوبر 1996  کو ایوب مسیح نامی ایک بھٹہ مزدور عیسائی شہری کو پولیس نے 295C کی خلاف ورزی کے جرم میں زیر حراست لیا. ایوب کے ایک مسلمان پڑوسی محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ایوب نے عیسائی مذہب کے صحیح ہونے کا دعوا کیا ہے   </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>1997 :</strong> </p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  جج عارف اقبال حسین بھٹی کو 19 اکتوبر 1997 کو انکے دفتر میں قتل کر دیا گیا. انھوں نے توہین رسالت کے قانون کے دو ملزموں &#8211; رحمت مسیح اور سلامت مسیح جنکو سزائے موت سنائی جا چکی تھی &#8211;  کو جرم ثابت نہ ہونے کی بنا پر بری کیا تھا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong>1998 :</strong>     </p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> ایوب مسیح کو توہین رسالت کے قانون کے تحت پھانسی کی سزا دی جاتی ہے مگر لاہور ہائی کورٹ اس فیصلے کو رد کر دیتی ہے.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> بشپ جان جوزف 6 مئی کو کورٹ ہاؤس میں کلیسائی حَلقے کے سامنے احتجاج کے طور پر خود کشی کرتے ہیں. یوں ایوب مسیح کے کیس کو بین الاقوامی توجہ ملتی ہے.   </p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> جسٹس عارف اقبال بھٹی کے قاتل کو گرفتار کر لیا جاتا ہے جو گناہ قبول کرتے ہوے کہتا ہے کہ اسنے جج کو اس لئے قتل کیا کیونکہ اسنے توہین رسالت کے ملزم سلامت مسیح اور رحمت مسیح کو بری کر دیا تھا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong> 2000:</strong></p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> اکتوبر 2000 میں یونس شیخ نامی ایک فزیشن پر اپنے ایک لیکچر کے دوران بیان کی گیی تصریحات کی بنا پر توہین رسالت کا الزام لگا. طلبہ نے الزام لگایا کہ یونس کا کہنا تھا کہ نبی محمّد کے والدین غیر مسلم تھے کیونکہ وہ اسلام کی آمد سے قبل ہے وفات پا چکے تھے. کورٹ میں جج نے فیصلہ سنایا کہ یونس ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ادا کرے اور اسکو پھانسی دی جائے. 20  نومبر 2003  کو ایک کورٹ نے یونس کو بری کر دیا اور وہ ہمیشہ کے لئے پاکستان چھوڑ کر یورپ چلا گیا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong>2003:</strong></p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> اگست 2003  میں پولیس نے سیمیول مسیح نامی ایک عیسائی شہری کو حراست میں لیا. اس پر الزام تھا کہ اسنے مسجد کی دیوار پر تھوک کر اسکی بیحرمتی کی ہے. جیل میں وہ ٹی بی کا مرض کا شکار ہوا، لہٰذا اسکو ہسپتال منتقل کر دیا گیا. 24  مئی 2004  کو ایک پولیس کانسٹبل نے ہتھوڑے کے استعمآل سے اسے قتل کر ڈالا. کانسٹبل کا کہنا تھا کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے سیمیول کو قتل کرنا اسکا فرض تھا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>2006:</strong></p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> عیسائی اور مسلمان ڈین براؤن کے ناول &#8216; ڈا ونشی کوڈ&#8221; کو توہین آمیز قرار دیتے ہیں. فلم کو ملک میں ممنوع قرار دیا جاتا ہے. </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>2009 :</strong></p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  30 جولائی 2009 کو قالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سینکڑوں کارکنوں نے پنجاب کے شہر گوجرہ کے قریبی گاؤں میں عیسائیوں کے گھروں کو نظر آتش کیا اور انکو زندہ جلا ڈالا. انکا کہنا تھا کہ انھوں نے قرآن کی بیحرمتی کی ہے، حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہ مل سکا.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> 4  اگست 2009  کو مسلمانوں کے ایک ہجوم نے نجیب اللہ نامی صنعتکار اور اسکے ساتھیوں پر دھاوا بول دیا. انھوں نے نجیب اللہ سمیت دو اور لوگوں کو قتل کیا اور فیکٹری کو نظر آتش کر دیا. انکا کہنا تھا کہ نجیب اللہ نے ایک پرانے کیلنڈر - جس پر قرانی آیات لکھیں تھیں -  کو اپنی جگہ سے اتار کر میز پر رکھا تھا. اس &#8216;جرم&#8217; کی آڑ میں ایک ملازم نے نجیب اللہ پر توہین قرآن کا الزام لگایا. دراصل ملازمین کا نجیب اللہ سے تنخواہ سے متعلق تنازعہ چل رہا تھا.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے دو عیسائی افراد، جن پر قرآن کی بیحرمتی کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا اور عدالت نے 10 سال سزا سنائی تھی، کو لاہور ہائی کورٹ نے جرم ثابت نہ ہونے پر بری کردیا. پتا چلتا ہے زمین کے تنازہ پر جھوٹا مقدمہ گھڑا گیا تھا. </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong>2010 :</strong></p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> زیب انسا جسکو 1996  میں قرآن کی بیحرمتی کے جرم میں قید کیا گیا تھا، اسکو لاہور ہائی کورٹ جرم کا ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری کر دیتی ہے.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span> آسیہ بیبی، پہلی عیسائی خاتون کو توہین رسالت کے قانون کے تحت پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  گورنر پنجاب سلمان تاثیر آسیہ بیبی سے ملنے جاتے ہیں، ہمدردی کا اظہر کرتے ہیں اور بیان دیتے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ صدر زرداری سے صدارتی معافی کی بات کریں گے . ضیاء کے بنے ہوے اس قانون کو وہ کالا قانون کہتے ہیں.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">* </span> شیری رحمان، قانون میں تبدیلی کا بل پیش کرتی ہیں جس کی اہم شق یہ ہے کہ باقی تمام جرائم کی طرح اس میں بھی ملزم کی نیت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے. وہ بیان دیتی ہیں کہ جس طرح قتل کے ملزم پر قتل ثابت کرنے کے ساتھ یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسکی نیت قتل ہی تھی نہ کہ - مثال کے طور پر &#8211; اپنا دفاع، اسی طرح اس قانون کو بھی تبدیل کیا جائے. </p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  تمام مذھبی جماعتیں مل کر ملک گیر اجتماع، ریلیاں اور احتجاج کا سلسلہ شروع کرتی ہیں. مختلف مقامات پر سلمان تاثیر اور شیری رحمان کو اسلام دشمن اور کافر کہا جاتا ہے.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  ممتاز قادری ، جو کہ گورنر سلمان تاثر کی سیکورٹی ٹیم کا حصہ ہے، وہ اسلام آباد میں انکو 27 گولیاں مار کر قتل کرتا ہے اور اپنی گرفتاری پیش کر دیتا ہے.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  کورٹ میں پیشی پر وکلا سمیت بہت سے لوگ قادری کا نعروں سے استقبال کرتے ہیں، پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور ہار پہناتے ہیں.</p>
<p dir="rtl"><span style="color: #008000;">*</span>  قادری کے شہر راولپنڈی میں اگلے ہی روز ہزاروں افراد قادری کی حمایت میں ایک پر ہجوم ریلی نکلتے ہیں. دوسری طرف کراچی میں مختلف مذھبی رہنما اور پارٹیاں &#8211; جن میں جماعت اسلامی، شباب ملی، سپاہ صحابہ، جماعت الدعوہ شامل ہیں &#8211; 50 ہزار افراد کے ساتھ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تاکے قانون میں ممکنہ تبدیلی کو روکا جا سکے.  </p>
<p style="text-align: center;">
<div id="attachment_836" class="wp-caption aligncenter" style="width: 570px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/mumtaz_qadri_20110117.jpg"><img class="size-full wp-image-836 " title="سلمان تسسر کے قتل، ممتاز قادری کا والہانہ استقبال. عوام، وکلا کے ساتھ ساتھ، وردی میں موجود پولیس افسران بھی دیکھے جا سکتے ہیں.  " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2011/01/mumtaz_qadri_20110117.jpg" alt="سلمان تسسر کے قتل، ممتاز قادری کا والہانہ استقبال. عوام، وکلا کے ساتھ ساتھ، وردی میں موجود پولیس افسران بھی دیکھے جا سکتے ہیں.  " width="560" height="373" /></a><p class="wp-caption-text">سلمان تسسر کے قتل، ممتاز قادری کا والہانہ استقبال. عوام، وکلا کے ساتھ ساتھ، وردی میں موجود پولیس افسران بھی دیکھے جا سکتے ہیں. </p></div>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=zFWQYVbKzHk:5nnP364rd5Y:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/zFWQYVbKzHk" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=825</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=825</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>اج آکھاں وارث شاہ نوں</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/mJhjPtWfKzk/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=795#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 24 Oct 2010 15:48:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[ثقافت ، ادب اور فنون لطیفہ]]></category>
		<category><![CDATA[امرتا پریتم]]></category>
		<category><![CDATA[تقسیم ہند]]></category>
		<category><![CDATA[موسیقی]]></category>
		<category><![CDATA[نظم]]></category>
		<category><![CDATA[وارث شاہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=795</guid>
		<description><![CDATA[
امرتا پریتم ایک بھارتی شاعرہ اور ناول نگار تھیں۔ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول
اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D795"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D795&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<div id="attachment_796" class="wp-caption alignright" style="width: 190px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/180px-Amrita_pritam.jpg"><img class="size-full wp-image-796" title="امرتا پریتم " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/180px-Amrita_pritam.jpg" alt="امرتا پریتم " width="180" height="254" /></a><p class="wp-caption-text">امرتا پریتم </p></div>
<p>امرتا پریتم ایک بھارتی شاعرہ اور ناول نگار تھیں۔ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول<br />
اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ ہندوستان پاکستان کے بٹوارے پر ان کے ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔<br />
امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم &#8216;اج آکھاں وارث شاہ نوں&#8217; ہے، اس میں انہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔</p>
<p>کچھ اشعار ذیل میں درج ہیں۔</p>
<blockquote><p>اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول<br />
تے اج کتاب عشق دا کوءی اگلا ورقہ پھول</p>
<p>اک روءی سی دھی پنجاب دی تُوں ِلکھ ِلکھ مارے وین<br />
اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن</p>
<p>اُٹھ دردمنداں دیاں دردیاں اُٹھ تک اپنا پنجاب<br />
اج بیلے لاشاں ِوچھیاں تے لہو دی بھری چناب</p>
<p>کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا<br />
تے انہاں پانیاں نے دھرت نُوں دِتا پانی لا</p>
<p>ایس زرخیز زمین تے لُوں لُوں پُھٹیاں زہر<br />
گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر</p>
<p>ویہو ولسّی وا فیر وَن وَن وگی جھگ<br />
اوہنے ہر اِک وانس دی انجھلی دِتی ناگ بنا</p>
<p>ناگاں کِیلے لوک مُونہہ بَس فیر ڈنگ ہی ڈنگ<br />
پل او پل ای پنجاب دے نیلے پے گے انگ</p>
<p>وے گلے اوں ٹُٹے گیت فیر، ترکلے اوں ٹُٹی تند<br />
ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرکھڑے کُوکر بند</p>
<p>سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دِتیاں روڑھ<br />
سنے ڈالیاں پینگ اج پپلاں دِتی توڑ</p>
<p>جتھے وجدی سی پُھوک پیار دی اوہ انجھلی گءی گواچ<br />
رانجھے دے سب وِیر اج بُھل گءے اوہدی جاچ</p>
<p>دھرتی تے لہُو وسیا قبراں پیاں چوون<br />
پرِیت دِیاں شاہ زادیاں اج وِچ مزاراں روون</p>
<p>وے اج سبھے قیدو بن گءے ، حُسن عشق دے چور<br />
اج کتھوں لیاءیے لبھ کے وارث شاہ اِک ہور</p>
<p>اَج آکھاں وارث شاہ نُوں کتھوں قبراں وچوں بول<br />
تے اج کتاب عشق دا کوءی اگلا ورقہ پھول</p></blockquote>
<p><span style="color: #0000ff;">1957 میں بنائی گئی فلم </span><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;">کرتار سنگھ</span></span></strong><span style="color: #0000ff;"> میں اس نظم کو عنایت حسین بھٹی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا.</span></p>
<p><object classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" width="480" height="385" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="allowFullScreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="src" value="http://www.youtube.com/v/as7loyQSm7k?fs=1&amp;hl=en_GB&amp;color1=0x2b405b&amp;color2=0x6b8ab6" /><param name="allowfullscreen" value="true" /><embed type="application/x-shockwave-flash" width="480" height="385" src="http://www.youtube.com/v/as7loyQSm7k?fs=1&amp;hl=en_GB&amp;color1=0x2b405b&amp;color2=0x6b8ab6" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true"></embed></object></p>
<p><span style="color: #0000ff;">حال ہی میں پاکستانی میکال حسن بینڈ نے بھی اسکو ایک نئی ویڈیو میں ریکارڈ کیا&#8230; </span></p>
<p><object width="480" height="385"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/cBtHFFBAZbE?fs=1&amp;hl=en_GB&amp;color1=0x2b405b&amp;color2=0x6b8ab6"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/cBtHFFBAZbE?fs=1&amp;hl=en_GB&amp;color1=0x2b405b&amp;color2=0x6b8ab6" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="480" height="385"></embed></object></p>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=mJhjPtWfKzk:XWrIPN-Dmhg:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/mJhjPtWfKzk" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=795</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=795</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>مسلمانوں کا سنہری دور</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/7Xj_IftKLVY/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=780#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 22 Oct 2010 13:50:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[فلسفہ اور تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[musalmaan-aur-science]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اشعری]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[فلسفہ]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم]]></category>
		<category><![CDATA[مسلمان]]></category>
		<category><![CDATA[معتزلی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=780</guid>
		<description><![CDATA[قدیم اور جدید سائنس میں صرف ایک موثر ربط ہے اور وہ عربوں کی وجہ سے ہے. یورپ کی سائنسی تاریخ میں تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ دور تاریکی کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس دور میں عربوں کے علاوہ کوئی بھی قابل ذکر سائنسدان نہیں تھا. ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D780"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D780&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<p style="text-align: justify;">عرب مسلمانوں نے ساتویں صدی میں خالد بن ولید کی قیادت میں فارسی ساسانی سلطنت اور  بازنطینی رومی سلطنت کے آدھے سے زیادہ حصے کو فتح کر لیا. اس طرح انھوں نے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی عرب سلطنت کی بنیاد رکھی جو کہ بعد میں پاکستان، جنوبی اٹلی اور جزیرہ نما آئبيريائی خطے تک پھیل گئی.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">روسانہ گورینی لکھتے ہیں &#8230;</span></strong></p>
<div id="attachment_782" class="wp-caption alignleft" style="width: 235px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/Cheshm_manuscript.jpg"><img class="size-medium wp-image-782" title="بارہویں صدی کا ایک عربی خاکہ جو کہ انسانی آنکھ کو بیان کرتا ہے." src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/Cheshm_manuscript-225x300.jpg" alt="بارہویں صدی کا ایک عربی خاکہ جو کہ انسانی آنکھ کو بیان کرتا ہے." width="225" height="300" /></a><p class="wp-caption-text">بارہویں صدی کا ایک عربی خاکہ جو کہ انسانی آنکھ کو بیان کرتا ہے.</p></div>
<p style="text-align: justify;">مورخوں کی اکثریت کے مطابق، ابن الحیثم جدید سائنٹفک میتھڈ کا موجد تھا. اسنے اپنی کتاب سے مَناظَریات کو اس طرح سے پیش کیا کہ انے والے وقت کے لئے اسکے معنی ہی بدل گئے. اسنے اپنی فیلڈ میں تجربات کے استمال کو ایک معمول بنایا اور اسکو ثبوت کی بنیاد کے طور پر لیا. اسکے مشاہدات صرف مفروضوں پر مبنی نہ ہوتے تھے بلکہ تجرباتی شواہد پر اور اسکے تجربے سائنسی، با نظام اور تواتر سے دہرائے جا سکتے تھے.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">رابرٹ بریفولٹ اپنی کتاب  The Making of Humanity میں لکھتے ہیں &#8230;.</span></strong></p>
