<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<?xml-stylesheet type="text/xsl" media="screen" href="/~d/styles/atom10full.xsl"?><?xml-stylesheet type="text/css" media="screen" href="http://feeds.feedburner.com/~d/styles/itemcontent.css"?><feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:thr="http://purl.org/syndication/thread/1.0" xmlns:feedburner="http://rssnamespace.org/feedburner/ext/1.0" xml:lang="en" xml:base="http://www.urdumaster.com/wp-atom.php">
	<title type="text">اردو ماسٹر</title>
	<subtitle type="text">تکنیکی تعلیم کا مرکز</subtitle>

	<updated>2009-08-08T09:09:40Z</updated>
	<generator uri="http://wordpress.org/" version="2.8.4">WordPress</generator>

	<link rel="alternate" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com" />
	<id>http://www.urdumaster.com/feed/atom/</id>
	

			<atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="self" type="application/atom+xml" href="http://feeds.feedburner.com/urdu_master" /><feedburner:info uri="urdu_master" /><atom10:link xmlns:atom10="http://www.w3.org/2005/Atom" rel="hub" href="http://pubsubhubbub.appspot.com/" /><entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[ویب فونٹس کی دنیا میں خوش آمدید]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/5tBYe8NEWIA/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=662</id>
		<updated>2009-08-08T09:09:40Z</updated>
		<published>2009-08-08T09:01:45Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="سی ایس ایس" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ویب ڈیزائن" />		<summary type="html"><![CDATA[30 جون 2009ء کو فائرفاکس کا نسخہ 3.5 کا اجراء ہوا۔ دیگر خوبیوں کو چھوڑ کر اسمیں سی ایس ایس 3 کے ایک فیچر ”ویب فونٹس“   کیلیے درکار سپورٹ شامل کی گئی۔تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویب فونٹس ہیں کیا؟ جیسے کہ آپ جانتے ہیں ہونگے [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2009/08/08/welcome-to-web-fonts/"><![CDATA[<p>30 جون 2009ء کو فائرفاکس کا نسخہ 3.5 کا اجراء ہوا۔ دیگر خوبیوں کو چھوڑ کر اسمیں <a href="http://www.css3.info/">سی ایس ایس </a>3 کے ایک فیچر ”ویب فونٹس“   کیلیے درکار سپورٹ شامل کی گئی۔تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویب فونٹس ہیں کیا؟ جیسے کہ آپ جانتے ہیں ہونگے کہ کسی ویب سائٹ یا کسی ڈاکیومنٹ میں استعمال شدہ فونٹ صرف اسوقت ہی آپکو دکھائی دیگا جب متعلقہ فونٹ آپکے پی سی پر آپریٹنگ سسٹم کے فونٹ فولڈر میں فعال ہو۔مختلف آپریٹنگ سسٹمز پر فونٹس کی تعداد انتہائی محدود ہوتی ہے اور ان میں بھی ویب یا ڈاکیومنٹ لکھنے کیلیے مناسب فونٹس آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ ویب پر موجود کروڑوں ویب سائٹس خود کو منفرد دکھانے کیلیے منفرد فونٹس استعمال کرنا چاہتی ہیں۔</p>
<div id="attachment_668" class="wp-caption alignright" style="width: 270px"><a href="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/08/web_fonts.png"><img class="size-full wp-image-668" title="@font-face" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/08/web_fonts.png" alt="اردو ماسٹر پر عنوانات کے لئے ویب فونٹس فعال ہیں." width="260" height="230" /></a><p class="wp-caption-text">اردو ماسٹر پر عنوانات کے لئے ویب فونٹس فعال ہیں.</p></div>
<p>فی الحال ان کے پاس یہی حل ہے کہ اپنے مطلوبہ فانٹس کے امیج لگائیں یا sIFR جیسی چیزوں کا سہارا لیں۔ اس جیسی چیزوں میں بڑا مسئلہ یونیکوڈ زبانوں کیلیے درکار سپورٹ نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔اس مسئلے کے حل کیلیے ویب سٹینڈرڈز کے ادارے <a href="http://www۔w3۔org/">W3C</a> نے سی ایس ایس کے اگلے نسخے یعنی سی ایس ایس 3 میں ویب ٍفونٹس شامل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ گو سی ایس ایس 3 کے اجراء کیلیے کوئی مقررہ تاریخ ابھی نہیں دی گئی تاہم کئی ساری کمپنیوں نے اپنے براؤزرز میں سی ایس ایس3 کی کافی سارے خصوصیات کی سپورٹ شروع کر دی ہے۔ انہی میں سے ایک خصوصیت ”ویب فونٹس“ کی ہے۔ ویب فونٹس استعمال کرتے ہوئے آپ صارف کو اپنی ویب سائٹ کا مواد اپنی پسند کے فونٹ میں پیش کر سکتے ہیں، چاہے مذکورہ فونٹ اسکے ہاں انسٹال ہی نہ ہو۔ صارف کو صرف ایسے براؤزر کا استعمال کرتے ہوئے آپکی سائٹ دیکھنی ہوگئی جسمیں ویب فونٹس دکھانے کی خصوصیت ہو۔ سردست ان براؤزز میں فائرفاکس3.5، اوپرا10، کروم3.0 اور سفاری3.5 شامل ہیں۔ یعنی انٹرنیٹ ایکسپلورر کو چھوڑ کر بقیہ 50 فیصد  مارکیٹ کا حصہ رکھنے والے برواؤزر اس فیچر کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے زوال کو دیکھتے ہوئے ایسے فیچر آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔<br />
ویب فونٹس کیسے استعمال کریں؟<br />
ویب فونٹس کا استعمال انتہائی آسان ہے۔ اپنی سٹائل شیٹ کھولیں اور ان سطروں کا اضافہ کریں:</p>

<div class="wp_syntax"><div class="code"><pre class="css" style="font-family:monospace;"> <span style="color: #a1a100;">@font-face {</span>
   <span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-family</span><span style="color: #00AA00;">:</span> MyHelvetica<span style="color: #00AA00;">;</span>
   src<span style="color: #00AA00;">:</span> local<span style="color: #00AA00;">&#40;</span><span style="color: #ff0000;">&quot;Helvetica Neue Bold&quot;</span><span style="color: #00AA00;">&#41;</span><span style="color: #00AA00;">,</span>
   local<span style="color: #00AA00;">&#40;</span><span style="color: #ff0000;">&quot;HelveticaNeue-Bold&quot;</span><span style="color: #00AA00;">&#41;</span><span style="color: #00AA00;">,</span>
   <span style="color: #993333;">url</span><span style="color: #00AA00;">&#40;</span>MgOpenModernaBold۔ttf<span style="color: #00AA00;">&#41;</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
   <span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-weight</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #993333;">bold</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
 <span style="color: #00AA00;">&#125;</span></pre></div></div>

<ul>
<li>پہلے سطرمیں ہم فونٹ فیس کا سلیکٹر لگاتے ہیں یعنی ہم ایک فونٹ ڈکلئیر کرنے جارہے ہیں۔</li>
<li> دوسری سطر میں ہم فونٹ فیملی کو ایک نام دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویب فونٹ میں استعمال ہونے والے فونٹ کو کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے۔</li>
<li> تیسری سطر میں ہم منبع یا سورس بتائیں گے۔ اس لائن اور نچلی لائن میں لوکل اور بریکٹ میں فونٹ کا نام دینے کا مقصد یہ ہے کہ یہ فونٹ صارف کے پی سی پر ان دونوں میں سے کسی نام سے موجود ہو سکتا ہے۔ چونکہ ویب فونٹس عارضی انٹرنیٹ فائلز میں ڈاؤنلوڈ ہو کر دکھائی دیتے ہیں، اسلئے پہلے صارف کے پی سی پر تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ صارف خوامخواہ ایسے ویب فونٹ کو ڈاؤنلوڈ نہ کرے جو پہلے ہی اسکے پی سی پر انسٹال ہے۔</li>
<li> صارف کے پاس(local) موجود نہ پا کر براؤزر یو آر ایل چیک کرتا ہے جہاں یہ ویب فونٹ اپلوڈ کیا گیا ہے، اور وہاں سے صارف کو ڈاؤنلوڈ(جسکا صارف کو علم نہیں ہوتا) کرکے ٹیکسٹ مطلوبہ فونٹ میں دکھا دیتا ہے۔</li>
</ul>
<p>ایک دفعہ فونٹ ڈکلئیر کرنے کے بعد آپ اس فونٹ فیملی کو کہیں بھی اپنی سی ایس ایس فائل میں استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے کہ اگر ہمارے پاس دوسرے درجے کے عنوان(h2) کی فونٹ فیملی کچھ ایسی ہے:</p>

<div class="wp_syntax"><div class="code"><pre class="css" style="font-family:monospace;">h2 <span style="color: #00AA00;">&#123;</span><span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-family</span><span style="color: #00AA00;">:</span> Arial<span style="color: #00AA00;">,</span> Tahoma<span style="color: #00AA00;">,</span> <span style="color: #993333;">sans-serif</span><span style="color: #00AA00;">;</span> <span style="color: #00AA00;">&#125;</span></pre></div></div>

<p>تو ہم اوپر ڈکلئیر کیا گیا فونٹ ایسے شامل کرینگے:</p>

<div class="wp_syntax"><div class="code"><pre class="css" style="font-family:monospace;">h2 <span style="color: #00AA00;">&#123;</span><span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-family</span><span style="color: #00AA00;">:</span> MyHelvetica<span style="color: #00AA00;">,</span> Arial<span style="color: #00AA00;">,</span> Tahoma<span style="color: #00AA00;">,</span> <span style="color: #993333;">sans-serif</span><span style="color: #00AA00;">;</span> <span style="color: #00AA00;">&#125;</span></pre></div></div>

<p>میرے ساتھ ایک مسئلہ اسوقت پیش آیا جب میں نے کوئی ایسا فونٹ اپلوڈ کیا جیسے کے نام میں سپیس شامل تھی۔ اس کا آسان حل یہ کہ سپیس ختم کر دیں۔ جیسے Mg Open Moderna Bold.ttf کو MgOpenModernaBold.ttf کے نام دیکر اپلوڈ کیا گیا ہے۔ اسیطرح آپ بھی فونٹ کی فائل(ttf یا otf)  کا نام بدل کر سپیس والے مسئلے سے بچ سکتے ہیں۔<br />
ویب فونٹس کا استعمال آپ ہمارے بلاگ پر ہیڈنگز میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ کہ آپ کے پاس اسے <a href="http://webfonts۔info/wiki/index۔php?title=%40font-face_browser_support">سپورٹ کرنے والا بروازر</a> موجود ہو۔<br />
احتیاط: بڑے سائز کے فونٹس شامل کرنے سے گریز کریں۔ یہ نہ ہو اردو دکھانے کے جوش میں آپ 10 ایم بی سے اوپر کے نستعلیق فونٹس ویب فونٹس کی مدد سے شامل کر لیں اور صارف صفحہ لوڈ ہونے کا انتظار ہی کرتا رہے۔<br />
کسی بھی مسئلے کی صورت میں تبصرے کے ذریعے مطلع کیجیے۔</p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2009/08/08/welcome-to-web-fonts/#comments" thr:count="9" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2009/08/08/welcome-to-web-fonts/feed/atom/" thr:count="9" />
		<thr:total>9</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2009/08/08/welcome-to-web-fonts/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>عمار ابنِ ضیاء</name>
						<uri>http://www.ibnezia.com/</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[ورڈ پریس8]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/Xdf1YMDn2Wg/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=648</id>
		<updated>2009-07-25T11:57:08Z</updated>
		<published>2009-06-12T11:58:05Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="بلاگنگ" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="بلاگ" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ڈاؤن لوڈز" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ورڈپریس" />		<summary type="html"><![CDATA[اور لیجیے، ورڈپریس کا تازہ ترین ورژن8 بھی سامنے آگیا۔ ورژن6 سے ورڈپریس میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں۔ انٹرفیس چینج ہوا، ڈھال اور ساخت میں تبدیلیاں آئیں اور ورڈپریس ایک نئی صورت میں مزید کئی اضافی سہولتوں کے ساتھ سامنے آیا۔
حالیہ ورڈپریس ورژن8 کے ڈیش بورڈ کی تھیم میں تو کوئی خاص [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2009/06/12/wordpress-ver8/"><![CDATA[<p>اور لیجیے، ورڈپریس کا تازہ ترین ورژن8 بھی سامنے آگیا۔ ورژن6 سے ورڈپریس میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں۔ انٹرفیس چینج ہوا، ڈھال اور ساخت میں تبدیلیاں آئیں اور ورڈپریس ایک نئی صورت میں مزید کئی اضافی سہولتوں کے ساتھ سامنے آیا۔</p>
<div id="attachment_649" class="wp-caption alignnone" style="width: 522px"><img class="size-large wp-image-649" title="wp8-01" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/06/wp8-01-1024x459.png" alt="wp8-01" width="512" height="230" /><p class="wp-caption-text">ورڈپریس 2٫7 میں تبدیلیوں کے بعد ڈیش بورڈ کا ایک عکس</p></div>
<p>حالیہ ورڈپریس ورژن8 کے ڈیش بورڈ کی تھیم میں تو کوئی خاص تبدیلیاں وقوع پذیر نہیں ہوئی ہیں لیکن نئے آپشنز دیکھنے والے ہیں۔ جیسے ورڈپریس7 میں میرے پاس کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ڈیش بورڈ کا منظر یہ تھا:</p>
<p>اب اسکرین آپشن میں کچھ اضافے سامنے آئے ہیں جیسا کہ ڈیش بورڈ میں کالمز کے اضافے کا:<br />
<img class="alignnone size-full wp-image-650" title="wp8-02" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/06/wp8-02.png" alt="wp8-02" width="516" height="81" /></p>
<p>یوں اگر میں دو کے بجائے ڈیش بورڈ کو تین کالمی کرلوں تو مزید چیزیں بھی شامل کرسکتا ہوں جیسے کہ میرے بلاگ کا نیا ڈیش بورڈ:<br />
<img class="alignnone size-large wp-image-651" title="wp8-03" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/06/wp8-03-1024x565.png" alt="wp8-03" width="516" height="295" /></p>
<p>چلیں، ڈیش بورڈ سے ذرا آگے چلتے ہیں اور Appearance پر آتے ہیں۔ سانچے (themes) شامل کرنے کے لیے تو اب کسی پلگ۔ان کی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ پچھلے ورژن ہی سے ورڈپریس میں از خود سانچے اور پلگ۔انز شامل کرنے کی سہولت دے دی گئی تھی۔ تھیم ایڈیٹر میں جھانکتے ہیں:<br />
<img class="alignnone size-full wp-image-652" title="wp8-04" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/06/wp8-04.png" alt="wp8-04" width="513" height="258" /></p>
<p>واؤووو۔۔۔ یہاں تو سانچے میں تبدیلیاں کرنے والوں کے مزے آگئے۔ تھیم ایڈیٹر میں ساتھ لائن نمبرز بھی ظاہر ہورہے ہیں اور کوڈ بھی مختلف رنگوں سے نمایاں ہے۔</p>
<p>اسی طرح اگر سانچے کی پی۔ایچ۔پی فائل دیکھیں تو اس میں استعمال ہونے والے تمام پی۔ایچ۔پی فنکشنز ایڈیٹر کے نیچے ہی ظاہر ہورہے ہوتے ہیں جیسے:<br />
<img class="alignnone size-full wp-image-653" title="wp8-05" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/06/wp8-05.png" alt="wp8-05" width="359" height="359" /></p>
<p>یہ ایک مختصر سا جائزہ ہے ورڈپریس کے حالیہ ورژن کا۔ اپنا بلاگ اپ۔ڈیٹ کریں اور لطف اندوز ہوں۔</p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2009/06/12/wordpress-ver8/#comments" thr:count="10" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2009/06/12/wordpress-ver8/feed/atom/" thr:count="10" />
		<thr:total>10</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2009/06/12/wordpress-ver8/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[Options کے صفحے پر Forbidden page ایرر سے نمٹیں]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/Phdgr857syA/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=610</id>
		<updated>2009-05-31T05:24:20Z</updated>
		<published>2009-02-03T06:48:50Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ٹوٹکے" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ڈیش بورڈ" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ورڈپریس" />		<summary type="html"><![CDATA[کچھ دن پہلے ایک بلاگ نئے سرور پر منتقل کرنے کے بعد جب بھی آپشن کے صفحہ پر جنرل سیٹنگز(General Settings) میں کوئی تبدیلی کر کے محفوظ کرنے کی کوشش کرتا تو اگلے صفحے پر Forbidden Page کا ایرر آجاتا اور سیٹنگز بھی محفوظ نہ ہو پاتیں. تلاش بسیار کے بعد اس کا ایک حل [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2009/02/03/options-%da%a9%db%92-%d8%b5%d9%81%d8%ad%db%92-%d9%be%d8%b1-forbidden-page-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%db%8c%da%ba/"><![CDATA[<p>کچھ دن پہلے ایک بلاگ نئے سرور پر منتقل کرنے کے بعد جب بھی آپشن کے صفحہ پر جنرل سیٹنگز(General Settings) میں کوئی تبدیلی کر کے محفوظ کرنے کی کوشش کرتا تو اگلے صفحے پر Forbidden Page کا ایرر آجاتا اور سیٹنگز بھی محفوظ نہ ہو پاتیں. تلاش بسیار کے بعد اس کا <a href="http://wordpress.org/support/topic/208085#post-868563">ایک حل</a> معلوم ہوا جو آزمانے پر یہ ایرر آنا بند ہو گیا. اگر آپ کےپاس بھی یہی مسئلہ آرہا ہے تو اپنی .htaccess فائل کھولیں اور اسمیں مندرجہ زیل لائنوں کا اضافہ کریں:</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
2
</pre></td><td class="code"><pre class="apache" style="font-family:monospace;">SecFilterEngine <span style="color: #0000ff;">Off</span>
SecFilterScanPOST <span style="color: #0000ff;">Off</span></pre></td></tr></table></div>