<p style="text-align: justify;">آج کی سائنس نے صدیوں پرانی عرب اور مسلمان سائنسی کاوشوں سے  صرف حیرت انگیز دریافتیں یا پھر انقلابی نظریات &#8211; تھیوری &#8211; ہی نہیں لی بلکہ یہ اس ثقافت کی قرضدار ہے. اسکے وجود کا سہرا اسی ثقافت اور تہذیب کو جاتا ہے. قدیم دنیا پری-سائنٹفک تھی. یونانی فلکیات اور ریاضی ان لوگوں کے لئے یوں تھا جیسے کوئی غیر ملکی چیز ہو اور یونانی ثقافت میں اسکو جگہ نہ مل سکی، یا شائد اسکو موافق نہ آیا. یونانیوں نے نظریات اور مفروضے قائم کیے اور انکو با نظام بھی بنایا مگرتفشیش و تحقیق کے طریقے، علمی خزانوں کا موثر اجتماع اور ذخیرہ، سائنس کے چیدہ طریقے، تفصیلی مشاہدات، تجرباتی پوچھ گچھ   &#8211; یہ سب یونانی مزاج کے لئے بیگانہ تھے. جسکو ہم آج سائنس کہتے ہیں اسکا یورپ میں جنم پوچھ گچھ اور تفشیش کے ایک نئے جذبے سے ہوا، تحقیق، مشاہدات، ناپ تول اور تجربات کے نئے طریقے ، ایسے طریقے اور جذبہ جس سے یونانی نہ واقف تھے. یہ جذبہ اور یہ طریقے ہمیں عربوں (مسلمانوں) نے سکھائے. <span style="font-family: Trebuchet MS;"><span style="font-family: Arial;">جدید دنیا میں عرب تہذیب کی سب سے اہم کاوش سائنس ہی ہے. مگر، اسکے علاوہ بھی اسلامی تہذیب نے یورپی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں.</span></span></p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">جارج سارٹن، جو سائنس کی تاریخ پرعبوررکھنے کی حیثیت سے نامور ہیں، لکھتے ہیں &#8230;</span></strong></p>
<p style="text-align: justify;">قرون وسطیٰ کی اہم اور سب سے کم واضح کامیابی تجرباتی اور مشاہداتی جذبے کی تخلیق تھی.  اور اس کا سہرا بارویں صدی تک کے مسلمانوں کو جاتا ہے.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">اولیور جوسف لاج اپنی کتاب  Pioneers of Science میں لکھتے ہیں &#8230;</span></strong></p>
<p style="text-align: justify;">قدیم اور جدید سائنس میں صرف ایک موثر ربط ہے اور وہ عربوں کی وجہ سے ہے. یورپ کی سائنسی تاریخ میں تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ دور تاریکی کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس دور میں عربوں کے علاوہ کوئی بھی قابل ذکر سائنسدان نہیں تھا.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">محمّد اقبال اپنی کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam  میں لکھتے ہیں &#8230;</span></strong></p>
<p style="text-align: justify;">لہٰذا تجرباتی طریقہ، عقل و استدلال اور مشاہدہ جسکو عربوں نے متعارف کروایا، وہ قرون وسطیٰ میں سائنس کی تیز رفتار ترقی کی وجہ بنا. بہت سے اہم ادارے جو قدیم دنیا میں موجود نہ تھے،  انکی بنیاد قرون وسطیٰ کی اسلامی دنیا نے رکھی. ان اداروں میں عوامی ہسپتال، امراض نفسیات کے ہسپتال، عوامی کتب خانہ، ڈگری جاری کرنے والی علمی یونیورسٹی اور فلکیاتی مرصد شامل ہیں. پہلی یونیورسٹی جسنے ڈپلومے جاری کئے، وہ قرون وسطیٰ کی اسلامی دنیا کی بیمارستان طبی  ہسپتال  اوریونیورسٹی تھی. یہ ڈپلومے نویں صدی میں جاری کئے گئے.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">سر جان بیگوٹ گلوب لکھتے ہیں &#8230;</span></strong></p>
<p style="text-align: justify;">مامون کے دور میں بغداد میں طبی سکول بہت فعال تھے. ہارون الرشید کی خلافت میں بغداد میں پہلا عوامی ہسپتال کھولا گیا جہاں ہر مریض کا علاج مفت ہوتا تھا. جیسے جیسے نظام بنتا چلا گیا، طبیب اور ماہر جراحی طلبہ کو لیکچر دینے لگے اور ان طلبہ کو ڈپلومے جاری کرتے جنکو وہ طبی پرکٹس کے قابل سمجھتے. مصر میں پہلا ہسپتال 872 میں کھلا اور اسکے بعد ایسے ہسپتال پوری اسلامی سلطنت میں سپین اور ایران، ہر جگہ کھلنے لگے.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #0000ff;">گنیز بک آف ریکارڈ میں درج ہے کہ &#8230;</span></strong></p>
<p style="text-align: justify;">دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی مراکش کی الکراون یونیورسٹی ہے جو کہ 859 میں کھلی. اسی طرح دسویں صدی میں قاہرہ، مصر میں قائم ہونے والی الاظہر یونیورسٹی مختلف موضوعات پر علمی ڈگریاں جاری کرتی تھی. اسکو عام طور پر پہلی مکمل یونیورسٹی سمجھا جاتا ہے.</p>
<p style="text-align: justify;">اسلامی دنیا کی لائبریری، قدیم دنیا کی لائبریری جیسی نہ تھی کہ جسمے صرف کتب اکٹھی کر کے رکھ دی جاتی. یہ آج کے دور کی لائبریری کی طرح عوامی لائبریری تھی جہاں سے کتب کچھ دیر کے لئے لی جا سکتیں تھیں ، یہ سائنس اورخیالات کی ترویج کا مرکز تھی اور علمی مباحث کی جگہ تھی . لائبریری کیٹلاگ کا نظریہ بھی انہی مسلم لائبریریوں سے جدید دنیا میں آیا، جہاں کتب کو موضوعات کی مناسبت سے رکھا جاتا.</p>
<p style="text-align: justify;">اسلامی سنہری دور کی اور اہم بات یہ تھی کہ اس وقت بہت سے مسلمان ایسے تھے جو متعدد علوم پر حاوی تھے &#8211; آج انکو Polymath  کہا جاتا ہے. یہ ایسے عالم اور مفکر  تھے جنھوں نے علم کی بہت سی فیلڈز میں کام کیا. انکو اس وقت حکیم کہا جاتا تھا اور یہ مذہبی اور سیکولر علوم کی متعدد شاخوں پر عبور رکھتے تھے. ایسے مسلم سکالروں کی اس دور میں کوئی کمی نہ تھی مگر ایسے سکالر نہ ملتے جو صرف کسی ایک علمی شاخ کے ماہر ہوں. ان میں البیرونی، الجاہز، الکندی، الرازی، ابن سینا، الادریسی، ابن بجا، عمر خیام، ابن زہر، ابن طفیل، ابن رشد، السیوطی جبیر، الخوارزمی، بنو موسیٰ، عبّاس ابن فرناس، الفارابی، المسودی، المقدسی، ابن الحیثم، الغزالی، الخازینی، الجزاری، ابن النآفس، الطوسی، ابن الشاطر، ابن خلدون اور تقی الدین کچھ قبل ذکر نام ہیں.</p>
<p style="text-align: justify;"><span style="color: #0000ff;"><strong>سنہری دور کے بعد مسلمانوں کا زوال</strong></span></p>
<p style="text-align: justify;">روایتی خیال ہے کہ بارہویں اور تیرھویں صدی سے مسلمان سائنسدانوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی. کہا جاتا تھا کہ اسلامی تہذیب تب بھی سائنسدان پیدا کر رہی تھی مگر باقی دنیا کے مقابلے میں ان کی حیثیت پہلے سی نہ تھی. حالیہ تحقیق اس روایتی نظریے پر سوال اٹھاتی ہے اور اس دور کے بعد بھی جاری رہنے والی مسلم فلکیاتی تحقیق کی طرف اشارہ کرتی ہے جو کہ سولہویں صدی تک جاری رہی. اس میں ابن الشاطر کا دمشق میں کیا گیا کام کافی اہم ہے. اسی طرح طب کے علم میں ابن النآفس اور شرف الدّین صابونجی اوغلی اور معاشرتی سائنس کے میدان میں ابن خلدون کا مقدمہ &#8211; 1370 &#8211; کافی اہمیت رکھتے ہیں. مقدمہ خود اس امر کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ جب سائنس عراق، اندلس اور مغرب میں زوال پذیر تھی تو دوسری طرف وہ ایران، مصر اور شام میں پھل پھول رہی تھی.</p>
<p style="text-align: justify;">سائنسی زوال کی روایتی وجوہات میں سے ایک یہ بتائی جاتی ہے کہ راسخ الاعتقاد اشعری فرقے نے عقلی اور استدلالی معتزلی فرقے کو چلینج کرنا شروع کر دیا اور اس سلسلے میں الغزالی کی کتاب تهافت الفلاسفة The Incoherence of the Philosophers قابل ذکر ہے. حالیہ تحقیق نے اس روایتی نظریے پر بھی سوال اٹھایا ہے اور کچھ سکالروں نے بیان کیا ہے کہ اشعری فرقہ سائنس کی حمایت کرتا تھا مگر صرف خیالی یا نظری فلسفے speculative philosophy کی مذمت کرتا تھا. مزید ان سکالروں کا کہنا ہے کہ کچھ نامور مسلم سائنسدان جیسے ابن الحیثم، البیرونی، ابن النآفس اور ابن خلدون خود اشعری فرقے سے تعلق رکھتے تھے. اسکے علاوہ شيعة‎ اور سنی مسلمانوں میں اختلاف، گیارہویں اور تیرھویں صدی کے درمیان صلیبی جنگوں اور منگولوں کے حملوں کو مسلم سائنسی زوال کا ذمےدار سمجھا جاتا ہے. منگولوں نے مسلم لائبریریاں، فلکیاتی رصد گاہیں، ہسپتال، یونیورسٹیاں اور عباسی دارالخلافہ بغداد سب تباہ کر ڈالا. یہاں مسلم سنہری دور کا خاتمہ ہوا.</p>
<p style="text-align: justify;">یرھویں صدی سے کچھ روایتی مسلمان یہ خیال کرنے لگے کہ صلیبی جنگیں اور منگولوں کے حملے ان پر خدا کی طرف سے عذاب ہیں کیونکہ وہ سنّت کو بھلا چکے. ابن النآفس جیسا متعدد علوم کا ماہر بھی اسی نظریے کا قائل تھا. ایسے روایتی خیالات اور متعدد جنگوں اور اندرونی مسلوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جسنے مسلم سائنس کو پہلے کی طرح پھلنے پھولنے نہ دیا. زوال کی ایک اور وجہ جسکو ابن خلدون عصبية کہ کر پکارتا ہے تہذیبوں کے اتر چڑھاؤ یا فتوحات اور زوال سے متعلق ہے. اسکے مطابق زوال کی وجہ مذہبی نہیں، محض سیاسی اور اقتصادی ہے.</p>
<p style="text-align: justify;"><strong>پاکستانی مسلم فلسفی حماد یوسف لکھتے ہیں کہ&#8230;</strong></p>
<p style="text-align: justify;">مسلم سنہری دور کے زوال کی اہم وجہ تصوف ہے. جب مسلمان تصوف سے منسلک ہوے تو اسکا انکی تعلیمی سرگرمیوں پر گہرا اثر پڑا.</p>
<p style="text-align: justify;">1492 میں مسلمانوں کو سپین میں شکست کے بعد، اسلامی دنیا کی سائنٹفک اور ٹیکنالاجیکل جذبے کو یورپیوں کے اپنا لیا اور انھوں نے  یورپی نوبیداری اور سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی.</p>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=7Xj_IftKLVY:6abNxOMxoMk:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/7Xj_IftKLVY" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=780</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=780</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>عشق، محبت اور وفا کی علامت – انارکلی</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/6czjtGRI23c/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=755#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 17 Oct 2010 15:46:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[فلسفہ اور تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[Lahore]]></category>
		<category><![CDATA[lahore-city]]></category>
		<category><![CDATA[shiraz-hasan]]></category>
		<category><![CDATA[انارکلی]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=755</guid>
		<description><![CDATA[
حیقیقت خواہ کوئی بھی ہو۔ انارکلی اور شہزادہ سلیم کے عشق کا قصہ محض فرضی داستان تھا یا نہیں۔ مقبرہ انارکلی میں قبر انارکلی کی ہی ہے یا نہیں۔ اس تمام امور سے قطع نظر ادب و ثقافت پر اس کردار نے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ صدیوں سے مقبرہ انارکلی عشق اور محبت کی علامت کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے اور آج بھی لوگ انارکلی کو عشق، محبت اور وفا کی علامت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D755"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D755&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<blockquote><p><strong><span style="color: #ff0000;">عشق، محبت اور وفا کی علامت&#8230;. انارکلی<br />
مقبرہ انارکلی کے حوالے سے خصوصی رپورٹ<br />
شیراز حسن </span></strong></p></blockquote>
<p>انارکلی عشق، محبت اور وفا کی تصویر ہے اور مقبرہ انارکلی کو محبت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ برصغیر میں عشقیہ و رزمیہ داستانوں میں انارکلی کے کردار کو مثالی کردار قرار دیا جاتا ہے۔ محبت کرنے والے انارکلی کو وفا کی علامت تسلیم کرتے ہیں ۔ اقتدار اور محبت کی جنگ انارکلی کا فسانہ ہے۔</p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-lahore.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-761" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-lahore.jpg" alt="" width="490" height="115" /></a></p>
<p>دوسری جانب اس امر کا تعین کرنا خاصا تحقیق طلب کام ہے کہ یہ واقعہ حقیقت تھا یا محض افسانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مغل دور حکومت فن تعمیر کے حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ان کی تعمیر کردہ عظیم الشان عمارات جہاں مرقع کاری اور کاریگری کے مبہوت کر دینے والے عناصر سے مزین ہیں وہیں وہ دور اپنے پیچھے ایک محبت کی لازوال داستان چھوڑ گیا ہے۔ انار کلی اور شہزادہ سلیم (جہانگیر)کے عشق کی داستان ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں تبدیل ہو گئی ہے۔ تاریخ دانوں اور عوام کی آراءبالکل مختلف ہیں۔ ان مختلف النوع خیالات و قیاس آرائیوں کی وجہ سے اس بات کا فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ یہ واقعہ حقیقت تھا یا محض افسانوی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ایران کا ایک سوداگر اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان آیا۔ راستے میں ڈاکوﺅں نے اس پر حملہ کر دیا۔ ڈاکوﺅں نے سوداگر کو قتل کر دیا اور اس کی خوبرو بیٹی راجہ مان سنگھ حاکم کابل کے پاس فروخت کر دی گئی۔ راجہ مان سنگھ نے اسے شہنشاہ اکبر کے حضور تحفتاً پیش کیا۔ اکبر نے اسکے حسن سے متاثر ہر کر اسے انار کلی کا نا م دیا۔ اور اسے دربار میں رقاصہ خاص کا درجہ دیا گیا۔</p>
<div id="attachment_765" class="wp-caption aligncenter" style="width: 510px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/salim_anarkali-full.jpg"><img class="size-full wp-image-765 " title="سلیم اور انارکلی " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/salim_anarkali-full.jpg" alt="سلیم اور انارکلی " width="500" height="321" /></a><p class="wp-caption-text">سلیم اور انارکلی </p></div>
<p>ایک روایت کے مطابق 1599 ءمیں اکبر کے وزیر خاص ابو الفضل نے اکبر کے سامنے انار کلی اور شہزادہ سلیم کی محبت کے تعلقات سے متعلق میں شبہ کا اظہار کیا۔ ایک موقع پر شیش محل میں جہاں شہنشاہ اکبر نے شاہی دربار لگا رکھا تھا، سلیم اور انار کلی کے درمیان مسکراہٹوں کے تبادلے نے شہنشاہ اکبر کے شبہات کو یقین میں بدل دیا اور شہنشاہ نے انار کلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا۔ اس حوالے سے بے شمار عوامل تحقیق طلب ہیں کہ کیا انار کلی ایک زر خرید کنیز تھی اور اس کے دل میں شہزادہ سلیم کو اپنے دام محبت میں گرفتار کرنے کا خیال تھا تاکہ وہ آئندہ تخت پر بیٹھنے والے سے منسلک ہو کر ہندوستان کی ملکہ کی حیثیت اختیار کرے۔ یہ بھی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ انار کلی کا کوئی وجود بھی تھا یا نہیں یا یہ محض ایک فرضی داستان ہے۔ یہ سب باتیں متنازعہ ہیں اور اس حوالے سے مختلف تاریخ دان مختلف آراءبیان کرتے ہیں۔ مولوی نور احمد چشتی اپنی تصنیف ’تحقیقات چشتی‘ میں لکھتے ہیں کہ انار کلی اور شہزادہ سلیم کی محبت کی داستان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، ان کے خیال کے مطابق شہنشاہ اکبر نے نادرہ بیگم یا شریف النساءکو اسکے حسن کی وجہ سے انار کلی کا خطاب دیا تھا۔ اپنے مسحور کن حسن کی وجہ سے وہ دوسری بیگمات کے حسد کا شکار ہوئی اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی ایک اور روایت کے مطابق جب اکبر دکن کی مہم پر تھا تو یہ حسین عورت کسی بیماری میں چل بسی۔</p>
<p>سید محمد لطیف اپنی کتاب ’تاریخ لاہور اور اس کے آثار قدیمہ‘ میں لکھتے ہیں کہ کسی موقع پر شہنشاہ اکبر نے اسے اور شہزادہ سلیم کی مسکراہٹوں کو آئینے میں دیکھا اور اس بنا پر اسے دیوار میں زندہ چنوا دیا۔ انار کلی کے بارے میں سب سے پہلا تذکرہ ایک انگریز ولیم فن چکا ہے جو کاربار کے سلسلے میں 1611ءمیں لاہور آیا تھا۔ فقیر سید اعجاز الدین نے ولیم فنچ کا ذکر اپنی کتاب’لاہور‘ میں کیا ہے کہ فنچ نے لاہو رمیں ایک مقبرہ دیکھا جس کے بارے میں اسے بتایا گیا یہ ایک خاتون نادرہ کا مقبرہ ہے جسے اکبر کے حکم سے دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا تھا۔ اس بات کو دیگر محققین تسلیم نہیں کر رہے تھے کیونکہ اکبر کے دور میں شیش محل تعمیر نہیں ہو ا تھا بلکہ اس کو شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا لیکن بعد ازاں ایک اور انگریز مو’رخ نے 1935ءمیں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے ایک رسالے میں مضمون لکھا جس میں انہوں واضح کیا کہ جن آئینوں سے اکبر نے سلیم اور ایک کنیز کو دیکھا تھا وہ دو فٹ چوڑے اور تین فٹ لمبے آئینوں کی ایک قطار تھی جو اس دور میں قلعہ لاہور کے رہائشی حصے میں نصب تھی۔ ایک مورخ ٹیری نے اپنے رسالہ ٹیری جرنل میں 1655ءمیں لکھا کہ شہنشاہ اکبر نے شہزادہ سلیم کو تخت سے الگ کرنے کی دھمکی دی تھی، اور اس کی وجہ اکبر کی منظور نظر کنیز انار کلی تھی۔</p>
<div id="attachment_767" class="wp-caption alignright" style="width: 225px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali.jpg"><img class="size-medium wp-image-767" title="عبد الرحمان چغتائی کی بنائی ہی انارکلی کی خیالی تصویر " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-215x300.jpg" alt="عبد الرحمان چغتائی کی بنائی ہی انارکلی کی خیالی تصویر " width="215" height="300" /></a><p class="wp-caption-text">عبد الرحمان چغتائی کی بنائی ہی انارکلی کی خیالی تصویر </p></div>
<p>یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس داستان کا مرکزی کردار شہزادہ سلیم اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے اس نے اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں اپنے بے شمار دوسرے مشاغل اور دلچسپیوں کا بے باکی سے ذکر کیا ہے۔ لیکن انار کلی کے واقعہ کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔</p>