<p>امید ہے آئندہ یہ ایرر تنگ نہیں کریگا.</p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2009/02/03/options-%da%a9%db%92-%d8%b5%d9%81%d8%ad%db%92-%d9%be%d8%b1-forbidden-page-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%db%8c%da%ba/#comments" thr:count="10" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2009/02/03/options-%da%a9%db%92-%d8%b5%d9%81%d8%ad%db%92-%d9%be%d8%b1-forbidden-page-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%db%8c%da%ba/feed/atom/" thr:count="10" />
		<thr:total>10</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2009/02/03/options-%da%a9%db%92-%d8%b5%d9%81%d8%ad%db%92-%d9%be%d8%b1-forbidden-page-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%db%8c%da%ba/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[واوین کا مسئلہ اور حل]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/kTYTVfKiIUQ/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=585</id>
		<updated>2009-05-31T06:45:26Z</updated>
		<published>2009-01-24T15:31:59Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="متفرقات" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="کوڈ، فنکشنز، پی ایچ پی" />		<summary type="html"><![CDATA[اردو میں بلاگ پر تحریر لکھتے ہوئے اکثر کی بورڈ کی مناسب سیٹنگز نہ ہونے کیوجہ سے واوین اُلٹے لکھے جاتے ہیں۔ اگر لکھتے ہوئے آپ تاہوما جیسا فونٹ استعمال کر رہے ہوں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ واوین صحیح ڈلے ہیں۔ اس کے علاوہ واوین کا استعمال کمپیوٹر کی تقریباً تمام لینگویجز میں [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2009/01/24/wordpressquotes-problem-and-solution/"><![CDATA[<p>اردو میں بلاگ پر تحریر لکھتے ہوئے اکثر کی بورڈ کی مناسب سیٹنگز نہ ہونے کیوجہ سے واوین اُلٹے لکھے جاتے ہیں۔ اگر لکھتے ہوئے آپ تاہوما جیسا فونٹ استعمال کر رہے ہوں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ واوین صحیح ڈلے ہیں۔ اس کے علاوہ واوین کا استعمال کمپیوٹر کی تقریباً تمام لینگویجز میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے، اور اگر آپ کسی لینگویج کا کوڈ اپنے بلاگ پر غلط واوین سمیت رکھیں تو محرم و مجرم کے فرق سے صارف کا کوڈ چلنے سے انکار کر دیگا۔ واوین دو قسم کے ہوتے ہیں، مڑے ہوئے اور ترچھے۔ مڑے ہوئی واوین اگر کسی کوڈ میں ڈال دئیے جائیے تو وہ اسے چلانے سے انکاری ہو جاتا ہے۔<br />
ورڈپریس میں اس سردرد کا حل بہت آسان ہے۔ بس آپ نے اتنا کرنا ہے کہ اپنی تھیم فولڈر میں functions.php نامی فائل تلاش کرنی ہے اور اگر نہیں ہے تو خود سے بنا لیں اور اسمیں یہ ایک لائن کا کوڈ ڈال دیں:</p>

<div class="wp_syntax"><div class="code"><pre class="php" style="font-family:monospace;"><span style="color: #000000; font-weight: bold;">&lt;?php</span> remove_filter<span style="color: #009900;">&#40;</span><span style="color: #0000ff;">'the_content'</span><span style="color: #339933;">,</span> <span style="color: #0000ff;">'wptexturize'</span><span style="color: #009900;">&#41;</span><span style="color: #339933;">;</span> <span style="color: #000000; font-weight: bold;">?&gt;</span></pre></div></div>

<p>فائل محفوظ کر کے اپنے سرور پر اپلوڈ کر لیں، اُمید ہے یہ مسئلہ اب آپکو تنگ نہیں کریگا۔ اوپر دیا گیا کوڈ اس مسئلہ اور حل کی وضاحت کیلیے کافی ہے۔ مزید تقابل کیلیے یہ دو تصاویر ملاحظہ کریں۔<br />
<img src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2009/01/quotes_problem.gif" alt="quotes problem" /><br />
واضح‌رہے کہ یہ ہیک صرف آپکی تحریر کا حصہ ہی اس جھنجھٹ سے آزاد کریگا۔ تبصروں‌ میں‌ پرانی روش برقرار رہیگی۔<br />
<a href="http://www.wprecipes.com/how-to-get-rid-of-curly-quotes-in-your-wordpress-blog">بشکریہ</a></p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/24/wordpressquotes-problem-and-solution/#comments" thr:count="2" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/24/wordpressquotes-problem-and-solution/feed/atom/" thr:count="2" />
		<thr:total>2</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2009/01/24/wordpressquotes-problem-and-solution/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[اردو ماسٹر اور اردو ٹیکنالوجی بلاگ کا نکاح]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/7X3G_eV9uto/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=560</id>
		<updated>2009-01-12T14:40:24Z</updated>
		<published>2009-01-12T14:40:24Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="متفرقات" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="بلاگ" />		<summary type="html"><![CDATA[گئے سال کی بات ہے کہ میں نے اپنا اولین بلاگ &#8220;اردو ٹیکنالوجی بلاگ&#8221; کو اردو ماسٹر کے اجراء پر خیرباد کہہ دیا تھا۔ تاہم اب بھی کافی سارے صارف اس سائٹ پر آتے تھے۔ میں‌ نے مذکورہ بلاگ کی تمام تحریریں اور تبصرے اردو ماسٹر پر درآمد کر لیے ہیں۔ جن لوگوں نے میری [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2009/01/12/um-and-utb-unified/"><![CDATA[<p>گئے سال کی بات ہے کہ میں نے اپنا اولین بلاگ &#8220;اردو ٹیکنالوجی بلاگ&#8221; کو اردو ماسٹر کے اجراء پر خیرباد کہہ دیا تھا۔ تاہم اب بھی کافی سارے صارف اس سائٹ پر آتے تھے۔ میں‌ نے مذکورہ بلاگ کی تمام تحریریں اور تبصرے اردو ماسٹر پر درآمد کر لیے ہیں۔ جن لوگوں نے میری پرانے بلاگ کے لنکس اپنی سائٹس اور تحریروں پر لگائے تھے، ان سے معذرت۔ میری پرانی تحریریں آپ تلاش کے خانے یا متعلقہ زمرے سے آسانی سے ڈھونڈ سکیں گے۔ تمام نئی پرانی تحریریں ایک جگہ ہونے سے مستقبل میں امید ہے سہولت رہیگی۔ شکریہ</p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/12/um-and-utb-unified/#comments" thr:count="12" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/12/um-and-utb-unified/feed/atom/" thr:count="12" />
		<thr:total>12</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2009/01/12/um-and-utb-unified/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>عمار ابنِ ضیاء</name>
						<uri>http://www.ibnezia.com/</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[اسٹائل سوئچر]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/5uqPcy9Agrg/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=562</id>
		<updated>2009-05-31T12:16:36Z</updated>
		<published>2009-01-07T13:47:47Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="اسباق" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="تازہ ترین" />		<summary type="html"><![CDATA[حسبِ فرمائش آج کی تحریر میں ہم اپنے بلاگ کے قاری کو اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت دینے کا طریقہ جانیں گے۔ فونٹ سوئچر والی تھیم میں عموما سائڈ بار پر اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔
ہم اس کام کا بنیادی اور آسان سا طریقہ سمجھیں گے۔ [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2009/01/07/style-switcher/"><![CDATA[<p>حسبِ فرمائش آج کی تحریر میں ہم اپنے بلاگ کے قاری کو اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت دینے کا طریقہ جانیں گے۔ فونٹ سوئچر والی تھیم میں عموما سائڈ بار پر اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔</p>
<p>ہم اس کام کا بنیادی اور آسان سا طریقہ سمجھیں گے۔ بعد میں آپ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ مزید  چھیڑ چھاڑ کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لیے آپ کو ورڈپریس تھیم کے بنیادی ڈھانچے سے تھوڑی بہت آگاہی ضرور ہونی چاہیے۔</p>
<h3>پہلا کام:</h3>
<p>اسٹائل سوئچ ڈاٹ جے ایس کی <a href="http://www.urdumaster.com/styleswitch.zip">فائل یہاں سے</a> اتار کر اپنی تھیم کے فولڈر میں کاپی کرلیں۔</p>
<h3>دوسرا کام:</h3>
<p>اپنی تھیم کی سی ایس ایس فائل کھولیں اور جہاں جہاں تحریری متن کی فونٹ فیملی بیان ہوئی ہے،  اسے ہٹاکر  صرف body کے سلیکٹر میں ایک فونٹ فیملی بیان کریں۔ یوں یہ فونٹ فیملی پورے بلاگ پر اپلائی ہوجائے گی۔ میں ورڈ پریس کی ڈیفالٹ تھیم کے ساتھ کھیل کررہا ہوں۔ فرض کریں کہ ہم اپنی تھیم کا ڈیفالٹ فونٹ علوی نستعلیق رکھنا چاہ رہے ہیں تو فونٹ فیملی اور فونٹ سائز یوں ہوگا:</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
2
3
4
5
6
7
8
</pre></td><td class="code"><pre class="css" style="font-family:monospace;">body <span style="color: #00AA00;">&#123;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-size</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #933;">17px</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-family</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #ff0000;">'Alvi Lahori Nastaleeq'</span><span style="color: #00AA00;">,</span> <span style="color: #ff0000;">'Alvi Nastaleeq'</span><span style="color: #00AA00;">,</span> Tahoma<span style="color: #00AA00;">,</span> <span style="color: #ff0000;">'Lucida Grande'</span><span style="color: #00AA00;">,</span> Verdana<span style="color: #00AA00;">,</span> Arial<span style="color: #00AA00;">,</span> Sans-Serif<span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">background</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #cc00cc;">#d5d6d7</span> <span style="color: #993333;">url</span><span style="color: #00AA00;">&#40;</span><span style="color: #ff0000;">'images/kubrickbgcolor.jpg'</span><span style="color: #00AA00;">&#41;</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">color</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #cc00cc;">#333</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">text-align</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #993333;">center</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">direction</span><span style="color: #00AA00;">:</span> rtl<span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #00AA00;">&#125;</span></pre></td></tr></table></div>

<p>واضح رہے کہ میں نے فونٹ فیملی اور فونٹ سائز کے علاوہ باڈی سلیکٹر کی دوسری ویلیوز اور ان کی پراپرٹیز کو نہیں چھیڑا ہے۔</p>
<h3>تیسرا کام:</h3>
<p>اب ایک اور سی ایس ایس فائل بنائیں جس میں صرف اور صرف body کا سلیکٹر اور اس کی پراپرٹیز شامل کریں (style.css کا باقی کوڈ شامل کرنے کی ضرورت نہیں) اور اس کی فونٹ فیملی میں پہلی ترجیح کسی دوسرے فونٹ یا نفیس ویب نسخ  کو دیں۔ مثلا:</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
2
3
4
5
6
7
8
</pre></td><td class="code"><pre class="css" style="font-family:monospace;">body <span style="color: #00AA00;">&#123;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-size</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #933;">15px</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">font-family</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #ff0000;">'Nafees Web Naskh'</span><span style="color: #00AA00;">,</span> Tahoma<span style="color: #00AA00;">,</span> <span style="color: #ff0000;">'Lucida Grande'</span><span style="color: #00AA00;">,</span> Verdana<span style="color: #00AA00;">,</span> Arial<span style="color: #00AA00;">,</span> Sans-Serif<span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">background</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #cc00cc;">#d5d6d7</span> <span style="color: #993333;">url</span><span style="color: #00AA00;">&#40;</span><span style="color: #ff0000;">'images/kubrickbgcolor.jpg'</span><span style="color: #00AA00;">&#41;</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">color</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #cc00cc;">#333</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">text-align</span><span style="color: #00AA00;">:</span> <span style="color: #993333;">center</span><span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #000000; font-weight: bold;">direction</span><span style="color: #00AA00;">:</span> rtl<span style="color: #00AA00;">;</span>
    <span style="color: #00AA00;">&#125;</span></pre></td></tr></table></div>

<p>اس فائل میں، میں نے صرف فونٹ فیملی اور فونٹ سائز کو بدلا ہے۔ اب اسے کسی بھی نام سے محفوظ کرلیں جیسے<br />
style-nafeesnaskh.css<br />
اسی طرح دوسرے فونٹس (اردو نسخ ایشیا ٹائپ، تاہوما وغیرہ) کی اسٹائل شیٹس بھی بنالیں اور ان میں ان فونٹس کے حساب سے ہی فونٹ سائز رکھیں۔میں نے ایسی تین مزید فائلز بنائی ہیں۔ نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ اور تاہوما کی۔ یوں ہمارے پاس سی ایس ایس فائلز کی تعداد چار ہوگئی۔</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
2
3
4
</pre></td><td class="code"><pre class="css" style="font-family:monospace;">style<span style="color: #6666ff;">.css</span>
style-nafeesnaskh<span style="color: #6666ff;">.css</span>
style-urdunaskh<span style="color: #6666ff;">.css</span>
style-tahoma.css</pre></td></tr></table></div>

<h3>چوتھا کام:</h3>
<p> اپنی تھیم میں header.php کی فائل کھول کر اس میں یہ کوڈ تلاش کریں:</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
</pre></td><td class="code"><pre class="html" style="font-family:monospace;">&lt;?php wp_head(); ?&gt;</pre></td></tr></table></div>

<p>اس سے اگلی لائن میں یہ کوڈ پیسٹ کر دیں:</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
2
3
4
</pre></td><td class="code"><pre class="php" style="font-family:monospace;">&lt;link rel=&quot;alternate stylesheet&quot; type=&quot;text/css&quot; media=&quot;screen&quot; title=&quot;theme1&quot; href=&quot;<span style="color: #000000; font-weight: bold;">&lt;?php</span> bloginfo<span style="color: #009900;">&#40;</span><span style="color: #0000ff;">'stylesheet_directory'</span><span style="color: #009900;">&#41;</span><span style="color: #339933;">;</span> <span style="color: #000000; font-weight: bold;">?&gt;</span>/style-nafeeswebnaskh.css&quot; /&gt;
&lt;link rel=&quot;alternate stylesheet&quot; type=&quot;text/css&quot; media=&quot;screen&quot; title=&quot;theme2&quot; href=&quot;<span style="color: #000000; font-weight: bold;">&lt;?php</span> bloginfo<span style="color: #009900;">&#40;</span><span style="color: #0000ff;">'stylesheet_directory'</span><span style="color: #009900;">&#41;</span><span style="color: #339933;">;</span> <span style="color: #000000; font-weight: bold;">?&gt;</span>/style-urdunaskh.css&quot; /&gt;
&lt;link rel=&quot;alternate stylesheet&quot; type=&quot;text/css&quot; media=&quot;screen&quot; title=&quot;theme3&quot; href=&quot;<span style="color: #000000; font-weight: bold;">&lt;?php</span> bloginfo<span style="color: #009900;">&#40;</span><span style="color: #0000ff;">'stylesheet_directory'</span><span style="color: #009900;">&#41;</span><span style="color: #339933;">;</span> <span style="color: #000000; font-weight: bold;">?&gt;</span>/style-tahoma.css&quot; /&gt;
&lt;script src=&quot;<span style="color: #000000; font-weight: bold;">&lt;?php</span> bloginfo<span style="color: #009900;">&#40;</span><span style="color: #0000ff;">'stylesheet_directory'</span><span style="color: #009900;">&#41;</span><span style="color: #339933;">;</span> <span style="color: #000000; font-weight: bold;">?&gt;</span>/styleswitch.js&quot; type=&quot;text/javascript&quot;&gt;&lt;/script&gt;</pre></td></tr></table></div>