<p>کنہیا لال ہندہ اس حوالے سے ’تاریخ لاہور‘ میں لکھتے ہیں کہ ”انارکلی ایک کنیز نہایت خوبصورت اکبر بادشاہ کے محل کی تھی جس کا اصلی نام نادرہ بیگم تھا۔ بادشاہ نے باسبب اس کے کہ حسن و جمال میں لاثانی تھی اور رنگ سرخ تھا، انارکلی کے خطاب سے اس کو مخاطب کیا ہوا تھا ۔ جن دکھوں بادشاہ دکھن و خاندیس کی مہموں میں مصروف تھا ، یہ لاہور میں بیمار ہو کر مر گئی۔ بعض کا قول ہے کہ مسموم ہوئی۔ بادشاہ کے حکم سے یہ عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا اور باغ تیار ہوا جس کے وسط میں یہ مقبرہ تھا۔ سکھی سلطنت کے وقت باغیچہ اجڑ گیا، چار دیواری کی اینٹیں خشت فروش اس کو گرا کر لے گئے، مقبرہ باقی رہ گیا۔ اس میں جو سنگ مرمر کا چبوترہ تھا اس کا پتھر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اتروالیا۔ قبر کا تعویذ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا گیا“۔</p>
<p>اس تمام تاریخوں حوالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بیشتر مور ¿خین کی رائے ہے کہ انار کلی کی داستان محض ایک افسانہ ہے جسے امتیاز علی تاج کے ڈرامے انار کلی نے لازوال شہرت بخش دی ہے اور امر بنا دیا۔ امتیاز علی تاج نے یہ ڈرامہ 1923ءمیں لکھا تھا اور انہوں نے بھی اس ڈرامے کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ ان کی اس کہانی کے پس منظر میں محض وہی تاریخی حقیقت ہے جس کا ولیم فنچ نے ذکر کیا ہے باقی سب محض کہانی ہے۔</p>
<p>کچھ مورخین کا خیال ہے کہ وہ جگہ جسے انار کلی کا مقبرہ کہا جاتا ہے (موجودہ سول سیکریٹریٹ، لوئر مال روڈ، لاہور) دراصل جہانگیر کی ایک ملکہ صاحب جمال کا مقبرہ ہے اس جگہ کے اطراف میں انار کلی باغ تھا۔ اسی مناسبت سے اس مقبرے کو انار کلی کا مقبرہ قرار دیا جاتا ہے۔ انار کلی کے نام کے حوالے سے لاہور میں قائم ہونے والے انار کلی بازار کی شہرت بھی دوامی ہے۔</p>
<div id="attachment_769" class="wp-caption alignleft" style="width: 310px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/Tomb_of_Anarkali-thumb.jpg"><img class="size-full wp-image-769" title="وہ عمارت جسکو انارکلی کا مقبرہ تصور کیا جاتا ہے. " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/Tomb_of_Anarkali-thumb.jpg" alt="وہ عمارت جسکو انارکلی کا مقبرہ تصور کیا جاتا ہے. " width="300" height="385" /></a><p class="wp-caption-text">وہ عمارت جسکو انارکلی کا مقبرہ تصور کیا جاتا ہے. </p></div>
<p>انارکلی کا مقبرہ مغل طرز تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ کنہیا لال ہندی اس مقبرے کی عمارت کا نقشہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ اس مقبرے کی عمارت ہشت پہلو ہے اور ہر پہلو میں ایک ایک دروازہ ہے۔ اندر سے مقبرہ دو منزلہ ہے اور وسط میں عالی شان گنبد ہے۔ دوسری منزل میں چھوٹی بڑی نو کھڑکیاں ، چھوٹے گنبد ہیں۔ پہلے اس کے آٹھ دروازے نیچے اور آٹھ اوپر کی منزل میں تھے اب زیریں منزل کے آٹھ دروازے بدستور ہیں اور اوپر کے دروازوں میں تغیر و تبدل ہو گیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ برس پنجاب کے محکمہ آثار قدیمہ نے ایک منصوبے کے ذریعے لاہور کے سول سیکرٹریٹ میں واقع انار کلی کے مقبرے کو اس کی اصلی شکل میں بحال کرنے اور اس کی حدود کو سول سیکرٹریٹ سے الگ کر کے ایک تاریخی عمارت کے طور پر عام لوگوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے اور مقبرے کے عقب میں واقع 24سرکاری کوارٹرز ملازمین سے خالی کروا کے منہدم کر دیے گئے ہیں۔ مقبرے کو سول سیکرٹریٹ سے الگ کرنے کے لیے عقب میں اس کا اپنا ایک دروازہ تعمیر کیا جائے گا جس کے بعد سول سیکرٹریٹ کے اندر اس کے گرد دیوار بنا کے اس کو ایک علیحدہ تاریخی عمارت میں تبدیل کیا جائے گا۔ محکمہ آثار قدیمہ نے کھدائی کا کام جاری ہے جو کہ مقبرہ اور اس کے ارد گرد کے تاریخی اہمیت کے حامل آثار اور تاریخی حقائق فراہم کرنے میں مدد دے گی۔ مقبرہ انار کلی مغلیہ دور میں تو ایک مقبرہ ہی رہا ۔ سکھ دور میں لارڈ فرانسس کے ماتحت چار سکھ پلٹنیں تھیں، انہوں نے رہائش کے لئے اس مقام کو موزوں تصور کیا اور یہاں قیام پذیر ہوگئے۔ 1849ءمیں پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد یہ عمارت گرجا گھر میں تبدیل کر دی گئی تھی اور عمارت کو سفید چونے سے ڈھک دیا گیا اور گنبد پر صلیب نصب کر دی گئی۔ اورانگریزوں ہی نے 1891ءمیں اس کو پنجاب ریکارڈ آفس بنا یا تھا اور آج تک یہ ریکارڈ روم ہی کہلاتا ہے مگر یہاں سنگ مرمر کی قبر کا ایک نشان Cinetaph ہمیشہ موجود رہا ہے جس کی وجہ سے اس کوانار کلی کا مقبرہ کہا جاتا ہے۔اب پنجاب حکومت نے اس کی مزید تاریخی حیثیت سے پردہ اٹھانے کےلئے اس کے احاطے کی سائنسی بنیادوں پر کھدائی کی جارہی ہے۔</p>
<p><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-2.jpg"><img class="alignright size-medium wp-image-771" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-2-300x197.jpg" alt="" width="300" height="197" /></a></p>
<p>محکمہ آثار قدیمہ کے عہدے دار سلیم الحق کے مطابق صدیوں سے رنگ وروغن کی مختلف تہیں جو اس مقبرے پر جما دی گئی ہیں ان کو بھی سائنسی انداز میں ہٹایا جائے گا تاکہ اس عمارت کی اصل شکل و صورت سامنے آئے اور پھر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی وہی شکل بحال کرنے کی کوشش کی جائے جو تعمیر کے وقت تھی۔ ان کے مطابق سکھوں کے دور حکومت میں اس مقبرے کو کھڑک سنگھ کی رہائش گاہ بنا دیا گیا تھا اور مقبرے چونکہ چاروں طرف سے کھلے ہوتے ہیں لہذا رہائش گا ہ میں تبدیل کرتے وقت اس کی باہر کی طرف واقع محرابوں کو دیواریں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا تھا۔ مقبرے کی یہ تجاوزات بھی ایک طرح سے سکھ دور کے طرز تعمیر کی نمائندہ ہیں لہذا یہ کوشش کی جارہی ہے کہ جن تجاوزات کو ہٹانا ضروری نہیں ہے ان کو سکھ دور کی علامت کے طور پر قائم رکھا جائے اور باقی تجاوزات کو ختم کر کے مقبرے کو اصلی شکل میں بحال کیا جائے۔</p>
<p>تاریخی طور پر اس امر کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ قبر انارکلی نام کی کسی خاتون کی ہے ۔ قبر کے پتھر پر بھی کچھ اشعار اور سن وفات 1599ءدرج ہے مگر کوئی نام درج نہیں ہے۔ قبر پر مجنوں سلیم اکبر کا نام کندہ ہے ۔اس دور میں جہانگیر کا نا م نورالدین سلیم لکھا جاتا تھا جبکہ بعد ازاں وہ بادشاہ بنا تو اس کا نام نورالدین جہانگیر ہو گیا تھا لہذا مجنوں سلیم اکبر کا نام بھی تحقیق طلب معاملہ ہے۔ البتہ بعض تاریخ دانوں نے یہ مو’قف اختیار کیا ہے کہ یہ مقبرہ جہانگیر کی ایک بیوی صاحب جمال کا تھا جو جہانگیر کی عدم موجود گی میں لاہور میں وفات پاگئیں اور یہیں دفن ہو گئیں۔ لیکن مغل بادشاہ اپنی بیگمات کے مقبروں پر لازمی طور ان کے نام کندہ کرواتے تھے مگر یہاں کوئی نام کندہ نہیں ہے۔ مختلف محققین کے مطابق اس تاریخی حقیقت کے باوجود کہ 1599ءمیں اس صاحب مزار کا سن وفات ہے اکبر اور ان کا بیٹا سلیم دونوں لاہور سے باہر تھے ، عام لوگ اس کو انار کلی کا مقبرہ ہی کہتے ہیں اور مستقبل میں اس پر کتنی بھی مزید تحقیق ہو جائے ڈراموں اور فلموں نے انار کلی کے کردار کو ان کے بقول جس طرح امر کر دیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ مقبرہ اس کردار کے نام ہی موسوم رہے گا۔</p>
<p><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-4.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-772" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-4-300x296.jpg" alt="" width="300" height="296" /></a></p>
<p>انارکلی کے کردار کو امر کرنے کا سہرا ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے ’انارکلی‘ ڈرامہ لکھ کر اس کردار کو عشق و محبت کے داستانوں میں ان مٹ تاریخ رقم کر دی ہے۔ ڈرامہ انار کلی کی کہانی کا بنیادی خیال ، محبت اور سلطنت کے درمیان تصادم اور کشمکش پر مبنی ہے ۔ اس طرح اس ڈرامے میں رومانیت ، رعب داب ، جلال و جمال اور بے پناہ قوت کی منظر نگاری کی گئی ہے۔ ڈرامہ نگار نے اس ڈرامہ کے توسط سے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ محبت ایک لازوال طاقت ہے چنانچہ جب قوت اقتدار اور قوت جذبات کا ٹکراﺅ ہوتا ہے تو ہر طرف اداسی اور سوگ کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔ مگر جہاں تک انار کلی کے پلاٹ کی تاریخی سند کا تعلق ہے تو اس لحاظ سے یہ قصہ بے بنیادنظرآتا ہے ۔ امتیاز علی تاج اس حوالے سے خود کہتے ہیں”میرے ڈرامے کا تعلق محض روایات سے ہے ۔ بچپن سے انارکلی کی فرضی کہانی کے سنتے رہنے سے حسن و عشق، ناکامی و نامرادی کا جو ڈراما میرے تخیل نے مغلیہ حرم کے شان و شوکت میں دیکھا اس کا اظہار ہے۔“ البتہ اگر اس ڈرامے کی تاریخی اہمیت سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انار کلی فنی عروج اور دلفریب ادبیت کاخوبصورت امتزاج ہے۔ خوبی زبان ، بندش الفاظ ، چست مکالمات اور برجستگی جیسے ڈرامائی لوازمات نے ا س تخلیق میں ایک شان او ر وقار اور سربلندی پیدا کی ہے۔</p>
<p><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-5.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-774" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/anarkali-tomb-5.jpg" alt="" width="589" height="518" /></a></p>
<p>اس ڈرامہ میں انکا کردار نہایت جاندار ہے۔ وہ درحقیقت عشق و وفا اور فکر و فن کا ایک حسین و جمیل شاہکار ہے۔ وہ نہ تو زندگی سے خوف کھاتی ہے اور نہ ہی موت سے آنکھیں چراتی ہے۔ اسے اپنی رسوائی کا بھی ڈر نہیں ۔لیکن شہزادے کی رسوائی کے بارے میں فکر مندرہتی ہے اور اکبر اعظم کے رعب میں آخر سلیم کی بے وفائی کے شکوک و شبہات کا بھی شکار نظر آتی ہے۔ اس کے جذبہ عشق کے آگے جب موت بھی سر جھکادیتی ہے ۔ تو اکبر اسے دیوار میں چنوا دیتا ہے ۔ اس طرح یہ لافانی کردار تاریخ عالم میں زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔ اور بعد کے لوگ انار کلی کے نام کو بطور ایک استعارہ محبت لیتے رہتے ہیں۔ اور ان کی وفا کی مثالیں بھی زبان زد عام ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>انارکلی کی یہ فرضی کہانی برصغیر کے سینما میں بھی اہم مقام کی حامل رہی ہے۔ عشق اور اقتدار کی جنگ بالی وڈ کی رومانوی فلم کے لیے ایک آئیڈیل پلاٹ مہیا کرتا ہے۔ لہذا اس موضوع پر بالی وڈ اور ہالی وڈ میں کئی شاہکار اور کاسیک فلمیں تیار کی جا چکی ہے۔ اس ضمن میں 1953ءمیں پردیپ کمار، بینا کماری اور نور جہاں کی کاسٹ پر مشتمل پر ’انارکلی‘ قابل ذکر ہے۔1958ءمیں بھی پاکستان میں انارکلی کے نام سے فلم بنائی جس میں انارکلی کا کردار نور جہاں نے ہی ادا کیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں کے آصف کی تیار کردہ فلم ’مغل اعظم‘ انارکلی اور شہزادہ سلیم کے عشق کی داستان کے حوالے سے بنائی جانے والی تمام فلموں میں کامیاب ترین قرار دی جاتی ہے۔ تقسیم سے قبل اور تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت میں اس عشقیہ داستان کو مختلف انداز میں فلمایا جا چکا ہے۔کچھ عرصہ قبل شعیب منصور نے ویڈیو گیت ’عشق‘ میں انارکلی کی داستان کو مختصر انداز میں پیش کیا تھا۔ انارکلی کے کردار میں ایمان علی اور پس پردہ آواز حمیرہ ارشد کی تھی جسے بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔</p>
<blockquote><p><span style="color: #888888;">انارکلی کے فسانے پر شعیب منصور نے عشق کے نام سے چند سال قبل ایک ویڈیو فلمبند کی.</span></p></blockquote>
<p style="text-align: center;"><object classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" width="480" height="385" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="allowFullScreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="src" value="http://www.youtube.com/v/5p7Pv8EQqHU?fs=1&amp;hl=en_GB&amp;rel=0&amp;color1=0x2b405b&amp;color2=0x6b8ab6" /><param name="allowfullscreen" value="true" /><embed type="application/x-shockwave-flash" width="480" height="385" src="http://www.youtube.com/v/5p7Pv8EQqHU?fs=1&amp;hl=en_GB&amp;rel=0&amp;color1=0x2b405b&amp;color2=0x6b8ab6" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true"></embed></object></p>
<p>حیقیقت خواہ کوئی بھی ہو۔ انارکلی اور شہزادہ سلیم کے عشق کا قصہ محض فرضی داستان تھا یا نہیں۔ مقبرہ انارکلی میں قبر انارکلی کی ہی ہے یا نہیں۔ اس تمام امور سے قطع نظر ادب و ثقافت پر اس کردار نے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ صدیوں سے مقبرہ انارکلی عشق اور محبت کی علامت کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے اور آج بھی لوگ انارکلی کو عشق، محبت اور وفا کی علامت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔</p>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=6czjtGRI23c:EghTzqxDLB4:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/6czjtGRI23c" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=755</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=755</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>برقع، اسلام ، اور عورت کا معاشرتی کردار</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/Rok8XFBUZN8/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=737#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 15 Oct 2010 23:02:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[haqooq-e-nuswan]]></category>
		<category><![CDATA[samreen]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[برقع]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرتی]]></category>
		<category><![CDATA[پردہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=737</guid>
		<description><![CDATA[
			
				
			
		

ثمرین شہباز
روشنی کے لئے تحقیقی رپورٹ

اس مضمون کا پہلا حصّہ عورت اور پردہ کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
اسلام میں عورتوں کے لباس کی کیا ہدایت ہے ؟

سنن ابو داؤد میں ایک حدیث بیان کی گی ہے اور جسکو تبلیغی لٹریچر میں بہت زیادہ استعمال بھی کیا جاتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D737"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D737&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<blockquote>
<p style="text-align: justify;"><span style="color: #ff0000;">ثمرین شہباز<br />
روشنی کے لئے تحقیقی رپورٹ</span></p>
</blockquote>
<blockquote><p><span style="color: #800080;">اس مضمون کا <a href="http://roshnipk.com/blog/?p=604">پہلا حصّہ </a><strong>عورت اور پردہ</strong> کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے <a href="http://roshnipk.com/blog/?p=604"><strong>یہاں</strong> </a>کلک کریں</span></p></blockquote>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;">اسلام میں عورتوں کے لباس کی کیا ہدایت ہے ؟</span></span></strong></p>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/pardah.bmp"><img class="alignright size-full wp-image-746" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/pardah.bmp" alt="" /></a></span></span></strong></p>
<p>سنن ابو داؤد میں ایک حدیث بیان کی گی ہے اور جسکو تبلیغی لٹریچر میں بہت زیادہ استعمال بھی کیا جاتا ہے. یہ حدیث اس طرح بیان کی گئے ہے کہ حضرت عایشہ سے روایت ہے کہ حضرت محامد نے حضرت اسماء کو کہا کہ جب کوئی عورت بلوغت کو پہنچے تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ چہرے اور ہاتھ کے علاوہ جسم کا کوئی حصّہ ظاہر کرے. اس حدیث کو ملا حضرات نے جس طرح سے استعمال کیا ہے اس سے انکی عقل پر شک ہوتا ہے. کچھ ملا حضرات نے کہا ہے کہ عورت ابرو سے اپر کا حصّہ ڈھانپے گی، کچھ نے لکھا ہے کہ عورت ادھ پیشانی ظاہر کر سکتی ہے، کچھ نے کہا کہ پوری پیشانی ظاہر کی جاسکتی ہے. سب نے کتنا ڈھانپنا پر بحث کی لیکن کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ یہ حدیث صحیح ہے بھی یا نہیں. ابو داود خود لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل (یعنی کمزور ) حدیث ہے کیونکہ سلسلا اسناد مکمّل نہیں ہے. یعنی حضرت عایشہ سے جسنے یہ حدیث سنی اسکا نام ابو داؤد کو معلوم نہیں ہے. حدیث مرسل کو شریعت میں شامل نہیں کیا جاسکتا اس لئے اس پر بحث بے کار ہے.</p>
<p>اوپر دیے گئے تمام حوالوں میں کسی بھی جگه پر ایسے کوئی ہدایت نہیں ملتی کہ عورت کے صرف ہاتھ اور چہرہ ہی نظر انا چاہیے. لیکن تقریباً تمام علما نے سر کے ڈھانپنے کا حکم دیا ہے اور اسے فرائض میں شامل کیا گیا ہے.میرے خیال میں یہ غلط ہے . یہ درست ہے کہ صحابیات نے اور ام المومنین نے &#8216;خمار&#8217; اوڑھا. لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ خمار عربی لباس کی حصّہ تھا اور اسے مرد اور عورتیں دونوں نے پہنا. خمار اسلام نہیں لے کر آیا تھا بلکہ یہ عرب کہ لباس اور ثقافت کا زمانہ جاہلیت سے ہی حصّہ تھا. حضور نے تمام زندگی عمامہ باندھا. عمامہ بھی عربی لباس کا ایک حصّہ تھا اور عرب کے مردوں میں کافی مقبول تھا. لیکن شریعت میں عمامہ باندھنا مردوں پر فرض نہیں کیا گیا، بلکل اسی وجہ سے عورتوں کا خمار لینا بھی فرض نہیں کیا جا سکتا. کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ عورت کے بال اسکی زینت کا حصّہ ہوتے ہیں اسلئے اسکو ڈھانپنا ضروری ہے. بال چہرے سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوتے، تو جب چہرے کو ڈھانپنے کا حکم نہیں ہے تو بال کے ڈھانپنے کا حکم کیسے ملتا ہے ؟</p>