<p>پہلے اس فائل کو اتار کر کوڈ دیکھیں۔ اگر آپ اس کوڈ کو سمجھنا چاہیں تو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ پہلی سطر میں ہم نے بتایا کہ theme1 ہمارے پاس اسٹائل شیٹ کی ڈائریکٹری میں رکھی ہے اور نام ہے style-nafeesnaskh.css۔دوسری سطر میں theme2 کا بتایا گیا ہے کہ یہ style-urdunaskh.css ہے۔ تیسری سطر میں theme3 کو style-tahoma.css کہا گیا ہے۔ اور آخری سطر میں styleswitch.js فائل کی موجودگی کا بتایا گیا ہے جسے ہم نے سب سے پہلے مرحلے میں تھیم فولڈر میں کاپی کیا تھا۔ یوں یہ چوتھا مرحلہ بھی اختتام پذیر ہوا۔</p>
<h3>پانچواں کام:</h3>
<p>کیوں جی؟ تھک گئے کیا؟ اجی یہ کام ہی کچھ اوکھا ہے۔۔۔ چلیں اب یہاں تک آگئے ہیں تو یہ مرحلہ بھی جان لیں اور یقین رکھیں کہ یہ آخری مرحلہ ہے اور اس کے بعد آپ کو اب تک کی گئی محنت کا پھل مل جائے گا۔</p>
<p>کرنا یہ ہے کہ اب سائیڈ بار میں جہاں آپ نے تھیم فونٹ سوئچر شامل کرنا ہے، وہ سائیڈ بار کی فائل کھولیں اور یہ کوڈ شامل کریں:</p>

<div class="wp_syntax"><table><tr><td class="line_numbers"><pre>1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
</pre></td><td class="code"><pre class="html" style="font-family:monospace;">&lt;li&gt;&lt;h2&gt;فونٹ منتخب کریں&lt;/h2&gt;
&lt;li dir=&quot;ltr&quot;&gt;
&lt;form id=&quot;switchform&quot;&gt;				
&lt;select name=&quot;switchcontrol&quot; style=&quot;font-family:'Trebuchet MS','Lucida Grande', Verdana, Arial, Sans-Serif; width:170px&quot; onChange=&quot;chooseStyle(this.options[this.selectedIndex].value, 60)&quot;&gt;
&lt;option value=&quot;Alvi Nastaleeq&quot; selected=&quot;selected&quot;&gt;Alvi Nastaleeq&lt;/option&gt;
&lt;option value=&quot;theme1&quot;&gt;Nafees Web Naskh&lt;/option&gt;
&lt;option value=&quot;theme2&quot;&gt; Urdu Naskh Asiatype &lt;/option&gt;
&lt;option value=&quot;theme3&quot;&gt;Tahoma&lt;/option&gt;
&lt;/select&gt;				
&lt;/form&gt;
&lt;/li&gt;</pre></td></tr></table></div>