<p>اس لئے کوئی اسلامی حکومت یہ قانون نہیں بنا سکتی کہ سکارف یا سر پردپٹا لیا جائے. ہاں اگر عورت خود لینا چاہے تو اسے کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہے.</p>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;">کیا اسلام میں نقاب کا حکم ہے یا کیا ام المومنین میں سے کسی نے نقاب کیا؟</span></span></strong></p>
<p>قران میں کہیں بھی چہرے کے نقاب کا حکم نہیں دیا گیا نہ ہی یہ ام المومنین میں سے کسی نے چہرے کا نقاب کیا. اس ضمن میں میرے دلائل درج ذیل ہیں :</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">1.</span></strong> سوره نور کی آیات نمبر ٣٠ میں الله مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ نگاہیں نیچی رکھیں. اگر نقاب کا حکم ہوتا تو مردوں کو نگاہیں نیچی کرنے کا حکم کیوں دیا جاتا؟</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">2.</span></strong> سکالر یہ کہتے کہیں کے ام المومنین نے چہرہ کا نقاب کیا تھا. لیکن ایسی کوئی روایت شروع کی حدیث اور تاریخ کے لٹریچر میں نہیں ملنی. یہ روایت دوسری صدی ہجری میں مقبول ہویی تھی جب اس وقت کے حکمرانوں نے عورتوں کے چہرے کا نقاب کو فروغ دیا. بہت سے علما اس ضمن میں حوالہ کے لئے قصّہ افک کا ذکر کرتے ہیں جب حضرت عایشہ پر الزام لگایا گیا تھا کیونکہ اس روایت میں پورے واقعے کی تفصیل بیان کی گئے ہے اور حضرت عایشہ کے اپنے بیانات بھی تفصیل سے لکھے گئے ہیں. بخاری اور ابن اسحاق میں یہ واقیہ بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے . بخاری، مسلم، اور ابن اسحاق میں لکھا گیا اہے کہ صفوان نے حضرت عایشہ کو دیکھا اور انکو پہچان لیا. بخاری میں قصّہ افک ٣ جگہوں پر بیان کیا گیا ہے جن میں سے ١ جگہ لکھا ہے کہ حضرت عایشہ نے صفوان کو دیکھ کر چہرے کو ڈھانپ لیا جبکے ٢ جگہوں پر ایسا کچھ نہیں لکھا. اسی طرح مسلم اور ابن اسحاق میں بھی ایسا کچھ نہیں لکھا کہ حضرت عایشہ نے چہرہ ڈھانپا یا نہیں بلکہ صرف یہ لکھا ہے کہ صفوان نے حضرت عایشہ کو پہچان لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عایشہ کا چہرہ نقاب میں نہیں تھا.</p>
<p><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/ishr-burka1.jpg"><img class="alignleft size-medium wp-image-751" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/ishr-burka1-300x212.jpg" alt="" width="300" height="212" /></a></p>
<p><span style="color: #0000ff;"><strong>3</strong>.</span> کچھ علمانے سوره احزاب کی آیات نمبر ٥٩ کو نقاب کو لازم کرنے کے لئے استعمال کیا ہے. ان علما کا کہنا ہے کہ آیات میں جلباب کو اوڑھنے کے لیا لفظ &#8216;یدنین&#8217; استعمال ہوا ہے جسکالغوی مطلب قریب لانا ہے.یعنی اوڑھنا (لباس کے قریب لانا ). پہلی بات تو یہ کہ یہ آیات تمام زمانوں کے لئے نہیں تھی اس لئے اسکا شہریت میں استعمال نہیں ہوسکتا. دوسری بات یہ کہ اگر ہم اسکو شامل کریں بھی تو یہ آیات کہیں بھی یہ حکم نہیں دیتی کہ چہرے کو ڈھانپا جائے.</p>
<p><span style="color: #0000ff;"><strong>4</strong>.</span> چہرہ کو ڈھانپنے سے عورت کو کام کاج کرنے میں، کھانے، پینے میں بہت مشکل کا سامنا ہوگا. اسکے علاوہ گرم علاقوں میں نقاب لینا اور بھی تکلیف دہ ہوگا. اسلام میں کوئی حکم ایسا نہیں ہے کہ جو انسانی جان کے لئے مصیبت کا بآیِث بنے. بلکہ خدا خود فرماتا ہے کہ &#8216;الله کا ارادہ تمھارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں&#8217; (١٥٨: ٢ )</p>
<p><span style="color: #0000ff;"><strong>5</strong>.</span> اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت حجج ہے جسے دین کے ٥ ستونوں میں بھی شامل کیا گیا ہے. حجج کے لئے لباس اور حجج ادا کرنے کا طریقہ بہت تفصیل سے بہت سی روایات میں بیان کیا گیا ہے.عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے حج کے لیے احرام کا حکم دیا گیا ہے. عورتوں کے احرام میں انہیں چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسکی بہت ٹھوس روایات حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں. اسی طرح نماز میں بھی عورتوں کو چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے. اگر نقاب واقعی اسلامی لباس کا حصّہ ہوتا تو اسے حج جیسے اہم موقعے پر پہنننے کے کیوں نہ کہا گیا؟ یہاں یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ جو علما نقاب کا حکم دیتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عورت نماز کے وقت چہرے کو کھلا رکھے گی چاہے وہ کہیں بھی نماز کیوں نہ پڑھ رہی ہو. اگر نقاب واقعی لازم ہوتا تو یہاں نقاب کی چھوٹ کیوں دی جارہی ہے ؟</p>
<p>اسکے علاوہ بھی حدیث کے کسی واقعی سے یہ حکم یا تاثر نہیں ملتا کہ ام المومنین نے نقاب لیا تھا. وہابی علما نے بہت سی غلط حدیثوں کو شریعت کو استعمال کر کے نقاب کو شریعت میں شامل اور فرض کیا ہے. ان تمام حدیثوں کا ایک تنقیدی جایزہ اور انکے صحیح ہونے کے معیار کی تفصیل پروفیسر بلال فلپ کی کتاب &#8216;دی فیس ویل&#8217; میں بہت عمدہ طریقے سے بیان کی گئے ہے. یہ کتاب انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے اور قریں سے گزارش ہے کہ اس کتاب مطالع کریں اور جاننے کی کوشش کریں کہ کسطرح غلط اور بےبنیاد احادیث کو شریعت میں عورتوں کے خلاف استعمال کیا گیا ہے.</p>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;">کیا اسلام عورتوں کو مخلوط ماحول میں کام کرنے اور مردوں سے پشوارانہ تعلقات رکھنے سے منا کرتا ہے ؟</span></span></strong></p>
<div><strong><span style="text-decoration: underline;"></p>
<div><span style="color: #0000ff;"> </span></div>
<p></span></strong><strong> </strong></p>
</div>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;"> </span></span></strong></p>
<p><strong></p>
<div id="attachment_747" class="wp-caption alignright" style="width: 310px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/swat.jpg"><img class="size-full wp-image-747" title="سوات میں طالبان نے خواتین کو گھروں سے نکلنے حتیٰ کہ سکول، کالج اور بازار جانے تک پر پابندی لگا دی تھی. اس تصویر میںسوات کی خواتین کے کپڑوں کی ایک مارکیٹ پر بینر آویزاں ہے کہ خواتین کا داخلہ بند ہے. " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/swat.jpg" alt="سوات میں طالبان نے خواتین کو گھروں سے نکلنے حتیٰ کہ سکول، کالج اور بازار جانے تک پر پابندی لگا دی تھی. اس تصویر میںسوات کی خواتین کے کپڑوں کی ایک مارکیٹ پر بینر آویزاں ہے کہ خواتین کا داخلہ بند ہے. " width="300" height="225" /></a><p class="wp-caption-text">سوات میں طالبان نے خواتین کو گھروں سے نکلنے حتیٰ کہ سکول، کالج اور بازار جانے تک پر پابندی لگا دی تھی. اس تصویر میںسوات کی خواتین کے کپڑوں کی ایک مارکیٹ پر بینر آویزاں ہے کہ خواتین کا داخلہ بند ہے. </p></div>
<p></strong></p>
<p>یہاں میں اسلامی تاریخ سے کچھ واقعیات بیان کرنا چاہوں گی جس سے قارین کو اندازہ ہوجاے گا کہ اس وقت خواتین معاشرے میں کس قدر بھرپور عملی کردار ادا کرتی تھی.:</p>
<p><span style="color: #0000ff;"><strong>1</strong>.</span> حضرت محمّد نے عورتوں کو جنگوں میں شامل کیا جہاں وہ زخمیوں کی عیادت اور مرہم پٹی کی ذمہ داریاں نبھتی تھیں5.<br />
<span style="color: #0000ff;"><strong>2</strong>.</span> حضرت عثمان نے اپنے دور حکومت میں حضرت ام کلثوم (حضرت علی کی بیٹی ) کو اپنی حکومت کا سفارتی نمائندہ بنا کر روم بھیجا .<br />
<span style="color: #0000ff;"><strong>3</strong>.</span> حضرت فاروق نے اپنے دور حکومت میں ایک خاتون شفا بن عبدللہ کو ایک عدالت کا قاضی مقرر کیا. 6.<br />
<span style="color: #0000ff;"><strong>4</strong>.</span> حضرت عایشہ حضور کی زندگی میں اور آپکے وصال کے بعد بھی اسلامی تعلیمات دیتی رہیں. صحابہ کرام آپکے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے. اگر عورتوں کا مردوں سے بات چیت یا میل جول کی ممانعت ہوتی تو حضرت عایشہ صحابہ کو تعلیم کیوں دیتی ؟<br />
<span style="color: #0000ff;"><strong>5</strong>.</span> حضرت حسین کی بیٹی (حضور کے عزیز نواسے کی دختر )حضرت زینب ملک کے سیاسی معاملات میں بہت دلچسپی رکھتی تھی اور اس وقت کے خلیفہ کے خلاف اپ نے بہت مظاہرے بھی کیے اور مختلف جگہوں پرعوامی اجتماعات کی سربراہی کی اور ان میں حکومت کے خلاف آواز بھی اٹھایی. اپ نے قریش کی قبیلوں کے اجلاس (آج کے زمانہ کے مونسپل کمیٹی ) میں بھی بھرپور شرکت کی. آپکی بہادری اور آپکے سیاسی کارکن کی حثیت سے کارناموں کے قصّے بہت سی تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں. 7</p>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;"><span style="color: #0000ff;">حرف آخر :</span></span></strong></p>
<p>اسلام زمانہ جاہلیت کے عورتوں پر ظلم کے خلاف بلند آواز اٹھاتا ہے اور مسلم عورت کو شخصی آزادی دیتا ہے. ام المومنین اور صحابیات نے جس قدر معاشرتی عملی کردار ادا کیا اسکی مثالیں ہم سب کے سامنے موجود ہیں. حضرت محمد کی زوجہ ام سلمہ خواتین کے حقوق کی علمبردار تھی اور انہوں نے حضور سے خود بارہا سوال کیا کہ الله اپنی آیات میں صرف مردوں کو مخاطب کیوں کرتا ہے اور عورتوں کا ذکر کیوں نہیں اتا. ام سلمہ کے اس سوال کا جواب پر آیات نازل ہویں جسمیں خدا نے نہ صرف عورتوں اور مردوں کو مخاطب کیا بلکہ دونوں کو برابری بھی دی. ام سلمہ نے وہ مطالبہ کیا جو آج کی فیمنسٹ کرتی ہیں : مردوں اور عورتوں کے برابر کے معاشرتی حقوق اور انکے مطالبے کے جواب میں خدا نے آیات بھیجی جو عورتوں کی برابری کی تصدیق کرتی ہیں.</p>
<p>اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ جس سے عورتوں کے سر سے پیر تک ڈھانپا ہونے، گھروں میں محصور ہو کر رہنے، یا مردوں سے میل جول نہ رکھنے کا کہا گیا ہو. قران میں صرف ١ آیات میں لباس کے بارے میں حکم ملتا ہے جبکہ کردار کی بلندی اور تقویٰ کے لئے کی کی آیات موجود ہیں. افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے علما نے لباس پر زیادہ دور دیا ہے لیکن اخالق اور کردار کی بلندی پر کوئی بحث نہیں کی. عورتوں کے پردے کو اسلام نے اتنا برا مسلہ نہیں بنایا جتنا علما نے بنایا ہے .دنیا بھر میں برقع اور نقاب اسلام کی نشانیاں بن کر رہ گئی ہیں جب کہ مسلم کی شان برقع کی بجایے اسکا کردار ہونا چاہیے تھا. آج کے مسلمانوں نے اپنی ہدایت اور دینی تعلیم &#8216;نیم حکیم&#8217; ملاؤں سے لینا شروع کردی ہے اور عورتوں کو گھروں ، چار دیواریوں میں محصور کرکے معاشرے سے الگ تھلگ کردیا ہے. کیا ان ملاؤں اور انکے پیروکاروں کو حضرت عایشہ ، حضرت ام سلمہ، حضرت کلثوم، اور حضرت زینب کی زندگیوں اور انکی بھرپور معاشرتی کردار کے بارے کچھ نہیں معلوم ؟</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;"><span style="text-decoration: underline;">ریفرنسس</span></span></strong></p>
<p>1. http://www.theglobeandmail.com/news/world/asia-pacific/calcutta-schools-students-demand-teachers-wear-burkas/article1655573/ust/</p>
<p>2. http://www.rawa.org/rules.htm</p>
<p>3. Cyril Glasse. <span style="text-decoration: underline;">The Concise Encyclopedia of Islam</span>. Harper and Row Publishers, New York, N.Y., 1989,</p>
<p>4. http://www.bilalphilips.com/bilal_pages.php?option=com_content&amp;task=view&amp;id=277</p>
<p>5. Fatima Mernissi. The Veil and the Male Elite. Addison-Wesley Publishing Company. 1994.</p>
<p>6. http://www.youtube.com/watch?v=cmFUx-Wobog</p>
<p>7. Fatima Mernissi. The Veil and the Male Elite. Addison-Wesley Publishing Company. 1994.</p>
<blockquote>
<p style="text-align: justify;"><strong><br />
<span style="color: #ff0000;">یہ تحقیقی رپورٹ ثمرین شہباز نے روشنی کے لئے لکھی. ان سے رابطے کے لئے ای میل اڈرس یہ ہے : samreenshahbaz_1[at]hotmail[dot]com</span></strong></p>
</blockquote>
<blockquote><p><span style="color: #800080;">اس مضمون کا<a href="http://roshnipk.com/blog/?p=604"> پہلا حصّہ </a><strong><span style="text-decoration: underline;">عورت اور پردہ</span></strong> کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے <a href="http://roshnipk.com/blog/?p=604"><strong>یہاں</strong> </a>کلک کریں</span></p></blockquote>
<p><a class="a2a_dd a2a_target addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save#url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D737&amp;title=%D8%A8%D8%B1%D9%82%D8%B9%D8%8C%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D8%B1%D8%AA%DB%8C%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1" id="wpa2a_2"><img src="http://roshnipk.com/files/images/share.png" alt="Share"/></a></p><div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=Rok8XFBUZN8:3Hz8xzg6nAM:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/Rok8XFBUZN8" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=737</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=737</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>عورت اور پردہ</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/f_5YhwEltqE/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=604#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 15 Oct 2010 15:07:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[haqooq-e-nuswan]]></category>
		<category><![CDATA[samreen]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>
		<category><![CDATA[پردہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=604</guid>
		<description><![CDATA[جب ان منافیقین سے رسول نے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے بہانہ بنایا کہ ہم اتو یہ سمجھے تھے کہ یہ عورتیں لونڈیاں ہیں. اس آیت میں الله نے ایک تدبیر بتایی کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو 'جلباب' اوڑھ لیا کریں تا کہ وہ پہچانی جا سکیں اور منافیقین کہ پاس انہیں تنگ کرنے کا کوئی بہانہ نہ رہے. یہاں یہ بات واضح ہے کہ یہ آیت صرف ایک خاص وقت اور موقع کے لئے تھی اور یہ حکم تمام زمانوں کے لئے نہیں تھا.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D604"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D604&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<blockquote>
<p style="text-align: justify;"><span style="color: #ff0000;">ثمرین شہباز<br />
روشنی کے لئے تحقیقی رپورٹ</span></p>
</blockquote>
<blockquote><p><span style="color: #800080;">اس مضمون کا <span style="color: #800080;">دوسرا</span>حصّہ <strong><span style="text-decoration: underline;">برقع، اسلام ، اور عورت کا معاشرتی کردار</span></strong>  کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے <a href="http://roshnipk.com/blog/?p=737"><strong>یہاں</strong> </a>کلک کریں</span></p></blockquote>
<p>کچھ روز قبل ایک مباحثے کے دوران ایک صاحب نے فرمایا کہ مسلم عورت نوکری نہیں کر سکتی کیونکہ اسلام اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ گھر سے باہر نکلے یا مردوں سے میل جول رکھے. ان صاحب کا یہ بیان میرے لئے نیا نہیں تھا.</p>
<p>کلکتہ کی ایک اسلامی یونیورسٹی کے طلبا نے ایک خاتون استاد سے پڑھنے سے اسوجہ سے انکار کر دیا کہ وہ خاتون برقع نہیں پہنتی تھیں. عالیہ یونیورسٹی کلکتہ کے طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تمام خواتین اساتزہ کو برقعہ پہننے کی ہدایت کی جائے اور بصورت دیگر انہیں یونیورسٹی میں پڑھانے کی اجازت نہ دی جائے.<span style="color: #0000ff;">¹</span></p>
<p>طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں شریعت نافذ تھی اور اسکے مطابق عورتوں کے لئے خاص قوانین تھے جن میں سے کچھ یہاں بیان کیے جارہے ہیں:</p>
<blockquote><p><span style="color: #ff6600;">عورتوں کو سکول اور کالجوں میں پڑھنے کی اجازت نہیں تھی، عورتوں کو مرد کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی، عورتوں کو برقع کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی، عورتوں کو شوخ رنگ کے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں تھی. حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی عورت نیل پالش بھی لگا لیتی تو اسکی انگلیاں کاٹ دی جاتی تھی کیونکہ طالبان کی شریعت کے مطابق عورت بناؤ سنگھار نہیں کر سکتی تھی. ²</span></p></blockquote>
<p>اسی قسم کے قوانین بہت سی دوسری اسلامی تنظیموں (جیسے صومالیہ کی الشباب) کے پوسٹرز پر دیکھے جا سکتے ہیں. یہ تمام تنظیمیں اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار کہتی ہیں.</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی اسلامی شریعت یہ مطالبہ  کرتی ہے کے ایسے بہیمانہ قوانین نافذ کیے جایئں؟ ان تمام قوانین کی بنیاد پردہ کے احکام پر مبنی ہے سو بنیادی سوال یہ ہے کہ اسلام میں پردہ کے کیا احکامات ہیں؟اور کیا واقعی اسلام میں عورتوں کےعملی معاشرتی کردار کی کوئی جگه  نہیں؟</span></strong></p>
<p style="text-align: center;">
<div style="text-align: center;"><strong><span style="color: #0000ff;"></span></strong></div>
<p><strong><span style="color: #0000ff;"></p>
<div id="attachment_738" class="wp-caption aligncenter" style="width: 546px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/lollypop.jpg"><img class="size-full wp-image-738 " title="کچھ لوگ تو پردے کے حق میں دلائل ڈھونڈتے ہوے اس حد تک بے ہودگی پر اتر جاتے ہیں کہ بے ڈھنگ مثالوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ یہ پوسٹر جو کچھ دیر سے انٹرنیٹ پر کافی مقبول ہے. " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/lollypop.jpg" alt="کچھ لوگ تو پردے کے حق میں اس حد میں دلائل ڈھونڈتے ہوے اس حد تک بے ہودگی پر اتر جاتے ہیں کہ بے ڈھنگ مثالوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ یہ پوسٹر جو کچھ دیر سے انٹرنیٹ پر کافی مقبول ہے. " width="536" height="604" /></a><p class="wp-caption-text">کچھ لوگ تو پردے کے حق میں دلائل ڈھونڈتے ہوے اس حد تک بے ہودگی پر اتر جاتے ہیں کہ بے ڈھنگ مثالوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ یہ پوسٹر جو کچھ دیر سے انٹرنیٹ پر کافی مقبول ہے. </p></div>
<p></span></strong></p>
<p>اس آرٹیکل میں ان تمام سوالوں کا قران اور حدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب دیا جائے گا. ملاحظہ ہو:</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;"><span style="text-decoration: underline;">قرآن میں پردے کے احکامات:</span></span></strong></p>
<p>قرآن میں مختلف مقامات پر پردے کے بارے میں احکامات آتے ہیں. ان احکامات کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:</p>
<p><strong><span style="text-decoration: underline;">لباس اور تقویٰ </span></strong>- قرآن میں لباس کا ذکر سب سے پہلے ان آیات میں اتا ہے جن میں حضرت آدم اور حضرت حوا کے واقعے کا ذکر ہے. چنانچہ الله فرماتا ہے کہ جب آدم اور حوا کو اپنی عریانی کا احساس ہوا تو انھوں نے  پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کردیا (٢٢: ٧ ). آیت ( ٢٦ : ٧ ) میں الله لباس کو اپنی نعمتوں میں شمار کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتا ہے کہ تقویٰ بہترین لباس ہے. اس آیت میں ظاہری لباس کا ذکر تقویٰ کے ساتھ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ظاہری لباس اہم ہے لیکن تقویٰ اہم ترین مقام رکھتا ہے.</p>
<p>قران کی اگلی آیات میں الله لباس اور تقویٰ کے بارے میں اپنے احکام اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں. چنانچہ سوره نور میں فرمان ہے کہ</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">&#8216; مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں&#8217; (٣٠ : ٢٤ )</span></strong></p>
<p>یہاں &#8216;نگاہیں نیچی رکھو&#8217; سے مراد بلکل ہی نیچے کی طرف دیکھنا نہیں ہے. اس آیت میں لفظ &#8216;غدّا&#8217; استعمال کیا گیا ہے جسکا مطلب ہے کہ کسی چیز کو کم کرنا مگر اسطرح کے وہ بلکل ختم نہ ہو جائے. آیات (٣: ٤٩ ) اور (٣١: ١٩ ) میں یہی لفظ &#8216;غدّا&#8217; آواز کو کم کرنے کے لیا استعمال کیا گیا ہے. سو نگاہیں نیچی کرنے کا مطلب اس طرح دیکھنا کہ آپ ہر چیز کا بغور جایزہ نہ لے رہے ہو. عام فہم میں اسکا مطلب ہے کہ آپ کسی کو فحش طریقے سے مت دیکھو.</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">&#8216;مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمتوں میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں  سواے اسکے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں&#8217; (٣١ : ٢٤ )</span></strong></p>
<p>پردہ سے متعلق تمام احکامات میں سب سے اہم حکم اس آیت میں دیا گیا ہے. یہاں مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زینت کی نمایش نہ کریں سواے اسکے جو ظاہر ہے. زینت کیا ہے اسکی تفصیل یہاں بیان نہیں کی گئی. مفسر اور علما نے اس ضمن میں بہت سی وضاحتیں پیش کی ہیں. غامدی صاحب بیان کرتے ہیں کہ &#8216;زینت&#8217; قدرتی طور پر دی گی کسی بھی چیز کی خوبصورتی کو بڑھا کر پیش کرنا ہے. پچھلے وقتوں کے علما نے بیان کیا ہے کہ &#8216;سواے اسکے کہ جو ظاہر ہے&#8217; کا  کوئی واحد مطلب نہیں لیا جاسکتا  بلکہ  اسکا مفہوم زمانہ اور معاشرتی رجحان اور مقام کے لحاظ سے بدل سکتا ہے. لیکن اسکا متفقہ معنی میں بیان کیا گیا ہے کہ جسم کے جو حصّے عام طور پر نظر آتے ہیں یا کپڑوں کا وہ حصّہ جو عام طور پر نظر آتا ہے. کچھ علما نے اسکی  تفصیل بیان کی ہے. مصلاً الواحدی اور ابن تمییہ بیان کرتے ہیں کہ ہاته سے لے کر کہنی تک بازو ظاہر کیا جاسکتا ہے. النسبری نے بھی ابن تممیہ اور الواحدی کی تفسیر کی تایید کی ہے. ابن حییان نے تو یہ بھی کہا کہ غریب عورتوں کو اس معاملے میں اور بھی چھوٹ دی جا سکتی ہے.</p>
<p>اس آیت کے آخری حصّے میں حکم دیا گیا ہے کہ &#8216;اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں&#8217; یہاں لفظ &#8216;خمر&#8217; آیا ہے جو &#8216;خمار&#8217; کی جمع ہے. &#8216;خمار&#8217; چادر کی طرح کا عربی لباس تھا جو عرب کے مرد اور عورتیں صحرا کی دھوپ سے بچنے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے. اسکے علاوہ &#8216;خمار&#8217; عربی تہذیب اور ثقافت کی علامت بھی تھا. عربی عورتیں اس وقت کے فیشن کے مطابق کھلے گریبانوں والی قمیضیں پہنتی تھیں جس سے انکا سینہ مکمل طور پر ڈھنپا ہوا نہیں ہوتا تھا. غزوہ احد میں جب کفار جنگ کے میدان چھوڑ کر جا رہے تھے تو انکی عورتوں نے اپنے سپاہیوں کو للکارنے کے لئے اپنے سینے عریاں کر دیے. جس طرح جنگوں میں سپاہیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے جوشیلے نغمے گاے جاتے تھے اسی طرح یہ رجحان بھی کافی عام تھا. <span style="color: #0000ff;">³</span> یقیناً عورتوں کا سینہ انکی شرمگاہوں میں شامل ہوتا ہے اور جیسا کہ پچھلی آیات میں شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، یہاں وہی حکم دہرایا گیا ہے.  اس آیت کو ملا برادری نے عورتوں کے برقع کو فروغ دینے کے  لئے بارہا استعمال کیا ہے، لیکن آیت کی حرف با حرف تشریح سے اس بات کی وضاحت ہوگیی ہے کہ یہاں صرف اور صرف شرمگاہوں کی حفاظت اور بے حیائی سے روکا گیا ہے.</p>
<p>ایک اور آیت جو پردے سے مطالق تعلیمات میں اکثر پیش کی جاتی ہے:</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">&#8216;اے نبی اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں، اور اپنی مسلمانوں کی عورتوں سے کہ دو کہ (جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو) اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں. اس سے بہت جلد انکی پہچان  ہوجاے گی اور وہ ستایی نہیں جاییں گی. &#8216; (33 : 59 )</span></strong></p>
<p>یہاں چادر کے لئے لفظ &#8216;جِلابھیں&#8217; استعمال کیا گیا ہے جو &#8216;جلباب&#8217; کی جمع ہے. &#8216;جلباب&#8217; بھی اس وقت کا ایک مقبول لباس جسکی صحیح تعریف یا صورت کسی کو بھی یقینی طور پر معلوم نہیں. قدیم عربی زبان کے ماہرین جیسا کہ ابن المنضور اور جوہری عربی لغت کی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ &#8216;جلباب&#8217; ایک چادر کی طرح کا لباس تھا جسے کپڑوں کے اوپر اوڑھا جا سکتا ہے.</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;"><span style="text-decoration: underline;">ملا کا پردہ اور اسلامی تعلیمات:</span></span></strong></p>
<p>بہت سے اسلامی سکالر اور اسلام کے &#8216;نیم حکیم&#8217; نے برقع کو مسلم عورت کے لئے فرض قرار دے دیا ہے اور کھلم کھلا برقع کی تبلیغ کرتے ہیں. ان کے لئے نقاب لینا بھی فرائض میں شمار ہے. کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام عورت کا گھر سے نکلنے کی ممانعت کرتا ہے اور اس لئے مسلمان عورتوں کا نوکری کرنا ناجایز ہے. چنانچہ افغانستان میں عورتوں کی سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے یا پڑھانے کی اجازت نہیں تھی، سعودی عرب میں کئی سالوں سے عورتوں کے آفس اور مارکیٹوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی، نہ ہی انہیں گاڑی چلانے کی اجازت تھی. حال ہی میں سعودی حکومت نے عورتوں کو مارکیٹوں اور شاپنگ مال میں کشیر کی ملازمتیں دینا شروع کی تو کی نامور سعودی علما نے اسکے خلاف بیانات دیے اور کہا کہ عورت کا گھر سے نکلنا اور نوکری کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے. اس ضمن میں یہ علما جس آیت کا حوالہ دیتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیّت کے زمانہ کے بناؤ سنگھار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو&#8230;٣٣ :٣٣ </span></strong></p>
<p>یہ علما اس بات کو دیکھنے سے قاصر ہیں کہ یہ آیات خاص حضرت محمّد کی بیویوں کے لئے تھیں . یقیناً قاریین کے ذھن میں یہ سوال اٹھے گا کہ کیا مسلمان عورتوں کے لئے لازم نہیں ہے کے وہ جتنا ہوسکے ام المومنین کی پیروی کریں؟ اس سوال کے جواب کے لئے سوره احزاب کی آیات نمبر ٣٢ پڑھیے جسمیں خود الله فرماتا ہے کہ یہ حکم صرف حضور کی بیویوں کے لئے ہے کیونکہ وہ عام عورتیں نہیں ہیں. اسی لئے انکے لئے احکامات بھی خاص ہیں.</p>
<p>اسکے علاوہ الله خود قران میں عورتوں کے کام کرنے اور کمانے کا ذکر کرتا ہے. چنانچہ الله فرماتا ہے :</p>
<p><strong><span style="color: #339966;"><br />
مردوں کا حصّہ اس میں سے ہے جو انھوں نے کمایا اور عورتوں کا حصّہ اس میں سے جو انھوں نے کمایا &#8230;٣٢:٤</span></strong></p>
<p>سعودی عرب میں اور طالبان کی شریعت میں عورتوں کے لئے سر سے پیر تک کا پردہ اور چہرے کا نقاب فرض ہے اور جو عورتیں برقع اور نقاب نہ لیں انکے لئے کوڑوں کی سزا ہے. کوئی بھی ایسا شخص جسنے قران کو خود پڑھا اور سمجھا ہوگا  وہ یہ سوال ضرور کرے گا کہ قران میں کہاں سر سے پیر تک کے پردے کا حکم دیا گیا ہے اور قران میں کہاں ایسی سزاؤں کا حکم دیا گیا ہے؟ قرآن کے پردہ سے متعلق وہ احکامات (جو تمام زمانوں کے لئے ہیں) وہ سوره نور کی آیات نمبر ٣١ میں بیان کئے گئے ہیں. اس آیت میں جو احکامات ہیں انکو یہاں ایک دفع پھر بیان کئےجاتی ہوں :</p>
<p><strong>١. اپنی نگاہیں نیچی رکھیں</strong></p>
<p><strong>٢. اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اسکے کہ جو ظاہر ہے . &#8216;ظاہر&#8217; میں شامل ہے اسکی اوپر وضاحت کر دی گی ہے ( کہ یہ کچھ علما کے مطابق زمانے اور حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے )</strong><strong>٣. اپنے سینوں پر اوڑھنیاں (&#8216;خمار&#8217; ) ڈالے رکھیں.</strong></p>
<p>کیا اس آیت میں کہیں یہ کہا گیا ہے کے عورتیں سر سے پیر تک پردہ کریں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں کوڑوں کی سزا دو؟</p>
<div id="attachment_741" class="wp-caption alignright" style="width: 317px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/niqab.jpg"><img class="size-full wp-image-741 " title="ملا برادری عورتوں کو نقاب کرنے پر اسرار کرتی ہے حالانکہ اسکا اسلام میں کوئی حکم نہیں ہے. " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/niqab.jpg" alt="ملا برادری عورتوں کو نقاب کرنے پر اسرار کرتی ہے حالانکہ اسکا اسلام میں کوئی حکم نہیں ہے. " width="307" height="205" /></a><p class="wp-caption-text">ملا برادری عورتوں کو نقاب کرنے پر اسرار کرتی ہے حالانکہ اسکا اسلام میں کوئی حکم نہیں ہے. </p></div>
<p><strong> <span style="color: #0000ff;"><span style="text-decoration: underline;">کچھ علما نے سوره احزاب کی آیات نمبر ٥٩ کو شریعت میں پردہ کے قوانین کے لئے استعمال کیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے. اس ضمن میں دلائل یہ ہیں کہ :</span></span></strong></p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">1 </span></strong>.سوره احزاب کی یہ آیت اس زمانہ میں اتاری گئی تھی جب منافیقین مسلمان عورتوں کو نام دیتے تھے اور انہیں ایضا پہنچاتے تھے. ابن سعد (نامور تاریخ دان ) اس وقت کے حالات کو اس طرح بیان کرتے ہیں :</p>
<p><strong><span style="color: #339966;">&#8216; مدینہ میں کچھ بد دماغ مرد (صحفہ) لونڈیوں کو تنگ کرتے تھے. اس لئے کسی بھی عورت کے لئے باہر جانا مشکل تھا کیونکہ انکے لباس میں اور لونڈیوں کے لباس میں کوئی فرق نہیں تھا اور یہ مرد انہیں لونڈی سمجھ کر نام دیتے تھے اور تنگ کرتے تھے.’</span></strong></p>
<p>جب ان منافیقین سے رسول نے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے بہانہ بنایا کہ ہم اتو یہ سمجھے تھے کہ یہ عورتیں لونڈیاں ہیں. اس آیت میں الله نے ایک تدبیر بتایی کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو &#8216;جلباب&#8217; اوڑھ لیا کریں تا کہ وہ پہچانی جا سکیں اور منافیقین کہ پاس انہیں تنگ کرنے کا کوئی بہانہ نہ رہے. یہاں یہ بات واضح ہے کہ یہ آیت صرف ایک خاص وقت اور موقع کے لئے تھی اور یہ حکم تمام زمانوں کے لئے نہیں تھا.</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">2.</span></strong> سوره احزاب کی یہ آیات بہت پہلے نازل ہویی تھی اور ایک خاص موقع پر نازل ہویی تھی. حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ سوره احزاب کی یہ آیات حضرت محمّد کی حضرت زینب بنت جحش کے ساتھ شادی کے فورن بعد نازل ہویی تھی. امام مسلم لکھتے ہیں ولیمہ کی رات کھانا پیش کرنے کے کچھ دیر بعد کافی مہمان رخصت لے کر چلے گئے لیکن صحابہ کے ایک گروہ بیٹھا رہا. جب زیادہ دیر ہوگئی اور مہمان رخصت نہ ہوے تو حضور محفل سے اٹھ کر  باہر چلے گئے تاکہ مہمانوں کو اشارہ مل سکے. حضور حضرت عایشہ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت انس بن ملک (جن سے یہ واقعہ روایت ہے)  بھی انکے ساتھ تھے. جب حضور واپس آے تو انھوں نے دیکھا کے وہ مہمان ابھی تک نہیں گئے. حضور دوبارہ باہر چلے گئے اور جب واپس آے تو وہ مہمان رخصت لے کر چلے جا چکے تھے. حضور کو ان مہمانوں کا رویہ پسند نہیں آیا تھا. اس موقع پر سوره احزاب کی یہ آیات نازل ہویں. (دیکھئے آیات نمبر ٥٣ سے ٥٩ ).</p>
<blockquote><p>مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے.</p></blockquote>
<p>یہاں تمام آیات خاص موقعے کے لئے ہیں اور ان میں خاص لوگوں کے لئے احکامات ہیں.ً آیات نمبر ٥٣ صرف صحابہ کے لئے ہے جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ حضور کی بارگاہ میں تب تک حاضر نہ ہوں جب تک انہیں اجازت نہ مل جائے. اور جب اجازت مل جائے تو زیادہ دیر تک قیام مت کرو تا کہ حضورکو تنگی نہ ہو. اسی طرح اگلی آیات میں حضور کی بیویوں کو خاص طور پر مخاطب کیا گیا ہے اور انہیں حضور کی بیویوں کی حیثیت سے خاص احکامات دیے گئے ہیں. اسی طرح آیات نمبر ٥٩ ،جسے ملا پردے کے لئے استعمال کرتے ہیں، بھی ایک خاص زمانہ کے لئے تھیں. اسکے برعکس سوره نور میں جو آیات نازل ہوی وہ کسی خاص موقع پر نہیں نازل ہوی اور نہ ہی خاص اشخاص کے لئے نازل ہوی. سوره نور کی دوسری آیات میں شریعت اور اسلامی قوانین سے متعلق بہت سی آیات ہیں. جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف اور صرف سوره نور کی آیات ہی شریعت میں پردے سے متعلق احکامات جاری کرنے کے لئے استعمال ہوسکتی ہیں.</p>
<p><strong><span style="color: #0000ff;">3</span><span style="color: #0000ff;">.</span></strong> آیات نمبر ٥٩ میں الله فرماتا ہے کہ مسلمان عورتیں &#8216;جلباب&#8217; پہنیں تاکہ جب وہ باہر نکلیں تو لونڈیوں سے الگ پہچانی جا سکیں. ایک ایسے معاشرے میں جہاں لونڈیاں یا غلام ہی نہیں موجود وہاں مسلم عورت کو پہچان کے لئے خاص لباس پہننے کی ضرورت کیوں ہوگی؟ اور سوره نور میں جہاں عورتوں، حتہ کہ بوڑھی عورتوں کے لباس کے لئے بھی احکامات ہیں (آیات نمبر ٦٠ ) اور اخلاقی ذمہ داریوں کے بارہ میں بھی احکامات  ہیں. لیکن یہاں &#8216;جلباب&#8217; کا کوئی ذکر نہیں اتا.  اگر جلباب لینا سب زمانوں کے فرض تھا تو یہاں الله نے اس حکم کو دوہرایا کیوں نہیں جبکے  ہمیں اخلاقی اور کردار سے متعلق ہدایت بھی ملتی ہیں؟ چلیں اگر فرض کر لیا جائے کہ &#8216;جلباب&#8217; کا حکم لباس کے عمومی احکامات میں شامل ہے تو الله سوره نور میں دوبارہ الگ سے کیوں زینت کو چھپانےاور سینہ کو ڈھانپنے کا حکم دے گا جبکہ &#8216;جلباب&#8217; پہننے سے سینہ خود بخود ڈھنپ جاتا ہے؟ یہاں یاد رکھا جائے کہ جلباب ایک لمبی چادر تھی جسے عام قمیض یا کرتا کے اوپر اوڑھا جاتا ہے اور جو چیز قمیض  سے نہ ڈھانپے وہ اس سے ضرور ڈھنپ جائے گی،  الله قمیض اور جلباب اوڑھنے کے بعد ایک اور چادر &#8216;خمار&#8217; اوڑھنے کا حکم  کیوں دے گا؟ یہیں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف اور صرف سوره نور کی آیات شریعت میں پردے کے احکامات کے لئے استعمال کی جا سکتیں ہیں.</p>
<p><span style="color: #ff0000;"><strong>ریفرنسس</strong></span></p>
<p>1. http://www.theglobeandmail.com/news/world/asia-pacific/calcutta-schools-students-demand-teachers-wear-burkas/article1655573/ust/</p>
<p>2. http://www.rawa.org/rules.htm</p>
<p>3. Cyril Glasse. <span style="text-decoration: underline;">The Concise Encyclopedia of Islam</span>. Harper and Row Publishers, New York, N.Y., 1989,</p>
<p>4. http://www.bilalphilips.com/bilal_pages.php?option=com_content&amp;task=view&amp;id=277</p>
<p>5. Fatima Mernissi. The Veil and the Male Elite. Addison-Wesley Publishing Company. 1994.</p>