<p>اس کوڈ کو سمجھنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سوئچ کنٹرول کا بتاکر پہلے ڈیفالٹ فونٹ کا رکھا گیا ہے جو کہ علوی نستعلیق ہے۔ اگلی سطور میں تھیم1، تھیم2، اور تھیم3 کا نام دیا گیا ہے۔ بس اس فائل کو محفوظ کریں اور اپنا بلاگ دیکھیں۔ فونٹ سوئچر جیسے آپشن سے آپ کا بلاگ مالامال ہوچکا ہوگا۔ <img src='http://www.urdumaster.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>کسی قسم کی مشکل میں آپ بلا جھجک یہاں سوال کرسکتے ہیں۔</p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/07/style-switcher/#comments" thr:count="22" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2009/01/07/style-switcher/feed/atom/" thr:count="22" />
		<thr:total>22</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2009/01/07/style-switcher/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[ورڈپریس 2.7 ایک شاہکار]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/JltN0CGpXNY/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=492</id>
		<updated>2009-02-09T13:49:47Z</updated>
		<published>2008-12-17T05:38:49Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="تازہ ترین" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ورڈپریس، بلاگنگ" />		<summary type="html"><![CDATA[یوں تو ورڈپریس روز اول سے ہی زبردست پذیرائی لیے آج تک موجود تھا لیکن اس درمیانے عرصے میں اگر ورڈپریس 2.7 کو اس مشہور بلاگنگ سافٹ وئیر کے شاندار دور کا نقطہءِ عروج کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ میری طرح سے دوسرے عام صارفین مشکل اصطلاحات والے، اندورنی قسم کے فیچرز کی [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2008/12/17/wordpress-2-7-aweseome-release-till-the-date/"><![CDATA[<p>یوں تو ورڈپریس روز اول سے ہی زبردست پذیرائی لیے آج تک موجود تھا لیکن اس درمیانے عرصے میں اگر ورڈپریس 2.7 کو اس مشہور بلاگنگ سافٹ وئیر کے شاندار دور کا نقطہءِ عروج کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ میری طرح سے دوسرے عام صارفین مشکل اصطلاحات والے، اندورنی قسم کے فیچرز کی بجائے سافٹ وئیرز کو رنگ ڈھنگ، استعمال میں آسانی جیسی ظاہری خوبیوں کے نقطہ نگاہ سے جانچتے ہیں اور اس نئے جاری کردہ نسخے کی سب سے بڑی خوبی انہی چیزوں کی بہترین پیشکش ہے۔<br />
ورڈپریس 2.7 کا اجراء دسمبر کی 12 تاریخ کو ہوا، گو پہلے ورڈپریس ٹیم کا ارادہ نومبر میں جاری کرنے کا تھا۔ ورڈپریس کے یہ نیا نسخہ 150 ماہرین کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہے۔ اس نئے نسخے کو امریکی موسیقار <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/John_Coltrane"><em>John Coltrane</em></a> کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔<br />
بات خوبیوں کی ہے تو جیسے میں نے ذکر کیا کہ ظاہر وضع قطع میں زیادہ اور خوشگوار تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تبدیلیاں آپکے قارئین کو نہیں بلکہ صرف آپکو یعنی صرف ڈیش بورڈ میں نظر آئینگی۔ قارئین کیلیے ایک فیچر کمنٹس تھریڈنگ کا ہے جس کا ہم آگے چل کر ذکر کرینگے۔<br />
فیچرز کا ذکر شروع کرتے ہیں ورڈپریس کے نئے سادہ مگر انتہائی خوبصورت مواجے(Interface) سے۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ کچھ ہی دن بعد ورڈپریس والے خود مواجے کو اس درجے کا خوبصورت بنا دینگے تو میں کبھی <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/17/wordpress-dashboard-themes/">ایسی تحریر</a> نہ لکھتا۔  <img src='http://www.urdumaster.com/wp-includes/images/smilies/yahoo_shame.gif' alt=':nahi:' class='wp-smiley' /> ۔<br />
<a href="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2008/12/screen_options.png"><img src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2008/12/screen_options.png" alt="screen_options" title="screen_options" width="590" height="357" class="aligncenter size-full wp-image-508" /></a><br />
نئے مواجے میں جاوا سکرپٹ کی مشہور لائبریریز جے کیوری(<a href="http://jquery.com/">jQuery</a>) اور پروٹوٹائپ(<a href="http://www.prototypejs.org/">Prototype</a>) کو استعمال میں لاتے ہوئے نہ صرف خوبصورت بلکہ استعمال میں انتہائی سہل ڈیش بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے۔ ڈیش بورڈ کے وہ غیر ضروری عناصر جن سے آپ تنگ ہو یا وقتی طور پر انہیں یہاں موجود نہ دیکھنا چاہتے ہو، کو آپ باآسانی اوپر دائیں طرف موجود سکرین آپشنز کے ذریعے غائب(اور دوبارہ حاضر) کر سکتے ہیں(دیکھیے نمبر1)۔ ہیڈر میں ہمہ وقت ایک ڈراپ ڈاؤن مینو موجود رہتا ہے جس سے با آسانی آپ اپنے ڈیش بورڈ کے زیادہ استعمال ہونے والے حصوں یعنی نئی تحریر، نیا صفحہ، ڈرافٹس، اپلوڈز اور تبصروں کے صفحات تک ایک کلک سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں(دیکھیے نمبر 2)۔ ایک کلک کی بات چل نکلی تو میں بتاتا چلوں کہ ڈیش بورڈ کا پرانا عمودی بار جسمیں صرف ایک صفحے تک جانے کے لیے آپکو کئی کلک کرنے پڑتے تھے، آپ ہر صفحے تک ایک کلک کے ذریعے رسائی کے ساتھ عمودی حالت میں بائیں جانب کر دیا گیا ہے۔ بائیں جانب آنے سے صفحے کے درمیانی عناصر کا دم اگر آپ کو گھٹتا نظر آئے تو سائیڈ بار میں موجود دو سلائیڈرز کے ذریعے اسے چھوٹا کر کے مزید جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ صفحہ پر موجود عناصر (ٹیکسٹ ایڈیٹر کو چھوڑ کے) غائب کرنے کی بجائے صرف minimize کرنا چاہتے ہیں تو یہ مزے بھی آپکو ورڈپرس کے نئے نسخے میں ملیں گے۔ ڈیش بورڈ کی صفحه اول پر بلاگ کے اعداد و شمار کو زیادہ بہتر طریقے سے پیش کیا گیا(دیکھیے نمبر3)۔ Quick Press جو پہلے <a href="http://wordpress.org/extend/plugins/quick-press-widget/screenshots/">ایک ویجیٹ</a> کی صورت میں آتا تھا، اب ڈیش بورڈ کا باقاعده حصه ہے(دیکھیے نمبر4)۔ اس کے ذریعے آپ تحریر لکھنے والے صفحہ پر گئے بغیر سرعت سے تحریر لکھ اور شائع کر سکتے ہیں۔<br />
مواجے کے بعد آتے ہیں کچھ اور اندرونی فیچرز کیطرف۔ ورڈپریس استعمال کنندگان کیلیے ایک بڑی جھنجھٹ ہر تھوڑے عرصے بعد نئے نسخے یا بگ فکس کی ریلیز کے ساتھ اپنے ہاں نصب شدہ نسخے کو اپ ڈیٹ کرنا تھا۔ گو <a href="http://wordpress.org/extend/plugins/wordpress-automatic-upgrade/">ورڈپریس آٹو میٹک اپگریڈ پلگ ان</a> کے ذریعے یہ کام ایف ٹی پی کی جھنجھٹ کے بغیر بھی کیا جا سکتا تھا لیکن مذکورہ پلگ ان کے آفیشل نہ ہونے کیوجہ سے ہر نئے نسخے کیساتھ اسکے پنگے چلتے رہتے تھے۔ ورڈپریس کے اس نئے نسخے میں اپگریڈ کی جھنجھٹ کا بھی بغیر ایف ٹی وغیرہ کے علاج کیا گیا ہے۔ اب ہر نئے نسخے کی ریلیز کے ساتھ آپکو اپنے ڈیش بورڈ میں اس کی دستیابی کی اطلاع ملے گی اور اگر آپکو اعتراض نہ ہو تو ایک کلک سے اسے اپگریڈ کر سکتے ہیں۔<br />
پلگ انز کی تنصیب مزید آسان کر دی گئی ہے، آپ ڈیش بورڈ کے اندر رہتے ہوئے نئے پلگ ان تلاش اور نصب کر سکتے ہیں۔ اب اس کام کیلیے بھی آپکو ایف ٹی پی اور نہ ہی اضافی پلگ انز کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کوئی پلگ ان ورڈپریس پلگ ان ڈائریکٹری میں نہیں موجود تو اسے آپ اپنے پاس ڈاؤنلوڈ کرکے بغیر ایف ٹی پی کے صرف براؤز اور منتخب کرے نصب کر سکتے ہیں۔<br />
<img src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2008/12/comm_threading.gif" alt="کمنٹس تھریڈنگ کا ایک عکس" /><br />
اس نئے ورڈپریس کی آخری خوبی جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا، کمنٹس تھریڈنگ ہے(دیکھیے نمبر5)۔ کمنٹس تھریڈنگ کے ذریعے آپکے بلاگ پر ہونے والے تبصروں کو مزید دلچسپ بنایا گیا ہے۔ یاد کریں کہ اگر آپکو کسی مخصوص تبصرہ ناگار کو جواب دینا ہوتا تو باقاعدہ مخاطب کا نام لیکر اسے جواب دینا ہوتا تھا۔ کمنٹس تھریڈنگ تبصروں کے نظام کو کسی فورم کے تبصرے کیطرح دھاگے(thread) کی شکل دیتا ہے۔ واضح رہے کہ کمنٹس تھریڈ ورڈپریس صارفین پہلے بھی ایک <a href="http://wordpress.org/extend/plugins/wordpress-thread-comment/">پلگ ان</a> کے ذریعے استعمال میں لا سکتے تھے۔<br />
یہ تھا ورڈپریس 2.7 کا ایک تعارف۔ ہمیں بتائیے کہ آپ نے نئے نسخے کو کیسے پایا؟ اور ہاں اگر آپ نے ابھی تک پرانا نسخہ اپگریڈ نہیں گیا تو <a href="http://wordpress.org/download">فوراً سے پیشتر</a> کر لیں۔  <img src='http://www.urdumaster.com/wp-includes/images/smilies/msn_thumbup.png' alt=':wel:' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2008/12/17/wordpress-2-7-aweseome-release-till-the-date/#comments" thr:count="12" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2008/12/17/wordpress-2-7-aweseome-release-till-the-date/feed/atom/" thr:count="12" />
		<thr:total>12</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2008/12/17/wordpress-2-7-aweseome-release-till-the-date/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[مسائل کا حل-پہلی قسط]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/K2dczjO9JEg/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=474</id>
		<updated>2008-12-17T05:39:54Z</updated>
		<published>2008-12-03T08:52:08Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="مسائل کا حل" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="آراء" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="جوابات" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="حل" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="سوالات" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="قارئین" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="مسائل" />		<summary type="html"><![CDATA[ہمیں وقتا فوقتا مختلف تحاریر پر آراء کے ذریعے ورڈپریس پر آپکو درپیش مسائل کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وقتی طور پر ہم بھی آراء ہی کے ذریعے اسکا حل بتا دیتے ہیں، لیکن طویل المدتی پالیسی میں یہ کچھ مددگار چیز نہیں۔ چونکہ آراء تحریروں کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتی ہیں، اسلئے عین [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2008/12/03/troubleshooting-part1/"><![CDATA[<p>ہمیں وقتا فوقتا مختلف تحاریر پر آراء کے ذریعے ورڈپریس پر آپکو درپیش مسائل کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وقتی طور پر ہم بھی آراء ہی کے ذریعے اسکا حل بتا دیتے ہیں، لیکن طویل المدتی پالیسی میں یہ کچھ مددگار چیز نہیں۔ چونکہ آراء تحریروں کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتی ہیں، اسلئے عین ممکن ہے کہ کل کوئی اور قاری عین وہی یا ملتا جلتا سوال کسی اور تحریر کے آراء میں پوچھتا رہے۔ دوسرے سرچ انجز بھی آراء کی بجائے تحاریر کو زیادہ لفٹ کراتے ہیں۔ اس کا حل ہم نے یہ سوچا ہے(بلکہ شروع سی یہی خیال تھا) کہ ان منتشر سوالات جوابات کو اکٹھا کر کے &#8220;مسائل کے حل&#8221; نامی زمرہ کے تحت شائع کیا جائے۔ اسی سلسلے کی پہلی کڑی آج حاضر ہے۔ تحریر کا فارمیٹ آراء سے ہی لیا گیا ہے اس لئے ہم سوال پوچھنے والے قاری کو نام اور سوال چھاپیں گے، اور ساتھ میں تحریر سے مطابقت کیلیے تھوڑی بہت تدوین کرینگے۔ ہمیں امید ہے قارئین اس معاملے پر ہمیں جسٹس ڈوگر کورٹ نہیں لے جائینگے۔</p>
<p>سوالات کے معاملے میں <a href="http://www.dufferistan.com/">ڈفر</a> میاں کافی فعال رہے۔ <a href="http://alvi.urdushare.net/blog/200811/download-alvi-nastaleeq/">علوی نستعلیق</a> جب ریلیز ہوا تو مختلف بلاگز پر علوی نستعلیق کی خوبصورتی دیکھ کر <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/01/post-rating/#comment-55">انکا دل بقول انکے بہار بہار ہوگیا</a> اور اپنے بلاگ پر لگانے کی سوجھی(آخر اطلاعات تک عمل نہیں کیا)۔ علوی نستعلیق یا کسی بھی فانٹ کا لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنافانٹ کا نام جاننا۔ فانٹ کا نام معلوم کریں اور <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/01/post-rating/#comment-56">میری بتائی گئی ان ہدایات</a> پر عمل کریں:</p>
<blockquote><p>اگر آپ اپنی تھیم کی سی ایس ایس دیکھیں‌ تو وہاں‌کسی بھی font-family کے ٹیگ میں‌ ترتیب سے فانٹس لکھے ہوتے ہیں۔ کچھ اس شکل میں:<br />
font-family: &#8220;Alvi Nastaleeq v1.0.0&#8243;,&#8221;Urdu Naskh Asiatype&#8221;,Nafees Web Naskh,Tahoma,Sans-serif;<br />
اسی ترتیب کے مطابق ہر براؤزر دیکھتا ہے کہ کونسا فونٹ‌صارف کے سسٹم پر موجود ہے۔ یعنی اگر فونٹ‌ نمبر1(علوی نستعلیق) اگر ہے تو اسی میں سائٹ‌ دکھا دیگا، اگر وہ نہ ہو تو اردو نسخ، وہ نہ ہو تو نفیس ویب نسخ‌۔۔۔۔اسیطرح سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ فونٹ ٹیگ کے آخری فونٹس Serif یا Sans-serif رکھے جاتے ہیں‌جو کوئی بذات خود فونٹس نہیں بلکہ فونٹ‌ کے خاندان ہیں، یعنی اگر آپ کی مقرر کردہ کوئی بھی فونٹ‌ صارف کے سسٹم پر نہیں‌ تو اس فیملی کے کسی فانٹ‌ میں‌ سے جو بھی صارف کے سسٹم پر جو ہو اسمیں‌ سائٹ‌ کو دکھا دو۔</p></blockquote>
<p>یاد رہے کہ پہلی ریلیز کے بعد علوی نستعلیق کا پکا نام صرف Alvi Nastaleeq ہے یعنی ہر نئے نسخے کے اجراء کے بعد آپکو اپنی سٹائل شیٹ میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔<br />
ڈفر ہی <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/01/post-rating/#comment-53">ایک اور سوال</a> پوچھتے ہیں:</p>
<blockquote><p>جب بھی کوئی دوسرا ہماری کسی پوسٹ کا لنک اپنی پوسٹ میں دیتا ہے تو ہماری پوسٹ پر اس نئی پوسٹ کا ذکر ایک کمنٹ کی شکل میں آ جاتا ہے۔ اسکو کیا کہتے ہیں؟ کیا اسکے لئے مجھے کچھ کرنا ہو گا؟ اگر ہاں تو میں اسکو کیسے این ایبل کروں؟</p></blockquote>
<p><a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/01/post-rating/#comment-54">میرا جواب</a> ملاحظہ فرمائیے:</p>
<blockquote><p>
ڈفر، مذکورہ لنک کے زمرے میں ابھی کوئی تحریر نہیں اس وجہ سے نظر نہیں آرہی۔<br />
ایسے “تبصرے” کو پنگ بیک کہا جاتا ہے۔ اسے ان ایبل اور ڈس ایبل کرنے کیلیے ڈیش بورڈ کے آپشنز میں جائیے اور پھر ڈسکشن والے سب مینو میں وہاں Allow link notifications from other blogs (pingbacks and trackbacks.)</p></blockquote>
<p><a href="http://www.theajmals.com/blog/">افتخار اجمل بھوپال</a> نے <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/06/gravatar/#comment-68">سوال پوچھا</a> کہ:</p>
<blockquote><p>جناب کوئی ایسا گر بتائیے کہ اوتار ہر بلاگ پر ظاہر ہو؟</p></blockquote>
<p>عمار کا <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/06/gravatar/#comment-72">جواب کچھ یوں</a> تھا:</p>
<blockquote><p>افتخار اجمل صاحب! ہر بلاگ پر تو اسی صورت میں نظر آئے گا جب ہر بلاگر اپنی تھیم میں گریویٹر کا کوڈ شامل کرے گا۔ جس جس بلاگ تھیمز میں یہ کوڈ شامل ہے، ایسے ہر بلاگ میں آپ کا اوتار ظاہر ہوگا۔</p></blockquote>
<p><a href="http://makki.urducoder.com/">مکی</a> اور <a href="http://abushamil.urdutech.com/">ابوشامل</a> کا مشترکہ سوال یہ تھا کہ گریواٹر کی نمائندہ تصویر اپنے لئے کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے؟<br />
میرا <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/04/howto-author-info-picture/#comment-64">جواب کچھ یوں</a> تھا:</p>
<blockquote><p>مکی اور فہد بھائی یہ اوتار ہر اس سائٹ پر جہاں اس کی سہولت ہو دکھانے کیلیے ایک سائت <a rel="nofollow" href="http://www.gravatar.com">Gravatar.com</a> پر آپکو اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ وہاں جس ای میل کیساتھ جو تصویر نتھی کی جائیگی، وہ ای میل کسی بھی بلاگ پر دینے سے آپکا اوتار ظاہر ہو جائیگا بشرطیکہ کہ اس بلاگ پر یہ سہولت دی گئی ہو۔</p></blockquote>
<p><a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/17/wordpress-dashboard-themes/#comment-101">آخری  سوال</a> جو <a href="http://farhan.urdutech.net/">فرحان</a> کا ہے کہ:</p>
<blockquote><p>API key کیا ہوتی ہے اور کس طرح حاصل کی جاتی ہے؟</p></blockquote>
<p>اس <a href="http://www.urdumaster.com/2008/11/17/wordpress-dashboard-themes/#comment-114">سوال کا جواب</a> میرے الفاظ میں:</p>