<p>6. http://www.youtube.com/watch?v=cmFUx-Wobog</p>
<p>7.   Fatima Mernissi. The Veil and the Male Elite. Addison-Wesley Publishing Company. 1994.</p>
<blockquote>
<p style="text-align: justify;"><strong><span style="color: #ff0000;"><br />
یہ تحقیقی رپورٹ ثمرین شہباز نے روشنی کے لئے لکھی. ان سے رابطے کے لئے ای میل اڈرس یہ ہے : samreenshahbaz_1[at]hotmail[dot]com</span></strong></p>
</blockquote>
<blockquote><p><strong><span style="color: #800080;">اس مضمون کا دوسراحصّہ<span style="text-decoration: underline;"> برقع، اسلام ، اور عورت کا معاشرتی کردار</span> کہ عنوان سے روشنی پر موجود ہے. پڑھنے کے لئے <a href="http://roshnipk.com/blog/?p=737">یہاں </a>کلک کریں</span></strong></p></blockquote>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=f_5YhwEltqE:m_bKE-uWVug:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/f_5YhwEltqE" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=604</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=604</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>حجاب کا نقطہ آغاز</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/-81VgYzEick/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=697#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 13 Oct 2010 09:54:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[featured]]></category>
		<category><![CDATA[feminism]]></category>
		<category><![CDATA[haqooq-e-nuswan]]></category>
		<category><![CDATA[muslim-feminism]]></category>
		<category><![CDATA[muslim-women]]></category>
		<category><![CDATA[women]]></category>
		<category><![CDATA[women rights]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[جلباب]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین]]></category>
		<category><![CDATA[عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>
		<category><![CDATA[فاطمہ مرسینی]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم]]></category>
		<category><![CDATA[مسلمان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=697</guid>
		<description><![CDATA[ خواتین کے لئے اس شہر میں زندگی دوبارہ کبھی محفوظ نہ ہو سکی. اگر وقت کا دھارا موڑنا ممکن ہوتا تو شائد مدینہ کی حیثیت خواتین کے لئے ایک ظالم شہر کی سی نہ ہوتی مگرافسوس یہ صرف فسانہ ہی ہو سکتا ہے. تب سے یہ خواتین کا مقدار ٹھہرا ہے کہ غیر محفوظ شہروں کی گلیوں میں انھیں نہایت احتیاط سے کالے جلباب میں ملبوس گھومنا پڑتا ہے. پردہ، جسکا اصل مقصد انکی حفاظت کرنا تھا، ایک ایسی ضروری روایت بن گیا ہے جو کہ انکے ساتھ کئی صدیوں تک رہے گی، چاہے حالت محفوظ ہوں یا نہیں.  ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D697"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D697&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<p style="text-align: right;">عرب میں اسلام سے پہلے کے معاشرے میں ( جسکو جہالیہ کہا جاتا ہے ) مرد مکمل طور پر حاوی تھے اور عورتوں کی حیثیت معذور یا ناقص افراد کی سی تھے. مرد خواتین کو باقی اشیا کی طرح اپنی ملکیت تصور کرتے تھے. وہ انکو ناجائز طریقوں سے حاصل کر سکتے تھے ( خرید سکتے تھے )، استمال کر سکتے تھے، اور پھر اپنی مرضی کے مطابق کوڑا سمجھ کر بغیر کسی افسوس اور ندامت بے دردی سے پھینک سکتے تھے . خواتین کو لونڈیوں کے طور پر خریدا جا سکتا تھا جنکے کسی قسم کے کوئی حقوق نہ تھے. معاشرہ  میں خواتین کے  کھلے عام جنسی استحصال پر کوئی پکڑ یا روک ٹوک نہیں تھی. اسی طرح خواتین پر جسمانی تشدد، چاہے اسکی کوئی وجہ ہو یا نہ، بھی ایک معمول تھا. خواتین اپنی معاشرتی حالت کا دکھڑا لے کر کسی کے پاس نہیں جا سکتی تھے، کوئی انکی حالت بہتر بنانے والا نہ تھا، وو مکمل طور پر مردوں کے رحم و کرم پر تھیں.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">جب عمر بن خطاب کو پتا چلا کہ انکی بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ انکے گھر گئے اورانکو بڑی بےرحمی سے  زود وکوب کیا. جب انکے شوہر نے انکو بچانے کی کوشش کی تو انہوں نے انکو بھی خوب مارا. اور یہی واقعہ انکی زندگی میں نیا موڑ ثابت ہوا کیونکہ انہو نے کچھ ہی عرصے بعد خود بھی اسلام قبول کر لیا، مگر اسکا مقصد اپنی بہن پر کئے گئے ظلم کا کفارہ ادا کرنا ہرگز نہ تھا. خواتین کی طرف انکا رویہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی زیادہ تبدیل نہ ہوا. انکے اسلام قبول کرنے کے بعد کا کم سے کم ایک  واقعہ تاریخ نے ضرور رقم کیا جسکے مطابق انھوں نے اپنی بیوی کو زوردار طمانچہ مارا تھا.</p>
<div id="attachment_699" class="wp-caption aligncenter" style="width: 460px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/muslim-women-wearing-the-veil.jpg"><img class="size-full wp-image-699" title="اسلامی معاشرے میں پردے کا تصور مختلف معاشرتی حالت کے مدنظر پیدا ہوا مگر اس سلسلے میں کسی کسم کی اصلاح کی کوشش کو قبول نہیں کیا جاتا." src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/muslim-women-wearing-the-veil.jpg" alt="اسلامی معاشرے میں پردے کا تصور مختلف معاشرتی حالت کے مدنظر پیدا ہوا مگر اس سلسلے میں کسی کسم کی اصلاح کی کوشش کو قبول نہیں کیا جاتا." width="450" height="432" /></a><p class="wp-caption-text">اسلامی معاشرے میں پردے کا تصور مختلف معاشرتی حالت کے مدنظر پیدا ہوا مگر اس سلسلے میں کسی کسم کی اصلاح کی کوشش کو قبول نہیں کیا جاتا.</p></div>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">اس پس منظر میں، حضرت محمّد نے فاسق معاشرے کی اصلاح کی ٹھانی. اس زمانے میں جب لوگ کھلے عام  بغیر کسی پکڑ اور ندامانی کے زیادتیاں کرنے کے عادی تھے، نبی کی مسلمانوں کو کی گیئں ہدایات کافی سخت اور شدید نوعیت کی سمجھی گیئں. وہ آزاد ہم بستری اور بے قابو شراب پینے کے عادی تھے، اسلام نے انکو چار بیویوں تک محدود کیا اور پھر شراب نوشی کو بھی ممنوعہ قرار دے دیا. طلاق، وراثت اورطلاق یافتہ بیویوں کی تلافی کے باقاعدہ اصول اور قوانین بتائے گئے. اسلام سے پہلے کے معاشرے میں، باپ کے مرنے کے بعد مرد جانشین کو جو وراثت ملتی، خواتین کو بھی اسکا حصہ سمجھا جاتا تھا. باپ کے مرنے کے بعد، عام طور پر سب سے بڑا  بیٹا اپنی سوتیلی ماں سے شادی کرتا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">اسلام کی متعارف کردہ اصلاحات اس زمانے کے لحاظ سے انقلابانہ تھیں مگر اصلاح پسندی کا یہ عمل حضرت محمّد کے جانے کے بعد رک گیا. ان اصلاحات کی مزید ارتقا کو والیوں اور مذہبی جانشینوں نے یہ کہ کر رد کر دیا کہ قرانی حُکم اِمتناعی کے بعد اصلاح کی ضرورت باقی نہیں. قرآن خدائی فرمان ہے اور کسی کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں تبدیلی لائے. قرانی احکامات کی تشریح کو بھی خوشی سے تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی عملی طور پر اسکو ٹھیک سمجھا جاتا ہے. اکثر اوقات تو قرانی احکامات پر شریعت کو فوقیت دی جاتی ہے. اس سے الجھنیں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ شریعت کی بنیاد احادیث ہیں جنکے مستند ہونے پر شکوک و شبہات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور ان پر سوال بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">تاہم، عرب میں سبھی عورتیں اتنی بدنصیب اور محروم نہیں تھیں. ایسی خواتین بھی موجود تھیں جنکے پاس مال دولت تھی، اپنا کاروبار تھا، جو اپنی زندگی اور اسکے معمولات میں خود مختار تھیں. پر ایسی خواتین بہت کم تھیں. حضرت محمّد کی پہلی بیوی، خدیجہ، جنھوں نے حضرت محمّد کو اپنا کاروبار سمبھالنے کیلئے ملازمت دے رکھی تھی، ان میں سے ایک تھیں. اشراف کی بیویوں کا معاشرتی رتبہ محض انکے شوہروں کی وجہ سے تھا.عموماً خواتین کی حالت کافی درد انگیز تھی.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong><span style="color: #ff0000;">پردے  کی مسلم معاشرے میں آمد</span></strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">نقاب کی مسلم معاشرے میں آمد دو مختلف مراحل میں ہوئی. عرب میں اسلام آنے کے بعد بھی یہ عام روایت تھی کہ لوگ کسی کے ہاں ملنے جلنے یا کسی کام سے کسی بھی وقت بن بلائے چلے جاتے تھے. وہ گھر کے مالک سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگنا تک گوارا نہ کرتے تھے. وہ بیٹھتے، گپیں لگاتے اور اس بات کا بالکل خیال نہ کرتے کہ وقت کسی کی گھر جانے کیلئے مناسب ہیں بھی یا نہیں، انکو وہاں بلایا بھی گیا ہے یا نہیں یا کہ کتنا وقت وہاں گزرنا چاہیے. یہ ایک روایت بن گئی تھی اور یہ حالات اکثر میزبان کے لئے مسلہ بن جاتے.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">جب حضرت محمّد نے زینب بنت جحش سے شادی کی تو انھوں نے تمام مسلمانوں کو اپنے گھر شادی کی دعوت پر بلایا. ان کے خِدمت گار انس ابن ملک اس قصے کو یوں بیان کرتے ہیں:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #993300;"> نبی کی زینب بنت جحش سے شادی ہو چکی تھی. مجھے زمیداری دی گی کہ میں لوگوں کو شادی کے کھانے کی دعوت دوں. میں نے ایسا ہے کیا. بہت سے لوگ آئے. وہ ایک کے بعد ایک گروہ کی شکل میں آئے. وہ کھانا کھاتے اور چلے جاتے. ایک وقت آیا جب نبی نے کہا: دعوت ختم کر دو. زینب کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی تھیں. وہ بہت خوبصورت عورت تھیں. 3 افراد کے علاوہ باقی سب چلے گئے مگر وہ بلا جھجھک تغافُل شِعار سے بیٹھے رہے اور گپیں لگاتے رہے. ناراض اور پریشان ہو کر نبی کمرے سے اٹھ کر چلے گئے. وہ عائشہ کے حجرے میں گئے&#8230; انہوں کے اپنی بیویوں کے حجروں کا دورہ کا چکر لگایا&#8230;. آخر کار وہ زینب کے کمرے میں واپس آئے اور دیکھا کہ وہ تین مہمان ابھی تک نہیں گئے. نبی نہایت شائستہ اور نرم مزاج انسان تھے. وو پھر کمرے سے نکل کر عائشہ کے حجرے میں چلے گئے. مجھے یہ یاد نہیں کے میں یا کوئی اور تھا جو نبی کو یہ بتانے گیا کہ وہ تین افراد آخرکار رخصت لے چکے.خیر، وہ عروسی حجرے میں واپس آئے. انھوں نے ایک قدم کمرے کے اندر رکھا اور دوسرا باہر. انھوں نے اس حالت میں اپنے اور میرے درمیان پردہ گرا دیا اور حجاب کی آیات اس مرحلے پر نازل ہوئی.  (1)</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">اوپر حوالہ دی گئی آیت قرآن کی سورہ احزاب کی آیت نمبر 53 ہے:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #800080;">مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے.</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">ملاقاتیوں اور نبی کی بیویوں کے درمیان پردے کی ہدایت <strong><span style="text-decoration: underline;"> تمام مسلم بیویوں</span></strong> کے لئے ایک عام عمل بن گیا. اس آیات کا آخری حصہ اس قصے سے کٹا ہوا لگتا ہے مگر اسکو اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو بہتر سمجھ آتی ہے. عرب اس زمانے میں اپنے روز مرہ کے معمول میں کافی بے لاگ اور غل مچانے والے تھے. کچھ نامعقول تو سرے عام یہ اعلان کرتے پھرتے تھے کہ وہ نبی کی بیواؤں سے جلد شادی کریں گے. آیت کا آخری حصہ نبی کی بیویوں کا باقی مسلمانوں سے تعلق کے لحاظ سے معاشرتی حالت پر روشنی ڈالتا ہے. بعد میں نبی کی بیویوں کو امہات المومنین کہ کر پکارا گیا تاکہ  شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong><span style="color: #ff0000;">مسلم معاشرے میں نقاب کی آمد کا دوسرا حصہ</span></strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مسلم معاشرے میں نقاب کی آمد کا دوسرا حصہ، جسکو آج کل حجاب کہا جاتا ہے، مدینہ میں موجود کچھ ضدی نوعمر خطار کار مردوں سے جڑا ہے. فاطمہ مرنیسی کے مطابق:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #008000;"> خواتین، چاہے انکا رتبہ کچھ بھی ہوتا، کو گلیوں میں ہراساں اور زچ کیا جاتا تھا. یہ مرد انکا تعقب کرتے اور &#8216;تارود&#8217; جیسی ذلت آمیز حرکت سے انکو محکوم کرنے کی کوشش کرتے. وہ عورتوں کے راستے میں آ کر کھڑے ہو جاتے اور زبردستی ان سے زنا کرنے کا کہتے. اس وقت پر نبی کے پاس مکمل - بِلا حُجَت - حاکمیت نہیں تھی لہٰذا انکے لئے مسلہ عورتوں کو قبل اسلام تشدد سے چھٹکارا دلانا نہیں تھا بلکہ اپنی بیویوں اور شہر میں دیگر مسلمانوں کی بیویوں کی حفاظت کو ایک ایسے شہر میں یقینی بنانا تھا جو بداندیش، شدت پسند اور بے قابو تھا. (2)</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">جب نبی نے قاصدوں کو بھیج کر ان وباش مردوں سے پوچھا کہ وہ عورتوں کو ایسے کیوں ستاتے ہیں تو انہو نے جواب دیا: &#8220;<strong> ہم صرف ان خواتین سے تارود کرتے ہیں جنکو ہم لونڈی سمجھتے ہیں</strong>.&#8221; (2) لہٰذا انہوں نے عورتوں کی شناخت کو بہانہ بنا کر اپنی جان چھڑا لی.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">ان حالات میں، خدا نے سوره احزاب کی آیت نمبر 59 نازل کی تاکہ مسلم خواتین کی شناخت میں کوئی مسلہ نہ ہو. آیت کے الفاظ یہ ہیں:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #ff00ff;"> اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے پر چادر لٹکا لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے.</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مسلم خواتین پردے کے لئے جو لباس استمال کرتیں، اسکو جلباب کہا گیا. آج کی مسلم خواتین جو حجاب استمال کرتی ہیں، وہ جلباب سے تو مختلف ہے مگر اسکا مقصد وہی ہے جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا.  مسلم خواتین کے گھر سے باہر معاشرتی رویوں، چال ڈھال اور لباس سے متعلق مزید تفصیل سوره نور کی آیت نمبر 31 میں بیان کی گئی:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #333399;"> اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">فتح مکّہ کے بعد مسلمان عرب کے عملی طور پر مکمل حاکم بن گئے اور مدینہ کے معاشرتی حالات بھی خواتین کے لئے دھمکی آمیز نہ رہے مگر چونکہ حجاب کا حکم باقاعدہ طور پر قرآن میں آیا تھا لہٰذا واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا اور ناقابِلِ تَنسيخ طَور پَر مسلم دنیا میں موجود رہا. اس پر تبصرہ کرتے ہے فاطمہ مرسینی لکھتی ہیں:</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #808000;"> خواتین کے لئے اس شہر میں زندگی دوبارہ کبھی محفوظ نہ ہو سکی. اگر وقت کا دھارا موڑنا ممکن ہوتا تو شائد مدینہ کی حیثیت خواتین کے لئے ایک ظالم شہر کی سی نہ ہوتی مگرافسوس یہ صرف فسانہ ہی ہو سکتا ہے. تب سے یہ خواتین کا مقدار ٹھہرا ہے کہ غیر محفوظ شہروں کی گلیوں میں انھیں نہایت احتیاط سے کالے جلباب میں ملبوس گھومنا پڑتا ہے. پردہ، جسکا اصل مقصد انکی حفاظت کرنا تھا، ایک ایسی ضروری روایت بن گیا ہے جو کہ انکے ساتھ کئی صدیوں تک رہے گی، چاہے حالت محفوظ ہوں یا نہیں.  (3)</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;"><strong><span style="color: #ff0000;">مغربی دنیا میں حجاب</span></strong></p>
<div id="attachment_700" class="wp-caption alignright" style="width: 310px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/beyond-the-veil-fatima-mernissi.jpg"><img class="size-full wp-image-700" title="فاطمہ مرسینی جیسی بہت کم لکھاری ہیں جو کہ مسلم خواتین کو یہ شعور دیتی ہیں کہ انکو اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہیے" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/beyond-the-veil-fatima-mernissi.jpg" alt="فاطمہ مرسینی جیسی بہت کم لکھاری ہیں جو کہ مسلم خواتین کو یہ شعور دیتی ہیں کہ انکو اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہیے" width="300" height="468" /></a><p class="wp-caption-text">فاطمہ مرسینی جیسی بہت کم لکھاری ہیں جو کہ مسلم خواتین کو یہ شعور دیتی ہیں کہ انکو اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہیے</p></div>
<p style="text-align: right;">گزشتہ کچھ صدیوں سے عرب ممالک میں حجاب مسلم خواتین کے روز مرہ لباس کا حصہ بن گیا ہے.اسکو خواتین کے استحصال کا اصولی اوزار بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کچھ خواتین اسکو باقائدگی سے اور اپنی مرضی سے پہنتی ہیں. اگر یہ اجیرن، نہ مناسب یا ذلت آمیز ہوتا تو خاص طور پر مغربی ممالک میں بہت سی مسلم خواتین اسکو اتار پھینکتی اور وہیں اسکا خاتمہ ہو جاتا. مسلمان مردوں نے ارادتاً ہمیشہ سے اپنی خواتین کو ثانوی اور کم درجے کی حیثیت میں رکھا ہے. یہ نقطہ مغربی دنیا کے حوالے سے کافی غیر اہم ہے چونکہ وہاں آباد کاروں نے خود ہی آباد ہونے اور اپنے خاندان بسانے کا فیصلہ کیا.</p>
<p style="text-align: right;">مسلم ثقافت اور اقتدار کے ڈھانچے میں کم سے کم تصوری طور پر طاقت کے دو سر چشمے ہیں : خلیفہ جو کہ سیاسی طاقت اور اقتدار پر غالب ہوتا ہے اور امام جو کہ مذھبی اور روحانی پیشوا ہوتا ہے. فاطمہ مرسینی کے مطابق :</p>
<blockquote>