<blockquote><p>فرحان API یعنی <a rel="nofollow" href="http://en.wikipedia.org/wiki/API">Application Programming Interface</a> پروگرامنگ کی اصطلاح میں ایسے فنکشنز، کلاسز، میتھڈز یا پروٹوکولز کا مجموعہ ہوتا ہے، جن کو ہم کسی ایک پروگرام میں رہتے ہوئے اصل پروگرام سے حاصل کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں ہم دوسرے پروگرام کے فیچر اپنے پروگرام میں بروئے کار لا سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اصل پروگرام کا مالک ان فیچرز تک آپکو رسائی دے۔ ان فیچرز تک محفوظ رسائی کیلیے API Key درکار ہوتی ہے تاکہ ہر ایرا غیرا دخل انداز نہ ہو۔ API Key پاس ورڈ کیطرح کام کرتی ہے تاکہ آپ اور اصل پروگرام کا مالک دونوں محفوظ رہیں۔ جہانتک API Key حاصل کرنے کا تعلق ہے، یہ آپکو مذکورہ پروگرام کے مالک یا کمپنی کی ویب سائٹ یا ای میل یا سیکیور لاگ ان غرض جو بھی طریقہ انہوں نے رکھا ہو، سے حاصل کر سکتے ہیں۔<br />
گمان ہے کہ آپ <a rel="nofollow" href="http://wordpress.com/api-keys/">ورڈپریس API Key</a> کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے آپ ورڈپریس ڈاٹ کام پر <a rel="nofollow" href="http://wordpress.com/signup/">اکاؤنٹ بنائیں</a> اور اپنے پروفائل کے صفحہ پر جا کر حاصل کر لیں۔ شکریہ</p></blockquote>
<p>ان تمام سوالات و جوابات کے باوجود کچھ سوالات کے جوابات تشنہ ہیں، جس میں ہماری کاہلی اور کچھ لاعلمی  شامل ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ سوالات قارئین کے جانب سے وضاحت کے منتظر ہیں۔ ہم ان شاء اللہ اپنی محنت جاری رکھیں گے اور کوشش کرینگے کے ورڈپریس کے حوالے سے آپکے سوالات و مسائل سے نبٹنے میں آپکی مدد کریں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔</p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2008/12/03/troubleshooting-part1/#comments" thr:count="14" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2008/12/03/troubleshooting-part1/feed/atom/" thr:count="14" />
		<thr:total>14</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2008/12/03/troubleshooting-part1/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>عمار ابنِ ضیاء</name>
						<uri>http://www.ibnezia.com/</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[اردو-بلیو-30]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/eEsOoXhQ1UE/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=464</id>
		<updated>2009-05-17T11:42:49Z</updated>
		<published>2008-11-30T15:46:19Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="سانچے" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="نیلا، سانچہ، اردو، ورڈ پریس" />		<summary type="html"><![CDATA[
سانچہ تو اگرچہ سرخ تھا لیکن میں نے جب اسے اپنے بلاگ کے لیے اردو قالب میں ڈھالا تو اس کا روپ رنگ بدل دیا سو اب یہ Redie-30 کے بجائے Blue-30 ہوگیا ہے۔ تاہم اس میں صرف تحریر اور تبصروں کا حصہ ہی اردو کے لیے ڈھالا گیا ہے، باقی سانچے کا فارمیٹ انگریزی [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2008/11/30/urdu-blue-30/"><![CDATA[<p><a href="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2008/11/blue-30.png"><img class="alignnone size-medium wp-image-466" title="blue-30" src="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/2008/11/blue-30.png" alt="" width="500" height="286" /></a></p>
<p>سانچہ تو اگرچہ سرخ تھا لیکن میں نے جب اسے اپنے بلاگ کے لیے اردو قالب میں ڈھالا تو اس کا روپ رنگ بدل دیا سو اب یہ Redie-30 کے بجائے Blue-30 ہوگیا ہے۔ تاہم اس میں صرف تحریر اور تبصروں کا حصہ ہی اردو کے لیے ڈھالا گیا ہے، باقی سانچے کا فارمیٹ انگریزی حساب ہی سے ہے۔</p>
<p>سانچہ: بلیو۔30</p>
<p>ڈیزائنر: <a href="http://www.va4busines.com/" target="_blank">اسٹیو آرون</a></p>
<p>کالم: تین</p>
<p>سائڈبارز: دائیں اور بائیں</p>
<p>ویجٹس: تیار</p>
<p>اردو اوپن پیڈ: شامل</p>
<p><a href="http://test.urdumaster.com/index.php?wptheme=Redie%203.0" target="_blank">آزمائش</a></p>
<a class="downloadlink dlimg" href="http://www.urdumaster.com/wp-content/uploads/themes/blue-30.zip" title="Version 3.0 downloaded 5 times" ><img src="http://www.urdumaster.com/wp-content/plugins/download-monitor/img/download.gif" alt="Download Urdu-Blue30 Version 3.0" /></a>
<p><a href="http://knuggets.com/preview/redie-30/" target="_blank">اصل سانچہ</a></p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2008/11/30/urdu-blue-30/#comments" thr:count="12" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2008/11/30/urdu-blue-30/feed/atom/" thr:count="12" />
		<thr:total>12</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2008/11/30/urdu-blue-30/</feedburner:origLink></entry>
		<entry>
		<author>
			<name>ساجد اقبال</name>
						<uri>http://sajid.gumbat.com</uri>
					</author>
		<title type="html"><![CDATA[ورڈپریس ایسٹر ایگ]]></title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="http://feedproxy.google.com/~r/urdu_master/~3/J7f0S_kFE0c/" />
		<id>http://www.urdumaster.com/?p=459</id>
		<updated>2009-01-03T11:51:23Z</updated>
		<published>2008-11-29T14:00:32Z</published>
		<category scheme="http://www.urdumaster.com" term="متفرقات" /><category scheme="http://www.urdumaster.com" term="ورڈپریس، ایسٹر ایگ" />		<summary type="html"><![CDATA[سافٹ وئیرز کے ایسٹر ایگز سے تو آپ واقف ہی ہونگے. پہلے یہ ڈیسک ٹاپ اطلاقیوں تک محدود تھے لیکن اب یہ ویب اطلاقیوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں. آپ کا پسندیدہ بلاگنگ اطلاقیہ(Application) ورڈپریس بھی اس سے مبرا نہیں. ورڈپریس کے 2.6 اور بعد کے نسخوں میں یہ ایک ایسٹر ایگ موجود ہے، [...]]]></summary>
		<content type="html" xml:base="http://www.urdumaster.com/2008/11/29/wordpress-easter-egg/"><![CDATA[<p>سافٹ وئیرز کے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Easter_egg_(media)">ایسٹر ایگز</a> سے تو آپ واقف ہی ہونگے. پہلے یہ ڈیسک ٹاپ اطلاقیوں تک محدود تھے لیکن اب یہ ویب اطلاقیوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں. آپ کا پسندیدہ بلاگنگ اطلاقیہ(Application) ورڈپریس بھی اس سے مبرا نہیں. ورڈپریس کے 2.6 اور بعد کے نسخوں میں یہ ایک ایسٹر ایگ موجود ہے، جس کا نظارہ آپ کچھ یوں کر سکتے ہیں:<br />
1. پہلے سے شائع کی گئی یا محفوظ کی گئی تحریر کی ترمیم کریں.<br />
2. تحریر کے صفحہ پر نیچے دہرائی(Revision) والے حصے میں آئیں، اور سب سے نئی دہرائی (جو سب سے اوپر ہوگی) کلک کریں.<br />
3. اگلے صفحے پر نیچے آئیں اور تقابل کیلیے ایک جیسی(اوپر والی لائن) تحریر منتخب کر لیں.<br />
اگلے صفحے پر آپ کے سامنے میٹرکس جیسا ایسٹر ایگ آجائیگا. جہاں یہ الفاظ لکھے ہونگے:<br />
<code style="direction: ltr;"><br />
Danger !<br />
Self-comparison detected.<br />
Initiating infinite loop eschewal protocol.<br />
Self destruct in… 3<br />
2<br />
1<br />
Wake up, Donncha…<br />
The Matrix has you…<br />
Don’t let this happen again. Go Back.</code><br />
اگر آپ مندرجہ بالا سردردی کے بجائے صرف اس کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ویڈیو ملاحظہ فرمائیں:<br />
<object width="425" height="344"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/gkF4WLSkz-U&#038;color1=0xb1b1b1&#038;color2=0xcfcfcf&#038;hl=en&#038;feature=player_embedded&#038;fs=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/gkF4WLSkz-U&#038;color1=0xb1b1b1&#038;color2=0xcfcfcf&#038;hl=en&#038;feature=player_embedded&#038;fs=1" type="application/x-shockwave-flash" allowfullscreen="true" width="425" height="344"></embed></object><br />
<a href="http://ocaoimh.ie/2008/11/26/wordpress-26-easter-egg/">بشکریه</a></p>
]]></content>
		<link rel="replies" type="text/html" href="http://www.urdumaster.com/2008/11/29/wordpress-easter-egg/#comments" thr:count="0" />
		<link rel="replies" type="application/atom+xml" href="http://www.urdumaster.com/2008/11/29/wordpress-easter-egg/feed/atom/" thr:count="0" />
		<thr:total>0</thr:total>
	<feedburner:origLink>http://www.urdumaster.com/2008/11/29/wordpress-easter-egg/</feedburner:origLink></entry>
	</feed>