<p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;">قرآن کے نزول کی زبان عربی کے یہ دونوں الفاظ، خلیفہ اور امام،  جو کہ طاقت اور اقتدار کے تصور کو خود میں سموئے ہوے ہیں کی کوئی زنانہ شکل نہیں ہے. لسان العرب لغت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ خلیفہ کا لفظ صرف مردانہ طور پر -  یا مرد کے لئے ہی &#8211;  استمال ہو سکتا ہے. (4)</span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: right;">لہذا ایک خاتون کا کسی مسلم ریاست کا سربراہ بننے کا مسلہ بحث پکڑتا ہے. ضیاء الحق کر مرنے کے بعد جب بینظیر بھٹو پاکستان کی سربراہ بنیں تو یہ بحث کھل کر سامنے آئی اور اس پر بحس و مباحثے ہونے لگے.  مسلم دنیا میں بہت کم مسلمان خاتون لیڈر اور دانشور ہوں گی جو کہ خواتین کے حقوق اور جنسوں کی برابری کے لئے جدوجہد کریں. اسی طرح، فاطمہ مرسینی جیسی بہت کم لکھاری ہیں جو کہ مسلم خواتین کو یہ شعور دیتی ہیں کہ انکو اپنے حقوق کے لئے لڑنا چاہیے.</p>
<p style="text-align: right;"><strong>مغربی دنیا میں حجاب محض عرب یا اسلامی ثقافت کی ایک علامت بن کر رہ جاتا ہے جسکو پہننے والا اسے بچا کر رکھنا چاہتا ہے. یہ بلکل اس شناختی علامت کی طرح ہے جسکو مدینہ کی عورتوں نے اوباش مردوں کے ہاتھوں ہراساں ہونے سے بچنے کے لئے استمال کرنا شروع کیا.</strong> بد قسمتی سے بہت سے مغربی ممالک میں جو کہ مسلم ثقافت کے بارے میں وسوسوں کا شکار ہیں، وہاں یہ ایک سیاسی مسلہ بن گیا ہے . اس مخالفت کے رد عمل کے طور پر، بہت سی مسلم خواتین جو کہ عرب نہیں ہیں،  انہوں نے بھی حجاب پہننا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی مسلم شناخت کو جتا سکیں. ایک کثیر ثقافتی معاشرہ منفرد اور مختلف معاشرہ ہوتا ہے مگر اسکا مطلب بالضروریہ نہیں ہوتا کہ اسکو باضابطہ بنانے کی ضرورت نہیں. مگر یہ ضرور ہے کہ یہ ضابطےمعتدل اور متحمل ہونے چاہییں اور کوشش یہ ہونی چاہیے کہ منفرد ثقافتی اظہار کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے.مغربی دنیا میں حجاب اور جلباب پر بحث تب تک جاری رہے گی جب تک آباد کاروں پر مکمل اعتماد نہیں کر لیا جاتا اور انکی طرف حقارت کے جذبات کو ہمیشہ کے لئے دفن نہیں کر دیا جاتا.</p>
<blockquote><p><strong><span style="color: #ff0000;">محمّد گل کے 23  جون 2004  کو Chowk .com  پر شائع ہونے والے مضمون Origins  of  Hijaab  سے روشنی کے لئے اردو میں ترجمہ کیا گیا.</span></strong></p></blockquote>
<p><strong><span style="color: #ff0000;">حوالہ جات </span></strong></p>
<p><span style="color: #ff0000;"><strong>1</strong>.</span> Fatima Mernissi, “The Veil and the Male Elite: A Feminist Interpretation of <a rel="tag" href="http://www.chowk.com/tag/Women">Women</a>’s <a rel="tag" href="http://www.chowk.com/tag/Rights">Rights</a> in <a rel="tag" href="http://www.chowk.com/tag/Islam">Islam</a>,” tr. Mary Jo Lakeland, Perseus Books, Cambridge, Massachusetts, 1991, p. 86.<br />
<span style="color: #ff0000;"><strong>2</strong>.</span> Ibid, p. 180.<br />
<span style="color: #ff0000;"><strong>3</strong>.</span> Ibid, p. 191.<br />
<span style="color: #ff0000;"><strong>4</strong>.</span> Fatima Mernissis, “The Forgotten Queens of <a rel="tag" href="http://www.chowk.com/tag/Islam">Islam</a>,” tr. Mary Jo Lakeland, University of Minnesota Press, Minneapolis, 1993, p. 4.</p>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=-81VgYzEick:3Tels-lUl3Q:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/-81VgYzEick" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=697</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=697</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>سائنس اور وسوسہ</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/pne1a6zdLbY/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=670#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 11 Oct 2010 19:13:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[featured]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنولو جی]]></category>
		<category><![CDATA[musalmaan-aur-science]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[بنیاد پرست]]></category>
		<category><![CDATA[روایت]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی طریقہ کار]]></category>
		<category><![CDATA[سائنٹفک میتھڈ]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[وسوسہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=670</guid>
		<description><![CDATA[اگر نیوٹن نےاشیا کی حرکت اور انکے زمین کی طرف گرنے کو اس با ترتیب کائنات کے خلقی قوانین کے بجاے ایک الوہی موجودگی سے جوڑا ہوتا، تو ہم میکانیات کے بنیادی نظریات بھی نہ بنا سکتے اور "موسیقار سے بنیاد پرست" بننے والے لاکھوں ڈالر مالیت کی ایس-یو-وی میں سفر کر کے تبلیغ کرنے نہ جا سکتے. حتیٰ کہ کوئی بنیاد پرست موٹر گاڑی نہ چلا سکتا، جہاز کا سفر نہ کر سکتا، نہ ہی ان جہازوں اور گاڑیوں کو امارات سے ٹکرا سکتا کیونکہ کوئی گاڑیاں یا جہاز ہوتے ہی نہ.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D670"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D670&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<p style="text-align: right;">
<p style="text-align: justify;">وہ مکہ کی سمت معلوم کرنے کے لئے گلوبل پوزیشننگ سسٹم &#8211; جی پی ایس &#8211; آلات کا استمال کرتے ہیں. انکے سمارٹ فون، جنکی قیمت کئی سو ڈالر ہوتی ہے، ہر اس طرح کر سافٹ وئر سے لیس ہوتے ہیں جو انکو مذہبی فرائض انجام دینے میں مدد کریں. انکے بلیک بیری فون بھی برقی ڈاک -  ای میل &#8211; بھیجنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں جسکے استمال سے وہ اپنے مذہبی فرقے کے نظریات کا پرچار کرتے ہیں. وہ نفرت پھیلانے والے جعلی سکالروں, کھوکلے دفاعی تجزیے پیش کرنے والوں اور تاریخ کے نام پر سراسر جھوٹ بولنے والے تجزیہ نگاروں کی وڈیو دیکھنے کے لئے انٹرنٹ کا استمال کرتے ہیں. وو ایسے ٹی وی چنیل دیکھتے ہیں جنکا مقصد  شعبدہ بازوں کی ترویج ہے جو ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جو یا تو غیر تصدق یافتہ ہوتے ہیں یا قابل تصدق ہی نہیں ہوتے. حیران کن بات یہ ہے کہ وہ ان جھوٹے اور ناقص دلائل کو اِستدلالی اور معقول شواہد کے طور پے پیش کرتے ہیں. اور ان &#8220;پر تفریح ٹی وی شو&#8221; کو دیکھنے والے نہایت بے ڈھنگ اورمضحک دلائل پر تالیاں بجاتے رہ جاتے ہیں حالانکہ علمیات کا کوئی بھی طالبعلم ان دلائل کو منٹوں میں بے نقاب کر سکتا ہے.</p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">
<p style="text-align: justify;">
<div class="mceTemp" style="text-align: justify;">
<dl id="attachment_677" class="wp-caption alignright" style="width: 310px;">
<dt class="wp-caption-dt"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/dna1.jpg"><img class="size-full wp-image-677" title=" اگر ڈی-این-اے کا استمال پدریت معلوم کرنے اور ملزموں کو تلاش کرنے میں کیا جا سکتا ہے، تو نظریہ ارتقا کو سبط کرنے کیلئے کیوں نہیں ؟ " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/dna1.jpg" alt=" اگر ڈی-این-اے کا استمال پدریت معلوم کرنے اور ملزموں کو تلاش کرنے میں کیا جا سکتا ہے، تو نظریہ ارتقا کو سبط کرنے کیلئے کیوں نہیں ؟ " width="300" height="300" /></a></dt>
<dd class="wp-caption-dd">اگر ڈی-این-اے کا استمال پدریت معلوم کرنے اور ملزموں کو تلاش کرنے میں کیا جا سکتا ہے، تو نظریہ ارتقا کو سبط کرنے کیلئے کیوں نہیں ؟ </dd>
</dl>
</div>
<p style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">ان لوگوں کا تعلق پاکستان کی پڑھی لکھی متوسط طبقے کی شہری آبادی سے ہے. انکا تعلق اس ملک کے ان خوش قسمت لوگوں سے ہے جنکے پاس زبان اور بنیادی سمجھ بوجھ کے بنیادی اوزار موجود ہیں. اور اگر کھلے ذہن سے انکا استمال کریں تو یہ لوگ کائنات کی حقیقت اور اس دنیا کے نظم و ضبط کو سمجھ سکتے ہیں. تو آخر مسلہ کیا ہے ؟ ان لوگوں کا خیال ہے کہ وہ طریقہ جسنے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ یہ دنیا کیسے چلتی ہے، وہ تو انسانی ایجاد ہے، جو خطاوار اور نااہل ہیں ، لہذا انکی تخلیق ناقص اور بے ڈھنگ ہے.  سائنس جس نفاست سے اس کائنات کے بارے میں بیان کرتی ہے، اور ہمارے اعتقادی گمانوں کو چلنج کرتی ہے، اسکو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اسکو مُضحِکہ خیز انداز میں انتہائی ہٹ دھرمی سے چلینج کیا جاتا ہے.</p>
<blockquote style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><strong><span style="color: #666699;">ان لوگوں میں یہ روایت بن گئی ہے کہ یہ ایک طرف تو سائنس کے اصولوں پر &#8220;کافروں&#8221; کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کا استمال کرتے ہیں اور دوسری طرف بڑی آسانی سے جہالت میں ڈوب کر نچرل سائنسز کو رد کرتے ہیں. لہٰذا یہ کوئی انہونی نہیں ہے کہ آپکو کوئی ایسا شخص ملے جو  نظریہ ارتقا، جدید نسلیات یا کائنات کے بگ بینگ ماڈل کو تو رد کرتا ہو مگر اپنی اولاد کی پدریت معلوم کرنے کے لئےاسکا ڈی- این- اے ٹیسٹ کرائے یا پھر جدید دنیا کی وائرلیس ایجادات کا بھرپور استمال کرے جنکی وجودیت کا سہرا طبیعیات کے نظریہ برقی مقناطیسیت کو جاتا ہے.</span></strong></p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/science-and-religion.gif"><img class="size-full wp-image-675 aligncenter" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/science-and-religion.gif" alt="" width="490" height="367" /></a> ڈاکٹر عبدل سلام کے ساتھ نوبل انعام بانٹنے والے سائنسدان سٹیون وینبرگ نے ایک ٹی وی بحس میں ذکر کیا کہ ڈاکٹر عبدل سلام تیل کی دولت سے مالا مال مختلف خلیجی ریاستوں میں گئےتاکہ انکو آمادہ کر سکیں کہ مسلم دنیا میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کریں جہاں نیچرل سائنس میں تحقیق کو فوقیت دی جائے. انکو نہایت سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مسلم اکثریتی ممالک کے زیادہ تر سربراہ ٹیکنالوجی میں تو دلچسپی رکھتے ہیں مگر سمجھتے ہیں کہ سائنس ایمان کو مقرح کرتی ہے لہٰذا ان پادشاہوں کے غلبے اور اقتدار کو بھی کمزور کرتی ہے جو مذہب کو امیرانہ حکمرانی اور عوام کو محکوم کرنے کے لئے استمال کرتے ہیں.</p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">اس سے زیادہ مضحکہ خیر اور کیا ہوگا کہ ایک مذہبی جنونی انٹرنٹ اور کمپیوٹر کا استمال کرتے ہوے سائنس کی صداقت سے انکار کرے ؟ تشویشناک بات تو یہ ہے ان لوگوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ انکے دعوے کتنے اوٹ پٹانگ اور بیہودہ ہیں. انکو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  جی پی ایس آلات، بلیک بیری فون, کمپیوٹر اور شمار کرنے والے تمام تر آلات انجینئرنگ کے شائستہ کارناموں کا مظہر ہیں جن کی بنیاد نیچرل سائنس کی بنیادی پیشگوئیاں اور نظریات ہیں.</p>
<blockquote style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><strong><span style="color: #008000;">آج کے دور کا کوئی بھی شماریاتی آلہ لے لیجئے (جیسے کمپیوٹر یا موبائل فون ) یہ بہت سے مختلف مائیکرو پراسسنگ آلات سے مل کر بنتا ہے. یہ ایک عام سی بات ہے کے آج کے دور کا ایک مائیکرو پروسیسر، جو کہ خود ڈاک کے ایک ٹکٹ جتنا ہوتا ہے، لاکھوں ایمبدڈڈ برقی سوئچوں سے مل کر بنتا ہے اور ایک سیکنڈ میں یوں کروڑوں دفع آن اور آف ہوتا ہے کہ کسی بھی بنیاد پرست کے دماغ کو آسانی سے مشتعل کر دے کیونکہ وہ اس طرح کے اعداد و شمار کا عادی نہیں ہوتا. یہ بڑی قدرتی سی بات ہے کیونکہ ان بنیاد پرستوں کے مطابق تو زمین کی عمر بھی کچھ ہزار سال ہے حالانکہ اسکی اصل عمر اربوں سال ہے.</span></strong></p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">آج کی یہ سٹیٹ آف دی آرٹ کمپیوٹنگ ٹیکنالاجی یونہی وجود میں نہیں آ گئی. نہ تو یہ درختوں پر اگی تھی اور نہ عرش سے زمین پر اتری. اسکو اڑن طشتریوں میں سفر کرنے والی کسی خلائی مخلوق نے بھی ہم تک نہیں پہنچایا. اسکو سائنسی نظم و ترتیب اورعقل و شعور کے ساتھ بُہَت اِحتیاط اور بارِیک بینی سے بنایا گیا. انکی بنیاد نیچرل سائنس کی چند نہایت اہم دریافتیں ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ قدرت کے سلیکون نامی ایک عنصرکا ردعمل کچھ مخصوص حالات میں کیسا ہوتا ہے. سائنس بیان کرتی ہے کہ اس برقی ردعمل کی وجہ مادے کے مبادی حصے الیکٹران یا برقیہ کا بہاؤ ہے.</p>
<blockquote><p><span style="color: #800080;"><strong> اگر ایک لمحے کے لئے بھی یہ سوچ لیا جاے کہ مادے میں الیکٹران نامی کوئی عنصر موجود نہیں ہوتا، یا کہ الیکٹران کے بہاؤ میں کوئی حقیقت نہیں ہے، تو سائنسی علم کی وہ عمارت گر جائے گی جسکی بنیاد پر آج کی یہ دنیا کھڑی ہے. آج کی جدید ٹیکنالوجی کی بنیادیں کھوکلی ہو جایئں گی. لہٰذا، جب بھی کوئی بنیاد پرست اپنے کمپیوٹر سے آنلائن مباحثے میں بڑی ہٹ دھرمی سے جاہلانہ، متکبرانہ اور ختمی نظریہ پیش کرتا ہے کہ سائنس بےبنیاد اور  قابل اعتماد نہیں ہے تو وہ خود تضادی اور ذہنی تنزل کی ایک بہترین مثال بنا ہوتا ہے.</strong></span></p></blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">اوپر دی گئی مثال کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ کیسے نیچرل سائنس کی درست وضاحتوں اور بلیغ پیشنگویوں کی وجہ سے ٹیکنالوجی وجود رکھتی ہے. اسی دلیل کو اطلاقی سائنسز جیسے کہ میڈیکل سائنس (طب)، میکانیکی اور سطحی انجینئرنگ وغیرہ کو بنیاد بنا کر بھی پیش کیا جا سکتا ہی. لہٰذا جب بھی سائنس کو رد کرنے والا ایک گھمنڈی بنیاد پرست علاج معالجے کے لئے ایک ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے،  ایک پیچیدہ سرجری (جراحی) کے عمل سے گزرتا ہے، موٹر گاڑی چلاتا ہے، ہوائی جہاز پر سفر کرتا ہے، ہوا سدھار (ایئر کنڑشنر) آن کرتا ہے،اپنی پسند کی جہادی تنظیم کے اکاؤنٹ میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے رقم منتقل کرتا ہے یا پھر بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک مسخرے کی بے بنیاد تقریر سننے کے لئے ٹی وی آن کرتا ہے، تو وہ مذہب کے نام پر خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے. ایک طرف وہ سائنس کو بےبنیاد اور غلط قرار دیتا ہے اور دوسری طرف یہ سب کر کے وہ ان سائنسی نظریات اور پیشنگویوں کو  ضمناً تسلیم کر رہا ہوتا ہے جنکی بنیاد پر یہ ٹیکنالوجی موجود ہے. نیچرل سائنس ان تمام سائنسی عیاشیوں کی ٹھوس بنیاد ہے جنکو یہ ہٹ دھرم اور بدحواس بنیاد پرست بڑے شوق سے اپنی دعوت و تبلیغ میں منافقت کو انجان نوجوانوں تک پھیلانے کے لئے استمال کرتے ہیں.</p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><strong><span style="color: #0000ff;">سائنٹفک میتھڈ یا سائنسی طریقہ کار</span></strong><strong> </strong></p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">سائنٹفک میتھڈ انسانوں کو علم کے گھیرے کو پھیلانے میں مدد کرتا ہے. سائنسدانوں کے اپنائے ہوے یہ طریقے ہمیں کائنات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں.  سائنس نہایت شائستگی اور خوبصورتی سےانسانی شعور اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروۓکار لاتی ہے اور ساتھ ہی مشاہدات اور شواہد میں درستگی اور کھرا پن مانگتی ہے.   سائنسی طریقہ کار کے اہم نقاط:</p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">
<blockquote style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><span style="color: #ff6600;"><strong>1 &#8211;   فطری یا قدرتی مظہر کا مشاہدہ.</strong></span></p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><span style="color: #ff6600;"><strong>2 &#8211;  مفروضہ قائم کرنا &#8211; انسانی دماغ کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک ایسا جمالیاتی نتیجہ جو کہ قدرتی مظاہر کے مشاہدات کو بیان کرے</strong></span></p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><span style="color: #ff6600;"><strong>3  &#8211; قائم کیے گئے مفروضے کو استمال کر کہ ایک نئے مظہر کی پیشنگوئی یا پھر ماڈل کے ایسے نتائج جنکو پرکھا جا سکے</strong></span></p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><span style="color: #ff6600;"><strong>4 &#8211; تجربات کی مدد سے پیشنگویوں کو پرکھنا تاکہ مفروضے کو پرکھا جا سکے کہ وہ صحیح ہے یا غلط</strong></span></p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">اس طریقے کے مسلسل استمال سے، انسانوں نے علم کو دائرے کو اس قدر وسعت  دی ہے کہ آج سیکولر اور بنیاد پرست، سب کے لئے بقا کے مواقعے اپنے آباؤاجداد سے کہیں زیادہ ہیں.</p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">سائنس نے بلاشبہ ہمیں نوخیز شرح اموات کو کم کرنے میں مدد کی ہے. اسنے بہتر طبی سہولیات کے سبب ہمیں لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے کے قبل کیا ہے.  اسنے ہمیں خوفناک توہمات سے باہر نکالا جیسے کہ بوڑھی خواتین کو کم  فصلی پیداوار کا ذمےدار ٹھہرا کر جادوگرنی کہ کر زندہ جلانا. آسیب، بھوت پریت اور نحوست بدروحیں جو کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں طوفان اور سیلاب سے تباہی مچاتی تھیں، ان سب سے سائنس نے ہمیں نجات دلائی. اسی کی بدولت ہم  اب نفسیاتی مریضوں کا باقاعدہ علاج معالجہ کرتے ہیں، نہ کہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح بھوت پریت پر دم درود. اور یہاں تک کہ اسی سائنس کی بدولت ہم نے الوہی حق کہ کر جابرانہ حکومت کرنے والوں کو چلینج کیا ہے.</p>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">
<div id="attachment_685" class="wp-caption aligncenter" style="width: 484px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/former-taliban-ambassador-to-pakistan-using-iphone-mullah-technology-science-religion.jpg"><img class="size-full wp-image-685 " title="ماضی میں طالبان حکومت کے پاکستان میں سفیر جدید ٹیکنالاجی فون کا استمعال کرتے ہوے" src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/former-taliban-ambassador-to-pakistan-using-iphone-mullah-technology-science-religion.jpg" alt="ماضی میں طالبان حکومت کے پاکستان میں سفیر جدید ٹیکنالاجی فون کا استمعال کرتے ہوے" width="474" height="314" /></a><p class="wp-caption-text">ماضی میں طالبان حکومت کے پاکستان میں سفیر جدید ٹیکنالاجی فون کا استمعال کرتے ہوے</p></div>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">سائنس ایک استمراری  اور با نظام طریقہ ہے جو کہ نامعلوم پر تفسیش کرنے اور جواب تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے.  سائنس مطالبہ کرتی ہے کہ حقائق کا احترم کیا جائے اور اتنی جرّت، ہمّت اور قابلیت پیدا کی جائے کہ دنیا میں موجود ایسے قیاس اور نظریات کو رد کر دیا جائے جنکے خلاف شواہد موجود ہوں.</p>
<blockquote style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><strong><span style="color: #ff6600;">سب سے اہم یہ کہ سائنس  طریقیاتی فطرت پرستی کے اصول پر چلتی ہے، یعنی یہ کائنات، جسکا مطالعہ کیا جانا ہے، وہ مُنحَصَربَہ خُود سسٹم ہے جہاں ہم نامعلوم کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں. مگر اس سسٹم میں جو کچھ بھی نامعلوم رہتا ہے، اسکا تعلق کسی فوقِ الفطرت یا ملکوتی شے سے نہیں ہے. وہ صرف تب تک نامعلوم رہتا ہے کہ جب تک اسکو کھوجا نہ جائے، اس پر تحقیق و تفشیش نہ کی جائے ، اسکی وضاحت نہ تلاش کر لی جائے اور تب وہ دنیا کے با نظم سائنسی مطالعے کی وجہ سے نامعلوم سے معلوم بن جاتا ہے.</span></strong></p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">اگر سائنسدان بھی اس عادت میں مبتلا ہوتے کہ اپنے کام کے دوران جو سمجھ میں نہ آیا ، جسکی وضاحت معلوم نہ کی جا سکے،  اسکو فوقِ الفطرت قرار دے دیتے، تو ہم آج کی دنیا، یہ جدیدیت اور ٹیکنالاجی کبھی نہ دیکھ سکتے. اگر بنجمن فرینکلن اور مائکل فیراڈے نے برقی چارج کو سمجھنے کے لئے تجربات کے بجائے  فوقِ الفطرت وضاحتوں پر انحصار کیا ہوتا تو آج کے بنیاد پرست کبھی بھی ٹی وی پر آ کر بےشرمی سے سائنس کی دریافتوں کا انکار نہ کر سکتے. اگر گلیلیو اور بعد میں آنے والے فلکیات کے ماہروں ( جن میں بہت سے مسلم ماہر بھی شامل ہیں ) نے نظام شمسی کو سمجھنے اور اسکا ماڈل بنانے میں مشاہدے کے بجاے روایت پر انحصار کیا ہوتا تو آج کے &#8220;سٹیج مسخرے&#8221; اپنے مہلک اور غلط دلائل دے کر بیان کر رہے ہوتے کہ صحیفوں کے مطابق کائنات میں سورج سمیت سب کچھ زمین کے گرد گھومتا ہے.</p>
<blockquote style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><strong><span style="color: #333399;"> اگر نیوٹن نےاشیا کی حرکت اور انکے زمین کی طرف گرنے کو اس با ترتیب کائنات کے خلقی قوانین کے بجاے ایک الوہی موجودگی سے جوڑا ہوتا، تو ہم میکانیات کے بنیادی نظریات بھی نہ بنا سکتے اور &#8220;موسیقار سے بنیاد پرست&#8221; بننے والے لاکھوں ڈالر مالیت کی ایس-یو-وی میں سفر کر کے تبلیغ کرنے نہ جا سکتے. حتیٰ کہ کوئی بنیاد پرست موٹر گاڑی نہ چلا سکتا، جہاز کا سفر نہ کر سکتا، نہ ہی ان جہازوں اور گاڑیوں کو امارات سے ٹکرا سکتا کیونکہ کوئی گاڑیاں یا جہاز ہوتے ہی نہ.</span></strong></p>
</blockquote>
<p style="text-align: justify;" dir="rtl">جدید فلکیات نے ثابت کیا کہ یہ کائنات انتہانی وسیع ہے. ہم ایک چھوٹے سے سیارے پر رہتے ہیں، جو کہ درمیانی قامت کے ایک ستارے کے گرد گھومتا ہے ، جو ایک ایسی کہکشاں (گلیکسی) کا حصہ ہے جسمیں اربوں ایسے ستارے ہیں. اور یہ بھی یاد رہے کہ ہماری کائنات پھیل رہے ہے یا کہ وسعت پذیر ہے لہٰذا ممکن ہے کہ ایسی کروڑوں کہکشائیں ہوں. اور اس بات کا بھی کم سے کم نظری امکان تو ضرور ہے کہ ایسی بہت سی کائناتیں ہوں. یہ دنیا وہی ہے جو ہمارا دماغ ہمیں دکھاتا ہے. یہ ہماری ذہنی قابلیت اور سوچنے کی صلاحیت ہی ہے جو ہمیں بےجان مادے اور جانوروں سے مختلف بناتی ہے. اس کائنات کی حقیر سی مخلوق ہونے کے ناطے، سوچنے سمجھنے اور کھوجنے کی صلاحیت ہی ہمیں خاص بناتی ہے. یہ نظریہ زندگی کی خوبصورتی کو سراہنے کے نئے دروازے کھولتا ہے. انسان ہونے کے احساس پر عاجزانہ سا فخر کرنا اور دوسرے انسانوں کا احساس اور خیال کرنے کے قابل ہونا کوئی خاص بری بات تو نہیں.</p>
<blockquote style="text-align: justify;">
<p style="text-align: justify;" dir="rtl"><strong><span style="color: #ff0000;"> 8 اپریل 2009 کو اویس مسعود کے بلاگ <a href="http://awaismasood.wordpress.com/2009/04/08/science-and-delusion/">The Dissection</a> پر شائع  ہوا. روشنی ٹیم نے اکتوبر 2010  میں اردو ترجمہ کیا.</span></strong></p>
</blockquote>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=pne1a6zdLbY:2BtzMoWBu0Y:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/pne1a6zdLbY" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=670</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=670</feedburner:origLink></item>
		<item>
		<title>آسان سائنس – کڑی 3 – سائنٹفک میتھڈ کا بنیادی جائزہ</title>
		<link>http://feedproxy.google.com/~r/roshnipk/~3/2WmPsxLxTjY/</link>
		<comments>http://roshnipk.com/blog/?p=658#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 09 Oct 2010 18:49:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>administrator</dc:creator>
				<category><![CDATA[featured]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنولو جی]]></category>
		<category><![CDATA[asaan-science]]></category>
		<category><![CDATA[تجربات]]></category>
		<category><![CDATA[تجربہ]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسدان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنٹفک]]></category>
		<category><![CDATA[مشاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[میتھڈ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://roshnipk.com/blog/?p=658</guid>
		<description><![CDATA[سائنٹفک  میتھڈ تجربہ کرنے کا ایک عمل ہے جسکو مشاہدات کو کھوجنے اور جوابات تلاش کرنے کے لئے استمال کیا جاتا ہے. سائنسدان اسکو قدرت کے عوامل میں وجوہات اور اثرات کا تعلق جاننے کے لئے استمال کرتے ہیں. دوسرے الفاظ میں، وہ  ایسے تجربات کرتے ہیں جن سے وہ جان سکیں کے اگر ایک شے میں کوئی تبدیلی لائی جائے، تو اسکا دوسری شے پر کسی طرح، کیسا اور کس وقت اثر ہوتا ہے. اکثر اوقات وہ اپنے مفروضوں کو پرکھنے کے لئے تجربات کر کے دیکھتے ہیں کہ کیا ایک شے میں ایک خاص تبدیلی لانے سے، دوسری شے پر وہی اثر ہو رہا ہے جیسا کے انھوں نے فرض کیا تھا ؟ ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="tweetmeme_button" style="float: right; margin-left: 10px;">
			<a href="http://api.tweetmeme.com/share?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D658"><br />
				<img src="http://api.tweetmeme.com/imagebutton.gif?url=http%3A%2F%2Froshnipk.com%2Fblog%2F%3Fp%3D658&amp;source=roshnipk&amp;style=normal" height="61" width="50" /><br />
			</a>
		</div>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> سائنٹفک میتھڈ سائنسی سوالات پوچھنے اور انکا جواب تلاش کرنے کا طریقہ کار ہے اور یہ مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہوتا ہے. سائنسی طریقہ کار کے مندرجہ ذیل اقدام ہیں :</p>
<blockquote>
<ul style="text-align: right;"> <span style="color: #339966;"><strong>سوال کیجئے<br />
پس منظر پر تحقیق کیجئے<br />
مفروضہ قائم کیجیے<br />
مفروضے کو تجربات کر کے پرکھئے<br />
تجربات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیجیے<br />
اپنے نتائج کو دوسروں تک پہنچائے  تاکہ  انکو مزید پرکھا جا سکے</strong></span></ul>
</blockquote>
<div id="attachment_660" class="wp-caption aligncenter" style="width: 485px"><a href="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/RoshniPk_Scientific-Method_Urdu.jpg"><img class="size-large wp-image-660 " title=" سائنٹفک میتھڈ - ایک تصویری خاکہ " src="http://roshnipk.com/blog/wp-content/uploads/2010/10/RoshniPk_Scientific-Method_Urdu-791x1024.jpg" alt="سائنٹفک میتھڈ - ایک تصویری خاکہ" width="475" height="614" /></a><p class="wp-caption-text">سائنٹفک میتھڈ - ایک تصویری خاکہ </p></div>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> سائنٹفک  میتھڈ تجربہ کرنے کا ایک عمل ہے جسکو مشاہدات کو کھوجنے اور جوابات تلاش کرنے کے لئے استمال کیا جاتا ہے. سائنسدان اسکو قدرت کے عوامل میں وجوہات اور اثرات کا تعلق جاننے کے لئے استمال کرتے ہیں. دوسرے الفاظ میں، وہ  ایسے تجربات کرتے ہیں جن سے وہ جان سکیں کے اگر ایک شے میں کوئی تبدیلی لائی جائے، تو اسکا دوسری شے پر کسی طرح، کیسا اور کس وقت اثر ہوتا ہے. اکثر اوقات وہ اپنے مفروضوں کو پرکھنے کے لئے تجربات کر کے دیکھتے ہیں کہ کیا ایک شے میں ایک خاص تبدیلی لانے سے، دوسری شے پر وہی اثر ہو رہا ہے جیسا کے انھوں نے فرض کیا تھا ؟ </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">  <strong><span style="color: #0000ff;">سوال کیجئے</span></strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">جب آپ کسی شے کا مشاہدہ کر کے کوئی سوال کرتے ہیں تو سائنٹفک میتھڈ کا آغاز یہیں سے ہو جاتا ہے. کیسے، کیا، کب، کون، کونسا ، کیوں اور کہاں - اس طرح کے تمام سائنسی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا حل سائنسی طریقہ کر اپنانے میں ہے. مگر خیال رہے، سائنٹفک میتھڈ آپکو صرف ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جو ایسی چیزوں کے بارےمیں ہوں جنکو ناپا، ٹولہ جا سکے، یا جن کااعداد و شمار سے  حساب کتاب کیا جا سکے.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong><span style="color: #0000ff;">پس منظر پر تحقیق کیجئے</span></strong>  </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">جب آپ اپنے سوالات کا جواب تلاش کرنے کا ایک پلان بنا رہے ہوں، تو یاد رکھیے یہ دوبارہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے. آپ باقی لوگوں کا کیا گیا ماضی کا کام استمال کر سکتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں.  ایک تیز فہم سائنسدان کی طرح آپکو لائبریری، کتب، سائنسی جرائد، ڈاکومنٹریز اور انٹرنیٹ پر تحقیقی مواد کا استمال کرنا چاہیے .اس طرح آپ ماضی میں دوسرے لوگوں کی کی گئی غلطیوں سے بھی بچ سکتے ہیں اور پہلے سے کیا گیا کام دوہرانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گے<strong>.</strong> </p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><span style="color: #0000ff;"> <strong>مفروضہ قائم کیجیے</strong></span></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> مفروضہ ایک موزوں قیاس ہوتا ہے جو مکمل طور پر بے بنیاد تو نہیں ہوتا مگر اسکو ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں ہوتا. عمومی طور پر سائنسی زبان میں اسکو یوں لکھا جاتا ہے :</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"><strong> اگر _____ ، تو ______ ہو گا.</strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">اگر میں یہ کروں تو یہ ہوگا.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">مفروضہ  اس طرح سے بیان کیا جانا چاہیے کہ اسکو آسانی سے پرکھا جا سکے، ناپا تولا جا سکے. اسی طرح، اسکو اس طرح سے درج کیا جاتا ہے کہ وہ اصلی سوالات کا جواب دینے میں مددگار ہو.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong><span style="color: #0000ff;">مفروضے کو تجربات کر کے پرکھئے</span></strong></p>
<p dir="rtl">تجربات بتاتے ہیں کہ مفروضہ صحیح ہے یا غلط.   یہ ضروری ہے کہ آپکے تجربات  فیر fair  یا منصفانہ ہوں. یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب آپ تجربے میں استمال ہونے والے متخیر variables  میں سے کسی ایک کو تبدیل کیا جائے اور باقیوں کو جامد رکھا جائے.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">اسی طرح یہ بہت اہم ہے کہ تجربے کو متعدد بار دہرایا جائے تاکہ یقین ہو جائے کے نتائج حادثاتی یا چانس پر مبنی نہیں ہیں بلکہ دہریہ تجربات سے ثابت ہے ہیں.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong> </strong><strong><span style="color: #0000ff;">تجربات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیجیے</span></strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> تجربے کے مکمل ہو جانے کے بعد، پیمائش اور ناپ تول کیا جاتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ سائنسی عوامل کو گہرائی سے سمجھا جا سکے. یہ تجزیہ ہی صحیح معنوں میں بتاتا ہے کہ مفروضہ ٹھیک تھا یا غلط.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl">سائنسدانوں کے مفروضے اکثر تجربات اور اعداد و شمار کے تجزیے سے غلط ثابت ہوتے ہیں، اور یہی نتائج انکو مزید مفروضے قائم کرنے میں اور سائنسی تفشیش و تحقیق کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں. مفروضہ غلط ہونے کی صورت میں اسی کی روشنی میں وہ نئے مفروضے قائم کرتے ہیں اور سائنٹفک میتھڈ پھر سے لاگو کرتے ہیں. یہ بات سائنسی دنیا میں بہت اہم ہے کہ اگر ایک تجربے کو متعدد بار کرنے سے ایک مفروضہ ٹھیک ثابت ہو جائے، تب بھی سائنسدان اسکو مختلف نوعیت کے مزید تجربات سے پرکھتے ہیں تاکہ مفروضے کے صحیح ہونے کے حق میں زیادہ سے زیادہ شواہد موجود ہوں اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے. یہی سائنس کی خوبصورتی ہے.</p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> <strong><span style="color: #0000ff;">اپنے نتائج کو دوسروں تک پہنچائے  تاکہ  انکو مزید پرکھا جا سکے</span></strong></p>
<p style="text-align: right;" dir="rtl"> سائنس کی دنیا میں peer review  کی بڑی اہمیت ہے. اس سے مراد یہ ہے کہ ایک سائنسدان یا گروپ کے سائنسی نتائج کو کوئی اور سائنسدان، گروپ، طلبہ سائنس یا کوئی سائنسی ادارہ پرکھے. پیشہ ور سائنسدان اپنے سائنسی نتائج کو ایک رپورٹ کی شکل میں سائنسی جرائد، سائنسی رسائل یا کانفرنسوں وغیرہ میں پیش کرتے ہیں.</p>
<blockquote>
<div dir="rtl"> <span style="color: #ff0000;">&#8216;<strong><strong>آسان سائنس&#8242; سلسلے کی تمام تحاریر پڑھنے کے لئے <a href="http://roshnipk.com/blog/?tag=asaan-science">یہاں</a> کلک کریں. </strong></strong></span></div>
</blockquote>
<div class="feedflare">
<a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:yIl2AUoC8zA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=yIl2AUoC8zA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:D7DqB2pKExk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:D7DqB2pKExk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:F7zBnMyn0Lo"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:F7zBnMyn0Lo" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:7Q72WNTAKBA"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=7Q72WNTAKBA" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:V_sGLiPBpWU"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:V_sGLiPBpWU" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:qj6IDK7rITs"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=qj6IDK7rITs" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:KwTdNBX3Jqk"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:KwTdNBX3Jqk" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:l6gmwiTKsz0"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=l6gmwiTKsz0" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:gIN9vFwOqvQ"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?i=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:gIN9vFwOqvQ" border="0"></img></a> <a href="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?a=2WmPsxLxTjY:jLYKPKKodZs:TzevzKxY174"><img src="http://feeds.feedburner.com/~ff/roshnipk?d=TzevzKxY174" border="0"></img></a>
</div><img src="http://feeds.feedburner.com/~r/roshnipk/~4/2WmPsxLxTjY" height="1" width="1"/>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://roshnipk.com/blog/?feed=rss2&amp;p=658</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		<feedburner:origLink>http://roshnipk.com/blog/?p=658</feedburner:origLink></item>
	</channel>
</rss>

